Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 16

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 16

–**–**–

دوسرے دن شریم پانچ رکنی وفد لے کر بنو نوفل کی طرف روانہ ہو گیا۔ہزیل کی آخری رسومات ہو چکی تھیں۔بنو نوفل کا سردار شماس بن جزع بڑے پھیکے انداز میں انھیں ملا تھا۔رسمی تعزیت کے بعد شریم مطلب کی بات پر آگیا۔
”محترم سردار !….ہماری آمد کا مقصد آپ کی دور رس نگاہ سے اوجھل نہیں ہو گا۔ ہزیل کی موت یقینا ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھی۔جوان خون بغیر کسی سوچ سمجھ کے ایسے کام کر گزرتا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔“
شماس تلخ لہجے میں بولا۔”مہمان کی حفاظت کرنا آپ لوگوں کی ذمہ داری تھی۔“
”بجا فرمایا۔“شریم نے اثبات میں سر ہلایا۔”لیکن یقین مانیں ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ مقابلہ ہماری لا علمی میں منعقد ہوا۔“
”ہم یہ ماننے کے لےے تیار نہیں کہ ایک غلام نے ہزیل کو شکست دی ہے۔وہ اس جیسے دس غلاموں پر بھاری تھا۔“ہزیل کا باپ بیٹے کی موت کے دکھ کے ساتھ یہ ذلت برداشت کرنے کے لےے تیار نہیں تھا۔
شریم اطمینان سے بولا۔”آپ اپنے کسی بھی اچھے لڑاکے کا یشکر کے ساتھ مقابلہ کرا کے جانچ سکتے ہیں۔“
شماس نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،ایک غلام کا ہمارے کسی شہسوار کے سامنے آنا ہی بہت بڑی گستاخی ہے۔“
”وہ اب غلام نہیں ہے۔بہت پہلے اسے آزاد کیا جا چکا ہے۔“
”آزادی کی نعمت ،غلامی کا طوق تو اتار سکتی ہے۔غلام کی گردن پر بنا وہ نشان ختم نہیں کر سکتی جو اس کی قسمت میں لکھ دیا جائے۔“
”ہو سکتا ہے وہ پیدائشی غلام نہ ہو ؟“
”مفروضوں پر وہ سوچتے ہیں جو بدلہ لینے کے قابل نہ ہوں۔“
”سردار آپ زیادتی کر رہے ہیں۔“شریم شاکی ہوا۔”ہم معذرت کرنے کے ساتھ خون بہا ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔اور ایک سردار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ گھر آئے سائل کو خالی لوٹا دے۔“
گہراسانس لیتے ہوئے شماس سوچ میں کھو گیا تھا۔ پہلو میں بیٹھے چھوٹے بھائی نے اس کے کان سے منھ لگاکر کچھ بتانے لگا۔کافی لمبی سرگوشی تھی۔بات کے اختتام پر شماس ،شریم کی جانب متوجہ ہوا۔
”ایک ہزار اونٹ ،بادیہ بنت شیبہ لونڈی بن کر آئے گی ، وہ غلام ہمارے حوالے کر دیں اور جھگڑاختم سمجھیں۔“
شریم نے کہا۔”ایک ہزار اونٹ سو آدمیوں کا خون بہا ہے۔اور ہمیں یہ منظور ہے ،لیکن ،بادیہ اور یشکر والی شرط آپ کو چھوڑنا پڑے گی۔“
شماس تلخ لہجے میں بولا۔”ہزیل جیسے جیالے کے خون بہا میں ایک ہزار تو کیا دس ہزار اونٹ بھی ناکافی ہیں۔“
شریم نے کہا۔”مجھے اونٹوں پر اعتراض نہیں ہے۔“
شماس وضاحت کرتا ہوا بولا۔”بادیہ کی شادی ہزیل سے ہو گئی تھی اور اب وہ اس کے وارث کو ملے گی۔چاہے وہ اس سے شادی کرے چاہے اسے لونڈی بنا کر رکھے باقی اس غلام کو اپنے کیے کی سزا کاٹنا پڑے گی۔“
”محترم سردار،خون بہا لینے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ مجرم کو معاف کر دیا گیا۔“شریم نے حجت پیش کی۔
شماس نے روکھے پن سے کہا۔”یہ تینوں شرائط خون بہا میں شامل ہیں۔“
”میں سردار سے مشورہ کر کے آپ تک جواب پہنچا دوں گا۔“شریم بجھے دل سے وہاں سے نکل آیا۔
٭٭٭
فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے سابور واپس لوٹا۔طیسفون پہننے کے اگلے دن سکندر نے دربار کے اختتام پراجازت مانگ کر چند ماہ کی رخصت طلب کی۔
سابور نے حیرانی سے پوچھا۔”خیر تو ہے ؟“
سکندر مودّبانہ لہجے میں بولا۔”حضور کا اقبال سدا بلند رہے ،غلام اپنے بیٹے کی تلاش میں جانا چاہتا ہے۔پہلے جنگ شروع تھی اس وجہ سے غلام نے خداوند فارس کو اپنی ذات پرترجیح دی اب جبکہ کہ مخالفین نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں تو غلام ذاتی کام کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے۔“

” ہمیں تمھاری ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔چند دن کی بات قابل برداشت تھی ،لیکن اتنے لمبے عرصے کی رخصت ہمیں گوارا نہیں ہو سکتی۔“
”جیسا خداوند فارس چاہے۔“سکندر نے تکرار سے گریز کیا تھا ،لیکن اس کے لہجے میں شامل مایوسی کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی۔
سابور ہنسا۔”تم بہرام کو بھی بھیج سکتے ہو ،قابل جوان ہے۔شہسواروں کا ایک دستہ ساتھ بھیج دو امید ہے اچھی خبر لے آئے گا۔“
”جو حکم۔“سکندر نے سر جھکا دیا۔
سابور نے کہا۔”حکم نہیں مشورہ ہے۔اگر مطمئن نہیں ہو تو بے شک خود چلے جاﺅ ،لیکن یہ خیال رہے تمھارا بادشاہ اب بوڑھا ہو چکا ہے اور اسے مخلص محافظ کی ضرورت پہلے سے کئی گنا زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔“
سکندر خوش دلی سے بولا۔”میری زندگی کا مقصد ہی شہنشاہ معظم کی خدمت گزاری ہے۔ اوریشکر کی تلاش کا کام توکوئی بھی کر سکتا ہے۔“
”سنا ہے تمھارا بیٹا بھی تمھاری طرح اچھا شہسوار اور ماہر شمشیر زن تھا۔“سابور کے لہجے میں دلچسپی تھی۔
”وہ مجھ سے ایک قدم آگے ہی تھا حضور،اور میں مطمئن تھا کہ میری جگہ خداوند فارس کو بہتر محافظ مل جائے گا،لیکن مقدر میں کچھ اور لکھا تھا۔“
”اگر وہ زندہ ہے تو ہم اسے ضرور واپس لائیں گے۔“سابور اسے تسلی دے کر آگے بڑھ گیا اور سکندر اس کے عقب میں چلنے لگا۔سابور کو اس کے حرم میں پہنچا کر وہ اپنی رہایش گاہ کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے جنگ کے اختتام پر خود یشکر کی تلاش میں جانے کا ارادہ کیا ہوا تھا اگر اسے معلوم ہوتا کہ شہنشاہ ِ فارس اسے اجازت نہیں دیں گے تو وہ کب کا کسی اور کو بھیج چکا ہوتا۔رہایش گاہ پر پہنچتے ہی اس نے بہرام کو بلوا بھیجا۔
٭٭٭
” وہ تمام میرے مخالف تھے اور انھوں نے مجھے پھنسانے کے لیے یہ چال چلی ہے۔“ باپ کے استفسار پر قُتیلہ سرے سے مکر گئی تھی۔
”کل ہمارے جانے کے بعد تم عیلان بن عبسہ کے گھر کس لیے گئی تھیں۔“جبلہ مکمل تحقیق کے بعد ہی اس سے باز پرس کرنے آیا تھا۔
”اسے مطعون کرنے گئی تھی کہ میرے بغیر کس طرح وہ اور اس کے ساتھی ناکام لوٹے تھے۔ اسے نصیحت بھی کی کہ اس کے بعد میری مخالفت کی تو نقصان اٹھائے گا۔“
جبلہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”جھوٹ بولنا کب سے شروع کر دیا ہے ؟“
”میں آپ سے زبردستی منوا نہیں سکتی۔ورنہ حقیقت یہی ہے جو میں بتا چکی ہوں۔اور اسی وجہ سے انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ بنو احمر کے سردار کو قتل کر کے مجھے پھنسادیں۔“
”اور تمھیں پھنسانے کے لیے انھوں نے اپنی جان دے دی۔“جبلہ نے استہزائی لہجے میں کہا۔ ”اگر انھوں نے مرنا ہی تھا تو تمھیں قتل کر دیتے یوں جانیں گنوانے کا کیا مقصد تھا؟“
”وہ مرنے نہیں گئے تھے ،مجھے پھنسانے گئے تھے۔ ان کی بدقسمتی کہ ان کی چال انھی پر پلٹ گئی۔باقی یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ان جیسے چار پانچ کے لیے قتیلہ اکیلی کافی ہے۔“
”مجھے کیسے یقین آئے گا کہ وہ تم نہیں تھیں۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”آپ کو کیسے یقین آئے گا کہ وہ میں نہیں تھی۔“
”وہ تمھارے گھوڑے کے سمّوں کے نشان تھے۔“
”جو لوگ اتنی بڑی سازش کر سکتے ہیں ان کے لیے میرے گھوڑے کو ساتھ لے جانا کون سا مشکل کام تھا۔“
جبلہ تلخ ہوتا ہوا بولا۔”تم بس جھوٹ بولنا ہی جانتی ہو۔“
”دشمنوں سے نبٹنا بھی تو آتا ہے مجھے۔“ اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ خیمے سے باہر نکل گئی تھی۔اس نے باپ سے جانے کی اجازت بھی نہیں مانگی تھی۔جبلہ کے لیے اس کے بگڑے تیوروں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔
جبلہ عریسہ کی طرف متوجہ ہوا۔”سچ بتاﺅ یہ کل رات کتنی دیر خیمے سے باہر رہی تھی۔“
عریسہ تھوک نگلتے ہوئے بولی۔”سردار ،چھوٹی بچی ہے۔میں اسے سمجھا دوں گی آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گی۔“
”پہلے میں ان قبایل کے باسیوں کے افعال کو غلط سمجھا کرتا تھا جو بیٹی کے پیدا ہوتے ہی اسے زندہ دفنا دیتے ہیں۔“جبلہ کا بھیانک چہرہ مزید کریہہ نظر آنے لگ گیا تھا۔
عریسہ خوفزدہ لہجے میں بولی۔ ”سردار ،اس کی جگہ میں معافی کی خواست گار ہوں۔نسر کے نام پر اسے معاف کر دو۔“
”جانتی بھی ہو اس کی حماقت کی وجہ سے بنو نسر پر کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے۔ اگرکسی کو لگتا ہے کہ ہم بنو احمر کا مقابلہ کر لیں گے تو میں اس سے متفق نہیں ہوں۔اور اس سے پہلے کہ تلوار ملامت سے سبقت لے جائے (مطلب تلافی ممکن نہ رہے )مجھے اس کا بندوبست کرنا پڑے گا۔“

”سردار ،میں رحم کی بھیک مانگتی ہوں۔“جبلہ کے تیور دیکھتے ہوئے عریسہ گڑگڑائی۔
جبلہ حتمی لہجے میں بولا۔”اسے بنو احمر کے سردارذواب بن ثابت کے پاس جانا پڑے گا۔بس میری کوشش یہی ہو گی کہ وہ اسے بیوی کا درجہ دینے پر تیار ہو جائے۔“
”سردار وہ ابھی چھوٹی ہے۔“عریسہ کا چہرہ خوف سے پیلا پڑ گیا تھا۔کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ جبلہ جو طے کر لیتا تھا اس سے سرِمو پیچھے نہیں ہٹتاتھا۔
”وہ دو سال سے گھر بسانے کے قابل ہے۔“جبلہ نے بے پروائی ظاہر کی۔
”میں بنو احمر کے کوے کی بیوی بننے پر موت کو ترجیح دوں گی۔“قُتیلہ خیمے کے اندر داخل ہوتے ہوئے گستاخانہ لہجے میں بولی۔وہ خیمے کے دروازے پر کھڑی ساری گفتگو سن رہی تھی۔
”اپنی غلط فہمی درست کر لو تم بیوی نہیں اس کی کنیز بن کر جا رہی ہو۔“
وہ بد تمیزی سے بولی۔”یقینا آپ مجھے بچپن میں زندہ نہ دفنانے کی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔“
”ایسا ہی ہے تو ….؟“
”یاد رکھنا ،میری تلوار ایک دن طرفہ اور سامہ کی شہ رگ کا پتا ضرور پوچھے گی۔“قُتیلہ نے چھوٹے بھائیوں کا نام لیتے ہوئے زہر اگلا۔
”پہلے مجھے اپنے فیصلے پر تھوڑا بہت افسوس ضرورہو رہا تھا۔“
وہ تیقن سے بولی۔”اور تھوڑے عرصے بعد آپ پچھتائیں گے۔کیوں کہ جوان بیٹوں کی موت بوڑھے باپ کی کمر توڑ دیا کرتی ہے۔“
جبلہ کا ہاتھ گھوما ،چہرے پر پڑنے والے زوردار تھپڑ سے وہ نیچے گر گئی تھی۔”مجھے مجبور نہ کرو کہ بنو احمر کے سردار کے پاس تمھارا سر بھیجنے پر مجبور ہو جاﺅں۔“
”سردار ،نسر کے واسطے رحم۔یہ پگلی ہے ،میں اسے سمجھا دیتی ہوں ….“عریسہ تڑپ کر جبلہ کے پاﺅں پڑ گئی تھی۔
قُتیلہ باپ کے غصے سے بے پروا قہر برساتی آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے کھڑی ہوئی۔
”قُتیلہ کی کمان نے جب پہلا تیر اگلا تھا اس دن قُتیلہ کے دل سے مرنے کا خوف ایسے ہی نکل گیا تھا جیسے گردن کے کٹنے سے سانس نکل جایا کرتا ہے۔“
جبلہ نے کہا۔”کل تمھیں ذواب بن ثابت کے حوالے کر دیا جائے گا اور تم بھی ہماری زندگیوں سے ایسے ہی نکل جاﺅ گی۔“
اس نے پاﺅں سے لپٹی عریسہ پر مطلق وجہ نہیں دی تھی۔جو مسلسل منت کرتے ہوئے اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔لیکن قُتیلہ کی باتیں اس کے غصے کو ہوا دے رہی تھیں۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”اور آپ آج سے میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے خنزیر کے لیے گرم کیا ہوا پانی۔“(نصاریٰ خنزیر کو پکانے کے لیے پانی کو خوب گرم کرتے اور پھر اس میں اسے زندہ ڈال دیا کرتے۔ اس پر یہ کہاوت بنی۔جب کسی سے نفرت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تو عرب یہ بولا کرتے تھے )
جبلہ نے دانت پیسے۔”یقینا تمھیں پال کر میں ام عامر کو پناہ دے بیٹھاہوں۔“(ام عامر لگڑ بگڑ کی کنیت ہے۔اور اس کہاوت کا مفہوم یہ ہے کہ کچھ نوجوان شکار کو نکلے اور ایک لگڑ بگڑ کا پیچھا کیا۔وہ ان سے بچ کر ایک بدو کے خیمے میں جا گھسا۔بدو نے کہا ،یہ اب میری پناہ لے چکا ہے لہاذا تم اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے۔جوانوں کے جانے کے اس نے دودھ اور گھی میں روٹی بھگو کر لگڑ بگڑ کو کھلائی اور اس کی خوب تواضع کی۔وہ خوب سیر ہو کر وہیں خیمے میں بیٹھ گیا۔بدو پر نیند کا غلبہ ہوا تو لگڑ بگڑ نے اس پر حملہ کر کے اس کا گلا کاٹ ڈالا اور پیٹ چاک کر کے دل و جگر چبا ڈالے۔جب اس بدو کا بھائی واپس لوٹا تو اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر بہت متا¿سف ہوا اور چند اشعار کہے۔جن میں ایک شعر کا مطلب یہ بنتا تھا کہ جب کوئی نااہل کے ساتھ بھلائی کرے گا وہ اسی صورت حال کا سامنا کرے گا جس کا سامنا ام عامر کو پناہ دینے والے نے کیا )یہ کہہ کر وہ قُتیلہ کی بات سننے کے لیے رکا نہیں تھا۔اس کے خیمے سے نکلتے ہی عریسہ اسے ساتھ لپٹا کر رونے لگی۔
”ماں ،آنسوﺅں کو ضائع نہ کرو۔قُتیلہ اپنا حق لینا جانتی ہے۔یہ بنو نسر کے سردار کی غلط فہمی ہے کہ قُتیلہ کو قبیلے سے نکال کر سرداری کے حق سے دست بردار کر دے گا۔“
”آخر تم اس منحوس سرداری کا نام لینا چھوڑ کیوں نہیں دیتیں۔“عریسہ غم و غصے کی شدت سے چیخ پڑی تھی۔
وہ بے پروائی سے بولی۔”میں خود سے کم تر کو بڑا نہیں مان سکتی۔“
”عریسہ کی جان ،تم لڑکی ہو۔“عریسہ نے اس کا سر چھاتی سے لگا کر بھینچ لیا تھا۔
”مردانگی کا دعوا کرنے والوں سے ثبوت طلب کرنا میرا حق ہے۔“قُتیلہ ،عریسہ کی بات سمجھنے پر تیار نہیں تھی۔عریسہ بس اسے خود سے لپٹائے آنے والی بھیانک جدائی کو سوچے گئی۔کئی سال پہلے اس کی گود سے سردار زادے یشکر کو چھین کر بیچا گیا تھا جسے وہ بیٹے کی طرح چاہنے لگی تھی اور اب قُتیلہ کی باری آ گئی تھی جسے اس نے بیٹی کی طرح چاہا تھا۔اپنی سگی ماں جندلہ کو تو وہ شاید ہی کوئی اہمیت دیتی ہو۔
٭٭٭
شریم نے قبیلے پہنچنے کے اگلے دن خاموشی سے اپنی بیٹیوں وتینہ، سلمیٰ اور ان کی ماں کوایک بوڑھے غلام اور سلمیٰ کے ہونے والے شوہر ملکان کے ہمراہ ثانیہ کے پاس بنو اسد بھجوا دیا تھا۔بنو نوفل کے سردار کے تیور دیکھ کر اس کے دل سے صلح کی غلط فہمی نکل گئی تھی۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ طاقت ور لڑنے کے بہانے ڈھونڈا کرتے ہیں اور بنو نوفل کو تو ٹھیک ٹھاک وجہ مل گئی تھی۔
وتینہ نے یشکر کو ساتھ لے جانے کی استدعا کی تھی ،مگر سردارِ قبیلہ نے یشکر کے کہیں بھی جانے پر پابندی لگا دی تھی مجبوراََ وتینہ کو خاموش پڑاتھا۔
اس وقت بھی سردارِ قبیلہ شیبہ ،شریم اور چند دوسرے معزیزین سقیفہ بنو جساسہ میں جمع تھے، موضوع گفتگوہزیل کی موت ہی تھی۔
”اتنی کڑ ی شرائط پر صلح کرکے ہم قبایل کے لیے تضحیک کا نشانہ بن جائیں گے۔“سردار شیبہ نے نفی میں سر ہلایا۔
شریم نے کہا۔”اس کے علاوہ وہ بات چیت کرنے ہی پر تیار نہیں۔بہ قول شماس خون بہا میں ایک ہزار اونٹ کے ساتھ یشکر اور بادیہ کو بھی ان کے حوالے کرنا پڑے گا۔“
شیبہ نے حتمی لہجے میں کہا۔”میری بیٹی یہاں سے دلھن بن کر ہی رخصت ہو گی۔“
شریم ترکی بہ ترکی بولا۔”میں بھی اپنا بیٹا قتل ہونے کے لیے کسی کے حوالے نہیں کر سکتا۔“
”ایک غلام نے ہمیں ا س مصیبت میں پھنسا دیا اور تم اب تک اس کی طرف داری کر رہے ہو۔“شیبہ نے غصے کا اظہار کیا۔
” میری زبان کی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔“شریم کو دکھ ہوا تھا۔
”غلطی تو یشکر کی ہے۔“صامت نے لقمہ دیا۔
شریم نے پوچھا۔”قبیلے کا کوئی فردغلطی کرتا ہے تو کیا اسے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے ؟“
”لڑنے کے بجائے کوئی حل سوچیں۔“مصدع بن عیسان نے مصالحت کی کوشش کی۔ ”صاف بات یہ ہے کہ ہم صرف ایک ہزار اونٹ ہی دے سکتے ہیںاور بنو نوفل کا مطالبہ اس کے علاوہ بھی کچھ ہے۔“
وہب بن مرشدنے مشورہ دیا۔”اگر کوشش کی جائے تو شماس بن جزع سردار زادی بادیہ کو بیاہ کر لے جا سکتا ہے۔یقینا رشتا داری بحال ہونے پر وہ یشکر والی شرط واپس لے لیں گے۔“
”ایسا ممکن تو نظر نہیں آتا۔“شریم نے مایوسی کا اظہار کیا۔
”بات کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔“صامت بن منبہ نے ،وہب کی طرف داری کی تھی۔
شریم منھ بنا کر بولا۔”میں ان کے قبیلے میں بات چیت ہی کرنے گیا تھا۔“
وہب بن مرشد نے کہا۔”تمھارے اور سردارکے بات کرنے میں کچھ فرق تو ہونا چاہیے۔“
”یہ کر کے بھی دیکھ لیں۔“شریم نے تکرار میں دلچسپی نہیں لی تھی۔
مگر ان کا یہ گمان فقط خوش فہمی ہی ثابت ہوا تھا۔بنو نوفل کا سردار اپنے مطالبے سے سرِ مُو ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔واپسی پر سردار شیبہ نے دوبارہ مشاورت بلائی جس میں طے ہوا کہ وہ اپنے حلیف قبایل کو مصالحت کی گفتگو میں ڈالیں گے۔
٭٭٭
بنو احمر کا سردار ذواب بن ثابت ،قُتیلہ کو دیکھتے ہی نہ صرف مصالحت پر راضی ہو گیا تھا بلکہ اس نے قُتیلہ کو بیوی بنانے کا عندیہ دینے میں بھی سستی نہیں کی تھی۔ وحشی غزال کی سی آنکھوں والی قُتیلہ نے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کر لی تھیں ،ورنہ وہ اپنے بھائی کی قاتل کو بیوی بنانے کا فیصلہ کبھی نہ کرتا۔قُتیلہ کی سرمہ بھری دنبالہ آنکھیں عجیب قسم کی کشش رکھتی تھیں۔وہ اتنا حواس باختہ ہوا تھا کہ اس کے حصول کے علاوہ اسے کوئی شرط پیش کرنا یادہی نہیں رہا تھا۔
جبلہ بھی مطمئن تھا۔ قُتیلہ کالونڈی بن کر جانا یقینا اس کی عزت کو خاک میں ملا دیتا۔بنو نسر میں جشن جاری تھا۔شراب اس کثرت سے بہائی جا رہی تھی کہ کوئی بشر تشنہ نہیںرہاتھا۔سازندوں کی مہارت، گلوگاروں کی خوش آوازی اور ناچنے والیوں کے نازو ادانے سماں باندھ دیا تھا۔
دونوں سردار لکڑی کے بڑے سے تخت پر پہلو بہ پہلو بیٹھ کر شراب کے ساتھ بھنا ہوا گوشت کھاتے رہے۔ہنسی مذاق اور قہقہوں کی دنیا میں ایک خیمہ ایسا بھی تھا جہاں دکھ اور غم کا ڈیرہ تھا۔خوب صورت لباس میں بنی سنوری قُتیلہ ،عریسہ کی گود میں سر رکھ کر سوگوار سی لیٹی تھی۔عریسہ کی سرخ آنکھیں ظاہر کر رہی تھیں کہ وہ کتنا روتی رہی تھی۔
”رونے سے تقدیر نہیں بدلہ کرتی ماں جی۔“
”تقدیربدلنے کے لیے آنسو نہیں بہا رہی ماں کی جان ،رو اس لیے رہی ہوں کہ رونا آرہا ہے اور یقینا رونے کے لیے یہ وجہ کافی ہے۔“
وہ تلخ انداز میں بولی۔”رونے کی وجوہات ڈھونڈیںگی تو کئی مل جائیں گی ماں جی ،بجائے رونے کے ایسی وجوہات پیدا کرنے والے کو رلانے کی تدبیر سوچا کریں۔“
”قبیلے کے سردار کے خلاف ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔“عریسہ نے بے بسی کا اظہار کیا۔
قُتیلہ اعتماد سے بولی۔”بہت کچھ کر سکتے ہیں۔“
”مثلاََ….؟“نہ چاہتے ہوئے بھی عریسہ کے لہجے میں طنز پیدا ہو گیا تھا۔
وہ اطمینان سے بولی۔”قُتیلہ ،بتانے میں وقت ضایع کرنے کے بجائے کر کے دکھانے کی عادی ہے۔“
”کوئی بے وقوفی نہ کرنا۔“عریسہ گھبرا گئی تھی۔
” آپ کومیرے ساتھ رہنے میں کوئی دلچسپی ہے؟“قُتیلہ اس کی گھبراہٹ خاطرمیں نہیں لائی تھی۔
عریسہ نے ٹھنڈا سانس بھرا۔”ایک تمھاری خاطر ہی اس قبیلے میں پندرہ سولہ سال گزار بیٹھی ہوں۔“
”تیار رہنا ،میں آپ کے انتظار کو طول نہیں دوں گی۔“
”کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہو ؟“عریسہ پر دوبارہ گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔
”سمجھا نہیں سکتی۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”بتا تو سکتی ہو۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر ہنسی نمودار ہوئی۔”کیا فائدہ جب آپ کے پلے ہی کچھ نہیں پڑنا۔“
” تم جو ش میں آکر ہوش کھو دیتی ہو اور سچ تو یہ ہے کہ تم اکثر جوش ہی میں رہتی ہو۔“
”ایسا بس آپ کو لگتا ہے۔“
عریسہ کی نصیحتیں جاری رہیں۔”کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ میرے پاس پچھتاوے ہی رہ جائیں۔“قُتیلہ نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر آنکھیں بند کر لی تھیں۔
ناچنے گانے کا سلسلہ جاری تھا۔کچھ منچلے رقاصاﺅں کے ساتھ قدم ملا کر ناچنے کی کوشش کر رہے تھے۔شراب کا نشہ عقل کو خبط کر دیتا ہے اور اس وقت تو شراب کے ساتھ لچکیلے ابدان والی رقاصاﺅں کے شباب کی موجودی شراب کو دو آتشہ کر رہی تھی۔چاندنی رات نے ماحول کو مزید خواب ناک کر دیا تھا۔
ناچنے اور گانے بجانے کا سلسلہ رات بھر جاری رہا تھا۔شب بیداری ،تھکن اور بے آرامی کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ وہ دن کو آرام کرتے، مگر بنو احمر کا سردار قُتیلہ کی قربت کے لیے سخت بے چین تھا۔اس نے بغیر وقت ضایع کیے کوچ کا کم صادر فرمادیا۔بلاوا آتے ہی قُتیلہ نے بے پروائی سے عریسہ کے گلے لگی اور پھردو خدمت گار عورتوں کے ساتھ چلتی ہوئی کجاوے میں بیٹھ گئی۔اس نے جبلہ یا اپنی سگی ماں جندلہ سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی۔جندلہ البتہ اس کے کجاوے میں بیٹھنے تک اداس نظروں سے اسے گھورتی رہی۔
٭٭٭
بنو دیل ، بنو جمل اور بنو لخم کے سردار بنو جساسہ کے سردار کی درخواست پر مصالحت کی کوشش کے لیے تیار ہو گئے۔تمام سرداروں کا اکٹھ بنو نوفل میں ہوا تھا۔بنو نوفل کے سردارشماس بن جزع نے روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام سرداروں کے لیے عمدہ خوردو نوش کا بندوبست کیاتھا۔ بہترین ضیافت کے بعد بات چیت کا آغاز ہوا۔سب سے پہلے شیبہ بن ثمامہ نے سردار زادے ہزیل کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قتل کی وجوہات بیان کیں ،ساتھ ہی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کے الفاظ دہرائے اورآخر میںمعزز سرداروں سے درخواست کی کہ وہ بنو نوفل کے سردارکو اس بات پر راضی کریں کہ وہ خون بہا کے ضمن میں بادیہ اور یشکر کے مطالبے سے باز آ جائے۔
بنو دیل کے سردار نے شماس بن جزع کی جانب دیکھتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا۔”یقینا بنو نوفل کا معزز سردار ہماری درخواست پر اپنے مطالبے پر نظر ثانی کرے گا۔“بنو لخم اور جمل کے سردار بھی امید بھری نظروں سے شماس بن جزع کو دیکھنے لگے۔
شماس بن جزع روکھے لہجے میں بولا۔”میں نے پہلے بھی نہایت جائز مطالبہ کیا تھا،ایک غلام میرے بیٹے کو دھوکے سے قتل کر کے کس طرح پر سکون زندگی گزارنے کا حق دار ٹھہر سکتا ہے۔جبکہ بادیہ کا نکاح ہزیل سے پڑھایا جا چکا تھا اس نسبت سے سردار شیبہ سے زیادہ اس پر ہمارا حق ہے۔“
شریم نے کہا۔”ہم بادیہ کا مطالبہ بھی اس صورت میں تسلیم کرتے ہیں کہ بنو نوفل کا کوئی معزز شخص اس سے نکاح پڑھا کر لے آئے۔البتہ یشکر کے بدلے میں جب ایک ہزار اونٹ بنو نوفل کے حوالے کیے جا رہے ہیں تو یشکرکا مطالبہ کرنا زیادتی ہو گی۔“
”بادیہ سے نکاح کا فیصلہ اس کی بنو نوفل آمد کے بعد ہو گا۔اور یشکر میرے بیٹے کا قاتل ہے۔“ شماس بن جزع اپنے فیصلے سے سر مو ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
”بادیہ سردار زادی ہے کوئی لونڈی نہیں۔“سردارشیبہ کے لہجے میں بھی تلخی شامل ہو گئی تھی۔ ”اور خون بہا کی ادا ئی کا مقصد ہی قاتل خلاصی کرانا ہوتا ہے ورنہ ہم یشکر کو بنو نوفل کے حوالے کر دیتے ہیں کہ ہزیل کا قاتل وہی ہے اس کے بعد بنو نوفل کے پاس کسی اور مطالبے کا حق باقی نہیں رہے گا۔“
”بنو جساسہ کا ہر فرد سردار زادے ہزیل کی موت کا ذمہ دار ہے اور ایک ہزار اونٹ کا مطالبہ اسی لیے کیا ہے تاکہ ہم بنو جساسہ کے افراد کو معاف کر سکیں۔باقی بادیہ پہلے سے بنو نوفل کی ملکیت میں آ چکی ہے اس لیے اس کی زندگی پر شیبہ سے زیادہ میرا حق ہے۔اور یشکر کو تومیں کسی صورت معاف نہیں کر سکتا۔“ بنو نوفل کے سردار کے لہجے میں اپنے قبیلے کی کثرت تعداد کاغرور شامل تھا۔ ایک بڑے قبیلے کا سردار چھوٹے قبیلے کے سردار سے یونھی نخوت سے بات کر سکتا تھا۔
بنو لخم کے سردار نے بات سنبھالتے ہوئے کہا۔”سردار شماس ہم جانتے ہیں کہ ہزیل کی موت کا دکھ ہر خوں بہا سے زیادہ ہے۔لیکن اتنے قبایل کے سردار صرف آپ کو راضی کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔“
”میں مطالبہ پیش کر چکا ہوں۔بنو جساسہ سے جتنی رعایت کی جا سکتی تھی وہ ہو چکی ہے۔البتہ معززسرداروں کی آمد پر میں اتنا کر سکتا ہوں کہ بادیہ بنت شیبہ سے خود نکاح پڑھوا لوں۔البتہ یشکر کا مطالبہ میں واپس نہیں لے سکتا۔“
(بنو نوفل کا سردار شماس بن جزع عمر میں شیبہ سے بھی چند سال بڑا تھا۔لیکن بادیہ کے حسن کے چرچوں نے اس کے دل میں بھی حرص پیدا کر دی تھی۔یوں بھی مرد جتنا عمر رسیدہ ہو جائے عورت کے حصول کی خواہش سے بے پروا نہیں ہو سکتا۔ایک ایسی لڑکی جو اس کی بہو بننے والی تھی اب وہ اسے بیوی بنانے کا سوچ رہا تھا۔عہد جاہلیت میں چونکہ ایسے غیر اخلاقی اور حیا سوز واقعات عام تھے اس لیے کسی سردار نے اس کی قباحت اجاگر نہیں کی تھی۔کرتا بھی کیسے یہ ان کے نزدیک کوئی غلط بات نہیں تھی )
بنو لخم کے سردار سلمہ بن عذرہ نے سوالیہ نظروں سے شیبہ کی جانب دیکھا۔اور شیبہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔اسے فیصلہ منظور نہیں تھا۔بوڑھے سردار کو اپنی بیٹی دینے کے بعد بھی اگر وہ یشکر کا مطالبہ کر رہا تھا یہ تو زیادتی تھی۔اس خون بہا کی ادائی نے انہیں پورے عرب میں بدنام کر دینا تھا۔خاص کر یشکر کو بنو نوفل کے حوالے کرنا زیادہ سبکی کا باعث بنتا کہ جس جوان کو آزا د کر کے قبیلے کے معزز آدمی نے بیٹا بنا یا اسی جوان کو قتل ہونے کے لیے خود سے طاقت ور قبیلے کے حوالے کر دیا جاتا۔
بنو دیل کا سردار معدہ بن فرازی ،شماس کو مخاطب ہوا۔”سراردو باتیں بنو جساسہ کے سردار نے مان لیں ،بادیہ آپ کی دلھن بنے گی اور ایک ہزار اونٹ بنو نوفل کے حوالے کیے جائیں گے۔البتہ آخری مطالبے سے آپ کو دست بردار ہونا پڑے گا۔“
شماس روکھے لہجے میں بولا۔”غلام کی حوالگی ،پہلا مطالبہ ہے۔“
بنو جمل کا سردار کلاب بن مرہ تیکھے لہجے میں بولا۔”ٹھیک ہے ،یشکر آپ کا مجرم ہے اسی کو بنو نوفل کے حوالے کر دیا جائے گا ،لیکن اس کے بعد آپ کوئی مطالبہ کرنے کے حق دار نہیں ہوں گے۔“ بنو جمل ،بنو جساسہ کا حلیف قبیلہ تھا۔اور اہل عرب حلیف قبائل کا مکمل ساتھ دیتے تھے ،یہاں تک کہ ان کی خوشی اور غم بھی سانجھی ہوا کرتا تھا۔حلیف قبیلے پر حملہ اپنے قبیلے پر حملے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔اور حلیف قبیلے کے لیے لڑائی جھگڑا مول لینے کو قابل فخر جانا جاتا تھا۔
شماس بن جزع نے قہر آلود نظروں سے کلاب کو گھورا اور پھر اس کی بات کا جواب دیے بغیر نشست چھوڑتا ہوا بولا۔”کچھ کھانے کی حاجت ہو تو میرے غلام کو بتا دینا۔“
اس کا یوں چلے جانا چاروں سرداروں کے لیے باعث توہین تھا۔وہاں مزید ایک لمحہ ٹھہرنے کے لیے بھی وہ تیار نہیں تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنے گھوڑوں پر سواربنو نوفل سے باہر نکل رہے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: