Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 20

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 20

–**–**–

”مجھے تو مسافر لگ رہے ہیں۔“قریب نے رائے دی۔
قُتیلہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”مشکیزے بھرکے جائزہ لیتے ہیں۔“
وادی کے کنارے ایک چوڑاگڑھا کھدا ہوا تھا۔اور اس گڑھے کے بالکل درمیان میں بالشت بھر چوڑااور گہرا ایک اور گڑھا تھا جس میں گڑھے کی دیواروںسے پانی رس رس کر جمع ہو رہا تھا۔ قریب گڑھے میں اتر گیا۔پہلے انھوں نے تینوں مشکیزے بھرے اور پھر قریب نے چمڑے کا ایک برتن نکال کر ریت میں دبایا اور گھوڑوں کو پانی پلا نے لگا۔اسی دوران خیموں سے تین آدمی برآمد ہوئے۔ ان کا رخ انھی کی طرف تھا۔
”تمھاری شام سلامتی والی ہو۔“ بڑی عمر والے نے قریب آکر زمانہ جاہلیت کا سلام کہا۔ اس کے ہمراہ دو جوان موجود تھے۔تینوں مسلح تھے۔
”ہبل،ہماری رہنمائی کرے۔“ملکان بن نول نے خوش دلی سے جواب دیا تھا۔
”ہماری دعوت قبول کر کے آپ ہمیں عزت بخشیں گے ؟“اس مرتبہ بھی بڑی عمر والا ہی بولا تھا۔اس کے نوجوان ساتھیوں نے چپ سادھی ہوئی تھی۔
قُتیلہ نے نفی میں سر ہلایا۔”رکنا وقت کا ضیاع ہو گا۔“
”میرا خیال ہے گھڑی بھر رکنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔“ملکان بن نول نے استفہامیہ نظروں سے قُتیلہ کی طرف دیکھا۔
”ہمارے پاس اونٹ کا بھنا ہوا گوشت گندم کی تازہ روٹی اور ارغوانی شراب موجود ہے۔ آگے جاتے ہوئے آپ کو عمدہ تمر بھی زاد راہ کے طور پر مل جائے گی۔“ادھیڑ عمر اجنبی نے خلوص بھرے لہجے میں کہا۔
مگر قُتیلہ کو اس کی خوش اخلاقی کے پس پردہ مکاری کی بوُ محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا گمان غلط بھی ہو سکتا تھا۔البتہ اس کے تینوں ساتھی اونٹ کے بھنے ہوئے گوشت اور ارغوانی شراب کا سن کر ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگے تھے۔قُتیلہ نے ایک نظر درجن بھر خیموں کی طرف دیکھا۔وہاں غضاءو ا¿ثل کی جھاڑیاں پھیلی تھیں۔بیری اور کیکر کے چند درخت بھی موجود تھے۔جن کے درمیان بھیڑ بکریاں گھوم رہی تھیں۔عارضی پڑاﺅ کے لیے وہ بہترین مقام تھا۔
”جلد بازی کبھی باعث تاخیر بن جاتی ہے۔“قُتیلہ کو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر ادھیڑ عمر دھیمی مسکراہٹ سے بولا۔
”چلیں۔“ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے قُتیلہ نے کندھے اچکاتے ہوئے اپنے گھوڑے کی لگام تھام لی۔
اس کے تینوں ساتھی خوش ہو گئے تھے۔
ادھیڑ عمر ان کے ہمراہ چلتے ہوئے تعارف کرانے لگا۔” خزاعہ بن صلت،ابیض بن اثمراور میرا نام کلاب بن اسد ہے۔میں سردار قبیلہ کا بڑا بھائی ہوں ہمارا تعلق بنو ضبع سے ہے۔“(ضبع عربی میں لگڑ بگڑ کو کہتے ہیں )
”اصولاََ تو قبیلے کا سردار آپ کو ہونا چاہیے تھا کہ آپ بڑے ہیں۔“قُتیلہ تیکھے لہجے میں کہتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
کلاب بن اسد بولا۔”وہ مجھ سے زیاہ طاقت ور اور دانش مند ہے اور سرداری انھی خوبیوں کی متقاضی ہوتی ہے۔“
قُتیلہ نے اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔
ملکان تعارف اپنا تعارف کراتے ہوئے بولا۔” سردار زادی قُتیلہ،قریب بن فلیح،عامر بن اسود اور میں ملکان بن نول ہوں۔“
کلاب نے پوچھا۔”کس قبیلے سے ہو ؟“
”بنو نسر۔“ بولنے میں قُتیلہ،ملکان سے سبقت لے گئی تھی۔
کلاب نے معنی خیز انداز میں کہا۔”لگتا ہے شکار کی تلاش تمھیں کافی دور کھینچ لائی ہے۔“
قُتیلہ ترکی بہ ترکی بولی۔”اتنا بھی نہیں کہ قبیلے والے مدد کو نہ پہنچ سکیں۔“
”صحیح کہا۔“کلاب نے اثبات میں سر ہلایا۔”یوں بھی ایک سردار زادی اور تین جنگجوﺅں کو کوئی کیاکہہ سکتا ہے۔“
وہ آگے پیچھے چلتے ہوئے وادی کے دوسرے کنارے تک پہنچ گئے تھے۔ایک وسیع اور کشادہ خیمہ قبیلے کے وسط میں لگا ہوا تھا۔اس کے ارد گرد ٹیڑھے میڑھے دائرے کی صورت باقی خیمے لگے تھے۔
”یقینا یہ سردار کا خیمہ ہو گا ؟“قُتیلہ نے اندازہ لگایا۔
”نہیں اس میں ہم مویشی باندھتے ہیں،سردار کا خیمہ وہ ہے۔“کلاب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کیکر کے درخت کے نیچے لگے ہوئے ایک خیمے کی طرف شارہ کیا۔درمیانی حجم کے خیمے کی خاصیت یہی تھی کہ وہ باقی خیموں کی نسبت نئے اور مضبوط کپڑے کا بنا ہوا تھا۔اس خیمے کے سامنے ایک دراز قامت تنومند شخص کھڑا تھا۔قُتیلہ کو قبیلے کے سردار کو پہچاننے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی۔بڑے خیمے کے سامنے اور عقب میں ایک ایک ہتھیار بردار مسلح شخص کھڑا تھا یوں جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔قُتیلہ نے انھیں حیرانی بھری نگاہوں سے دیکھا لیکن کچھ پوچھنے سے گریز کیا تھا۔البتہ ملکان بن نول کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہوشیار رہنے کا اشارہ کر دیا تھا۔یہ اور بات کہ ملکان بن نول کی سمجھ میں اس کا اشارہ نہیں آسکا تھا۔اس نے استفہامیہ نظروں سے قُتیلہ کو گھورا لیکن وہ مزید وضاحت کرنے کے بجائے سامنے دیکھنے لگی۔
سورج کی روشنی میں پہلے والی حدّت نہیں رہی تھی۔ گرمی کافی حد تک دھیمی پڑ گئی تھی لیکن ریت پہلے کی طرح ہی تپ رہی تھی۔صحرا کی ریت کو رات کا اندھیرا ہی ٹھنڈا کرتا ہے۔
سردارِ قبیلہ رزاح بن اسد پر تپاک انداز میں انھیں ملا تھا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی چمکدار آنکھیں قُتیلہ کے سراپے سے الجھ گئی تھیں۔ قُتیلہ کو ناگواری محسوس ہوئی لیکن اس نے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا۔
”کلاب،مہمانوں کے لیے بہترین ضیافت کا انتظام کرو۔“سردار رزاح اپنے بڑے بھائی کو کہتے ہوئے قُتیلہ اور اس کے ساتھیوں کو خیمے میں داخل ہونے کا اشارہ کرنے لگا۔
خیمے کے وسط میں اونٹ کے چمڑے کا فرش بچھا تھا۔ایک کونے میں سردار کا بستر زمین ہی پر بچھا تھا۔قُتیلہ کا اندازہ تھا کہ خیمے کا عقبی حصہ سردار کی عورتوں کے لیے مختص ہو گا۔مگر اس خیمے میں دوسرا حصہ موجود ہی نہیں تھا۔فرش پر بیٹھتے ہوئے قُتیلہ نے نیام کا تسمہ کمر سے کھول کرتلوار گود میں رکھ لی تھی۔
رزاح بن اسد ان کے ہمراہ ہی بیٹھ گیا تھا۔کلاب نے خزاعہ بن صلت اورابیض بن اثمرکو دھیمی آواز میں کچھ سمجھایا اور خود بھی ان کے ہمراہ آن بیٹھا تھا۔
”بنو ضبع عورتوں سے تہی دامن نظر آرہا ہے۔“قُتیلہ نے بہ ظاہر سرسری لہجے میں پوچھا تھا۔ لیکن اس کے سوال نے رزاح کے چہرے پر بے چینی پیدا کر دی تھی۔گلا کھنکارتے ہوئے اس نے ایک لمحے کا وقفہ لیا اور پھر گویا ہوا۔
”اصل میں یہ بنو ضبع کا پورا قبیلہ نہیں ہے۔ہم کچھ افراد شکار کی تلاش میں اس جانب نکلے ہوئے ہیں۔چند جانور پکڑ کر دو تین دنوں تک قبیلے کو لوٹ جائیں گے۔“
”پھر بھیڑ بکریاں ساتھ لانے کیا ضرورت تھی؟“قُتیلہ نے اگلا سوال کیا۔
رزاح جلدی سے بولا۔”یہ ہماری نہیں ہیںمیرا خیال ہے یہاں نزدیک کوئی قبیلہ ہے اس کا ریوڑ ہے۔“
کلاب ہنسا۔”ویسے سردار زادی عجیب عجیب سے سوال کرتی ہے۔“
”سردار زادی ؟“رزاح نے حیرانی سے بڑے بھائی کو گھورا۔
کلاب نے اثبات میں سر ہلایا۔”جی ہاں یہ بنو نسر کی سردار زادی ہے۔“
”تم جبلہ بن کنانہ کی بیٹی ہو؟“رزاح،قُتیلہ کی جانب متوجہ ہوا۔
قُتیلہ نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
”سنا ہے پچھلے دنوں بنو احمر کے سردار کیدار بن ثابت کے آدمیوں نے جبلہ بن کنانہ کی بیٹی کو اٹھانا چاہا اور انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔بعد میں جبلہ کی بیٹی نے اپنے کچھ آدمیوںکی مدد سے کیدار بن ثابت کو اس کے خیمے میں جا کر قتل کر دیا۔ اب بنو احمر والے اپنے نئے سردار ذواب بن ثابت کی سرکردگی میں اس کے بڑے بھائی کی قاتل کی تلاش میں ہوں گے۔ اور یقینا تم اپنے حواریوں کے ساتھ الرّملہ میں پناہ ڈھونڈتی پھر رہی ہو۔“
”آپ کا اندازہ بالکل صحیح ہے۔ “قُتیلہ ہنسی۔”بس یہ تصحیح کر لوکہ نجاربن ثابت اپنے دونوں بھائیوں کے قاتل کی تلاش میں ہے۔“
”کیا ذواب بن ثابت بھی قتل ہو گیا ؟“رزاح کے لہجے میں حیرت تھی۔
وہ نخوت سے بولی۔”قُتیلہ کوچھیڑنے والوں کو قتل ہونا پڑتا ہے۔“
رزاح کے کچھ کہنے سے پہلے دو آدمی خیمے میں داخل ہوئے انھوں نے پتھر کے آبخورے اور شراب کا چھوٹا مٹکا اٹھایا ہوا تھا۔آب خورے چمڑے کے فرش پر رکھ کر انھوں نے مٹکے سے بھرے اور حاضرین محفل کو ایک ایک آب خورہ پکڑا دیا۔قُتیلہ نے اس وقت تک آبخورے کو منھ نہیں لگایا جب تک کہ رزاح اور کلاب نے پینا شرو ع نہیں کیا تھا۔انھیں اطمینان بھرے انداز میں آب خورہ خالی کرتے دیکھ کر وہ بھی ہلکے ہلکے گھونٹ لینے لگی۔اس کے ساتھیوں نے بے صبری سے آب خورے خالی کر کے دوبارہ بھرنے کے لیے میزبانوں کی طرف بڑھا دیے تھے۔
”لگتا ہے دونوں قبیلوں میں جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔“رزاح آب خورہ خالی کر کے دوبارہ بھرنے لگا۔
”کچھ کہہ نہیں سکتی۔“قُتیلہ نے مزید رازوں سے پردہ اٹھانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
رزاح معنی خیز لہجے میں بولا۔”بنو احمر والے بدلہ لیے بغیر تو ٹلتے دکھائی نہیں دیتے۔اور میرا اندازہ ہے کہ جنگ ہونے کی صورت میں بنو نسر کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔“
قُتیلہ فلسفیانہ لہجے میں بولی۔”جنگ کثرتِ تعداد سے نہیں حوصلوں کی حدت سے جیتی جاتی ہے۔“یہ کہتے ہوئے اسے نیند کا جھٹکا لگا،اس نے سر جھٹک کر غنودی کو بھگانے کی کوشش کی،اسی وقت اس کے تینوں ساتھیوں کے ہاتھوں سے آب خورے چھوٹ کر نیچے گرے اور وہ لمبے لیٹ گئے تھے۔ قُتیلہ کو شروع سے خطرے کی بو محسوس ہو رہی تھی لیکن وہ اس کا سدباب نہیں کر سکی تھی۔اس کے غافل ہوتے دماغ میں رزاح کی شوخ آواز پڑی۔
”نیند کا سفوف تمھارے آب خوروں میں ڈالا گیا تھا سردار زادی،مشکیزے کی شراب آلودہ نہیں تھی۔“یہ آخری الفاظ تھے جو وہ سن پائی تھی۔
٭٭٭
گردن پر لوہے کا ٹھنڈا لمس محسوس کرتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔وہ بادیہ تھی جس نے اسے سوتا پا کر صاعقہ کو بے نیام کر کے اس کی گردن سے لگا دیا تھا۔بادیہ کے ہاتھ میں تلوار دیکھتے ہی اس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔دوبارہ دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ مسکرایا۔
”مارنے والے انتظار نہیں کیا کرتے۔“
وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔”سوچا مرنے سے پہلے اپنے قاتل کو دیکھ لوکہ تم بنت ِ شیبہ کے ہاتھوں انجام کو پہنچ رہے ہو۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”خوش قسمتی ہے میری۔“
”میں مذاق نہیں کر رہی۔“بادیہ نے تلوار کی نوک اس کی گردن میں چبھوئی تیز نوک نے یشکر کی گردن میں خراش ڈال دی تھی۔خون کے قطرے ابلتے دیکھ کر بادیہ نے بے ساختہ تلوار کو تھوڑا ساپیچھے کھینچ لیا۔
”جانتی ہو،مجھے مار کر اکیلی رہ جاﺅ گی۔اور پھر اس طوفان میں بھٹکتی پھرو گی۔ہو سکتا ہے آوارہ گردوں کے ہتھے چڑھ جاﺅ جو تمھیں باندی بنا کر بیچ دیں گے اور ساری زندگی کسی غیر کی خدمتیں کرتی رہو گی۔“
”نہ میں ڈرتی ہو ں کسی سے اور نہ کسی کی جرات ہے کہ بادیہ بنت شیبہ کو باندی بنا سکے۔اس لیے تمھیں مرنا تو پڑے گا،ابھی اوراسی ……..“یہ الفاظ اس کے منھ میں تھے کہ چھت سے سانپ گرا جو سیدھا اس کے قدموں میں آگراتھا۔ملگجی روشنی میں کریہہ شکل کے کیڑے پر نظریں پڑتے ہی بادیہ کے ہونٹوں سے زوردار چیخ نکلی اگلے ہی لمحے تلوار نیچے پھینکتے ہوئے اس نے کونے کی طرف چھلانگ لگائی۔
یشکرکے منھ سے زوردار قہقہ بلند ہوا تھا۔دھاری دار سانپ فرش پر گرتے ہی کونے کی جانب رینگا۔ مسلسل بارش سے اچھی خاصی سردی پھیلی تھی۔سانپ کا رخ اسی کونے کی طرف تھا جدھر بادیہ نے پناہ لی تھی۔سانپ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ دوسرے کونے کی طرف بھاگی رستے میں چھت سے گرا پانی پھیلا تھا۔ پتھریلے فرش پر جمی کیچڑ پر اس کا پاﺅں پھسلا اور وہ ڈھیر ہو گئی۔مگر سانپ کے ڈر نے اسے لیٹنے نہیں دیا تھا۔اٹھ کر وہ دروازے کی طرف بھاگی۔باہر موسلا دھار بارش شروع تھی۔دروازے پر رکتے ہوئے اس نے سراسیمہ نظروں سے پیچھے مڑ کر دیکھا سانپ کونے سے گھوم کر دروازے کی طرف رخ کر چکا تھا۔
”آپ اسے مارتے کیوں نہیں۔“وہ یشکر پر برس پڑی تھی۔
”آپ نے حکم ہی نہیں دیاسردارزادی۔“یشکر نے کندھے اچکائے۔
”مم….میں حکم دیتی ہوں اس کا سر کچل دو۔“بحث میں پڑنے کے بجائے اس نے حکم صادر فرمانے میں عافیت جانی تھی۔
”ابھی لیں۔“فرمانبردانہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ سانپ کی طرف لپکا اگلے ہی لمحے سانپ کی دم سے پکڑتے ہوئے اس نے اوپر اٹھا لیا تھا۔سانپ نے فوراََ ہی یشکر پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
”احتیاط سے۔“ بادیہ کے ہونٹوں سے ڈر کے مارے گھٹی گھٹی چیخ بلند ہوئی۔
”کچھ نہیں کہتا بڑا معصوم کیڑا ہے۔“یشکر نے اطمینان سے دوسرے ہاتھ سے سانپ کا پھن پکڑ لیا تھا۔
”میں کہتی ہوں اسے فوراََ مار دو ….مار دو اسے۔“بادیہ ہذیانی لہجے میں چلائی۔
”جو حکم سردار زادی۔“یشکر نے سانپ کی دم کو چھوڑ کر کمر کے ساتھ بندھی چمڑے کی نیام سے چوڑے پھل والا خنجر کھینچ کر سانپ کی گردن کو جسم سے علاحدہ کر لیا۔اس کی کلائی کے ساتھ بھی چمڑے کی نیام میں تین باریک دھار والے خنجر اڑسے تھے۔ان خنجروں سے وہ بیس پچیس قدم کے فاصلے پر کسی کے بھی نرخرے کو نشانہ بنا سکتا تھا۔
سانپ کا سر زمین پر پھینک کر اس نے سانپ کی دم بھی چند انچ کاٹی اور باقی جسم کوموسلا دھار بارش میں پکڑ کر دھونے لگا۔
”کیوں دھو رہے ہو ؟“بادیہ پوچھے بنا نہیں رہ سکی تھی۔
وہ اطمینان سے بولا۔”بھون کر کھائیں گے۔“
”زہریلا سانپ کھاکر مرنا ہے کیا۔“
”زہر سانپ کے جسم میں نہیں ہوتا سردارزادی۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”کوئی ضرورت نہیں ہے۔سردارزادی،سردارزادی کہہ کر تھکتے نہیں ہواور کھلا رہے ہو سانپ۔“
یشکر کے منھ سے قہقہ بلند ہوا اور اس نے سانپ کو باہر اچھال دیا۔”کس جانور کا گوشت پسند ہے سردار زادی۔“
”رہنے دو۔“بگڑے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے وہ کمبل پر جا کر بیٹھ گئی۔
”بھوک لگی ہو گی تمر کھا لو۔“ تھیلی سے مٹھی بھر کھجور نکال کر اس نے بادیہ کی طرف بڑھائیں، مگر وہ لا تعلقی سے بیٹھی رہی۔
دو تین لمحے اس کے ردعمل کا انتظار کر کے یشکر نے پہلے کی طرح کھجوریں کمبل پر رکھ دیں۔ پہلے والی کھجوروں کی گھٹلیاں دیکھ کر اسے اطمینان ہوا تھا کہ بادیہ نے وہ یونھی پھینک نہیں دی تھیں۔
بارش اسی تسلسل سے جاری تھی۔ہوا کی تیزی اسے مزید خوفناک بنا رہی تھی۔وقت کا اندازہ لگانے کے لیے ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا البتہ مسلسل کم ہوتی روشنی ظاہر کر رہی تھی کہ دن ڈھلنے کو تھا۔
یشکرنے دوبارہ دیوار سے ٹیک لگاتے ہوئے پاﺅں پھیلا لیے تھے۔
”مجھے قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔“یشکر نے کافی دیر کی چھائی ہوئی خاموشی کو توڑنے میں پہل کی تھی۔
”ترک نہیں،موّخر کیا ہے۔جس دن میرے بھائی لوٹے پہلا کام یہی کروں گی۔“
یشکر ہنسا۔”کیا خیال ہے تمھارے بھائی میرا مقابلہ کر لیں گے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”تمھارے لیے اکیلا مالک بھائی کافی ہے۔تم تین سے لڑنے کا سوچ رہے ہو۔“
یشکر نے شوخ لہجے میں للکارا۔”اگر جیت گیا تو تم میری ہوئیں اور ہار گیا تو میرا قتل معاف۔“
وہ جواب دیے بغیر بیٹھی رہی۔
”کچھ کہا ہے میں نے ؟“
بادیہ نے جواب دیے بغیر کھجوریں اٹھا کر کھانا شروع کر دیں۔
بارش کا شور زیادہ ہو گیا تھا۔ہوا کی تندی برقرار تھی اوراندھیرا گہرا ہونا شروع ہو گیا تھا۔
”اگر کوئی اور سانپ نکل آیا؟“کھجوریں کھا کر وہ پانی پی رہی تھی کہ اچانک ہی اسے خیال آیااور وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائی۔
یشکر ہنسا۔”تو اپنے بھائیوں کو آواز دے دینا۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”ہونہہ،سردارزادی بھی کہتے ہو اور مذاق بھی اڑاتے ہو۔“
”مذاق اڑانے اور کرنے میں فرق ہوتا ہے سردار زادی۔“یشکر سنجیدہ ہوتا ہوا بولا۔”اگر سردار زادی نہ سمجھتا تو خود کمبل پر ہوتا اور آپ یہاں مٹی میں لیٹی ہوتیں۔“
”بہت احسان کیا ہے نا کمبل دے کر،میں اس کمبل کے بغیر ہی بھلی۔“بادیہ نے اٹھنے کے لیے پر تولے۔
وہ اطمینان سے بولا۔”یاد ہے نا پہلے کس طرح کمبل پر لٹایا تھا۔“
اٹھنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے وہ غرائی۔”مجھے چھونے کے بارے سوچا بھی سہی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔“
”اگر آپ نے کمبل سے اٹھنے کی کوشش کی تومیں مجبور ہو جاﺅں گا۔“
وہ چپ ہو رہی۔اسے خاموش پا کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔باہر نکل کر اس نے گھوڑوں کی خرجین میں پڑے جو نکالے۔تھوڑے تھوڑے جوتوبڑوں میں ڈال کر اس نے بارش کے پانی سے گیلے کیے اورتوبڑے گھوڑوں کے منھ پر چڑھا دیے۔گھوڑوں کی حفاظت اور ان کے لیے چارے پانی کا اہتمام عربوں کی سرشت میں شامل تھا۔ اور فارس میں پلنے والے یشکر کے جسم میں بھی ایک عربی کا خون ہی دوڑ رہا تھا۔
واپسی پر وہ دروازے کی چوکھٹ اکھیڑنے لگا۔کافی موٹی لکڑی تھی۔اسے نکالنے کے لیے یشکر کو چند پتھر بھی نکالنے پڑے تھے۔لکڑی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر وہ واپس فرش پر آن بیٹھا۔بادیہ خاموش بیٹھی اس کی حرکات دیکھتی گئی۔
یشکر نے تیز دھار خنجر نکال کر سب سے پہلے خشک لکڑی کی اوپری تہہ کو کھرچنے لگا جو بارش کی وجہ سے گیلی ہوگئی تھی۔اس کے بعد اس نے پہلے تو لکڑی کی باریک باریک پرتیں علاحدہ کیں اور پھر موٹے موٹے ٹکڑے بنانے لگا۔کافی دقت طلب کام تھا۔مگر اس کے پاس موجود اعلا خنجر نے اسے کافی سہارا دیا تھا۔چار پانچ ٹکڑے کاٹ کر اس نے اپنے سامان سے چمقاق کے پتھر نکالے اور باریک چھیلی ہوئی لکڑی کو آگ لگانے لگا۔تھوڑی سی کوشش سے باریک لکڑی سلگنے لگی تھی۔
آگ کے جلتے ہی اس نے موٹی لکڑیاں اوپر رکھیں اور چوکھٹ سے مزید ٹکڑے کاٹنے لگا۔
”جانتی ہو آگ کی کتنی قسمیں ہیں ؟“اس نے خاموشی کو توڑا۔بادیہ حسب عادت خاموش رہی تھی۔
”اوستا“ میں آگ کی پانچ قسمیں بتائی گئی ہیں۔اوستا زرتشت کی لکھی ہوئی کتاب ہے جو اسے یزدان کے پیغام رساں نے لکھوائی ہے۔“بادیہ نے بیزاری سے آنکھیں بند کر کے دیوار سے ٹیک لگا لی تھی۔ یشکر کی بات جاری رہی۔
”پہلی قسم ”برزسواہ“ہے۔ وہ آگ ہے جو آتش کدوں میں جلتی ہے۔دوسری قسم ”وہوفریان“ ہے۔ یعنی انسان اور حیوان کے جسم کی آگ۔ تیسری قسم ” اروازشت“ہے جو درختوں میں موجود ہے۔ چوتھی قسم ” وازشت“ ہے۔ وہ آگ جو کہ بادلوں میں ہے۔اور پانچویں قسم ” سپنشت“کہلاتی ہے یعنی وہ آگ جو بہشت میں آہورامزدا(یزدان) کے سامنے جکتی ہے۔اور جہاں بھی یہ مقدس آگ جلتی ہے بدی کے دیوتااہرمن کے نمائندے وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔اور یہاں برزسواہ جل رہی ہے اس لیے تم بے فکر ہو کر سو جاﺅ۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”میرے لیے عزیٰ کافی ہے۔“
٭٭٭
قُتیلہ کو آنکھ کھلنے پر مشعلوں کی روشنی نظر آئی جو وسیع خیمے کے درمیان میں گڑی تھیں۔اسے اپنا سر بھاری بھاری لگ رہا تھا۔سر جھٹک کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی،تبھی اسے ہاتھوں کے بندھے ہونے کا احساس ہوا۔وہ کسمسا کر رہ گئی تھی۔ہاتھوں کے ساتھ اس کے پاﺅں بھی مضبوط رسی سے بندھے تھے۔ اس نے لیٹے لیٹے خیمے میں نگاہ دوڑائی،وسیع خیمے کے درمیان میں دولکڑیاں گاڑ کر ان کے ساتھ مشعلیں باندھی گئی تھیں۔خیمے کے اندر اس کے تینوں ساتھیوں کے علاوہ پانچ عورتیں اور پندرہ کے قریب مرد بھی نظر آرہے تھے۔قُتیلہ نے اندازہ لگایا کہ تمام کی عمریں بیس سے اٹھائیس سال کے درمیان تھیں۔ ان کے چہروں پر مایوسی،ذلت اور ناامیدی کے سائے پھیلے تھے۔نہ جانے بنو ضبع والے انھیں کہاں سے پکڑ کر لائے تھے۔عرب میں ایسے کافی گروہ سرگرم تھے جن کا ذریعہ معاش بردہ فروشی تھا۔خود قُتیلہ کا تعلق جس قبیلے سے تھا وہ بھی قزاقی کے ساتھ ہاتھ آنے والے مردوزن کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔اور اب وہ خود کسی ایسے قبیلے کے ہاتھ چڑھ گئی تھی۔
کلاب اور اس کے ساتھیوں سے گفتگو کے ساتھ ہی اسے خطرے کا احساس ہو گیا تھا لیکن وہ بروقت بچاﺅ کی کوئی تدبیر نہیں کر سکی تھی۔
ملکان بن نول جو اس کے پہلو ہی میں بندھا پڑا تھا افسوس بھرے لہجے میں گویا ہوا۔”سردار زادی،غفلت میں مارے گئے ہیں۔“
”قُتیلہ نے متنبہ کیا تھا ملکان،مگرتم تینوں کو کھانے پینے کے علاوہ کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔“
ملکان نے منھ بنایا۔”آپ نے سرسری سا انکار کیا تھا اور بس۔“
”قُتیلہ نے تمھیں ہوشیار رہنے کا اشارہ کر دیا تھا لیکن تمھاری سمجھ میں قُتیلہ کا اشارہ ہی نہیں آ سکا تھا۔“
”آپ واضح طور پر انکار کر دیتیں۔“
”جب تک ان کی صحیح تعداد معلوم نہ ہوتی ایسانہیں کر سکتی تھی۔اور پھر قُتیلہ کا خیال تھا کہ وہ اتنی جلدی نہیں کریں گے،قُتیلہ بس ایسے موقع کی تلاش میں تھی کہ بھاگ نکلا جا سکے۔“
ملکان نے حجت کی۔”اگر یہ بات تھی تو ان کی دعوت قبول کر نے کے بجائے بھاگا جا سکتا تھا۔“
”ملکان بن نول،تم تینوں کو جب تک قُتیلہ سمجھا نہ لیتی تم بھاگنے پر تیار نہ ہوتے اور بالفرض ہم بھاگ بھی پڑتے تب بھی انھوں نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑنا تھا۔“
وہ حیرانی سے مستفسر ہوا۔”آپ کو کیسے محسوس ہوا کہ یہ غلط لوگ ہیں؟“
”ایک قزاق کے لیے اپنے ہم پیشہ کو پہچاننا مشکل کام نہیں ہے۔بلکہ تم بھی تھوڑا سوچنے کی زحمت کرتے تو انھیں پہچان سکتے تھے۔کلاب کی دعوت دینے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ ہمیں ہر قیمت پر ساتھ لے جانا چاہتا ہے اسی لیے تو اس نے اونٹ کے بھنے گوشت اور عمدہ شراب کا دانہ ڈالا۔اسی طرح اس خیمے کے سامنے اور عقبی جانب ایک ایک مسلح شخص پہرہ دے رہا تھا اور میرے پوچھنے پر کلاب نے بتایا کہ یہاں وہ جانوروں کو بند رکھتے ہیں۔کیا تم نے کبھی جانوروں کی پہرے داری پر مسلح شخص کو کھڑے دیکھا ہے۔اور بھیڑ بکریاں تو دائیں بائیں چرتی نظر آرہی تھیں تو اندر کون سے جانوربند تھے۔پھر ان کے ساتھ نہ تو کوئی عورت نظر آرہی تھی اور نہ بچہ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ یہ لوگ وہ نہیں ہیں جو خود کو ظاہر کر رہے ہیں۔“ قُتیلہ نے اطمینان بھرے انداز میں اپنا مشاہدہ بیان کیا۔
ملکان تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”بلا شک و شبہ آپ سردار زادی ہیں۔“
”اچھا اب یہاں سے نکلنے کی سوچو۔“قُتیلہ کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔
وہ استہزائی لہجے میں بولا۔”ظالموں نے اتنی سختی سے جکڑا ہے کہ ہلناجلنا دشوار ہو گیا ہے نکلنے کی کیا سوچوں ؟“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”اچھا ذہنی طور پر تیار رہنا قُتیلہ جلد ہی لوٹے گی۔“
”آپ گئی کب ہیں جو لوٹیں گی۔“ملکان نے حیرانی ظاہر کی۔
”قُتیلہ کو نہیں معلوم تھا کہ تم اتنے بدھو ہو گے۔“اس نے منھ بنایا۔
ملکان ہکلایا۔”مم….میں واقعی میں کچھ نہیں سمجھا۔“
”ملکان،کیا قُتیلہ خوب صورت ہے؟“ملکان کو لگا وہ موضوع سے ہٹ رہی ہے۔اس نے گردن موڑ کر قُتیلہ کے پرکشش چہرے کو گھورا جو مشعلوں کی روشنی میں عجیب سحر انگیز منظر پیش کر رہا تھا۔ دو تین لمحے اسے گھورنے کے بعد اس کے لبوں سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔
”جواب آپ کو معلوم ہے۔“
”تو بس جان لو جلد ہی قُتیلہ کا بلاوا آنے والا ہے۔قُتیلہ نے سردار کی آنکھوں میں ناچتی ہوس آتے ساتھ دیکھ لی تھی۔قُتیلہ کو تنہائی میں بلا کر قتل ہونے والا یہ تیسرا سردار ہو گا۔“
اسی وقت خیمے کا پردہ ہٹا کر تین آدمی اندر داخل ہوئے۔چوتھا ان کے ہمراہ کلاب تھا۔ایک نے ہاتھ میںدو رکابیاں اٹھا رکھی تھیں جن میں اونٹ کا بھنا ہوا گوشت تھا۔باقی دو مسلح تھے۔کلاب سیدھا قُتیلہ کی طرف بڑھا۔
”سردار زادی،کہا تھا نا،ہمارے پاس ارغوانی شراب اور اونٹ کا بھنا ہوا گوشت موجود ہے۔ شراب تم لوگوں نے پی لی تھی اب گوشت لایا ہوں۔“اس کے لہجے میں استہزاءکا عنصر نمایاں تھا۔
وہ ہونٹ چباتے ہوئے بولی۔”قُتیلہ دھوکا دینے والوں کو معاف کرنے میں بڑی بخیل ہے۔“
”معافی تو آپ نے مانگنی ہے سردار زادی۔ابھی تھوڑی دیر بعد آپ کا گڑگڑانا اس خیمے میں بندھے تمام مرد سن رہے ہوں گے۔“یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کو رکا اور پھر غلاظت بھرے لہجے میں بولا۔ ”شاید لڑکیوں کو سنائی نہ دے کہ وہ بے چاری خود چیخ و پکار میں مشغول ہو ں گی۔“بات کے اختتام پر وہ نیچے بیٹھا اور قُتیلہ کے ہاتھوں کی بندشیں کھولنے لگا۔ہاتھ آزاد ہوتے ہی وہ اطمینان سے بیٹھ کر اونٹ کا گوشت کھانے لگی۔اس کے تینوں ساتھیوں کے ہاتھ بھی انھوں نے کھول دیے تھے۔البتہ ان کے پاﺅں اب تک بندھے تھے۔
”تم لوگ گوشت نہیں کھا رہے ؟“تینوں ساتھیوں کو کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے دیکھ کر وہ تسلی دیتے ہوئے بولی۔ ”پریشان نہ ہوں قُتیلہ تمھارے ساتھ ہے۔“
کلاب نے استہزائیہ قہقہ بلند کیا۔ ”سردار زادی،تمھارا اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ آج تک تمھارا واسطہ کسی مرد سے نہیں پڑا۔“
”قُتیلہ تمھاری بات سے متفق ہے۔بلا شک و شبہ قُتیلہ نے آج تک کوئی مرد نہیں دیکھا۔“ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ گوشت کی موٹی بوٹی کے ساتھ نبرد آزما ہو گئی۔
”تمھاری یہ خواہش آج ضرور پوری ہو گی۔بلکہ اس کثرت سے پوری ہو گی کہ تمھارے سارے گلے شکوے بھاپ بن کر اڑ جائیں گے۔“
اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس نے وہاں بندھے دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”ان لوگوں کو بھی کھانا کھلا دیتے۔“
”انھیں پہلے کھلا دیا ہے رحم دل سردار زادی۔“کلاب اس کی باتوں سے خوب محظوظ ہورہا تھا۔
”کلاب بن اسد ،جلد ہی وہ لمحات آنے والے ہیں جب تم دعا کرو گے کہ کاش میں رحم دل ہوتی۔“
کلاب عاشقانہ لہجے میں بولا۔”اتنے ظلم بھی اچھے نہیں ہوتے۔“
”قریب گوشت کھاﺅ۔“ملکان اور عامر قُتیلہ کے کہنے پر بے دلی سے کھانے لگے تھے البتہ قریب اب تک پریشان بیٹھا تھا۔
کلاب نے قہقہ لگایا”قریب بن فلیح، کھانا کھاﺅتمھارے ساتھ بنو نسر کی سردار زادی موجود ہے نا۔“
اس بار بھی قریب نے رکابی کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
”قُتیلہ کو بزدلوں سے سخت نفرت ہے۔“وہ قریب کو جھڑکنے سے بھی باز نہیں آئی تھی۔اس کے لہجے میں کوئی ایسی بات موجود تھی کہ قریب نے فوراََ رکابی کی طرف ہاتھ بڑھا دیا تھا۔
کھانا کھا کروہ مشکیزے کو منھ لگا کر باری باری پانی پینے لگے۔اس دوران کلاب قیدی لڑکیوں کے قریب جا کر پر ہوس نظروں سے ان کا جائزہ لے رہا تھا۔ان کے کھانے سے فارغ ہوتے ہی وہ اپنے ساتھیوں کو بولا۔
”ان تینوں کے ہاتھ باندھ دو،سردار زادی کے پاﺅں بھی کھول دو یہ بنو ضبع کے سردار کے پاس جائے گی، سرخ کپڑوں والی کو میرے خیمے میں پہنچا دو اور باقی چار پر تم سب گزارا کر لینا۔اور پریشان نہ ہونا دو تین دنوں تک سردار زادی تک تم سب کی رسائی ہو جائے گی۔“
اس کے ساتھیوں نے سر ہلاتے ہوئے ملکان،عامر اور قریب کے ہاتھ باندھے۔جبکہ ایک آدمی نے قُتیلہ کے پاﺅں بندشوں سے آزاد کردیے۔
کلاب اس کے نزدیک آکر مکروہ لہجے میں بولا۔”چلیں سردار زادی تمھاری بہادری کے امتحان کا وقت قریب ہے۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ ابھری کچھ کہے بغیر وہ جھک کر گوری پنڈلیوں کو مسلنے لگی جہاں رسی کے نشان پڑ گئے تھے۔
”یہ خدمتیں کسی اور کے لیے رہنے دو سردار زادی۔“کلاب نے گھٹیا انداز میں کہتے ہوئے اس کے بازو سے پکڑ کر سیدھا کرنا چاہا ….اور پھر ایک دم جیسے بجلی چمکتی ہے،قُتیلہ نے سیدھا ہوتے ہوئے اپنی کہنی بھرپور طریقے سے کلاب کی کنپٹی پر رسید کی۔
”اوع….“کہہ کر وہ لہرا کر نیچے گر گیا تھا۔قُتیلہ نے سرعت سے اس کی نیام سے تلوار کھینچی اور تلوار کے دستے کو کلاب کے سر پر رسید کرتے ہوئے اس کی بے ہوشی کو یقینی بنادیا۔
قُتیلہ کی بندشیں کھولنے والاکھانے کے برتن اٹھاکر سیدھا ہی ہوا تھا کہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔کلاب کو بے ہوش کرتے ہی قُتیلہ نے ہاتھ میں پکڑی تلوار گھمائی،اس کی گردن ملکان بن نول کے پیٹ پر گری تھی۔
عورتوں کی بندشیں کھولنے والوں کی ان کی طرف پیٹھ تھی۔عورتوں کی بلند سسکیوں اور آہ و زاری کی وجہ سے ان کے کانوں تک کلاب کی کراہ نہیں پہنچ سکی تھی۔البتہ رکابیوں کے گرنے کا شور ان کی سماعتوں تک پہنچ گیا تھا۔وہ بے اختیار پیچھے مڑے۔عقبی منظر ایسا نہیں تھا کہ ان کے حواس قائم رہ پاتے۔ اپنے ساتھی کا بے سر لاشہ تڑپتے دیکھ کر لمحہ بھر کے لیے وہ سن ہو گئے تھے۔اور قُتیلہ کے لیے اتنی مہلت کافی تھی۔ وہ بگولے کی طرح ان کی طرف بڑھی تھی۔
قُتیلہ کو خون آلود تلوار سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر وہ جھرجھری لیتے ہوئے نیام میں مقید تلواروں کی طرف متوجہ ہوئے۔اس دوران قُتیلہ موت کے فرشتے کی طرح ان کے قریب پہنچ گئی تھی۔ ایک بے چارے کا ہاتھ بہ مشکل تلوار کے دستے کو پکڑ سکا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ تلوار کو نیام سے باہر کھینچ پاتاقُتیلہ کی تلوار اس کے گلے میں گھس کر عقب میں نکل گئی تھی۔وہ خرخراتا ہوا نیچے گرا۔اس کا ساتھی البتہ تلوار نکالنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔پہلے والے کا تڑپتا ہوا جسم ان پانچ عورتوں کے درمیان گرا۔سریلی چیخوں نے مرنے والے کی خرخراہٹ کو چھپا دیا تھا۔قُتیلہ ان سے بے پروا اپنے مخالف کی طرف متوجہ تھی۔جس کے چہرے پر غیض و غضب پھیلا تھا۔اس نے زوردار انداز میں تلوار گھمائی۔اس کا شدید وار قُتیلہ کے لیے غیر متوقع نہیں تھا۔وہ مخالف کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتی تھی۔مقابل کے وار سے بچنا، اس کی طاقت کو اس کے خلاف استعمال کرنا، تلوار کے وار کو ضایع کرنااور ایسے موقع کی تلاش میں رہنا کہ مخالف دفاع کرنے میں مکمل ناکام ہو۔
اس وقت بھی مدمقابل کو ہاتھ گھماتے دیکھ کر اس نے گھٹنوں میں ذرا سا خم پیدا کیا۔تلوار ”شاں“کی آواز سے اس کے سر کے اوپر گزر گئی تھی۔جبکہ اس کے تینوں ساتھیوں نے ڈر کے مارے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر لی تھیں۔قُتیلہ کی موت ان کی غلامی پر مہر ثبت کرنے والی تھی۔
وار کرنے والے نے تلوار اتنی طاقت سے گھمائی تھی کہ وار کے خطا جانے پر گھوم گیا۔اور پھر اس کے سنبھلنے سے پہلے قُتیلہ کی تلوار اس کے نرخرے سے پار ہو چکی تھی۔
اس کے ساتھیوں کو آنکھیں کھولنے پر مخالف کا تڑپتا ہوا لاشہ نظر آیا جبکہ قُتیلہ تلوار سونتے خیمے کے دروازے کی طرف بھاگی جا رہی تھی۔
باہر جھانکنے پر اسے محافظ نظر نہیں آیا تھا یقینا وہ کھانے دینے والوں کے ساتھ اندر ہی گھس آیا تھا۔باہر گھپ اندھیرا تھا۔البتہ مختلف خیموں میں جلنے والی مشعلوں کی روشنی سے خیموں کے ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔واپس اندر گھس کر وہ خیمے کی عقبی جانب کو بڑھی لیکن اتنا اندازہ اسے ضرورتھا کہ وہاں بھی کوئی موجود نہیں ہو گیا کیوں کہ وہاں اگر کوئی موجود ہوتا تو خیمے میں ہونے والے کھٹ پٹ کی سن گن لینے کے لیے اندر ضرور جھانکتا۔
عقبی جانب جھانکنے پر اسے اپنا اندازہ درست ہوتا دکھائی دیا۔وہاں کوئی موجود نہیں تھا البتہ تھوڑے فاصلے پر ایک آدمی کے گنگنانے کی آواز ضرور آرہی تھی شاید وہ رفع حاجت یا کسی اور کام سے وہاں سے دور ہٹا تھا۔
پردہ ہٹا کر وہ احتیاط سے باہر نکلی اور دبے قدم آواز کی سمت بڑھنے لگی۔
وہ آنے والی موت سے بے خبر خیمے کی طرف پشت کیے صحرا کی چاندنی راتوں میں محبوب کی بانہوں کی حدت کو یاد کر رہا تھا۔اس کے ساتھ ہی پانی کے ریت سے ٹکرا نے کی مسلسل آواز اس کے وہاں کھڑے ہونے کے مقصد کو ظاہر کر رہی تھی۔
قُتیلہ کے قریب پہنچنے تک وہ فارغ ہو چکا تھا۔البتہ قُتیلہ نے اسے آزار باندھنے کا موقع نہیں دیا تھا۔بالکل آخری لمحے میں اس نے موت کی آہٹ سن لی تھی لیکن اس کے سنبھلنے سے پہلے قُتیلہ کی تلوار اپنا کام کر چکی تھی۔بے سر جسم کوئی آواز نہیں نکال سکتا اور نہ سر کو جسم کے بغیر بولنے کی طاقت حاصل ہے۔ تڑپتی لاش کی کمر سے تلوار کھول کر وہ واپس پلٹی۔خیمے میں خاموشی چھا چکی تھی،یقینا لڑکیوں کو کسی نے خاموش رہنے کا کہہ دیا تھا یا شاید انھیں خود ہی عقل آگئی تھی۔
اندر گھستے ہی اسے تمام عقبی دروازے کی جانب متوجہ نظر آئے۔قُتیلہ نے فوراََ کلاب کی کمر سے باندھا ہوا خنجر کھول کر ملکان بن نول کی بندشیں کاٹیں اور پھر قریب اور عامر کی طرف بڑھ گئی۔ ملکان بھی دوسرے قیدیوں کی طرف بڑھ گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد تمام قیدی آزاد ہو چکے تھے۔ان کے چہروں پر خوف و ہراس کے ساتھ امید کی جھلک بھی نظر آرہی تھی۔قُتیلہ نے تمام کو اکھٹا کر کے دھیمی آواز میں بولی۔
”گھبرانے کی ضرورت نہیں قُتیلہ تمھارے ساتھ ہے۔اب ہم نے باقیوں کو ختم کرنا ہے،تم میں سے کون کون لڑنا جانتا ہے۔“
تمام مردوں نے ہاتھ کھڑے کر لیے تھے۔
”شاباش،ہمارے پاس پانچ تلواریں اور تین خنجر ہیں۔“اس نے فی الفور وہ تلواریں اور خنجر سات مردوں میں تقسیم کیں،آٹھویں تلوار اس نے خود پکڑلی تھی۔“
”تمام غفلت میں پڑے ہیں کوئی رعایت نہ کرنا۔مجموعی طور پر آٹھ خیمے ہیں،شرقی جانب کے چاروں خیموں پر ہم اکھٹا ہلّہ بولیں گے اور پھر غربی جانب کے چار خیموں کی خبر لیں گے۔کوشش کرنا کوئی شور مچا کر باقیوں کو متوجہ نہ کر سکے۔کیا تمام کی سمجھ میں میری بات آ گئی ہے۔“اس کی آواز دھیمی تھی مگر پر اعتماد انداز ظاہر کر رہا تھا کہ وہ قیادت ہی کے لیے بنی ہے۔
”سب نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔اس کے تین ساتھیوں کے علاوہ وہاں چودہ مرد موجود تھے۔اس نے دو مردوں کو کلاب کی مشکیں کسنے کا حکم دیا اور باقی بارہ مردوں کو تین تین کی چار ٹولیوں میں بانٹ دیا۔اپنے تینوں ساتھیوں کے حوالے اس نے ایک ایک ٹولی کی اور خود چوتھی ٹولی سنبھال لی تھی۔
دو مردوں کوعورتوں کے ساتھ وہیں رکنے کا کہہ کر وہ باقیوں کے ساتھ خیمے سے باہر نکل آئی۔خیموں کی روشنی ان کی بہترین رہنمائی کر رہی تھی۔ اس نے ہر ٹولی کو اس کا مخصوص خیمہ دکھایا اور تمام اپنے ہدف کی طرف بڑھنے لگے۔خیموں کے درمیان دس پندرہ قدموں سے لے کر بیس پچیس قدموں کا فاصلہ تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تمام نے دن کی دھوپ سے بچنے کے لیے خیمے درختوں کے نیچے لگائے ہوئے تھے۔اور درختوں کے پھیلاﺅ کی وجہ سے انھیں خیمے بھی فاصلے فاصلے پر لگانے پڑ گئے تھے۔
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: