Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 12

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 12

–**–**–

سابور ذوالاکتاف اپنے حفاظتی دستے کے ساتھ واپس پلٹ آیا تھا ۔البتہ باقی لشکر سوس سے کچھ آگے بڑھ کر پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھا ۔ وہ رومن افواج پر کاری ضرب لگانا چاہتا تھا ۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ رومن سپاہ اپنے ملک سے دور تھیں اس وجہ سے انھیں کافی مشکلات کا سامنا تھا اور ان کا فارس میں قیام کا عرصة جتنا بڑھتا جاتا ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جاتا ۔لیکن اس سوچ کے باوجود وہ جلد از جلد لیانوس کو کھلی شکست سے دوچار کرنا چاہتا تھا ۔لیانوس کی لاش ہی اس کی پچھلی شکست کے گھاﺅ کا مرہم بن سکتی تھی ۔اس وقت تخت پر رونق افروز ہو کروہ اپنے وزرائ، مشیروں اور سالاروں کے ساتھ مل کر اگلی حکمت عملی کا منصوبہ بنا رہا تھا ۔مختلف قسم کی آراءپیش کی جا چکی تھیں ۔کوئی حملے کا مشورہ دے رہا تھا تو کسی کو انتظار کرنے میں بھلائی نظر آرہی تھی ۔کوئی چھاپہ مار کارروائی شروع کرنے کے حق میں تھا اور کوئی رومن لشکر کو گھیرنے کی تجویز پیش کر رہا تھا ۔تمام کی تجاویز سننے کے بعد اس نے سکندر کی طرف دیکھا ۔
سکندر نے رکوع کے بل جھکتے ہوئے تعظیم پیش کی اور پھر ادب سے بولا ۔”خداوند فارس !…. دشمن کے بارے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق اگر ہم رومن حکمران کو قتل کروا دیں تو جنگ کا پانسا ہمارے میں پلٹ سکتا ہے ۔الیانوس سے اس کے لشکر کا ایک بڑا حصہ مذہبی طور پر تنگ ہے ۔دو سرا ہم ارد شیر کے مضافاتی علاقوں کو خالی کروا دیں تاکہ رومن لشکر کو خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑے ،اس وجہ سے عرب لٹیرے بھی بد دل ہوں گے جو رومن افواج کا ساتھ صرف لوٹ مار کی خاطر دے رہے ہیں ۔ اگلے مرحلے میں ہم ان کے نزدیک گھیرا تنگ کریں گے ۔انھیں عقبی جان سے گھیرنے کے لیے ہم خلیج الفارس میں اپنا بیڑا اتار دیں گے اس طرح دشمن کے پاس صرف ایک ہی انتخاب بچے گا کہ وہ ہتھیار ڈال دے ۔“
”ہمیں تمھاری ،تجویز پسند آئی ہے ۔“سابور کے لہجے میں تحسین کا عنصر نمایاں تھا ۔”سپہ سالار ، اپنی سپاہ کو دشمن کے مزید نزدیک کرو ،اردشیر کے مضافاتی علاقوں میں موجود گاﺅں وغیرہ خالی کرادو ۔ مقامی لوگوں کو نکلنے میں مدد دو ،اردشیر کے قلعے میں موجود سپاہ کو کمک فراہم کرو اور اپنی سپاہ کو رومن افواج سے مخصوص فاصلے پر خیمہ زن کر دو ۔“
”جی حضور ۔“سپہ سالار نے کھڑے ہو کر تعظیم پیش کی ۔
سابور سکندر کی جانب متوجہ ہوا ۔”سکندر ،چند بہترین شہ سوار تیار کرو انھیں انفرادی طور پر رومن لشکر میں گھس کر الیانوس کو ٹھکانے لگانے کا ہدف دے دو ،کامیاب ہونے والے کو ہم منھ مانگا انعام دیں گے ۔“
”حکم کی تعمیل ہو گی حضور ِوالا ۔“سکندر نے رکوع کے بل جھکتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
سابور ذوالاکتاف نے جگہ چھوڑتے ہوئے مشاورت ختم کرنے کا اعلان کیا ۔تمام اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے تھے ۔
٭٭٭
”حضور،ایک درخواست کرنا تھی ۔“بہرام رکوع کے بل جھک کر مودّبانہ لہجے میں بولا ۔
منھ سے کچھ کہے بغیر دہ ہزاری کمانڈر بہروز نے آہستہ سے سر ہلا کر اسے بولنے کی اجازت دی ۔
”حضور والا ،رومن بادشاہ کو قتل کرنے کے لیے معزز سالار سکندر چند لڑاکوں کو بھیج رہا ہے، آپ کی اجازت سے میں بھی ان میں شامل ہونا چاہتا ہوں ۔“
”تم نے سبرینہ کی حفاظت کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی ۔“
”جی حضور ،لیکن جب تک اس مہم کا فیصلہ نہیں ہو جاتا شہنشاہ فارس حملہ نہیں کریں گے ۔ایسی صورت میں آپ طیسفون میں حاضر ہوں گے اور آپ کی موجودی میں کون بد بخت خانم کی جانب ٹیڑھی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے ۔“
بہروز کے ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ ابھری ۔”کیا تمھیں یقین ہے کہ یہ مشکل کام سرانجام دے لو گے ۔“
بہرام پر اعتماد لہجے میں بولا ۔”سر خرو ہونے کی کوشش تو کروں گا حضور۔“
بہروز معنی خیز لہجے میں بولا ۔”جانتے ہو پدرِ محترم کا خصوصی محافظ فیروزبہترین شہ سوار تھا۔ اس کی خوب صورتی سے متاثر ہو کر میری بڑی بہن فرخندہ نے پدرِ محترم کے سامنے بڑی جرّات سے محبت کا اقرار کرتے ہوئے اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی ۔پدرِ محترم نے خوش دلی سے اجازت دے دی۔ فیروز خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔مگر ہونی شدنی کو کون ٹال سکتا ہے ،شادی سے چند دن پہلے گھر میں ہونے والی چوری کی واردات میں فیروز چوروں سے مزاحمت کرتا ہوا ہلاک ہو گیا ۔بہ ہر حال اس کی بد قسمتی ورنہ پدرِ محترم کو تو اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔“
بہرام تھوک نگلتا ہوا ہکلایا ۔”جج….جی ….حضور۔“
”تم سے ایک مشورہ بھی کرنا تھا ،دہ ہزاری کمانڈر اناتوش اپنے بیٹے کے لیے سبرینہ بیٹی کا ہاتھ مانگ رہا ہے،کیا کرنا چاہیے ؟“
”جج …. جو حضور کی مرضی ہو ۔“بہرام کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا ۔
”کہتے ہیں ،رشتے میں برابری کوترجیح دینا چاہیے ۔کسی نچلے خاندان میں بہن یا بیٹی کا رشتا کرنے سے عموماََ سبکی اٹھانا پڑ جاتی ہے ۔“
”ح ….حضورِ والا بہتر جانتے ہیں ۔“
”خیرکوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ،ہو سکتا ہے تم رومن حکمران کو موت کے گھاٹ اتارنے میں کامیاب ہو جاﺅ اور شہنشاہ معظم تمھیں منھ مانگا انعام عنایت فرما دیں۔“
”جج….جی حضور،میں آپ کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا حضور۔“بہرام ہکلاتے ہوئے رکوع کے بل جھک گیا تھا۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بہروز اس کے دل میں چھپی خواہش سے آگاہ ہو گا ۔
بہروز نے ارغوانی رنگ کے مشروب سے بھرا چاندی کا پیالہ اٹھا کر منھ سے لگاتے ہوئے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔بہرام الٹے قدموں اس کے کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔سبرینہ اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی اسی جانب متوجہ تھی ۔وہ دائیں بائیں دیکھ کر اس کے قریب پہنچا ۔سبرینہ اس کا چہرہ دیکھتے ہی چونک گئی تھی ۔
”خیر تو ہے ؟“
وہ آہستہ سے بولا ۔”جانے کی اجات مل گئی ہے ۔“
”اسی لیے خوف زدہ نظر آرہے ہو ۔“سبرینہ کے لہجے میں ہلکا سا گلہ تھا ۔
”نہیں ۔“بہرام نے نفی میں سر ہلایا۔”بلکہ حضور والا کو ہمارے تعلق کے بارے سن گن مل چکی ہے ۔“
”تو ….“سبرینہ نے بے خوف لہجے میں پوچھا ۔
بہرام عزم سے بولا ۔”میں مرنے سے نہیں ڈرتا ۔“
سبرینہ شکوہ کناں ہوئی ۔”تمھارا چہرہ کچھ اور بتا رہا ہے ۔“
بہرام کہراتے ہوئے بولا ۔”تمھیں کھونا میری برداشت سے باہر ہے ۔“
سبرینہ پر امید لہجے میں بولی ۔”خداوند یزدان ہمیں مایوس نہیں کرے گا ۔“
”اگر میں لوٹ نہ سکا تو ….؟“
و ہ سسکی ۔”تو تمھاری خانم کو مرنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔“
”میں اپنی خانم کو مرنے نہیں دوں گا ۔“عزم سے کہتے ہوئے اس نے دلنشین چہرے پر الوداعی نگاہ دوڑائی اور رخ موڑ کر چل پڑا ۔محبوب کی دید سے آنکھیں کبھی سیر نہیں ہوتیں مگر نگہبانی کرنے والی عقل اس عیاشی کی اجازت دینے پر تیار نہیں ہوتی ۔بہروز کسی بھی وقت اپنے شبستان سے باہر جھانک سکتا تھا ۔یقینا اسے بہرام کا سبرینہ سے گفتگو کرنا پسند نہ آتا جبکہ وہاں سے جانے کی اجازت وہ بذات خود مانگ چکا تھا ۔
٭٭٭
تینوں حملہ آوروں کے ہاتھ اپنے ترکشوں کی جانب بڑھے ،مگر اس سے پہلے قتیلہ چلّے میں تیر ڈال چکی تھی ۔اس کے قدم رکے اور اگلے ہی لمحے اس کی کمان نے تیر اگل دیا ۔پہلا تیر چلاتے ہی وہ تیر کا نتیجہ دیکھنے کے لیے رکی نہیں تھی فوراََ ہی ترکش سے دوسرا تیر نکال کر اس نے چلا دیا ۔پہلا تیر درمیان والے کی گردن سے پار ہوا تو دوسرا تیرا اس کی داہنی جانب موجود ساتھی کی کھوپڑی میں پیوست ہو چکا تھا۔ دونوں گھوڑے سے نیچے گر کر تڑپنے لگے ۔ساٹھ ستر قدم کے فاصلے پر اس کا نشانہ خطا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔دوسرا تیر چلانے کے ساتھ وہ اوندھے منھ ریت پر لیٹ گئی کہ ٹیلے پر موجود تیسرا دشمن تیر چلا سکتا تھا ۔لیکن اس کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب تیسرے حملہ آور نے بجائے تیر چلانے کے بھاگنے کو ترجیح دی شاید وہ اپنے ساتھیوں کا انجام دیکھ کر وہ ڈر گیا تھا۔اس کا گھوڑا ٹیلے کی مخالف سمت میں غائب ہوگیا تھا ۔قتیلہ نے اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔اگلے ہی لمحے وہ تیز رفتاری سے ٹیلے پر چڑھ رہی تھی ۔گو ریت کے ٹیلے پر بھاگ کر چڑھنے میں کافی دِقّت ہوتی ہے کہ پاﺅں کے نیچے سے ریت سرک سرک جاتی ہے ۔بیس پچیس گز اونچے ٹیلے پر چڑھنے میں اس نے بہت کم وقت لگایا تھا ۔اوپر پہنچتے ہی اسے حملہ آور سرپٹ گھوڑا دوڑا کر دور جاتے نظر آیا ۔دونوں مقتولوں کے گھوڑے وہیں کھڑے تھے ۔اپنا شک دور کرنے کے لیے اس نے ایک مقتول کے چہرے سے ڈھاٹا کھولا ۔ایک اجنبی چہرہ دیکھتے ہی اس نے شکر کا گہرا سانس لیا تھا ۔
دونوں گھوڑوں میں اسے مشکی رنگ کا گھوڑا اچھا لگا تھا ۔اس کی گردن پر ہاتھ پھیر کر وہ اچھلی اور اگلے ہی لمحے وہ گھوڑے کے اوپر تھی ۔گھوڑا ناخوشگوار انداز میں ہنہنایا ،لیکن جب اس نے لگام کو جھٹکا دے کر ایڑ لگائی تو وہ دوڑ پڑا ۔
حملہ آور گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتے ہوئے فرلانگ بھر دور جا چکا تھا ۔قتیلہ بھی اس کے تعاقب میں بڑھ گئی ۔وہ ایک بہترین گھڑ سوار تھی ۔دونوں گھوڑوں کا فاصہ لمحہ بہ لمحہ کم ہونے لگا ۔اسے یقین تھا کہ حملہ آور اپنے ساتھیوں کے پاس جانے کی تگ و دو میں تھا ۔گو اس کا پیچھا چھوڑ کر وہ اپنے قبیلے کا رخ کر سکتی تھی ،لیکن اس طرح اسے حملہ آور وں کے مقصد کے بارے معلوم نہ ہو پاتا ۔اب بھی حملہ آور کا گھوڑااس سے سو قدم آگے تھا ۔کمان ہاتھ میں لے کر وہ رکاب میں ڈالے پاﺅں پر زور دے کر زین سے تھوڑا سا اٹھی اور پوری قوت سے چلہ کھینچتے ہوئے اس نے تیر چھوڑ دیا ۔لیکن اس طرح بھاگتے ہوئے گھوڑے پر نشانہ سادھنا نہایت مشکل تھا ۔تیر گھڑ سوار کے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا ۔
اس نے کوشش کرنا ترک نہیں کیا تھا ۔اس کا چلایا ہوا تیسرا تیر بجائے حملہ آور کے گھوڑے کے عقبی ٹانگوں کے درمیان لگا ۔دوڑتا ہوا گھوڑا ایک دم چاروں قدموں پر رکا اور دوسرے ہی لمحے وہ عقبی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا ۔حملہ آور کی سمجھ میں گھوڑے کا رکنا نہیں آیا تھا ۔ اس وجہ سے جونھی گھوڑا الف ہوا وہ نیچے گر گیا تھا ۔اور پھر گھوڑے کے ٹانگیں جھٹکنے پر اسے بھی گھوڑے کی ٹانگوں کے درمیان نازک بدن میں گڑا ہو ا تیر نظر آگیا تھا ۔مگر تیر ایسی جگہ پر تھا کہ اسے نکالنے پر وہ گھوڑے کی چلائی ہو ئی ٹانگ کا شکار ہو سکتا تھا ۔ گھوڑے کا خیال ترک کر کے وہ پیدل ہی بھاگ پڑا مگر کہاں تک قتیلہ نے اسے چند لمحوں میں جا لیا تھا ۔ گھوڑے کے قریب پہنچنے پر وہ ہانپتا ہوا رک گیا تھا ۔
وہ چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اتری کمان کو پشت پر لٹکاتے ہوئے اس نے میان سے تلوار کھینچ لی تھی ۔
”د….د ….دیکھیں سردار زادی، ہمارا مقصد آپ کو نقصان پہنچانا نہیں تھا ۔“وہ جواں سال آدمی تھا لیکن قتیلہ سے مرعوب نظر آرہا تھا ۔
وہ اطمینان سے بولی ۔”مقصد کو چھوڑو ،پہلے تعارف کراﺅ۔“
وہ جلدی سے بولا ۔”میرا نام حارث بن ظہیر ہے ،بنو احمر سے تعلق رکھتا ہوں ۔“
”حملے کی وجہ ؟“قتیلہ نے اگلا سوال کیا ۔
وہ تفصیل بتاتا ہوا بولا ۔”بنو احمر کے سردارکیدار بن ثابت کے حکم پر ہم آپ کو پکڑنے آئے تھے۔ کیوں کہ وہ آپ کو بیوی بنانا چاہتا ہے ۔“
ایک دم قتیلہ کو یاد آیا کہ چند دن پہلے بنو احمر کے سردار نے اس کے والد کے پاس اپنے قبیلے کے دو تین معززین کو بھیجا تھا ۔وہ اپنے سردار کے لیے قتیلہ کا رشتا مانگنے آئے تھے ۔اور جبلہ کے پوچھنے پر قتیلہ نے صاف انکار کر دیا تھا ۔
قتیلہ نے پوچھا ۔”تمھارے ساتھیوں نے مجھ پر تیر چلائے ہیں اور تم کہہ رہے ہو کہ فقط گرفتار کرنے آئے تھے۔“
”وہ آپ کو ڈرا رہے تھے ،تاکہ آپ بغیر مزاحمت کیے ہتھیار ڈال دیں ۔“
”کتنے افراد مجھے پکڑنے کے لیے آئے تھے ۔“
”آٹھ۔“
اس سے بات کرتے ہوئے قتیلہ کی نظریں چاروں اطراف میں گھوم رہی تھیں ۔دو تین فرلانگ کے فاصلے پر اچانک ٹیلے پر ایک گھڑسوار کی جھلک نظر آئی ۔ٹیلے کی بلندی پر رک کر اس نے چاروں اطراف میں نظر دوڑائی ،اسی دوران ایک ایک کر کے اور گھڑ سوار بھی نمودار ہوتے گئے ۔ان کی تعداد چار تھی ۔اسے غافل دیکھ کر حارث بن ظہیرنے تلوار بے نیام کرتے ہوئے اس پر حملہ کر دیا ۔بہ ظاہر نظر وہ تنو مند جوان تھا اس کے سامنے کم سن قتیلہ کی حیثیت ہی کوئی نہیں تھی ۔لیکن یہ اس بات سے تو حملہ کرنے والا حارث بھی واقف تھا کہ وہ چھوٹی سی لڑکی کیسی جنگجو ہے ۔
تلوار کے نیام سے باہر نکلنے کی کھنک سنتے ہی قتیلہ اچھل کر پیچھے ہٹی اگلے ہی لمحے اس کی تلوار حارث بن ظہیر کی تلوار سے ٹکرا چکی تھی ۔تلواریں واپس کھینچ کر دونوں پینترہ بدلتے ہوئے دوبارہ آگے بڑھے ،اس مرتبہ قتیلہ نے تلوار آگے بڑھانے کے بجائے نیچے جھک کر اس کا وار خطا کیا، حارث اپنی جھونک میں ہلکا سا لڑکھڑیا اور اس کے سنبھلنے سے پہلے قتیلہ کی تلوار اس زور سے اس کی تلوار کے دستے پر پڑی تھی کہ لوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری تھی ۔
قتیلہ نے تلوار سیدھی کرتے ہوئے اس کی گردن سے لگائی ۔”ایک وجہ بتاﺅ کہ تمھیں زندہ چھوڑ سکوں ۔“
و ہ جلدی سے بولا ۔”میں اپنے سردار کیدار بن ثابت تک آپ کا پیغام پہنچا سکتا ہوں ۔“
”الفاظ سے زیادہ تمھاری گردن دیکھ کر اسے اچھا پیغام ملے گا۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے تلوار گھمائی ،حارث کی گردن اپنے گھوڑے کی ٹانگوں کے درمیان گری تھی ۔تلوار کی دھار سے ٹپکتے خون کو صاف کرنے کا تکلف کیے بغیر اس نے تلوار میان میں ڈالی اوراچھل کر گھوڑے پر سوارہو گئی ۔ ٹیلے پر نمودار ہونے والے حملہ آوروں کا رخ اسی جانب تھا ۔ان کے قریب پہنچنے سے پہلے وہ دور نکل جانا چاہتی تھی ۔اگلے ہی لمحے اس کا گھوڑا ہوا سے باتیں کر رہا تھا ۔اس کا ارادہ لمبا چکر کاٹ کر اپنے قبیلے میں پہنچنے کا تھا ۔غرو ب آفتاب میں تھوڑا وقت باقی تھا ۔اور اندھیرا چھا جانے کے بعد اس کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ۔اب اسے دشمن کے بارے بھی معلومات مل چکی تھیں اس لیے وہ سرپٹ گھوڑا دوڑائے گئی ۔غروب آفتاب کے دو تین لمحوں بعد وہ قبیلے میں داخل ہو رہی تھی ۔حملہ آور سرتوڑ کوشش کے بعد بھی اس تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے ۔وہ بنو نسر سے تین چار فرلانگ دور ہی واپس مڑ گئے تھے ۔
اپنے خیمے کے پاس جا کر جونھی وہ گھوڑے سے اتری ،جبلہ بن کنانہ باہر نکل آیا ۔
”شکاری کو خالی ہا تھ دیکھ کراس کے اناڑی پن کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔“
”خالی ہاتھ لوٹنے کی وجہ کچھ اور ہے بابا جان ،ورنہ ایک ہرن اور چار سوّر مار کر آرہی ہوں ۔“
”سوّر….؟“جبلہ کے سوالیہ لہجے میں حیرانی تھی ۔
وہ اطمینان سے بولی ۔”جی ہاں ،دو ٹانگوں والے سوّر ۔بنو احمر کے آٹھ آدمی اپنے سردار کیدار بن ثابت کے حکم پر قتیلہ بنت جبلہ کو پکڑنے آئے تھے تاکہ کیدار بن ثابت ،قتیلہ کو اپنی دلھن بنا سکے ۔“
جبلہ فکر مندی سے بولا ۔”تمھیں کوئی چوٹ تو نہیں لگی ۔“
”قُتیلہ کو چوٹ پہنچانے والا ہنوز شکم مادر ہی میں ہے ۔“پرغرور لہجے میں کہتے ہوئے وہ گھوڑے کو لے کر اصطبل کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
”میں بادیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔“وہ شریم کی مسہری پر بیٹھا اس کی ٹانگیں دبا رہا تھا ۔ سانپ والے واقعے کو چند دن بیت چکے تھے اور اب شریم کی طبیعت بہتر تھی ۔
”ایسی خواہش جس کے پورا ہونے کا امکان نہ ہو سپنا کہلاتی ہے اور سپنے سوتے وقت دیکھے جاتے ہیں ۔جاگتے ہی سر جھٹک کر فضول خیالات سے جان چھڑا لینا صحت مندانہ رویے کی دلیل ہے۔“
یشکر حجت کرتا ہوا بولا ۔”مجھے آپ کا بیٹاکہلانے کا شرف حاصل ہے ۔“
”بالکل ہے ،مگر یہ بات صرف میرے لیے اہمیت رکھتی ہے ۔ایک سردار زادی کبھی بھی ایسے مرد کو قبول نہیں کرے گی جو ماضی میں غلام رہ چکا ہو یا جس کا حسب نسب متعین نہ ہو ۔“
”میرا والد شہنشاہ فارس کا خصوصی مصاحب ہے ۔ان کا مقام ساسانی سپاہ کے سپہ سالار سے بھی زیادہ ہے ۔“
شریم صاف گوئی سے بولا ۔”ایک عرب دوشیزہ کے نزدیک ،شاہ عجم سے عربی انسل غریب زیادہ پسندیدہ ہے ،بہ شرط اس کا نسب ملاوٹ سے پاک ہو ۔“
”گویا میرے نسب میں ملاوٹ ہے ۔“یشکر شکوہ کناں ہوا ۔
شریم نے کہا ۔”میں نے صرف عربی و عجمی کے فرق کی وضاحت کی ہے ۔“
یشکر معنی خیز لہجے میں بولا ۔”بہ ہر حال یہ معاملہ بہت طول کھینچنے والا ہے ۔“
”کوئی بے وقوفی نہ کرنا ۔“شریم اسے سمجھانے لگا ۔
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔” سمجھ داری دکھانے سے محبوب کے دور جانے کا اندیشہ ہو تو بے وقوفی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔“
شریم کچھ کہنے کے لیے منھ کھولنے لگا تھا کہ وتینہ بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوئی ۔”ابا جان، ثانیہ باجی آئی ہیں ۔“
شریم کے چہرے پر خوشی چھلکی ۔”اچھا ۔“ٹانگیں سمیٹ کر وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ ایک خوب صورت لڑکی اندر داخل ہوئی ۔اس کے پاکیزہ چہرے پر نظر پڑتے ہی یشکر کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔وہ اس سے غائبانہ طور پر تو واقف تھا ،البتہ دیکھنے کا اتفاق آج ہو رہا تھا ۔
شریم نے اسے چھاتی سے لگا کر اس کے ماتھے پر بوسا دیا ۔
”تو یہ ہے ہمارا بھائی ۔“شریم سے علاحدہ ہو کر اس نے یشکر کے چہرے پر بھرپور نگاہ ڈالی ۔
”ہاں باجی ۔“ساتھ کھڑی وتینہ نے لقمہ دیا ۔
اسے مخاطب ہوتے ہوئے ثانیہ ممنونیت سے بولی ۔”شکریہ بھائی ،آپ نے دو دفعہ بابا جان کی جان بچائی ۔“
یشکر نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ثانیہ اسے اتنی اپنی اپنی ، قابل عزت اور پیاری کیوں لگ رہی تھی ۔اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ وہ اس کی باپ شریک بہن ہے تو اس کی حالت جانے کیا ہوتی ۔
٭٭٭
ثانیہ اپنے شوہر کے ساتھ وہاں آئی تھی ۔اس کا شوہر معبد بن قیس ،بنو اسد کے سردار کا بڑا بیٹا تھا ۔ثانیہ اپنے چچا شریم کی بیماری کی خبر سن کر وہاں پہنچی تھی ۔معبدبن قیس کے ساتھ اس کا چھوٹا بھائی مظمون بن قیس اور بنو اخنف سے تعلق رکھنے والا اس کا دوست محاسب بن فہر بھی آئے تھے ۔کیونکہ بنو جساسہ کے مضافات میں نیل گائے مہا کا شکار ان دنوں وافر میسر تھا ۔اگلے دن صبح سویرے مظمون بن قیس اور اس کا دوست محاسب بن فہر شکار کو نکل گئے تھے ۔دونوں کی دوستی مثالی تھی ۔
دو نیل گایوں کو شکار کر کے وہ اپنے گھوڑوں پر لادے شاداں و فرحاں واپس لوٹے۔ بنوجساسہ کے چشمے کے پاس سے گزرتے ہوئے دونوں کی نگاہ ہنستی مسکراتی لڑکیوں کی طرف اٹھی جن میں بادیہ بنت شیبہ نمایاں نظر آرہی تھی ۔
مظمون بن قیس کی زبان سے پھسلا ۔”مجھے مل گئی ۔“
اسی وقت محاسب بن فہر کہہ رہا تھا ۔”اسے صرف میرا بننا ہو گا ۔“
دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا ،ان کی نگاہوں میں پہلے والی محبت اور احترام غائب تھا ۔
مظمون بن قیس نے پوچھا۔”یقینا تم دوستی قائم رکھنا چاہو گے ۔“
محاسب نے ترکی بہ ترکی کہا ”ہاں ،اگر تم اس حسینہ کا خیال چھوڑ دو ۔“
مظمون نے فوراََ مشورہ دیا ۔”میرا خیال ہے یہ مقدمہ حسن کی دیوی کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔“
محاسب نے نفی میں سر ہلایا۔”اس کا دور اندیش سرپرست اس معاملے میں زیادہ بہتر رہے گا۔“
انھیں مسلسل بادیہ کو گھورتے دیکھ کر لڑکیوں نے چہ میگوئیاں شروع کر دی تھیں ۔وہ تمام سے بے نیاز وارفتگی سے بادیہ کو گھورتے رہے ۔بادیہ کے والد سے ملاقات پر متفق ہوتے ہی مظمون نے گھوڑا آگے بڑھایااور بادیہ کے قریب روکتے ہوئے اشتیاق آمیز لہجے میں بولا۔
”ملکہ حسن کی خدمت میں آداب عرض کرتے ہوئے سائل اس کے دولت کدے کا پتا جاننے کا متمنی ہے ۔“
بادیہ نے بغیر جواب دیے نخوت سے منھ موڑ لیا تھا البتہ اس کی سہیلی ناجیہ اٹھلاتے ہوئے بولی۔
”عجیب بات کہ آپ لوگ بنو جساسہ کے سردار کی قیام گاہ سے ناواقفیت کا اظہار کر کے توہین کے مرتکب ہو رہے ہو ۔“
”یقینا سردار زادی ،اجنبی کو معاف کرنے میں فراخ دلی سے کام لیں گی ۔“ناجیہ کے بجائے مظمون،بادیہ ہی کو مخاطب ہوا تھا ۔
بادیہ اس بار بھی اس کی بات کاجواب دیے بغیر خاموش بیٹھی رہی ۔اس کی بے نیازی دیکھتے ہوئے مظمون نے مزید گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے اپنی سواری بنو جساسہ کے سردار کی رہائش گاہ کی طرف بڑھا دی ۔محاسب کا گھوڑاایک قدم آگے تھا۔تھوڑی دیر بعد دونوں سقیفہ ِشیبہ (شیبہ کی بیٹھک)کے سامنے کھڑے تھے ۔ شیبہ اس وقت چند معززین کے ساتھ بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا ۔دروازے پر اتر کر دونوں نے اپنے گھوڑے سقیفہ کے صحن میں چھوڑے اور اندرونی کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔
”عزیٰ سردار کا اقبال بلند کرے ۔“محاسب نے زمانہ جاہلیت کا سلام ڈالا۔
”شیبہ اور حاضرین نے کھڑے ہو کر ان سے مصافحہ کیا اور بیٹھنے کی دعوت دی ۔
بیٹھتے ساتھ محاسب نے مطمح نظر بیان کر دیا ۔”محترم سردار ،میں محاسب بن فہر ،بنو اخنف کے سردار کا جانشین ہوں ۔میرے لیے باعث سعادت ہو گا کہ بنو جساسہ کا سردار مجھے اپنی فرزندی کے قابل سمجھے ۔“
شیبہ کے کچھ کہنے سے پہلے ،مظمون بن قیس نے بھی اپنی درخواست بیان کر دی۔”محترم سردار ،بنو جساسہ کی معزز سردار زادی کا میں بھی امیدوار ہوں ۔میرا بڑا بھائی معبد قیس پہلے سے اس اعلیٰ خاندان سے رشتا داری کا فخر رکھتا ہے ۔یقینا نیا رشتا اس تعلق کو مزید پختہ کرے گا ۔“(یہاں ایک بات قارئین کے گوش گزار کر دوں کہ عرب معاشرے میں لڑکی کے والدین سے لڑکے کا بذات خود رشتا طلب کرنا عار ،عیب یا باعث توہین نہیں تھا ۔نہ اسے برا تصور کیا جاتا تھا ۔اسی طرح دوسری، تیسری ، چوتھی شادی کا رواج بھی عا م تھا ۔یہاں تک کہ یہ رسم اسلام کی روشنی آنے کے بعد بھی برقرار رہی ۔بر صغیر پاک و ہند میں چونکہ اسلام سے پہلے ہندو تہذیب و ثقافت رائج تھی ۔اور اسلام آنے کے بعد بھی مسلمانوں کا ہندوﺅں سے میل ملاپ جاری رہا اس لیے دوسری شادی کو معیوب سمجھناختم نہ ہو سکا ۔اسلام بھی چونکہ دوسری ،تیسری شادی کی اجازت دیتا ہے حکم نہیں اس وجہ سے بھی عرب تہذیب کو رواج نہ مل سکا )
شیبہ کے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”دو سردار زادوں میں تقابل کر کے کسی ایک کو ترجیح دینا میرے لیے ممکن نہیں ہے ۔بلکہ اس ضمن میں تو بنو عدی کا سردار زادہ پہل کر چکا ہے ۔“
مظمون نے اندیشے بھرے لہجے میں پوچھا ۔”کیا آپ بنو عدی کے سردار زادے کے حق میں زبان دے چکے ہیں ۔“
شیبہ نے نفی میں سر ہلایا ۔”ہاں کہنا توجھوٹ ہو گا ۔“
مظمون اور محاسب کے چہروں پر خوشی نمودار ہوئی ۔محاسب نے کہا۔ ”بے شک آپ کا فیصلہ ہمیں انتظار کی اذیت سے نجات دلائے گا ۔“
شیبہ نے صاف گوئی سے کہا ۔”جلد بازی کر کے میں بادیہ کی تمناﺅں کا گلا نہیں گھونٹ سکتا۔ بہتر ہو گا چند دن اسے اطمینان سے سوچنے کا موقع دیا جائے ۔“
محاسب بن فہر نے جگہ چھوڑتے ہوئے کہا ۔”بنو اخنف میں خوشی کے بربط آپ کی ہاں کے منتظر رہیں گے ۔“
مظمون بن قیس بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا فوراََ بولا۔”آج سے بنو اسد میں معزز سردار زادی کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی ۔“
دونوں سردار سے مصافحہ کر کے اپنے گھوڑوں کی جانب بڑھ گئے جبکہ بنو جساسہ کا سردار شیبہ بن ثمامہ سوچ میں پڑ گیا تھا ۔تینوں قبیلوں میں وہ جن دو قبیلوں کوناں میں جواب دیتا ان کا خفا ہونا لازم تھا۔ایک سے زیادہ امیدواروں نے اسے مخمصے میں ڈال دیا تھا ۔بنوعدی کے سردار زادے کا رشتے پہلے آچکا تھا ۔اس نے بادیہ کی رضامندی جاننے کی وجہ سے جواب دینے میں تاخیر کی تھی ۔اگر اسے معلوم ہوتا کہ بادیہ کے اور امیدوار بھی پیدا ہونے والے ہیں تو شاید وہ اتنی تاخیر نہ کرتا ۔اور بنو عدی کے سردار زادے قداءبن عتیبہ کے لیے ہاں کرنے کے بعد یقینا محاسب اور مظمون کوئی گلا کرنے کا حق نہ رکھتے ۔ اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر حاضرین اجازت لے کر سقیفہ سے نکلنے لگے ،تاکہ وہ اطمینان سے فیصلہ کر سکے۔ ان کے لیے اپنے سردار کی پریشانی حیرانی کا باعث نہیں تھی ۔
٭٭٭
”بنو نسر کے سردار کا اپنی توہین کا بدلہ لینے میں تاخیر کرنا میری سمجھ سے باہر ہے ۔“قُتیلہ اس دن کے واقعے کے بعد جبلہ کوبنو احمر پر حملے کے لیے مسلسل ابھار رہی تھی ۔
جبلہ نے افسوس بھرے نداز میں سر ہلایا۔”نوجوانوں سے سمجھ داری کی توقع رکھنا عبث ہے ۔“
قتیلہ نے کہا ۔”گویا آپ چاہتے ہیں کمزور چڑیاں بھی ہماری زمین میں گدھ بن جائیں۔“ (عرب یہ کہاوت تب بولتے جب کمزور آدمی طاقت کا مظاہرہ کرنے لگتے )
”کم فہم بچی سے میں اس سے زیادہ توقع بھی نہیں کرسکتا ۔“
”میں بھی اپنے والد سے اتنی سمجھ داری کی توقع نہیں رکھتی تھی جسے لوگ کوئی اور نام دینا شروع کر دیں ۔“
”بولتے وقت یہ سوچ لیا کرو کہ تمھارا باپ قبیلے کا سردار بھی ہے ۔“ بزدلی کے طعنے پر جبلہ برہم ہو گیا تھا ۔
”میرا خیال ہے جی بھر کے گالیاں دے دیتے ہیں انھیں اونٹ لے جانے دو ۔“قتیلہ نے اس کی برہمی کو خاطر میں لائے بغیر مشہور کہاوت دہرائی ۔(ایک آدمی اونٹ چرا رہا تھا ،کچھ لوگوں نے اس سے اونٹ چھین لیے وہ طاقتور تھے ،ان کے جانے کے بعد وہ آدمی ٹیلے پر چڑھ کر انھیں گالیاں بکنے لگا۔ اور پھر گاﺅں میں آکر کہا کہ میں نے انھیں گالیاں تو بہت دیں مگر وہ اونٹ لے بھاگے ۔ اس کی یہ بات کہاوت بن گئی جودشمن کی زیادتی کے جواب میں مزاحمت نہ کرنے کے موقع پر دہرائی جاتی )
جبلہ کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر عریسہ نے مداخلت کی ۔”سردار ،بچی ہے ۔میں سمجھا دیتی ہوں ۔“وہ اس وقت عریسہ کے خیمے ہی میں موجود تھے ۔قتیلہ اس کے ساتھ ہی سوتی تھی ۔اپنی سگی ماں سے زیادہ وہ عریسہ کے قریب تھی ۔عریسہ کو بھی وہ اپنی بیٹی ہی کی طرح عزیز تھی ۔قتیلہ سے چھوٹے دو بھائیوں کی پیدائش کے بعد والد اور والدہ کی توجہ قتیلہ سے تھوڑی ہٹ گئی تھی تبھی قتیلہ عریسہ کے زیادہ قریب ہو گئی تھی ۔
جبلہ نے ناراضی بھری نظر قتیلہ پر ڈالی اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا خیمے سے نکل گیا ۔
”اپنے باپ سے بھلا ایسے بات کی جاتی ہے ۔“عریسہ نے لکڑی کے تخت پر بیٹھتے ہوئے قتیلہ کا بازو پکڑ کر زبردستی بٹھا دیا ۔
”ماں جی ،وہ میری بات ہی نہیں مان رہے ۔“قتیلہ شاکی ہوئی ۔
”والد سے بات منوانے کا یہ طریقہ نہیں ہوتا ۔“عریسہ اسے سمجھانے لگی ۔اور عریسہ ہی تھی جس کی بات وہ خاموشی سے سن لیتی تھی۔اسے خاموش پا کر عریسہ نے موضوع تبدیل کیا۔
”کبھی بالوں میں تیل بھی لگا لیا کرو ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے قتیلہ کے سیاہ گھنے بالوں پر باندھا سر خ کپڑا کھول کر ہتھیلی پر تیل انڈیلا اور اس کے سر پر ملنے لگی ۔قتیلہ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر آنکھیں کر کے بیٹھ گئی تھی ۔
”کیا سوچ رہی ہو ۔“اسے مسلسل خاموش پاکر عریسہ پوچھے بنا نہیں رہ سکی تھی ۔
وہ صاف گوئی سے بولی ۔”توہین برداشت کرنے کی کوشش میں ہوں ۔“
”بنو احمر پر ہلہ بولنا اتنا آسان نہیں ہے بیٹی ۔“عریسہ اسے سمجھانے لگی ۔
”اگر ہم نے اس بار ردعمل ظاہر نہ کیا تو بنو احمر کے سردار کے حوصلے بڑھ جائیں گے اور اگلی بار بنو نسر کی سردار زادی کو اکیلا گھیرنے کے بجائے ،قبیلے کے درمیان سے اٹھانے کی کوشش کرے گا۔“
عریسہ نے نفی میں سر ہلایا۔”اس میں اتنی جرّات نہیں ہے ۔“
”اپنی جرّات وہ مجھے اغواءکرانے کی کوشش کر کے دکھا چکا ہے ۔
عریسہ ہنسی ۔”اس کے ہاتھ اپنے آدمیوں کی لاشوں کے علاوہ لگا کیا ہے ۔“
قتیلہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔”اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا پھر ؟“
”مفروضوں پر سوچنا وقت کا ضیاع ہے ۔“
”میں بتا دیتی ہوں ،ابو جان خوش ہو جاتے کہ ان کی جان قتیلہ سے چھوٹ گئی ہے ۔“
”ہے نا پاگل ۔“عریسہ نے شفقت بھرنے انداز میں اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔”بنو احمر کی خوش قسمتی ہے کہ وہ بنو نسر کی سردار زادی کو پکڑنے میں ناکام رہے ہیں ورنہ ان کے ہر گھر سے ماتم کی آواز سنائی دے رہی ہوتی ۔“
”مجھے نیند آرہی ہے ۔“بحث کا اختتام کرتے ہوئے وہ عریسہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: