Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 11

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 11

–**–**–

قافلے کی باخیریت واپسی پر بنو جساسہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ان کی معیشت اور ضروریات زندگی کا انحصار ہی قافلوں کی آمدورفت پر تھا۔
یشکر کا انتخاب شریم نے شروع دن سے اپنی خدمت کے لیے کیا ہوا تھا۔ قزاقوں کے حملے کے بعد تو اس کا اعتماد مزید پختہ ہو گیا تھا کہ یشکر کی وجہ ہی سے اس کی جان بچی تھی۔ قزاقوں سے چھینا ہوا گھوڑا شریم نے یشکر کے پاس رہنے دیا تھا۔ یشکر کی لڑائی اور گھڑ سواری کی صلاحیتیں شریم کی نظر سے اوجھل نہیں تھیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر یشکر کی عزت نہ صرف شریم کی نظر میں بڑھ گئی تھی بلکہ بنو جساسہ کے جس آدمی نے اس بارے سنا وہ متاثر ضرور ہوا تھا۔ سردار شیبہ نے بھی اس کی پیٹھ تھپتھپا کر شاباش دی تھی۔
یشکر کو شریم کے گھر ایک حجرہ مل گیا تھا۔ شریم کی پانچ بیویاں تھیں۔ ان میں سے تین بیویاں تو اسے بڑے بھائی شریک والی ملی تھیں اور دو پہلے سے اس کے عقد میں موجود تھیں۔ اس کی سگی اولاد میں صرف دو بیٹیاں سلمیٰ اور وتینہ تھیں۔ جبکہ بڑے بھائی شریک کی بیٹی ثانیہ کو بھی اسی نے پالا پوس کر بڑا کیا تھا جس کی شادی بنو اسد کے سردار زادے سے ہو گئی تھی۔
یشکر کی نئی زندگی کا آغاز ہو گیا تھا۔ شریم کے روزمرہ کے کام کرنااورگھر کے لیے پانی بھر کر لانا اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ پانی بھرنے کے لیے سلمیٰ اور وتینہ بھی اس کے ہمراہ ہو لیتی تھیں۔
قبیلے میں اسے چوتھا روز تھا۔ وہ سلمیٰ اور وتینہ کے ساتھ کنویں پر پہنچا ،بنو جساسہ کے سردار شیبہ کا غلام قطام بن احنف کنویں سے پانی کے ڈول کھینچ کھینچ کر لڑکیوں کے مشکیزے بھر رہا تھا۔ لڑکیاں ہنسی مذاق میں مشغول تھیں۔ اچانک ہی اس کی نظر لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی ایک چاند چہرہ لڑکی پر پڑی وہ کسی بات پر کھل کھلا کر ہنس رہی تھی۔ آبدار موتیوں کے سے دانت دمک رہے تھے۔ ہنستے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کو اٹھ گیا تھا پشت پر پھیلے سیاہ بال نیچے بیٹھے ہونے کی وجہ سے نخلستان کی ریت کو چھونے لگے تھے۔ یشکر ماحول سے بے نیاز اسے گھورنے لگا۔ لڑکی کو بھی اس کی نگاہوں کی تپش نے متوجہ کیا۔ یشکر کی جانب دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر ناپسندیدگی چھلکنے لگی۔ ایک دم یشکر کی جانب پیٹھ موڑتے ہوئے وہ اپنی سہیلی سے بات کرنے لگی۔
یشکر سر جھٹکتے ہوئے کنویں کی طرف بڑھ گیا اسے اپنی بے خودی پر ندامت محسوس ہو رہی تھی۔ نہ جانے وہ کون تھی۔ لباس سے وہ کسی اچھے گھر کی معلوم ہو رہی تھی جبکہ یشکر ایک غلام تھا۔ گو شریم اس کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتاتھا ،لیکن شریم کی شفقت و محبت سے اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا تھا۔
قطام نے تمام لڑکیوں کے مشکیزے بھر دئے تھے لیکن وہ اسی زور و شور سے ہنسی مذاق میں مشغول تھیں۔ اس کے پیچھے ہٹنے پر یشکر سلمیٰ اور وتینہ کے مشکیزے بھرنے لگا۔ سلمیٰ لڑکیوں کی طرف چلی گئی تھی جبکہ وتینہ اس کے ساتھ ہی کھڑی رہی۔
پانی کا ڈول کھینچ کر وہ مشکیزے میں ڈالنے لگا۔ وتینہ نے مشکیزے کا منہ پکڑ ا ہوا تھا۔
وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔ ”وہ سردار کی بیٹی بادیہ بنت شیبہ ہے۔ “
وتینہ کی بات سن کر وہ حیران رہ گیا تھا۔ اس کی بے خودی کو وتینہ بھی جان گئی تھی تبھی تو اس نے تعارف کرانے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا۔ شریم کی جان بچانے کی وجہ سے وتینہ اور سلمیٰ کا سلوک پہلے دن سے بہت اچھا تھا۔
وہ صفائی دیتے ہوئے بولا۔ ”مجھے کسی سے کیا لینا دینا۔ “
وتینہ ہنسی۔ ”اس پر جس کی نظر پڑتی ہے وہ یونھی ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ یہ ثانیہ باجی سے بھی خوب صورت ہے۔ “
”کون ثانیہ ؟“یشکر نے موضوع تبدیل کرنا چاہا۔
”قبیلے کے پہلے سردار چچا شریک کی بیٹی ہے ،اس کی شادی بنو اسد کے سردار زادے سے ہوئی ہے۔“
”ہونہہ۔“کر کے وہ کنویں سے پانی کا دوسرا ڈول کھینچنے لگا۔ وتینہ اور سلمیٰ کے بعد اس نے اپنا مشکیزہ بھرا وہ گھر کی طرف بڑھ گیا۔ سلمیٰ اور وتینہ وہیں لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی رہ گئی تھیں۔ گھر کا رخ کرتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی نظر یں بادیہ کی طرف اٹھ گئی تھیں۔ وہ اسی کی جانب متوجہ تھی۔ یشکر کو اپنی جانب دیکھتے پا کر اس نے دو بار رخ موڑ لیا تھا۔ وتینہ اس وقت بادیہ کے ساتھ بیٹھی اس کے کان میں کوئی سرگوشی کر رہی تھی۔
٭٭٭
سابورکے لشکر نے طیسفون سے دو منزل دور پڑاﺅ ڈالا۔ جنگ جوﺅں کی کثیر تعداد اس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئی تھی۔ اس نے تمام صوبوں سے آنے والی سپاہ کا انتظار کیا کہ وہ رومی افواج پر بھرپور ہاتھ ڈالنا چاہتا تھا۔ رومی بادشاہ الیانوس کو بھی سابور کے لشکر کی اطلاع پہنچ گئی تھی۔ اس نے اپنی سپاہ کے ساتھ واپس طیسفون کا رخ کیا۔اسی دن غروب آفتاب کے وقت ایک جاسوس نے آکر الیانوس کے لشکر کی طیسفون کی طرف پیش قدمی کی اطلاع پہنچائی۔ رات ہی کو سابور نے اپنے مشیروں ،وزراءاورجرنیلوں کو بلوا لیا تھا۔ تمام کابینہ بادشاہ کے وسیع خیمے میں جمع تھی۔ سپہ سالار نے کھڑے ہو کر جاسوس کی لائی ہوئی اطلاع تمام تک پہنچاکر مشورے طلب کیے۔
ایک سالار بولا۔ ”رومی بادشاہ کی طیسفون کی طرف واپسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر صورت طیسفون کو قبضے میں رکھنا چاہتا ہے۔ “
سابور کابھائی اردشیر بولا۔ ”پہلے رومیوں کا رخ سوس ،اصفہان و اسطخر کی طرف تھا اور اس وجہ سے ان ریاستوں کے حاکموں نے بہت کم کمک بھیجی ہے کیوں کہ انھیں اپنی ریاستوں پر حملے کا خطرہ درپیش تھا۔ اور یقینا رومی بادشاہ نے اسی وجہ سے طیسفون کو عارضی طور پر خالی کرکے اس جانب کا رخ کیا تھا تاکہ وہ ریاستیں اس پیش قدمی کو خود پر حملے کی تیاری سمجھیں۔ اور اب وہ طیسفون میں پناہ لے کر مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ “
اردشیر کے بیٹھتے ہی باقی جرنیل بھی مختلف مشورے دینے لگے۔
تمام کے مشورے سننے کے بعد سابورنے پوچھا۔ ”ہماری حکمت عملی کیا ہو نی چاہیے ؟“
سابور کے بیٹے بہرام چہارم نے کہا۔ ”رومن افواج سے پہلے ہمیں طیسفون کو قبضے میں لینا ہوگا۔“(بہرام چہارم کو کرمان شاہ بھی کہتے ہیں کیوں کہ سابورنے اپنی زندگی ہی میں اسے کرمان کا حاکم بنا دیا تھا )
سابورکا بیٹا سابور سوم بولا۔ ”بہتر یہی ہو گا کہ ہمیں اپنے گھڑ سوار دستے طیسفون کی طرف بھیج دینے چاہئیں اور بقیہ افواج رومن لشکر کا رستا روکنے کے لیے سوس کا رخ کریں۔ اصفہان اور اصطخر کے حکمرانوں کو مراسلہ بھیجا جائے کہ وہ اپنی سپاہ کے ساتھ رومن لشکر کو عقب سے گھیرلیں۔ طیسفون پر قبضے کے بعدمغرب کی طرف سے ہمارے گھڑ سوار دستے ،مشرق کی جانب سے اصطخر اور اصفہان کا لشکر اور شمال کی جانب سے بقیہ افواج تین اطراف سے رومن سپاہ کو گھیر لیں گی۔ ان کے پاس خلیج الفارس کی طرف بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اور یہ جنگ ہمیں ہر حال میں جیتنی ہو گی۔ “
سابور سوم کا مشورہ سابور ذوالاکتاف کو سب زیادہ پسند آیا تھا اس نے اثبات میں ہلاتے ہوئے حکم صادر کیا۔ ” ہم تین نہیں چار اطراف سے رومن گیدڑوں کو گھیریں گے۔تھوڑی دیر تک ہمارا ہراول گھڑ سوار دستہ طیسفون کی طرف روانہ ہو جائے گا۔دستے کی قیادت میں خود کروں گا۔ باقی افواج بھی طلوع افتاب سے پہلے حرکت کریں گی اورطیسفون کے بجائے وہ رومن افواج کی طرف بڑھیں گی ان کی قیادت اردشیر کرے گا۔ “یہ کہہ کر وہ شاہی کاتب کی جانب متوجہ ہوا۔ ”فی الفور اصفہان کے حکمران کو لکھ بھیجو کہ وہ اپنی افواج کے ساتھ رومن لشکر کے عقب میں آگے بڑھیں۔جبکہ اصطخر کے حکمران کو لکھو کہ وہ اپنے لشکر کو لے کر جنوب کی جانب سے رومن افواج کو گھیرے میں لیں۔ “بات ختم کرتے ہی سابور نے دربار برخاست کرنے کا اشارہ کیا اور لباس تبدیل کرنے اپنے شبستان میں گھس گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنے محافظ دستے اور دس ہزارشہ سواروں کے ساتھ طیسفون کا رخ کر رہا تھا۔ طلوع آفتاب تک انھوں نے طیسفون کے دروازے پر دستک دے دی تھی۔ رومن لشکر طیسفون سے دو تین منزل کی دوری پر تھا۔ طیسفون میں رومن فوج کی قلیل تعداد موجود تھی۔ انھیں فارسی افواج کی پیش قدمی کی اطلاع تو تھی لیکن وہ اتنی جلدی طیسفون پہنچ جائیں گے یہ اندازہ انھیں نہیں تھا۔ ساسانی لشکر کے تیز رفتار گھڑ سواروں نے تھوڑی ہی دیر میں رومن دستوں کا صفایا کر دیا تھا۔ بہت کم افراد جان بچا کر بھاگ پائے تھے۔ دو پہر تک ایک ہزار گھڑسواروں کو شہر کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ کر باقی افراد کے ساتھ مشرق کا رخ کر رہا تھا۔
٭٭٭
”تمھارے یہاں رہنے کا کوئی فائدہ ؟“سبرینہ برا سا منھ بناتے ہوئے سامنے کھڑے بہرام کو مخاطب ہوئی۔
وہ چاہت سے بولا۔ ”تمھیں دیکھے بغیر وقت بھی تو نہیں گزرتا۔ “
وہ جھلاتے ہوئے بولی۔ ”بہت اچھا ،تم دو تین سال اطمینان سے میرا دیدار کر لو اس کے بعد میں توچلی جاﺅں گی شوہر کے ساتھ پھر روتے رہنا۔ “
”تو کیا کرتا ،محترم سالار نے حکم دیا ہے کہ میں تمھاری حفاظت کے لیے پیچھے رہ جاﺅں۔ “ بہرام کے لہجے میں بے بسی تھی۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔ ”اگر جنگ میں نہیں جاﺅ گے تو کوئی کارنامہ کیسے سر انجام دو گے ؟ اگر یہ سمجھتے ہو کہ پدر محترم تمھاری خدمت گزاری سے متاثر ہو کر اپنی بیٹی کا ہاتھ تمھیں پکڑا دیں گے تو یہ خوش فہمی دل سے نکال دو۔ “
بہرام نے کہا۔ ”صرف خدمت گزاری نہیں محترم سالار کی بیٹی بھی مجھے پسند کرتی ہے۔ “
”ہاں کرتی ہوںپسند۔ “مسہری سے اٹھ کر وہ بہرام کے قریب ہوئی اور اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے جذباتی لہجے میں بولی۔ ”اتنا کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے ،لیکن پدرِ محتر م میری یہ خواہش کسی حال میں پوری نہیں کریں گے۔ “
سبرینہ کے ملائم ہاتھوں کو لبوں سے لگاتے ہوئے اس نے پوچھا۔ ”اچھا تمھی بتاﺅ مجھے کیا کرنا چاہیے؟“
”بتا چکی ہوں ،کوئی ایسا کارنامہ کہ خداوند فارس تمھیں منھ مانگا انعام دینے پر مجبور ہو جائیں اور اس وقت میرا حصول مشکل نہیں رہے گا۔ “
”جو ذمہ داری مجھے محترم سالار نے سونپی ہے اسے چھوڑ کرکیسے جنگ میں شامل ہونے چلا جاﺅں؟“
”میں بس یہ جانتی ہوں کہ اب تمھارے بغیر زندہ نہیں رہ پاﺅں گی۔ “اس کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی تھی۔
”اگر کہیں بھاگ جائیں۔ “بہرام کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔
سبرینہ نے حقائق کا پٹارہ کھولا۔”کہاں جائیں گے ؟پدرِ محترم یہ کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے کہ ان کی بیٹی اپنے محافظ کے ساتھ بھاگ جائے۔ وہ مجھے تلاش کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ یوں خوف کے سائے میں ہم خوشی کا ایک پل بھی نہیں بتا پائیں گے۔ “
”اچھا پریشان نہیں ہوتے ،میں جانتا ہوں طیسفون پر قبضہ کرتے ہی محترم سالار تمھیں بلوا لیں گے اس کے بعد میں جنگ میں شامل ہونے کی درخواست کروں گا۔ اور وعدہ کرتا ہوں جنگ کے خاتمے پر خود کو انعام کا حق دارضرور ثابت کروں گا۔“
وہ منھ بسورتے ہوئے بولی۔ ”مرنے کی کوشش نہ کرنا ،ورنہ میں تمھاری جان لے لوں گی۔“
اور بہرام قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔ سبرینہ کے ہونٹوں پر بھی پھیکی مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی۔
٭٭٭
رومن افواج ،طیسفون سے منزل ڈیڑھ دور ہی تھیں جب رومن شہنشاہ الیانوس کو تازہ اطلاعات موصول ہوئیں۔اسے پتا چلا کہ ساسانی لشکرچاروں اطراف سے اسے گھیرنے کی کوشش میں ہے۔جس فوج کا عقب محفوظ نہ ہو وہ کبھی بھی لڑائی نہیں جیت سکتی۔طیسفون کی جانب پیش قدمی کو روک کر اس نے اپنے سالاروں سے مشورہ کیا اور فی الفور لشکر کا رخ جنوب کی جانب موڑ دیا۔ساسانی لشکر کا گھیرا مکمل ہونے سے پہلے وہ خیلج الفارس کو اپنے عقب میں لینا چاہتا تھا۔کیونکہ عقب کو محفوظ رکھ کر ہی وہ دشمن سے مقابلے کے قابل ہوتا۔اس نے بغیر وقت ضائع کیے اپنے لشکر کا رخ موڑااور جنوب کی جانب بڑھ گیا۔ ساسانی لشکر صرف گھیراﺅ کرنے کا منصوبہ بنا سکے تھے جاسوسوں کی بروقت اطلاع پر رومن افواج سنبھل گئی تھیں۔لیانوس (جولین)اپنے لشکر کے ہمراہ تیز رفتاری سے سفر کرتا ہوا جنوب کی طرف بڑھتا رہا۔ اگر اس تیز رفتاری کا مظاہرہ اس نے پہلے کیا ہوتا تو ساسانی لشکر سے پہلے طیسفون پہنچ گیا ہوتا۔اور وہاں دریائے دجلہ کو عقب میں لے کر وہ آسانی سے ساسانی لشکر کا مقابلہ کر پاتا۔کیوں اس کے پاس بھی جنگجوﺅں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔خود لیانوس ایک بہادر اور دلیر شخص تھا۔اس کی بہادری اور دلیری کا پتا ان ابھرواں تصویروں سے چلتا ہے جو سابور نے چٹانوں پر کندہ کروائی تھیں اور ان میں اسے ایک شیر کی شکل میں دکھایا گیا تھا جس کے منھ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔
بغیر آرام کیے مسلسل سفر کرتا ہوا وہ اردشیر کے مضافات میں پہنچا اور وہاں پڑاﺅ ڈال دیا۔ اب خلیج الفارس کی وجہ سے اس کا عقب محفوظ تھا۔اور وہ جنگ کے لیے بھی تیار تھا۔
٭٭٭
”دیکھو جوان ،ایک بات یاد رکھنا عربوں کے نزدیک سب سے پہلے حسب نسب اور خون کا رشتا ہوتا ہے۔اگر یہ سوچتے ہو کہ شہ زوری اور تلوار بازی کی صلاحیت کیے بل پر کوئی اعلیٰ نسب لڑکی تمھیں مل جائے گی تو یہ ایک سپنا ہی ہے۔“شریم تک بھی یشکر کے بادیہ کو پسند کرنے کی خبر پہنچ چکی تھی۔ اس نے یشکر کو سمجھانے میں ایک لحظے کی بھی دیر نہیں کی تھی۔
وہ خفگی سے بولا۔”مالک ،میں نے کب یہ خواہش ظاہر کی ہے ۔“
شریم انکشاف کرتے ہوئے بولا۔”وتینہ کی، اپنی ماں کے کانوں میں کی ہوئی سرگوشی تک میری سماعتوں کو بھی رسائی مل گئی ہے۔“
یشکر معترض ہوا۔”وتینہ کو غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے۔“
”خیال رہے کوئی ایسی غلطی نہ کر بیٹھنا جس کا مداوا میرے بس سے باہر ہو۔وہ بنو جساسہ کے سردار کا خون ہے۔“شریم بحث کا اختتام کرتا ہوا باہر نکل گیا۔یشکر سوچ میں ڈوب گیا تھا۔گو اس نے شریم کے سامنے اقرار نہیں کیا تھا مگر حقیقت تو یہی تھی کہ بادیہ بری طرح اس کے اعصاب پر سوار ہو چکی تھی۔ وتینہ کا اندازہ غلط نہیں تھا۔جب سے وہ اسے نظر آئی تھی بنو جساسہ میں اس کادل لگ گیا تھا۔اب وہ کنویں پر بھی اس وقت پانی بھرنے جاتا تھا جب وہ اپنی سہلیوں کے ساتھ وہاں موجود ہوتی۔البتہ وہ پہلے دن کی طرح بے خود ہو کر اسے گھورتانہیں تھا بلکہ کن انکھیوں سے اس کی دید سے بہرہ مند ہوتا رہتا۔
شریم کے جانے کے تھوڑی دیر بعد وہ بھی اپنے حجرے سے نکل آیا۔سلمیٰ اور وتینہ دو تین سہیلیوں کے ساتھ گھر کے صحن میں بیٹھی کپڑے سی رہی تھیں۔آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ایسا موسم عرب میں نعمت ہی ہوتا ہے۔اس کے قدم بے خیالی میں بنو جساسہ کے سردار کی حویلی کی طرف اٹھ گئے۔حویلی کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس کی مشتاق نگاہیں بند دروازے سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئی تھیں۔وہ دروازے کے سامنے سے گزر کر آگے بڑھتا گیا۔کچھ فاصلے پر اسے لوگوں کا مجمع نظر آیا اور وہ اس طرف بڑھ گیا۔قریب جانے پر پتا چلا کہ وہ اونٹ ذبح کر کے جوّا کھیل رہے تھے۔اور اس مقصد کے لیے وہ تیر استعمال کر رہے تھے۔ اس کے پہنچنے کے ساتھ جیتنے والے اپنے حصے کا گوشت سمیٹنے لگے تھے۔
(تیر آلہ جنگ ہونے کے علاوہ آلہِ قمار بھی تھے۔اونٹ ذبح کر کے گوشت کے دس حصے بنائے جاتے اور ان پر دس تیروں سے جوا¿کھیلا جاتا جنھیں ”قِداح “ یا ”ازلام “ کہا جاتا تھا۔ان تیروں کے نام بھی مقرر تھے یعنی الفذ ،التوا¿م،الرقیب ، الحلس،النّافس، المسبل ،المعلّیٰ، المینح، السفیح، الوغد۔اور اسی ترتیب سے حصے طے تھے یعنی ،فذ کا ایک حصہ ،توا¿م کے دو حصے ،رقیب کے تین حصے و علیٰ ہذاالقیاس معلّیٰ کے سات حصے اور آخری تین تیر خالی انھیں کچھ نہیں ملتا تھا۔عرب شعراءنے جوّے کے ان تیروں کا اپنی شاعری میں بھی کافی ذکر کیا ہے۔جوّے کے علاوہ ان تیروں سے فال بھی لی جاتی تھی۔سفر ،تجارت ،شادی بیاہ وغیرہ کا مرحلہ درپیش ہوتا تو خانہِ کعبہ میں پجاری کو نذرانہ دے کر ہبل کے نام پر رکھے ہوئے تیروں سے فال نکلواتے۔کسی تیر پر لکھا ہوتا ”امرنی ربّی“(میرے رب نے مجھے حکم دیا ) کسی پر ”نہانی ربّی “( میرے رب نے مجھے روکا ہے )کسی پر کچھ اور۔بسا اوقات اپنے طور پر ایسی فال لینے کے لیے تین تیر ساتھ بھی رکھتے تھے جن میں سے ایک کسی کام کے کرنے اورایک نہ کرنے کا ہوتا اور ایک تیر خالی ہوتا تھا۔(عربی ادب قبل از اسلام مصنف ڈاکٹر خورشید رضوی ص 145,146)
وہ ایک جانب کھڑا ہو کر دلچسپی سے انھیں دیکھنے لگا۔وہ دو تین بار پہلے بھی یہ تماشا دیکھ چکا تھا۔ جیتنے والوں کے چہروں پر خوشی اور ہارنے والوں کا غمگین چہرہ اس کے لیے نیانہیں تھا۔
اسی وقت قبیلے کے عمر رسیدہ معزز،صامت بن منبہ نے قریب آکر اس کی پیٹھ تھپکی۔ ” جوان سنا ہے لڑتے وقت تم غلام نظر نہیں آتے۔“
وہ پر اعتماد لہجے میں بولا۔”محترم سردار،میں غلام پیدا نہیں ہوا تھا۔“
صامت بن منبہ مسکرایا۔”ویسے عجیب بات ہے کہ تمھارے خال و خد ہمارے قبیلے کے مردوں سے اتنے مماثل ہیں کہ باہر کا کوئی آدمی تمھیں بنو جساسہ ہی کا فردسمجھے گا۔“
یشکرکے لبوں پر بھی دھیمی سے مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”اب میں بنو جساسہ ہی کا فرد ہوں محترم سردار۔“
”شریم بن ثمامہ کی دانائی کا میں پہلے سے قائل تھا۔تمھیں خرید کر اس نے میرے یقین کو پختہ کر دیا ہے۔“صامت بن منبہ تحسین آمیز لہجے میں کہتا ہوا رخصت ہو گیا۔مجمع چھٹنا شروع ہو گیا تھا۔ یشکر بھی واپسی کے لیے مڑ گیا۔ ایسے خوب صورت موسم میں پہلے اس کا دل شکار کے لیے مچلتا تھا لیکن جب سے اس نے بادیہ کو دیکھا تھا اس کی خواہشیں کو مرکز مل گیا تھا۔وہ روز بہ روز اس کے لیے ناگزیر ہوتی جا رہی تھی۔اور اب اس کا دماغ مسلسل اس کے حصول کی تدابیر ہی میں کھویا رہتا۔شریم کی نصیحت بھی کسی کام نہیں آسکی تھی۔گھر واپسی کے لیے بھی وہ بادیہ کی حویلی کے سامنے ہی سے گزرا تھا ،مگر ہائے بدقسمتی کہ اس کا مطمح نظر پورا نہیں ہوسکا تھا۔محبوب کے کے گھر کے دروازے کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔گھر کی طرف بڑھتے ہوئے اس کی ذہنی رو سبرینہ کی طرف بہنے لگی۔نامعلوم وہ کامیابی سے نہاوند پہنچ پائی تھی کہ نہیں۔اور آیا اس کا باپ سکندر زندہ تھا یا ماں کی طرح وہ بھی داغ مفارقت دے گیا تھا۔وہ خداوند یزدان سے اس کی زندگی کی دعا مانگنے لگا۔چونکہ آنکھیں کھولتے وقت اس نے زرتشتیوں ہی کو مختلف مذہی رسومات کرتے دیکھا تھا اس لیے لاشعوری طور وہ بھی اسی مذہب سے متاثر تھا۔عربوں کے زیادہ تر عقائد اور رسومات اسے مضحکہ خیز نظر آتی تھیں۔
اس نے سوچا۔اگر سکندر زندہ ہوا تو یقینا اسے ڈھونڈنکالے گا۔اور اس کے بعد بادیہ کا حصول بھی اسے مشکل نظر نہیں آتا تھا کیوں کہ اس کا باپ سکندر اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس کے خیال کے مطابق اسے بادیہ کا رشتا دینے کے لیے بادیہ کے سردار باپ کے پاس انکار کی وجہ موجود نہیں تھی۔ گھر میں داخل ہونے تک وہ انھی سوچوں میں سرگرداں رہا۔اس کی سوچوں کا سلسلہ لڑکی کی چیخ سن کر ٹوٹا تھا ، وہ اندازہ نہیں کر پایا تھا کہ چیخنے والی وتینہ ہے یا سلمیٰ۔اس کے قدموں میں تیزی آئی اور وہ اس طرف بڑھا۔اسی وقت سلمیٰ بھی اپنی ماں نائلہ کے ساتھ اس طرف جاتی نظر آئی۔سلمیٰ اور وتینہ شریم کی دوسری بیوی نائلہ کی بیٹیاں تھیں اور دونوں سگی بہنیں تھیں۔نائلہ کے علاوہ شریم کی کسی بیوی سے اولاد نہیں تھی۔
پہلی چیخ کے بعد وتینہ ”سانپ ….سانپ “پکارنے لگی تھی ۔یشکر سلمیٰ اور نائلہ سے پہلے شریم کے حجرے میں داخل ہوا۔شریم اس وقت لکڑی کی مسہری پر آڑا ترچھا پڑا تھا ۔اس کی ٹانگیں چارپائی سے نیچے لٹکی ہوئی تھیں مسہری کی پائنتی کی طرف ایک سیاہ ناگ پھن پھلائے وتینہ کو گھور رہا تھا جو حجرے کے کونے میں سمٹی ہوئی تھی ۔یشکر اندر داخل ہوتے ہی سانپ کی طرف بڑھا ۔
”شاں “کی آواز کے ساتھ سانپ نے اس پر حملہ کر یا ،مگر یشکر نے اطمینان سے اس کے پھن پر ہاتھ ڈال دیا ۔شہنشاہ فارس کے محافظ کے طور پر اس کی تربیت ہوئی تھی ۔کسی بھی قسم کا زہر اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا ۔سانپ کا پھن ہاتھ میں آتے ہی اس نے پھن کو پختہ زمین پر رکھ کر ایڑی سے کچل دیا ۔سانپ اذیت سے بل کھانے لگا تھا۔اس سے بے فکر ہوتے ہی وہ شریم کی طرف مڑا ۔جس کی حالت لمحہ بہ لمحہ خراب ہوتی جا رہی تھی ۔نائلہ ،وتینہ اور سلمیٰ کے چہرے بھی خوف سے پیلے پڑ گئے تھے ۔
نائلہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی ۔”سلمیٰ !بھاگ کر حکیم جی کو بلا لاﺅ ۔“
وہ ۔”جی اچھا ۔“کہتے ہوئے بھاگ پڑی ۔یشکر نے زمین پر بیٹھتے ہوئے فوراََ شریم کی پنڈلیوں اور پاﺅں کا جائزہ لیا ۔اس کی باریک بین نگاہوں کو دائیں پنڈلی پر ٹخنے سے تھوڑا سا اوپر سانپ کے کاٹنے کے نشان نظر آگئے تھے ۔
اس نے تیز لہجے میں وتینہ کو کہا ۔”چھری لے آﺅ ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ چھری لانے بھاگ پڑی ۔یشکر نے شریم کو سیدھا کر کے لٹایا اور اپنی چادر اس کی ران پر باندھ دی تاکہ زہر زیادہ نہ پھیل جائے ۔شریم کے جسم کو ہلکے ہلکے جھٹکے لگ رہے تھے ۔اس دوران وتینہ بھاگ کر چھری لے آئی تھی ۔سانپ کے دانتوں کے نشان کے ساتھ اس نے چھری سے ہلکا سا زخم لگایا اور زخم سے منہ لگا کر زہر چوسنا شروع کر دیا ۔خون کے اندر تیز زہر کی آمیزش اسے واضح محسوس ہو رہی تھی ۔زہر ملے خون سے منھ بھرتے ہی اس نے ایک جانب تھوکا اور دوبارہ چوسنے لگا ۔وہ اس وقت تک زخم کو منہ لگا کر زہر چوستا رہا جب تک خون میں زہر کا ذائقہ ختم نہ ہو گیا ۔مطمئن ہوتے ہی اس نے شریم کی ران سے بندھی چادر کھولی اور اس سے پٹی پھاڑ کر زخم پر لپیٹ دی ۔شریم کی بیوی نائلہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر ساری کارروائی دیکھتی رہی ۔یشکر کو مخاطب کرنے کی ضرورت اس نے محسوس نہیں کی تھی ۔
وتینہ البتہ ۔”بار بار سسکتے ہوئے آنسو بہانے لگتی ۔جونھی یشکر نے زخم پر پٹی باندھی وہ رندھی ہوئی آواز میں پوچھنے لگی ۔
”یشکر !ابا جان ٹھیک تو ہو جائیں گے نا ۔“
وہ پر اعتماد لہجے میں بولا ۔”جی آقا زادی ،بالکل ٹھیک ہو جائیں گے ۔“
اسی وقت سلمیٰ بنو جساسہ کے بوڑھے حکیم قعنب بن یخلد کو ساتھ لیے حجرے میں داخل ہوئی ۔ قعنب نے ہاتھ میں کپڑے کا تھیلا اٹھایا ہوا تھا ۔سانپ کے مردہ جسم کو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں ۔اس نے سرسراتے لہجے میں کہا ۔
”شاید میں نے آنے میں دیر کر دی ہے ۔“
یشکر اطمینان سے بولا ۔”آقا اب بہتر ہیں ،میں نے زہر چوس لیا ہے ۔“
”کیا ….؟“قنعب نے حیرانی بھری نگاہ یشکر پر ڈالی اور اس کے ساتھ اسے حجرے کی زمین پر نیلگوں خون نظر آیا ۔اس نے فوراََ قریب ہو کر شریم کی نبض تھامی اور پھر اس کی آنلھوں کی پتلیوں کا جائزہ لینے لگا ۔
کسی کا نام لیے بغیر اس نے کہا ۔”دودھ کا کٹورا لے آﺅ ۔“
سلمیٰ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔اس کی واپسی تک حکیم قنعب اپنے تھیلے سے سفوف کی چھوٹی سے تھیلی برآمد کی اور دودھ کا کٹورا سلمیٰ کے ہاتھ سے تھام کر شریم کو سفوف کھلانے لگا ۔ شریم کی ناگفتہ بہ حالت میں بہتری آنے لگی تھی ۔ یشکر قریب ہو کر حکیم کا ہاتھ بٹانے لگا ۔تھوڑی کوشش کے بعد وہ شریم کے حلق میں پورا کٹورا خالی کر چکے تھے ۔
شریم کو دودھ پلا کر وہ یشکر کی جانب متوجہ ہوا ۔”جوان ،بہتر ہو گا کہ یہ سفوف تم بھی پھانک لو ، زہر چوستے وقت اس کی کچھ نہ کچھ مقدار لعاب کے ساتھ حلق میں چلی جاتی ہے جو نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔“
یشکر اطمینان سے بولا ۔”اس کی ضرورت نہیں ہے محترم حکیم !زہر مجھ پر اثر نہیں کرتا۔“
قنعب نے حیرانی سے کہا ۔”میں سمجھا نہیں ۔“
یشکر مسکرایا ۔”میں سمجھا بھی نہیں سکتا ۔“
اسی وقت شریم نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں ۔ حکیم قنعب ہلکی مسکراہٹ سے بولا۔ ”نئی زندگی مبارک ہو ۔“
شریم کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”شکریہ حکیم صاحب۔“
”شکریہ اپنے غلام کا ادا کرو ،اگر یہ نہ ہوتا تو تمھاری آنکھوں کا آخری نظارہ سانپ کا کراہیت آمیز وجود ہی ہوتا ۔“
شریم نقاہت سے بولا۔” اب یہ غلام نہیں رہا۔ میں یشکر کو بیٹا بنانے کا اعلان کرتا ہوں۔ “
یشکر کا سر ممنونیت سے جھک گیا تھا۔
حکیم قنعب خوش دلی سے مسکرایا ۔”اتنا انعام تو بنتا ہے ۔بہ ہرحال مبارک ہو ۔“
شریم نے خیر مبارک کہہ کر پر شفقت نگاہیں یشکر کے چہرے پر گاڑ دیں ۔جو دوسری مرتبہ اس کی جان بچانے کا سبب بن رہا تھا ۔
(عرب معاشرے میں اس وقت منھ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح ہی سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح وراثت کا حق دار ہوتا تھا۔ اور منھ بولے بیٹے کے ساتھ بھی وہ تمام رشتے حرام ہوتے تھے جو نسبی بیٹے کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اہل عرب میں یہ دستور جاری رہا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ بن شرحبیل الکلبی کو آزاد فرما کر انھیں منھ بولا بیٹا بنا لیا۔ اور جب حضرت زید ؓ نے حضرت زینبؓ بنت جحش کو طلاق دے دی تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ پاک کے حکم سے ان سے نکاح فرما لیا ۔اور یوں ایک دیرینہ غلط رسم کا خاتمہ ہوا۔ )
”حکیم چچا !ہمیں بھی بھائی کی مبارک باد دیں نا ں ۔“وتینہ باپ کی طبیعت سنبھلتے دیکھ کر کھل اٹھی تھی ۔اسے پہلے بھی یشکر کے ساتھ بہت لگاﺅ تھا اور اب تو اس کے باپ نے یشکر کو بیٹا بنا لیا تھا ۔
”تمھیں بھی مبارک ہو بیٹی ۔“حکیم نے کھڑے ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنا تھیلا اٹھا کر جانے کی اجازت طلب کرنے لگا ۔
نائلہ نے حجرے کے کونے میں رکھے لکڑی کی صندوق سے خشک کھجوروں کی بھری تھیلی نکال کر یشکر کے حوالے کی ۔”بیٹا ،یہ حکیم صاحب کے گھر پہنچا دو ۔“وہ کھجوریں حکیم صاحب کا معاوضا تھا ۔
(اس وقت عرب معاشرے میں زیادہ تر لین دین اجناس اور اشیاءکے تبادلے ہی سے ہوا کرتا تھا ۔جزیرہ نما عرب کی ملحقہ حکومتوں میں تو سونے اور چاندی کے سکوں کا رواج تھا ۔لیکن عرب میں باقاعدہ کوئی حکومت موجودنہیں تھی اس لیے یہاں پر خریدو فروخت اور مزدوری وغیرہ کا معاوضا اسی طرح کھجوروں ،گندم ،جو یا کسی اور چیز کو دے کر ادا کیا جاتا تھا۔اس ضمن میں عرب کے لوگ سونے ،چاندی کو قیراط ،مثقال وغیرہ کے وزن کے حساب سے بھی خریداری میں استعمال کرتے تھے ۔اور رومی ،شامی اور فارسی درہم و دینار کوبھی عرب میں قبول عام حاصل تھا )
”جی ۔“ادب سے کہتے ہوئے یشکر نے نائلہ کے ہاتھ سے کھجوروں کی تھیلی پکڑی اورحکیم صاحب کے ساتھ چل پڑا ۔
شام تک یہ خبر بنو جساسہ میں پھیل چکی تھی کہ شریم نے اپنے غلام یشکر کو آزاد کر کے بیٹا بنا لیا ہے ۔
یشکربھی عجیب مخمصے میں پھنس گیا تھا۔ اس کی محبتیں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھیں۔ سکندر اسے بہت عزیز تھاتو اب شریم کے لیے بھی اس کے دل میں کافی زیادہ محبت اور عقیدت پیدا ہو چکی تھی۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ آیا سکندرزندہ تھایاموت کو گلے لگا چکا تھا۔ سکندر کی زندگی کی صورت میں اسے واپس جانے میں زیادہ دلچسپی تھی ،لیکن ایک دم شریم کو یہ کہنا کہ وہ واپس جانا چاہتا ہے مناسب نہیں تھا۔ شریم نے اسے بیٹا بنا کر عزت بخشی تھی اور وہ جانے کا کہہ کر انھیں دکھ نہیں دے سکتا تھا۔ اسے امید تھی کہ زندہ ہونے کی صورت میں سکندر ضرور اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتا اور اگر وہ شریم کے قبیلے تک پہنچ جاتا تو یشکر ، شریم کو ادب سے درخواست کر سکتا تھا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ واپس جانا چاہتا ہے۔ یقینا ایسی صورت میں شریم کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔اور سب سے بڑھ کر بادیہ کا مسئلہ تھا جو یشکر کو اپنی زندگی کے لیے ناگزیر نظر آتی تھی ۔اس کی خواہش تھی کہ سکندر وہاں پہنچ کر بنو جساسہ کے سردار سے بادیہ کا رشتا طلب کرے۔ اب اس کا نخل تمنا کب کھلنا تھا یہ طے کرنا قدرت کا کام تھا ،اس کے بس میں صرف دعا کرنا ہی تھا اور اس سے وہ غافل نہیں ہواتھا ۔
٭٭٭
ہرن نے گھاس کھانے کے لیے سر جھکایا،اس وقت وہ لمحہ بھر کے لیے ماحول سے غافل ہوا، چست و چالاک شکار ی نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا سر ٹیلے کے عقب سے ابھارا ،تیر کا چلّہ پیچھے کھینچا اور پھر تیر سنسناتا ہوا ہرن کی طرف بڑھا ۔بے زبان جانور کے لیے بچنے کا کوئی رستا نہیں بچا تھا۔ جب تک وہ چونک پاتا تیر اس کی گردن کے پار ہو گیا تھا ۔جان بچانے کی فطری جبلت کے تحت اس نے چھلانگ لگائی جو اس کی زندگی کی آخری چھلانگ تھی ۔ چھلانگ کے اختتام پر وہ نیچے گرکر تڑپنے لگا ۔
شکاری نے اس کے گرنے کا انتظار نہیں کیا تھا تیر چلاتے ہی وہ بھاگ پڑی تھی کیوں کہ اسے اپنی تیر اندازی پر مکمل بھروسا تھا ۔وہ قتیلہ تھی ۔ قریب پہنچ کر وہ گھٹنا ٹیک کر تڑپتے ہرن کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اگلے ہی لمحے اس نے تیر ہرن کے گلے سے کھینچااور خون کو چُلّو میں بھر کر کمان کے چِلّے پر ملنے لگی۔ ان کا خیال تھا کہ شکار کا خون کمان کے چِلّے پر ملنے سے شکاری کا نشانہ مزید اچھا ہوتا ہے ۔کم عمری ہی میں اس کی کمان کا چلّہ درجنوں جانوروں کے خون سے رنگین ہو چکا تھا ۔بلکہ اس ضمن میں وہ کئی انسانوں کا خون بھی استعمال کر چکی تھی ۔
چِلّے کو خون سے تر کر کے اس نے تیر کی انّی کو ہرن کی کھال پر رگڑ کر صاف کیا اور تیر ترکش میں ڈال لیا ۔ہرن کے ساکت ہوتے ہی وہ کھڑی ہوئی اور ہاتھ میں پکڑی کمان کو کندھے سے گزار کر اس نے پشت پر باندھا اور ہرن کو اٹھانے کے لیے ایک دم نیچے کو جھکی ۔اسی لمحے ”شاں “کی آواز سے تیر اس کے جسم سے گز بھر اوپر گزر گیا ۔چلانے والا اناڑی لگ رہا تھا۔سیدھا ہونے کا خطرہ مول لیے بغیر وہ اوندھے منھ ریت پر لیٹ گئی ۔تیر اس ٹیلے سمت سے آیا جہاں سے اس نے ہرن کو نشانہ بنایا تھا ۔ وہیں وہ اپنا گھوڑا بھی چھوڑ کر آئی تھی ۔اور ا ب وہیں سے اسے بھی شکار بنایا جارہا تھا ۔نیچے لیٹتے ہی ”شاں …. شاں“ کی آواز سے دو تین تیر اس کے دائیں بائیں ریت میں گڑ گئے تھے۔اس نے ٹیلے کی سمت نگاہ دوڑائی پانچ آدمی نظر آرہے تھے ۔انھوں نے سر پربندھی چادروں کے پلّو چہرے کے گردلپیٹے ہوئے تھے۔ چاروں کے ہاتھوں میں کمانیں نظر آرہی تھیں۔
”زندہ رہنا چاہتی ہو تو خود کو ہمارے حوالے کر دو ۔“ایک نا مانوس آواز کی اس سماعتوں میں گونجی ۔
انھیں جواب دیے بغیر وہ بھاگنے کا سوچنے لگی ۔اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا ۔ وہ خود مایہ ناز تیر انداز تھی اور اچھی طرح جانتی تھی کہ تیروں سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ۔تھوڑے فاصلے پر غضاءکی جھاڑیوں کے جھنڈ نظر آرہے تھے(غضاءکی لکڑی بہت سخت اورکا کوئلہ بہت دیر تک جلتا ہے ۔چنانچہ عربی ادب میں جمر الغضاء” غضاءکے انگارے“ کی ترکیب اکثر ملتی ہے ۔از عربی ادب قبل از اسلام ) وہاں پہنچ کر وہ دشمنوں کی نظر سے اوجھل ہو سکتی تھی ۔سرعت سے سوچتے ہوئے وہ عمل کر گزری ۔ غضاءکی جھاڑیوں کا رخ کرتے ہوئے وہ سیدھا جانے کے بجائے آڑا ترچھا بھاگنے لگی ۔اس طرح کوئی نشانہ سادھ کر اسے ہدف نہیں بنا سکتا تھا ۔کیوں کہ جس انداز میں وہ بھاگ رہی تھی خود اسے بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا اگلا قدم کہاں پڑے گا ۔اس کے جھاڑیوں تک پہنچنے سے پہلے چار تیر سنسناتے ہوئے اس کے اطراف میں گڑ گئے ۔اس کے قدموں میں مزید تیزی آئی اور وہ لومڑی کی طرح جھاڑیوں کے جھنڈ میں گھس گئی ۔ آڑ میسر ہوتے ہی اس نے حملہ آوروں کی طرف دیکھا ۔چاروں اب تک ٹیلے ہی پر موجود تھے۔اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ اسے کسی منصوبے سے گھیرا گیا تھا کیوں کہ انجانے دشمن کو اتنی دور سے تیر چلا کر اسے قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیںتھی ۔نوجوان اکیلی لڑکی کو ایسے اچکے پکڑنے کی کوشش کرتے نہ کہ قتل کرنے کی ۔اس کا دماغ تیزی سے حفاظتی تدابیر کے سوچنے لگا۔
وہ ایک چوڑی وادی میں موجود تھی ۔دشمن اس کے اور قبیلے کے درمیان میں حائل تھے ۔گویا سیدھا قبیلے کا رخ کرنا ممکن نہیں تھا ۔اور لمبا چکر کاٹ کر قبیلے تک پہنچنا بھی آسان نہیں تھا کہ ایک تو اس کی سواری دشمن کے قبضے میں تھی ،دوسرا جھاڑیوں کے جھنڈ سے نکلتے ہی وہ دشمن کے تیروں کا نشانہ بن جاتی ۔ اتنی عقل دشمنوں میں بھی موجود تھی کہ ٹیلے سے اتر کر اس کی جانب نہیں بڑھ رہے تھے ۔اور اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قتیلہ بے خطا نشانے کی مالک ہے ۔لیکن اس کی نشانہ بازی سے وہ اندھیرا چھانے تک احتیاط کرتے اس کے بعد تو قتیلہ کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ۔نامعلوم ان کی تعداد کتنی تھی ۔پانچ آدمیوں کے دکھائی دینے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ان کی تعداداتنی ہی ہوتی ۔ممکن تھا کہ باقی کسی اور جانب سے اسے گھیرے میں لینے کے لیے آرہے ہوتے ۔
یہ خیال آتے ہی اس نے عقبی جانب دیکھا وہ اس وقت وادی کے تقریباََ درمیان میں موجود تھی ۔ عقبی ٹیلوں کا فاصلہ دو تین سو قدم تھا ۔پشت پر لٹکی کمان کو ہاتھ میں لے کر اس نے تیر چلے میں ڈالا اور مقابلے کے لیے تیار ہو گئی ۔اس کے دل میں ڈر کا شائبہ تک موجود نہیں تھا ۔نہ وہ مرنے سے ڈرتی تھی اور نہ لڑائی بھڑائی اس کے لیے کوئی نئی بات تھی ۔جھاڑیوں سے تھوڑا سا پیچھے ہو کر اس نے مکمل زور لگا کر چلّے کو ممکن حد تک کھینچا اور ٹیلے پر کھڑے دشمنوں میں سے ایک پر نشانہ سادھنے لگی ۔دو تین لمحے اسی طرح ٹھہر کر اس نے تیر کو مخصوص زاویے پر بلند کر کے چھوڑ دیا ۔اس کے ساتھ ہی وہ جھاڑیوں سے آگے نکل کر دشمنوں کو دیکھنے لگی ۔اسے جھاڑیوں کے جھنڈ سے باہر آتا دیکھ کر تمام نے تیر چلانے کے لیے تیار ہو گئے تھے ۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ کمانیں سونت سکتے قُتیلہ کا چلا یا ہوا تیر درمیان والے کے چہرے سے رگڑ کھاتا ہوا چھاتی میں گھس گیا تھا ۔ اتنی بلندی سے آنے والا تیر جڑ تک اس کے جسم میں گھس گیا تھا ۔نیچے گر کر وہ ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا ۔باقی تینوں نے ٹیلے کے عقب میں پناہ لینے میں ایک لمحے کی دیر نہیں کی تھی ۔ وہ اتنے حواس باختہ ہوئے تھے کہ تڑپتے ہوئے ساتھی اسی طرح چھوڑ دیا تھا ۔ان کی بوکھلاہٹ دیکھتے ہوئے قتیلہ کو یقین ہو گیا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق اسی کے قبیلے سے تھا ۔یقینا وہ عیلان بھی عبسہ کے ساتھیوں میں سے تھے ۔ممکن تھا کہ عیلان بن عبسہ خود بھی ان کے ساتھ ہوتا ۔
ان کے ٹیلے کے پیچھے غائب ہوتے ہی قتیلہ دوبارہ جھاڑیوں کے جھنڈ میں گھس گئی ۔لمحہ بھر سوچنے کے بعد اس نے وادی کے دوسرے کنارے کی طرف دوڑ لگا دی کیوں کہ ٹیلے کے عقب میں پہنچ کر ہی وہ اپنے عقب کو محفوظ بنا سکتی تھی ۔دوڑتے ہوئے وہ عقب سے بھی غافل نہیں ہوئی تھی ۔ دوڑتے ہوئے بھی وہ بار بار مڑ کر اس ٹیلے کی جانب دیکھنے لگتی جہاں اس کے دشمن موجود تھے ۔ حملہ آوروں کے ہدف بننے والے ساتھی کا تڑپنا رک گیا تھا ۔جھاڑیوں کے جھنڈ سے سو ،دیڑھ سو قدم دور آتے ہی وہ عقب سے بے فکر ہو گئی تھی ،کیوں کہ اب وہ تیر کی حد سے دور تھی ۔ وہ ٹیلے کی جڑ سے چند قدم دور تھی کہ اچانک ٹیلے پر تین گھڑ سوار نمودار ہوئے ۔انھوں نے بھی اسے دیکھ لیا تھا ۔ان کے ہاتھ بے اختیار اپنے ترکشوں کی جانب بڑھے ۔قُتیلہ کے لیے پیچھے پلٹنے کی گنجائش ختم ہو چکی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: