Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 21

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 21

–**–**–

ساری رات جاری رہنے والی قتل غارت طلوع آفتاب کے بعد ہی کہیں جا کر رکی تھی۔بنو نوفل والوں کو کافی دیر بعد جا کر یشکر اور بادیہ کے غائب ہوجانے کی بابت پتا چلا تھا۔ان دونوں کی تلاش میں انھوں نے فوراََ ہی ٹولیاں بھیج دی تھیں۔
بارش کی رفتار میں طلوع آفتاب کے قریب اضافہ ہوا تھا۔اس وقت تک بنو جساسہ کے اکثر مکانوں میں جہاں لکڑی استعمال ہوئی تھی وہ راکھ کا ڈھیر بن گئی تھی۔اکادکا مکان ہی سلامت رہ پائے تھے۔البتہ مکینوں میں بوڑھے مرد، عورتیں اور کچھ زخمی بچ گئے تھے۔جوان مردوں، عورتوں ،لڑکیوں اور لڑکوں کی یا تو لاشیں وہاں بکھری تھیں یا بنو نوفل والے انھیں غلام بنا کر ساتھ لے گئے تھے۔قلیل تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جو تاریکی کا فائدہ اٹھا کر بھاگ گئے تھے۔
بنونوفل والوں کے جانے کے بعد دو تین بوڑھے بچے کچے آدمیوں کی خبر گیری کے لیے باہر نکلے۔تیز بارش میں بھیگتے وہ بنو جساسہ کی تباہی کا منظر دیکھنے لگے۔آسمان سے برسنے والے پانی اور ان کی آنکھوں سے ابلنے والے چشمے ایک ہی رفتار سے جاری تھے۔زخمیوں کاکراہنا ،بوڑھی عورتوں کی سینہ کوبی ، کم سن بچوں کی چیخ و پکاروہاں قیامت سے پہلے حشر کا میدان قائم تھا۔
وہ سب سے پہلے سردار شیبہ کے مکان پر پہنچے ،وہاں شیبہ اور اس کی بیویو ں کی لاشیں پڑی تھیں۔صاف نظر آرہا تھا کہ سردار شیبہ نے لڑ کر جان دی تھی۔البتہ حملہ آوروں کی کوئی لاش نظر نہیں آرہی تھی۔شاید وہ اپنی لاشیں سمیٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔انھوں نے بڑی مشکل سے سردار اور اس کی بیویوں کی لاشوں کو گھسیٹ کر ایسے حجرے میں ڈال دیا جس کی چھت جلنے سے بچ گئی تھی۔وہاں سے ان کا رخ شریم کے مکان کی طرف ہو گیا۔ادھر بھی حالت مختلف نہیں تھی۔شریم اور اس کی بیویوں کی لاشیں صحن میں بکھری پڑی تھیں۔عورتوں کی لاشیں ایک کوٹھڑی میں ڈال کر جونھی انھوں نے شریم کی لاش کو سیدھا کرنا چاہا اس کے منھ سے زوردار کراہ خارج ہوئی۔وہ زندہ تھا۔اس کے پیٹ ،بازوﺅں اور ٹانگوں پر چھوٹے بڑے زخم تھے لیکن سینے کے داہنی جانب ایک بڑا سا گھاﺅ نظر آرہا تھا۔جو یقینا کسی اناڑی شمشیر زن کا کمال تھا۔اگر وہ زخم دائیں کے بجائے بائیں طرف ہوتا تو شریم کازندہ بچ جانا ناممکن تھا۔
وہ اسے احتیاط سے اٹھا کر گھر میں واحد سلامت رہنے والی کوٹھڑی کی طرف بڑھ گئے جہاں اس کی بیویوں کی لاشیں پڑی تھیں۔بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے اپنی قمیص کے دامن سے زخم کو دبا کر خون روکنے کی کوشش کی تھی۔اور خون کو بروقت روکنے کی وجہ ہی سے اس کی جان بچ پائی تھی۔اسے سیدھا لٹا کر وہ اس کے گھاﺅ کا جائزہ لینے لگے۔
سب سے عمر رسیدہ بوڑھا کہنے لگا۔”عفرا بن عوف تم حکیم قنعب بن عبد شمس کے گھر جا کر دیکھو،اگر وہ زندہ بچ گیا ہے تو شریم کو بچایا جا سکتا ہے۔“
عفرا بن عوف سر ہلاتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا۔
شریم کی زندگی کے چند دن بقایا تھے کہ حکیم قنعب بن عبد شمس، عفرا کو زندہ مل گیا تھا۔عفرا کو وہ رستے ہی میں ایک زخمی کی مرہم پٹی کرتا نظر آیا تھا۔بنو نوفل والوں کے جاتے ہی وہ زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر سے باہر نکلا تھا۔
عفرا کے ساتھ مل کر اس نے جوان زخمی کوگلی سے اٹھا کر ایک بچ جانے والے کمرے میں لٹایا اور دونوں شریم کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔عفرا ،قنعب تک سردار کے مرنے کی خبر پہنچاچکا تھا اور سردار کے مرنے کے بعد شریم ہی تھا جو اجڑے پجڑے قبیلے کی آخری امید تھا۔
٭٭٭
بہرام اگلے دن بنو کاظمہ کے مضافات سے پڑاﺅ اٹھا کر مرہ بن اثمد اور اس کے ساتھی مخرمہ بن بوی کے ساتھ یشکر کی تلاش میں آگے بڑھ گیا۔پانچ پانچ سونے کے سکے اس نے پیشگی معاوضے کے طور پر مرہ اور مخرمہ کو ادا کر دیے تھے۔یوں بھی انھیں راستوں کی پہچان اور رہنمائی کے لیے قابل اعتماد لوگوں کی ضرورت تھی۔مرہ اور مخرمہ پہلے بھی ان راستوں پر سفر کر چکے تھے۔بنو کاظمہ سے آتے وقت صحرائے نفود ان کے داہنے ہاتھ پڑ رہا تھا۔مرہ اور مخرمہ بہرام کے دائیں،بائیں اپنے گھوڑے دوڑا رہے تھے۔ وہ تینوں تمام سے آگے تھے۔
مرہ بن اثمد،ترجمان کی وساطت سے بہرام کو راستوں میں آنے والے مختلف قبائل کے بارے معلومات فراہم کر رہا تھا۔سب سے پہلے وہ بنو نوجل پہنچے تھے۔قبیلے کے مضافات میں پڑاﺅ ڈال کر بہرام مرہ بن اثمد اور بوی کے ساتھ قبیلے کے سردار سے ملنے چل پڑا۔چار پانچ محافظ بھی اس کے ہمراہ تھے۔
قبیلے کی طرف بڑھتے ہوئے بہرام نے سرسری لہجے میں دریافت کیا۔”بنو نوجل کا سردار کیسا آدمی ہے؟“ترجمان نے مرہ بن اثمد کے سامنے بہرام کی بات دہرائی۔وہ کہنے لگا۔
”بنو نوجل کے سردارسامہ بن تیم کی دو بیویاں ہیں لیلیٰ اور عکرشہ۔ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر خوب صورت ہیں۔وہ جہاں بھی جاتا ہے دونوں کو ساتھ ہی رکھتا ہے۔اب تو عکرشہ کی بیٹی بھی جوان ہو گئی ہے مگر عکرشہ اور لیلیٰ کا حسن پہلے ہی کی طرح قائم دائم ہے۔“
بہرام ہنسا۔ ”میں نے سردار کے متعلق دریافت کیا ہے تم اس کی بیویوں کا تذکرہ چھیڑ بیٹھے۔“
مرہ بن اثمد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”سامہ بن تیم اچھا آدمی ہے۔اور اس کی بیویوں کا اس لیے بتایا کہ وہ کافی حسین و جمیل مشہور ہیں۔البتہ بنو جساسہ کی سردار زادی کے متعلق سننے میں آرہا ہے کہ وہ عکرشہ اور لیلیٰ سے بھی بڑھ کر حسین ہے۔“
”مرہ بن اثمد، میں یہاں رشتے کی تلاش میں نہیں آیا۔“بہرام کو خوب صورت عورتوں کے تذکرے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اس کی نگاہ میں دنیا کی حسین و جمیل لڑکی سبرینہ ہی تھی۔
”بنو نوجل کے سردار کے بیٹے کا شمار اچھے شعراءمیں ہوتا ہے۔اور سردار کے پاس ایک گھوڑا ہے جوگھڑ دوڑ میں پانچ بار مجّلی (اول)ہو چکا ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے بہرام نے اثبات میں سر ہلادیا کہ پورے راستے اسے مرہ سے ایسی ہی باتیں سننے کو ملی تھیں۔ شعرو شاعری ،گھڑ سواری ، حسین عورتیں اور بہترین شراب کے علاوہ شاید کوئی موضوع اس کے پاس موجود نہیں تھا۔
بنو نوجل کے مقامی آدمی کی رہنمائی میں وہ سردار کے مکان کے پاس پہنچے۔سردار تک ان کے آنے کی خبر شاید پہلے ہی سے پہنچ چکی تھی کہ وہ اپنی حویلی کے باہر ہی انھیں مل گیا تھا۔سامہ بن تیم نے انھیں پر تپاک انداز میں خوش آمدید کہا اور انھیں سقیفہِ سامہ میں لے گیا۔وسیع کمرے کے درمیان میں ایک بڑاتخت بچھا تھا۔جس پر سفید کڑھائی کی ہوئی چادر بچھی تھی۔اس کے سامنے بھی لکڑی کے تخت رکھے گئے تھے جن کی بلندی بڑے تخت سے بالشت بھر کم تھی۔انھیں بیٹھنے کی دعوت دے کر سامہ خود بڑے تخت پر بیٹھ گیا۔اسی وقت پردہ ہٹا کر دو عورتیں اندر داخل ہوئیں اور سامہ کے دائیں بائیں آکر بیٹھ گئی تھیں۔ان دونوں کو دیکھتے ہی بہرام کی سمجھ میں آگیا تھا کہ مرہ بن اثمد کیوں بار بار عکرشہ اور لیلیٰ کے حسن کے قصیدے پڑھ رہا تھا۔وہ دونوں چالیس سال سے برس دو برس ہی کم کی تھیں مگر بڑھتی عمر ،ان کی خوب صورتی کو گہنانے میں ناکام رہی تھی۔وہ اپنی عمر سے کہیں کم دکھائی دے رہی تھیں۔بہرام کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ دونوں میں سے کون سی زیادہ پر کشش تھی۔
اسی وقت ایک باندی انھیں ٹھنڈی شراب پیش کر نے لگی۔سامہ بن تیم نے گفتگو کی ابتداءکی۔
”معزّز فارسی کو کون سی فکر صحرائے اعظم میں کھینچ لائی ہے ؟“
بہرام جب تک ترجمان سے سامہ بن تیم کی گفتگو کا مطلب سمجھتا،مرہ بن اثمد جواب دینا شروع ہو گیا تھا۔
”محترم سردار ،ہمارے فارسی مہمان اپنے سپہ سالار کے بیٹے کی تلاش میں آئے ہیں۔ روم و فارس کی گزشتہ جنگ کی ابتداءمیں جب رومیوں کو عارضی فتح حاصل ہوئی اور شہنشاہ فارس کو ایک مصلحت کے تحت طیسفون خالی کرنا پڑا۔تبھی ان کے سالار کابیٹاہمارے قبیلے بنو کاظمہ کے جنگ جوﺅں کے ہاتھ چڑھ گیا۔اور ہم اسے قیدی بنا کر بنو کاظمہ لے آئے۔بعد میں ایک نیلامی کے دوران وہ لڑکا کسی قبیلے کو بیچ دیا گیا۔اب یہ معلوم نہیں کہ وہ کس کو بیچا گیاتھا۔بس اتنا یاد ہے کہ قبیلہ قریش کی معیت میں ایک بڑا قافلہ حیرہ جا رہا تھا۔اس قافلے میں باقی قبائل کے ساتھ بنو نوجل کے لوگ بھی شامل تھے۔ہم اسی سلسلے میں حاضر خدمت ہوئے ہیں کہ اگر اس غلام کو بنو نوجل کے کسی صاحب نے خریدا ہے تو اسے منھ مانگا معاوضا دے کر واپس حاصل کرلیں۔“
”اس بات کو تو کافی عرصہ بیت گیا ہے۔“سامہ کے لہجے میں حیرانی تھی۔
مرہ نے کہا۔”جی سردار ،اگر آپ جیسے معزّز سرداروں کا تعاون رہا تو امید ہے ہم اسے تلاش کر لیں گے۔“
”جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے بنو نوجل کے قافلے کا شیخ قھاب بن سلمہ تھا۔میں اسے لا کر معلوم کر لیتا ہوں۔“سامہ بن تیم باندی کو اس متعلق بتانے لگا۔بہرام کو ترجمان ساری گفتگو کے بارے بتا چکا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ادھیڑ عمر قھاب بن سلمہ وہاں پہنچ گیا تھا۔مرہ بن اثمد نے تمام تفصیل اس کے سامنے دہرادی تھی۔
”ہاں مجھے وہ نیلامی یاد ہے ،بقیل بن سارو نے دس اوقیہ چاندی میں ایک باندی خریدی تھی۔ اس کے علاوہ بنو نوجل کے کسی آدمی نے غلام نہیں خریدا تھا۔“
مرہ بن اثمد نے پوچھا۔”بکنے والے غلاموں میں ایک جواں سال لڑکا بھی موجود تھا، اگر آپ کو اس کے خریدار کا نام یاد ہو ….؟“
قھاب نے جواب دیا۔”مجھے لڑکا یاد ہے،کافی صحت مند اور اچھے قدو قامت کا لڑکا تھا۔لیکن باندی کو خریدنے کے بعد ہم واپس لوٹ آئے تھے اس لیے میں اس لڑکے کے خریدار کو دیکھ ہی نہیں سکا تھا۔“
”شاید قبیلے کے کسی اور فرد کو معلوم ہو ؟“مرہ نے امید ظاہر کی۔
”یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا ،پتا کرنا پڑے گا۔“قھاب کو ایک دم اس کا دل توڑنا مناسب نہیں لگا تھا۔
”ہم منتظر ہیں۔“مرہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا تھا۔قھاب کے جانے کے بعد بہرام اور سردار کے درمیان ترجمان کی وساطت سے روم و ایران کی جنگ کے بارے گفتگو ہونے لگی اسی دوران ان کے لیے کھاناآ گیا تھا۔جب تک وہ کھانے سے فارغ ہوتے قھاب لوٹ آیا تھا۔اس کے پاس کوئی امید افزاءخبر نہیں تھی۔مرہ نے قریش کے قافلے میں شامل باقی قبائل کے نام بھی قھا ب سے پوچھ لیے تھے۔ وہ رات بنو نوجل کے مضافات میں گزار کر وہ اگلی صبح آگے جانے کے لیے تیار تھے۔
٭٭٭
آنکھ کھلنے پر بادیہ کو یشکر نظر نہ آیا۔صبح ہو گئی تھی ،بارش کا زور ٹوٹ گیا تھا اور اس وقت بس بوندا باندی ہو رہی تھی۔کونے میں پڑی یشکر کی تلوار اور تیر کمان و ترکش غائب تھے۔پہلا خیال اسے یہی آیا کہ شاید وہ کوچ کر گیا ہو۔مگر اس خیال پر یقین کرنا مشکل تھا۔کمبل سے باہر نکل کر اس نے بھرپور انگڑائی لی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔دونوں گھوڑوں کو اپنی جگہ بندھا دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔اسی وقت اس کی نظر عمارت کے ٹوٹے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوتے یشکر پر پڑی۔اس نے کندھے پر ذبح کیا ہوا وعل (پہاڑی بکرا)لادا ہوا تھا۔
ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے یشکر پر گہری نظر ڈالی اور فطری تقاضا پورا کرنے کے لیے باہر نکل گئی۔جب تازہ دم ہو کر لوٹی تو یشکر دروازے کی چول کو تیز دھار خنجر سے کاٹ کرجلانے کے قابل چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا چکا تھا۔ اگلے مرحلے میں اس نے گھوڑے کی لگام نکال کر چھت کے شہتیر سے گزاری اور اس سے وعل کی عقبی ٹانگ باندھ کر کھال اتارنے لگا۔اس کے مہارت سے چلتے ہوئے ہاتھ دیکھ کر بادیہ کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ پہلی مرتبہ یہ کام نہیں کر رہا تھا۔
مختصر سے وقت میں اس نے وعل کا گوشت صاف کر لیا تھا۔آلائشوں کو وعل کی کھال میں لپیٹ کر اس نے باہر پھینکا اور پھر آگ جلانے لگا۔
تھوڑی دیر بعد بادیہ کلیجی بھوننے کی اشتہا انگیز خوشبو سونگھ رہی تھی۔اس دوران اس نے یشکر کا ہاتھ بٹانے کی کوشش نہیں کی تھی۔دیوار سے ٹیک لگائے وہ سہانے ماضی کو یاد کرتے ہوئے مستقبل کے اندیشوں کو سوچتی رہی۔اس کی سوچوں میں یشکر کی آواز نے خلل ڈالا۔ باریک دھار والا خنجر جس میں وعل کی بھنی ہوئی کلیجی کے ٹکڑے تھے اس کی جانب بڑھاتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔
” کھا لو سردار زادی۔“
غم اور دکھ انسان کے فطری تقاضوں کو ختم نہیں کر سکتے۔اسے بھی بھوک محسوس ہو رہی تھی۔اور وعل کی بھنی ہوئی لذیز کلیجی کو ٹھکرانا حماقت ہی تھی۔یشکر کی جانب دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے اس نے خنجر کو پکڑا اور رغبت سے بھاپ اڑاتی کلیجی پر ہاتھ صاف کرنے لگی۔
یشکر کلائی کے ساتھ اڑسا ہوا دوسرا خنجر نکال کر اس میں بقیہ کلیجی پرونے لگا۔بادیہ کا پیٹ بھرنے تک وہ اسے کلیجی اور پھر بھنا ہوا گوشت پیش کرتا رہا۔ وہ دو دنوں سے بھوکی تھی بغیر کسی تکلّف کے کھاتی رہی۔اس کے سیر ہونے کے بعد یشکر نے اپنا پیٹ بھرا اورپھر بقیہ گوشت بھی بھوننے لگا۔گو ہڈیوں کو پھینکنا بہتر فیصلہ نہیں تھا لیکن اس کے پاس ایسا برتن موجود نہیں تھا جس میں ہڈیوں کو پکایا جاتا۔ وہ ہڈیوں سے گوشت اتار اتار کر بھونتا رہا اور بھنے ہوئے گوشت کو چمڑے کی تھیلی میں محفوظ کرتا گیا۔
رات کو بھی انھوں نے وہی گوشت کھایا تھا۔رات کو موسم صاف ہو گیا تھا۔دن کو اچھی خاصی نیند لینے کی وجہ سے بادیہ کو نیند نہیں آرہی تھی وہ کمبل میں لپٹی کروٹیں لیتی رہی۔گو یشکر دن کو آرام نہیں کر سکا تھا لیکن آگ جلائے رکھنے کے لیے اسے بیٹھنا پڑ گیا۔اور پھر اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ کب اسے نیند آ گئی تھی۔
صبح دم آنکھ کھلنے پر اسے بادیہ نظر نہ آئی۔
”شاید تازہ دم ہونے کے لیے باہر گئی ہو۔“امکانی سوچ اس کے دماغ میں گونجی، مگر اس کے ساتھ ہی وہاں بھنے ہوئے گوشت والی تھیلی،تیر کمان و ترکش اور اوڑھنے والے کمبل کو غائب دیکھ کر اس کا ماتھا ٹھنکا اور دل بے ترتیب دھڑکنے لگا۔اچھل کر کھڑا ہوتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھا۔بادیہ کا گھوڑا بھی غائب تھا۔وہ بھاگ کر عمارت سے نکلا اور چاروں طرف نظر دوڑانے لگا ،مگر دوردور تک بادیہ کا نام نشان بھی موجود نہیں تھا۔وہ واپس کھنڈر نما عمارت میں گھسا اور جلدی جلدی سامان سمیٹنے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ عنبر کی لگام پکڑکر باہر نکل رہا تھا۔اس کی عقابی نظریں زمین پر بادیہ کے گھوڑے کے سم تلاش کر رہی تھیں۔جلد ہی اسے نشیب کی سمت جاتے ہوئے نشان نظر آگئے تھے۔
”پتا نہیں اس بے وقوف کو کیا سوجھی؟“وہ سخت پریشان تھا۔ایک لڑکی کا یوں اکیلے سفر کرنا ریگستانِ عرب میں مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔
سمت کا تعین ہوتے ہی اس نے گھوڑے کو سرپٹ دوڑا دیا۔عنبر نے دو دن خوب آرام کر لیا تھا اور اب برق رفتاری سے نشیب کی طرف بھاگتا جا رہا تھا۔نامعلوم بادیہ کس وقت نکلی تھی۔اگر رات کو یشکر کے سوتے ہی وہ نکل پڑی تھی تب تو اسے ڈھونڈنا نہایت مشکل ہو جاتا۔
گھوڑے کے سموں کے نشان اس پہاڑی درے کی جانب جاتے دکھائی دے رہے تھے جس طرف سے وہ ہوکرآئے تھے۔بادیہ کے ارادے کے بارے وہ کوئی اندازہ نہیں لگا پا رہا تھاکہ آیا وہ کہاں جانا چاہتی تھی۔اپنے قبیلے بنوجساسہ لوٹنا تو اس لیے بھی مشکل تھا کہ اب وہاں کیا بچا تھا۔وہ بنو اسد کا ارادہ بھی کر سکتی تھی کیوں کہ وہاں اس کی چچیری بہنیں ثانیہ ،وتینہ اور سلمیٰ موجود تھیں۔ان دو کے علاوہ یشکر کسی ایسی جگہ سے واقف نہیں تھا جہاں جانے کی نیت سے وہ بھاگ سکتی تھی۔اس کے بھائی بھی اب تک زندہ تھے لیکن جب تک وہ سفر سے لوٹ کر نہ آجاتے وہ ان کے پاس نہیں جا سکتی تھی۔نشیب میں پانی دریا کی طرح بہہ رہا تھا۔
(عرب میں زوردار بارش کے بعد یہی حالت ہوا کرتی ہے کہ بارش کا پانی کئی کئی روز تک آبی گزرگاہوں میں بہتا رہتا ہے۔یہ اتنا منھ زور ہوتا ہے کہ پہاڑوں سے بڑی بڑی چٹانیں تک لڑھکا کر لے آتا ہے۔عربی میں ان گزرگاہوں کو وادی کہتے ہیں اور یہ لوگوں کی آمدورفت کے لیے عمدہ شاہراﺅں کا کام دیتی تھیں کیوں کہ ان کی تہوں میں ہمیشہ پانی موجود رہتا تھا اور مسافر جذب شدہ پانی کو کھود کر نکال سکتے تھے۔اس کے علاوہ اس نمی سے وادیوں کے ارد گرد گھاس پھوس بھی خوب پھوٹا کرتا تھا)
پانی کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب تھا۔
(مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جزیرہ نما عرب ایک سطح مرتفع ہے جو مغرب سے مشرق کی طرف بتدریج ایک ڈھلوان ہے )وادی میں بہنے والا پانی اتنا تیز رفتار تھا کہ اسے عبور کرنا حد درجے مشکل نظر آرہا تھا۔وادی کے داہنے کنارے پر بادیہ کے گھوڑے کے سُمّوں کے نشان نظر آرہے تھے جو شمال کی طرف بڑھ رہے تھے۔
وہ دو تین کوس فاصلہ ہی طے کر سکا تھا کہ ایک موڑ مڑتے ہوئے اس کی نظرچار افراد پر پڑی، وہ پیدل چل رہے تھے۔ان کے انداز سے لگ رہا تھا جیسے وہ وادی کے پار جانا چاہتے ہوں مگر سیلابی ریلا ان کے ارادے میں رکاوٹ ڈالے ہوئے تھا۔یشکر کو دیکھ کر وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔یشکر بھی ان کی سمت بڑھ گیا۔قریب پہنچ کر وہ باآواز بلند بولا۔
”مشرق سے ابھرنے والا تمھاری حفاظت کرے۔“
جواب دینے کے بجائے وہ عجیب سی نظروں سے اسے گھورنے لگے۔یشکر کے پاس ان کی نگاہوں کا تجزیہ کرنے کا وقت نہیں تھاوہ بے صبری سے مستفسر ہوا۔
”کیا آپ لوگوں نے یہاں سے کسی گھڑ سوار کو گزرتے دیکھا ہے ؟“
”ہاں دیکھا ہے۔“چاروں میں نسبتاََ طویل قامت موٹے تازے نے اثبات میں سر ہلایا۔
”کتنی دیر ہوئی ہو گی ؟“
”جتنی دیر میں اونٹ علل کر لیتا ہے۔“(قدیم بدوی معاشرے میں پانی مل جانے پر اونٹوں کو زیادہ سے زیادہ پانی پلانے کے لیے یہ نفسیاتی طریقہ استعمال کیا جاتا کہ دو اونٹوں کو پہلو بہ پہلو گھاٹ پر کھڑا کرتے تھے تاکہ ایک دوسرے کو پیتا دیکھ کر زیادہ زیادہ سے پانی پی لیں۔ اس پہلی مرتبہ کی سیرابی کو ”نہل“ کہتے تھے۔بعد ازاں جب آخری دو اونٹ پینا شروع کرتے تو اولین دو اونٹوں میں سے ایک کو لا کر ان کے درمیان میں کھڑا کر دیتے تھے۔جب وہ دونوں طرف کے اونٹوں کو پانی پیتے دیکھتا تو پھر سے پانی پینا شروع کر دیتا اس دوسری مرتبہ کی سیرابی کو ”علل“ کہتے تھے۔چنانچہ ”نہل و علل“ایک بار پیا اور دو بار پیا۔ایک محاورے کی صورت اختیار کر گیا”عربی ادب قبل از اسلام “ )
”شکریہ۔“کہہ کر یشکر جانے کے ارادے سے مڑا۔
”ٹھہرو۔“قوی الجثہ نے زوردار آواز میں پکارا۔یشکر رک کر حیرانی سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”تم نے معلومات پوچھی ہیں اور اس کا معاوضا نہیں دیا۔“
یشکر ہنسا۔”پوچھی ہیں، خریدی تو نہیں۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”مگر میں نے تو فروخت کی نیت سے معلومات دی ہیں اور معاوضے میں یہ کمیت میرا ہوا۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کندھے سے لٹکی کمان اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی۔اور یہ یشکر کے لیے واضح دھمکی تھی کہ اگر اس نے بھاگنے کی کوشش کی تو وہ تیر چلانے سے دریغ نہیں کرے گا۔
”ایک معلومات میں بھی دے دیتا ہوں ،مقدس آگ کی قسم جسے تم نہیں پوجتے ،مجھ سے پنگا لے کر تم نقصان اٹھاﺅ گے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کندھے اچکائے۔”حساب برابر۔“
وہ استہزائیہ ہنسی سے بولا۔”بہت خطرنا ک ہو۔“
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”میں تو نہیں ،البتہ میری تلوار خاصی خطرناک ہے۔“
”اس سے بھی ؟“قوی الجثہ نے ایک لمبی تلوار اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائی۔ یشکر نے ایک نظر میں دیکھ لیا تھا کہ اس کی تلواربڑی ضرور تھی مگر اس میں وہ مضبوطی مفقود تھی جو یشکر کی تلوار میں تھی۔ وہ فالتو وزن اٹھانے والی بات تھی۔اس کے تینوں ساتھی اشتیاق سے ان کا مکالمہ سن رہے تھے۔معلوم یہی ہو رہا تھا کہ قوی الجثہ ان کا سرغنہ تھا۔
”میرا خیال ہے، ہمارا ایک دوسرے سے تعرض کےے بغیر چلے جانا مناسب رہے گا ؟“
سرغنہ ہنسا۔”ڈر گئے۔“اس کے تینوں ساتھیوں کے قہقہے نے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
”ڈرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔“نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ چھلانگ لگا کرنیچے اترا۔اس کا مدمقابل پیدل تھا۔ اور دوران لڑائی وہ اس کے گھوڑے کو زخمی کر سکتا تھا۔
یشکرقد آور نوجوان تھا۔لیکن سرغنہ کا قد اس بھی نکلتا ہوا تھا۔اس کا جسم فربہی مائل تھا اوراس کے تیئں یہ صحت مند ہونے کی علامت تھی۔وہ تلوار سونت کر بولا۔
”میرے گھوڑے سے اتر کر تم نے عقل مندی کا ثبوت دیا ہے۔“
یشکر بولا۔”مگر لڑائی کی ابتداءکر کے تم حماقت کا ثبوت دے رہے ہو۔اور جب تک تمھاری سمجھ میں یہ بات آئے گی غلطی سدھارنے کا موقع تمھارے ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔“
”مجھے ڈینگیں مارنے والے بہت برے لگتے ہیں،جن کے پاس صرف کھوکھلے الفاظ ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد تم کسی کے سامنے ڈینگ نہیں مار سکو گے۔“
”مگر میں ایسا کوئی وعدہ نہیں کر سکتا جس میں تمھارے زندہ بچ جانے کا امکان ہو۔“یہ کہتے ہی یشکر نے صاعقہ کو باہر نکالا اور نیام کو لپیٹ کر بائیں ہاتھ میں پہن لیا۔
تلوارکے بے نقاب ہوتے ہی سرغنہ منھ سے زوردار آواز نکالتے ہوئے یشکر پر حملہ آور ہوا۔ یشکر نے صاعقہ سامنے کر کے اس کا زوردار وار سہارا۔سرغنہ پیچھے ہٹ کر دوبارہ حملہ آور ہوا مگر اس وقت تک یشکر اپنی جگہ سے ہٹ چکا تھا۔ وار خطا ہوتے دیکھ کر سرغنہ پینترا بدل کر تابڑ توڑ حملے کرنے لگا۔ اس کے حملوں میں تیزی آتی دیکھ کر بھی یشکر کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ وہ آرام سے اس کے حملے روکتا رہا۔جلد ہی سرغنہ ہانپنے لگا تھا۔جبکہ یشکر کے ماتھے پر نظر آنے والی پسینے کی چند بوندیں ہی یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ وہ شمیشر زنی جیسا پرمشقت کام کر رہا ہے۔سرغنہ کو سست پڑتا دیکھ کراس نے چڑھائی شروع کر دی۔سرغنہ بہ مشکل دو تین وار ہی سہار سکا تھاکہ اس کی تلوار دو ٹکڑوں میں بٹ گئی۔
اس نے جلدی سے ٹوٹی ہوی تلوار پھینک کر ہاتھ بلند کرنے کی کوشش کی مگراس وقت تک صاعقہ ، اس کے چہرے پر گہری خراش ڈال چکی تھی۔گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے وہ ہاتھ بلند کر کے چلایا۔
”سس…. سمجھ میں آ گیاہے مجھے مقابلہ نہیں کرنا چاہےے تھا۔“
یشکر نے منھ بنا کر کہا۔”عقل آنے کے لےے شکل بگڑنے کا انتظار ضروری تھا۔“
”مم….مجھے معاف کر دو۔“وہ ہکلایا۔
صاعقہ کی نوک سرغنہ کی گردن سے لگی تھی۔سرغنہ ترحم آمیز نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔اس کے تینوں ساتھی بھی خاموش کھڑے اس ہولناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔اس نے ذرا سا زور دیا تلوار کی نوک سرغنہ کی گردن کے نرم گوشت میں گھسنے لگی تھی۔سرخ خون قطروں کی صورت میں رستا ہوا گردن پر لکیر بناتا ہوا نیچے آنے لگا۔ایک دو لمحہ ٹھہر کر اس نے صاعقہ کو نیام میں بند کیا اور ایک زور دار لات سرغنہ کی چھاتی میں رسید کرتے ہوئے غرایا۔
”کہا تھا نا مجبور نہ کرو۔“
سرغنہ الٹ کر پیچھے جا گرا اور وہیں لیٹا رہا۔
”اب سچ سچ بتاﺅ کیا تم نے واقعی ایک گھڑسوار ہو یہاں سے گزرتے دیکھا تھا۔“
”ہاں۔“اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اس نے منھ میں بھری ریت ایک جانب تھوکی۔”اس وقت ہم ٹیلے کی بلندی سے نیچے آرہے تھے جب وہ یہاں سے گزرا ،بلکہ میرے اندازے کے مطابق وہ کوئی عورت تھی۔فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم اسے روک نہیں سکے تھے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے سرغنہ کے تینوں ساتھیوں پر نگاہ ڈالی جو مرعوبیت سے یشکر کو گھور رہے تھے۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر وہ عنبر کے قریب ہوا ،لگام تھام کر وہ جست لگا کر گھوڑے پر بیٹھا اور مطلوبہ سمت کو بڑھ گیا۔
٭٭٭
خیمے کے اندر سے دو آدمیوں کے بولنے کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔ شاید اندر دو آدمی ہی موجود تھے یا شاید بولنے والے دو تھے باقی انھیں سن رہے تھے۔اپنی ٹولی کے تینوں مردوں کو اس نے اشارے سے خیمے کی عقبی جانب بھیجا اور خود سامنے سے اندر گھسنے کے لیے تیار ہو گئی۔وہ تینوں دبے قدم اٹھاتے ہوئے عقبی جانب پہنچے۔انھیں خیمے کے عقبی دروازے کے قریب پہنچتے دیکھ کر وہ بے دھڑک دروازے کا پردہ اٹھا کر اندر داخل ہوئی۔خیمے میں تین مرد موجود تھے۔ایک لیٹا ہوا تھا اور اس کے بھاری سانس ظاہر کر رہے تھے وہ گہری نیند میں تھا۔جبکہ باقی دو ہاتھوں میں آب خورے تھامے گفتگو کے ساتھ شراب سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔قُتیلہ کو آندھی و طوفان کی طرح اندر گھتے دیکھ کر وہ ہڑا بڑا گئے تھے۔
”کک….کون….کیا ….“جیسے چند بے معنی الفاظ ان کے ہونٹوں سے ادا ہوئے۔ ان کے سنبھلنے تک قُتیلہ حملہ کر چکی تھی۔اس نے دونوں کی گردنوں کو نشانہ بنایا تھا تاکہ وہ چیخ نہ سکیں۔گردنوں کو ہاتھوں سے دبا کر وہ خرخراتے ہوئے تڑپنے لگے۔ان کی اچھل کود سے ان کا سویا ہوا ساتھی جاگ گیا تھا۔ لیکن جب تک اس کی سمجھ میں کوئی بات آتی قُتیلہ اسے بھی ساتھیوں کے پاس بھیج چکی تھی۔اس دوران قُتیلہ کے ساتھی بس خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے تھے۔
”ان کی تلواریں اٹھا لو۔“انھیں حکم دیتی ہوئی وہ سرعت سے باہر نکلی۔ساتھ والے خیمے سے ایک گھٹی گھٹی چیخ نکلی تھی ،لیکن چیخ اتنی بلند نہیں تھی کہ کوئی توجہ دیتا یا پھر وہ اسے قیدیوں کی چیخ سمجھے ہوں گے۔قُتیلہ کا رخ سردار کے خیمے کی طرف تھا اس کی ٹولی کے مرد دوڑ کر اس کے ساتھ ملنے کی کوشش کر رہے تھے۔ملکان بن نول اور قریب وغیرہ کی ٹولیاں اپنا کام ختم کر کے باقی خیموں کی جانب بڑھ چکے تھے۔اس بار خیموں میں گھستے ہوئے انھوں نے خاموشی کو توڑ دیا تھا۔
سردار کے خیمے میں داخل ہوتے ہی قُتیلہ کو وہ شراب سے دل بہلاتا نظر آیا۔قُتیلہ کے داخلے کے ساتھ ہی اس کے کانوں میں مختلف ٹولیوں کی غیض و غضب میں بھری آوازیں اور اپنے ساتھیوں کی دردناک چیخیں پہنچیں۔آخری خیموں کو نشانہ بناتے وقت انھوں نے احتیاط کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ ملکان بن نول اور اس کے ساتھیوں سے زیادہ قیدی بپھرے ہوئے تھے۔ یقینا بنو ضبع والوں نے جو قتل و غارت ان پر مسلط کی تھی اس کا جواب دینے کا وقت آگیا تھا۔ وہ شور و غوغا سنتے ہی رزاح بن اسد اچھل کر کھڑا ہوگیا تھا۔
تلوار کی نوک اس کی گردن سے لگاتے ہوئے وہ بے رحمی سے بولی۔ ”رزاح بن اسد ،کہا تھا ناں قُتیلہ کو چھیڑنے والوں کو قتل ہونا پڑتا ہے۔“
حیرانی رزاح بن اسد کے چہرے پر جیسے ثبت ہو گئی تھی۔وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے خاموش رہا تھا۔
”اس کے ہاتھ باندھ دو۔“قُتیلہ اپنے ساتھیوں کو بولی جو کینہ توز نظروں سے رزاح بن اسد کو گھور رہے تھے۔
قُتیلہ کا حکم ملتے ہی تینوں مرد وں نے جھپٹ کر اسے جکڑ لیا تھا۔اس کی مشکیں کس کر وہ اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔قُتیلہ خیمے کے کونے میں پڑی اپنی تلوار اورخنجر وغیرہ اٹھا کر باہر نکل آئی۔ سردار رزاح اور اس کے بھائی کلاب کے علاوہ تمام بنو ضبع والوں کا صفایا ہو چکا تھا۔قُتیلہ تمام کو لے کر بڑے خیمے میں آگئی تھی۔ قریب اور عامر کو پہرے داری پر مقرر کر کے وہ قیدیوں سے ان کی کہانی سننے لگی۔
قیدیوں کا تعلق ایک چھوٹے سے خانہ بدوش قبیلے بنو قیشرہ سے تھا۔جس کی تعداد پچاس ساٹھ افراد سے بڑھ کر نہیں تھی۔ان کا ذریعہ معاش گلہ بانی تھا۔دو دن پہلے ہی رات کے وقت ان کے قبیلے پر بنو ضبع کے حملہ آور قیامت بن کر ٹوٹے تھے۔اس حملے میں بس چودہ مرد اور پانچ جوان لڑکیاں ہی باقی بچی تھیں اس کے علاوہ انھوں نے تمام کو تہہ تیغ کر دیا تھا۔اور اب ان کے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور انیس افراد کو پکڑ کر وہ بنو ضبع واپس جا رہے تھے۔ ان کی بدقسمتی کہ دن گزارنے کے لیے انھوں نے وہاں خیمے گاڑے۔پھر قُتیلہ اور اس کے ساتھیوں پر قابو پانے کے بعد وہ اپنے قبیلے کی سمت بڑھ جاتے تو شاید صورت حال کچھ اور ہوتی لیکن رزاح بن اسد کا دل پرکشش قُتیلہ پر آگیا تھااور اس کے قرب کے حصول میں اسے ایک رات کی فرقت بھی گوارا نہیں تھی۔یہی ہوس اسے اور اس کے ساتھیوں کو لے ڈوبی تھی۔ اس کے اڑھائی درجن کے قریب ساتھی ہلاک ہو چکے تھے۔بس سردار اور اس کا بھائی اپنے انجام کے منتظر تھے۔
”اب تم لوگوں کا کیا ارادہ ہے ؟“بنو قیشرہ والوں کی الم ناک کہانی سنتے ہی وہ مستفسر ہوئی۔
”ہم تو تباہ و برباد ہو چکے ہیں ہمارے مرد ،عورتیں بچے ،بوڑھے سب کو ان ظالموں نے قتل کر ڈالا۔
قُتیلہ بے پروائی سے بولی۔”مرنے والوں کا بدلہ لیا جا چکا ہے،باقی بچ جانے والوں کا سوچو۔“
وہ جھجکتے ہوئے بولا۔”اگر آپ ہمیں اپنے قبیلے میں رکھ لیں ؟“
وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔”قُتیلہ عورت ذات ہے ، تم لوگوں کو ایک عورت کی سرداری پر اعتراض تو نہیں ہو گا ؟“
اس سے بات چیت کرنے والا اصرم بن خسار جلدی سے بولا۔”سواع کی قسم ،آپ ہمارے لیے رحمت کی دیوی بن کر نمودار ہوئیں۔آپ کی سرداری پر کسی کم ظرف ہی کو اعتراض ہو سکتا ہے۔“
قُتیلہ متبسم ہوئی۔”باقیوں سے پوچھ لو۔“
تمام بنو قیشروالے بیک زبان بولے۔”ہمیں قُتیلہ بہ طور سردار قبول ہے۔“
”تو قُتیلہ تمھیں بنو طرید میں خوش آمدید کہتی ہے اورقُتیلہ کا قبیلہ بس تم لوگوں پر مشتمل ہے۔“
اصرم بن خسار ہکلایا۔”مم ….میں سمجھا نہیں ؟“
”اصرم بن خسار ،ہم سب دھتکارے ہوئے لوگ ہیں اور اپنی دنیا ہم نے خود تعمیر کرنی ہے۔ بس اپنی سردار قُتیلہ پر بھروسا رکھو تمھیں سر جھکا کر نہیں جینا پڑے گا۔“
”آپ ہماری سردار نہیں ملکہ ہیں اور ہم ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہیں آج اور مرتے دم تک۔“
”آج اور مرتے دم تک ….“بنو قیشرہ کے باقی مردو زن نے ہم زبان ہو کر نعرہ بلند کیا۔
”شکریہ اصرم بن خسار ،قُتیلہ کو تمھارا دیا ہوا لقب پسند آیا آج سے قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ کہا جائے۔“
”ہم بھی ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہیں۔“ملکان بن نول نے ہاتھ بلند کر کے زوردار آواز میں کہا۔ قُتیلہ خوش دلی سے مسکرا دی تھی۔
تھوڑی دیر بعد وہ قُتیلہ کے حکم پر بنو ضبع کی لاشوں کو ٹھکانے لگا رہے تھے۔تمام کو گھسیٹ کر انھوں نے ایک بڑے گڑھے میں پھینکا اور اوپر ریت ڈال دی تھی۔
رات گزارنے کے لیے اس نے اپنے لیے سردار کے خیمے کا انتخاب کیا تھا۔اور پھردو آدمیوں کو پہرے داری پر مقرر کر کے اس نے باقی آدمیوںکو سونے کی اجازت دے دی تھی۔
اگلے دن کا سورج ایک عجیب منظر دیکھ رہا تھا۔کلاب اور رزاح دونوں بھائیوں کو قُتیلہ کے حکم پر دوایسے درختوں کے تنوں سے باندھ دیا گیا تھاجو قریب قریب تھے۔
”سردارزادی ،بنو ضبع والے بدلہ لیں گے۔“خوفزدہ ہونے کے باوجود رزاح دھمکی دینے سے باز نہیں آیا تھا۔
وہ شوخی سے بولی۔”رزاح بن اسد میرا نام ملکہ قُتیلہ ہے۔جب ملکہ قُتیلہ صرف قُتیلہ تھی تب بھی کسی سے خوف نہیں کھاتی تھی آج تو اس کے پاس پورا لشکر موجود ہے۔“
کلاب کی طنزیہ آواز ابھری۔”ہونہہ لشکر ،چند گڈریوں کو آپ لشکر گردان رہی ہیں۔“
وہ استہزائی مسکراہٹ سے بولی۔”انھی چند گڈریوں نے تمھارے تین درجن شہ سواروں کو وہاں بھیج دیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔“
رزاح نے حقارت سے نیچے تھوکا۔”سب کچھ انھوں نے تمھاری مدد سے کیا ہے،ورنہ ان گڈریوں کی اتنی جرّات کہ بنو ضبع کے کسی فرد پر ہاتھ اٹھاتے….“
”تو ملکہ قُتیلہ کی مدد تو انھیں آگے بھی حاصل رہے گی۔“
” خون بہا لے کر ہمیں چھوڑ دو اور اس کے ساتھ بنو ضبع میں آپ کو ٹھکانہ بھی مل جائے گا۔“ رزاح نے فراخ دلی سے پیش کش کی۔
قُتیلہ نے زہر خند لہجے میں مشہور کہاوت دہرائی۔” تجھ سے ازسرِ نو کیسے معاملہ کیا جائے کہ تیری کلھاڑی کا نشان سامنے نظر آرہا ہے۔“(عرب کسی شخص کی بدعہدی پر عدم اعتماد ظاہر کرنے کے لیے بولتے تھے۔اس ضمن میں ایک کہانی مشہور تھی کہ دو بھائی تھے ان کا علاقہ خشک سالی کے سبب بے آب و گیاہ ہو گیا تھا۔ان کے قریب ہی ایک شاداب وادی تھی جہاں ایک سانپ کا پہرہ تھا۔ایک بھائی ،دوسرے بھائی کے منع کرنے کے باوجود ریوڑ کو لے گیا۔کچھ عرصہ تو وہ ریوڑ کو چراتا رہا پھر ایک دن سانپ نے اسے ڈس لیا جس کے نتیجے میں وہ مر گیا۔دوسرا بھائی آتش انتقام میں بھرا ہوا اس وادی میں آیا۔سانپ نے اسے کہا۔”کیا تم صلح کرنا پسند کرو گے ،تمھیں اس وادی میں رہنے کی اجازت ہو گی اور جب تک میں زندہ رہوں گا تمھیں روزانہ ایک دینار بھی دوں گا۔“ وہ شخص راضی ہو گیا۔سانپ نے وعدے کے مطابق اسے دینار دیتا رہا یہاں تک کہ وہ خوب خوشحال ہو گیا۔تب اسے بھائی کی یاد آئی۔اور اس نے سوچا کہ زندگی کا کیا فائدہ کہ بھائی کے قاتل کو آنکھوں کے سامنے دیکھتا رہوں۔ چنانچہ اس نے کلھاڑی خریدی اور سانپ کی تاک میں رہا۔ایک دن موقع پر اس نے سانپ پر حملہ کر دیا مگر بدقسمتی سے کلھاڑی اچٹ کر بل کے باہر ایک چٹان پر لگی اور نشان پڑ گیا۔ سانپ نے دینار دینا بند کر دیا۔پھر اسے ندامت ہوئی اور ساتھ سانپ کا خوف بھی ہوا۔تب اس نے بل کے باہر کھڑے ہو کر سانپ کو کہا۔ ”کیا تو پسند کرتا ہے کہ ہم پھرمعاہدہ کر کے جیسے تھے ویسے ہو جائیں۔“ اس پر سانپ نے یہ الفاظ کہے جو ضرب المثل بن گئے”یعنی تجھ سے ازسرِ نو کیسے معاملہ کیا جائے کہ تیری کلھاڑی کا نشان سامنے نظر آرہا ہے۔“ )
”ملکہ قُتیلہ ،آپ رزاح کو بد عہد نہیں پائیں گی۔“رزاح جان بچانے کے لیے منتوں پر اتر آیا تھا۔
وہ تدبر سے بولی۔”بنو نسر کا سردارجبلہ بن کنانہ کہا کرتا تھا ”قُتیلہ ! جب تو سانپ کی دم کاٹ لے توفہم کا تقاضا ہے کہ اس کے سر کا بھی وہی حال کر جو اس کی دم کا کیا ہے۔“
”اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے میں معافی کا خواست گار ہوں۔“
اس کے باریک ہونٹوں پر زہر خند تبسم نمودار ہوا۔”تمھیں شاید بھول گیا ہے کہ ،ملکہ قُتیلہ کو چھیڑنے والے کی پہلی غلطی ہی آخری غلطی ثابت ہوتی ہے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ وہاں کھڑے مردو زن کی طرف متوجہ ہوئی۔
”یاد رکھنا ،جب تک ریوڑ کی حفاظت کرنے والا بھیڑیے سے طاقتور نہیں ہو گا وہ اپنی ذمہ داری خاطر خواہ طریقے سے سرانجام نہیں دے سکے گا۔زندہ رہنے کا حق صرف اسے ہوتا ہے جسے زندہ رہنا آتا ہو۔کیوں کہ جنگل کا بادشاہ شیر طاقتور ہونے کے باوجود انھی جانوروں کو شکارکرنا پسند کرتا ہے جو مزاحمت نہ کر سکتے ہوں۔صحرائے اعظم کی مثال بھی جنگل کی سی ہے۔تم لوگوں نے اگر صحرائے اعظم میں زندہ رہنا ہے تو مزاحمت کرنا سیکھنا ہوگا۔مُکّے کا جواب اگر خنجر کے وار سے نہیں دے سکتے تو کم از کم جوابی مُکا ضرور مارنا ہوگا۔اور آج سے ملکہ قُتیلہ تمھیں سکھائے گی کہ دو ٹانگوں والے درندوں سے کیسے نبٹا جاتا ہے۔ کیا تم تیار ہو؟“
”ہم تیار ہیں۔“تمام نے جوش بھرے لہجے میں جواب دیا تھا۔
”ملکان بن نول ،ان دونوں کے سر پر شَپّا (تیر اندازوں کا ہدف)رکھ دو۔
”جی ملکہ۔“کہہ کر ملکان بن نول نے دو کپڑے گول لپیٹ کر ایک کلاب کے سر پر اور دوسرا رزاح کے سر پر رکھ دیے۔ان کے چہرے خوف سے زرد پڑ گئے تھے۔ دونوں آنکھوں میں رحم کی بھیک لیے قُتیلہ کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ پتھر دل لڑکی رحم کرنا جانتی ہی نہیں تھی۔وہ بے نیازی سے اپنی کارروائی میں مصروف تھی۔
کمان کے چلے میں تیر ڈالتے ہوئے وہ ملکان کو مخاطب ہوئی۔”ملکان ،کیا تم ملکہ قُتیلہ سے مقابلہ کرنا چاہو گے۔“
وہ اعتماد سے بولا۔”ملکہ ،میں بہت اچھا تیر انداز ہوں اور امید ہے جیت میرے حصے میں آئے گی۔“
قُتیلہ خوش دلی سے مسکرائی۔”چلو پھر کمان سنبھالو۔“
ملکان بھی تیر کمان سنبھال کر میدان میں آگیا تھا۔ رزاح اور کلاب کی ٹانگیں لرزنا شروع ہو گئی تھیں۔
کلاب گڑگڑایا۔”میں ملکہ قُتیلہ سے رحم کی درخواست کرتا ہوں۔“
”کلاب کہا تھانا ایک دن تم تمنا کرو گے کہ کاش ملکہ قُتیلہ رحم دل ہوتی۔پر ایسا نہیں ہے۔“یہ کہتے ہی اس نے چلّہ کھینچ کر تیر چھوڑ دیا تھا۔تیر کلاب کے سر پر رکھے شَپّا میں گزر کر درخت کے تنے میں پیوست ہو گیا تھا۔
تمام نے تحسین آمیز نعرہ بلند کیا۔وہ ملکان کو مخاطب ہوئی۔
”تمھاری باری۔“
ملکان نے دو تین لمحے شست لے کر چلہ چھوڑا اور تیر شَپّا سے ہاتھ بھر اوپر درخت کے تنے میں پیوست ہو گیا تھا۔
ملکان کھسیانی مسکراہٹ سے بولا۔” میرا خیال ہے آپ کاتیر بھی اتفاق ہی سے نشانے پر لگا ہے۔“
اسے جواب دینے کے بجائے قُتیلہ نے تیز رفتاری سے دو تیر چلائے ،ایک تیر رزاح کے سر پر رکھے شَپّا میں جبکہ دوسرا سے پہلے چلائے ہوئے تیر کے ساتھ پیوست ہو گیا تھا۔
ایک اور تحسین آمیز نعرہ بلند ہوا۔وہ ملکان بن نول کی طرف متوجہ ہوئی۔”اگر ملکہ قُتیلہ پورا ترکش خالی کر دے تو بھی ایک تیر ہدف سے باہر نہیں لگے گا۔“
ملکان نے سر جھکاتے ہوئے عقیدت مندی سے کہا۔”مجھے اپنی ملکہ کی صلاحیتوں پر فخر ہے۔“
”اصرم بن خسار ،تمھاری باری۔“قُتیلہ نے کمان اس کی طرف بڑھائی۔
اس نے جھجکتے ہوئے کمان پکڑی۔”ملکہ ،میرا نشانہ اتنا بہتر نہیں ہے۔“
”تو نشانہ مشق سے بہتر ہو گا۔“وہ سفاکی سے بولی۔”اور ہدف سامنے موجود ہے۔“
اصرم نے سرہلاتے ہوئے نشانہ باندھا چلہ چھوڑتے ہی تیر کلاب کی جانب بڑھا اور پھر فضا میں کلاب کی تیز کراہ ابھری تھی تیر اس کے دائیں کندھے میں پیوست ہو گیا تھا۔
”شاباش۔“قُتیلہ نے تالی بجائی۔”تمھیں ایک اور موقع دیا جاتا ہے۔“
اصرم نے دوبارہ کوشش کی۔دوسری مرتبہ تیر کلاب کی ٹانگ میں پیوست ہوا تھا۔وہ بے چارہ اتنی مضبوطی سے بندھا تھا کہ صحیح طریقے تڑپ بھی نہیں سکتا تھا۔
اس کی تکلیف سے بے نیاز قُتیلہ نے قہقہ لگایا۔”امید ہے بھاگتے ہوئے دشمن کو زخمی کرنے میں کامیاب ہو جاﺅ گے۔“
باقی تمام بھی ہنسنے لگے تھے۔لڑکیاں البتہ زخموں سے کراہتے کلاب کی حالت پر بے اطمینانی محسوس کرنے لگیں تھیں کہ صنف نازک طبعاََ رحم دل اور ہمدرد ہوتی ہیں اور کسی کو تکلیف میں دیکھنا انھیں پریشان کر دیتا ہے۔ گو قُتیلہ بھی لڑکی تھی لیکن اس میں ایسے جذبات مفقود تھے۔ وہاں سب سے زیادہ وہی لطف اندوز ہو رہی تھی۔
اصرم کے بعد وہ باری باری تمام کو بلا کر تیر چلواتی گئی ، کسی کا تیر ہوا میں نکل گیا کسی کا تنے میں پیوست ہوا کسی کا نشانہ کلاب یا رزاح کا جسم بنا۔وہ چیختے رہے ، گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ ایک کے ماتھے اور دوسرے کے دل میں پیوست ہونے والے تیروں نے انھیں اس اذیت سے نجات دلا دی تھی۔
ان کے مرنے کے بعد قُتیلہ تمام کو تیر اندازی کے بارے اہم باتیں بتانے لگی۔وہ بھی شوق سے سیکھ رہے تھے۔انھیں سمجھانے کے ساتھ ساتھ وہ عملی نمونہ بھی پیش کر رہی تھی۔اور ہدف کے لیے رزاح اور کلاب کی لاشیں کام آرہی تھیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: