Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 19

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 19

–**–**–

قتیلہ کے ہونٹوں پر بے رحم مسکراہٹ ابھری۔”میں ایسا موقع نہیں آنے دوں گی۔ بس یہ طے کر لینا کہ کم از کم ایک باقی ضرور بچے جو دوسرے دوکو دفنا سکے۔“
بلند قامت نے استہزائی قہقہ لگاتے ہوئے پھبتی کسی۔”لڑکیوں کو بناﺅ سنگھار تک محدود رہنا چاہیے۔“
وہ چھلانگ لگا کر نیچے اتری ،لڑکی ہونے کے باوجود اس کا قد کافی لمبا تھا۔تلوار بے نیام کرتے ہوئے وہ اطمینان سے بولی۔”اگر تم شکارکی غرض سے ادھر نہیں آئے اور”طرید“( دھتکارے) ہو تو مجھے تمھاری موت پر افسوس ہو گا۔“
”کافی دلچسپ باتیں کرتی ہو۔امیدکرتا ہوں لڑائی کے بعد بھی اسی طرح محظوظ کرو گی۔“لمبی قامت والے نے بھی ہاتھ میں تلوار تھام لی تھی۔اس کے تلوار تھامنے کے اندا زسے قتیلہ جان گئی تھی کہ وہ منجھا ہوا شمیشرزن ہے۔اور یہی وجہ تھی کہ اس کے چہرے پر اعتماد اور آنکھوں میں تمسخر ہویدا تھا۔ باقی دونوں بے پروائی سے کھڑے انھیں دیکھنے لگے ،یوں جیسے انھیں اپنے ساتھی کی جیت پر مکمل یقین ہو۔
”میرا نام سردار زادی قُتیلہ بنت جبلہ بن کنانہ ہے۔اورنسر کی قسم ،تم اپنی حماقت پربہت جلد پچھتانے والے ہو۔“
وہ زور سے ہنسا۔”ڈرو مت ،میں تمھیں قتل نہیں کرنے والا۔“
”لیکن میں ایسا کوئی وعدہ نہیں کر سکتی ،اس لیے تمھیں ضرور ڈرنا چاہیے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے پینترہ بدلتے ہوئے اس سرعت سے تلوار کا وار کیا کہ طویل قامت بہ مشکل اس کے وار سے بچ سکا تھا۔ تلواروں کے ٹکرانے سے چھن چھناہٹ پیدا ہوئی اور پھر یہ ساز مسلسل بجنے لگا۔قتیلہ کے تابڑ توڑ وار اپنی تلوار پر روکتا ہوا وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔کوشش کے باوجود وہ جوابی وارنہیں کر پا رہا تھا۔ ایک خوب صورت دوشیزہ کے ساتھ اس نے لطف اندو ہونے کے لیے مقابلہ شرو ع تو کر دیا تھا مگر اب وہ لڑائی اس کے گلے پڑ گئی تھی۔قُتیلہ کو دیکھتے ہوئے اسے ذرا بھر اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی ماہر شمشیر زن ہو گی۔ اچانک اس کا پاﺅں پھسلا اور وہ نیچے گرا۔ گرتے ہی اس نے ایک دم کروٹیں تبدیل کرتے ہوئے قُتیلہ سے فاصلہ پیدا کیا اور اچھل کر کھڑا ہو گیا۔چہرے پر چھایا استہزائ، پریشانی اور جھلاہٹ میں تبدیل ہو گیا تھا۔
کھڑا ہوتے ہی اس نے حملے میں پہل کی تھی۔جھکائی دے کر قتیلہ نے اس کا وار خطا کیا ، وہ بے اختیار گھوم گیا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا قتیلہ کی زور دار لات اس کے کولہوں پر پڑی اور وہ منھ کے بل نیچے گرگیا۔اس نے تڑپ کر اٹھنے کی کوشش کی ،وہ بمشکل سیدھا ہو پایا تھا کہ قتیلہ نے تلوار کی نوک اس کی گردن لگا دی۔ ایک دم وہ ساکت ہو گیا تھا۔
”میں شکست تسلیم کرتا ہوں۔“تلوارسے چھوڑتے ہوئے اس نے ہاتھ اٹھا لیے۔
قتیلہ کے ہونٹوں پر زہریلی ہنسی نمودار ہوئی۔”احسان ہے تمھارا۔“
وہ ہکلایا۔”مم….معاف کردو۔“
”صرف یہی کرنا قتیلہ کو نہیں آتا۔“نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے تلوار کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر سر سے بلند کیا۔
وہ گڑگڑایا۔”آپ کا احسان ساری زندگی یاد رکھوں گا۔“
”شکار کے لیے آئے ہو یا طرید ہو ؟“
وہ سرعت سے بولا۔”ہم تینوں طرید ہیں۔“
”مجھے احسان کرنے اور رحم دلی سے نفرت ہے ،البتہ خوش قسمت ہو کہ مجھے تمھاری ضرورت ہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اس کے دونوں ساتھیوں کی جانب مڑی۔ ”تم دونوں اکٹھے ہی آجاﺅ ،علاحدہ علاحدہ مقابلہ کرنے میں وقت ضائع ہو گا۔“
نسبتاََ بڑی عمر والے نے جلدی سے کہا۔”اگرآپ ملکان بن نول کو اتنی آسانی سے شکست دے سکتی ہیں تو ہم کس قطار میں ہیں ،ہمیں لڑے بغیر شکست تسلیم ہے۔“
وہ ہنسی۔ ”اتنے عقل مند لگتے تو نہیں ہو۔“
دوسرا بولا۔”عقل مند نہ سہی ،آنکھوں والے تو ہیں۔“
ایک لمحہ انھیں گھورنے کے بعد قتیلہ نے سر ہلاتے ہوئے تلوار نیام میں کر لی۔ملکان بن نول اس کے عقب میں آکر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے انداز میں ایک قسم کی مرعوبیت اور عقیدت تھی۔ قتیلہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
”تو تمھارا نام ملکان بن نول ہے۔“
”جی سردار زادی۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے نسبتاََ بڑی عمر والے کی طرف اشارہ کیا۔ ”یہ قریب بن فلیح ہے اور دوسرا عامر بن اسود۔“
قتیلہ مستفسر ہوئی۔”کس قبیلے سے ہو ؟“
ملکان نے جواب دیا۔”میرا تعلق بنو فزار سے ہے اور یہ دونوں بنو عیان کے ہیں۔“
قتیلہ کے سوالا ت جاری رہے۔”قبیلہ بدر کیوں ہوئے ؟“
”میرا خیال ہے بیٹھ کر بات کرنا مناسب رہے گا۔“ملکان نے مشورہ دیا۔
”ہونہہ۔“کہتے ہوئے قتیلہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔تھوڑی دیر بعد وہ بیری کے نیچے بیٹھے باری باری اپنی کہانی سنا رہے تھے۔
ملکان بن نول نے بنو عذرہ قبیلے کی ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر اس کے شوہر کو قتل کر دیا۔ اپنے آدمی کا بدلہ لینے کے لیے بنو عذرہ والے جنگ پر تیار ہو گئے۔لیکن بنو فزار کے سردار نے خون بہا دے کر صلح کر لی۔ملکان کی محبوبہ شوہر کے قتل کے بعد اس کے بھائی قبضے میں آئی اور تین چار ماہ بعد اس کا دوسرا شوہر بھی ملکان کے ہاتھوں مارا گیا۔دوسری مرتبہ بھی اس کے قبیلے والوں نے مل جل کر اس کی طرف سے خون بہا ادا کر کے اس کی جان چھڑائی۔اور پھر دوسری واردات کو مہینا بھی نہیں گزارا تھا کہ ملکان بن نول نے گھڑ دوڑکے مقابلے کے دوران اپنے برابر گھوڑا بھگانے والے سوار کو لات مار کر نیچے گرایا۔گھڑ سوار گردن کے بل نیچے گرااوراس کی گردن ٹوٹ گئی تھی۔مرنے والے گھڑ سوار کا تعلق بنو جمل سے تھا۔ قریب تھا کہ دونوں قبیلوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی۔مگر اس وقت بنو فزار قبیلے کے سردار نے ملکان کے فعل سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اسے قبیلے سے عاق کر دیا تھا کہ ایسا شخص سراسر قبیلے کے لیے نقصان کا باعث تھا۔سردار کا اعلان سنتے ہی ملکان نے وہاں سے بھاگنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔بنوجمل کے شہ سواروں نے اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کی مگر ملکان انھیں جل دینے میں کامیاب رہا تھا۔اسے چھپنے کے لیے الرّملہ ہی جائے پناہ نظر آیا۔بنو عیان سے تعلق رکھنے والے قریب بن فلیح اور عامر بن اسوددونوں دوست تھے۔شراب کے نشے میں دونوں کے ہاتھوں قبیلے کے ایک معزز شخص کا قتل ہو گیا۔ اس کے پسماندگان خون بہا لینے پر تیار نہیں تھے ،جان کے خوف سے دونوں فرار ہو گئے۔اور پھر اتفاق ہی تھا کہ ان کی ملاقات ملکان بن نول سے ہو گئی۔تب سے وہ اکھٹے رہ رہے تھے۔انھیں قبیلے سے بھاگے ہوئے مہینا ہونے کو تھا۔اپنی کہانی سنا کر وہ قُتیلہ کے بارے جاننے کے مشتاق ہوئے۔قُتیلہ نے مختصراََ اپنی کہانی دہرا دی تھی۔اس کی بات کے اختتام پر وہ پہلے سے زیادہ مرعوب نظر آنے لگے تھے۔
٭٭٭
عمارتوں کا سلسلہ ختم ہوتے ہی اسے دو مشعل بردار نظر آئے ،دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔ ان سے بچ کر آگے جانا ناممکن تھا۔البتہ ان کے ہاتھوں میں تھامی ہوئی مشعلوں نے یشکر کا کام آسان کردیا تھا۔کمان میں تیر ڈالتے ہوئے اس نے اندازے سے ایک گھڑ سوار کی چھاتی پر داغ دیا۔ایک دم اس کے ہاتھ سے مشعل نیچے گری اور دوسرے ہی لمحے وہ خود نیچے گر گیا تھا۔ساتھی کو نیچے گرتے دیکھ کر اس کے ساتھی کو گڑ بڑ کا احساس ہوا اور اس نے فوراََ اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ قریبی عمارتوںسے اٹھتے شعلوں کی وجہ سے اسے یشکر کے گھوڑے کا ہیولہ نظر آرہا تھا۔وہ مخالف سمت میں بھاگا تھا۔ساتھ میں وہ اپنے ساتھیوں کو بھی پکارتا جا رہا تھا۔یشکر کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اس کا تعاقب کرتا۔یوں بھی اس کے چیخنے چلانے پر یشکر کے لیے خطرہ بڑھ گیا تھا۔کمان کندھے سے لٹکا کر اس نے گھوڑا بھگا دیا۔بادیہ کی وجہ سے وہ گھوڑے کو زیادہ تیز نہیں دوڑا سکتا تھا۔اسے امید تھی کہ دشمنوں نے اس کا پیچھا نہیں کرنا تھا۔کیوں کہ دشمنوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ ان کے مطلوبہ آدمی ہیں۔البتہ یہ حتمی بات نہیں تھی اس لیے وہ جتنی تیز رفتاری سے حرکت کر سکتا تھا وہ چلتا رہا۔لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں اس کی سماعتوں سے دور ہو گئی تھیں البتہ پیچھے مڑ کر دیکھنے پر اسے آگ کے بھڑکتے شعلے اچھی طرح دکھائی دے رہے تھے۔قبیلے سے دو تین فرلانگ دور آتے ہی اس نے اپنا رخ مشرق سے شمال مشرق کی جانب موڑ لیا تھا۔اس کے دماغ میں کوئی خاص منزل نہیں تھی اور نہ اس بارے وہ کچھ سوچ سکا تھا۔اس وقت توبس ایک ہی خواہش تھی کہ وہ قبیلے سے جتنا دور نکل جاتا بہترتھا۔
آسمان اب تک صاف نہیںہوا تھا۔ہواکی رفتار میں تیزی آئی ،البتہ گیلا ہونے کی وجہ سے ہوا میں ریت کے ذرات موجود نہیں تھے۔ہلکی ہلکی بوندا باندی پھر شروع ہو گئی تھی۔اچانک بادیہ کے منہ سے کراہ خارج ہوئی۔وہ ہوش میں آ رہی تھی۔یشکر نے لگام کھینچ کر گھوڑا روکا ،اگلے ہی لمحے وہ چھلانگ لگا کر نیچے اتر گیا۔اور اس سے پہلے کہ بادیہ کسمسا کر نیچے گرتی یشکر نے اسے بازوﺅں سے پکڑ کر نیچے کھڑا کر دیا۔ تھوڑا ڈگمگا کر وہ سنبھل گئی تھی۔
”مم….میں کہاں ہو ں۔“گھپ اندھیرے میں یشکر بس اندازہ ہی لگا سکتا تھا کہ وہ وحشت زدہ انداز میں دائیں بائیں کا جائزہ لے رہی ہے۔
”تم میرے ساتھ ہو۔اور میں تمھیں حملہ آوروں سے بچا لایا ہوں۔“
یشکر کی آواز پہچانتے ہی وہ ہذیانی لہجے میں چلائی۔”مجھے تمھاری ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔ “
”تمھیں شاید حالات کا علم نہیں ہے۔بنو نوفل والوں نے پورے قبیلے کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔اگر تم ان کے ہاتھ چڑھ گئی ہوتیں تو لونڈی بننا تمھارا مقدر بن جاتا۔“
”ان حالات کے ذمہ دار تم ہو ،صرف تم۔“بادیہ کا ہاتھ اس کے گریبان تک پہنچ گیا تھا۔
وہ دکھی ہوتا ہوا بولا۔”میرا قصور صرف محبت کرنا ہے۔“
”بھاڑ میں گئی تمھاری محبت ،نفرت ہے مجھے تم سے ،تمھاری شکل سے ،تمھارے کردار اور عادتوں سے۔“اس کا غصہ عروج پر تھا۔یشکر ہی کی وجہ سے وہ عرش سے فرش پر آ گری تھی۔
”میں تمھیں محفوظ مقام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔اور یہ تمھارے محترم چچا جان کا حکم ہے۔“
”کتنی منحوس گھڑی تھی جب چچا جان نے تمھیں خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔“
یشکر نے صفائی دینے کی کوشش کی۔”ہزیل بن شماس نے مقابلہ کر کے تمھیں جیتا تھا اور میں نے بھی اسے مقابلے ہی کی دعوت دی تھی۔اور مقابلے میں ایک فریق کو ہارنا پڑتا ہے۔“
بادیہ چیخی۔”تم نے اسے قتل کیا ہے۔“
”اگرتم سے اس کا نکاح نہ ہو گیا ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا۔“
”تم نے مجھے برباد کر دیا۔تم نے نہ صرف میرے شو ہر کوقتل کیا،بلکہ تمھاری وجہ سے میرے والدین بھی بے موت مارے گئے۔تمھاری نحوست پورے قبیلے کو لے ڈوبی ہے۔“
”سردارزادی ہم اتنا زیادہ فاصلہ طے نہیں کر سکے ہیں۔قبیلے میں ہماری ناکام تلاش کے بعد ان کے دستے ہماری گرفتاری کے لیے چاروں اطراف میں پھیل جائیں گے۔“
”گرفتاری سے ڈرتا کون ہے ؟“وہ اپنا فائدہ نقصان پسِ پشت ڈالے ہوئے تھی۔
”غلامی کی زندگی موت سے بدتر ہوتی ہے سردار زادی ،خاص کر عورت ذات کو تو پل پل موت کو گلے لگانا پڑتا ہے۔“
اس بار بادیہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر سسکیاں بھرتی رہی۔لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد یشکردوبارہ بولا۔
”میں آپ کے والدین کو واپس نہیں لا سکتا لیکن آپ کو تحفظ فراہم کر سکتا ہوں۔تمھارے بھائیوں کے واپس آنے پر میں تمھیں ان کے حوالے کر دو ں گا۔“
بادیہ نے چپ سادھے رکھی۔اس کی خاموشی کو نیم رضامندی جان کر یشکرگویا ہوا۔”وعدہ کرتا ہوں سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق ہو گا ،تم کل بھی میری سردار زادی تھیں ،آج بھی ہو اور آئندہ بھی رہو گی۔یقینا غلامی کی زندگی سے حکمرانی کا تقابل کرنا حماقت ہو گی۔چاہے وہ حکمرانی کسی ایک شخص پر ہی کیوں نہ کی جائے۔“
بادیہ نے اس بار بھی اس کی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔
”چلیں ؟ہم پہلے بھی کافی وقت ضائع کر چکے ہیں۔“یشکر نے ہمت کرتے ہوئے اس کے بازو سے پکڑا۔اس کے کھینچنے پر بادیہ بغیر احتجاج کیے عقبی گھوڑے کی طرف بڑھ گئی۔یشکر نے ایک گھٹنا زمین پر ٹیک کر زانو حالت بنائی۔بادیہ اس کی ران پر پاﺅں رکھ کر گھوڑے پر سوار ہو گئی۔اس کی مسلسل خاموشی سے یشکر کو امید ہو چلی تھی کہ وہ اسے معاف کر دے گی۔لیکن اس کے ساتھ یہ اندشیہ بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں تھا کہ وہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی تھی۔
اس نے بادیہ کے گھوڑے کی رسی اپنے گھوڑے کی زین سے بندھی رہنے دی۔رات کا بقیہ حصہ وہ نامعلوم منزل کی طرف بڑھتے رہے۔سپیدہ سحر نمودار ہوا ملگجا اندھیرا ہر طرف پھیل چکا تھا۔بادل پہلے کی طرف آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔اس وقت وہ ایک چھوٹے سے پہاڑی سلسلے کے قریب سے گزر رہے تھے۔درہ نما رستے کو عبور کر کے وہ ایک خشک نالے میں داخل ہوئے۔یشکر نے مڑ کر بادیہ کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر غم ،اداسی ،دکھ ،پریشانی ،غصہ اور نہ جانے کون کون سی کیفیات پھیلی تھیں۔
”پانی پیو گی ؟“گھوڑے کی رفتار ہلکی کرتے ہوئے اس نے نرم لہجے میں پوچھا۔
منھ سے کچھ کہے بغیر اس نے نفی میں سر ہلادیا۔اس کے تیور کافی بگڑے ہوئے تھے۔یقینا وہ مجبوری کی وجہ سے اس کی مدد لینے پر راضی ہوئی تھی۔ ورنہ اس کے دل میں یشکر کے لیے کوئی اچھے جذبات موجود نہیں تھے۔یشکر نے کندھے اچکاتے ہوئے گھوڑا آگے بڑھا دیا۔تھوڑا سفرکرتے ہی اس کی نظر پہاڑی کے دامن میں پھیلے کھنڈرات پر پڑی۔ساری رات کے سفر کے بعد بھی وہ کوئی خاص تھکن محسوس نہیں کر رہا تھا لیکن بادیہ کے چہرے پر چھائی پژمردگی اسے آرام کے لیے اکسانے لگی۔گھوڑے کا رخ اس نے کھنڈرات کی طرف موڑ دیا۔بادیہ کے گھوڑے کی لگام یوں بھی اس کے گھوڑے کی زین سی بندھی تھی۔
پتھر کی بنی ہوئی عمارتیں جانے کتنے عرصے سے ویران پڑی تھیں۔وہاں یقینا کوئی قبیلہ آباد تھا جسے جنگ و جدل کے شعلے نگل گئے تھے اور قبیلے کی باقیات کھنڈرات کی صورت میں باقی بچ گئی تھیں۔ مکانوں کی جلی ہوئی چھتیں ظاہر کررہی تھیں کہ بڑے پیمانے پر آتش زدگی ہوئی تھی۔کچھ مکانوں کی چھتیں جلنے سے بچی ہوئی تھیں لیکن دیواریں گرنے سے چھتیں سلامت نہیں رہی تھیں۔تھوڑی سی تلاش کے بعد اسے ایک مکان میں ایسا کمرہ مل گیا تھا جہاں وہ سر چھپا سکتے تھے۔اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا کمرہ جس کی آدھی چھت گری ہوئی تھی۔وہاں انھوں نے گھوڑوں کو باندھ دیا۔یشکر نے بادیہ کے گھوڑے پر لدا سامان اتار ا جس میں اس نے دو کمبل بھی باندھے ہوئے تھے۔کمرے کا فرش صاف کر کے اس نے غربی کونے میں کمبل بچھایا کیوں کہ مشرقی جانب چھت سے پانی رستا تھا۔کمرے کا دروازہ غائب تھا۔بلکہ وہاں تمام کمروںکے دروازے جل گئے تھے یا ہواﺅں کے تھپیڑے کھا کھا کر ٹوٹ گئے تھے۔
”لیٹ جاﺅ“ یشکر نے کمبل کی طرف اشارہ کیا۔مگر بادیہ پتھریلی زمین پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
”سردار زادی ،یہ کمبل آپ کے لیے بچھایا ہے۔“
بادیہ نے اس کی بات کا جواب دیئے بغیر آنکھیں بند کر لیں۔وہ اس سے مخاطب ہی نہیں ہونا چاہتی تھی۔
بادل زور سے گرجا اور بارش کی رفتا ر میں ایک دم تیزی آگئی تھی۔یوں محسوس ہورہا تھا جیسے آسمان میں کوئی سوراخ ہو گیا ہو جس سے پانی ریلے کی صورت میں نیچے آرہا ہو۔ان کی خوش قسمتی تھی کہ بارش کی شروعات سے گھڑی بھر پہلے ہی انھیں پناہ مل گئی تھی۔بارش کا پانی کمرے کے مشرقی کونے کی دیوار پر لکیریں بناتا ہوا نیچے آنے لگا۔ کمرے کے فرش کی ڈھلان مشرقی جانب بنائی گئی تھی۔کیوں کہ اسی جانب دروازہ تھا۔پانی فرش پر جمع ہونے کے بجائے ٹوٹے ہوئے دروازے سے باہر بہنے لگا۔گھنے بادلوں کی وجہ سے دوپہر کے وقت بھی ملگجا اندھیرا چھا گیا تھا۔تیز بارش کے ساتھ ہوا کا شور اور ویرانہ ،کسی بھی بہادر کا دل دھڑکا سکتا تھا۔لیکن یشکر کی تربیت جس نہج پر کی گئی تھی اسے ایسے حالات سے گھبراہٹ نہیں ہوتی تھی اور جن حالات سے بادیہ گزر چکی تھی اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ایک دم والدین کا سایہ سر سے اٹھ جانا ،سر کی چھت چھن جانا ، رشتا دار وں اور جاننے والوں کا آن کی آن میں صفحہ ہستی سے مٹ جانا کوئی چھوٹا حادثہ نہیں تھا۔اب صرف تین بھائی ہی باقی بچے تھے جو تجارت کی غرض سے اتفاقی طور پر قبیلے سے باہر تھے۔
اسے خاموش پا کر یشکر آگے بڑھا اور بے جھجکے اسے بازوﺅں میں بھر کر کمبل پر لٹا دیا۔اس کا لمس پاتے ہی وہ بھڑک اٹھی تھی۔
”اپنے غلیظ ہاتھ دور رکھو مجھ سے۔“مچلتے ہوئے وہ اس کے جسم پر مکے مارتی رہی۔
وہ اطمینان سے بولا۔”اگر آرام سے بات مان لیتیں تو مجھے یوں نہ کرنا پڑتا۔“
وہ غصے سے چلائی۔”جو میری مرضی ہو گی کروں گی۔“لیکن کمبل سے اٹھنے کی کوشش اس نے نہیں کی تھی۔
”بے شک۔“یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔اور دوسرا کمبل تکیے کی طرح تہہ کر کے اس کے سر کے پاس رکھتے ہوئے بولا۔”لیکن تمھارے آرام کا خیال کرنا میری ذمہ داری میں آتا ہے۔“
بادیہ چند لمحے اسے غصے بھری نظروں سے گھورتی رہی اور پھر آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔یشکر نے کپڑے کی تھیلی سے مٹھی بھر خشک کھجوریں نکال کراس کے قریب کمبل پر رکھ دیں۔”بھوک لگی ہو گی ،یہ کھا لو۔“
وہ آنکھیں بند کیے لیٹی رہی۔یشکر نے پشت پر لدا ترکش اتار کر ایک کونے میں رکھا اور کمر سے نیام کھول کر تلوار بھی اس کے ساتھ کھڑی کر دی۔اور خود پاﺅں پھیلا کردیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ ساری رات کی بھاگ دوڑ کے بعد تھکے ہوئے بدن کو آرام دینا ضروری تھا۔
بارش کی رفتار میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا تھا۔آنکھیں بند کر کے وہ آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔اور پھر اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب وہ نیند کی میٹھی وادی میں گم ہو گیا تھا۔
٭٭٭
فرات اور دجلہ کے سنگم ، قرنہ کے مقام پر وہ گھوڑوں سمیت بحری جہازوں میں سوار ہو گئے تھے۔وہاں سے آگے دجلہ و فرات کو دریائے شط العرب کے نام سے جانا جاتا ہے۔شط العرب 160کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے خلیج الفارس میں جا گرتا ہے۔اور بنو کاظمہ خلیج الفارس کے کنارے پر واقع تھا۔سبرینہ کے ذریعے انھیں جو معلومات ملی تھیں اس کے مطابق یشکر کو قیدی بنانے والوں کا تعلق بنو کاظمہ سے تھا۔سکندر نے سو سواروں کا بہترین دستہ اس کے حوالے کیا تھا۔تمام اعلا قسم کے اسلحے سے لیس تھے۔ تلوار،تیر کمان ،نیزہ ،گُرزوغیرہ۔ہر آدمی نے اپنی پسند کا ہتھیار اٹھایا ہوا تھا۔زِرّہ و خود ہر آدمی کے پاس موجود تھا۔دریا کے رخ حرکت کی وجہ سے ان کا سفر جلد طے ہوا تھا۔پھر بھی انھیں تین دن لگ گئے تھے۔ ساحل پر اتر کر بہرام نے کرایہ چکایا اور گھڑ سوار دستے کو ساتھ لے کر بنو کاظمہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اگلا دن انھیں گھوڑوں کی پیٹھ پر گزارنا پڑ ا تھا۔ غروب آفتاب کے وقت وہ بنو کاظمہ کے مضافات میں پہنچ گئے تھے۔بہرام نے ایک مناسب جگہ کو شب باشی کے لیے چنا۔اور تمام خیمے گاڑھنے لگے۔قبیلے والے انھیں نے تجارتی قافلے سمجھ کر وہاں پہنچ گئے تھے۔لیکن قریب آکر انھیں مایوسی کے ساتھ خوف بھی محسوس ہوا تھا کیوں کہ سو ہتھیار بند جنگجو ﺅں کا قبیلے کے مضافات میں موجود ہونا خطرے سے خالی نہیں تھا۔یہ خبر قبیلے کے بڑوں تک پہنچتے دیر نہیں لگی تھی۔وہ بہ مشکل خیمے لگا کر فارغ ہوئے تھے کہ بنو کاظمہ کے معززین کا وفد وہاں پہنچ گیا۔پہرے پر متعین سپاہی نے بہرام کو بنو کاظمہ کے وفد کی اطلاع پہنچائی، تھوڑی دیر بعد وہ اس کے خیمے میں موجود تھے۔
رسمی کلمات کی ادائی اور تعارف کے بعد بہرام نے ترجمان کے ذریعے وفد کو بیٹھنے کی دعوت دی۔وہ خود عربی زبان سے بالکل ناواقف تھا۔
بنو کاظمہ کا سردار نہیں آیا تھا اور اس کا بھائی عبداللہ بن خیروفد کی سربراہی کر رہا تھا۔بیٹھتے ہی اس نے بہرام سے وہاں آمد کا مقصد پوچھا۔
ترجمان نے اس کی بات کا ترجمہ کیا،بہرام نے جواب دیا۔”ہم آپ کے قبیلے سے ایک مدد مانگنے آئے ہیں۔“
”جی حکم کریں۔“جواب دینے والا عبداللہ بن خیر ہی تھا۔اس کے لہجے میں حیرانی شامل تھی۔
”میں شہنشاہ فارس ،محترم سابور اعظم کا سالار ہوں۔روم و فارس کی گزشتا جنگ کی ابتداءمیں رومیوں کو عارضی فتح حاصل ہوئی اور شہنشاہ فارس کو ایک مصلحت کے تحت طیسفون خالی کرنا پڑا۔شہنشاہ معظم کے خصوصی محافظ جن کا درجہ ہمارے ہاں سپہ سالار سے بھی بڑھ کرہے۔بد قسمتی سے ان کا بیٹا عرب دستوں کے ہاتھ چڑھ گیا۔وہ اسے قیدی بنا کر بنو کاظمہ لے آئے۔میں بس اسی کی تلاش میں آیا ہوں۔ اس نوجوان کا نام یشکر ہے۔امید ہے بنو کاظمہ کے معزز سردار ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔ اور بے فکر رہیں ہم اس کی رہائی کا پورا معاوضا ادا کریں گے۔“
عبداللہ نے وفد کے دوسرے ممبران کی طرف دیکھ کر استفہامیہ اشارہ کیا مگر تمام نے نفی میں سر ہلا دیے تھے۔ عبداللہ ،بہرام کی طرف متوجہ ہوا۔ ”اس نام کے کسی جوان سے ہم واقف نہیں ہیں ،البتہ میرا بڑا بھائی جریح بن خیر اس جنگ میں بذات خود شامل ہوا تھا۔شاید اس بارے ان سے کوئی معلومات مل جائیں۔“
بہرام نے کہا۔”اگر زحمت نہ ہو توانھیں یہیں بلوا لیں یا میں آپ کے ہمراہ ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔“
عبداللہ نے اثبات میں سر ہلایا۔”میں بندہ بھیج دیتا ہوں۔“بہرام کو کہہ کر اس نے ایک آدمی اپنے بڑے بھائی کو بلانے کے لیے بھیج دیا تھا۔جریح کی آمد تک ان کی گفتگو ترجمان کی مدد سے جاری رہی۔
جریح بن خیرنے وہاں آنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔بہرام کا مسئلہ سنتے ہی اس نے کہا۔
”قیدی مرہ بن اثمد کی زیر نگرانی بھیجے تھے۔میں خود تو رومی لشکر کے ساتھ چلا گیا تھا۔“
اس کے بعد انھوں نے مرہ بن اثمداور غلاموں کے قافلے کے ساتھ آنے والے چند اور معززین کو بھی وہیں بلوا لیا تھا۔مرہ ذہن پر زور دیتے ہوئے بولا۔ ”ہمارے ساتھ پانچ چھے قیدی لڑکے تھے۔ان کے نام پوچھنے کا اتفاق تو نہیں ہوا تھا البتہ جو حلیہ آپ بیان کر رہے ہیں اس صورت کا ایک لڑکا ہمارے پاس موجود تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک لڑکی جو سردار ذہب بن خیر کو زہر دے کر بھاگ گئی تھی وہ ہر وقت اس لڑکے کے ساتھ سر جوڑے گفتگو کر رہی ہوتی اور اسی کی وجہ سے اس لڑکے سے بڑی سخت تفتیش کی گئی تھی۔بڑا سخت جان لڑکا تھا۔“
جریح بن خیر کو بھی وہ لڑکا یاد آگیا تھا جسے بھائی کی موت کے بعد انھوں نے بے دردی سے پیٹا تھا ۔
سبرینہ ،بہرام کو ساراواقعہ بتا چکی تھی اور اسے معلوم تھا کہ مرہ بن اثمد کس لڑکی کا ذکر کر رہا تھا۔ دل میں ابلتے غصے پر قابو پاتے ہوئے وہ خوشگوار لہجے میں بولا۔”بالکل ،میں اسی لڑکے کی بات کر رہا ہوں۔“
مرہ بن اثمدنے کہا ۔”ان دنوں قریش کا ایک بڑا قافلہ یہاں آیا ہوا تھا ۔غلاموںکی نیلامی میں انھوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ یشکر کو خریدنے والے کا تعلق کس قبیلے سے تھا ۔“
مرہ بن اثمد کا ساتھی مخرمہ بن بوی بولا ۔”اس نیلامی میں یشکر کے علاوہ کوئی لڑکا شامل نہیں تھا بیس مرد اور تین خواتین اس دن بیچی گئی تھیں۔“
بہرام نے پوچھا۔”یشکر کو خریدنے والے کا تعلق کس قبیلے سے تھا ؟“
مرہ بن اثمد نے نفی میں سرہلایا۔”معلوم نہیں ۔“
بہرام نے پیشکش کی ۔”کوئی ایسا جسے معلوم ہو،دس سونے کے سکے انعام میں دوں گا ۔“
بنو کاظمہ والوں کے چہرے پر لالچ کی چمک ابھری ۔مرہ مستفسر ہوا ۔”دس سونے کے سکے خریدنے والے کا نام بتانے پر ملیں گے یا یشکر کو بازیاب کرانے پر ؟“
بہرام فرخ دلی سے بولا ۔”دس قبیلے کا نام بتانے والے کو اور دس بازیاب کرانے والے کو ۔“
مخرمہ بن بوی بولا ۔”ہمیں تھوڑی مہلت چاہیے ؟“
بہرام امید بھرے لہجے میں بولا ۔”آپ لوگ اپنے قبیلے والوں سے معلوم کریں شاید کوئی جانتا ہو۔“
مرہ بن اثمد بولا ۔”ہم قبیلے والوں سے معلوم کر لیتے ہیں ۔اگر پتا نہ چل سکا تو میں اور مخرمہ بن بوی آپ لوگوں کے ساتھ ان قبائل میں جائیں گے جو قریش کے قافلے میں شامل تھے۔اور اس ضمن میں ہم دونوں دس دس سونے کے سکے معاوضا وصول کریں گے۔“
بہرام خوشگوار لہجے میں بولا ۔”اگر یشکر مل گیا تو اس سے زیادہ معاوضا دوں گا ۔“
بہرام کے حکم پر وفد کے ارکان کو فارس کی بہترین شراب پیش کی گئی ۔ابھی تک وہ شراب پی رہے تھے کہ بنو کاظمہ کے سردار کی طرف سے فارسیوں کے لیے رات کا کھانا پہنچ گیا تھا ۔عرب روایتی مہمان نوازی کو نہیں بھولے تھے ۔
٭٭٭
بات چیت کے اختتام پر ملکان بن نول نے گوہ کا بھنا ہوا گوشت قُتیلہ کو پیش کیا ۔اس کی آمد سے پہلے وہ گوہ ہی کو بھون رہے تھے ۔
”اتنا بد مزہ کھاجا قُتیلہ کوپسند نہیں ہے ۔“اس نے ناک بھوں چڑھائی ۔
قریب بن فلیح بولا ۔”ہم تو دو دنوں سے بھوکے ہیں ،بڑی مشکل سے یہ گوہ ہاتھ آیا ہے ۔“
قُتیلہ نے پیشکش کی ۔”عمدہ تمر(خشک کھجور) کھلا سکتی ہوں ۔“
قریب نے اثبات میں سر ہلایا ،جبکہ ملکان نے بھنے ہوئے گوشت کا ٹکڑا منھ کی طرف لے جاتے ہوئے کہا ۔”میں تو گوشت ہی کھانا پسند کروں گاچاہے جیسا بھی ہو۔“عامر کا ہاتھ بھی گوشت کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
قُتیلہ اپنے گھوڑے کی طرف بڑھ گئی ۔خرجین سے تمر کی تھیلی نکال کر اس نے مٹھی بھر کھجوریں نکالیں ،زین سے بندھا مشکیزہ کھول کر واپس مڑ گئی ۔
”مجھے لگ رہا ہے کہ سردار زادی کا مشکیزہ عمدہ شراب سے لبریز ہے ۔“گوشت چباتے ہوئے ملکان بن نول نے دانت نکالے۔
”ہاں ۔“قُتیلہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”جانے کب سے ترس رہے ہیں ۔“ملکان نے اجازت طلب انداز میں مشکیزے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”اب قُتیلہ آگئی ہے ۔“(مطلب اب نہیں ترسو گے )غرور بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے مشکیزہ اس کی جانب بڑھا دیا ۔
ملکان نے مشکیزے کو منھ لگا کر غٹا غٹ شراب پینا شروع کر دیا تھا ۔
”زیادہ نہ پیو ،یہ نہ ہو نشے میں الٹی سی حرکت کر بیٹھو ۔قُتیلہ گستاخی کرنے والے کو مدہوش ہونے کی وجہ سے معاف نہیں کیا کرتی ۔“
”ایسا نہیں ہو گا سردار زادی ۔“مشکیزہ منھ سے ہٹاتے ہوئے ملکان نے قریب کی طرف بڑھا دیا ۔
دھوپ میں تیزی آگئی تھی ۔سورج کے بلند ہونے کی وجہ سے سائے سمٹ گئے تھے ۔وہ بیری کے تنے کے قریب ہو گئے۔گھوڑوں کو بھی انھوں نے دوسری بیری کے نیچے باندھ دیا تھا۔قتیلہ تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی۔ اس کے بھاری ہوتے سانسوں کی آواز سن کر وہ سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگے ۔ قُتیلہ ان کی نظر میں عجوبہ ہی تھی ۔کسی لڑکی سے وہ اس دلیری کی توقع نہیں کر سکتے تھے۔تین انجانے مردوں کی موجودی میں اس کا اس بے فکری سے سوجانا بھی مزید حیران کرنے والا تھا۔
عامر، قتیلہ کے خوابیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا ۔ ”ملکان ،بھائی میں سمجھتا تھا کہ عرب میں کوئی شمیشر زن آپ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔“
ملکان کے ہونٹوں پرپھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ”سردار زادی سے مقابلہ کرنے سے پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا ۔“
قریب کہنے لگا ۔”بنو احمر کے سردار کیدار بن ثابت اور اس کے بھائی ذواب بن ثابت دونوں سے میں اچھی طرح واقف ہوں وہ بہترین لڑاکے تھے۔“
عامرنے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”اگر یہ بات ملکان بن نول کی شکست سے پہلے مجھے کہی جاتی تو میں مر کر بھی یقین نہ کرتا کہ کیدار بن ثابت کو ایک چھوکری نے قتل کر دیا ،البتہ سردار زادی کو بذات خود لڑتے دیکھ کر میں قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ جتنا بھی بہترین لڑاکاتھا سردارزادی کے عشر عشیر بھی نہیں ہوگا۔“
قُتیلہ زیادہ دیر نیند کے مزے نہیں لے سکی تھی۔ سموم (تپتی لو)نے جلد ہی اسے جاگنے پر مجبور کر دیا تھا ۔کمر سے نطاق کھول کر اس نے قریب کی طرف پھینکا۔
”قریب چچا،اگر ناگوار نہ ہو تو یہ گیلا کر دو ۔“
قریب نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے نطاق اٹھایا اور بیری کے تنے کے ساتھ لٹکتے پانی کے مشکیزے کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ ملکان کی طرف متوجہ ہوئی ۔”پانی کا چشمہ کتنی دور ہے ؟“
”چشمہ تو کوئی نہیں البتہ ڈیڑھ دو کوس دور وادی گزر رہی ہے کل وہیں سے کھود کر دو مشکیزے بھرے تھے ۔“
”ہونہہ۔“ہنکارا بھرتے ہوئے اس نے قریب کے ہاتھ سے گیلا نطاق پکڑا اور بالائی بدن پر لپیٹ کر دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگی ۔رات بھر کی مشقت اور بے آرامی اسے نیند لینے پر اکسا رہی تھی لیکن صحرائے اعظم کی تپتی لو نیند کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھی ۔
گیلے نطاق نے گھڑی بھر کا آرام مہیا کیا مگر سموم نے جلد ہی اسے خشک کر دیاتھا ۔سہ پہر تک وہ پانی کاایک مشکیزہ نطاق کو بار بار گیلا کرنے پر صرف کر چکی تھی ۔جبکہ دوسرے مشکیزے کو وہ تینوں پی کر خالی کر چکے تھے ۔البتہ قُتیلہ کے گھوڑے کی زین کے ساتھ بھی پانی کا ادھ بھرا مشکیزہ اب تک بندھا ہوا تھا۔
سائے لمبے ہوئے ،سورج کی تپش میں کمی واقع ہوگئی تھی،مگر ریت اتنی جلدی ٹھنڈا ہونے پر تیار نہیں تھی۔قُتیلہ نے اٹھ کر شراب کے مشکیزے سے چند گھونٹ لے کر کسل مندی دور کی اور اونگتے ہوئے ملکان کو مخاطب ہوئی ۔
”ملکان بن نول ،شکار کرنے کے بارے کیا خیال ہے ؟“
اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے انگڑائی لی۔ ”خیال تو اچھا ہے ،مگر ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔“
وہ اعتماد سے بولی ۔”ایسا کرو تم لوگ مشکیزے بھر لاﺅاور یہ کام مجھ پر چھوڑ دو ۔“
”مجھے لگتا ہے آپ کے گھوڑے کو پانی کی ضرورت ہے ۔بہتر ہوگا پہلے گھوڑے کو سیراب کر دو۔“
”صحیح کہا ۔“قُتیلہ نے متفق ہونے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد وہ تینوں تیار ہو کر الرّملہ کے کنارے کی طرف جا رہے تھے ۔وادی کے کنارے پہنچتے ہی ملکان بن نول حیرانی سے بولا۔”یہ خیمے کل رات کو ادھر نہیں تھے۔“
قریب اور عامر بھی حیرانی سے وادی کے دوسرے کنارے پر لگے ہوئے درجن بھرخیموں کو دیکھ رہے تھے ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: