Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 2

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 2

–**–**–

رغال اور غنم نے اسی وقت واپسی کا قصد کیا ….یوں بھی سورج سفید لبادہ اتار کر سنہری جامہ زیب تن کر چکا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے اندھیرے کی چادر اوڑھ لینا تھی ۔خیمے میں سردار پانچ آدمیوں کے ساتھ بیٹھا تھا ،وہیں شموس بھی اپنے بچے کے ہمراہ موجود تھی ۔رات کے وقت وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک علاحدہ خیمے میں ہوتی تھی ۔
”بچہ کہاں ہے ؟“عریسہ بنتِ منظر کی خالی گودکو دیکھتے ہی ،جبلہ بن کنانہ نے حیرانی سے پوچھا۔
”بک گیا ہے سردار۔“رغال خوش دلی سے مسکرایا۔
”کتنے میں بکا ہے ۔“بچے کو دودھ پلاتی شموس بے تابی سے مستفسر ہوئی ۔
رغال اسے نظر انداز کرتا ہوا سردار کو مخاطب ہوا ۔”بیس سونے کے سکّے ملے ہیں سردار۔“
”کیا ….؟“جبلہ کی حیرانی دیدنی تھی ۔
”اپنا وعدہ یاد ہے نا غنم ؟“شموس بے صبری سے مستفسرہوئی ۔
”ہاں یاد ہے ….اور سردار بھی جانتا ہے ۔“
جبلہ نے کہا ۔”اسے پانچ سکّے دے دو رغال ۔“
”جی سردار!….“رغال نے تھیلی کھول کر پانچ سکّے گن کر نکالے اور شموس کی طرف بڑھا دئےے۔جو اس نے سرعت سے جھپٹ لےے تھے۔اس کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی ۔اس کے وہم و گمان میں نہیں تھا، کہ دودھ پلانے کا اتنا خطیر معاوضا مل جائے گا ۔اس کے تیئں تو بچے کی قیمت چند درہم ہی تھی ، جس میں اسے ،درہم، ڈیڑھ درہم ہی ملتے ۔
”اسے کیوں واپس لے آئے ہو ؟“جبلہ کا اشارہ عریسہ بنتِ منظر کی جانب تھا ۔
”سردار اسے کل بیچ دیں گے ….پہلے تو بچے کی موجودی میں اسے کوئی نہیں خرید رہا تھا ،اب تو کئی خریدار مل جائیں گے ۔“اور جبلہ نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔اسی وقت اربد بن قیس قریباََ دوڑتا ہوا خیمے میں داخل ہوا ۔
”سردار!….بنو ابطح کے سردار نے اونٹوں کی کثیر تعداد، اپنے دس بندوں کی نگرانی میں قبیلے کی طرف روانہ کر دی ہے۔ان میں آٹھ بندے پانچ منزل تک ساتھ جائیں گے اور پھر اپنے تیز رفتار گھوڑوں پر واپس لوٹ آئیں گے ۔“
”کتنے اونٹ ہوں گے؟“
”سردار !….سو آدمیوں کا خون بہا دیا جا سکتا ہے ۔“(یاد رہے اس وقت ایک آدمی کا خون بہا دس اونٹ ہوتا تھاجو بعد میں سو اونٹ ہو گیا اور ایساحضورﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ کی وجہ سے ہوا تھا ۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ حضور ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے منت مانی تھی کہ اگر اﷲ تعالیٰ نے مجھے دس بچے دیئے تو میں ایک بچہ اﷲ کے نام پر ذبح کروں گا۔ان کو اﷲ نے دس بیٹے دیے سب سے بڑا حارث اور سب سے چھوٹے عبداﷲ جو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے والدماجد تھے ۔حضرت عبداﷲ جب بڑے ہو گئے تو عبدالمطلب کاہن کے پاس آیا جو کعبے میں رہتا تھا اوربتایا۔” میں نے منت مانی تھی کہ اگر میرے بیٹے دس ہوئے تو میں ان میں سے ایک بیٹا ذبح کرو ں گا لہٰذ ا اﷲ نے مجھے دس بیٹے دیئے ہیں تم قرعہ ڈالو کس کا نام نکلتا ہے۔ “جب کاہن نے قرعہ ڈالا تو عبداﷲ کا نام نکلا۔عبداﷲ انھیں بہت پیارا تھااس لیے حضرت عبدالمطلب نے کاہن کوکہا ۔”دوبارہ قرعہ ڈالو“۔ دوبارہ بھی عبداﷲ کا نام نکلا۔حضرت عبدالمطلب نے تیسری مرتبہ قرعہ اندازی کرائی ۔تب بھی عبداﷲ کا نام نکلا۔ جب تینوں مرتبہ عبد اﷲ کا نام نکلا تو حضرت عبدالمطلب کہتے ہیں میں سمجھ گیا کہ تقدیر کا یہی فیصلہ ہے۔ وہ عبداﷲ کو
قربان کرنے کے ارادہ سے لے کر چل پڑے ۔قریش کے تمام بڑے بڑے سردار عبدالمطلب کےآڑ آئے اور ان کے مشورے پر آپ ایک مشہور کاہنہ کے پاس پہنچے اور اسے ساری حکایت سنائی۔
کاہنہ نے کہا۔ ”اچھا یہ بتاﺅ جب تم میں کوئی کسی سے مر جاتا ہے تو اس کی دیت کتنی دیتے ہو۔“
انہوں نے کہا۔ ”دس اونٹ“۔
وہ بولی۔ ”یوں کرو، ایک طرف رکھو دس اونٹ اور دوسری طرف عبداﷲ کا نام اگر قرعہ نکلے اونٹوں کا تو اونٹ ذبح کر دو اور اگرعبداﷲ کا نام نکل آئے تو مزید دس اونٹ بڑھاکر دوبارہ قرعہ ڈالو اور اسی طرح جب تک اونٹوں کے نام قرعہ نہ نکلے ہر مرتبہ10اونٹوں کی تعداد بڑھاتے رہو“۔
عبدالمطلب واپس آگئے اور کعبے کے کاہن سے قرعہ ڈالنے کا کہا۔ اس نے دوبارہ قرعہ اندازی کی، ایک طرف10اونٹ ، دوسری طرف عبداﷲ، اس مرتبہ بھی عبداﷲ کا نام نکلا اس طرح ہوتے ہوتے100 اونٹ جب ہوئے تو اب اونٹوں کا قرعہ نکلا۔ اسی وجہ سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ۔”انا ابن الذ بیحین“ کہ میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں، میرا ابا اسماعیل بھی ذبیح اﷲ اور حقیقی ابا عبداﷲ بھی ذبیح اﷲ اور خدا کی شان کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کو بھی ذبح ہونے سے بچا لیا اور حضرت عبد اﷲ کو بھی ذبح ہونے سے بچا لیا اور مقام ذبح بھی مل گیا)
جبلہ نے حیران ہو کر پوچھا ۔”یہ اکٹھے بھی جا سکتے تھے ؟“
”سردار !….سنا یہی ہے کہ بنو ابطح کے سردار نے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بھی خریدا ہے اور کل اس کا ارادہ جیتنے والے گھوڑوں کی خریداری کا ہے ۔اس نے سوچا کہ تمام مویشی اکٹھے بھیجنے کے بجائے دو مراحل میں بھیجے جائیں ،اس طرح ان کو آسانی سے سنبھالا بھی جا سکے گا اور لٹنے کی صورت میں آدھا نقصان ہو گا ۔“
”لٹنے کا ڈر تھا تو احمق ،زیادہ آدمی ساتھ لے آتا۔ویسے یہاں سے بنو ابطح کا فاصلہ غالباََسات آٹھ منزل ہوگا ۔“[ایک منزل قریباََ سولہ میل ،یا چوبیس کلو میٹر کے برابر ہوتی ہے ]
”جی سردار!“رغال نے مودبانہ لہجے میں اس کی تائید کی ۔
”ٹھیک ہے ، تمام کو بتا دو، غروبِ آفتاب تک طعام سے فارغ ہو جائیں ۔“
اور سردار کی بات نے تمام کو بکھیر دیا تھا ۔
٭٭٭
قافلے کی تباہی کا سن کر بنو جساسہ کے گھر گھر صف ِ ماتم بچھ گئی تھی۔ حاجب بن قارب نے روتے ہوئے ساری کہانی بیان کی تھی ۔اس کی بیان کردہ کہانی کے مطابق تمام قافلے کا صفایا ہو گیا تھا ۔ شیبہ بن ثمامہ اپنے بھائی شُرَی±ک بن ثمامہ کی غیر موجودی میں قائم مقام سردار تھا ۔شریک کی نرینہ اولاد موجود نہیں تھی ۔اپنے پیچھے اس نے دو بیویاں اور ایک بیٹی چھوڑی تھی ۔اس کی موت کی خبر آتے ہی شیبہ خود بہ خود سرداری کے رتبے پر فائز ہوگیا تھا ۔شریک کے بیٹے کی پیدائش کی بابت، حاجب بن قارب انھیں بتا چکا تھا ، مگر وہ زندہ بچا تھایا اس حملے میں مارا گیا تھا اس بارے وہ صرف اندازہ ہی لگا سکتے تھے ۔حاجب کے بہ قول جب کوئی بڑا زندہ نہیں بچا تھا تو ایک نوزائیدہ بچے کے بچ جانے کے بارے سوچنا حماقت تھی ۔
٭٭٭
میلے سے انھوں نے غربی سمت کا رخ کیا ۔ان کا اپنا قبیلہ بھی اسی سمت کوتھا۔چند کوس چلنے کے بعد ،شموس بنت سلول ،عریسہ بنتِ منظر ،رغال اور شموس کے خاوند زہیر بن جزع کو سردار کے حکم سے دس اونٹوں کے ہمراہ اپنے قبیلے کی سمت روانہ کرکے باقی سردار کی معیت میں جنوب کی سمت میں مڑ گئے ۔بنو ابطح اسی سمت میں واقع تھا ۔وہ تمام طاقت ور اور تیز رفتار گھوڑوں پر سوار تھے ۔آدھی رات کے قریب انھوں نے بنو ابطح کے قافلے کو جالیا تھا ۔اپنا آپ ظاہر کیے بغیر وہ ان کے تعاقب میں چلتے رہے ۔اونٹ کو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے تو اس میں رتی بھر بھی مبالغہ نہیں ہے ،مگر اونٹ جتنا بھی تیز رفتارہو، اس کا گھوڑے سے کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔پھرجبلہ اور اس کے آدمی جن گھوڑوں پر سوار تھے وہ تمام خصوصاََ اسی مقصد کے لیے پالے اور سدھائے گئے تھے ۔
جبلہ نے اپنے آدمی قافلے سے کافی پیچھے رکھے تھے ،البتہ غبشان بن عبشہ کو جو کہ نہایت چالاک اور زیرک آدمی تھا وہ بنو ابطح کے قافلے پر قریب سے نظر رکھے ہوئے تھا ۔
وہ پوری رات چلتے رہے تھے ،صبح بھی دھوپ کے تیز ہونے تک ان کا سفر جاری رہا تھا ۔جیسے ہی دھوپ میں تیزی آئی قافلے والے آرام کرنے رک گئے ۔قافلے والوں کو آرام پر آمادہ دیکھ کرغبشان واپس اپنے آدمیوں کی طرف مڑ گیا ۔
جبلہ بن کنانہ نے دور سے غبشان کو آتے دیکھ کر تمام کو رکنے کا کہا ،گو جس کی بھی غبشان بن عبشہ پر نظر پڑی تھی اس نے خود بہ خود اپنے گھوڑے کی لگامیں کھینچ لی تھیں،مگر سردار کی ذمہ داریاں اسی چیز کی متقاضی تھیں کہ وہ ہر موقع پر اپنے فیصلے سے دوسروں کو ضرور آگاہ کرے ۔
”سردار! یقینا قافلے والے سورج کی تمازت سے مزیدنبردآزمانہیں ہو سکتے۔“ غبشان نے قریب پہنچتے ہی جبلہ کو قافلے کے پڑاو¿ ڈالنے سے مطلع کیا ۔
”ضرور کسی نخلستان نے انھیںغافل ہونے کا مشورہ دیا ہو گا ۔“جبلہ نے تیز ہوتے سورج کو دیکھ کر اندازہ لگایا۔
”چند درخت ہی ہیں سردار!“غبشان نے منہ بناتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
”چند درخت ،چند افراد کے لیے وافر ہیں ۔“ کہہ کر سردار نے گھوڑے کی لگام ڈھیلی کرتے ہوئے کہا ۔”ہمیں بھی آرام کی کوئی جگہ تلاشنی پڑے گی ۔“اس نے اپنے گھوڑے کا رخ غربی سمت میں موڑ دیا ،یقینا اس کا ارادہ چکر کاٹ کر قافلے سے آگے نکل کر آرام کرنے کا تھا ۔باقی تمام بھی بغیر کسی سوال و جواب کے سردار کے پیچھے چل پڑے تھے کہ یہ ان کا روزمرہ کا معمول تھا ۔ان کا پہلا ڈاکا نہیں تھا کہ پوچھنے کی ضرورت پڑتی ۔
دو فرسخ (فرسخ کی لمبائی قریباََ تین میل ہوتی ہے )کا لمبا چکر کاٹ کر وہ قافلے سے آگے نکل گئے ۔یوں بھی بنو ابطح والے ایک وادی میں محو سفر تھے اس لیے قزاقوں کو ان کا رستا معلوم کرنے میں کوئی پریشانی پیش نہیں آئی تھی ۔(عرب میں کوئی مستقل بہنے والا دریا موجود نہیں ہے ،البتہ تیز رفتار طوفانی بارش کی وجہ سے پانی کئی کئی دن بلکہ کئی کئی ہفتے تک سیلابی صورت میں چلتا رہتا ہے اور اسے عربی میں سیل کہتے ہیں ۔پانی کا یہ بہاو¿ جو رستے بناتا ہے اسے عرب کی اصطلاح میں وادی کہتے ہیں ۔یہ وادیاں عرب میں انسانی جسم میں موجود شریانوں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں اور قدرتی شاہراو¿ں کا کام دیتی ہیں ،کیونکہ ایک تو ان وادیوں میں نمی کی وجہ درخت کثرت سے اگتے ہیں دوسرا سفر کرنے والے زمین کھود کر پانی بھی نکال لیتے )وادی کے اندر آگے کی طرف بھی انھیں چند فرلانگ چلنا پڑا ۔ان کے چلنے کے تسلسل میں درختوں کے ایک ایسے جھنڈ نے رکاوٹ ڈالی جووادی کے ایک کنارے پر واقع تھا۔ٹھنڈا سایہ تھکے ہوئے جسموں کو دعوت آرام دے رہا تھا ۔
گھوڑوں کو درختوں سے باندھ کر انھوں نے توبڑے گھوڑوں کے منہ سے لگائے اور خود سائے میں لیٹ گئے ۔نرم ریت ان کے جسموں کو سہلانے لگی ۔سردار کے اشارے پر احمر بن ضریر پہرے داری کے لیے بیٹھ گیا تھا ۔تھوڑی ہی دیر میں تمام کے خراٹے گونج رہے تھے ۔احمر بن ضریر اٹھ کر ٹہلنے لگا ۔سورج کی حرکت اور سائے کے سکڑنے سے اس نے اپنے پہرے داری کے دورانیے کا اندازہ لگایا اور پھر سہل بن اجدار کو اٹھانے لگا….
سورج ان کے سروں سے گزر کر غربی سمت میں نیچے جھکنے لگا تھا۔عیلان بن عبسہ پہرے داری کر رہا تھا،سورج کی تمازت میں کمی آتے دیکھ کر اس نے غبشان بن عبشہ کو جگا دیا۔
”سورج پسپا ہو رہا ہے ،معلوم کرودوستوں کے کیا ارادے ہیں ؟“
غبشان آنکھیں ملتا ہوا اٹھا ،اپنے گھوڑے کی زین سے بندھی چھاگل کھولی اور پانی پینے لگا ۔ خوب سیر ہونے کے بعد اس نے چھاگل واپس زین سے باندھی اور لگام کھول کر گھوڑے پر سوار ہو گیا ۔ گھوڑے نے آہستہ سے ہنہنا کر مالک کو خوش آمدید کہا ۔اس کا رخ بنو ابطح کے قافلے کی طرف تھا اس وجہ سے اسے واپسی کا سفر اختیار کرنا پڑا۔دو تین کوس فاصلہ طے کرنے کے بعد جیسے ہی وہ ایک موڑ مڑا ،اسے اونٹوں کا گلاّ نظر آیا ۔سب سے آگے چلنے والے گھڑسوار نے اسے دیکھ لیا تھا، اس وقت اگر وہ واپسی کا قصد کرتا تو یقینی طور پر قافلے کے آگے چلنے والا سوار شک میں پڑ جاتا ۔ غبشان بن عبشہ بے جھجک اس کی طرف بڑھتا گیا ۔
”عزیٰ تمھاراقبال بلند کرے ۔“غبشان بن عبشہ نے بات کرنے میں پہل کی تھی۔
”عزیٰ کی جے۔“قافلے کے آگے چلنے والا سوار جواباََ بولا۔
”بنو قیس جانے کے لیے یقینایہ وادی آخر تک میری مددگار رہے گی ؟“وہاں سے واپس مڑنے کے لیے غبشان بن عبشہ نے اس قبیلے کا رستا پوچھا جو قزاقوں کے پڑاو ،والی جگہ سے شرقی جانب واقع تھا ۔وہ خود کو ایسا مسافر ظاہر کر رہا تھا جو رستا بھول چکا ہو ۔اور یہ بات گمان سے بعید تھی کہ بنو ابطح کے باسی کو بنو قیس کی راہ معلوم نہ ہو ۔
اور پھراس کے گمان کے مطابق قافلے کے رہبر نے اسے راہ سمجھا تے ہوئے کہا ۔”بنو قیس جانے کے لیے اس وادی کی ذمہ داری ،دو تین کوس پہلے ہی پوری ہو چکی ہے ۔وہاں سے آپ کو سورج نکلنے کی سمت اختیا کر لینا چاہیے تھی ۔بلکہ یہیں سے اس جانب مڑ جاو¿۔“اس نے شرقی جانب اشارہ کیا۔
”نہیں ، اول الذکر بات مناسب لگتی ہے ۔“غبشان کویوں بھی پیچھے مڑنے کا بہانہ چاہیے تھا ۔ بنو ابطح کے رہبر نے جس مقام کی نشان دہی کی تھی وہ بعینہ وہی جگہ تھی جہاں اس کے ساتھی محو استراحت تھے۔پیچھے مڑ کر اس نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی ۔تیز رفتار گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا ۔بنو ابطح والے یوں بھی اونٹوں کے ہمراہ محو سفر تھے اس لیے وہ اس تیزی سے حرکت نہیں کر سکتے تھے۔
اس کے ساتھیوں نے اسے دور ہی سے دیکھ لیا تھا ۔کیونکہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد پہرے دار نے تمام کو جگا دیا تھا ۔وہ چلنے کے لیے تیار تھے ۔
”سردار!….ان کا سفر شروع ہوگیا ہے ۔“فرلانگ بھر دور ہی سے غبشان بن عبشہ نے جبلہ بن کنانہ کو قافلے کے حرکت کرنے کی خبر سنا دی ۔
”چلو پھر ۔“سردار گھوڑے پر بیٹھ کر رستے سے دور ہٹنے لگا ۔وادی کا کنارا چھوڑ کر وہ دو تین فرلانگ شرقی جانب ہٹ گئے تھے۔ایک بہت بڑے ٹیلے کی آڑ میں رک کر وہ بنو ابطح کے قافلے کے آگے بڑھنے کا انتظار کرنے لگے ۔انھیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا جلد ہی ٹیلے کے اوپر لیٹے غبشان بن عبشہ نے انھیں اشارے سے قافلے کی آمد کی خبر دی ۔ گھڑی بھر انتظار کے بعد غبشان ٹیلے سے نیچے اترکراپنے گھوڑے پر بیٹھااور ہلکی رفتار سے چل پڑا ۔فرلانگ بھر کا فاصلہ رکھ کر باقی قزاق بھی اس کے پیچھے چل پڑے تھے۔
سورج طلوع ہونے کے لیے پر تول رہا تھا جب جبلہ بن کنانہ اور اس کے ساتھیوں کو غبشان،تیز رفتاری سے اپنی جانب آتاد کھائی دیا ۔وہ دور ہی سے ہاتھ کے اشارے سے انھیں چھپنے کا کہہ رہا تھا ۔ انھیں غبشان کا اشارہ سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی اوروہ فی الفورٹیلے کی آڑ میں ہو گئے تھے ۔چند لمحوں بعد غبشان بھی ان کے پاس آکر ٹیلے کی آڑ میں ہو گیا ۔
”مطلب تلواروں کی پیاس بجھانے کا وقت قریب ہے۔“غبشان کے کچھ کہنے سے پہلے جبلہ بن کنانہ نے اندازہ لگایا۔
”جی سردار !….محافظ سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری نبھا لی ہے ۔اب وہ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے واپس جا رہے ہیں ۔“
غبشان کے کہنے کے بہ موجب ،لمحہ بھر بعد ہی انھیں چند گھڑ سوار تیز رفتاری سے شمال کی جانب جاتے دکھائی دیے۔قافلے کو خیریت سے پہنچانے والے آٹھ سوار وں کے جانے کے بعد قافلے کی نگرانی کرنے والے صرف دو محافظ باقی رہ گئے تھے ۔
گھڑی بھر انتظار کے بعد جبلہ بن کنانہ نے گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے کہا ۔
”میری برچھی مزید انتظار نہیں کر سکتی ۔“انھیں معلوم تھا کہ جانے والے سواروں نے کسی صورت واپس نہیں مڑنا تھا ۔
تمام قزاق سرعت سے گھوڑوں پر سوار ہو گئے تھے ۔منزل قریب تھی۔طویل انتظار کے بعد انھیں دل پسند مشغلہ ہاتھ آنے والا تھا ۔
”غبشان اور سہل!…. آگے جا کر رہبر کے قدموں میں زنجیر ڈالو۔ہم انھیں پیچھے سے گھیرتے ہیں ۔“سردار نے نے حکمت عملی ترتیب دی ۔
غبشان اور سہل نے سر ہلاتے ہوئے گھوڑوں کو ایڑ لگائی ،جبکہ سردار اپنے باقی آدمیوں کے ساتھ وادی میں اتر گیا ۔بنو ابطح کا قافلہ موڑ مڑ کر ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا تھا ،مگر انھیں یقین تھا کہ قافلے والے کوس بھر سے زیادہ دور نہیں جا سکے ہوں گے ۔
تیز رفتار گھوڑوں نے کوس دو کوس کا فاصلہ بجلی کی سی سرعت سے طے کیا تھا ۔اونٹوں کی کثیر تعداد کے ساتھ فقط دو آدمی رہ گئے تھے ۔اونٹوں کو عقب سے ہانکنے والا جبلہ اور اس کے آدمیوں کو دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ خوفزدہ نظر آنے لگا تھا۔
”کیا تمھیں لگتا ہے ،کہ تم ان تمام اونٹوں کے صحیح حق دار ہو؟“
”یی….یہ اونٹ ،پورے قبیلے کے ہیں ۔“
جبلہ ہنسا۔”کس قبیلے کے ؟“
”بنو ابطح ۔“
”ایسا تو بس تم سمجھتے ہو اور جو ایسا سمجھتا ہے ،میرا خیال ہے ،صحیح نہیں سمجھتا اور جوصحیح نہ سمجھے اس کا زمین کے اوپر نظر آنے سے، بدرجہا بہتر ہے اندر چلے جانا ہے ۔“
”بہت اچھا فیصلہ ہے سردار !….آپ کے عدل کا زمانہ معترف ہے ۔“عیلان بن عبسہ نے لقمہ دیا ۔
اسی وقت غبشان اور سہل قافلے کے رہبر کو گلے میں رسّا ڈال کر بھگاتے ہوئے لے آئے تھے۔
غبشان نے کہا ۔”سردار!….محترم رہبر کہہ رہا ہے کہ بنو ابطح والے بدلہ ضرور لیں گے ؟“
جبلہ زہر خند لہجے میں بولا۔”غبشان! تیری تلوار کی دھار کب سے کند ہو گئی ہے ؟“
غبشان نے مودّبانہ لہجے میں جواب دیا ۔”سردار !….کند نہیں ہوئی ،حکم کی منتظر تھی ۔“
جبلہ نے منہ بنایا۔”مجھے زبانی جمع خرچ سے نفرت ہے ۔“
”یہ لیں سردار!“غبشان نے اپنی تلوار بے نیام کر کے گھمائی ، رہبر کا سر تن سے جدا ہو کر اپنے ساتھی کے قدموں میں جا گرا تھا ۔اس کا بے سر بدن زمین پر گر کر پھڑکنے لگا ۔
”ہونہہ!….سردار نے اطمینان سے کہتے ہوئے احمر بن ضریر کی جانب دیکھا ۔
اوراحمر بن ضریرنے اثبات میں سر ہلایااور تلوار بے نیام کر کے بنو ابطح کے رہ جانے والے آدمی کی طرف بڑھا ۔
”محترم سردار !….میں رحم کا طالب ہوں ۔“رہ جانے والے نے گھٹنوں کے بل گر کر ہاتھ باندھ لیے ۔
جبلہ نے اسے مخاطب کیا ۔”شاید تمھیں تلوار سے گلا کٹوانے سے ڈر لگتا ہے ؟“
اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”جی سرادر !“
”رہنے دو احمر!“جبلہ نے ہاتھ اٹھا کر احمر کو روکا ،بنو ابطح کے اسی کے چہرے پر اطمینان ابھرا ، مگر اسی لمحے جبلہ کے دائیں ہاتھ نے برچھی اگلی جو اس کی کھوپڑی سے پار ہو گئی تھی ۔
”میںاس سے زیادہ رحم نہیں کر سکتا ۔“جبلہ نے اطمینان سے کہا اور احمر کو برچھی لانے کااشارہ کیا ۔
احمر نے دستے سے پکڑ کر برچھی کو مقتول کے سر سے کھینچااور اس کے لباس سے صاف کر کے برچھی سردار کی طرف بڑھا دی ۔
”اونٹوں کا رخ اپنے قبیلے کی طرف موڑدو ۔“احمر بن ضریر کے ہاتھ سے برچھی لے کر جبلہ نے حکم صادر کیا ۔
ایک قزاق مقتولین کے بدن سے لباس اتار نے لگا ۔
غبشان نے پوچھا ۔”سردار!…. وادی کو چھوڑنا پڑے گا ۔“
”ہاں ۔“جبلہ نے اثبات میں سر ہلایا۔”یہیں سے اپنے قبیلے کارخ کرو۔“
”ٹھیک ہے سردار!میں اور سہل آگے جا رہے ہیں۔“غبشان نے اجازت چاہنے والے انداز میں کہا اور جبلہ کے سر ہلانے پر وہ دونوں آگے بڑھ گئے تھے ۔
٭٭٭
قیمتی خیمے میں بیٹھی خاتون کو باندیوں نے گھیرا ہوا تھا ۔کوئی اس کے پاو¿ں دبا رہی تھی تو کوئی ٹانگیں اور بازو۔اچانک خیمے کے دروازے پر تالی بجنے کی آواز گونجی ۔تمام باندیاں ایک دم چوکنا ہو گئیں تھیں،مگر انھوں نے اپنا کام جاری رکھا۔
وہ محافظوں کی معیت میں اندر داخل ہوا ۔
معزّز خاتون اسے دیکھتے ہی بستر پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی جبکہ باندیاں جلدی سے کھڑی ہو گئیں ۔
”دیکھو تو میں تمھارے لیے کیا تحفہ لایا ہوں ؟“اس نے بچہ اٹھائے ہوے محافظ کو ہاتھ سے آگے ہونے کا اشارہ کیا ۔
”اوہوہ !….کتنا پیارا ہے ۔“بستر سے نیچے اترتے ہوئے اس نے محافظ کے ہاتھ سے بچہ لے لیا تھا ۔
اس نے فخریہ لہجے میں کہا ۔”اس کا نام یشکر ہے ۔“
معزّز خاتون جو یقینا اس کی بیوی تھی مستفسر ہوئی ۔”اس کی ماں ؟“
”اب تمھاری ہی گود میں پلے گا ۔اور میرا خیال ہے بچے کی ایک ہی ماں ہوتی ہے۔“
”میرا خیا ل ہے ، چند ماہ تک ماں کا دودھ اس کے لیے زیادہ بہتر رہتا ۔“
”ٹھیک ہے اقلیمہ!صبح اس کی ماں میرا مطلب ،اسے دودھ پلانے والی بھی آ جائے گی ۔بلکہ میں ابھی اپنے دو محافظ بھیج دیتا ہوں وہ ان بدووں سے اس بچے کی ماں کو خرید لائیں گے ۔“بیوی کو کہہ کر اس نے بچے کو اٹھا کر لانے والے محافظ کی طرف سونے کے تین سکّے بڑھائے ۔
”اشقند !….ان بدوو¿ں سے وہ عورت بھی خرید لاو¿۔“
”جی آقا !….“کہہ کر اشقند الٹے قدموں خیمے سے نکل گیا ۔
اقلیمہ نے ہلکے سے تالی بجا کر باندیوں کو اشارہ کیا اور تمام خیمے سے نکلتی چلی گئیں ۔ وہ اپنے خاوند کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔”نورِ چشم !….کیا آپ کی تلاش کو قرار نہیں آئے گا ؟“
”اقلیمہ !….تم جانتی ہو نا، بادشاہ سلامت کے نزدیک میری کیا اہمیت ہے ۔اور مجھے نہیں لگتا کہ میں مزید چند سالوں سے زیادہ اپنے فرائض سر انجام دے سکوں گا۔اسفند کے تین اور فرطوس کے چار بیٹے ہیں ۔دونوں کو یقین ہے کہ بچوں میں سے ان کی جگہ سنبھالنے والا کوئی نہ کوئی نکل آئے گا ۔جبکہ میں ….“ وہ دکھی انداز میں کھڑا ہو گیا ۔
”اس کی ذمہ دار میں ہوں کہ آپ کو کوئی ولی عہد نہیں دے پائی ۔“اقلیمہ گلو گیر لہجے میں بولی ۔
”کتنی بار کہا ہے کہ خود کو الزام نہ دیا کرو ۔“وہ بیوی کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔ ”خداوند یزدان کی مرضی کو بدلنا ہمارے اختیار میں تو نہیں ہے نا۔“
”کیا یہ بچہ تمھارے معیار پر پورا اترے گا ؟“اقلیمہ نے انگوٹھا چوستے یشکر کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔
”ہاں ،مجھے شروع ہی سے شیر خوار بچہ ڈھونڈنا چاہیے تھا ۔میں نے اس سے پہلے جو لڑکے خریدے تھے ان کی عمریں زیادہ تھیں اوروہ زہرخورانی کے عادی نہیں ہو سکے تھے ۔دونوں کی موت کی وجہ زہر ہی بنی تھی ۔یہ شیر خوار ہے اورمجھے قوی امید ہے جب تک یہ چلنے پھرنے کے قابل ہو گا اس کا بدن زہر کے خلاف قوت ِ مدافعت حاصل کر چکا ہو گا ۔“
”اگر یہ بھی آپ کے معیار پر پورا نہ اترا تو ؟“اقلیمہ کی آواز میں اندیشے لرزاں تھے ۔
”اپنے نام کو دربار میں زندہ رکھنے کی یہ آخری سعی ہے ،اگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تب بھی میں مطمئن ہوں گا کہ کوشش کا دامن میں آخر تک تھامے رہا ۔“
”خداوند یزدان آپ کو مایوس نہیں کرے گا ۔“اقلیمہ نے اس کی امید کو سہارا دیا ۔
”ہاں ،بس یہی آس میری زندگی کی ڈور کو تھامے ہوئے ہے ۔“اس نے آگے بڑھ کر یشکر کے دونوں بازو¿ں سے پکڑ کر اوپر اٹھالیا۔
اور ابھی تک وہ مصروف گفتگو تھے کہ اس کا محافظ تاشقنداجازت مانگ کر اندر داخل ہوا ۔
”آقا !….وہ بدو غائب ہیں ،کھوج لگانے پر پتا چلا ہے کہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی وہ کوچ کر گئے ہیں۔“تاشقند نے سونے کے سکے اس کی جانب بڑھاتے ہوئے اپنی ناکام واپسی کا اعلان کیا ۔
”رکھ لو ۔“اس نے ہاتھ اٹھا کرتاشقند کو جانے کا اشارہ کیا اور اپنی شریک حیات کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
”سن لیا ۔“
وہ مسکرائی ۔”اچھا کوئی بات نہیں ،دودھ پلانے والی کئی مل جائیں گی ۔“
اوروہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔
٭٭٭
وہاں جشن کا سماں تھا ۔سالم اونٹ آگ کے آلاو پر بھونے جا رہے تھے ۔چند نیم عریاں عورتیں شراب کے مشکیزے تھامے حاضرین کے ہاتھوں میں موجود پیالوں کو خالی نہیں ہونے دے رہی تھیں ۔وہ مردوں کی طرف سے کی جانے والی نازیبا حرکتوں کو بالکل نظر انداز کر رہی تھیں ۔اکثریت شراب کے نشے میں مدہوش ہو کر بربط کی لے پر بے ہنگم انداز میں اچھل کود کر رہے تھے ۔اسی اثنا ءمیں اونٹ بھن کر تیار ہو گئے تھے ۔تمام اپنے ہاتھوں میں تیز دھار چھریاں اور خنجر تھامے بھنے ہوئے اونٹوں پر ٹوٹ پڑے ۔البتہ ایک اونٹ ایسا بھی تھا جس کے قریب کوئی نہیں پھٹکا تھا ۔اور وہ فقط ان کے سردار کے لیے تھا ۔وحشت کی انتہا کو چھونے کے باوجود وہ اپنے سردار کی حیثیت سے غافل نہیں تھے ۔
سردار ،ایک نیم عریاں لڑکی کو بغل میں دبائے جھومتا ہوا اپنے لیے مختص اونٹ کی طرف بڑھا۔اس نے ہاتھ میں ایک تیز دھار چھرا تھاما ہوا تھا۔ایک بڑا ٹکڑا بھنے ہوئے گوشت کا اونٹ کی ران سے کاٹ کر وہ واپس اپنی جگہ پر آن بیٹھا ۔گوشت کے بڑے ٹکڑے سے ایک چھوٹا سا ٹکڑاعلاحدہ کرکے اس نے ہم نشین لڑکی کے حوالے کیا اور بڑے ٹکڑے کو خودجُڑ گیا ۔
گوشت چباتے ہوئے وہ شراب خوری سے غافل نہیں ہوا تھا ۔پتھر کا نفیس پیالہ جونھی خالی ہوتا پاس بیٹھی لڑکی مشکیزے سے پیالے کو بھر دیتی ۔رات گئے تک یہ ہنگامہ ہوتا رہا آگ کے شعلے سرد پڑتے ہی وہ وحشی اپنے خیموں کی جانب لوٹنے لگے ۔کچھ مدہوش ہو کر ادھرہی لیٹ گئے تھے ۔کچھ ،ساقی لڑکیوں کو آغوش میں دبائے کونے کھدروں میں غائب ہو گئے ۔یہی ان کی زندگی تھی ،یہی ان کی عیاشی تھی۔ بھیڑوں کی اون اور اونٹوں کی کھال سے بنے خیمے ان کے گھر تھے ۔بھیڑیں بکریاں، اونٹ اور گھوڑے ان کی جائیداد تھے ۔ان کے لباس اور پہناوں میں بھی اون اور چمڑے کا بکثرت استعمال ہوتا تھا ۔پانی ذخیرہ کرنے کے لیے وہ مٹی کے مٹکے اور بکریوں کی کھال کے مشکیزے استعمال کرتے تھے ۔یہی برتن وہ شراب سنبھالنے کے لیے بھی استعمال کرتے تھے ۔کسی بھی مقام کو مستقل رہائش کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے ۔جہاں پانی کا ذخیرہ مل جاتا وہاں ڈیرے ڈال لیتے تھے۔یہ بھی ممکن تھا کہ ایک جگہ پر ان کے کئی سال بیت جاتے اور یہ بھی بعید نہ تھا کہ کسی جگہ ان کا پڑا محض چند دن کا ہو ۔ان کی آمدن کا ایک ہی ذریعہ تھا اور وہ تھا لوٹ مار ۔
قافلوں کو لوٹ کر وہ مویشی اپنے استعمال میں لے آتے اور آدمیوں کو غلام بنا کر بیچ دیتے تھے۔زیادہ عرصہ اگر انھیں کوئی قافلہ لوٹ مار کے لیے نہ ملتا تو وہ کسی چھوٹے موٹے قبیلے پر بھی حملہ کرنے سے با ز نہیں آتے تھے ۔
٭٭٭
لکڑی کا مضبوط دروازہ کھول کر سکندر پتھروں سے بنے کوٹھے میں داخل ہوا ۔کمرے میں پانچ بڑے بڑے مٹکے ایک ترتیب سے پڑے تھے ۔جیب سے ایک چھوٹی سی بوتل نکال کروہ چند لمحے اسے گھورتا رہا ۔پھر احتیاط سے لکڑی کا ڈھکن کھینچ کر نکالااور بوتل میں موجود تمام محلول ، جو چند قطروں پر مشتمل تھا مٹکے میں انڈیل دیا ۔لکڑی کا ایک چمچ اٹھا کر اس نے وہ محلول پانی سے بھرے ہوئے مٹکے میں اچھی طرح حل کیا اور پھر لکڑی کے چمچ میں چند قطرے محلول ملا پانی لے کر اس نے ساتھ والے مٹکے میں ڈال دیا۔ دوسرے مٹکے میں بھی اچھی طرح چمچ ہلانے کے بعد اس نے دوسرے مٹکے سے چند قطرے پانی لے کر تیسرے مٹکے میں حل کیا ،یہی عمل اس نے بالترتیب تمام مٹکوں کے ساتھ دہرایا۔اور پھر باہر نکل کر بیوی کو بلا لایا۔
”اقلیمہ !….“اس نے آخری مٹکے کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا ۔”اس مٹکے میں سے پانی کا ایک قطرہ ،یشکر کے دودھ میں ڈال دیا کرو ۔تین ماہ تک اسی مٹکے کا پانی بچے کو دودھ میں ملا کر پلانا ہے ،اگلے تین ماہ ساتھ والا مٹکا اور ہرتین ماہ کے فرق کے ساتھ مٹکا تبدیل کرتے رہنا ہے ۔“
اقلیمہ مستفسر ہوئی ۔”ان مٹکوں میں زہر کی آمیزش کی گئی ہے ؟“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”میں چاہتا ہوں کہ جب تک بچہ چلنے پھرنے کے قابل ہو یہ زہر کا عادی ہو چکا ہو ۔“
اقلیمہ نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ اسے ساتھ لیے باہر نکل آیا ۔
کوٹھری کا دروازہ بند کرتے ہوئے اقلیمہ نے پوچھا ۔”کیا ،اس پانی سے بچے کی موت واقع ہو سکتی ہے ؟“
”نہیں ،اس آخری مٹکے میں زہر کی بہت قلیل مقدارشامل کی ہے ،زیادہ سے زیادہ بچہ بیمار پڑ سکتا ہے ۔ایسی صورت میں شایدالٹیاں اور دست شروع ہو جائیں ۔اوریاد رکھنا ایسا ہونے کی صورت میں عارضی طور پر دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دینا،جیسے ہی بچے کی طبیعت سنبھلے دوبارہ پانی ملانا شروع کر دینا ۔“
”آپ نے کل سے اپنی ذمہ داری سنبھالنا ہے ۔“
”ہاں ،آج آخری دن ہے ،پھر کہیں دو ماہ بعد ہی واپسی ہو گی ۔البتہ کوئی مسئلہ بن جائے تو تاشقند کو پیغام دے کر میرے پاس بھیج دینا ۔“
”نورِ چشم !….اور کتنے عرصے تک یہ ذمہ داری سنبھالنا پڑے گی ؟“وہ اپنے شبستان میں پہنچ گئے تھے ۔جب اقلیمہ نے یہ سوال کیا ۔
”میں تو یہی چاہوں گا کہ یشکر ہی مجھے اس ذمہ داری سے سبک دوش کرے ،مگر ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔میرے قوا ،روبہ زوال ہیں ۔یقینا میں مزید تھوڑا ہی عرصہ یہ ذمہ داری نبھا پاوں گا ۔“
”لیکن میں یہ چاہتی ہوں کہ جتنا جلدی آپ اس ذمہ داری سے فارغ ہو جائیں،اتنا ہی بہتر ہے۔“
”اقلیمہ !….تم اس ذمہ داری کی اہمیت سے ناواقف ہو اس لیے ایسا کہہ رہی ہو ۔حضور والا کے محافظ دستے میں پانچ صد جنگ جو شامل ہیں مگر ان کے خصوصی محافظ صرف تین ہیں جن میں ایک میں بھی ہوں ۔یہ ہمی ہیں جو بادشاہ سلامت کے قریبی مصاحب سے زیادہ ان کے قریب ہیں ۔حضور والا کے شبستان میں داخل ہونے کا شرف کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔حضور والااپنے بیٹوں اور ازدواج سے زیادہ ہم پر اعتماد کرتے ہیں ۔“
”تو کیا،آپ بھی تو ہر وقت جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں ،خاکم بدہن کسی بھی وقت کوئی اونچ نیچ ہو سکتی ہے ۔حضوروالا کی جان کے ہزاروں دشمن ہیں اوریہ تو طے ہے ناکہ کوئی بھی دشمن آپ کی موجودی میں ان تک رسائی نہیںپا سکتااس لیے ہر دشمن کی پہلی ترجیح آپ ہی کو نقصان پہنچانا ہو گی ۔“
”یہ مرتبہ،یہ سہولیات اور آسائشیں اسی وجہ سے تو مجھے میسر ہیں۔“
اقلیمہ فکر مندی سے بولی۔”مجھے بس آپ کی سلامتی درکار ہے ۔“
”مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا ،میری ساری زندگی لڑائی کے میدان میں گزری ہے ۔شاہ سواروں کو تو میدان جنگ میں دشمن کا سامنا کرنا پڑتا ہے اورمیرے لیے امن ہی سب سے بڑی جنگ ہے ۔“یہ کہتے ہی وہ اقلیمہ کا ہاتھ سہلاتے ہوئے خواب گاہ سے باہر آ گیا ۔اقلیمہ اس کی پشت کو گھورتی رہ گئی تھی۔
٭٭٭
جبلہ خیمے میں بیٹھا نیزے کی انّی تیز کرنے میں مصروف تھا۔نیزے کی انّی کو ہلکا سا پانی لگا کر وہ ایک مخصوص پتھر پر رگڑرہا تھا ۔اسی وقت اجازت مانگ کر اس کی لونڈی اندر داخل ہوئی ۔
”مالک!….جندلہ کی طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔“
جندلہ اس کی چہیتی بیوی تھی ۔اور ان دنوں امید سے تھی۔
”دایہ کو بلا لینا تھا۔“یہ کہتے ہوئے بھی اس کے ہاتھ نہیں رکے تھے اور نیزے کی انّی کو مسلسل پتھر پر رگڑ رہے تھے ۔
”مالک !….دایہ کو تو کب کا بلا لائی ہوں ۔مگر اس سے کچھ ہو نہیں پا رہا۔آپ تو جانتے ہیں وہ اتنی ماہر نہیں ہے ۔اپنی ماں کی وفات کے بعد بس یہ ذمہ داری اس پر آن پڑی ہے ۔“
”ہاں پھوہڑ عورت کے ہاتھ اون آ گئی ہے۔“مشہور کہاوت دہراتے ہوئے اس نے نیزا ایک طرف رکھ دیا ۔[مطلب نا اہل کو رتبہ مل جانا]
”مالک !….رغال کو بلا لوں؟“
”رغال بھی اس معاملے میں مشورہ ہی دے سکتا ہے ۔“
”تو پھر ؟“
”تو پھریہ کہ میں وہیں جا کر اس سے مشورہ کر لیتا ہوں شاید کسی دوسرے قبیلے سے دایہ لانا پڑے۔“یہ کہہ کر جبلہ خیمے سے باہر نکل آیا۔تھوڑی دیر بعد وہ رغال بن سامہ کے خیمے کے باہر اسے آوازیں دے رہا تھا ۔
رغال آنکھیں ملتا ہوا باہر نکلا ۔”سردار!…. آپ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔”مجھے بلا لیا ہوتا۔“
”تم اب تک لیٹے ہوئے تھے ؟“جبلہ کے لہجے میں ناگواری تھی ۔
”وہ سردار !….اصل میں آپ کے تحفے نے رات بھر مصروف رکھا۔“رغال معنی خیز لہجے میں بولا۔میلے سے واپسی پر سردار نے عریسہ بنت منظر،عارضی طور پر رغال کو بخش دی تھی ۔سردار کا اپنا دل اب اس سے بھر چکا تھا ۔
”جندلہ کی طبیعت خراب ہے اور حبی بنت عتیبہ کی وفات کے بعد ہمارے قبیلے میں کسی کو دایہ کا کام نہیں آتا۔اس کی بیٹی فارحہ بھی بس نام کی دایہ ہے ۔“
”سردار !….اس معاملے میں ،میں بھی بس دوسروں جیساہی ہوں ۔“
”پھر ایسا کرو،چند سوار ساتھ لے لو اور بنو اسد کا رستا ناپو۔“بنو اسد ان کے قبیلے سے چند کوس ہی دور تھا ۔
”جو حکم سردار!“کہہ کر رغال واپس مڑا ،اسی وقت خیمے کے دروازے پر عریسہ بنت منظر نمودار ہوئی ۔
”سردار!….شاید میں اس معاملے میں مددگار ثابت ہو سکوں ۔“
”تم ؟“جبلہ کے لہجے میں حیرانی تھی ۔ایک لمحہ سوچنے کے بعد اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ”اچھا چلو میرے ساتھ ۔“
رغال نے پوچھا۔”سردار بنو اسد جانے کا ارادہ موخّر کر دوں ؟“
”فی الحال انتظار کر و۔“جبلہ نے رکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔عریسہ بھی اپنے بدن پر لباس درست کرتی اس کے پیچھے ہو لی تھی ۔تھوڑی دیر بعد وہ سردار کی چہیتی زوجہ کے خیمے کے قریب پہنچ گئے تھے ۔ جندلہ کی کراہیں خیمے کے باہر سنائی دے رہی تھیں ۔
”سردار !آپ جائیں ،میں سنبھال لوں گی ۔“عریسہ پر اعتماد لہجے میں کہتی ہوئی خیمے کے اندر گھس گئی ۔اس کے پر اعتماد انداز نے جبلہ کو ایک دم بے فکر کر دیاتھا۔وہاں رکنے کے بجائے وہ اپنے خیمے کی جانب بڑھ گیا ۔
تین گھڑیوں بعد لونڈی اسے بیٹی کی پیدائش کی خبرسنانے کے ساتھ عریسہ بنت منظر کی مہارت کی بابت بھی بتا رہی تھی۔
”ہونہہ!….اس کا مطلب ہے ،اس نے جبلہ کے قبیلے میں اپنی جگہ مستحکم کر لی ہے۔“کہتے ہوئے اس نے لونڈی کو واپس جانے کا اشارہ کیا۔
٭٭٭
سکندراپنے خوب صورت گھوڑے پربیٹھ کر تربیتی میدان کی طرف بڑھ گیا ۔چند محافظ اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار اس کے عقب میں چل پڑے۔ گو اسے ان محافظوں کی چنداں ضرورت نہیں تھی مگر محافظوں کے اپنے فرائض منصبی تھے۔حالانکہ یہ تو وہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ سکندردس پندرہ بندوں کے لیے اکیلا ہی کافی تھا۔
وہ ایک بڑا سا میدان تھا جس کے گرد اونچی چاردیواری اٹھائی گئی تھی ۔دروازے پر کھڑے دو محافظوں نے سر جھکاتے ہوئے سکندر کو تعظیم دی اور بھاگ کر اس کے لیے بڑا سا دروازہ کھول دیا۔
سکندر محافظوں کی معیت میں اندر داخل ہوا ۔میدان کے مختلف کونوں میں جوان تربیتی مشقوں میں مصروف تھے ۔ایک کونے میں تیز اندازی ہو رہی تھی ۔دوسرے کونے میں تلواز بازی کی مشق جاری تھی ۔ کچھ جوان اس وسیع میدان کے بیرونی کناروںپردائرے میں گھوڑے دوڑا رہے تھے ۔
ایک طرف نیزے اور خنجر دور سے پھینک کر ،لکڑی کے چوڑے ستونوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا ۔ ایک جگہ زمین کو دائرے میں کھود کر نرم کیا گیا تھا ،وہاں موٹے تازے پہلوان زور آزمائی میں مشغول تھے۔سکندر جوں ہی پہلوانوں کے قریب پہنچاوہ داو¿ پیچ چھوڑ کر مودّبانہ انداز میں کھڑے ہو گئے ۔ان کے استاد نے آگے بڑھ کر سکندر کے گھوڑے کی لگام تھام لی ۔سکندر نیچے اترا۔گھوڑے کی لگام ایک لڑکے کے حوالے کر کے پہلوانوں کا استاد سکندر کے سامنے جھک کر تعظیم دینے لگا ۔یہ تعظیم فقط سکندر کے رتبے کو نہیں تھی ،بلکہ سکندر اس کا استاد بھی تھا۔
اس سے حال احوال پوچھ کر سکندر لنگوٹ کسنے لگا۔وہ جب کبھی اس میدان میں آتاکسرت ضرور کرتا تھا۔خود کو جسمانی طور پر چاک و چوبند رکھنے کے لیے ضروری تھاکہ وہ جسمانی مشقت کو خیر باد نہ کہتا ۔
”تو آج مجھے کس سے مقابلہ کرنا پڑے گا ؟“اپنا لباس ایک لڑکے کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے وہاں پر موجود استاد شغرن سے پوچھا ۔
”مقابلہ تو خیر کسی نے کیا کرنا ہے ؟“شغرن نے خوشامدانہ لہجے میں جواب دیا ۔”البتہ اخوند آپ کو کسرت کروا دے گا ۔“
اپنا نام سن کر مضبوط اور جسیم اخوند اکھاڑے میں اترا ۔وہ سب سے بہترین پہلوان تھا ۔قد میں وہ سکندر کے برابر تھا مگر جسمانی لحاظ سے بہت موٹا تازہ اور مضبوط نظر آ رہا تھا۔بہ ظاہر اس کا اور سکندر کا کوئی جوڑ نظر نہیں آ رہا تھا۔وہاں چند ایسے پہلوان بھی موجود تھے جنھیں پہلی بار سکندر کو دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان کا استاد کس لیے سکندر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے۔دماغ میں اٹھنے والے اس سوال کو وہ الفاظ کا جامہ نہیں پہنا سکے تھے،مگراس بات کا جواب انھیں اخوند اور سکندر کی زور آزمائی دیکھ کر مل گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد اخوند چاروں شانے چت پڑا تھا ۔
سکندر نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایا اور وہ دونوں دوبارہ زور آزمائی میں مصروف ہو گئے ۔ اس مرتبہ بھی اخوند کو ڈھیر ہونے میں وقت نہیں لگا تھا ۔سکندر نے ایک مرتبہ پھر اسے اٹھنے میں مدد دی اور اس مرتبہ وہ تمام کو جسمانی لڑائی کے اہم اصول بتانے لگا۔
”مخالف کی طاقت کو اس کے خلاف استعمال کرنا بنیادی اصول ہے ۔جسم کی مضبوطی،قوت اور پھرتی ،زور آزمائی کے بنیادی جزو ہیں مگر یاد رکھیں جب تک آپ انھیں صحیح انداز میں استعمال کرنا نہیں جانتے ہوں گے ،اپنی قوت ،پھرتی اور جسمانی مضبوطی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے،داو¿ پیچ کا استعمال عقل کے مرہون منت ہوتا ہے ۔مخالف کی کمزوری ڈھونڈو او راپنی کمزوری اس پر ظاہر نہ ہونے دو ….“ وہ ضروری باتیں بتانے کے ساتھ عملی طور پر بھی انھیں مثالیں پیش کرتا رہا ۔گھڑی بھر کی تربیت کے بعد وہ اکھاڑے باہر سے نکل آیا ۔اس کے بدن سے نکلنے والے پسینے کی وجہ سے اکھاڑے کی مٹی کیچڑ کی طرح اس کے بدن سے چمٹ گئی تھی۔شغرن کے اشارے پر دو تین لڑکے پانی کے بھرے ڈول اٹھا لائے ۔ سکندر ایک لکڑی کی چوکی پر بیٹھ گیا اور وہ اس پر پانی ڈالنے لگے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ کپڑے پہن کر تلوار بازی کرنے والوں کی طرف بڑھ گیا تھا ۔اسی طرح فرداََ فرداََ اس نے تمام تربیتی جگہوں کا معاینہ کیا ۔اور ہر جگہ بہ ذات خودبھی مشق میں حصہ لیا تھا۔جب اس نے واپسی کا قصد کیا توسورج اپناسفر ختم کرنے کو تھا۔بہت دنوں بعد جسمانی تربیت میں حصہ لینے پر وہ اچھی خاصی تھکن محسوس کر رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: