Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 18

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 18

–**–**–

”میں نہیں چاہتی کہ تمھاری یاد ہمیشہ نفرت کی صورت ہی میرے دل میں جاگزیں رہے۔“ بادیہ کے اس فقرے میں کوئی ایسا پیغام پوشیدہ تھا کہ وہ سونے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔گویا وہ اس سے نفرت ترک کرنے کی متمنی تھی اور نفرت کے بعد اگلا قدم ہمدردی اور اس کے بعد محبت کا ہوتا ہے۔وہ رات گئے تک جاگتا رہا۔اس نے اپنی سوچوں کو بادیہ کے سحر انگیز وجود سے پھیرنے کی بہت کوشش کی مگر نہ تو سکندر کی یادیں اس کی جان چھڑا سکیں نہ سبرینہ کی موہنی صورت بادیہ کی جگہ لے سکی۔اپنی منھ بولی بہنوں وتینہ ،سلمیٰ اور ثانیہ کا خیال بھی اس ضمن میں کسی کام نہیں آ سکا تھا۔اس کی سوچیں بادیہ سے شروع ہو کر اسی پر اختتام پذیز ہو رہی تھیں۔
رات گئے اسے فطری تقاضے سے حجرے سے باہر جانا پڑا۔بارش کی رفتا ر دھیمی ہو گئی تھی۔ البتہ بادلوں نے پہلے کی طرح آسمان کو گھیرا ہوا تھا کہ کو ئی ستارا بھی نظر نہیں آرہا تھا۔واپس حجرے میں داخل ہوتے وقت اسے اچھی خاصی ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی۔ دروازہ بند کر نے کے لیے اس نے رخ موڑا اسی وقت بجلی چمکی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے دیوار پر کسی آدمی کا سر دیکھا ہو۔وہ رک کر غور سے اس جانب دیکھنے لگا۔اسی وقت بجلی دوبارہ چمکی ،دیوار کے اوپر ابھرنے والا سر اب پورے جسم میں تبدیل ہو گیا تھا۔جو کوئی بھی تھا وہ دیوار پر چڑھ کر اندر کی جانب لٹک گیا تھا۔اوررات کے وقت گھر میں دیوار پھلانگ کر آنے والا کبھی دوست نہیں ہو سکتا تھا۔یشکر فوراََ بستر کے ساتھ کھڑی تلوار کی طرف لپکا ،اگلے ہی لمحے صاعقہ اس کے ہاتھ میں تھی۔وہ بھاگتے ہوئے باہر کو بھاگا ،دیوار سے کودنے والا شخص حویلی کا دروازہ کھول کر اپنے ساتھیوں کو اندر بلا رہا تھا۔ان کی تعداد پانچ تھی۔یقینا وہ چور تھے۔شریم کو ہوشیار کرنے کے لیے یشکر نے زوردار آواز میں چوروں کو للکارا ،لیکن بجائے ڈرنے کے ان کے ہتھیار بے نیام کرنے کی آواز یں یشکر کے کانوں میں پڑیں۔یشکر نے بھی صاعقہ کو بے نیام کر کے نیام کو لپیٹ کر ڈھال کی طرح بائیں ہاتھ میں پہن لیا تھا۔
اسی وقت شریم مشعل لیے حجرے کے دروازے پر نمودار ہوا گھپ اندھیرے میں مشعل کی روشنی نے حملہ آوروں کے ہیولوں کو واضح کر دیا تھا۔
”یہی غلام ہے۔“حملہ آوروں میں سے ایک نے یشکر کی طرف اشارہ کیا۔
”تو تمھارا تعلق بنو نوفل سے ہے۔“شریم مشعل کو دیوار میں پھنسا کر آگے بڑھا۔اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار موجود تھی۔
تھوڑے فاصلے پر چیخ و پکار کی آواز ابھری۔جو بتدریج بڑھتی گئی۔قبیلے کی مغربی اور جنوبی سمت سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔یقینا حملہ آوروں نے کچھ گھروں کو آگ لگادی تھی۔
اسی شخص نے نخوت سے جواب دیا۔”ہاں ،تم تمام بنو نوفل ہی کے غلام بننے والے ہو۔“
”شاید تمھاری بات سچ ہو ،مگر یہ دیکھنے کے لیے یقینا تم موجود نہیں ہو گے۔“یشکر یہ کہتے ہی بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھا ،مخالفین بھی تیار تھے۔ تلواریں سونت کر وہ نیم دائرہ بنا کر آگے بڑھے۔ پہلے آدمی کا وار ڈھا ل پر روک کر یشکر نے اگلے حملہ آورکا وار جھکائی دے کر خطا کیا اور تیسرے کے نرخرے کی طرف اس کی تلوار اس سرعت سے بڑھی کہ اس کی ششدر آنکھیں اپنے بے سر کا لاشہ دیکھ رہی تھیں جبکہ ہونٹ اذیت کی وجہ سے کھل گئے تھے۔تیسرے نمبر والا وہی تھا جو انھیں غلامی کی خبر سنا رہا تھا۔
اس کی گردن اتارتے ہی یشکر کی حرکت نہیں رکی تھی۔چوتھے آدمی کی چھاتی میں اس کی زوردار لات لگی ،پانچویں کا وار اپنی ڈھال پر روک کر صاعقہ اس کے نرخرے کو ادھیڑتی ہوئی گردن سے پار ہو گئی تھی۔تلوار اس کی گردن سے نکالے بغیر یشکر نے اس کے تکلیف سے لرزتے جسم کو گھما کر اپنے لیے ڈھال کا کام لیا۔اسی وقت اس کے ایک ساتھی کی تلوار نے اس کی کھوپڑی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا۔یہ وار یشکر کے جسم پر کیا گیا تھا ،لیکن یشکر نے وہ جگہ چھوڑ کر اس کے ساتھی کو وہاں دھکیل دیا تھا۔ تلوار اپنے ساتھی کی کھوپڑی میں گھستے دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکا اور اسی وقت یشکر نے صاعقہ کو اس کے ساتھی کی گردن سے نکال کر اس کے جسم پروار کیا۔بدقت تمام اس نے ڈھال پر یشکر کا وار سہا تھا۔ یشکر ایک وار کر کے رکا نہیں تھا بلکہ وہ تابڑ توڑ اس پر حملے کرتا گیا۔ان کا آخری ساتھی شریم کے ساتھ برسر پیکار تھا۔اور پھر ایک ساتھ ہی شریم اور یشکر نے اپنی مخالف کے جسم میں تلواریں گھونپ دی تھیں۔
”آخر وہی ہوا جس سے میں ڈر رہا تھا۔“ تلوار حملہ آور کے لباس سے صاف کرتے ہوئے شریم نے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔
شریم کی بیویاں باہر نکل آئی تھیں۔ ان کے چہروں پر بھی پریشانی ہویداتھی۔
یشکر بولا۔”ہمیں لوگوں کو اکٹھا کر کے مقابلے کے لیے تیار کرنا پڑے گا۔“
”یہ بد بخت بادیہ اور تمھیں لے جانے آئے ہیں۔یقیناسردار کے گھر پر بھی ان کے کچھ افراد پہنچ گئے ہوں گے۔تم وہاں پہنچو۔اور بادیہ کو ساتھ لے کر نکل جاﺅ۔“
یشکر طوعن و کرھن بولا۔”مگر میری یہاں زیادہ ضرورت ہے۔یوں بھی بادیہ میرے ساتھ جانے پر تیار نہیں ہو گی۔“
”سردار کو تمھاری بات کی سمجھ آ جائے گی ،کیوں کہ تم دونوں کا بنو نوفل کے ہاتھ لگنا ہمارے لیے باعث عار ہے۔“
یشکر لجاجت سے بولا۔”آپ بھی ساتھ چلیں نا۔“
شریم نے نفی میں سر ہلایا۔”اس وقت میرا قبیلے سے نکل بھاگنا بزدلی کے لیے ضرب المثل بن جائے گا۔اورمیں اپنے ساتھ بزدل کا سابقہ لاحقہ نہیں لگا سکتا۔“
”آپ میرے لیے کیوں ایسی زندگی کا انتخاب کر رہے ہیں جس پر خود موت کو ترجیح دے رہے ہیں۔“
”تمھاری جگہ اگر میں ہوتا تو بھاگ جانے ہی کو ترجیح دیتا۔کیوں کہ تم دونوں کا دشمن کے ہاتھ نہ آنا ان کی آدھی شکست ہے۔باقی دشمن اتنی تعداد میں حملہ آور ہو چکے ہیں کہ ان کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔ اب بس جان دی جا سکتی ہے یا ہتھیار پھینکے جا سکتے ہیں۔تیسرا رستا باقی نہیں بچا۔“
”بھاگابھی تو جا سکتا ہے۔“
”چند بندے ہی جان بچا کر بھاگنے میں کامیا ب ہوں گے۔اور مناسب یہی ہے کہ بھاگتے ہوئے مرنے کے بجائے مقابلہ کر کے موت کو گلے سے لگایا جائے۔ باقی جہاں تک تمھارا معاملہ ہے تو تم فارس جا کر آسانی سے پناہ لے سکتے ہو۔ بادیہ کو بھی ساتھ لے جانا۔“یہ کہتے ہوئے شریم پھیکے انداز میں مسکرایا۔”یوں بھی تم اسی کے لیے قبیلے میں پڑے ہو ورنہ تم جیسا جنگجو کب کا اپنا رستا علاحدہ کرچکا ہوتا۔“
یشکر شاکی ہوا۔”اگر میں آپ کو ایسا نظر آتا ہوں تو بیٹا کیوں بنایا ہے۔“
”بحث کو طول دینے کے بجائے بادیہ کو بچانے کی فکر کرو۔جتنی دیر کرو گے دشمن کے گھیرے میں پختگی آتی جائے گی۔اس کے بھائی بھی گھر میں موجود نہیں ہیں اور فی الوقت تم ہی ایسے شہسوار ہو جو بادیہ کو بچا کر محفوظ مقام تک لے جا سکتا ہے۔“
یشکر کے دل میں نہ تو بنو جساسہ کی محبت بسی تھی اور نہ اسے قبیلے کی شکست و فتح سے فرق پڑتاتھا۔ اس کے لیے اگر کوئی اہم تھا تو بادیہ کا وجود تھا۔ اور اس کے بعد شریم اور اس کی بیٹیوں کا نمبر آتا تھا۔ اور وتینہ ،سلمیٰ و ثانیہ تو یوں بھی محفوظ مقام پر موجود تھیں۔پیچھے شریم رہ جاتا تھا جو خود بہترین جنگجو تھا اور اسے یشکر کی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں تھی۔
ایک لمحہ سوچنے کے بعد وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔
”عنبر کو ساتھ لے جاﺅ ،اس سے بہتر سواری کہیں نہیں ملے گی۔“شریم نے اپنے کمیت گھوڑے کا نام لیتے ہوئے اسے پیشکش کی۔اور یشکر کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے قدم اصطبل کی طرف مڑ گئے۔تھوڑی دیر بعد وہ عنبر پر زین ڈالے سردار شیبہ کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔مختلف گھروں میں اسے بنو نوفل کے حملہ آورگھسے نظر آرہے تھے۔زیادہ تر گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ بنو جساسہ کے جنگجو مقابلہ کرنے کی ناکام سعی کر رہے تھے۔قبیلے کے حالات دیکھتے ہوئے اسے شریم کا مشورہ نہایت مناسب معلوم ہو رہا تھا۔لیکن اس کے ساتھ اسے یہ خوف بھی دامن گیر تھا کہ نا معلوم بادیہ کا کیا حال ہو گا یہ بھی ممکن تھا کہ بنو نوفل والے اب تک اسے پکڑ کر لے گئے ہوں۔ ایسی صورت میں وہ اسے آزاد نہ کرا پاتا۔
اچانک گلی میں دو گھڑ سوار نمودار ہوئے انھوں نے ہاتھوں میں مشعلیں اٹھا رکھی تھیں۔
”کون ہو تم ؟“انھوں نے مشعلیں اوپر اٹھا کر یشکر کو پہچاننا چاہا۔ان کا تعلق بنو نوفل ہی سے تھا۔گلی میں وہ اس طرح کھڑے تھے کہ ان سے تعرض کیے بغیر آگے جانا ممکن نہیں تھا۔
اس کا ادراک اسے پہلے سے تھا اورایسی صورت حال سے نبٹنے کے لیے وہ ذہنی و جسمانی طور تیار بھی تھا۔ان کے درمیان سے گزرنے کے بجائے وہ دائیں طرف والے گھڑ سوار کی جانب سے گزرا ، اسے بھی یشکر کے انداز سے خطرے کا پتا چل گیا تھا مگر اس کی بدقسمتی کہ وہ خطرے کے حجم کا اندازہ نہیں کر سکا تھا۔ اس کا یشکر پر کیا ہوا وار یشکر کے سر جھکانے کی وجہ سے خطا گیا تھا لیکن اس کی چھاتی پر پہنی ہوئی زرہ کسی کام نہیں آ سکی تھی۔ صاعقہ کی تیز نوک اس کی ٹھوڑی کے نیچے گردن سے پار ہو گئی تھی۔
”معذرت خواہ ہوں دوست کہ تعارف کرانے کا وقت نہیں ہے۔“اطمینان سے کہتے ہوئے اس نے مقتول کے گھوڑے کو صاعقہ کی نوک چبھوئی ،گھوڑا بدک کر گلی میں بھاگا اس طرح کہ اس کے مالک کی لاش رکاب میں پاﺅں پھنسنے کی وجہ سے ساتھ گھسیٹتی ہوئی جا رہی تھی۔
گھوڑے کے درمیان سے ہٹتے ہی یشکر دوسرے گھڑسوار کی طرف متوجہ ہوا جو اپنے ساتھی کے قتل پر غضب ناک انداز میں اس کی جانب بڑھا تھا۔اس کے تابڑ توڑ حملوں کو یشکر نے ڈھال پر سہارا تین چار وار خطا کرنے کے بعد ہی اسے موقع مل سکا تھا۔مخالف کا ہاتھ کلائی سے کٹ کر تلوار کے ساتھ نیچے جا گرا تھا۔اس کے ہونٹوں سے اذیت بھری کراہ خارج ہوئی اور اس نے بے ساختہ بائیں ہاتھ سے دائیں کلائی کو تھاما جس سے خون فوارے کی طرح ابل رہا تھا۔ایسا کرنے کے لیے اسے مشعل ہاتھ سے چھوڑنا پڑی تھی۔اس کے ساتھ ہی اس نے دونوں ٹانگیں ہلا کر گھوڑے کو بھگانا چاہا ،سدھایا ہوا گھوڑا تیزی سے آگے بڑھا، مگربہت زیادہ سرعت کے باوجود گھوڑا مالک کے بے سر وجود ہی کو لے کر آگے بڑھ سکا تھا۔اس کی گردن ہوا میں اڑتی ہوئی دیوار سے جا ٹکرائی تھی۔اس گھر کے اندر سے عورتوں کے چیخنے کی آوازیں تسلسل سے آرہی تھیں مگر یشکر کے پاس وقت نہ ہونے کے برابر تھا۔وہ سرعت سے آگے بڑھ گیا۔سردار کی حویلی تک پہنتے ہوئے اس نے دو اور حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا تھا۔
سردار کی حویلی کا دروازہ کھلا تھا۔وہ بگولے کی طرح اندر گھستا چلا گیا۔حویلی کے وسیع صحن میں سردار شیبہ شیر کی طرح دھاڑتا ہوا بنو نوفل کے حملہ آوروں سے برسر پیکار تھا۔پانچ حملہ آوروں نے اسے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔جبکہ باقی گھر کی چارعورتوں کو قابو کرنے میں مصروف تھے۔ان عورتوں میں بادیہ بھی موجود تھی۔
حملہ آوروں نے یشکر کو اپنا ساتھی سمجھا تھا ،جب تک انہیں حقیقت کا ادراک ہوتا شیبہ کو گھیرنے والے پانچ آدمیوں میں سے دو کے سر اور دھڑ کے درمیان صاعقہ جدائی ڈال چکی تھی۔ان میں سے ایک آدمی زخمی سردار کے ساتھ مصروف پیکا ررہا جبکہ دو آدمی یشکر کی طرف متوجہ ہوئے ،وہ چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اترا بادیہ کی چیخیں اور سسکیاں سن کر اس کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا تھا۔
قریب آنے والے پہلے حملہ آور کی چھاتی میں زور دار لات رسید کرتے ہوئے اس کی تلوار دوسرے حملہ آور کی تلوار سے ٹکرائی۔حملہ آور نے تلوار پیچھے کھینچ کر دوبارہ گھمائی ،اسی اثناءمیں یشکر نے گھومتے ہوئے اس کی جانب پیٹھ موڑی اور گھٹنوں میں خم دیتے ہوئے یوں نیچے ہوا کہ مخالف کی تلوار زن سے اس کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھی۔اور پھر مخالف کے سنبھلنے سے پہلے صاعقہ اس کے پیٹ میں شگاف ڈال چکی تھی۔تلوار کو مروڑ کر یشکر نے اس انداز میں کھینچا کہ اس کے ساتھ مخالف کی انتڑیاں بھی باہر آ گری تھیں۔اس وقت تک پہلا حملہ آور نیچے سے اٹھ کر دوبارہ حملہ کر چکا تھا۔یشکر نے دو وار ڈھال پر روکے اور تیسرے وار سے پہلے اس نے چکر کاٹتے ہوئے یوں صاعقہ کو گھمایا کہ اس کی کھوپڑی دو ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی ،اوپر والا گول حصہ سردار شیبہ کے قدموں میں جا گرا تھا جو اس وقت تک اپنے مخالف کا بازو کاٹ کر اس کی گردن پر وار کرنے والا تھا۔
یشکر فی الفور بادیہ کی جانب بڑھا۔برآمدے میں جلتی مشعلوں کی روشنی میں اسے بادیہ مخالف سے جان چھڑانے کی کوشش کرتی نظر آرہی تھی۔فربہی مائل ،خوش بدن دوشیزہ کے بدن میں اتنی طاقت موجود تھی کہ وہ اکیلے آدمی کے قابو میں نہیں آرہی تھی۔
اچانک شیبہ کی بیویوں کو قابو کیے ہوئے حملہ آوروں نے تینوں عورتوں کی گردن پر خنجر پھیرتے ہوئے انھیں تڑپنے کے لیے زمین پر پھینکا اور وہ خود یشکر اور شیبہ کی طرف بڑھے۔اپنی بیویوں کو قتل ہوتے دیکھ کر ایک لمحے کے لیے شیبہ سن ہو گیا تھا۔”امی جان ….“پکارتے ہوئے بادیہ کے منھ سے بھی زور دار چیخ نکلی تھی۔
اس دوران ایک حملہ آورتلوار نکال کر شیبہ کے قریب پہنچ گیا تھا۔ شیبہ پہلے سے زخمی تھا ،حملہ آور کے وار کے سامنے اس نے ڈھال پکڑنے کی کوشش کی مگر اس کی تلوارکی نوک ڈھال کی کھال سے پھسلتی ہوئی شیبہ کی پسلیوں میں پیوست ہو گئی تھی۔ اذیت بھری تیز کراہ شیبہ کے منھ سے برآمد ہوئی مگر اس نے ہمت کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔اس کا دایاں بازو حرکت میں آیا اور اس سے پہلے کہ حملہ آور تلوار واپس کھینچ پاتا اس کی تلوار آدھی سے زیادہ حملہ آور کے پیٹ میں گھس گئی تھی۔دونوں گھائل ہو کر گھٹنوں کے بل نیچے گرے ،شیبہ نے اپنی تلوار چھوڑ کر ایک دم مخالف کی کمر سے بندھے ہوئے نیام سے خنجر کھینچا اور اس کی گردن پر پھیر دیا۔
یشکر پر حملہ آور ہونے والے آدمی کے ہاتھ میں لمبے دستے والا نیزہ تھا۔اس نے نیزہ سیدھا تان کر یشکر کے قریب آنے کی کوشش کی ،ایک دم کمر سے بندھی نیام سے چھوٹے دستے اور لمبے پھل والا خنجر نکال کر یشکر نے پھل کی جانب سے پکڑا اگلے ہی لمحے وہ خنجر کمان سے نکلے تیر کی طرح مخالف کی گردن کی طرف بڑھا ،اس کے پاس بچنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تیز دھار خنجر دستے تک اس کی گردن میں گھس گیا تھا۔
شیبہ اب تک زندہ تھا مگر اس کی مدد سے پہلے بادیہ کو بچانا ضروری تھا۔اکیلا بچ جانے والا حملہ آور اپنے ساتھیوں کو قتل ہوتا دیکھ کر گھبرا چکا تھا۔اس نے دھکا دے کر بادیہ کو یشکر کی جانب دھکیلا اور خود حویلی کے بیرونی دروازے کی جانب بھاگا۔یشکر نے بادیہ کو نظر انداز کرتے ہوئے زمین پر پڑا نیزہ اٹھایا اور اس پہلے کہ حملہ آور دروازے تک پہنتا ،نیزہ سنسناتا ہوا اس کی پیٹھ میں گھس کر چھاتی سے بھی پار ہو گیا تھا۔اپنا خنجر مخالف کی گردن سے نکال کر اس نے نیام میں اڑسا اور بادیہ کی طرف بڑھا جو سکیاں بھرتے ہوئے شیبہ سے لپٹی تھی۔
اس کے قریب پہنچنے تک شیبہ کی گردن ایک طرف ڈھلک چکی تھی۔
ایک لمحہ کے توقف کے بعد وہ اداسی بھرے لہجے میں بولا۔”بادیہ ، سردار باقی نہیں رہا اور ہمارے پاس بہت کم وقت باقی ہے دشمن کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتا ہے۔“
اس کی آواز سنتے ہی وہ جھرجھری لیتے ہوئے چونکی اگلے ہی لمحے وہ چیختے ہوئے یشکر کی جانب بڑھی۔”اس سب کے ذمہ دار تم ہو، صرف تم ….ذلیل انسان تمھاری وجہ سے میں یتیم ہو گئی ،میرا پورا قبیلہ برباد ہو گیا ….میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑوں گی۔“اس کے ہاتھ مسلسل یشکر کے جسم کو نشانہ بناتے رہے۔ وہ نرم و نازک ہاتھ یشکر کو گلاب کے پھول سے زیادہ چوٹ نہیں لگا سکتے تھے ،لیکن یاقوتی ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ کسی تازیانے سے کم نہیں تھے۔وہ بے حس و حرکت کھڑا بادیہ کے تابڑ توڑ تھپڑ برداشت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ تھک کر اس کا گریبان پکڑ کر جھول گئی تھی۔یشکر بھی سکندر اور شریم کی طرح طویل قامت تھا۔اور اب تو اس کا جسم مضبوط ہو نے کے ساتھ پھیلنا بھی شروع ہو گیا تھا۔
وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔”تم یہاں آئے ہی کیوں ؟نہ تمھارے منحوس قدم یہاں پڑتے اور نہ ہم پر یہ مصیبت ٹوٹتی۔“
”کیا والدین گنوانے کے ساتھ تم آزادی بھی گنوانا چاہتی ہو۔“
”میرے پاس گنوانے کو کچھ نہیں بچا سمجھے تم ….دفع ہو جاﺅ یہاں سے میں تمھاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی۔“
”عزت و آزادی اب تک تمھارے ہاتھ میں ہے چلو میرے ساتھ۔“
”بند کرو بکواس ،میں تمھاری کوئی بات نہیں سننا چاہتی۔“وہ کچھ سمجھنے کو تیار نہیں تھی۔
”بنو نوفل کے بوڑھے سردار کی لونڈی بننے کے بجائے یشکر کی ملکہ بننے کا فیصلہ بہتر رہے گا۔“
”تم یہاں سے دفع کیوں نہیں ہو جاتے۔“روتے ہوئے اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور اکڑوں زمین پر بیٹھ گئی تھی۔
”بادیہ یہ رونے کا وقت نہیں ہے ،دیکھو میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاﺅں گا۔تمھاری مرضی کے خلاف کوئی حرکت بھی نہیں کروں گااور جب تمھارے بھائی واپس لوٹیں گے تو بہ حفاظت ان کی پناہ میں دے دوں گا۔“
وہ چیخی۔”بھاڑ میں جاﺅ تم اور تمھارے وعدے۔“
”جانتی ہو ،مجھے تمھارے محترم چچا شریم نے بھیجا ہے۔اور ان کا کہنا ہے کہ اگر تم دشمن کے ہاتھ آ گئیں تو ان کا مقصد پورا ہو جائے گا۔کیوں کہ بنو نوفل کا منحوس سردار اپنی پر ہوس نگاہیں تم پر جمائے ہوئے ہے۔اور اس حملے کا مقصد بھی تمھارا حصول ہے۔“یشکر نے نرم لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔مگر وہ جواب دیے بغیر گھٹنوں میں سر دیے سسکیاں بھرتی رہی۔یشکر نے جھجکتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”مت چھوﺅ مجھے۔“ایک دم اٹھتے ہوئے اس نے یشکر کی چھاتی میں دو ہتڑ رسید کیے۔
یشکر کی آنکھوں میں اذیت ابھری وہ لمحہ بھر اسے گھورتا رہا۔وہ مسلسل روتے ہوئے اس کی چھاتی پیٹ رہی تھی۔یشکر نے دونوں ہاتھ اس کی گردن پر رکھے اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی حواس اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔وہ لہرا کر نیچے گرنے ہی لگی تھی کہ یشکر نے فوراََ ہی اس کا پھول سا بدن تھا م لیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ سردار زادی بادیہ کو اپنے سامنے گھوڑے پر لٹا کر ان کی حویلی سے نکل رہا تھا۔ اس کی زین کے ساتھ سردار شیبہ کے سفید گھوڑے کی لگام بندھی ہوئی تھی جس پر اس نے کچھ ضروری سامان لادا ہوا تھا۔حویلی سے نکلتے ہی اس نے مشرق کا رخ کیا تھا کہ اسی جانب وہ جلد از جلد آبادی سے باہر جا سکتا تھا۔ بادیہ کی موجودی میں اسے تلوار چلانے میں مسئلہ ہو سکتا تھا اس لیے تلوار نیام میں کر کے اس نے کمان ہاتھ میں تھام لی تھی۔
٭٭٭
قتیلہ کے بھاگ جانے کے اگلے دن جب بنو احمر کو صورت حال کا ادراک ہوا اس وقت تک قتیلہ کو غائب ہوئے کئی گھنٹے بیت چکے تھے۔سردار کی موت بنو احمر کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔یکے بعد دیگرے دو سردار،کیدار بن ثابت اورذواب بن ثابت ایک لڑکی کے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے۔ ان کے تیسرے بھائی نجاربن ثابت نے سرداری کا حلف اٹھاتے ہی سب سے پہلا کام یہی کیا کہ پانسو لڑاکوں کے ہمراہ بنو نسر کا رخ کیا۔سہ پہر کو روانہ ہونے والا لشکر رات کے آخری پہر بنو نسر کے گرد گھیرا ڈال چکا تھا۔ طلوع آفتاب تک وہ گھیرا تنگ کر کے خیموں کے شہر کے قریب پہنچ چکے تھے۔بنو نسر کے لوگوں کو جاگنے کے بعد اس خطرناک صورت حال کا ادراک ہوا تھا۔جونھی یہ خبر سردار جبلہ تک پہنچی وہ متوحش ہو کراپنے خیمے سے نکلا۔چند لمحوں بعد وہ سردار نجار بن ثابت کے سامنے موجود تھا۔
”یہ صورت حال میری سمجھ سے بالاتر ہے۔“
نجار سختی سے بولا۔”انجان بننے سے تمھاری جان نہیں چھوٹ سکتی۔“
جبلہ شاکی ہوا۔”نجار بن ثابت !میں بنو نسر کا سردار ہوں اور تمھیں ایک سردار سے بات کرنے کا سلیقہ ہونا چاہیے۔“
نجار نخوت سے بولا۔”تم بنو احمر کے سردار کو گفتگو کا سلیقہ سکھاﺅ گے۔“
”سردار….؟“جبلہ کے لہجے میں حیرت تھی۔”میرے علم میں تو بنو احمر کا سردار ذواب بن ثابت ہے۔“
نجار اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”انھیں قتیلہ بنت جبلہ نے سوتے میں قتل کر دیا ہے۔“
جبلہ حقیقی معنوں میں حیرت سے اچھل پڑا تھا۔”کہاں ہے وہ ؟“جبلہ نے دکھ بھرے لہجے میں پوچھا۔
”یہ تو تم نے بتانا ہے۔“
”سردار نجار،یقینا تمھارے علم میں ہو گا کہ دو دن پہلے میں نے اسے دلھن بنا کر وداع کیا تھا۔ “
”اس نے پہلی ہی رات بنو احمر کے سردار کی شرافت کا یہ صلہ دیا کہ سوتے میں اسے قتل کر دیا اور خود وہاں سے بھاگ آئی۔بلا شک و شبہ اس کی منزل بنو نسر ہی ہو گی۔“
”نہیں ،وہ یہاں موجود نہیں ہے۔اور اگر حقیقت میں اس نے بنو احمر کے معزّز سردار کو سوتے میں قتل کیا ہے تو آج اور ابھی سے بنو جساسہ کا سردار ہونے کے ناطے میں اس سے برا¿ت کا اعلان کرتا ہوں۔آج کے بعد اس کا درجہ طرید کا ہے۔اس کے کسی فعل کی ذمہ داری نہ تو بنو نسر قبیلہ لے گا اور نہ اسے نقصان پہنچنے کی صورت میں بدلہ یا خون بہا لینے کا حق دار ہو گا۔“
نجار معنی خیز لہجے میں بولا۔”مجھے یقین دلاﺅ کہ وہ یہاں موجود نہیں ہے۔“
”تم تلاشی لے سکتے ہو۔“یہ کہتے ہوئے جبلہ کے دل میں یہ اندیشہ ضرورموجود تھا کہ کہیں وہ عریسہ کے خیمے میں نہ چھپی ہو۔مگر قُتیلہ کے اس فعل کے بعد وہ اس کی طرف داری کرتے ہوئے پورے قبیلے کو قربان نہیں کر سکتا تھا۔
گہرا سانس لیتے ہوئے نجار اپنے آدمیوں کی طرف متوجہ ہوا۔”تمام خیموں کی اچھی طرح تلاشی لینی ہے۔“
تھوڑی دیر میں گھیرا ڈالنے والے افراد بنو نسر کے خیموں میں پھیل گئے تھے۔گو بنو احمر کو قبیلے کی تلاشی لینے کی اجازت دینا بنو نسر کے سردار جبلہ بن کنانہ کے لیے توہین کا باعث تھا لیکن قبیلے کو تباہی سے بچانے کے لیے اسے یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا تھا۔
تلاشی کا نتیجہ بنو احمر کی ناکامی کی صورت برآمد ہواتھا۔قُتیلہ کی بازیابی نہ ہونے پر بنو احمر کے پاس جھگڑے کی وجہ باقی نہیں رہی تھی۔
نجار نے کہا۔”کیا میں امید رکھوں کہ بنو احمرکے مجرم کی بنو نسر آمد پر سردار اسے ہمارے حوالے کرنے کا فیصلہ کرے گا۔“
”جسے میں نے عاق کردیا ہو، اس کی قبیلے میں واپسی ممکن نہیں رہی۔باقی بنو احمر اپنی مجرم کو تلاش کر کے جو سزا دینا چاہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔“
نجار معنی خیز لہجے میں بولا۔”بہ ہر حال ہم کچھ عرصہ تک بنو نسر کی نگرانی جاری رکھیں گے۔کیوں کہ ایک چھوکری زیادہ عرصہ قبیلے سے دور رہ کرز ندگی نہیں گزار سکتی۔“
جبلہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اپنے کھوجیوں کی مدد لینا تھی۔“
اس کی خوش قسمتی کہ تیز ہوا کی وجہ سے ہم اس کے نقش پا گم کر بیٹھے ہیں۔بہ ہرحال یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔اس کی واپسی کی جگہ ہمیں معلوم ہے۔اس لیے اس کی تلاش میں دائیں بائیں پھرکر وقت ضائع کرنے کے بجائے میں اس جگہ کی نگرانی کرانا زیادہ ضروری سمجھوں گا۔“
جبلہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر واپس مڑ گیا تھا۔وہ قتیلہ سے جتنا بھی خفا ہوتا یہ حقیقت تو تبدیل نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اس کی چہیتی بیٹی تھی۔بنو احمر کا سردار بھی اپنے آدمیوں کے ہمراہ واپس مڑ گیا تھا۔ اسے پوری امید تھی کہ وہ قتیلہ کو بنو نسر میں گرفتار کر لیں گے مگر اسے مایوسی ہوئی تھی۔ بنو نسر کے سردار جبلہ کے اپنی بیٹی کو عاق کرنے کے بعد وہ بنو نسر سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کر سکتا تھا۔یوں بھی جبلہ تو اپنی بیٹی کو بنو احمر کے سردار کے ہمراہ رخصت کر چکا تھا۔اور رخصتی کے بعد شوہر کی ذمہ داری ہو تی ہے نہ کہ باپ کی۔
٭٭٭
طلوع آفتاب کے بعد بھی اس کا سفر جاری تھا۔گھوڑے پر بیٹھ کر مسلسل سفر کرنا بھی حد درجہ تھکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔مگر وہ پہلی بار اتنا طویل سفر نہیں کر رہی تھی۔ہوش سنبھالتے ہی اس نے مردانہ مشاغل میں دلچسپی لینا شروع کر دیا تھا۔لڑکیوں کے کھیل اور رہن سہن کے طریقے اسے شروع ہی سے ناپسند تھے۔اس کے سینے میں ایک بے رحم دل دھڑک رہا تھا۔اپنا فائدہ اور مفاد ہمیشہ سے اس کی پہلی ترجیح رہا تھا۔اس نے اگر کسی کوعزت دی تھی تووہ عریسہ تھی۔وہ بھی اس لیے کہ عریسہ اس پر جان چھڑکتی تھی۔ اور کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ محبت اور توجہ تو ایسے منتر ہیں جن سے وحشی جانوروں کو بھی اپنے بس میں کیا جا سکتا ہے وہ تو پھر بھی انسان تھی۔ اور عریسہ کی محبت و شفقت نے اس کے پتھر دل میں بھی عریسہ کے لیے محبت ،خلوص اور ہمدردی بھر دی تھی۔وہ محبت جو اسے سگی ماں جندلہ سے ہونا چاہیے تھی وہ عریسہ کی جانب منتقل ہو گئی تھی۔عریسہ کے بعد وہ اپنے باپ کو چاہتی تھی۔لیکن بنو احمر کے ساتھ ہونے والے تنازعے میں جبلہ نے جو سلوک اس کے ساتھ کیا تھا اس کے بعد اس کے دل سے باپ کی عزت و احترام بھی رخصت ہو گیا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر وہ لوٹ کر بنو نسر چلی جاتی تو اس کے باپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے بنو احمر والوں کے حوالے کر دینا تھا۔جب پہلی مرتبہ وہ قبیلے اور اپنے بیٹوں کی خاطر اس کی بَلّی چڑھا چکا تھا تو دوسری مرتبہ ایسا کرنے میں اسے کوئی امر مانع نہیں ہونا تھا۔
دھوپ میں تیزی آنا شروع ہو گئی تھی۔اس کی سیاہ آنکھیں سامنے پھیلے صحرا میں کسی ایسے مقام کی تلاش میں سر گرداں تھیں جہاں وہ عارضی یا مستقل ڈیرہ لگا سکتی۔اب تو اس کی زندگی میں یونھی در بدر پھرنا رہ گیا تھا۔باپ سے نفرت محسوس کرنے کے باوجود وہ اسے نقصان پہنچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا نا چاہتی تھی۔کیوں کہ سگے باپ کا قتل ،ہمیشہ کی بدنامی اور ذلت خریدنے کا سبب جاتا۔ اس کا نام عرب داستانوں میں بہ طور شرمندگی ،شقی القلبی اور نفرت کے یاد رکھا جاتا۔اور ایسا وہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتی تھی۔اسے شہسوار ،جنگجو اور بہادرو دلیر کہلوانا پسند تھا۔ اور ایسی صلاحیتوں کے حامل اپنے والد کو قتل کرنے کا سوچا بھی نہیں کرتے۔
گھڑی بھرکے مزید سفرکے بعد اسے دور چند درخت نظر آئے اس نے گھوڑے کا رخ اس جانب موڑ دیا تھا۔ صحرائے اعظم میں نباتات بہت کم ہیں اور صحرا کے درمیان میں تو خال ہی کوئی درخت نظر آتا ہے۔البتہ کناروں کے نزدیک نباتات و حیوانات کا نظر آنا عام ہے۔اس کا ارادہ بھی صحرا کے بہت اندر جانا نہیں تھا ،کیوں کہ زندگی اسے بھی عزیز تھی۔سب سے زیادہ خطرنا ک تو ریت کی دلدل تھی جو گھوڑے کو مع سوار نگلنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
وہ درختوں کی جانب بڑھتی رہی۔وہاں کھجوروں کے چند درخت اور کچھ جھاڑیاں نظر آ رہی تھیں۔قریب پہنچنے پر اسے تین گھوڑے جھاڑیوں سے بندھے نظر آئے۔ گھوڑے کی لگام کھینچ کر اس نے ہانپتے گھوڑے کو روکا خود اس کا لباس بھی پسینے سے تر ہوگیا تھا۔بالوں پر بندھی کالی پٹی بھی گیلی ہو گئی تھی۔ گھوڑوں سے چند قدم دور دھویں کی ہلکی سی لکیر پر پڑی اور ساتھ ہی اس کی ناک میں بھنے ہوئے گوشت کی اشتہا انگیز خوشبو ٹکرائی۔یقینا وہ کوئی جانور ذبح کر کے بھون رہے تھے۔
قتیلہ کے گھوڑے کی ہنہناہٹ سن کر وہ چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوئے اگلے ہی لمحے وہ جھاڑیوں سے نکل کر اس کی طرف بڑھے۔ان میں سے دو درمیانی قامت جبکہ ایک لمبے قدکا تھا۔تینوں کی عمریں تیس سے پینتیس برس کے درمیان تھیں۔قتیلہ کو گہری نظروں سے گھورتے ہوئے وہ چند قدم کے فاصلے پر آ کر رک گئے۔اس کے ساتھ ان کی نگاہیں قتیلہ کے آنے کی سمت میں دور تک کچھ کھوج رہی تھیں۔وہ اسے اکیلا نہیں سمجھ رہے تھے۔بولنے میں پہل قتیلہ نے کی تھی۔ان کی کھوجتی نگاہوں اور خوفزدہ چہروں کو دیکھتے ہوئے وہ تسلی امیز لہجے میں بولی۔
”میں اکیلی ہوں۔“
بلند قامت والا اطمینان بھرا سانس لیتا ہوا معنی خیز لہجے میں بولا۔”اور ہم تین ہیں۔لگتا ہے ہماری دوستی ،دشمنی میں تبدیل ہونے والی ہے۔“(مطلب قتیلہ کے حصول کے لیے ہم تینوں میں لڑائی ہو جائے گی )

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: