Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 17

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 17

–**–**–

”میں کوشش کروں گا کہ جلد ہی لوٹ آﺅں۔“بہرام منھ بسورتی سبرینہ کو تسلی دے رہا تھا۔
”ابھی تو میں آپ کو جی بھر کے دیکھ بھی نہیں پائی۔“سبرینہ کے شکوے ختم ہونے میں نہیں آ رہے تھے۔
”محترم سکندر کے ہم پر کتنے احسان ہیں ، اس کے بیٹے ہی بدولت تمھیں بھی آزادی نصیب ہوئی تھی اور اب اسی یشکر کی تلاش کا مرحلہ درپیش ہے ،یقینا تمھارا شکوہ زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔“
”مجھے بھی ساتھ لے چلو۔“سبرینہ نے اپنے تئیں آسان سی شرط پیش کی۔
”عرب کے صحرا میں جانے کس قسم کے حالات سے واسطہ پڑے۔شدید گرمی کو برداشت کرنا میری خانم کے لیے بہت مشکل ہو گا اور بالفرض گرمی برداشت کر بھی لی تو قزاقوں اور لٹیروں کی صورت میں اہرمن کے نمائندوں سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔اور تب اپنی خانم کا خیال مجھے بزدل اور کمزور کر دے گا اور مقابلے کے بجائے بھاگنے اور مصالحت کی کوشش کرنا پڑے گی۔جبکہ ان مراحل میں دشمن کو ڈٹ کر للکارنے والا ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔“
”کب تک لوٹیں گے ؟“
بہرام کواس کے لہجے سے مفاہمت کی بو آئی۔وہ مسکرایا۔”کہا تو ہے جلد از جلد لوٹنے کی کوشش کروں گا۔یہ جدائی مجھ پر بھی تو گراں گزرے گی۔“
”آپ مجھے اتنی محبت تو نہیں کرتے ناں ،جتنی میں آپ سے کرتی ہوں۔“وہ لاڈ بھری شرارت سے بولی۔
بہرام ترکی بہ ترکی بولا۔”صحیح کہا ….اتنی تھوڑی سی محبت سے میرا گزارا کہاں ہو سکتا ہے۔ میں تو خانم کو اپنی جان سے زیادہ چاہتا ہوں۔“
سبرینہ خوشی سے کھلتے ہوئے بولی۔”اچھا میں نے پدر محترم سے بات کی ہے۔وہ آبائی حویلی خوشی سے ہمارے حوالے کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔میںحویلی کی از سر نو تزئین و آرائش کرا دوں گی۔آپ کی واپسی کے بعد ہم وہیں رہیں گے۔“
”ٹھیک ہے کوئی اور حکم۔“
”بس میرے انتظار کو اتنی طوالت نہ دے دینا کہ امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگے۔“ جدائی کا سوچ کر سبرینہ کی آواز گلو گیر ہونے لگی تھی۔
”دعا کر نا کہ خداوند یزدان کی مدد شامل حال رہے۔“
”آپ ضرور کامیاب لوٹیں گے۔“
”یزدان نے چاہا تو۔“بہرام کے لہجے میں امیدشامل تھی۔
٭٭٭
بنو احمر کے سردار کے قدم خوشی سے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔قتیلہ کی قربت کا خیال ہی ہر قسم کے نشوں پر حاوی تھا۔سارے رستے اس کا گھوڑا ،قتیلہ کے اونٹ کے اطراف میں گھومتارہا تھا۔قتیلہ البتہ سارے رستے سر جھکائے کجاوے میں بیٹھی رہی۔اس نے ایک مرتبہ بھی اس کی جانب نظریں نہیں اٹھائی تھیں۔تیز رفتار قاصد کے ذریعے قبیلے والوں تک سردار کی شادی کی خبر کافی دیر پہلے پہنچ گئی تھی۔ بچے، جوان ،بوڑھے اور عورتیں تمام سردار اور اس کی دلھن کے استقبال کے لیے قبیلے سے باہر منتظر تھے۔ سورج شب باشی کے لیے اپنا سنہری لباس اتار کر سرخ لباس زیب تن کر چکا تھا جب وہ ناچتے گاتے خوشی سے لہراتے سردار کے خیمے کے باہر پہنچے۔خیموں کے قریب پہنچتے ہی قتیلہ کی گردن اٹھ گئی تھی وہ غور سے خیموں کا جائزہ لینے لگی۔ وہ ایک بار پہلے وہاں آچکی تھی لیکن وہ رات کا وقت تھا۔ابھی دن کی آخری روشنی میں اس نے بہ غور سردار کے خیمے اور مضافات کا مشاہدہ کیا تھا۔نہ جانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔ اسے وسیع خیمے کے درمیان میں پڑی بڑی سی مسہری پر بٹھا دیا گیا۔ یہ وہی خیمہ تھا جس میں اس نے سابقہ سردار کی گردن اتاری تھی۔ اور اسی کی پاداش میں اسے دلھن بن کر وہاں آنا پڑا تھا۔
تمام قبیلے کی عورتیں وہاں امڈ آئی تھیں۔چونکہ سابقہ سردار کے قتل کے ساتھ اس کی ذات جوڑی جا رہی تھی اس لیے بھی دیکھنے والیوں کے شوق کو پر لگ گئے تھے۔
وہ بے پروائی کا انداز لیے خاموش بیٹھی رہی۔چند ایک نے اس سے بات چیت کی کوشش کی مگرجواب نہ ملنے پر اپنا سا منھ لے کر رہ گئی تھیں۔سردا ر کے خیمے کے باہر جشن کا سماں تھا۔ یہ شور و غوغا کھانا تیار ہونے تک جاری رہا۔سردار کی طرف سے بہت بڑی ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔اور اس مقصد کے لیے سردار نے شادی کی اطلاع پہنچانے والے قاصد کو ہدایات دے دی تھیں۔
قتیلہ کے لیے بھی ایک لونڈی اونٹ کا بھنا ہواگوشت لے گئی تھی۔وہ اطمینان سے گوشت کو جڑ گئی۔ ایک دلھن کو اس بے تکلفی سے کھانا کھاتے دیکھ کر عورتیں حیران رہ گئی تھیں ،مگر اسے کسی کی حیرانی کی پروا کب تھی۔
بڑی مشکل سے خوردو نوش کے دورانیے کا اختتام ہوا۔قوی الجثہ سردار شراب کے نشے میں جھومتا ہوا حجلہ عروسی کی طرح بڑھا۔شراب کے نشے سے بھی بڑھ کر نوخیز قتیلہ کے شباب کا نشہ اس کے حواس پر طاری تھا۔اس کے قریبی دوست فحش مذاق کرتے ہوئے اس کے ہمراہ چل پڑے تھے۔اسے خیمے کے دروازے تک اسے پہنچا کر وہ رخصت ہو گئے تھے۔
دروازے پر پڑا پردہ ہٹا کر وہ اندر گھسا۔خیمے میں موجود دو تین عورتیں اسے دیکھتے ہی باہر جانے کے ارادے سے کھڑی ہو گئی تھیں۔ان کے باہر نکلتے ہی سردار ذواب نے خیمے کا پردہ اندر سے بند کیا اور خوب صورت سجی ہوئی مسہری کی طرف بڑھا جس پر قتیلہ اطمینان سے بیٹھی تھی۔اس نے ماتھے پر سونے کی گول ٹکیوں اور سنہرے موتیوں سے بنا ہوا ایک قیمتی ہار پہنا ہوا تھا۔موٹی پر کشش آنکھیں سرمے سے مزید سیاہ کیے وہ کسی سلطنت کی شہزادی نظر آرہی تھی۔ذواب قربان ہونے والے لہجے میں بولا۔
”یقینا ہبل مجھ پر مہربان ہے جو اس نے تم جیسی دوشیزہ میری قسمت میں لکھ دی ہے۔“
وہ تیکھے لہجے میں بولی۔”مجھے نہیں لگتا تمھاری خوشی زیادہ دیر برقرار رہ پائے گی۔“
”ہاہاہا….“ذواب نے بے ہودہ انداز میں قہقہ لگایا۔”غلط فہمی ہے تمھاری۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”غلط فہمیاں وہ پالتے ہیں جن سے کچھ ہو نہ پائے۔“
ذواب طنزیہ لہجے میں بولا۔”چار آدمیوں کے ساتھ مل کر میرے سوئے ہوئے بھائی کو قتل کرنا کارنامہ ہی تو ہے۔“
قُتیلہ کے پتلے ہونٹوں پر بے رحمانہ تبسم ابھرا۔اس نے کپڑے میں لپٹی تلوار اٹھا کر نیام سے باہر نکالی۔”یہ تلوار تمھارے بھائی کی تھی۔اصطخر کا عمدہ فولاد جسے حیرہ میں تلوار کی شکل میں ڈھالا گیا۔اس کے مالک کے دماغ میں بھی قتیلہ کے حصول کا کیڑا رینگ رہا تھا۔ اور اسی خیمے میں اسے معلوم ہوا تھا کہ قتیلہ کے ساتھ ٹکرانا کتنا نقصان دہ ہے۔مرنے سے پہلے اس نے گڑگڑاتے ہوئے کہا تھا۔”ہم صلح کر سکتے ہیں۔“اور میں نے جواب دیا تھا ، قتیلہ کو چھیڑنے والے کی پہلی غلطی ہی آخری غلطی ہوتی ہے۔“
ذواب کے چہرے پر غیض و غضب نمودار ہوا۔”میں نے تمھیں بیوی بنا کر ضرورغلطی کی ہے لیکن میرا سلوک تمھارے ساتھ ایسا ہو گا جیسا ایک نچلے درجے کی باندی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔“یہ کہتے ہی وہ جارحانہ انداز میں قتیلہ کی طرف بڑھا۔
پیچھے کی طرف سرکتے ہوئے قتیلہ نے تلوار سیدھی کی۔”اپنی تلوار پکڑ لو ،بعد میں یہ نہ کہنا بے خبری میں مار کھا گئے۔“
”لعنت ہوایک چھوکری سے مار کھانے والے پر۔“ذواب نے اسے کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے تلوار کو ہاتھ سے دور ہٹانا چاہا۔مگر اس سے پہلے ہی قتیلہ نے تلوار کو ہلکا سا اوپر کر کے نوک ذواب کی گردن سے لگا دی۔تلوار کی نوک نے ذواب کے قدموں کو روک دیا تھا۔
”تم بس اپنی سختیوں کو بڑھارہی ہو۔شاید تم جانتی نہیں کہ مجھے کچھ ہو گیا تو تمھارا قبیلہ کن مشکلات سے دو چار ہو جائے گا۔“ذواب کے لیے قتیلہ کا جارحانہ پن گیدڑ بھبکیوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
”جس دن بنو نسر کے سردار نے نا انصافی کا ساتھ دیتے ہوئے میری شادی کا فیصلہ کیا اس دن سے میں نے خود کو طرید(دھتکارا ہوا ) سمجھنا شروع کر دیا۔اب میرا بنو نسر یا اس کے فائدے نقصان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“
ذواب نے کہا۔”بنو احمر سے تو ہے۔“
”تلوار اٹھانے کا آخری موقع دے رہی ہوں۔“قتیلہ نے تلوار کی نوک اس کی گردن سے نہیں ہٹائی تھی۔
ذواب معنی خیز لہجے میں بولا۔”یہ نازک ہاتھ تلوار پکڑنے کے لیے نہیں میرے بالوں میں کنگھی کرنے اور میری ٹانگیں دبانے کے لیے بنے ہیں۔“وہ قتیلہ کو کوئی اہمت دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔
”مرضی تمھاری۔“قتیلہ نے ہونٹ بھینچتے ہوئے تلوار کے دستے پر زور دیا۔تلوار کی تیز نوک ذواب کی نازک گردن میں دھنسنے لگی۔ذواب نے بے ساختہ گردن کو پیچھے کھینچنا چاہا مگر قتیلہ اسے یہ سہولت دینے پر تیار نہیں تھی۔زوردار چیخ مارتے ہوئے اس نے قدم آگے بڑھائے۔تلوار کی نوک ذواب کے گلے میں سوراخ بناتے ہوئے اس کی گردن کے عقب سے نکل گئی تھی۔قتیلہ نے ایک دم تلوار کو واپس کھینچا۔تیز خرخراہٹ کے ساتھ خون کا فوراابل پڑا تھا۔ذواب کی آنکھوں میں بے یقینی اور حیرانی جیسے ثبت ہو گئی تھی۔اس نے زخم پر ہاتھ رکھ کر فوارے کی طرح ابلتے ہوئے خون کو روکنے کی کوشش کی مگر اب وقت گزر گیا تھا۔کچھ بولنے کی کوشش میں اس کے منھ سے بھی خون کی دھار برآمد ہوئی۔اور پھر وہ گھٹنوں کے بل نیچے گرا اور آہستہ آہستہ پیچھے لیٹ گیا۔
قریبی خیموں میں قتیلہ کی زور دار چیخ پہنچی جسے سن کر مردوں کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ جبکہ عورتوں کے چہروں پر حیا آلود سرخی پھیل گئی تھی۔
ایک خیمے سے باہر بیٹھے ہوئے دو دوستوں میں سے ایک نے رائے ظاہر کی۔ ”بڑا خوش قسمت ہے ذواب بن ثابت،سرداری بھی مل گئی اور سردار زادی بھی۔“
دوسرا مسکرایا۔”سردار زادی تو کچھ زیادہ ہی البیلی ہے۔“
پہلے نے منھ بناکر اٹھتے ہوئے کہا۔”یہاں بیٹھ کر کڑھنے کے بجائے سونے کو ترجیح دیتے ہیں یار۔“دوسرا بھی سر ہلاتے ہوئے اپنے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔
سردار کے خیمے کے اندر قتیلہ اطمینان بھرے انداز میںکارروائی جاری رکھے ہوئے تھی۔اس نے تلوار پر لگا خون ذواب کے لباس پر رگڑ کر صاف کیا تلوار واپس میان میں ڈال کر وہ دلھن کا لباس اتارنے لگی۔نیچے اس نے اپنا پسندیدہ لباس پہنا ہوا تھا۔زیور اتار کر اس نے ایک تھیلی میں ڈالے ،خیمے کے ایک کونے میں رکھا تیر کمان اور ترکش اٹھا کر وہ تیار ہو کر بیٹھ گئی۔اس کے انداز میں ذرا بھر گھبراہٹ یا خوف نہیں تھا۔خیمے کے وسط میں بنو احمر کے سردار کی لاش پڑی تھی اور وہ یوں اطمینان سے بستر پر لیٹ گئی جیسے اپنے خیمے میں لیٹی ہو۔
رات آدھی سے زیادہ بیت گئی تھی جب وہ محتاط انداز میں چلتی ہوئی خیمے سے باہر نکلی۔چاند ابھی تک طلوع نہیں ہوا تھا۔لیکن وہ آتے وقت سارا جائزہ لے چکی تھی۔ ضرورت کا سامان اس نے ہاتھوں میں اٹھایا ہوا تھا۔سردار کے خیمے سے متّصل ہی گھوڑوں کا اصطبل بنا ہوا تھا۔گھاس پھونس کا چھپر جس میں تین گھوڑے کھڑے تھے۔ مشعل کی روشنی میں اس نے بہترین گھوڑے کا انتخاب کیا ،کچھ دیر اس کی گردن اور جسم پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اس نے گھوڑے کو سفر کے لیے تیار کیا اور اسے اینٹھی سے کھول کر چھپر سے باہر نکل آئی ،تھوڑی دیر بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر انجانی منزل کی طرف روانہ ہو گئی تھی۔اپنے قبیلے میں اس کی جگہ باقی نہیں رہی تھی اور بنو احمر قبیلہ تو اپنے سردار کی لاش دیکھ کر اس کے خون کا پیاسا ہو جانا تھا۔بنو احمر کا یہ دوسرا سردار تھا جو اس کے ہاتھوں قتل ہو رہا تھا۔
خیموں کے شہر سے نکلتے ہی اس نے گھوڑے کو سر پٹ دوڑا دیا۔اس کا رخ ”الرّملہ “ کی طرف تھا۔ایک مفرور کوصحرائے عظیم ہی چھپنے کی جگہ مہیا کر سکتا تھا۔(یہ دنیا کا سب سے بڑا مسلسل ریگستان ہے۔ بڑا ہی خوفناک اور بے آب و گیاہ صحرا ہے۔ اس میں نباتاتی زندگی کے آثار بہت کم ہیں ، ریت کی دلدل بھی اس میں پائی جاتی ہیں۔ صحرا الربع الخالی کو عام بول چال میں ”الرّملہ“ یعنی ریگزار بولتے ہیں )
٭٭٭
بنو نوفل سے واپس آکر سردار شیبہ نے قبیلے کے معزّزین کو بلایا اورساری کار گزاری ان کے سامنے رکھ دی۔
وہب بن مرشد نے کہا۔”گویا ،بنو نوفل کے سردار کو اپنی کثرت کا کچھ زیادہ ہی زعم ہے۔“
شریم نے منھ بنایا۔”کیا نہیں ہونا چاہیے۔“
صامت بن منبہ نے مشورہ دیا۔”اس سے پہلے کہ وہ حملہ کریں ،ہمیں بنو دیل ،بنو جمل اور بنو لخم کے سرداروں سے مدد مانگ لینا چاہیے۔“
”اتنی آسانی سے تو حملے کی جرّات نہیں کریں گے ،بہ ہر حال تمھارا مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں ہے۔“اس کا اندیشہ جھٹلانے کے باوجود شیبہ نے اس کے مشورے کو پسند کیا تھا۔”تینوں سردار آج ہی واپس گئے ہیں ایک دو دن میں انھیں دوبارہ زحمت دیتے ہیں۔“
مصدع بن عیسان بولا۔”ویسے ہمیں صلح کی کوششیں بھی ترک نہیں کرنا چاہئیں۔بنو اسد بھی ایک بڑا قبیلہ ہے اور اس کے ساتھ ہماری رشتا داری بھی ہے ،سردارقیس بن ربیع کے پاس بھی ایک وفد بھیج کر ان سے صلح کے بارے بات کرنا چاہیے۔“
شریم نے نفی میں سر ہلایا۔”بنو اسد کا سردارقیس بن ربیع ہم سے خفا ہے۔کیوں کہ اس کا بیٹا مظمون بن قیس بھی بادیہ کا امیدوار تھا اور ہم نے رشتے لاج رکھ کر اس کے حق میں فیصلہ نہیں دیا تھا۔“
مصدع بن عیسان مصر ہوا۔”بات کرنے میں کیا حرج ہی ہے۔یوں بھی ہم نے تمام امیدواروں کے درمیان مقابلہ کروا کر فیصلے کی ذمہ داری انھی پر چھوڑ دی تھی۔“
صامت بن منبہ نے خیال ظاہر کیا۔”اگر ہم سردار زادے مظمون بن قیس کو بادیہ کا رشتا دے دیں تو یقینا بنو اسد اس مشکل مرحلے میں ہمارا ساتھ ضرور دے گا۔“
شیبہ نے نفی میں سر کو ہلایا۔”اس صورت میں جنگ نا گزیرہو جائے گی۔“
”تو ہو جائے۔“صامت نے کہا۔”میرا نہیں خیال بنو نوفل جنگ سے باز آئیں گے۔“
”باقیوں کی کیا رائے ہے ؟“شیبہ نے صامت کی بات سن کر شرکائے محفل کی طرف سوالیہ نظروں سے گھورا۔
وہب بن مرشد نے کہا۔”ہمیں بھی یہی مناسب لگ رہا ہے۔“باقی تمام کے اثبات میں ہلتے ہوئے سر بھی وہب بن مرشد کی تائید کرتے نظر آرہے تھے۔
شریم نے دبے لہجے میں کہا۔”بادیہ کے لیے میں یشکر کو مناسب سمجھ رہا تھا۔“
”اس کا نام مت لینا۔“شیبہ کے منھ میں کڑواہٹ گھل گئی تھی۔”پہلے بھی اس کی وجہ سے اس مصیبت میں پھنسے ہیں۔اگر بادیہ کا رشتا اس سے طے ہو گیا تو بنو نوفل والے اسے اپنی توہین جانیں گے اور انھیں پہلے تو شک ہے کہ ہم یشکر کے ساتھ اس معاملے میں شامل تھے بعد میں یقین ہو جائے گا۔“
”یشکر کا تعلق ایک اچھے خاندان سے ہے۔“شریم نے کوشش جاری رکھی تھی۔
شیبہ نے حتمی لہجے میں کہا۔”ایک عجمی چاہے کتنا اچھا نسب رکھتا ہوااس کے لیے میں نہ تو عربی سردارروں کے رشتے ٹھکرا سکتا ہوں اور نہ اپنے قبیلے پر جنگ مسلط کر سکتا ہوں۔“
شریم افسوس بھرے لہجے میں بولا۔”اب وہ عجمی نہیں آپ کے بھائی کا منھ بولا بیٹا ہے اور اسی کی وجہ سے آپ کا بھائی زندہ بیٹھا ہوا ہے۔“
شیبہ بے پروائی سے بولا۔”میرے بھائی کی جان بچانے کا انعام اسے غلامی سے آزادی کی صورت میں حاصل ہو چکا ہے اور شکر کرو کہ بادیہ کہ تینوں بھائی تجارتی قافلے کے ساتھ قبیلے سے باہر ہیں ورنہ تمھارے منھ بولے بیٹے کی زندگی کی ضمانت جانے کب کی ضبط ہو گئی ہو تی۔“انھیں بحث پر آمادہ دیکھ کر باقیوں نے وہاں سے کھسکنے کی کوشش کی مگر شیبہ نے انھیں ہاتھ سے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا۔
”میں بادیہ کو بہو بنانا چاہتا ہوں۔“شریم مصر رہا۔
”اگر ممکن ہوتا تو مجھے ہاں کرنے میں تامّل نہ ہوتا۔مگر میں بادیہ کا رشتا بنو اسد کے سردار زادے سے طے کر کے بنو نوفل کے مقابلے کے لیے ایک تگڑا حلیف حاصل کرنا چاہتا ہوں۔“
شریم ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا۔
”تو طے ہو گیا ، کل شریم ،بنو اسد کا رستا ناپے گا۔“شریم کو خاموش پا کر شیبہ نے حتمی فیصلہ سنا دیاتھا۔ تمام سر ہلاتے ہوئے رخصت ہونے لگے۔شریم سقیفہ شیبہ سے نکل کر گھر کی طرف بڑھ گیا۔ وہ بڑے بھائی سے خفا تھا لیکن حقائق کامشاہدہ کرنے پر شیبہ اسے حق پر نظر آتاتھا۔ بنو نوفل قبیلہ ،بادیہ کے مطالبے پر اس طرح ڈٹا تھا کہ سر مو پیچھے نہیں ہو رہا تھا۔اور ایک یقینی جنگ ٹالنے کے لیے سردار شیبہ کو کوئی نہ کوئی حل تو سوچنا تھا۔
یہی سوچیں دماغ میں پالے وہ گھر کی طرف بڑھتا گیا۔آسمان پر بادل اکٹھاہونے شرو ع ہو گئے تھے اور ایسا موسم عرب کے لیے بہت پسندیدہ ہوتا ہے کیوں کہ گرمی کی شدت سے لڑنے کے علاوہ بادل ان کی پانی کی ضروریات کو بھی پورا کرتے تھے۔اگرز یادہ عرصہ بارش نہ ہوتی تو کنوﺅں میں پانی خشک ہونے لگتا تھا۔اس کے گھر پہنچنے تک ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی تھی۔یشکر بے چینی سے اس کا منتظر تھا ،کیوں کہ گھر سے جاتے وقت وہ وعدہ کر کے گیا تھا کہ شیبہ سے بادیہ کے رشتے کی بات کرے گا۔اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
”ابا جان، بات کر لی تھی ؟“
وہ بغیر لگی لپٹی رکھے بولا۔”میں پہلے سے بتا کر گیا تھا کہ انکار کے لیے دل کشادہ رکھنا۔“
”وجہ ؟“یشکر کے چہرے پر اذیت نمودار ہوئی۔
شریم صاف گوئی سے بولا۔”قبیلے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور بادیہ کا رشتا بنو اسد میں طے کر کے ہم ایک مضبوط حلیف کے بل پر یہ جنگ ٹال سکتے ہیں۔“
”گویا جنگ ٹالنے کے لیے ایک معصوم لڑکی کوبھینٹ چڑھنا پڑے گا۔“
شریم ناگواری سے بولا۔”اس کی شادی ایک سردار زادے سے ہورہی ہے وہ کوئی بھینٹ نہیں چڑھ رہی۔“
”اس کی مرضی دریافت کی ہے ؟“
”یشکر ،تم اپنے دل میں کب تک غلط فہمیاں پالتے رہو گے۔تمھارااعلیٰ ایرانی نسب عرب دوشیزہ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔“
”پھر ایساکریں کہ بادیہ کے حصول کے خواہش مند افراد کے لیے ایک شرط مجھ سے مقابلے کی بھی رکھ دیں میں بھی دیکھوں عرب سردار کتنے سورما ہوتے ہیں۔“
”نسب کی اہمیت لڑائی جھگڑے سے بڑھ کر ہے۔ایک عجمی شاہ سوار بے شک عربی جنگجو کو شکست دے لے گا ،مگر ایک عرب دو شیزہ کے لیے پھر بھی عربی جنگجو ہی قابل قبول ہو گا۔“شریم نے اسے آئینہ دکھایا۔
یشکر ہٹ دھرمی سے بولا۔”میرا نہیں خیال کہ بنو جساسہ والے بنو نوفل اور بنو اسد سے ایک ساتھ ٹکرا لیں گے۔“اس نے واضح انداز میںسردار زادے مظمون بن قیس کو قتل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
شریم نے معنی خیز انداز میں جواب دیا۔”پچھلی بار ہم نے غفلت برتی تھی۔اس بار نہ صرف تمھاری نگرانی ہو گی بلکہ سردار زادے مظمون بن قیس کی حفاظت کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا جائے گا۔“
یشکراس کی بات کا جواب دیے بغیر ہونٹ بھینچتا ہوا گھر سے نکل آیا۔آسمان پر چھائے بادل مزید گہرے ہو گئے تھے۔البتہ بوندا باندی رک گئی تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ پانی کے کنوئیں سے ملحق نخلستان کے قریب پہنچ گیا تھا۔حسب عادت بادیہ وہاں اپنی سہیلیوں کے ہمراہ موجود تھی۔اسے نزدیک آتا دیکھ کر وہ بپھر گئی تھی۔
”تمھیں اتنی تمیز تو ہونی چاہیے کہ لڑکیوں کی محفل میں یوں منھ اٹھائے نہ پہنچ جاﺅ۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”میرے باپ کا نخلستان ہے ،مجھے کسی سے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے۔“وہ نخلستان شریم کی ملکیت تھا۔
”گھٹیا ایرانی۔“غصے میں وہ گالیاں بکنے سے بھی باز نہیں آئی تھی۔
”گھٹیا میں ہوں یا تمھارے شوہر کا خاندان جن سے اپنے جوان کی شکست برداشت نہیں ہو پا رہی۔“یشکر کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”ایک سوئے ہوئے آدمی کو قتل کرنا بہادری نہیں ہوتی۔اور تمھیں میرا سامنا کرتے ہوئے تھوڑی سی شرم تو آنی چاہیے کہ وہ میرا شوہر تھا۔“
”تمھارے سر کی قسم میں نے نہ صرف اسے نیند سے جگایا تھا بلکہ اچھی طرح تیاری کا موقع دیا تھا۔“
” میں تو گویاتمھاری جھوٹی قسم پر یقین کر لوں گی۔“بادیہ نے ناگواری سے منھ بنایا۔
”ابا جان بتا رہے تھے کہ سردار تمھارا رشتا بنو اسد کے سردار زادے مظمون بن قیس سے طے کرنے والا ہے۔کیا تمھیں یہ رشتا منظور ہے۔“بادیہ کے ناگواری کے اظہار کے باوجود وہ ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔
”تمھارے علاوہ کوئی بھی ہو منظور ہے۔“
وہ حسرت سے بولا۔”کاش میں کہہ سکتا کہ پچھتاﺅ گی۔“
”میں تو کہہ سکتی ہوں ،جلد ہی میرے بھائی لوٹ آئیں گے اور یقین مانواس وقت تمھارا پچھتانا کسی کام نہیں آئے گا۔“اسے دھمکی دیتے ہوئے ہوئے وہ اپنی سہیلیوں کی جانب مڑی جو ان کی گفتگو دلچسپی سے سن رہی تھیں۔”چلیں ،اس منحوس کی موجودی میں تو ہم نہیں کھیل سکیں گی۔“ اس نے اپنی سہیلیوں کا جواب سننے کے لیے لمحہ بھر رکنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ وہ تمام گہری نظر سے یشکر کا جائزہ لے کر اس کے پیچھے چل پڑی تھیں۔
یشکر مایوسی بھری نظروں سے بادیہ کو دور جاتے دیکھتا رہا۔اس کے اوجھل ہوتے ہی وہ درختوں سے بندھے جھولے کے قریب پہنچا اور ریت پر بیٹھ کر اپنی پیٹھ جھولے کے ساتھ ٹیک دی۔یوں کہ اس نے بازوجھولے کی رسیوں سے دائیں بائیں گزار کرچھاتی پر باندھ لیے تھے۔
بادل گھنے ہوتے جا رہے تھے۔ساتھ ہی ہلکی ہلکی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی۔اور پھر بوندا باندی شروع ہو گئی۔جس کا یہ فائدہ ہوا کہ ہوا میں شامل ریت کے ذرات نیچے بیٹھ گئے تھے۔بارش شروع ہوتے ہی وہ کھڑا ہو گیا۔چند جوان گھوڑوں کو سرپٹ دوڑاتے ہوئے کنوئیں کے قریب سے گزر کر مشرق کی جانب بڑھتے گئے۔ان کے کندھوں پر لٹکتی کمانیں ظاہر کر رہی تھیں کہ وہ موسم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ شکار کا ارادہ رکھتے ہیں۔زیادہ تر لوگ گھروں سے نکل کر ٹولیوں کی شکل میں دائیں بائیں گھوم رہے تھے۔وہاں کافی وقت گزارنے کے باوجود اس نے کوئی خاص دوست نہیں بنائے تھے۔ یوں بھی بنو جساسہ آمد کے ساتھ اسے بادیہ کا روگ لگ گیا تھا جس نے اسے کسی دوسرے کام کے قابل نہیں رہنے دیا تھا۔
بارش کی رفتار میں تیزی آگئی تھی۔ہوا کی وجہ سے پانی کی بوندیں بوچھاڑ کی طرح اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں۔وہ بھیگتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا البتہ سیدھا گھر کا رخ کرنے کے بجائے وہ چکر کاٹ کر شیبہ کے گھر کے سامنے سے گزر ا تھا۔سردار شیبہ کی حویلی سے تھوڑا آگے بڑھتے ہی اس کا نخل تمنا کھل اٹھا تھا۔سامنے سے بادیہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی اپنی حویلی کی طرف چلی آرہی تھی۔ گیلا لباس اس کے نوخیز بدن سے چپک کر بہت سارے مخفی رازوں کو آشکارا کر رہا تھا۔اس نے اوڑھنی کو احتیاط سے جسم کے گرد لپیٹا ہوا تھا لیکن اوڑھنی بھی گیلی ہو کر اپنی ذمہ داری نبھاہنے میں ناکام نظر آرہی تھی۔ اس پر نظر پڑتے ہی یشکر کے قدم ٹھٹک کر رکے اور منھ سے گہرا سانس خارج ہوا۔اس نے بھی یشکر کو پہچا ن لیا تھا۔اور یشکر پرنظر پڑتے ہی وہ اپنی حویلی کی دیوار کی طرف سمٹ گئی تھی۔یوں جیسے یشکر کی بے باک نگاہوں سے بچنا چاہتی ہو۔
بے ساختہ اس کے ہونٹوں سے نکلا۔”بادیہ !“
اپنا نام سنتے ہی ایک لمحہ کے لیے اس کے قدم آہستہ ہوئے اور پھر اس نے رفتار تیز کرنا چاہی۔ اسی وقت یشکر نے دوبارہ پکارا۔
”بادیہ بات سنو۔“وہ جانتا تھا بادیہ نہیں رکے گی۔اور اگر اس نے بہت زیادہ مہربانی کر بھی دی تو کوئی تیز و تند بات کر کے آگے نکل جائے گی مگر اچانک ہی اس کے قدموں کی حرکت آہستہ ہوئی اور وہ ایک دم رک گئی۔البتہ منھ سے اس نے کچھ نہیں بولا تھا۔
یشکر نے قریب ہو کر گہرا سانس لے کر اس کی خوشبو اپنے رگ و پے میں اتاری اور پھر دھیرے سے بولا۔
”شکریہ۔“
”میں صرف یہ کہنے کو رکی ہوں کہ تمھاری وجہ سے میری بدنامی ہو رہی ہے۔ابو جان میں اتنا حوصلہ موجود ہے کہ وہ چچا جان کی وجہ سے تمھاری حرکتوں سے صرف نظر کیے ہوئے ہیں۔لیکن جب میرے بھائی آجائیں گے تو ابوجان انھیں قابو نہیں کر سکیں گے۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ میں کسی صورت تمھارے ساتھ شادی نہیں کر سکتی۔اگر مجھے مرضی سے شادی کرنے کا موقع مل جائے تب بھی نہیں۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ میرا خیال دل سے نکال دو ،میں نہیں چاہتی کہ تمھاری یاد ہمیشہ نفرت کی صورت ہی میرے دل میں جاگزیں رہے۔“یہ کہتے ہی اس کے رکے ہوئے قدم دوبارہ متحرک ہوگئے۔ یشکر کی آنکھیں اس کے دلنشیں بدن کو گھورتی رہ گئی تھیں۔وہ اس کے حویلی میں گھسنے تک وہیں کھڑا اسے گھورتا رہا۔نہ معلوم بادیہ کے ان الفاظ میں کیسی چاشنی تھی کہ اس کے دل کی دنیا اتھل پتھل ہو رہی تھی۔حویلی کے دروازے پر ایک لمحے کے لیے رک کر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور یشکر کو وہیں کھڑا پا کر بے نیازی سے کندھے جھٹکتے ہوئے ذیلی کھڑکی کھول کر گھر میں داخل ہو گئی تھی۔
تیز برستی ہوئی پھوار گویا اس کے دل پر پڑ رہی تھی۔بادیہ نے بغیر غصے کا اظہار کیے اس سے اتنی لمبی بات جو کی تھی۔جانے وہ کتنی دیر وہیں کھڑا حویلی کے دروازے کو گھورتا رہتا کہ اچانک بادل زور سے گرجے اور بارش کی رفتار میں اضافہ ہو گیا۔
یشکر جھرجھری لیتا ہوا بادیہ کے سحر سے نکلا اور گھر کی جانب بڑھ گیا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: