Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 13

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 13

–**–**–

بہرام کو سکندر کی طرف سے بھی رومن لشکر میں گھس کر ان کے بادشاہ الیانوس کو ہلاک کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔اس کے علاوہ سکندر نے چار شہ سوار اور بھی تیا ر کیے تھے۔مجموعی طور پر پانچ آدمیوں کے ذمہ یہ کام لگایا گیا تھا۔تمام کو انفرادی طور پر رومن سپاہ کے علاقے میں گھسنا تھا۔ہر ایک نے اپنے طور پر بادشاہ کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنانا تھا۔چونکہ یہ منصوبہ بہت رازداری سے بنایا گیا تھا اور بادشاہ کے خاص مصاحبوں اور مشیروں ہی کو اس کے بارے معلوم تھا اس لیے ان پانچ شہ سواروں کو بھی سکندر نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ پکڑے جانے کی صورت میں وہ یہ راز کسی صورت میں نہیں اگلیں گے۔ دوسری صورت میں وہ خود تو مریں گے ہی اپنے خاندان کے لیے بھی مصیبت چھوڑ جائیں گے۔
بہرام طلوع آفتاب کے وقت طیسفون سے نکلا۔وہ سالار بہروز کی حویلی پر آخری نظر ڈال کر ہی خطرناک مہم پر روانہ ہوناچاہتا تھا۔اسے سبرینہ کی روزمرہ معلوم تھی۔صبح دم وہ اپنے کمرے کی مشرقی کھڑکی کھول کر طلوع آفتاب کا نظارہ کیا کرتی تھی اس کی خواب گاہ حویلی کی دوسری منزل پر تھی۔طلوع آفتاب کے وقت جب سبرینہ نے کھڑکی کھولی تو اسے گلی میں کھڑا گھڑ سوار اپنا منتظر نظر آیا۔وہ سورج کو بھول کر اپنے دیوانے کو دیکھنے لگی۔کئی لمحے بے خود ہو کر وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔آخر سبرینہ ہی نے اسے الوادع ہونے کا اشارہ کیا۔بہرام نے سر جھکا کر اپنی شہزادی کو آداب پیش کیے اور سبرینہ نے کھڑکی بند کر دی۔ وہ جانتی تھی کہ جب تک کھڑکی کھلی رہتی اس دیوانے نے حرکت نہیں کرنا تھی۔
بہرام نے سوس کا رخ کیا۔وہاں سے گزر کر اس نے براستہ اہواز و اصطخر، ارد شیر پہنچنا تھا۔ رومن لشکر ارد شیر ہی کے مضافات میں خیمہ زن تھا۔الیانوس نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا جہاں اس کی غربی جانب خلیج الفارس جبکہ شرقی و جنوبی اطراف کو ایک بڑی نہر لپیٹ میں لے رہی تھی۔یوں اس کے لشکر پر شمال کی جانب سے حملہ کیا جا سکتا تھا۔اور جس فوج کے تین اطراف محفوظ ہوں وہ چوتھی جانب سے دشمن کا مقابلہ آسانی سے کر سکتی ہے۔
ساسانی سپاہ نے اہواز اور اصفہان کے درمیان پڑاو ڈالاہوا تھا۔بہرام دن کو سفر کرتا اور رات کو آرام کر کے اگلے دن کے سفر کے لیے بدن کو آرام دیتا۔درمیانی رفتار سے سفر کرتے ہوئے وہ چھے سات دنوں میں شیراز پہنچ گیا تھا۔وہاں سے بڑی نہر کے کنارے چلتے چلتے وہ اردشیر کے مضافات میں پہنچا یوں کہ اس کے اور رومن افواج کے مابین ایک نہر ہی رکاوٹ رہ گئی تھی۔دوسری جانب رومن افواج کے خیمے نظر آرہے تھے۔وہ اندھیرا چھانے کا انتظار کرنے لگا۔رومن سپاہی نہر کے دوسرے کنارے پر پانی میں اتر کر موسم کی شدت سے نبرد آزما تھے۔ گرمی ڈیرے ڈال چکی تھی۔ضرورت کا سامان گھوڑے کی پیٹھ سے اتار کراس نے گھوڑے کو آزاد چھوڑ دیا تھا۔
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی جب وہ بے آواز چلتا ہوا پانی میں اتر گیا۔پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرتے ہوئے اس نے بغیر شور پیدا کیے نہر عبور کی اور دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔رات کا اندھیرا اس کا معاون و مددگار ثابت ہوا تھا۔چھبیس ستائیس کے چاند کا کہیں نام نشان موجود نہیں تھا۔
دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی وہ جھاڑیوں کی آڑ لے کر بیٹھ گیا۔رومن سپاہ کی گشتی ٹولیاں نہر کے کنارے مٹر گشت کر رہی تھیں۔اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے سے بچنے کے لیے ہر ٹولی کے پاس مشعلوں کی موجودی لازمی تھی۔مشعلیں جہاں انھیں ٹھوکریں کھانے سے بچنے میں مدد دے رہی تھیں وہیں بہرام کے لیے ان کی آمد اور فاصلے کے تعین میں مددگار بھی ثابت ہو رہی تھیں۔کافی دیر جھاڑیوں میں دبکے وہ پاس سے گزرنے والی ٹولیوں کا جائزہ لیتا رہا۔پہرے دار چار اور پانچ پانچ کی ٹولیوں میں گھوم رہے تھے۔جلد ہی اسے اپنا شکار نظر آگیا۔اس نے رفع حاجت کے لیے ساتھیوں سے علاحدگی اختیار کر کے جھاڑیوں کا رخ کیا تھا۔بہرام چوکنا ہوتے ہوئے اس کے استقبال کے لیے تیار ہو گیا۔وہ بے چارہ اپنا زیریں لباس اتار ہی نہیں پایا تھا کہ بہرام نے چیتے کی طرح جھپٹ کر دایاں ہاتھ اس کی گردن میں ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کے ہونٹ دبا لیے۔اس نے تڑپ کر مزاحمت کی کوشش کی مگر بہرام کے سامنے اس کی ایک نہیں چلی تھی۔بائیں ہاتھ سے اس کی ٹھوڑی کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے اس نے دایاں بازو گردن سے نکال کر اس کی کھوپڑی پر رکھا اور دونوں ہاتھوں کو مخالف سمت میں جھٹکا دیا۔ ”کڑ….کڑ“کی ہلکی سی آواز کے ساتھ اس کا بدن اذیت سے اینٹھنے لگا۔اس کے ساکت ہوتے ہی بہرام نے اس کا لباس اتار کر پہنا۔اپنا لباس اسے پہناکر بہرام نے بے رحمی سے اس کے گردن کو خنجر کی مدد سے دھڑ سے علاحدہ کردیا۔اس کے سر کو نہر کے کنارے نرم زمین میں دبا کر اس نے بے سر کی لاش کو نہر میں دھکیل دیا تھا۔فارغ ہو کر اس کے قدم پڑاﺅ کے وسط کی طرف اٹھنے لگے۔گشتی ٹولیوں کے خلا سے گزرتا ہواوہ دھیمی رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔ جوں جوں وہ لشکر کے درمیان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ گشتی ٹولیوں کی تعداد میں کمی ہوتی جا رہی تھی۔لشکر کے درمیان میں گشتی ٹولیوں کے بجائے ،محافظ مخصوص خیموں کے سامنے اور عقبی جانب پہرے داری کر رہے تھے۔زیادہ تر سپاہ نے خیموں سے باہر کھلے میدان میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ایک مناسب جگہ دیکھ کر وہ بھی میدان میں بے ترتیب پڑے سپاہیوں کے درمیان لیٹ گیا۔تھکن کے باوجود نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔خطرے کے احساس نے اسے جاگنے پر مجبور کیے رکھا۔طلوع آفتاب سے کچھ پہلے ہی چہل پہل شروع ہو گئی تھی۔
وہ ایک شامی سپاہی کے لباس میں تھا۔رات اس نے عرب دستوں کے درمیان گزار دی تھی۔ طلوع آفتاب کے ساتھ ہی وہ اٹھ کراعتماد سے ایک جانب بڑھ گیا۔شامی سپاہی کے لباس کی وجہ سے وہ بے دھڑک گھومتا رہا۔اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ گشت کر رہا ہو۔ اس نے جان بوجھ کر شامی دستوں کے پڑاﺅ کا رخ نہیں کیا تھا کہ وہاں آسانی سے اس کی پہچان ہو سکتی تھی۔دوپہر کو عرب دستوں کے قریب سے گزر رہا تھا تبھی دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے عربوں نے روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے کھانے کی دعوت دی تھی اور وہ تکلف کیے بغیر ان کے ہمرا ہ بیٹھ گیا تھا۔چونکہ اسے عربی زبان نہیں آتی تھی اس لیے متوقع سوالات سے بھی اس کی جان چھوٹی رہی تھی۔
شام تک اس نے شاہی خیمے کی جگہ وغیرہ کے بارے معلومات حاصل کر لی تھیں۔ اس دوران کسی کو اس پر شک نہیں ہوا تھا۔
رومن حکمران کا وسیع خیمہ مختلف سالاروں اور عہدہ داروں کے خیموں کے درمیان نصب کیا گیا تھا۔شاہی خیمے کے گرد اگرد دس بارہ محافظ ہر وقت موجود ہوتے تھے۔عام سالاروں کے خیموں کے سامنے اور عقبی جانب بھی ایک ایک محافظ موجود تھا۔محافظوں کی پہرے داری کا دورانیہ مقرر تھا ۔پہرے دار مخصوص اوقات میں تبدیل ہوتے تھے۔آرام ملنے پر محافظ اپنے خیموں کا رخ کرتے ہر خیمے کے پہرہ داروں کے لیے ایک خیمہ لگا ہوا تھا۔شاہی کے خیمے کے سامنے لگا ہوا خیمہ اسے اپنی کارروائی کے لیے مناسب لگا تھا۔ وہ اس خیمے کے محافظوں کی نگرانی کرنے لگا۔رات کو بھی اس نے پہرے داروں کی تبدیلی کے طریقہ کار کا اچھی طرح جائزہ لیا تھا۔اگلے دن وہ اپنے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے تیار تھا۔
صبح دم پہرے پر موجود محافظ واپس آکرسونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔اس سے پہلے واپس آنے والا پہرے بھی گہری نیند میں تھا۔دو تین گھڑیوں کے انتظار کرنے بعد جب اسے اچھی طرح یقین ہو گیا کہ نیا آنے والا بھی نیند کی وادی میں کھو گیا ہو وہ دائیں بائیں کا جائزہ لیتا ہوا خیمے کے اندر گھس گیا۔ دونوں زمین پر بستر بچھائے بے خبر سو رہے تھے۔بہرام نے باری باری دونوں کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ان کے گلے پرتیز دھار خنجر پھیر دیا اور ان کی لاشوں کو چادر سے ڈھانپ دیا۔اسے معلوم تھا کہ جب پہرے پر موجود محافظ کے پاس مقررہ وقت میں اس کی بدلی نہ پہنچتی تو وہ خود انھیں بلانے آجایا کرتا تھا۔ اور اس بات کا وہ اچھی طرح جائزہ لے چکا تھا۔محافظ کا اتارا ہوا پہرے داری کا لباس پہن کر وہ وہیں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔سورج جونھی مخصوص بلندی پر پہنچا وہ ذہنی طور پر پہرے دار کی آمد کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ اس کے استقبال کے لیے وہ خیمے کے دروازے کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا۔دائیں ہاتھ میں اس نے تیز دھار خنجر تھاما ہوا تھا۔جلد ہی پردہ ہٹا کر محافظ اندر داخل ہوا۔غصے میں وہ کافی اونچی آواز میں بڑبڑا رہا تھا۔
”اس بے غیرت کی نیند ہی پوری نہیں ہوتی۔“اندر داخل ہوتے ہی وہ زمین پر لیٹے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔دونوں لاشوں کو بہرام نے چادر سے ڈھانپ دیا تھا۔تاکہ آنے والے کو ان کے کٹے ہوئے گلے فوراََ نہ دکھائی دے جائیں۔
”گرمی دیکھو اور ان کم بختوں کا چادریں اوڑھنا دیکھو۔“خود کلامی کرتے ہوئے وہ اندازے سے اپنے بدلی کرنے والے محافظ کی طرف بڑھا۔اتنی دیر میں بہرام اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔آخری وقت میں چھٹی حس نے اسے خطرے کا احساس دلایا مگر تب تک مزاحمت کرنے کا وقت گزرچکا تھا۔ اس کے پیچھے مڑنے سے پہلے بہرام بائیں ہاتھ سے اس کے منہ کو دباتے ہوئے دائیں میں تھاما ہوا تیز دھار خنجر اس کی گردن پر پھیر چکا تھا۔اس کا تڑپنا رکتے ہی بہرام نے اسے بھی ساتھیوں کے درمیان لٹا کر چادر سے ڈھانپا اور اور خود باہر نکل گیا۔اس کے منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے اگر وہ لاشیں دریافت ہو جاتیں تو یقینا وہ پکڑا جاتا۔مگر سبرینہ کی محبت میں وہ ہر خطرہ نظر انداز کرنے پر تلا تھا۔
مطلوبہ خیمے کے قریب پہنچ کر اس نے دائیں بائیں کا جائزہ لیا دو سرے خیموں کے محافظ بیزاری سے پہرے داری کا نا پسندیدہ کام سر انجام دے رہے تھے۔جاتے ساتھ اس نے پشت پر لدی کمان اتار کر خیمے کے اندر رکھ دی تھی کیوں کہ باقی محافظوں نے صرف تلوار ہی کمر سے باندھی ہوئی تھی۔ مزید ایک دو لمحے انتظار کر کے وہ خیمے میں داخل ہوگیا۔عام سے سالار کا خیمہ بھی پر تعیش سامان سے بھرا تھا۔وہ سامان عیش و نشاط کو نظر انداز کرتا ہوا سامنے کے پردے کے قریب ہوا۔اس جانب بھی ایک محافظ موجود تھا۔ وہاں سے اسے شاہی خیمہ واضح نظر آرہا تھا۔گرمی کی وجہ سے خیمے کے سامنے اور دائیں بائیں کے پردے اٹھے ہوئے تھے۔ مختلف سپہ سالار،عہدہ داران اور وزراءو مشیران وغیرہ درجہ بہ درجہ اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔
سب سے پہلے بہرام نے۔”شش۔“کر کے سامنے والے محافظ کو متوجہ کیا۔ ایک اجنبی کو دیکھ کروہ حیران رہ گیا تھا۔قریب ہو کر اس نے اچنبھے سے اس کی وہاں موجودی کے بارے استفسار کیا۔بہرام رومن زبان تھوڑی بہت سمجھ بول لیتا تھا۔
”اندر آﺅ ایک چیز تمھیں دکھانی ہے۔“بہرام نے چہرے پر گھبراہٹ اور بے چینی پیدا نہیں ہونے دی تھی۔
”کیا چیز ….“پردہ ہٹاتے ہوئے وہ اندر گھسا ،مگر اس کا فقرہ پورا ہونے سے پہلے بہرام کے خنجر کا نشانہ اس کا دل بن چکا تھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے بائیں ہاتھ سے اس کا منہ ڈھانپ لیا تھا۔اور پھر اس نے ایک وار پر اکتفا نہیں کیا تھا۔دو تین لمحوں بعد ہی محافظ کی روح اپنے پہلے والے ساتھیوں کے پاس پہنچ چکی تھی۔اس کی لاش کو نیچے پھینک کر بہرام نے جھپٹ کر کمان اٹھائی اور خیمے کا پردہ ہٹا کر چلے میں تیر جوڑ کر اس نے شست سادھ لی۔روم کا حکمران اونچی کرسی پر بیٹھا ہوانمایاں نظر آرہا تھا۔شاہی خیمے کا وہاں سے فاصلہ دو اڑھائی سو قدم کے بہ قدر تھا۔ بہرام نے ساری مہارت بروے کار لاتے ہوئے تیر کو اونچائی کا زاویہ دیا اور پھر دل ہی دل میں خداوندِیزدان کویاد کرتے ہوئے تیر چھوڑ دیا۔ اس تیر کے ہدف کو نشانہ بنانے اور نہ بنانے پر اس کی محبت کی کامیابی و ناکامی کا انحصار تھا۔تیر چلاتے ہی اس نے فوراََ کمان نیچے پھینکی اور خیمے سے باہر نکل کر پہرے داروں کے انداز میں کھڑا ہو گیا۔اسی وقت اس کا چلایا ہوا تیر بلائے ناگہانی کی طرح سنسناتا ہوا رومن حکمران کی چھاتی میں پیوست ہو گیا تھا۔بادشاہ جھٹکا لگنے سے کرسی کی پشت سے ٹکرایا اور پھر آگے کو جھکتے ہوئے اوندھے منہ کرسی سے نیچے گر گیا تھا۔لمحہ بھر تو کسی کی سمجھ ہی میں نہیں آیا تھا کہ رومن حکمران کو ہوا کیا ہے۔اس کے بعد ایک دم شور و غوغا بلند ہوا۔ عہدہ داران کرسیاں چھوڑ کر بادشاہ کی طرف بڑھے ،اسی لمحے بہرام بھی شاہی خیمے کی طرف بھاگ پڑا کیوں کہ اسے معلوم تھا تیر چلائے جانے کی سمت معلوم کرنا مشکل نہیں تھا۔ اس کی خوش قسمتی کہ دوسرے خٰیموں کے سامنے کھڑے ہوئے چند محافظ بھی اس جانب دوڑ پڑے تھے۔ یوں اس کا دوڑنا کسی کو انوکھا نہیں لگا تھا۔باقی تو شاہی خیمے میں داخل ہوئے لیکن وہ رکنے کے بجائے شاہی خیمے کے پاس سے گزرنے لگا۔ اس سے پہلے کہ اس کی ڈھنڈیا پڑتی وہ دور نکل جانا چاہتا تھا۔اپنے مقصد میں وہ کامیاب رہاتھا۔
شاہی خیمے کے پہلو سے گزرتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔اسی وقت ایک رومن سالار کو تیر داغنے والے کا خیال آیا۔بادشاہ کی کرسی کو دیکھتے ہوئے اس کی نظریں سیدھا ان دو خیموں کی جانب اٹھ گئی تھیں جہاں سے تیر چلا کر بادشاہ روم کو نشانہ بنا جا سکتا تھا۔
تھوڑی دیر تک مطلوبہ خیمہ ڈھونڈ لیا گیا جہاں سے بادشاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس وقت تک بہرام تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہر کنارے پہنچ گیا تھا۔گرمی کی وجہ سے کافی افراد نہر میں نہا رہے تھے۔زرہ بکتر اور خود وغیرہ اتار کر وہ کپڑوں سمیت نہر میں اتر گیا۔رومن سپاہی نہر کے جنوبی کنارے پر نہا رہے تھے۔ وہ غیر محسوس انداز میں شمالی کنارے کی طرف بڑھ گیا۔اسی وقت ایک شامی سپاہی دوڑتا ہوا نہر کے کنارے پہنچا اور زور زور سے بادشاہ کی ہلاکت کے بارے لوگوں کو بتانے لگا۔نہانے والے سراسیمگی اور حیرانی کے زیر اثر اس کی بات سن رہے تھے۔
بہرام سب سے بے نیاز دوسرے کنارے پہنچ کر پانی سے باہر نکلا اور دوڑ پڑا۔ اس جانب رومن افواج موجود نہیں تھیں۔البتہ نہر عبور کر کے اس کا تعاقب کیا جا سکتا تھا۔ لیکن بادشاہ کے قتل کی خبر سن کر لوگ اتنے حیران ہوئے تھے کہ کوئی اس کے بھاگنے پر غور ہی نہیں کر سکا تھا۔نہر کنارے موجود جھاڑیوں کو عقب میں رکھ کروہ سرعت سے دور ہونے لگا۔ارد شیر خرہ کی فصیل نہر سے چند کوس ہی دور تھی۔ رومن سپاہی خوراک وغیرہ کے حصول کے لیے ارد شیر خرہ کی مضافاتی بستیوں میں تو پہنچ جاتے تھے لیکن شہر پر حملہ کرنے کی کوشش انھوں نے کبھی نہیں کی تھی۔اس کا ارادہ ارد شیر خرہ سے گھوڑا پکڑ کر آگے سفر کرنے کا تھا۔
٭٭٭
کہتے ہیں مصیبت اکیلی نہیں آتی۔بنو جساسہ کے سردار شیبہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا تھا۔ پہلے توصرف تین سردار زادے بادیہ کے امیدوار تھے لیکن دومة الجندل کے میلے میں بنو اخنف کے سردار زادے محاسب بن فہر کے شاعر چچا نے بنو اسد کے مظمون بن قیس اور محاسب بن فہر کے درمیان گہری دوستی کو رقابت میں بدلنے کی وجہ بادیہ بنت شیبہ کو ٹھہراتے ہوئے اس کے حسن کا ایسا نقشہ کھینچا تھا کہ میلے کے ختم ہونے کے فوراََ بعد بنو جساسہ میں بادیہ کے لیے پانچ چھے قبیلوں کے سردار زادوں کے رشتے پہنچ گئے تھے۔شیبہ بن ثمامہ سے پہلے والے تین رشتوں کے بارے فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا نئے رشتوں نے اسے مزید پریشان کر دیا تھا۔خاص کر بنو نوفل اور بنو نجار جیسے بڑے قبیلوں کو انکار کرنا نہایت مشکل تھا۔
بہت سوچ و بچار کے بعد بھی جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تو مشاورت بلا لی۔وہ کوئی ایسا طریقہ سوچ رہے تھے کہ کسی ایک کو ہاں کرنے کے بعد باقی خفا ہو کر انتقامی کارروائی پر نہ اتر آئیں۔ ایسے مسئلے سے ان کا پہلے واسطہ نہیں پڑا تھا۔بادیہ کی خوب صورتی باپ کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی تھی۔ ایک دو آدمیوں نے بادیہ کی شادی قبیلے کے کسی جوان سے کرنے کی تجویز پیش کی مگر سردار نے نفی میں سر ہلا دیا۔بڑے قبائل کے سردار زادوں کو ٹھکرا کر کسی عام لڑکے سے بادیہ کی شادی کرنا نہ تو اسے مناسب لگا اور نہ ایسا کرنے سے وہ دوسرے قبائل کی ناراضی کو ٹا ل سکتا تھا۔
تمام کے مشوروں کو سننے کے بعدصامت بن منبہ نے کہا۔”سردار ، بہتر یہی ہو گا کہ بادیہ سے شادی کے متمنی تمام قبائل کے سردار زادوں کو بلا بھیجیں اور انھیں یہ مسئلہ بتا کر گھڑ دوڑ کرانے کی تجویز پیش کر دیں کہ جو سردار زادہ گھڑ دوڑ جیت جائے گا اسی کو بادیہ ملے گی۔اس طرح کسی کی ناراضی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔“
سردار اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔”تمھارا مشورہ ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آرہا۔“
اس کے بعد بھی ایک دو مشورے پیش ہوئے مگر سردار کو صامت بن منبہ کا مشورہ پسند آگیا تھا۔تھوڑی دیر بعد چند قاصد یہ پیغام لے کر مختلف قبائل کا رخ کر رہے تھے۔
٭٭٭
”میں نہیں جا رہی۔“قُتیلہ انکار میں سر ہلا کر خیمے میں گھس گئی۔جبلہ اس کا جواب سن کر حیران رہ گیا تھا۔قافلوں پر حملہ کرنے میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتی تھی لیکن آج بیزاری بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے بغیر کوئی وجہ بتائے وہ باپ کے سامنے سے ہٹ گئی تھی گویا اسے مزید بات چیت نہیں کرنا تھی۔ جبلہ نے بھی کندھے اچکانے سے زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کس وجہ سے خفا تھی۔
عریسہ اس کے نہ جانے کا سن کر خوشی سے کھل اٹھی تھی۔
”ضرورت ہی کیا ہے ساتھ جانے کی ،میں تو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئی تھی کہ مرودں والے کام عورتوں کو نہیں جچتے۔شکر ہے تمھاری عقل میں بھی آگیا ہے۔“
وہ ہنسی۔”ماں جی ،زیادہ خوش فہمیاں نہ پالا کریں۔“
”کیا مطلب ؟“عریسہ نے خفگی بھرے انداز میں پوچھا۔
”آپ نے کیسے اندازہ لگایا ہے کہ میں مستقل گوشہ نشین ہو گئی ہوں۔آج تومیں کسی خاص مقصد کی وجہ سے ساتھ نہیں جا رہی۔“
”میرے منع کرنے پر بھی نہیں رکو گی۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”ماں جی ،کبھی ایساتقاضانہ کرنا کہ مجھے انکار کرنا پڑ جائے۔“
”تم نہیں سدھرو گی۔“عریسہ بے بسی سے سر ہلا کر رہ گئی تھی۔
قُتیلہ جواب دیے بغیر شراب کے مشکیزے سے پیالہ بھرنے لگی۔جبکہ عریسہ خیمے کے کونے میں پڑی چکی کے قریب جا کر جو پیسنے لگی۔
قُتیلہ نے ہلکے ہلکے گھونٹ لے کر پیالہ ختم کیا اور دوبارہ بھر لیا۔چکی گھماتے ہوئے عریسہ کھوجتی نظروں سے اسے گھورتی رہی۔وہ اس کی رگ رگ سے واقف تھی۔اور اس وقت بلا شک و شبہ قُتیلہ کے دماغ میں کوئی خاص بات چل رہی تھی۔ عریسہ کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔شراب کے تین پیالے معدے میں انڈیلنے کے بعد وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
”ماں جی ،مجھے دیر ہو جائے تو پریشان نہ ہونا۔“
”کہاں جا رہی ہو ؟“عریسہ پریشان ہو گئی تھی۔
”اگر بتانا ہوتا تو آپ کے پوچھنے کا انتظار نہ کرتی۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے وہ خیمے سے نکل آئی۔اس کا رخ عیلان بن عبسہ کے خیمے کی طرف تھا۔اسے معلوم تھا کہ وہ تمام افراد جنھوں نے اس دن قُتیلہ کی قیادت کو نہ مانتے ہوئے اس کے ساتھ جانے سے انکار کیا تھا وہ بھی آج جبلہ کے ساتھ نہیں گئے تھے۔اس دن کے بعد وہ کم ہی گھر سے باہر نکلتے تھے۔
ادھیڑ عمر عیلان بن عبسہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔”سردار زادی آپ ؟“
وہ اطمینان سے بولی۔”ہاں ،سوچا تمھیں تلافی کا موقع دے دوں۔“
”میں سمجھا نہیں۔“اس کی حیرانی دو چند ہو گئی تھی۔
”بنو احمر کے سردار نے تمھاری سردار زادی کو اغواءکرانے کی کوشش کی تھی، اسے خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔اگر تم میرا ساتھ دو تو ہم انھیں احساس دلا سکتے ہیں کہ اگروہ ہواہیں توان کا واسطہ بگولے سے پڑاہے۔“(یعنی سیر کو سواسیرملنا)
”سردار ،کی کیا مرضی ہے ؟“
قُتیلہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”اس وقت میں سردار ہوں۔“
عیلان بولا۔”آپ جانتی ہیں کہ مجھے عورت کی سرداری پر اعتراض ہے۔“
”تم ایک لا حاصل تمنا کے درپے ہو۔بنو نسر کی سردار قُتیلہ ہی بنے گی اور اس کے بعد تمھارے مقدر میں طرید بننے کی ذلت ہی لکھی جائے گی۔“(اگر قبیلہ کسی شخص کو عاق کردیتا یا وہ قبیلے کے کسی شخص کا خون کر کے فرار ہو جاتا تو زمین و آسمان اس کے لیے تنگ ہو جاتے ایسا شخص ”طرید“ دھتکارا ہوا کہلاتا۔ اسے لا محالہ خود کو کسی دوسرے قبیلے سے منسلک کرنا پڑتا اور وہاں وہ” دخیل “یعنی باہر سے آیا ہوا کہلاتا)
”آخر قُتیلہ نے کسی سے تو شادی کرنی ہے نا ؟“عیلان بن عبسہ کی آنکھیں قُتیلہ کے پر شباب بدن پر گڑ گئی تھیں۔(یاد رہے کہ عربوں میں شادی کرتے ہوئے عمر کا تفاوت اتنی اہمیت نہیں رکھتا )
”کوئی ایسا جو قُتیلہ سے اچھا شمیشر زن ہوگا۔جس کا تیر نشانے کو ایسے ڈھونڈے گا جیسے درد زخم کو ڈھونڈتا ہے۔“
”شادی کے علاوہ بھی تو ایک لڑکی مرد کا منھ بند کر سکتی ہے۔“اس مرتبہ عیلان بن عبسہ براہ راست مطلب پر آگیا تھا۔ اپنی پر ہوس نگاہیں اس نے قُتیلہ کی سیاہ دنبالہ آنکھوں میں ڈال دیں۔ گوشہ چشم سے بڑھے سرمے کی لکیروں نے قُتیلہ کی سیاہ موٹی آنکھوں کو مزید پھیلا دیا تھا۔عیلان بن عبسہ کی بات پر حیرت انگیز طور پر بھڑکنے کے بجائے وہ سوچ میں کھو گئی تھی۔عیلان بن عبسہ کو امید ہو چلی تھی کہ وہ اپنے سپنے کوپورا ہوتا دیکھ سکے گا۔قُتیلہ جیسی دوشیزہ کا حصو ل خوابوں ہی کی بات تھی۔
لمحہ بھر سوچنے کے بعد قُتیلہ نے سرمہ بھری سیاہ آنکھیں جھکاتے ہوئے لچک دار لہجے میں کہا۔ ”اس بحث کو واپسی تک موّخر کر دیتے ہیں۔“
عیلان بن عبسہ کا دل بے اختیار دھڑکنے لگا تھا۔اس نے ہمت بڑھاتے ہوئے قُتیلہ کا ہاتھ تھام کر کہا۔”مجھ سے بڑھ کر کسی کو وفادار نہیں پاﺅ گی۔آپ کی سرداری کی راہ کا سب سے بڑا کانٹا میں ہوں ،اپنی قربت سے نواز کر آپ مجھے سب سے بڑا طر ف دار بنا لیں گی۔اور یہ رازبھی ہمیشہ میرے سینے میں دفن رہے گا۔“
”قُتیلہ بات دہرانے کی عادی نہیں ہے۔اور نہ اپنے کہے سے پھرتی ہے۔“قُتیلہ نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے کھینچتے ہوئے لہجے میں ہلکی سی سختی پیدا کی۔”یہ فارغ وقت کے چونچلے ہیں اور اس وقت ہم نے بہت مشکل مرحلے سے گزرنا ہے۔“
”مگر ….“
قُتیلہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی۔”کہیں میں کانٹوں سے انگور توڑ نے کی سعی تو نہیں کر رہی۔“ (یعنی بد سے خیر کی امیدکرنا بے فائدہ ہے )
”ہم دو ہی جائیں گے۔“عیلان بن عبسہ نے قُتیلہ کا لہجہ تبدیل ہوتے دیکھ کر فوراََ جوّا کھیلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔یوں بھی قُتیلہ کے لہجے میں شامل لچک نے اسے امید دلا دی تھی کہ وہ قُتیلہ کے کام آکر واپسی پر طمح نظر پورا کر سکتا تھا۔
قُتیلہ کے چہرے پر معنی خیز تبسم ابھرا۔”تم اپنے تین قابل اعتماد ساتھیوں کو ساتھ لے کر شمالی ٹیلوں میں پہنچو میں وہیں انتظار کر رہی ہوں۔اور یقینا رازداری برتنے کا مشورہ دینا وقت کا ضیاع ہو گا۔“
”درست کہا۔“عیلان نے اس کے پر کشش سراپے پر بھرپور نگاہ دوڑائی اور اپنے خیمے میں گھس گیا۔جبکہ قُتیلہ کا رخ شمال کی جانب ہو گیاتھا۔قبیلے کے شمال میں موجود ریت کے بڑے ٹیلے کے پاس جا کر اس نے گھوڑا روکا اور نیچے اتر کر ریت پر کہنی کے سہارے لیٹ گئی۔اس کا باپ تیس چالیس سواروں کے ساتھ جنوب کی جانب گیا تھا۔اس کا ارادہ دبا سے یمن جانے والے قافلے پر ہلہ بولنے کا تھا۔ بنو احمر ان کے قبیلے سے شمال کی جانب پڑ رہا تھا۔بنو احمر بھی ایک بدو قبیلہ تھا۔البتہ بنو نسر کی طرح ان کا انحصار فقط قذاقی پر نہیں تھا۔ گو موقع ملنے پر وہ بھی کسی قافلے یا چھوٹے قبیلے پر چڑھائی کرنے سے باز نہیں آتے تھے ،مگر عمومی طور پر ان کا ذریعہ معاش گلہ بانی ،تجارت اور شکار وغیرہ تھا۔
قُتیلہ کے جانے کے بعد عیلان بن عبسہ تیار ہو کر اپنے قریبی دوستوں کے پاس پہنچ گیا۔حرام بن زراح ،عافد بن مرسع اور اخلد بن احمر کو بلا کر اس نے قُتیلہ کے ساتھ جانے کی بابت بتلاکر ششدر کر دیا تھا۔
حرام بن زراح بولا۔”مجھے یقین دلاﺅ کہ تم نشے میں نہیں ہو۔بے وقوف !….سردار کی مرضی کے بغیر ایک چھوکری کا حکم ماننے کا مطلب ہے ہم نے اسے سردار تسلیم کر لیا ہے۔“باقی دونوں کی سوالیہ نظریں بھی عیلان کے چہرے پر مرتکز ہو گئی تھیں۔
عیلان بن عبسہ معنی خیز انداز میں مسکرایا۔”اچھا تم تینوں میں کون سا آدمی قُتیلہ سے شادی کرنے کا خواہش مند ہے۔“
حرام نے کہا۔”یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔“
عیلان نے کہا۔”تم اپنے سوالات کچھ دیر کے لیے موخّر کر دو۔“
اخلد بن احمر صاف گوئی سے بولا۔”اگر سردار زادی مان جائے تو اس کے حصول کے لیے میں تم تینوں کے خلاف تلوار سونت سکتا ہوں۔“
عیلان اطمینان سے بولا۔”گویا تم میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو۔“
عافد بن مرسع الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔”اگر ،انعام سردار زادی سے شادی ہے تو ہم بھی پیچھے نہیں رہیں گے مگر وہ کسی ایک ہی سے شادی کرسکے گی۔“
عیلان نے کہا۔”ہاں ،مگر بغیر شادی کے خوش چاروں کو کر سکتی ہے۔عورت جب سخاوت پر اتر آئے تو کئی مردوں کو نواز سکتی ہے۔“
اخلد بے یقینی سے بولا۔”وہ ایسی نہیں ہے۔اس میں لڑکیوں والے جذبات ہی نہیں ہیں۔ بے رحم ،سنگ دل ،ظالم اورحد درجہ خطرناک۔“
عیلان نے اثبات میں سر ہلایا۔”بالکل ایسا ہی ہے ،لیکن وہ سردار بننے کی بھی خواہاں ہے۔ اور اس کی راہ کے سب سے بڑے کانٹے ہم ہیں۔ہمیں نواز کر ہی وہ اپنے مخالفین کم کر سکتی ہے۔اور میں نے اسی طرف توجہ دلا کر اسے قریباََ راضی کر لیا ہے۔“
”ہم سب کے بارے۔“حرام کے لہجے میں حیرانی بھرا اشتیاق شامل تھا۔
”فی الحال تو اپنے بارے بات کی ہے ،لیکن فکر نہ کرو تمھارے بارے بھی منوا لیں گے۔بلکہ آج کا کام بہ خیر و خوبی سر انجام دینے کے بعد واپسی پر ہم من مانی کر لیں گے ،یقیناہم چارو ںکا مقابلہ کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہو گا۔“
”لگتا ہے میں خواب دیکھ رہا ہوں۔“عافد بن مرسع نے یقینی ظاہر کی۔
عیلان بن عبسہ پر اعتما دلہجے میں بولا۔” اس خواب اور تعبیر کے مابین بس چند گھنٹوں ہی کی مسافت ہے۔“
اخلد بن احمر نے قہقہ لگایا۔”چلو پھر کہیں سردار زادی اپنا ارادہ ملتوی نہ کر دے۔“
تھوڑی دیر بعد ہی عیلان بن عبسہ اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا تھا۔انھیں دیکھتے ہی قُتیلہ کھڑی ہو گئی تھی۔چاروں کی پر ہوس نگاہوں نے بے تابی سے قُتیلہ کے نو خیز بدن کا طواف کیا۔ وہ خواب میں بھی قُتیلہ کے بارے ایسا نہیں سوچ سکتے تھے مگر ایک دم دیوتا ان پر مہربان ہو گئے تھے کہ قُتیلہ جیسی دوشیزہ نے آمادگی کا اظہار کر دیا تھا۔
”سردار زادی ،انعام کے متمنی ہم بھی ہیں۔“اخلد بن احمر سے صبر نہیں ہو سکا تھا۔
قُتیلہ کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔”انعام کا تقاضا کام کے بعد کیا جاتا ہے۔“
حرام بن زراح بولا۔ ”تقاضا نہیں کر رہے وعدہ لے رہے ہیں۔“
قُتیلہ نے عیلان بن عبسہ کی طرف دیکھتے ہوئے لوچ دار لہجے میں کہا۔”وعدہ تو عیلان بن عبسہ سے بھی نہیں کیا تھا بہ ہر حال پہلے تو اپنا مقصد پورا کرتے ہیں اس کے بعد اطمینان سے بات چیت کریں گے۔ایسے کاموں میں جلد بازی اچھی نہیں ہوتی۔“
اخلد بن احمر بے صبری سے بولا۔”ہم اپنے باقی ساتھیوں کو بھی آپ کی سرداری کے رستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔“
قُتیلہ نے قہقہ لگایا۔”کہیں وہ بھی وعدہ لینے نہ پہنچ جائیں۔“
عیلان بن عبسہ نے چاہت بھرے لہجے میں کہا۔”ہم چار بس ،اس کے علاوہ ہم خود بھی کسی کو آپ کے نزدیک برداشت نہیں کریں گے۔“
قُتیلہ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے بولی۔”غروب آفتاب سے پہلے ہی سفر شروع کر دینا چاہیے۔تاکہ طلوع آفتاب تک واپس پہنچ جائیں۔میں نہیں چاہتی کہ باباجان کو ہماری کارروائی کے بارے کچھ معلوم ہو۔“
چاروں سر ہلاتے ہوئے اپنے گھوڑوں پر بیٹھ گئے اگلے ہی لمحے پانچوں گھوڑے بنو احمر کی طرف سر پٹ دوڑ رہے تھے۔
٭٭٭
رومن افواج کے سرکردہ لوگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔بادشاہ الیانوس(جولین) کا قتل ان کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا تھا۔اس کی جگہ سنبھالنے کے لیے انھیں کسی حکمران کی ضرورت تھی۔کافی سوچ بچار کے بعد تمام کی نظریں یوسانوس کی طرف اٹھیں۔(تاریخ ایران میں یوسانوس کوجوئین کے نام سے ذکر کیا گیا ہے )ایک سالار نے یوسانوس کا نام لیا اور تمام اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔
یوسانوس گلا کھنکارتے ہوئے کھڑا ہوا۔”آپ لوگوں کا بہت شکریہ کہ مجھے اس قابل سمجھا ،لیکن آپ لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہو کہ میں آج بھی نصرانی ہو ں اور میرے لیے غیر نصاریٰ کی حکومت سنبھالنا جائز نہیں ہے۔“
یوسانوس کا نام بہ طور حکمران لینے والے سالار نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے کہا۔ ”میں یسوع مسیح کی قسم کھاتا ہوں کہ میں آج بھی عیسائی ہوں۔“یہ ابتداءتھی ایک ایک کر کے تمام عہدہ داران نے حلف لے کر بتایا کہ وہ اب تک دینِ نصاریٰ پر قائم ہیں اور اپنے دین کو انھوں نے الیانوس کی وجہ سے چھپایا ہوا تھا۔
الیانوس کی تدفین سے فارغ ہو کر انھوں نے یوسانوس کی تاج پوشی کی۔یوسانوس نے تاج پہنتے ہی پہلا حکم یہی دیا کہ رومن فوجوں کو اس علاقے سے نکالا جائے۔کیوں صورت حال بالکل بھی ان کے حق میں نہیں تھی۔ایک تو گرمی کا زور تھا دوسرا خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا،وہ تین اطراف سے دشمن کے گھیرے میں تھے اور سب سے بڑھ کرایرانی لشکر کی تعداد ان سے کہیں زیادہ تھی۔ایسی حالت میں وہاں سے جان بچا کر نکلنا ہی عقل مندانہ فیصلہ تھا۔طلوع آفتاب کے ساتھ ان کے گھڑ سوار دستے سوس کا رخ کر رہے تھے جہاں ایرانی لشکر خیمہ زن تھا۔یوسانوس نے تیر رفتار دستوں کو صرف دشمن کو دھوکا دینے کے لیے اس جانب بڑھایا تھا باقی لشکر کو لے کر وہ خلیج الفارس کے کنارے چلتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ایرانی جاسوسوں نے سوس میں خیمہ زن اپنے لشکر کورومن گھڑ سوار دستوں کی پیش قدمی کے بارے مطلع کر دیا تھا۔اس کے ساتھ انھیں رومن بادشاہ کے قتل کی بابت بھی مطلع کر دیا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ رومن اپنے بادشاہ کی ہلاکت کی وجہ سے حملے کے لیے آرہے ہیں۔وہ اپنے خیموں سے آگے نکل کر صف آرائی کرنے لگے۔ رومن گھڑ سوار دستوں کو سوس تک پہنچنے میں چار پانچ دن لگ گئے تھے۔ان دستوں نے ایرانی لشکر سے ایک میل دور ڈیرے ڈال لیے۔اس اثناءمیں ان کا باقی لشکر آگے بڑھتا رہا۔ایرانی دستے جنگ کے لیے تیار تھے ،مگر رومن لشکر میں کوئی ہلچل نہ ہوتے دیکھ کر وہ مخمصے میں پڑ گئے تھے۔رومن دستوں کی تعداد بھی انھیں بہت کم نظر آرہی تھی۔ان کے خیال میں وہ بقیہ لشکر کا انتظار کر رہے تھے۔ایرانی سالار نے اپنا قاصدتازہ اطلاعات کے ساتھ سابو ذوالاکتاف کے پاس بھیج دیا تھا۔
چند دن تو رومن دستے ایرانی لشکر کے سامنے خیمہ زن رہے۔ اور پھر ایک صبح ایرنی لشکر کو رومن پڑاﺅ خالی نظر آیا۔نا معلوم رات کے کس پہر وہ کوچ کر گئے تھے۔ایرانی سپہ سالار نے صورت حال جاننے کے لیے فوراََ ہی اپنے جاسوس دوڑا دیے تھے۔تیسرے دن جاسوس جو خبر لائے وہ نہایت حیران کن تھی۔ رومن لشکر بابل کے مضافات میں پہنچ چکا تھا۔اور معلوم یہی ہوا تھا کہ رومن پس قدمی کرکے ارض فارس سے نکلنے کی تگ و دو میں تھے۔سپہ سالار نے فوراََ ہی تیز رفتار قاصد شہنشاہ فارس کے پاس طیسفون بھیج دیے اور خود بھی باقی لشکر کے ساتھ طیسفون کا رخ کیا۔وہ رومن سپاہ کی چال کو سمجھ چکا تھا۔تیز رفتار گھڑ سوار دستے بھیج کر انھوں نے ایرانی لشکر کو لڑائی کا جھانسہ دیا تھا اور اپنا باقی لشکر سرزمین فارس سے نکالنے کی کوشش میں تھے۔
٭٭٭
بہرام رات کو تھوڑا سا آرام کرتا اور طلوع آفتاب سے پہلے ہی سفر شروع کر دیتا۔اس کے باوجود اسے پانچ دن راستے میں لگ گئے تھے۔ طیسفون پہنچتے ہی اس نے وقت ضائع کیے بغیر شہنشاہ فارس سے ملاقات کی کوشش کی اور اس کے لیے سب سے بہتر ذریعہ سکندر تھا۔کیوں کہ شہنشاہ سابور دربار برخاست کر کے اپنے شبستان میں جا چکا تھا۔اس کے اجازت مانگنے پر سکندر نے فوراََ اسے طلب کر لیا تھا۔ وہ سکندر کو تعظیم پیش کرتا ہوا اس کی خواب گاہ میں داخل ہوا۔
”حضور ،خداوند فارس کی کرم نوازی سے میں کامیاب لوٹا ہوں۔“
سکندر حیرت اور خوشی کے مارے اچھل پڑا تھا۔”تمھارا مطلب ہے تم نے رومن بادشاہ کو قتل کردیا ہے۔“
بہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔”جی حضور ،میرے چلائے ہوئے تیر نے اس کی چھاتی چھید ڈالی تھی۔“
”تفصیل بتلاﺅ۔“اس نے بہرام کو بیٹھنے کا اشارہ کیااورچاندی کا آب خورہ شراب سے بھر کر اس کی طرح بڑھا دیا۔
یہ عزت افزائی کسی انعام سے کم نہیں تھی۔بہرام نے دونوں ہاتھوں سے شراب کا پیالہ تھاما اور مودّب انداز میں نشست سنبھالتے ہوئے تفصیل سنانے لگا۔
تفصیل سنتے ہی سکندر نے تحسین آمیز انداز میں اس کی پیٹھ تھپکی اور کہا۔”اٹھو تمھیں ابھی شہشناہ معظم سے ملاتا ہوں۔“
بہرام خوشی سے کانپتا ہوا کھڑا ہو گیا۔سبرینہ اسے اپنی دلھن کے روپ میں دکھائی دینے لگی تھی۔
سکندر کی وجہ سے وہ بغیر کسی روک ٹوک کے شاہی حرم تک پہنچ گئے تھے۔اسے باہر رکنے کا اشارہ کر کے سکندر اجازت طلب کر کے خواب گاہ میں داخل ہو گیا۔سابور ذوالاکتاف اپنی خوب صورت ملکہ کے پہلو میں بیٹھا مئے نوشی میں مشغول تھا۔خصوصی محافظ اسفندشاہی مسہری کے سر کی جانب مودّب کھڑا تھا۔تعظیم شاہی سے فارغ ہو کر سکندر نے بات کرنے کی اجازت طلب کی۔
”ہم سن رہے ہیں۔“خالی پیالہ کنیز کو پکڑاتے ہوئے سابور نے اشتیاق سے پوچھا۔ سکندر کی بے وقت آمد سے اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی خاص بات ہے۔
”خداوند فارس کا اقبال بلند ہو ،خادم کے بھیجے ہوئے تیر انداز کا تیر رومن شہنشاہ کی چھاتی کو چھید کر اس کی بد بختی کو واضح کر چکا ہے۔“
”کیا ….“فرط مسرت سے سابور کھڑا ہو گیا تھا۔”تیر انداز کو فوری طور پر طلب کیا جائے۔“
”شہنشاہ معظم۔“سکندر تعظیم میں رکوع کے بل جھک کر الٹے قدموں پیچھے مڑا اور دروازے کے قریب جا کر بہرام کو اندر بلا لیا۔
بلاوے کا منتظر بہرام رعب شاہی سے لرزتا ہوااندر داخل ہوا اور فوراََ سجدے میں گر گیا۔
سابور بے صبری سے بولا۔”کھڑے ہو جاﺅ جوان ،ہم تمھارے منھ سے سب کچھ سننا چاہتے ہیں۔“
بہرام نے کھڑے ہو کر کہا۔”حضور کا اقبال بلند ہو ،غلام نے جان پر کھیل کر خداوند فارس کے دشمن کو نیست و نابود کر دیا ہے۔“
”شاباش جوان ،تم منھ مانگے انعام کے حق دار ٹھہرے۔بولو کیا چاہیے ؟“بادشاہ نے شاید اس کے دل کی آواز کو سن لیا تھا۔
”حضور جان کی امان درکار ہے۔“
”ہم تم جیسے غلام کو کبھی ضائع نہیں کر یں گے۔“سابور خوش گوار لہجے میں کہتا ہوا دوبارہ بیٹھ گیا تھا۔
”حضور والا ،غلام دہ ہزاری کمان دار بہروز کی بیٹی سبرینہ سے شادی کا خواہش مند ہے۔“ بہرام نے ہمت مجتمع کرتے ہوئے دل میں چھپی خواہش اگل دی۔
سابور کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔”سبرینہ تمھاری ہوئی۔“
بہرام فوراََ سجدے کی حالت میں دبیز قالین پر لیٹ گیا تھا۔
سابور سکندر کو مخاطب ہوا۔”سکندر، شاہی کاتب کو حکم پہنچاﺅ کہ بہرام کا بارہ ہزاری کمان دار ہونے کا فرمان نشر کر دے۔اور بہروز کو ہمارے حکم سے آگاہ کرو کہ سبرینہ کوکل تک بہرام سے بیاہ دے۔ہم بہ ذات خود اس شادی میں شرکت کریں گے۔“
سکندر نے رکوع کے بل جھکتے ہوئے کہا۔”جی حضور۔“
”کھڑے ہو جاﺅ جوان۔“سابور کا حکم سنتے ہی بہرام خوشی سے لرزتا کھڑا ہو گیا تھا۔
”یہ ہماری جانب سے تمھار انعام ہوا۔“ملکہ ِسابور نے گلے سے قیمتی موتیوں کا ہار نکال کر اس کی جانب اچھالا جسے بہرام نے ہوا ہی میں پکڑلیا تھا۔ہار کو آنکھوں سے لگا کر بوسا دیتے ہوئے بہرام نے دونوں ہاتھوں میں عقیدت سے تھام لیا۔
سابور سکندر کو مخاطب ہوا۔”میدان سے آنے والی ہر خبر بغیر کسی تاخیر کے ہم تک پہنچائی جائے۔“
سکندر ادب سے بولا۔”حکم کی تعمیل ہو گی حضور۔“
انھیں جانے کا اشارہ کرتے ہوئے سابور نے کنیز کے ہاتھ سے جام تھام لیا جو کافی دیر سے ہاتھوں پر سجائے اس نے بادشاہ کے سامنے پکڑا ہوا تھا۔
دونوں تعظیم پیش کرتے ہوئے خواب گاہ سے نکل آئے۔بہرام کے قدم خوشی کے مارے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کر سبرینہ کے پاس پہنچ جاتا اور اسے یہ خوش خبری سناتا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: