Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 15

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 15

–**–**–

دہ ہزاری کمان دار بہروز سکندر کے بلاوے پرحاضر ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہی سکندر کے پہلو میں بیٹھ کر مئے نوشی کرتے بہرام کو دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔
”آﺅ بہروز، بیٹھو۔“سکندر نے اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔
”شکریہ۔“کہتے ہوئے اس نے نشست سنبھال لی۔
چاندی کے پیالے میں ارغوانی مشروب انڈیل کر سکندر نے پیالہ اس کی جانب کھسکاتے ہوئے کہا۔”آپ کو اس وقت خداوند فارس کا حکم سنانے کے لیے زحمت دی ہے۔“
بادشاہ کا ذکر آتے ہی بہروز چوکنا ہوتے ہوئے متوجہ ہو گیا تھا۔ سکندر کی بات جاری رہی۔ ”حضور والا نے سبرینہ خانم کی شادی ،بارہ ہزاری کمان دار بہرام سے طے کر دی ہے ،کل دربار میں یہ شادی سرانجام پائے گی۔آ پ کے پاس تیاری کے لیے آج کی رات ہے۔“
”جج….جی حضور۔“بہروز حیرت سے گنگ ہو گیا تھا۔
”یقینا آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ بہرام نے خداوند فارس کے سب سے بڑے دشمن کو کیفر کردار تک پہنچا دیا ہے۔بدلے میں اسے بارہ ہزاری کمان داری کااعزازی عہدہ ملا ہے۔“
بہروز نے حیرت کے ابتدائی جھٹکے سے نکلتے ہوئے کہا۔”خداوند فارس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مجھے خوشی ہو گی۔“یہ کہہ کر وہ بہرام کی طرف متوجہ ہوا۔”مبارک ہو جناب بہرام صاحب ،یقینا میری بیٹی کی خوش نصیبی ہے کہ اسے بارہ ہزاری کمان دار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔“
”میری خوش قسمتی کہ مجھے سبرینہ خانم جیسی اعلانسب خاتون سے شادی کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔بس ایک درخواست کرنا تھی کہ میں یہ خوش خبری انھیں خود سنانا چاہتا ہوں۔“
بہروز فراخ دلی سے بولا۔”جب خداوند فارس نے یہ شادی طے کر دی ہے تواب اسے آپ کی بیوی بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔اور اپنی بیوی سے ملنے کے لیے آپ کو میری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔“
بہرام نے اجازت طلب نظروں سے سکندر کی طرف دیکھا۔اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے دی تھی۔بہرام نے فرط مسرت سے بے قابو ہو کر سکندر کے ہاتھ کو پکڑ کر بوسا دیا اور اس کے شبستان سے باہر نکل آیا۔سکندر اور بہروز وہیں بیٹھے رہے۔سکندر، بہروز کو تفصیل بتانے لگا کہ کس طرح بہرام نے رومن شہنشاہ کو ٹھکانے لگایا۔
بہرام کا رخ بہروز کی حویلی کی طرف تھا۔طیسفون کو دوبارہ حاصل کرنے کے بعد بہروز اور سکندر اپنے محلے واپس نہیں جا سکے تھے۔دونوں نے شاہی محل کے مضافات ہی میں عہدہ داران کے لیے بنی ہوئی رہایش گاہوں میں اپنا مسکن بنا لیا تھا۔
بہرام خوشی سے اچھلتاہوا دو منزلہ عمارت کے قریب پہنچا۔دروازے پر کھڑے پہرہ داروں نے اس سے کوئی تعرض نہیں کیا تھا کیوں کہ بہروز کے تمام محافظ اسے سبرینہ کے محافظ کے طور پر پہچانتے تھے۔حویلی کے صحن میں جا بہ بجا قندیلیں روشن تھیں۔ ان کی پراسرار روشنی نے ماحول کو سحر زدہ کردیا تھا۔ برآمدے سے ہو کر وہ ایک وسیع ہال میں پہنچا اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا دوسری منزل پر پہنچا۔بہروز کے کمرے کے سامنے دو محافظ کھڑے تھے۔ان کے قریب سے گزر کر وہ سبرینہ کی خواب گاہ کے سامنے پہنچا اور دستک دیے بغیر دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔دروازہ بے آواز کھلتا چلا گیاتھا۔پر تعیش خواب گاہ کے درمیان میں ایک خوب صورت مسہری رکھی تھی۔ وہ گاﺅ تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی جبکہ دو باندیاں اس کا جسم دبا رہی تھیں۔بہرام کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
”آپ۔“وہ جلدی سے مسہری سے نیچے اتری ،اس کے ساتھ ہی اس نے ہاتھ کے اشارے سے باندیوں کو جانے کا اشارہ کیا۔دونوںسرعت سے باہر نکل گئی تھیں۔ سبرینہ کی خوب صورت آنکھوں کی روشنی سوا ہو گئی تھی۔ وہ محویت و وارفتگی سے بہرام کو گھور رہی تھی۔
بہرام نے قریب ہو کر اس کے ملائم ہاتھوں سے تھاما۔”سبرینہ خانم کا محافظ کامیاب لوٹا ہے۔“
”کیا ….سچ۔“وہ خوشی سے چیخ پڑی تھی۔”کیا آپ نے رومن حکمران کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔“
بہرام نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اس نے فرطِ مسرت سے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔”مم….مجھے یقین نہیں آرہا ،کیا بادشاہ سلامت تک بات پہنچ گئی ہے۔“
”بات بہت آگے تک پہنچ گئی ہے میری خانم۔“بہرام نے اس کے ہاتھوں کو ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا۔”تمھارا محافظ اب بارہ ہزاری کمان دار ہے۔ملکہ عالیہ نے یہ قیمتی ہار تحفے میں دیا ہے۔“ اس نے جیب سے قیمتی موتیوں کا ہار نکال کر سبرینہ کے گلے میں ڈال دیا۔
”اور ….اور کچھ نہیں۔“وہ بے صبری سے مستفسر ہوئی۔
”اور یہ کہ خداوند فارس کے حکم پر کل ہماری شادی ہو رہی ہے۔“
”مجھے کچھ ہو جائے گا۔“سبرینہ نے گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے خوشی ہضم کرنے کی کوشش کی۔
”یہ سچ ہے میری خانم ،تمھارے پدرِ محترم ابھی جناب سکندر کے حضور موجود ہیں اور میں انھی کی اجازت سے اپنی ہونے والی بیوی کو ملنے آیا ہوں۔“
سرینہ کی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔بہرام مجھے یقین دلاﺅ کہ میں سپنا نہیں دیکھ رہی۔“
”ہاں ہم سپنا نہیں دیکھ رہے خانم ،تم ازل سے میری مقدر میں لکھ دی گئی تھیں بس مقررہ وقت کا انتظار کرنا تھا۔“چاہت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ سبرینہ کو ساتھ لیے مسہری پر بیٹھ گیا تھا۔ اور سبرینہ نے خوشی سے سرشار ہو کر اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
٭٭٭
جشن کے اختتام پر جس کو جہاں جگہ ملی تھی وہ لیٹ گیا تھا۔بنونوفل کے سردار زادے کے آرام کے لیے ایک حویلی مخصوص کی گئی تھی۔اگلے دن اس نے بادیہ کو ساتھ لے کر جانا تھا۔جشن میں وہ خوب مئے نوشی کر چکا تھا۔رات گئے وہ لڑکھڑاتا ہوا اپنے لیے مخصوص خواب گاہ میں پہنچا اور نرم بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ رات آہستہ آہستہ اختتام کو سرک رہی تھی۔ساز باجے کے شور و غل کے بعد چھا جانے والی خاموشی نے ماحول پر مایوسی طاری کر دی تھی۔دور کہیں گیدڑوں کی ”ہکو ہو“ کی منحوس آوازیں ایک تسلسل سے آرہی تھیں۔ کتوں کے بھونکنے کی آواز بھی گیدڑوں کی آواز کے ساتھ شامل ہو گئی تھی۔ایک لمبے قد اور مضبوط بدن کا شخص گھوڑے کی لگام تھامے دھیمی رفتار سے چلتا ہوا اس حویلی کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں ہزیل قیام پذیر تھا۔حویلی کے سامنے رک کر اس نے اطراف کا جائزہ لیا اور پھر گھوڑے کی پیٹھ پر کھڑے ہو کر اس نے دیوار عبور کی اور اندر گھس گیا۔اس نے اطمینان سے حویلی کا دروازہ کھولا اور گھوڑے کو اندر لے گیا۔اس کے انداز سے لگ رہا تھا حویلی اس کی دیکھی بھالی ہے۔برآمدے کے سامنے گھوڑا کھڑا کر کے وہ ایک کمرے میں داخل ہوا سامنے لمبا تڑنگا ہزیل بستر پر آڑا ترچھا پڑا تھا۔قریب جا کر اس نے ہزیل کی گردن کی رگ کو پکڑ کر زور سے مسلا۔ہزیل نے ہلکا سا تڑپ کر ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے تھے۔ اس جوان نے ہزیل کو کندھے پر اٹھا یا اوربستر کے سرہانے کھڑی اس کی تلوار بھی اٹھا لی۔کمرے سے نکل کر برآمدے کو عبور کرتا ہوا وہ صحن میں کھڑے گھوڑے کے قریب آیا۔ہزیل کو کندھے سے اتار کر اس نے گھوڑے پر لادا اور اطمینان بھرے انداز میں چلتا ہوا حویلی سے نکل آیا۔ اس کا رخ جنوب مشرق کی طرف تھا۔ایک ادھ فرسخ چلنے کے بعد اس نے گھوڑا ایک ہموار جگہ پر روکا ،ہزیل کو گھوڑے سے نیچے اتار کر اس نے ریت پر لٹایا اور اسے چند قدم کے فاصلے پر خود بھی بیٹھ گیا۔اپنی کمر سے باندھی تلوار کھول کر اس نے گود میں رکھ لی تھی۔ وہ کافی دیر بیٹھا رہا ، رات کی سیاہی ملگجے اجالے میں تبدیل ہوئی۔وہ جوان اطمینان سے بیٹھا رہا گویا اس کا مقصدفقط ہزیل کو وہاں تک لانا تھا۔ وہ ایک چوڑی وادی تھی۔وادی کے کناروں کے ساتھ گھاس اگی ہوئی تھی۔اجالا ہوتے ہی گھوڑا گھاس پر منھ مارنے لگا۔طلوع آفتاب سے چند لمحے پہلے وہ اٹھ کر گھوڑے کے قریب ہوا اور زین سے بندھی چھاگل کھول کر منھ سے لگا لی۔تین چار بڑے گھونٹ لے کر اس نے چلو بھرمشروب ہزیل کے چہرے پر انڈیل دیا۔ہزیل کے بدن میں ہلکی سی حرکت پیدا ہوئی اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔چند لمحے وہ غائب دماغی کی کیفیت میں لیٹا رہا اور پھر ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔خود کو بستر کے بجائے ریت پر لیٹادیکھ کر وہ ششد ر رہ گیا تھا۔
” میں کہاں ہوں ؟“اطراف کا جائزہ لے کر اس کی نظروں جوان پر آ ٹکیں۔
جوا ن اطمینان سے بولا۔”یہ جان کاری تمھارے کسی کام کی نہیں ہے۔“
”تم شریم بن ثمامہ کے لے پالک بیٹے ہو نا ؟“
وہ جوان جو یقینا یشکر تھا بے نیازی سے سر ہلایا۔ ”بے مقصد سوال ہے۔“
”مجھے یہاں کیوں لائے ہو ؟“ہزیل کے سوالا ت جاری رہے۔
”یہ مطلب کی بات پوچھی ہے۔ مختصر جواب ہے تمھیں قتل کرنے کے لیے اور تفصیلی جواب ہے بادیہ میرے علاوہ جس کے نام سے بھی موسوم ہوگی اسے نزع کی اذیت وقت سے پہلے جھیلنا پڑے گی۔“
”تمھاری یہ جرّات کہ ایک غلام ہو کر میری بیوی کا نام زبان پر لاﺅ۔“ہزیل بھڑک اٹھا تھا۔
”تھوڑی دیربعد لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ بادیہ ،ہزیل کی منکوحہ تھی۔“یشکر کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔
”یقینا تم مرنے کے لےے بے صبر تھے کہ مجھے یہاں لے آئے۔“
یشکر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے تصحیح کی۔”نہیں مارنے کے لےے،مرنا ہوتا تو اتنی دور نہ لاتا۔“
”ہا….ہا….ہا….“ہزیل نے قہقہ لگایا۔”میرا تو مرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔“
”کسی کا بھی نہیں ہوتا۔مگر مرنا پڑتا ہے۔“یشکر کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔
”تم نہیں جانتے تمھاری یہ حرکت کیا رنگ لائے گی۔“اس نے یشکر کو ڈرایا۔
” تھوڑی سی شراب پی لو تاکہ تمھارا بدن چست ہو جائے۔“ آخری گھونٹ بھر کر یشکر نے مشکیزہ اس کی جانب اچھال دیا۔اس کی بات کا جواب دینے کی زحمت اس نے نہیں کی تھی۔
مشکیزہ تھامتے ہوئے ہزیل نے ہونٹوں سے لگایااور سارا مشروب معدے میں انڈیل کر خالی مشکیزہ ایک جانب پھینک دیا۔
یشکر صاعقہ کو بے نیام کر کے نیام کو گول لپیٹ کر ڈھال کی شکل دینے لگا۔
”جوان ،سوچ لو تم ہزیل بن شماس کو مقابلے کی دعوت دے رہے ہو ،یہ نہ ہو بعد میں پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے۔“
”دل کے معاملات میں سوچنے والے گھاٹے میں رہتے ہیں۔“
”سنا تھا چھوٹے لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ،آج دیکھ بھی لیا۔“
یشکر مسکرایا۔”غلط سنا تھا۔بڑی باتیں وہ کرتے ہےں جو کچھ بڑا کرنا چاہتے ہوں۔“
”ویسے تمھارا حوصلہ ،جرا¿ت اور بہادری سرداروں جیسی ہے۔“ہزیل نے اسے سراہنے میں بخل نہیں برتا تھا۔
”یہ بھی غلط ہے۔“یشکر اس کی ہر بات جھٹلانے پر تلا تھا۔”سرداروں کا حوصلہ ،جرا¿ت اور بہادری یشکر جیسی ہوتی ہے۔“
”مجھے تمھاری موت پر ہمیشہ افسوس رہے گا۔“ہزیل تلوار سونت کر آگے بڑھا۔
یشکر نے صاعقہ دستے پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا۔”مجھے بھی ہوتا اگر تم نے بادیہ سے نکاح نہ کیا ہوتا۔“
”بیوقوف ،وہ تمھیں کبھی نہیں مل سکتی۔“ہزیل نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”پھر وہ کسی کوبھی نہیں ملے گی۔یہ یشکر کا عہد ہے اور یشکر عہد نبھانا جانتا ہے۔“
” تمھیں یہ غلط فہمی کیوں کرہے ،کہ مجھے شکست د ے لو گے۔“ہزیل آخری لمحے تک اس بے وقوف نوجوان کو سمجھانے کی کوشش میں تھا۔
”یقینا وقت ضائع کر رہے ہو ، میری غلط فہمی ختم کرنے کے لےے تمھاے پاس تلوار موجود ہے، اگر خالی ہاتھ لڑنا چاہوتب بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔مگر جیتنے والا بہ ہرحال قتل کرنے کا اختیار رکھتاہے۔“
موّخر الذکر فقرے نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ہزیل نے بھڑک کر حملہ کر دیا۔
اس کاوار اپنی تلوار پر سہارتے ہوئے یشکر ایک قدم پیچھے ہٹا۔ہزیل ایک بہترین شمشیرزن تھا۔اگر اچھا نہ ہوتا توتمام قبائل کے سرداروں کو شکست نہ دے پاتا۔مگربد قسمتی سے وہ اس وقت یشکر کے سامنے تھا۔
تلواروں کے ٹکرانے پر چھن چھناہٹ کی آواز سے فضا گونج اٹھی تھی۔پینترا بدلتے ہوئے ہزیل نے دوبارہ ہاتھ گھمایا ،مگر یشکر نے جھکائی دے کر اس کا وار خطا کر دیا۔اچھے تن و توش اور مضبوط جسمامت کی وجہ سے یشکر بھرپور مرد نظر آتا تھا مگر چہرے سے ہویدا نرمی اس کی کم عمری کا مظہر تھی اور یہی بات ہزیل کے غضب کو بڑھاوا دے رہی تھی۔اگلا وار اس نے تلوار کو سر سے اوپر اٹھا کر نیچے لاتے ہوئے کیا تھا۔اس کا یہ وار یشکر نے ڈھال پر روکااس کے ساتھ ہی تیز دھار صاعقہ ہزیل کے پیٹ کی طرف بڑھی ،ہزیل نے بروقت ڈھال سامنے کر کے بہ مشکل یشکر کا وار روکاتھا۔دونوں شمشیرزن ایک قدم پیچھے لے کر دوبارہ آگے بڑھے ،تلواریں ٹکرائیں اس کے ساتھ ہی ہزیل نے اپنی ٹانگ لہرا کی یشکر کی چھاتی میں مارنے کی کوشش کی مگر یشکر اچھل کر ایک طرف ہٹ گیا۔ہزیل لڑکھڑا گیا تھا۔اس کے توازن بگڑنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یشکر نے وار کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔ہزیل نے بالکل آخری وقت میں ڈھال ،صاعقہ کے سامنے تھام کر اپنا پیٹ زخمی ہونے سے بچایا تھا۔تلوار کا وار خطا جاتے دیکھ کر یشکر نے ہزیل کے پہلو میں زور دار ٹھوکر رسید کی ،یشکر کے وار سے ہزیل نہیں بچ سکا تھا۔اس کے جسم کا توازن پہلے سے غیرمتوازن ہوا تھا ،یشکر کی ٹھوکر کھا کر وہ نیچے گر گیا تھا۔نیچے گرتے اس نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل دو تین کروٹیں لیں اور اچھل کر کھڑا ہو گیا۔یہ دیکھ کر اس کی حیرانی کی انتہا نہیں رہی تھی کہ یشکر نے اس کے گرنے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
یشکر نے طلوع ہوتے سورج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں کہا۔”ابھرنے والے کی قسم ،تمھیں آج ڈوبنا ہی ہوگا۔“
ہزیل نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔”مجھے بھی ہبل کی قسم رعایت نہیں برتوں گا۔“یہ کہہ کر وہ یشکر پر ٹوٹ پڑا تھا ،مگر یشکر کو چوٹ پہنچانے کی حسرت اس کے دل ہی میں رہی تھی ،مقابلہ زیادہ دیر جاری نہیں رہا تھا۔دو تین بار تلواریں ایک دوسرے سے ٹکرائیں اور پھر ایک دم یشکر نے ہزیل کی تلوار کے سامنے ڈھال پکڑی اور ایک دم نیچے جھک کر صاعقہ کا زوردار وار ہزیل کی ران پر کیا ،تلوار گہرا شگاف ڈالتے ہوئے اس کی ہڈی تک پہنچ گئی تھی۔
ہزیل کے منھ سے تیز کراہ خارج ہوئی اور وہ دونوں ٹانگوں پر کھڑا نہیں رہ سکا تھا۔یشکر نے پاﺅں کی ٹھوکر سے اس کی تلوار دور پھینکی اور صاعقہ کی نوک اس کی چھاتی پر ٹیک دی۔
ہزیل نے بے بسی سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔
یشکر نے کہا۔”لگتا ہے میری جیت بری لگی۔“
ہزیل نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،صرف اپنی ہارکا غم ہے۔“
”یہ غم صرف ایک صورت ہی میں ختم ہوسکتا ہے کہ تم باقی نہ رہو۔اور خوش ہو جاﺅ کہ میں تمھارے غم کا خاتمہ کرنے لگا ہوں۔“
ہزیل کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ ابھری۔”یاد رکھنا بادیہ تمھیں پھر بھی نہیں ملے گی۔“
یشکر نے پوچھا۔”کوئی آخری خواہش۔“
”میری لاش ،ورثا کے حوالے کر دینا ،میں نہیں چاہتا کہ میری لاش ابن آویٰ کی خوراک بنے۔“
”ضرور۔“یہ کہتے ہی یشکر نے ایک دم صاعقہ کواس کے دل میں گھونپ دیا۔ہزیل اذیت بھرے انداز میں ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا تھا۔دو تین لمحوں بعد اس کا جسم ساکن ہو گیا تھا۔یشکر نے بادیہ کے حصول کے لیے بنو نوفل جیسے قبیلے کے سردار زادے کو قتل کر دیا تھا۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا انجام آخر کیا ہو گا۔
٭٭٭
طلوع آفتاب قُتیلہ کو رستے ہی میں ہوا تھا۔مغربی جانب سے چکر کاٹتے ہوئے وہ قبیلے کے جنوب میں پہنچی حفظِ ماتقدم کے طور پر اس نے دو تین تیتر بھی شکار کیے تھے تاکہ دیکھنے والے یہی سمجھیں کہ وہ صبح دم شکار کے لیے گئی تھی۔تقدیر کا مارا ایک ہرن بھی اس کے سامنے چڑھ گیا تھا۔قُتیلہ اور ہرن کو جانے دیتی یہ ممکن ہی نہیں تھا۔یوں تیتر اور ہرن اس کے پکے گواہ بن گئے تھے۔ وہ گھوڑے کو دُلکی چال میں بھگاتے ہوئے قبیلے میں داخل ہوئی۔سب سے پہلے اسے بوڑھا قیس بن شمس نظر آیا تھا۔
”چچا قیس آج کچھ زیادہ ہی بوڑھے نظر آرہے ہو۔“عام حالات میں وہ کسی کے ساتھ اتنا بے تکلف نہیں ہوتی تھی لیکن آج کچھ اور بات تھی۔
قیس بن شمس ہنسا۔”سردارزادی کے تازہ شباب کے سامنے ہم نے زیادہ بوڑھا تو نظر آنا ہے۔“
”لیں پھر تیتر بھون کر کھائیں تاکہ کمزوری دور ہو۔“قُتیلہ نے ذبح کیا ہوا ایک تیتر قیس بن شمس کی جانب اچھال دیا۔
قیس ممنونیت سے بولا۔”شکریہ سردار زادی۔“اور وہ سرہلاتی ہوئی اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی۔رستے اسے دو تین اور آدمی بھی ملے تھے ان سے بھی علک سلیک کر کے اس نے گھوڑے کو اس کی مخصوص جگہ پر باندھا اور خود ہرن اٹھائے اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی۔
اسے دیکھتے ہی عریسہ نے خفگی بھرے لہجے میں پوچھا۔”تم نے پوری رات باہر گزار دی۔“
”نہیں ،طلوع آفتاب سے تھوڑی دیر پہلے شکار کی غرض سے نکلی تھی۔“
”جھوٹ نہ بولا کرو۔“
”جھوٹ نہیں بول رہی ماں جی۔“ہرن اور تیتروں کو خیمے کے فرش پر پھینکتے ہوئے وہ عریسہ سے لپٹ گئی تھی۔
”جانتی ہو جوان لڑکی کا پوری رات گھر سے باہر رہنا کتنی نازیبا بات ہے۔“قُتیلہ کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے پیار بھرے انداز میں سمجھایا۔
”قُتیلہ اپنی حفاظت کرنا جانتی ہے ماں جی۔اور اب تیتر بھون کر مجھے اپنے ہاتھوںسے کھلائیں۔باقی ابوجان کو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ قُتیلہ رات بھر غائب تھی۔“
”پتا نہیں کیا کرتی پھرتی ہے۔“اس کے گال پر ہلکی سے چپت لگا کر عریسہ نے زمین پر پڑے تیتر اٹھائے اور خیمے سے باہر بنے ہوئے مٹی کے چولھے کی طرف بڑھ گئی۔قُتیلہ مسکراتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی تھی۔
٭٭٭
بنو جساسہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔بنو نوفل کا سردارزادہ جس نے بادیہ کو دلھن بنا کر لے جانا تھا اب اس کی لاش ہی اپنے آدمیوں کی معیت میں واپس جا رہی تھی۔پورا قبیلہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔ یشکر نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہزیل کے قتل کا اقرار کرلیا تھا۔
جونھی شریم تک یہ خبر پہنچی وہ حواس باختہ سا یشکر کے پاس پہنچا تھا۔
”کیا مجھ تک پہنچنے والی خبر حقیقت ہے۔“
”نامعلوم آپ تک کون سی خبر پہنچی ہے ،حقیقت تو بس اتنی ہے کہ میں نے بنو نوفل کے سردارزادے کو لڑائی کی دعوت دی جو اس نے قبول کی اور لڑتے ہوئے مارا گیا۔“
”افف….مجھے تم سے اس حماقت کی توقع نہیں تھی۔“شریم سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔
شاید کچھ غلط کر بیٹھا ہوں۔“یشکر کے لہجے میں پریشانی نمودار ہوئی۔
”شاید نہیںبیوقوف ،یقینا کہو۔تم غلط نہیں بہت غلط کر بیٹھے ہو۔“شریم نے اسے جھڑکا۔
”تو کیا کرتا۔“یشکر جھنجلا گیا۔
”یہ نہ کرتے ،جو کر چکے ہو۔“
”پھر وہ بادیہ کو لے جاتا۔“
”پہلے وہ اکیلا لے جاتا ،اب پورا قبیلہ اسے لینے آئے گا۔پہلے اس نے دلہن بن کر جانا تھا اب وہ لونڈی بن کر جائے گی۔“
”مطلب مجھے کافی لاشیں گرانا پڑیں گی۔“یشکر نے خود کلامی کی۔
”یشکر ،پانچ دس کی بات نہیں ہے۔پورا قبیلہ حملہ آور ہو گا۔اور اسے روکنا ہمارے قبیلے کے بس سے باہر ہے۔تم اکیلے کیا کر لو گے۔“
”میری زندگی میں وہ بادیہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔“
”تمھیں تو انھوں نے یوں بھی زندہ نہیں چھوڑنا۔“
”مناسب یہی ہے کہ آپ مجھے ان کے حوالے کر دیں۔“
”تمھارے ساتھ وہ بادیہ کا مطالبہ بھی کریں گے۔اور وہ بھی لونڈی کی حیثیت سے۔“
”یہ ناممکن ہے۔“
شریم نے پریشانی سے گردن ہلائی۔”ایک سردار زادے کا غلام کے ہاتھوں قتل اس سے بھی ناممکن بات ہے۔“
یشکر نے احتجاج کیا۔”میں اب غلام نہیں رہا۔“
”پہلے تو تھے۔“شریم نے یاد دہانی کرائی۔
”پہلے تو بچہ بھی تھااور بچوں سے غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں۔“
”تمھیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ تم پورے قبیلے کو کس مصیبت میں ڈال چکے ہو۔“
”میں مجبور تھا۔میں بادیہ کا کسی اور ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔“
”کسی ایک کا ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے اب کئیوں کا ہوتا دیکھو گے۔“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے شریم گھر سے باہر نکل گیا۔
وتینہ دوسرے حجرے میں کان لگائے ان کی باتیں سن رہی تھی۔باپ کے جاتے ہی وہ یشکر کے پاس پہنچ گئی۔
”لگتا ہے بات بگڑ گئی ہے۔ابو جان کافی پریشان نظر آرہے تھے۔“
”وہ لڑتے ہوئے مارا گیا ہے وتینہ ،میں نے اسے دھوکے سے تو قتل نہیں کیا۔“
”جانتی ہوں میرا بھائی بہت بہادر ہے۔“
”بادیہ کا رد عمل کیا ہے ؟“یشکر کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔
”اسے کوئی خاص پرواہ نہیں ہو گی۔شادی میں اس کی مرضی شامل نہیں تھی۔“
”سردار تو بہت غصے میں ہے۔“
وتینہ بولی۔”وقتی غصہ ہے ،جیسے ہی بنو نوفل سے صلح صفائی ہو ئی ان کا غصہ اتر جائے گا۔بلکہ میں تو کہتی ہوں ثانیہ باجی کی طرف چلتے ہیں۔وہاں چند دن گزار یں گے اس اثناءمیں یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔“
یشکر نے نفی میں سر ہلایا۔”سردار مجھے قبیلے سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔“
”کیوں ؟“
”کیوں کہ اس سب کا ذمہ دار میں ہوں۔“
وتینہ بولی۔”میں ابو جان سے بات کرتی ہوں۔“
”نہیں ،تم بس بادیہ کی سن گن لو ،کیا وہ مجھ پر غصے ہے کہ نہیں۔“
وتینہ مسکرائی۔”آپ اتنے بہادر ہیںبھائی اور ایک لڑکی سے ڈر رہے ہیں۔“
یشکر نے منھ بنایا۔”جو کام بتایا ہے نا وہ کرو۔“
”اچھا بھائی خفا نہ ہوں میں ابھی اس کے پاس جاتی ہوں۔“وتینہ اسے تسلی دیتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
سبرینہ اور بہرام کی شادی کی تقریب کے دوران ہی سابور ذوالاکتاف کو سپہ سالار کی طرف سے رومن بادشاہ کی موت کا تصدیقی سندیسہ مل گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی اسے رومن افواج کی پیش قدمی کی اطلاع بھی مل گئی تھی۔شادی کی تقریب کو جلدی جلدی نمٹا کر سابور نے اپنے محافظ دستے کو تیاری کا حکم دے دیا۔اس کا ارادہ محاذ پر جانے کا تھا۔صبح کا انتظار کیے بغیر وہ سہ پہر ڈھلے طیسفون سے نکل آیا تھا۔اس کے ہمراہ ذاتی محافظ دستے کے علاوہ دو تین ہزار اور گھڑ سوار موجود تھے۔اس کا رخ اصفہان و اہواز کے درمیان خیمہ زن لشکر کی طرف تھا۔ انھوں نے ساری رات سفر کیا اورطلوع آفتاب کے کافی دیر بعد ایک شاداب وادی میں پڑاﺅ ڈالا تھا۔ سہ پہر ڈھلے وہ دوبارہ عازم سفر ہوئے۔
تیسرے دن سابور کو رستے ہی میں اپنے سپہ سالار کا قاصد ملا جو رومن لشکر کے فرار کی خبر لایا تھا۔ سابور نے وہیں پڑاﺅ ڈالا اور بقیہ لشکر کو بغیر کسی تاخیر کے اپنے پاس بلا لیا۔لشکر نے وہاں تک پہنچنے میں دو تین دن لگا دیے تھے۔بقیہ لشکر کے پہنچتے ہی وہ تیز رفتاری سے دشمن کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔
رومن لشکر کردستان کی طرف راہ فرار اختیار کیے ہوئے تھا۔ایرانی لشکر نے سمرہ کے قریب انھیں جا لیا تھا۔رومن لشکر نے ایرانی سپاہ کو دیکھتے ہی جلدی سی صف بندی کی کوشش کی لیکن ایرانی لشکر نے انھیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا تھا۔سابور چنگھاڑتا ،نعرے لگاتا اگلی صفوں میں جنگ کر رہا تھا۔اس کے جانثار محافظ اس کے دائیں بائیں موجود تھے۔گھمسان کا رن پڑا۔رومن سپاہ نے بھرپور مقابلہ کیا مگر شکست ان کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔ایرانیوں کا بھی کافی نقصان ہوا تھالیکن رومیوں کی تو کمر ہی ٹوٹ چکی تھی۔ سب بڑا نقصان تو انھیں شہنشاہ الیانوس (جولین) کی موت سے پہنچا تھا۔آخر کار رومنوں کو پسپا ہونا پڑا۔
جنگ کے اختتام پر سابور نے اپنے لشکر کو اکٹھا کیا نقصان کا جائزہ لینے پر اسے جنگ جاری رکھنا مناسب معلوم نہ ہوا پس اس نے اگلے ہی دن اپنا سفیر یوسانوس کے پاس بھیج دیا۔یہ سفیر گویا فاتح کی طرف سے مفتوح کے پاس آیا تھا۔سابور نے لکھا تھا کہ ….”تمھارے ظلم اور ہمارے علاقوں پر ڑحائی کی وجہ سے خداوند یزدان نے تمھیں ذلیل کیا ہے اور ہمیں تم پر قدرت عطا فرمائی ہے اور اب تمھارا یہ حال ہے کہ تمھیں مرنے کے لیے ہماری تلواروں کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ بھوک ہی تمھارا کام تمام کر دے گی۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ اگر تم نے اپنا کوئی نیا حاکم مقرر کیا ہے تو اسے ہمارے پاس اطاعت کے لیے بھیج دو۔“(طبری جلد دو )
اس خط کو سننے کے بعد یوسانوس نے اپنے سالاروں سے مشورہ کیا مگر کوئی بھی یوسانوس کے سابور کے پاس جانے کا حامی نہ تھا۔تمام کی رائے لینے کے بعد یوسانوس نے کہا۔
”ہم جانتے ہیں کہ ایک بادشاہ کا شکست تسلیم کرتے ہوئے دوسرے حکمران کے پاس اطاعت کے اظہار کے لیے چل کر جانا ذلت اور رسوائی کا باعث ہے۔لیکن بعض اوقات ذلت برداشت کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔اپنے لیے نہیں اپنے عوام کے لیے۔اپنی عورتوں کو لونڈی اور مردوں کو غلام ہونے سے بچانے کے لیے۔ہم نے جنگ کی ابتداءکی اور مقدر نے ہمارا ساتھ نہ دیا اب مقدر کو کوستے ہوئے ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔ہمیں صلح کی کوشش کرنا ہوگی اور اس کے لیے مخالف جو شرائط رکھیں گے ان کو پوراکرنا پڑے گا۔“
تمام خاموش ہو گئے تھے۔یوسانوس نے اسی شرفاءکو تیار ہونے کا حکم دیا اور اگلے دن وہ ان کے ہمراہ سابور ذوالاکتاف سے ملنے روانہ ہو گیا۔وہ اس حالت میں سابور کے سامنے حاضر ہوا کہ اس کے سر پر تاج موجود تھا۔اور اس نے اسی حالت میں آداب شاہی بجا لائے۔سابور اس کے استقبال کے لیے تخت سے نیچے اترا اسے گلے سے لگایا اور اپنے پہلو میں بیٹھنے کی جگہ دی۔
سابور کے حکم پر ایک عمدہ دعوت کا اہتمام کیا گیا ،انھیں کھانا کھلا کر سابور نے صلح کی شرائط پیش کیں۔جو کچھ اس طرح تھیں۔
۱۔حکومت روم وہ پانچ صوبے واپس کر دے گی جو قیصر روم ڈیوکلیشن نے ایرانی شہنشاہ نرسی سے لیے تھے۔
۲۔نصیبین اور بخارا ایران کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
۳۔ مشرقی بین النہرین ایرانیوں کے تسلط میں رہے گا۔
۴۔آرمینیا سے رومی دست کش ہو جائیں گے۔
یوں تو یہ تمام شرائط نہایت ہی رسوا کن تھیں لیکن نصیبین کا رومیوں کے ہاتھ سے نکل جانا ان کے لیے سخت رنج کا باعث بنا تھا۔یہ قلعہ استحکام کے اعتبار سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔سابور دو مرتبہ اسے مسخر کرنے میں ناکام رہا تھا اور پھر اس نے کوششیں ہی ترک کر دی تھیں۔اس کے علاوہ یہ رومی تمدن کا مرکز تھا اور یہاں کی اکثر آبادی اہل یورپ کی تھی جسے ایرانیوں کا تسلط کسی صورت گوارہ نہ تھا۔رومن شہنشاہ نے سابور ی تمام شرائط قبول کر لیں معاہدہ ہوا اور رومن واپس چلے گئے۔
(طبری نے لکھا ہے کہ جب نصیبین ایرانیوں کے ہاتھ آیا تو یہاں کے تمام لوگ ہجرت کر کے روم چلے گئے تھے اور سابور ذوالاکتاف نے اسطخر اور اصفہان سے دس ہزار ایرانیوں کو یہاں لا کر بسا دیا تھا )
٭٭٭
جبلہ کی واپسی دوپہر کے قریب ہوئی تھی۔وہ بہ مشکل لوٹ کا مار تقسیم کر پایا تھا کہ بنو احمر سے دو قاصد پہنچ گئے۔
انھیں اپنے خیمے میں بلا کر جبلہ نے ناگواری سے کہا۔”میرا خیال ہے میں ایک بار رشتے سے انکار کر چکا ہوں اس کے بعد بار بار تقاضا کرنا کسی سردار کو زیب نہیں دیتا۔اور اپنے سردار کو یہ بھی بتا دو کہ دوبارہ اگر کسی نے میری بیٹی کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی تو نتائج کا ذمہ دار خود ہو گا۔“
”بنو احمر کا سردارکیدار بن ثابت گزشتہ رات مع اپنی دو بیویوں کے قتل ہو گیا ہے اور ا ب ان کی جگہ ذواب بن ثابت سردار ہے۔“
”کیا ؟“جبلہ نے حیرانی بھرے انداز میں کہتے ہوئے پہلو میں بیٹھی قُتیلہ کو دیکھا۔وہ چہرے پر لاتعلقی لیے باپ کی طرف متوجہ تھی۔”کس نے قتل کیا ہے ؟“
ایک قاصد تفصیل بتلاتا ہوا بولا۔”بنو نسر کے چار جوان تھے۔عیلان بن عبسہ ،حرام بن زراح، عافد بن مرسع اور اخلد بن احمران میںباقی تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے ایک اخلد بن احمر کو ہم نے شدید زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا تھا۔گو وہ جانبر نہ رہ سکا مگر مرنے سے پہلے تمام تفصیل بتلاگیا۔اس کے کہنے کے مطابق آپ کی بیٹی قُتیلہ بھی برابر کی حصہ دار بلکہ اس کارروائی کی روح و رواں تھی۔سردار کیدار کے قتل کے بعد جب ہمارے آدمی جاگے تو قُتیلہ اپنے آدمیوں کو لڑتا چھوڑ کر بھاگ گئی اور ان کے گھوڑوں کو بھی بھگا دیا تاکہ وہ فرار نہ ہو سکیں اور جان کے خوف سے ہمارے آدمیوں سے مقابلہ کرتے رہیں جبکہ اسے بھاگنے کا موقع مل جائے۔“
جبلہ بولا۔”بغیر ثبوت کے یہ الزام بلکہ بہتان کہلائے گا۔“
”مرنے والا یقینا جھوٹ نہیں بولے گا۔اسے کیا پڑی تھی کہ اپنی سردار زادی کا نام لیتا۔پھر وہاں گھوڑوں کے سمّوں کے نشان بھی واضح نظر آرہے ہیں جو اخلد بن احمر کی بات کی تائید کر رے ہیں۔ اور خاص بات یہ ہے کہ وہاں ایک ایسے گھوڑے کے سم بالکل واضح نظر آرہے ہیں جو قُتیلہ نے ہمارے ایک آدمی سے چھینا تھا۔“(پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ کھوجی حضرات پاﺅں کے نشان سے کسی جانوریا انسان وغیرہ کوآسانی سے شناخت کر لیتے تھے )
جبلہ صلح کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔”گھوڑے کے سمّوں کے نشان دیکھ کر تم اتنی بڑی بات ثابت نہیں کر سکتے۔باقی جن افراد نے تمھارے سردار کو قتل کیا وہ خود بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں اس لیے اس معاملے کو یہیں ختم کر دیا جائے تو بہتر ہو گا۔“
قاصد منی خیز لہجے میں بولا۔”ہمیں وہ آخری آدمی چاہیے جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔“
جبلہ نے پوچھا۔”اگر ہم اسے تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو پائے تو ؟“
”تو ہمیں اس آدمی کی تلاش کے لیے بنو نسر کا گھیراﺅ کرنا پڑے گا۔“
ایک لمحہ سوچنے کے بعد جبلہ بولا۔ ”مجھے دو دن کی مہلت دو تاکہ میں اطمینان سے تفتیش کر سکوں۔“
قاصد ،قُتیلہ کو معنی خیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔”پرسوں ہم مطلوبہ آدمی کو لینے آئیں گے۔“
اسی وقت عریسہ ہرن کا بھنا ہوا گوشت اور ٹھنڈا پانی مہمانوں کے لیے لے آئی تھی۔
مہمان کھانے کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ قُتیلہ خیمے سے باہر نکل گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: