Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 14

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 14

–**–**–

بادیہ کے طلب گار تمام سردارز ادے سقیفہ بنو جساسہ میں موجود تھے۔ان کے علاوہ بنو جساسہ کے سرکردہ افراد بھی بیٹھے تھے۔سردار شیبہ نے گفتگو کی ابتداءکرتے ہوئے تمام صورت حال ان کے گوش گزار کر دی تھی۔
بنو نوفل کے سردار زادے ہزیل بن شماس نے شیبہ کی بات ختم ہوتے ہی کہا۔”ہم بادیہ کے والد محترم کا فیصلہ سننے کے خواہش مند ہیں۔“
”یقینا اتنے زیادہ سردار زادوں میں کسی ایک کو ترجیح دینا میرے لیے ناممکن ہے۔“شیبہ نے بے بسی کا اظہار کیا۔
بنو اخنف کے محاسب بن فہر نے کہا ”مگر فیصلے کا اختیار تو آپ ہی کے پاس ہے۔“
شیبہ نے کہا ”ایسا فیصلہ جس سے صرف ایک خوش ہوگا اور باقی خفا۔“
بنو نجار کے سردار زادے قطام بن دعد نے کہا۔”جب فیصلہ کرنا ناگزیر ہو تو پھر خفا ہونے والوں کی گنتی نہیں کی جاتی۔“
سردار شیبہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔”بہ ہر حال میری حتیٰ الوسع کوشش یہی ہو گی کہ کوئی معزز سردار زادہ خفا نہ ہو پائے اس وجہ سے میں نے بنو جساسہ کے معززین کی مشاورت سے یہ طے کیا ہے کہ بنو جساسہ کی سردار زادی کا ہاتھ اس سردارزادے کو پکڑواﺅں گا جو گھڑ دوڑ میں اول آئے گا۔“
دو تین سردار زادوں نے جوشیلے انداز میں کہا۔”ہمیں منظور ہے۔“
”نہیں۔“بنو نوفل کے سردار زادے ہزیل بن شماس نے نفی میں سر ہلایا۔”اس طرح تو اچھے گھوڑے کا مالک جیت جائے گا۔“
تمام حیرانی سے اسے گھورنے لگے تھے۔
مظمون بن قیس نے پوچھا۔”تو فیصلہ کیسے ہو گا ؟“
ہزیل بن شماس اطمینان سے بولا۔”ہم لڑیں گے ،گھڑدوڑ کے بجائے شمشیر زنی کا مقابلہ ہو گا اور جیتنے والا سردار زادی بادیہ کا دولھا بنے گا۔“
بنو عدی کے سردار زادے قداءبن عتیبہ نے خیال ظاہر کیا۔”گھڑ دوڑ کا فیصلہ مناسب تھا۔“
ہزیل طنزیہ انداز میں ہنسا۔”گھبراﺅ نہیں شمیشر زنی کے مقابلے میں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوئی شِق شامل نہیں ہو گی۔“
”تمھاری غلط فہمی میں ابھی دور کر سکتا ہوں۔“قداءسے بزدلی کا طعنہ برداشت نہیں ہوا تھا۔
ہزیل بے پروائی سے بولا۔”مجھے نہیں لگتا کہ تم صحیح طریقے سے تلوار پکڑ بھی سکتے ہو۔“
قداءکے جواب دینے سے پہلے شیبہ بات سنبھالتے ہوئے بولا۔”یقینا معزز سردار زادوں کاآپس میں جھگڑا تمام کے لیے پریشانی کا باعث بنے گا۔“
قداءبن عتیبہ ،ہزیل کو غصے سے گھورتا ہوا خاموش رہا۔
”تو طے رہا کہ شمشیر زنی کا مقابلہ ہو گا۔“ہزیل نے شیبہ سے پوچھا۔
جواب دینے کے بجائے شیبہ سوالیہ نظروں سے باقیوں کو گھورنے لگا۔اس کا مطمح نظر جان کر تمام سردار زادوں نے فرداََ فرداََشمشیر زنی کے مقابلے کے حق میں فیصلہ دے دیا ،کیوں کوئی بھی بزدل کہلانے پر تیار نہیں تھا۔
”تین دن بعد شمشیر زنی کے مقابلے کا انعقاد ہو گا۔“تمام کی رائے لینے کے بعد شیبہ نے فیصلہ سنا دیا تھا۔
٭٭٭
”میں بھی مقابلے میں حصہ لوں گا۔“یشکر کے کانوں تک بھی مقابلے کی خبرپہنچ گئی تھی۔اس نے فوراََ شریم کے سامنے اپنی خواہش ظاہر کر دی تھی۔
شریم نے منھ بنایا۔”مقابلہ سردار زادوں کے درمیان ہو رہا ہے۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”تلوار ،سردار اور عام آدمی کا فرق نہیں پہچانتی۔“
”یہ جنگ نہیں امن ہے یشکر !“
”محبت بھی جنگ ہی ہے۔“
”ایسا صرف تم سمجھتے ہو ؟“
یشکر نے منہ بنایا۔”یہ میرامقولہ نہیں ہے ،میں صرف دہرا رہا ہوں۔“
شریم نے کہا ”ہر مقولہ قابل ِ عمل نہیں ہوتا۔“
یشکر شکوہ کناں ہوا ”شاید آپ مجھے خوش نہیں دیکھنا چاہتے۔“
”اس معاملے میں میری چاہت کسی اہمیت کی حامل نہیں ہے۔سردار اپنی بیٹی کے لیے کسی سردار کے رشتے کا خواہاں ہے۔بلکہ ہر باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے۔میں نے بھی اپنے بھائی کی بیٹی کے لیے ایک سردار زادے کا رشتا ہی پسند کیا تھا۔“
”ثانیہ باجی کسی کو پسند نہیں کرتی تھی۔“
”اور تمھیں غلط فہمی ہے کہ بادیہ تمھیں پسند کرتی ہے۔“
یشکر جلدی سے بولا۔”وتینہ نے اس کے سامنے میرا ذکر کیا تھا۔اور وہ بتا رہی تھی کہ اس کی بات سن کر بادیہ نے غصے کا اظہار نہیں کیا بلکہ خاموش رہی۔“
”اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تمھیں پسند کرتی ہے۔“شریم کے ہونٹوں پر طنزیہ ہنسی رقصاں تھی۔
”اس کے ردعمل پر میں دامن امید دراز کر سکتا ہوں۔“
شریم صاف گوئی سے بولا۔”اس معاملے میں بادیہ کی مرضی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔“
”آپ سردار سے بات تو کر سکتے ہیں۔یقین مانیں میں عام آدی نہیں ہوں ،میرے والد شاہِ ایران کے خصوصی محافظ ہیں اور انھیں سالار اعظم کے اختیارات حاصل ہیں۔خود میری تربیت بھی بادشاہ کے خصوصٰی محافظ کے طور پر کی گئی ہے اور اب تو میں غلام بھی نہیں رہا۔“
”اپنے والد کی زندگی تمھیں خود بھی واضح نہیں ہے اور بالفرض وہ زندہ بھی ہوتے تب بھی ایک عرب سردار کے مقابلے میں اس کی حیثیت ثانوی مانی جاتی۔باقی میں سردار سے تمھارے بارے بات کر چکا ہوں اورانھوں نے خوب صورتی سے ٹال دیا ہے۔اس لیے خاموشی اختیار کرنا مناسب رہے گا۔“
”آپ مقابلے میں میری شمولیت تو یقینی بنا سکتے ہیں۔“
”دوسرے قبایل کے سردار زادے اسے اپنی توہین جانیں گے۔“
یشکر جھلاتے ہوئے بولا۔”میں آپ کا بیٹا ہوں۔“
شریم نے بے نیای سے کندھے اچکائے ”میں قبیلے کا سردار نہیں ہوں۔“
اوریشکر بے بسی سر ہلاتا ہوا شریم کے حجرے سے نکل آیا۔اسے محبت بھی ہوئی تھی تو ایسی لڑکی سے جہاں نسب اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا تھا۔مگر وہ اتنی جلدی ہار نہیں مان سکتا تھا۔اس کے دماغ میں مختلف قسم کی سوچیں سرگرداں تھیں۔
٭٭٭
بادیہ اس وقت اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھجوروں کے باغ میں موجود تھی۔کھجور کے درخت سے باندھے ہوئے جھولے پر بیٹھی وہ کچھ گنگنا رہی تھی۔
وردہ بنت قیس بولی۔”بادیہ کی قسمت تو ثانیہ سے بھی اچھی ہے۔اتنے سردارزادے شادی کے خواہش مند ہیں کہ انتخاب کرنا مشکل ہو گیا ہے۔“
ہند بنت اسد نے کہا۔”ہماری سردار زادی ہے ہی اتنی پیاری کہ پورے عرب کے سردار اسے اپنی بیوی بنانے کے خواہش مند ہوں گے۔“
”ناجیہ بنت جزع نے شرارت کی۔”سردار نہیں غلام بھی امیدوار ہیں۔“
بادیہ نے غصے بھری نگاہ اس پر ڈالی مگر کچھ کہنے سے گریز کیا تھا۔
ناجیہ ہنسی۔”سچ کہہ رہی ہوں ،یہ علاحدہ بات کہ اس غلام میں کوئی خاص بات ضرور ہے کہ سب سے الگ نظر آتاہے۔“
”میرا بھائی بتا رہا تھا کہ یہ غلام بہت ماہر شمشیر زن ہے۔اس دن قافلے پر حملہ کرنے والے زیادہ تر قزاقوں کو اسی نے ہلاک کیا تھا۔“عنیزہ بنت صامت نے لقمہ دیا۔
بادیہ نے جھولے سے اترتے ہوئے منھ بنایا۔”کیا یہ فضول بحث ختم ہو سکتی ہے ؟“
ہند نے پوچھا۔”اچھا سچ بتاﺅ بادیہ ،تمھیں کون سا سردار زادہ سب سے زیادہ پسند ہے۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”مجھے ایک بھی نہیں ہے پسند۔“
”آخر اس غلام میں ایسی کیا بات ہے کہ تمھیں کوئی سردار زادہ ہی پسند نہیں آرہا۔“ناجیہ نے قہقہ لگایا۔
بادیہ دانت پیستے ہوئے بولی۔”میں نے قطع تعلق کرلینا ہے۔“
”مذاق کر رہی تھی میری سردارزادی۔“ناجیہ قریب ہو کر اس سے لپٹ گئی۔
بادیہ صاف گوئی سے بولی۔”سچ کہوں تو میں شادی کے بکھیڑے میں پڑنا ہی نہیں چاہتی۔“
ہند تاسف سے بولی۔”کوئی بھی لڑکی ماں باپ کا گھر نہیں چھوڑنا چاہتی ،مگر ایک دن سب کو جانا پڑتا ہے۔“
وردہ نے کہا۔”سچ کہوں تو مجھے اس بے چارے پر بہت ترس آتا ہے۔“
ہند مستفسر ہوئی۔”بے چارے یا بے چاری پر ؟“
”یشکر پر۔“اس مرتبہ وردہ نے نام لے کر کہا۔”نہ جانے بادیہ کی شادی کے بعد اس کا کیا حال ہو گا۔“
”اگر اتنا ہی بہادر ہے تو اسے شمشیر زنی کے مقابلے میں حصہ لینا چاہیے۔“بادیہ کے ہونٹوں سے نہ جانے کیسے پھسلا تھا۔
ناجیہ چہکی۔”اس کا مطلب ہے ہماری سردار زادی کی رائے بھی یشکر کے حق میں ہے۔“
”نہیں جی ،میں نے بس وردہ کی بات کا طنزیہ جواب دیا ہے۔“بادیہ صفائی پیش کرنے لگی۔
وردہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔”وہ بے چارہ کہاں سردار زادوں کے مقابلے میں حصہ لے سکتا ہے۔“
ہند نے حیرانی سے پوچھا۔”کیوں نہیں لے سکتا ؟“
وردہ نے وضاحت کی۔” وتینہ بتا رہی تھی کہ کل اس کے باپ شریم اور یشکر کے درمیان یہی بحث چھڑی رہی۔یشکر شمیشر زنی کے مقابلے میں شامل ہونا چاہتا ہے اور شریم نے بتا دیا کہ وہ حصہ نہیں لے سکتا۔“
ناجیہ ،بادیہ کو مخاطب ہوئی۔”سن لیا ،اس بے چارے کو مقابلے میں حصہ ہی نہیں لینے دیا جا رہا۔“
بادیہ نے منھ بنایا۔”میری بلا سے۔“
”بڑی سنگ دل ہو۔“ناجیہ اسے چھیڑنے سے باز نہیں آئی تھی۔
بادیہ بے زاری سے بولی۔”ناجیہ ،مجھے ایسی باتیں پسند نہیں ہیں۔“
اچانک ہند نے نعرہ لگا کر انھیں متوجہ کیا۔”وہ آگیا بادیہ کا غلام۔“تمام نے ہند کی انگلی کے اشارے کی طرف دیکھا۔یشکر کا رخ اسی طرف تھا۔
”بادیہ کا نہیں وہ اس کے چچا کا غلام ہے ،بلکہ اب تو منھ بولا بیٹا بن گیا ہے۔“
وردہ گھبراتے ہوئے بولی۔”یہ تو سیدھا اسی طرف آرہا ہے۔“
ہند نے لقمہ دیا۔”مجھے تو اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگتے۔“
ہند کی بات کا کسی جواب نہیں دیا تھا وہ یشکر کی طرف متوجہ تھیں جو قریب پہنچنے والا تھا۔اس کے چہرے پر دبا دبا جوش اور ہیجان نظر آرہا تھا۔ان سے چند قدم دور رک کر اس نے طائرانہ نگاہ تمام پر ڈالی اور دھیمے لہجے میں پوچھا۔
”معزز خواتین ،کیا میں سردار زادی سے اکیلے میں بات کرنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہوں۔“
ناجیہ نے منھ بنایا۔”ہم خواتین نہیں لڑکیاں ہیں۔“
”ہاں ہاں کیوں نہیں۔“وردہ نے اجازت طلب نظروں سے بادیہ کی طرف دیکھا۔مگر وہ خاموش کھڑی رہی۔وردہ نے باقی سہیلیوں کو ایک جانب ہونے کا اشارہ کیا۔ان کے ایک جانب ہوتے ہی یشکر لجاجت بھرے لہجے میں بادیہ کو مخاطب ہوا۔
”سردار زادی ،میں اس جسارت کے لیے معافی کا خواست گار ہوں لیکن آپ سے بات کیے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔“
بادیہ برہمی سے اسے گھورتے ہوئے خاموش رہی تھی۔لمحہ بھر اس کے بولنے کا انتظار کر کے وہ کہنے لگا۔”شاید آپ کی نظر میں میں غلام ہوں ،مگر حقیقت یہی ہے کہ میرا والد ساسانی سپاہ کے سپہ سالار کے برابر عہدہ رکھتا ہے۔اور یہی رتبہ مجھے بھی ملنے والا تھا۔گو میں عارضی طور پر غلام بن گیا تھا لیکن اب مجھے آقا نے آزاد کر کے بیٹا بنا لیا ہے۔جلد ہی میں فارس لوٹوں گا۔یقین مانو شہزادیوں کی سی شان سے رکھوں گا۔“
اس مرتبہ بھی اس کی بات کے اختتام پر بادیہ نے ہونٹ ہلانے کی زحمت نہیں کی تھی۔نہ جانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔
”سردار زادی ،مجھے جواب چاہیے۔“یشکر نے بے قراری سے پوچھا۔
اس پر گہرہ نگاہ ڈالتے ہوئے وہ نخوت سے بولی۔”جس کی سمجھ میں خاموشی نہیں آتی، اس احمق کے لیے الفاظ بھی بے معنی ہوتے ہیں۔“
”مجھ میں کیا کمی ہے ؟“
لیکن وہ جواب دیے بغیر رخ موڑ کر سہیلیوں کی طرف بڑھ گئی۔یشکر زخمی نظروں سے اسے گھورتا رہ گیا تھا۔
٭٭٭
رات دو پہر بیت چکی تھی۔قُتیلہ اور اس کے ہمراہی اس وقت بنو احمر کے قریب ایک ٹیلے پر اوندھے لیٹے تھے۔سترہ کے چاند نے ماحول کو خوب روشن کر رکھا تھا۔خیموں کے شہر میں چند ہی خیمے ایسے تھے جن سے روشنی جھلک رہی تھی۔
خیموں کے شہر کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد وہ بنو احمر کے مخالف جانب ٹیلے سے نیچے اترنے لگی۔وہ چاروں بھی اس کے ساتھ نیچے آگئے تھے۔
عیلان بن عبسہ نے پوچھا۔”منصوبہ کیا ہے ؟“لاشعوری طور پر وہ قُتیلہ کے احکامات پر عمل کر رہے تھے۔
”گھوڑے یہیں چھوڑکر آگے پیدل جائیں گے۔ پہلا کام سردار کا خیمہ ڈھونڈنے کا ہے۔ اگلا مرحلہ وہاں تک رسائی کا ہے اس کے بعد اسے پکڑنے کے لیے یقینا اتنی تگ و دو نہیں کرنا پڑے گی۔“ قُتیلہ نے مختصر الفاظ میں اپنا منصوبہ دہرایا۔
عیلان مستفسر ہوا۔”مگر سردار کا خیمہ ڈھونڈیں گے کیسے ؟“
”قُتیلہ کی تقلید میں چلتے آﺅ معلوم ہو جائے گا۔“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے وہ ٹیلے کے بغل کی طرف بڑھ گئی۔
قُتیلہ کے انداز پر ایک بار تو اسے تپ چڑھا مگر پھر انعام کے لالچ نے اسے خاموش رکھاتھا۔ انعام بھی ایسا جو قُتیلہ کی شکل میں ملنا تھا۔
ٹیلے کے بغل سے ہو کر وہ آگے بڑھے ۔ساٹھ ستر قدم دور ایک پرانا خیمہ لگا تھا۔ اس کے بعد تھوڑے فاصلے پرگھاس پھونس کی چند جھونپڑیاں تھیں۔بدو کپڑے کے خیموں کے علاوہ گھاس پھونس کی جھونپڑیوں میں بھی رہایش رکھتے تھے۔
قُتیلہ نے ایک خیمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”یہ باقیوں سے الگ تھلگ ہے ، عیلان ،تم اور عافد اند رچلے جاﺅ۔یقینا مکین کو سردار کے خیمے کے بارے بتانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ “
عیلان نے پوچھا۔”پوچھ گچھ کر کے زندہ چھوڑ دیں یا….“
وہ بے رحمی سے بولی۔”بنو احمرکی تعداد میں ایک آدمی کی کمی سے ہمیں تقویت ہی ملے گی۔ “
عیلان بن عبسہ اور عافد بن مرسع محتاط انداز میں خیمے کی پشت کی جانب بڑھ گئے۔ قُتیلہ باقی دو آدمیوں کے ساتھ باہر ہی ٹھہر گئی تھی۔ اس کی آنکھیں باریک بینی سے اطراف کا جائزہ لے رہی تھیں۔ قبیلے کے مغربی جانب کتوں کے بھونکنے کی آواز ظاہر کر رہی تھی کہ اس جانب کو ئی جنگلی جانور موجود تھے۔
خیمے کے اندر سے کسی عورت کی ہلکی سی چیخ ابھری ،مگر آواز اتنی مدہم تھی کہ قُتیلہ کو خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہی عیلان بن عبسہ اپنے ساتھی کے ہمراہ خیمے سے برآمد ہوا۔نکلتے ساتھ اس نے تلوار کی دھار خیمے کے ساتھ رگڑ کر خون صاف کیا اور قتیلہ کی طرف بڑھا۔اسی وقت شرقی جانب سے دو کتے بھونکتے ہوئے برآمد ہوئے۔قتیلہ نے فوراََ ترکش سے تیر نکال کر کمان میں ڈالتے ہوئے اگلے کتے کا نشانہ لیتے ہوئے چھوڑ دیا۔ایک تیر چلا کر اس کی حرکت رکی نہیں تھی۔فوراََ ہی دوسرا تیر نکال کر اس نے دوسرے کتے پر چلا دیا۔اتنے قریب سے نشانہ خطا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دونوں کتے۔ ”کاﺅں۔“کی آواز نکلاتے ریت پر ڈھیر ہو گئے تھے۔حرام بن زراح اور اخلد بن احمر نے بھی اپنے کمان ہاتھ میں پکڑ لیے تھے۔مگر انھیں تیر چلانے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔
قُتیلہ نے حکمیہ لہجے میں کہا۔”کمانیں ہاتھوں میں تھام لو ،کتوں کو زیادہ بھونکنے کا موقع نہیں دینا ،ورنہ لوگوں کے جاگنے کی صورت میں ہمارا پکڑا جانا یقینی ہے۔“
تمام نے سر ہلاتے ہوئے کمانوں میں تیر ڈال کر چوکنے انداز میں پکڑ لیے تھے۔
عیلان بن عبسہ نے شمال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”اس طرف۔“
قُتیلہ نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا اور خود اس کے عقب میں قدم بڑھا دیے۔
سردار کا خیمہ قبیلے کے وسط میں تھا۔وسیع و عریض خیمے کو عیلان بن عبسہ نے بڑی آسانی سے تلاش کر لیا تھا۔
”حرام اور عافد ،تم دونوں باہرکا دھیان رکھو۔ایک خیمے کے سامنے رکے اور دوسرا پشت کی جانب سے خیال رکھے۔باقی تمام اندر جائیں گے۔“قتیلہ نے سرگوشی میں کارروائی کی ترتیب بتائی۔ حرام اور عافد نے سر ہلا دیا۔قتیلہ محتاط انداز میں خیمے کی پشت کی جانب بڑھ گئی۔عیلان اور اخلد اس کی تقلید میں بڑھ گئے تھے۔سردار کے خیمے سے باقی خیمے تھوڑا ہٹ کر لگے ہوئے تھے اور یہ بات ان کے حق میں جاتی تھی۔
تیز دھار خنجرسے قتیلہ نے خیمے کی عقبی جانب کا پردہ چاک کیا اور دھیرے سے اندر داخل ہوئی۔خیمے کی درمیانی لکڑی کے ساتھ ایک قندیل لٹکی تھی۔ملگجی روشنی میں قتیلہ کو لکڑی کی چوڑی مسہری پر تین وجود بے خبر لیٹے دکھائی دیے۔بنو احمر کا سردار کیدار بن ثابت درمیان میں لیٹا تھا اس کے دائیں بائیں دو عورتیں نظر آرہی تھیں۔قُتیلہ نے عیلان اور اخلد کو اشارہ کیا دونوں نے قریب ہو کر ایک ہاتھ عورتوں کے منھ پر رکھتے ہوئے انھیں دوسرے ہاتھ سے دبوچ لیا تھا۔کیوں عورتیں نیند سے جاگ کر چیخیں بلند کر سکتی تھیں۔ناگہانی اُفتاد سے گھبرا کر دونوں عورتیں زور زور سے مچلیں لیکن انھیں قابو کر نے والے مضبوط مرد تھے وہ ان کے ہاتھوں میں پھڑپھڑا کر رہ گئی تھیں۔ان کے مچلنے پر کیدار بن ثابت کی آنکھ کھل گئی تھی۔وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔اخلد اور عیلان اس کی بیویو ں کو گھسیٹ کر مسہری سے دور لے گئے تھے۔
قُتیلہ نے تلوار بے نیام کرتے ہوئے اس کی نوک کیدار بن ثابت کی گردن سے لگا دی تھی۔ وہ ایک گرانڈیل شخص تھا۔
”کون ہو تم ؟“اس کے لہجے میں ذرہ بھی خوف موجود نہیں تھا۔“
”وہی جسے تم نے لانے کے لیے اپنے آٹھ بندے بھیجے تھے۔“تیکھے لہجے میں کہتے ہوئے قُتیلہ نے چہرے پر لپیٹا ہوا کپڑا کھول دیا۔قندیل کی روشنی نے اس کی دنبالہ آنکھوں کومزید پراسرار بنا دیا تھا۔
وہ بے خوف لہجے میں بولا۔”جانتی ہو تم نے تلوار کی نوک بنو احمر کے سردار کے گلے پر رکھی ہو ئی ہے۔“
”کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ تلوار ،بنو نسر کی سردار زادی کے ہاتھ میں ہے۔“
”بعد کا پچھتانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔“اس حالت میں بھی کیدار بن ثابت دھمکی دینے سے باز نہیں آرہا تھا۔
قُتیلہ نے اس کی دھمکی کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔”سنا ہے تم مجھ سے شادی کے خواہش مند ہو۔“
”کیا شادی کی خواہش کرنا جرم ہے۔“
”نہیں ،مگر کسی سردار زادی کی شان میں گستاخی کرنا ضرور جرم ہے۔“
وہ بے نیازی سے بولا۔”ایک سردار اپنے ہونے والی بیوی کو جیسے چاہے اپنے پاس بلوالے۔“
”اچھا۔“قُتیلہ تیکھے لہجے میں بولی۔”پھر شادی کی شرائط طے کرتے ہیں۔پہلی شرط، قُتیلہ کسی سوکن کو برداشت نہیں کرے گی اس لیے ….“اس نے عیلان اور اخلد کو ہاتھ سے خنجر چلانے کا اشارہ کیا۔ اور دونوں نے کیدار بن ثابت کی بیویوں کے گلے کو بے دردی سے کاٹ دیا۔دونوں خرخراتے ہوئے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگی تھیں ۔کیدار بن ثابت نے بے اختیار اٹھنے کی کوشش کی مگر تلوار کی نوک نے اسے پیچھے دھکیل دیا تھا۔
”تم نے مصیبت کو دعوت دی ہے۔“کیدار کے لہجے میں شامل غصہ کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔
قتیلہ استہزائی لہجے میں بولی۔”میری شرائط ختم نہیں ہوئیں سردار۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کیدار کی گردن سے تلوار پیچھے کھینچی۔”دوسری شرط یہ ہے کہ تم قُتیلہ سے شمشیر زنی کا مقابلہ کرو گے۔ تمھارے جیتنے کی صورت میں قُتیلہ کو شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔“
اسے کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہوئے کیدارمسہری سے نیچے اترا اس کے ساتھ ہی اس نے مسہری کے سرہانے کھڑی میان سے تلوار کھینچ کر نکال لی تھی۔
تلوار سونت کر وہ غضب ناک لہجے میں بولا۔”تم کافی غلطیاں کر چکی ہو اور مجھے تلوار اٹھانے دینا تمھاری آخری غلطی ہے۔“
قُتیلہ کچھ کہے بغیر استہزائی نظروں سے اسے گھورتی رہی۔اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں تولتے ہوئے کیدار نے زور دار وار کیا۔قُتیلہ نے جھکائی دے کر اس کا وار خطا کردیا لیکن جوابی وار سے اس نے گریز کیا تھا۔کیدار اپنے جھونک میں آگے بڑھ گیا تھا۔خیمہ کافی بڑا تھا لیکن اس کے باوجود شمشیرزنی کے لیے جگہ کھلی نہیں تھی۔
کیدار نے پیچھے مڑ کر دوبارہ حملہ کیا ،مگر قُتیلہ کے بدن میں تو بجلیاں بھری تھیں۔اچھل کر ایک قدم پیچھے لے کر اس نے کیدار کا اگلا وار بھی خطا کر دیا تھا۔اور پھر جنونی کیفیت میں کیدار مسلسل وار کرتا گیا اور قُتیلہ کبھی نیچے جھک کر کبھی دائیں بائیں ہٹ کر اور کبھی قدم پیچھے لے کر اس کے وار خطا کرتی گئی۔
سات آٹھ وار خطا ہونے کے بعد قُتیلہ کو موقع مل گیا تھا۔اس کی تلوار پہلی بار حرکت میں آئی اور کیدار کی چھاتی میں ایک گہرا گھاﺅ چھوڑ گئی تھی۔ اسے زخم لگاتے ہی وہ چند قدم پیچھے ہو گئی تھی۔کیدار کا بالائی بدن یوں بھی برہنہ تھا۔خون پیٹ سے ہو کر اس کا زیریں لباس بھگونے لگا۔زخم کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ غصے میں دھاڑتا ہوا قتیلہ کی طرف بڑھا ،قریب پہنچتے ہی اس نے زور دار انداز میں تلوار گھمائی ، اس مرتبہ قُتیلہ نے اس کا وار اپنی تلوارپر سہارا۔تلواروں کے ٹکرانے پر زوردار چھنچھناہٹ ابھری اور پھر وہ چھن چھن تسلسل سے ہونے لگی۔چھے ساتھ مرتبہ اپنی تلوار پر کیدار کا وار روک کر قُتیلہ نے اچانک ہی جھکائی دے کر اس کا وار خطا کیا اور اس سے پہلے کہ کیدار کچھ سمجھ پاتا قُتیلہ کی تلوار نے اس کی دائیں کلائی کو جسم کا حصہ نہیں رہنے دیا تھا۔
”افف….“کی زوردار آوازمنھ سے نکالتے ہوئے کیدار نے خون کے فوارے اگلتی کلائی کو ہاتھ سے تھامااس کے ساتھ ہی وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔
قتیلہ نے تلوار کی نوک اس کی گردن سے لگاکر پوچھا۔”اب بتاﺅ غلطی پر کون ہے ؟“
کیدار کا چہرہ تکلیف سے مسخ ہو گیا تھا۔کراہیں روکنے کی کوشش میں اس کے منھ سے عجیب قسم کی ہونکنے کی آواز نکل رہی تھی۔
”میں نے کچھ پوچھا ہے۔“قتیلہ نے تلوار کی نوک پر زور دیا۔کیدار کی گردن سے بھی خون کی پتلی سی دھار نکلنے لگی تھی۔
بڑی مشکل سے اس کے ہونٹوں سے نکلا۔”ہم صلح کر سکتے ہیں۔“
”غلط فہمی ہے تمھاری۔اور پتا ہے تمھاری پہلی غلطی ہے قتیلہ کو چھیڑنا اور قتیلہ کو چھیڑنے والے کی پہلی غلطی ہی آخری غلطی ہوتی ہے۔“اس نے تلوار کی نوک کیدار کی گردن سے ہٹائی اور پھر دونوں ہاتھوں سے تلوار تھام کر زوردار انداز میں کیدار کی گردن پر چلا تے ہوئے کہا۔ ”نسر کی قسم یہ حقیقت ہے۔“
تیز دھار تلوار نے سر و دھڑ کو علاحدہ کرنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگائی تھی۔پھڑکتے جسم کا تماشا کرنے کے بجائے قُتیلہ نے اس کی تلوار اٹھا کر تعریفی نظروں سے دیکھا۔
”قتیلہ کو اپنے چاہنے والے کا تحفہ قبول ہے۔“وہ قیمتی تلوار کو نیام میں ڈال کر اپنی کمر سے باندھنے لگی۔
عقبی سوراخ سے حرام بن زراح نے جھانک کر کہا۔”سردار زادی ، تین چار آدمی جاگ گئے ہیں اور سردار کوآواز دے کر شور کی وجہ پوچھ رہے ہیں۔“
”نکلو۔“قُتیلہ سرعت سے باہر کی طرف بڑھ گئی تھی۔خیمے سے نکلتے ہی وہ جنوب کی طرف بھاگ پڑی۔ باقیوں نے اس کی تقلید کی تھی۔
چاندنی میں ان کے متحرک ہیولوں کو دیکھنا ناممکن نہیں تھا۔کوئی زور دار آواز میں چیخا۔
”بنو احمر والو،دشمن مزموم مقصد میں کامیابی کے بعد بھاگنے کی فکر میں ہے۔“
”پیچھا کرو ،نکلنے نہ پائیں۔“ایک دوسری آواز ابھری تھی۔
تیسری آواز میں زیادہ غیض بھرا تھا۔”لوگو ،بھاگنے نہ پائیں۔انھوں نے تمھارے سردار اور اس کی بیویوں کو قتل کر دیا ہے۔“
٭٭٭
بنو جساسہ میں میلے کا سمان تھا ارد گرد کے قبایل کے بھی سیکڑوں تماشائی وہاں جمع تھے۔دس قبایل کے سردار زادے ،بنو جساسہ کی سردارزادی بادیہ بنت شیبہ کے حصول کی چاہ میں بر سر پیکار ہونے والے تھے۔تمام جنگی لباس میں تیار کھڑے تھے۔سر پر خود (لوہے کی ٹوپی )بالائی بدن زرہ سے ڈھانپا ہوا، کلائیوں بازوﺅں ،کندھوں پر پیتل کے پترباندھے ہوئے ،ٹانگوں گھٹنوں اور پنڈلیوں پر موٹے چمڑے کے خول چڑھا کر انھوں نے اپنی حفاظت کا ململ انتظام کیا ہوا تھا۔
سردار شیبہ بن ثمامہ کے حکم پر صامت بن منبہ نے قرعہ اندازی کر کے امیدواروں کی جوڑیاں ترتیب دیں اور پہلی جوڑی مقابلے کے لیے میدان میں اتری۔بنو اخنف کا سردارزادہ محاسب بن فہر اور ہزیل بن شماس میدان میں اترے۔سردار شیبہ کے اشارے پر مقابلہ شروع ہوا۔دونوں جنگجو بائیں ہاتھ میں ڈھال اور دائیں میں تلوار تھامے ایک دوسرے کے قریب ہوئے ،تلواروں کے ٹکرانے کی آواز فضا میں بلند ہوئی اس کے ساتھ ہی تماشائیوں نے زور دار نعرہ بلند کیا تھا۔وہ مقابلہ تھوڑی دیر ہی جاری رہ سکا تھا۔ مضبوط تن و توش کے مالک ہزیل کی تلوار کا وار اپنی ڈھال پر سہار کرمحاسب نے جوابی وار وار کے لیے تلوار سیدھی ہی کی تھی کہ ہزیل کی طاقتور ٹانگ اس کی چھاتی سے ٹکرائی۔وہ چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے ہزیل نے تلوار کی نوک اس کی گردن سے لگا کر اسے مقابلے سے باہر کر دیا تھا۔
ہزیل اور بنو نوفل کے نام کے نعروں سے میدان گونج اٹھا تھا۔ محاسب خفیف سا ہو کر میدان سے باہر نکل گیا۔ہزیل بھی دونوں ہاتھ لہراتا ہوا اپنے قبیلے والے آدمیوں کے درمیان جا بیٹھا۔
دوسرا مقابلہ شروع ہوا جو مظمون بن قیس نے جیت لیا تھا۔ایک کے بعد ایک مقابلہ ہوتا گیا اور ہارنے والے باہر ہوتے گئے۔اس دوران دو تین لڑاکوں کو ہلکی پھلکی چوٹیں بھی آئی تھیں۔آخر میں بنو عدی کا قداءبن عتیبہ اور بنو نوفل کا ہزیل بن شماس باقی رہ گئے تھے۔چونکہ فریقین تھکے ہوئے تھے اس لیے آخری مقابلہ اگلے دن تک موّخر کر دیا گیا۔
دوسرے دن تماشائیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو ا تھا۔قدا ءبن عتیبہ اور ہزیل بن شماس دونوں ماہر لڑاکے اور شمشیر زن تھے۔دونوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا جو با لآخر ہزیل کی فتح پر اختتام پذیر ہوا تھا۔یشکر بھی تماشائیوں میں موجود تھا۔
”کیا میں اس فاتح سے دو دو ہاتھ کر سکتا ہوں۔“اس نے لکڑی کے تخت پر بیٹھے شریم سے پوچھا۔
”بے وقوفوں کی سی باتیں نہ کیا کرو یشکر۔“شریم نے اسے ہلکے لہجے میں ڈانٹا تاکہ سردار شیبہ تک وہ آواز نہ پہنچے جو ساتھ والے تخت پر بیٹھا تھا۔
یشکر منھ بنا کر خاموش ہو گیا تھا۔ہزیل ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں ڈھال اٹھا کر دونوں ہاتھ لہراتا ہوا سردار کے قریب پہنچا۔ شیبہ نے اس سے معانقہ کرتے ہوئے اس کی پیٹھ تھپکی اور جیتنے کی مبارک باد دی۔بنو نوفل ایک بڑا قبیلہ تھا اور اتنے بڑے قبیلے میں اپنی بیٹی بیاہ کر اس نے فخر ہی محسوس کرنا تھا۔
یشکر کینہ توز نظروں سے ہزیل کو دیکھتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔ اس کے دل کی عجیب حالت ہو رہی تھی۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اسی رات بادیہ اور ہزیل کا نکاح پڑھا دیا گیا تھا۔صبح ہزیل نے بادیہ کو لے کر بنو نوفل جانا تھا۔جشن رات گئے تک جاری رہا ۔اس دوران شراب کا دور چلتا رہا ، سالم اونٹ آگ پر بھون کر کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا ۔ ناچ گانے کا اہتمام خصوصیت سے کیا گیا تھا۔
لوگ ہنستے قہقہے لگاتے خوشی سے بے حال ہو رہے تھے اور یشکر انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔اس کی بادیہ کو ایک شخص صرف اس وجہ سے چھین کر لے جا رہا تھا کہ اس کا تعلق ایک بڑے قبیلے سے تھا اور وہ سردار کا بیٹا تھا۔اخیر شب محفلِ طرب اختتام پذیر ہوئی تب تک یشکر ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا۔ایسا فیصلہ جو عقل و خرد کے سراسرمنافی تھا۔
٭٭٭
قُتیلہ لومڑی کی طرح دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔عیلان اور اس کے ساتھی پوری کوشش کے باوجود اس کے ساتھ قدم نہیں ملا پا رہے تھے۔
”میرے پیچھے آﺅ۔“وہ ٹیلوں کے درمیانی خلا سے گزرنے کے بجائے ٹیلے کے اوپر چڑھنے لگی۔بیس پچیس گز اونچے ٹیلے پر بھاگ کر چڑھنے کی وجہ سے ان سانس پھول گئے تھے۔
”پہلے ان کی پیش قدمی کو روکنا ہو گا ورنہ وہ سر پر چڑھ آئیں گے۔“ٹیلے پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے ترکش سے تیر نکال کر چلّے میں جوڑا اورتعاقب میں آنے والوں کی طرف چلا دیا۔ اس کے ہاتھ بجلی کی سی سرعت سے چل رہے تھے۔عیلان اور اس کے ساتھیوں نے بھی دشمن کی جانب تیر چلانے شروع کر دیے۔دشمن چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو آڑ لینے کا کہنے لگے۔خیموں اور جھونپڑیوں کے شہر میں زندگی مسلسل متحرک ہوتی جا رہی تھی۔ ان کی پیش قدمی میں ٹھہراﺅ آتے دیکھ کر قُتیلہ ،عیلان کو مخاطب ہوئی۔
”تم لوگ انھیں روک کر رکھو میں گھوڑوں کی رسی کھول کر تمھیں آواز دیتی ہوں۔“ان کے جواب کا انتظار کیے بغیروہ سرعت سے نیچے اترنے لگی۔ وہ چاروں تیزی سے تیر چلا رہے تھے۔بنو احمر کے سوئے ہوئے لو گ بتدریج جاگ کر حملہ آوروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہے تھے۔
ٹیلے سے اترتے ہی قُتیلہ نے تمام گھوڑوں کی رسی کھولی اور اپنے گھوڑے کی لگام تھام کر اس نے باقی گھوڑوں کے کولہوں میں تلوار کی نوک چبھو کر انھیں ہراساں کر کے بھگا دیا۔تکلیف کی شدت سے بے قابو ہو کر گھوڑے سرپٹ دوڑ پڑے تھے۔تمام گھوڑوں کو بھگاتے ہی وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اس نے زور سے آواز دی ….
”عیلان بن عبسہ ،کوشش کرنا کہ دشمن کے ہاتھ زندہ نہ لگو ورنہ مانگنے پر بھی موت نہیں ملے گی۔اورتم نے سن تو لیا ہو گا کہ قتیلہ کو چھیڑنے والے کی پہلی غلطی ہی آخری غلطی ہوتی ہے۔آج تمھیں یقین آجائے گا۔“عیلان بن عبسہ اور اس کے ساتھیوں کی سماعتوں میں زہر گھول کر اس نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور اڑن چھو ہو گئی۔
عیلان بن عبسہ اور اس کے ساتھیوں کو چند لمحے تک تو سمجھ میں ہی نہیں آیا تھا کہ وہ کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔حالات کا ادراک ہوتے ہی وہ ایک دو سرے کو ذمہ دار ٹھہرانے لگے تھے۔
”تمھیں بہت شوق تھا اس کے شباب سے کھیلنے کا ،مل گیا صلہ ؟“حرام بن زراح نے سارا ملبہ عیلان بن عبسہ پر پھینکا۔
”یہ مستی تو تمھیں بھی چڑھی تھی۔“عیلان کہاں خاموش رہنے والا تھا۔
عافد بن مرسع نے انھیں لڑنے سے روکا۔”اب ایک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے موجودہ صورت حال سے نکلنے کاکوئی طریقہ سوچو۔تف ہے ہم پر کہ ایک چھوٹی سے چھوکری ہمیں الو بنا کر چلی گئی ہے۔“
اخلد بن احمر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔”اگر بچ گیا تو میں اس کے ساتھ ایسا سلوک کروں گا کہ کسی کو بتا بھی نہیں سکے گی۔“
حرام طنزیہ انداز میں ہنسا۔” بچ گئے تو؟“
عافد نے کہا۔”اب اس حرام زادی کو کوسنے کے بجائے بھاگنے کی تدبیر سوچو۔“
”اس نے گھوڑوں کو بھگا دیا ہے ورنہ بھاگ نکلنا اتنا مشکل نہیں تھا۔“عیلان بن عبسہ نے بے بسی ظاہر کی۔
اچانک ہی سامنے سے تیروں کی بوچھاڑ آئی۔”شاں ….شاں۔“کر کے تیر ان کے سروں پر سے گزر گئے تھے۔وہ فوراََچھاتی کے بل ٹیلے پر لیٹ گئے۔
”اگر یہاں لیٹے رہے تو دھر لیے جائیں گے۔“عافد نے اندیشہ ظاہر کیا۔
”چلو بھاگو۔“عیلان بن عبسہ نے نیچے کی طرف دوڑ لگا دی۔باقی تینوں اس کے ہمراہ ہی تھے۔وہ بہ مشکل ٹیلے کی تہہ میں پہنچے ہی تھے کہ ٹیلوں کے درمیانی خلا سے دس بارہ آدمی برآمد ہوئے۔ یقینا وہ انھیں گھیرنے کی کوشش میں تھے۔
”بائیں طرف۔“عیلان نے ساتھیوں کو رخ تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے خود بھی ادھر کا رخ کیا۔بنو احمر والوں نے بھی انھیں دیکھ لیا تھا۔
”وہ رہے۔“ایک بندہ زور سے چیخا۔
”جانے نہ پائیں۔“ایک دوسری آواز ابھری۔عیلان بن عبسہ اور اس کے ساتھیوں کی ٹانگوں میں بجلی بھر گئی تھی ،لیکن یقینا ان کی بد قسمتی عروج پر تھی کہ ایک دم سامنے کی جانب سے بنو احمر کے آدمیوں کی ایک اور پارٹی نمودار ہوئی ان کے بھاگنے کے رستے مسدود ہو گئے تھے۔عیلان بن عبسہ کے دماغ میں قتیلہ کی آواز گونجی۔”کوشش کرنا کہ دشمن کے ہاتھ زندہ نہ لگو ورنہ مانگنے پر بھی موت نہیں ملے گی۔“عیلان بن عبسہ اور اس کے ساتھیوں کو معلوم تھا زندہ دشمن کے ہاتھ لگنے کا مطلب کیا تھا۔اس لیے انھوں نے ہتھیار ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔اس نے فوراََ تلوار نکالی ،اس کی دیکھا دیکھی اس کے ساتھیوں نے بھی تلواریں بے نیام کر لی تھیں اگلے ہی لمحے وہاں جنگ چھڑ گئی تھی۔ یہ اور بات کہ چار اور بیس کا کوئی جوڑ نہیں تھا۔بنو احمر کے بپھرے ہوئے آدمیوں نے چند لمحوں میں ان کے پر خچے اڑا کر رکھ دیے تھے۔ قتیلہ سے بدلہ لینے کی خواہش سینوں میں دبائے وہ انجام کو پہنچ گئے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: