Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 22

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 22

–**–**–

یشکر غافل ہو کر سو گیا تھا۔لیکن بادیہ کی نیند غائب تھی۔کوشش کے باوجود وہ سونے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔وہ سوچوں میں کھوئی کروٹیں بدلتی رہی۔ سہانے ماضی ،حال کی آزمائشیں اور مستقبل کے اندیشے اس کے دماغ میں سرسرا رہے تھے۔بہت زیادہ سوچنے کے باوجود وہ کسی واضح فیصلے پرنہیں پہنچ پا رہی تھی۔ صبح صادق کے وقت اس نے یشکر کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ایک عجمی غلام کسی صورت میں قابل اعتبار نہیں تھا۔ اس کا ارادہ بنو اسد میں اپنی چچا زاد بہن ثانیہ کے پاس جانے کا ہو گیا۔ ان حالات میں بنو اسد سے بہترین ٹھکانہ کوئی نہیں تھا۔بجائے یشکر کے ساتھ دردر کی خاک چھاننے کے اسے ایک جگہ رہ کر بھائیوں کا انتظار کرنا مناسب معلوم ہوا۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ یشکر نے اسے ہر حال میں روکنے کی کوشش کرنا تھی اسی لیے وہ اس سے اجازت لیے بغیر روانہ ہوگئی۔وعل کا بھنا ہوا گوشت اور یشکر کی کمان اور ترکش اپنے ساتھ لے جانا وہ نہیں بھولی تھی۔ٹوٹی ہوئی عمارت سے نکلتے ہی اس نے رکاب میں پاﺅں ڈالا اور جم کر زین پر بیٹھتے ہوئے نشیب میں اترنے لگی۔
بنو اسد ان کے قبیلے سے شمال کی سمت میں واقع تھا۔یشکر نے بنو جساسہ سے نکلتے وقت جنوب مشرق کا رخ کیا تھا اس لیے وہ شمال مغرب کی سمت اختیار کر کے بنو اسد پہنچ سکتی تھی۔اپنے باپ اور چچا کی معیت میں اسے چند بار بنو جساسہ سے باہر جانے کا اتفاق ہوا تھا،لیکن وہ کبھی اکیلی اپنے قبیلے سے نہیں نکلی تھی۔وہ بہادر تو تھی مگر قبیلے کی حد تک۔اس وقت اندھیرے میں اسے کافی خوف محسوس ہورہا تھا۔ ایک بار تو اس کا جی چاہا کہ یشکر کے پاس لوٹ جائے۔وہ جیسا بھی تھا کم از کم اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔مگر پھر عربی ہونے کا فخرو غرور اس کے پاﺅں کی بیڑی بن گیا۔ ایک عجمی سے مدد لینا اسے گوارا نہیں تھا۔دور ہی سے اس کی سماعتوں میں پانی بہنے کا تیز شور گونجنے لگا۔ درہ عبور کرتے ہی اسے ملگجے اندھیرے میں وادی دریا کی صورت بہتی نظر آئی۔وادی کو عبور کرنے کے خیال ہی سے اسے جھرجھری آگئی تھی۔ وہ وادی کے کنارے کنارے درمیانی رفتار سے گھوڑادوڑتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔
طلوع آفتاب کے بعد سورج کا سفر شروع ہوگیا۔تین چار دنوں بعد بادلوں کی قید سے رہائی پانے والا سورج خوب قہر برسا رہا تھا۔مگر وہ سایہ دار درختوں کی پناہ نہ لے سکی۔اسے معلوم تھا کہ اس کے غائب ہونے کے بارے علم ہوتے ہی یشکر نے اس کے تعاقب میں چل پڑنا تھا اور اس کی آمد سے پہلے وہ کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ لینا چاہتی تھی۔اسے زیادہ دیر سورج سے نبرد آزما نہیں ہونا پڑا تھا۔چند آواہ بدلیوں نے مشرق سے سر ابھارا اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تھوڑی دیر پہلے قہر برسانے والے سورج کا دور دور تک نام و نشان بھی موجود نہیں تھا۔بادلوں کی آمد کے ساتھ ہلکی ہلکی ہوا بھی چلنے لگی تھی۔بادیہ کی گردن پر دھاروں کی صورت میں بہتا ہوا پسینہ لمحوں میں خشک ہو گیا تھا۔ موسم کی اس کروٹ نے اس کاپر صعوبت سفر آسان کر دیا تھا۔دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے وہ آگے بڑھتی گئی۔دوپہر ڈھلے ریت کا ایک بڑا ٹیلا عبور کرنے کے لیے وہ ٹیلے کی بلندی پر پہنچی۔اسے پیاس محسوس ہو رہی تھی۔پانی کے مشکیزے کی طرف ہاتھ بڑھانے سے پہلے اس نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔کوس ڈیڑھ کوس کے فاصلے پر اسے ایک گھڑسوار اس طرف بڑھتا دکھائی دیا۔پانی پینے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس نے لگام کو جھٹکا دیا اور گھوڑا ٹیلے سے نیچے اترنے لگا۔اس بار اس نے گھوڑے کی رفتار پہلے سے تیز رکھی تھی۔یشکر کو دھوکا دینے کے لیے اس نے ٹیلے سے اترتے ہی گھوڑے کا رخ شمال کی جانب موڑ دیا تھا۔ اس کا ارادہ وادی کے کنارے سے دورہٹنے کا تھا وہ کسی صورت یشکر کے ہاتھ نہیں آنا چاہتی تھی۔
مگر یہ اس کی بھول تھی کہ وہ یشکر کو دھوکا دے لے گی۔وہ بگولے کی رفتار سے گھوڑا بھگاتا ہوا اس کے قریب آتا جا رہا تھا۔اب اس کا فاصلہ آدھے کوس سے بھی کم رہ گیا تھا۔دو ٹیلوں کے درمیانی خلا سے گزر کر وہ جونھی آگے بڑھی اس کی نظریں گھاس پھونس کی جھونپڑیوں اور خیموں پر پڑی۔وہ بدو قبیلہ اسے غیبی امداد لگا تھا۔وہ اسی سمت بڑھ گئی۔سورج مغرب کی سمت کافی جھک چکا تھا۔وہاں اسے نہ صرف یشکر سے چھٹکارا مل جاتا بلکہ رات گزارنے کا ٹھکانہ بھی میسر آجاتا۔
سب سے پہلے اس کی مڈبھیڑ ایک ادھیڑ عمر مرد سے ہوئی تھی جو بھیڑ بکریوں کو ہانک کر ایک باڑے میں داخل کر رہا تھا۔بادیہ کو دیکھتے ہی وہ اس کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔
”چچا جان !میں مسافر ہوں۔کیا آپ قبیلے کے سردار تک میری رہنمائی کر سکتے ہیں۔“
”وہ سامنے بڑا مکان سردار قبیلہ کا ہے۔“اس نے گھاس پھونس کی ایک بڑی جھونپڑی کو مکان کا نام دیا۔جس کی دیواروں کو باہر سے نرم کیچڑ سے لیپا پوتا گیا تھا۔
وہ سر ہلاتے ہوئے اس جانب بڑھ گئی۔سردار اپنی وسیع جھونپڑی کے باہر بنے ہوئے ایک چبوترے پر احتباءکیے بیٹھا تھا۔ (عرب بے تکلفی کے انداز میں ایک چادر پنڈلیوں اور کمر کے گرد کس کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ گویا بغیر کسی سہارا کے ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ یہ انداز احتباءکہلاتا تھا )اس کے سامنے قبیلے کے کافی مردموجود تھے۔وہ شاید کسی خاص موضوع پرگفتگو کر رہے تھے۔بادیہ کے قریب پہنچنے پر وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
”آپ تمام پر عزیٰ برکتیں نازل کرے۔“چبوترے کے سامنے گھوڑا روکتے ہوئے اس نے سلام ڈالا۔
”کون ہو لڑکی اور بنو جمرہ میں تمھارا کیا کام ؟“سردار یا کسی دوسرے نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا تھا۔
وہ گھوڑے سے نیچے اترتے ہوئے بولی۔”میرا تعلق بنو جساسہ سے ہے اور میں پناہ کی تلاش میں آپ کے پاس آئی ہوں۔ایک عجمی غلام میرا پیچھا کر رہا ہے۔“
”تمھیں عجمی غلام سے پناہ دی جاتی ہے۔ویسے وہ اس وقت ہے کہاں؟“سردار کا سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی یشکر بستی میں پہنچ گیا تھا۔
”وہ میرے تعاقب میں تھا۔“یہ کہتے ہوئے بادیہ نے اپنے آنے کی سمت نگاہ دوڑائی یشکر گھوڑے پر سوار ہو کر اسی جانب بڑھتا آرہا تھا۔”وہ رہا۔“بادیہ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔
اس دوران یشکر قریب پہنچ گیا تھا۔
”تمھاری شام سلامتی والی ہو۔“قریب پہنچتے ہی یشکر با ٓواز بلند بولا تھا۔
قبیلے کے سردار نے درشت لہجے میں پوچھا۔”جوان ،تم کیوں اس لڑکی کاپیچھا کر رہے ہو؟“
”معزّز سردار، رشتے میں یہ میری چچازاد ہے اور میں اس کی حفاظت کی غرض سے اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہ رہا ہوں۔صحرائے اعظم میں یہ اکیلی کسی مصیبت میں پھنس جائے گی۔“
سردار طنزیہ لہجے میں بولا۔”یہ تمھیں عربی ہی نہیں مان رہی اور تم اس کے چچازاد بننے کی کوشش میں ہو۔“
”میں اس کے چچا کا منھ بولا بیٹا ہوں سردار،اور یقینا چچا کا بیٹا چچازاد ہی کہلاتا ہے۔“
”یہ چچا کا غلام تھا۔اس نے آزاد کر کے اپنا بیٹا ضرور بنا لیا مگر اس کی وجہ سے ہمارے قبیلے پر ایسی تباہی ٹوٹی کہ بنو جساسہ کا کوئی فرد باقی نہ بچا۔ یہ بزدل بجائے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے مجھے اغواءکر کے قبیلے سے بھاگ نکلا۔اب میں کس طرح اس پر اعتبار کر سکتی ہوں۔“
یشکر شاکی ہوا۔”سردار زادی ،آپ مجھ سے زیادہ اجنبیوں پربھروسا ر رہی ہوں۔“
وہ نخوت سے بولی۔”تم اجنبیوں کی بات کر رہے ہو جبکہ میں تمھارے مقابلے میں جانوروں کوبھی ترجیح دوں گی۔“
”اگر تسلی ہو گئی ہوتو تم جا سکتے ہو۔“سردار تمسخرانہ لہجے میں یشکر کو کہہ کر اپنے آدمیوں سے مخاطب ہوا۔”حرقةبن عارب،جعل بن اخسراورحرب بن ذواب!تم تینوں محترم جوان کو قبیلے کے حدود سے باہر چھوڑ کر آﺅ ،اس کے بعد اگراس نے واپس آنے کی کوشش کی تو خود ذمہ دار ہو گا۔“
”میں سردار زادی کے بغیر نہیں جاﺅں گا۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔
”میں تم پر تھوکتی بھی نہیں ہوں۔“بادیہ بپھر گئی تھی۔
دکھ بھری نگاہیں بادیہ پر ڈال وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔”اس وقت آپ غصے میں ہیں، جب ٹھنڈے دماغ سے سوچیں گی تو میرا ساتھ چھوڑنے کی قباحت تم پر آشکارا ہو گی۔“
”تمھاری منحوس شکل جب تک میری آنکھوں کے سامنے رہے گی میرا دماغ ٹھنڈا نہیں ہو سکتا۔“
اسی وقت حرقة بن عارب نے آگے بڑھ کر اس کے گھوڑے کی لگام تھام لی۔ وہ گھٹے ہوئے بدن ، درمیانی قامت اور کرخت چہرے کا مالک تھا۔
”اجنبی تمھیں یہاں سے جانا ہوگا۔ دیکھ نہیں رہے تمھاری سردار زادی غصے میں ہے۔“
”مجھے جانے کا رستا معلوم ہے۔“انھیں ساتھ جانے پر تیار دیکھ کر وہ مشتعل ہو گیا تھا۔
حرقة بے پروائی سے بولا۔”ہم رستا نہیں بنو جمرہ کی حدود دکھانے جارہے ہیں۔“
یشکر ہونٹ بھینچ کر خاموش ہو گیا تھا۔جاتے ہوئے اس نے التجائی نگاہ بادیہ پر ڈالی لیکن اس نے رخ موڑ لیا تھا۔دل میں اٹھتی ٹیسوں کو برداشت کرتے ہوئے وہ سامنے دیکھنے لگا۔
”بھیمہ!“سردار نے اپنے جھونپڑے کی طرف رخ کرتے ہوئے آواز دی۔
”جی سردار۔“جھونپڑے کا دروازہ کھول کر ایک ہٹی کٹی حبشن برآمد ہوئی۔
”ہاتھ کے اشارے سے قریب بلا کر سردار اس کے کان میں کوئی ہدایا ت دینے لگا۔بات کرتے ہوئے وہ کن اکھیوں سے بادیہ کو بھی دیکھ رہا تھا۔اس کی نظروں میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ بادیہ کا دل کسی انجانے خطرے سے دھڑکنے لگاتھا۔ اس نے وہاں بیٹھے دوسرے مردوں پر نگاہ دوڑائی ،تمام اس کی طرف متوجہ تھے۔ ان کے چہروں پر چھایا استہزاءبادیہ کا دل ہولانے لگا۔اچانک ہی اسے اپنے فیصلے پر پچھتاوا محسوس ہوا۔اس نے دور جاتے یشکر کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھا ،مگر وہ اس کے احساسات سے بے خبر وہاں سے دور جا چکا تھا۔اس سے پہلے کہ یشکر کو پکارنے کے لیے اس کے منھ سے آواز نکلتی ہٹی کٹی بھیمہ نے اس کی کلائی تھام کر بہ ظاہر مسکراتے ہوئے اسے اندر چلنے کا اشارہ کیا۔وہ دل ہی دل میں عزیٰ کو پکارتی اس کے ہمراہ ہو لی۔اس کے گھوڑے کی لگام ایک مرد نے پکڑ لی تھی۔
وہ جھونپڑا اندر سے کافی وسیع تھا۔اور مختلف حصوں میں بانٹا ہوا تھا۔پہلا حصہ یاکمرہ بیٹھک کی طرزپر بنا ہوا تھا۔فرش پر جانوروں کی کھالیں بچھی تھیں اور دیواروں کے ساتھ چمڑے کے غلافوں والے تکیے رکھے ہوئے تھے۔کمرے کی پشت پر دروازہ تھا جس گزر نے کے بعد جھونپڑا مزید کشادہ نظر آنے لگا تھا۔ ایک پتلی سی راہدری کے دائیں بائیں دو کمرے نظر آرہے تھے۔راہداری کے اختتام پر دروازہ تھا جس کے پار چھوٹا سا صحن بنا تھا۔وہاں دائیں جانب غسل خانہ اور بائیں جانب کھانا پکانے کی جگہ بنی تھی۔صحن میں پانی کی دو تین پکھال ،دو بڑے مٹکے اور تین چار مشکیزے رکھے تھے۔
اس کی کلائی کو اپنی آہنی گرفت سے آزاد کر کے بھیمہ نے ایک مٹکے سے چمڑے کا ڈول بھرا اور غسل خانے کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔
”سردار زادی ،پہلے نہا کر کپڑے تبدیل کر لیں۔آپ کا لباس کافی میلا کچیلا لگ رہا ہے۔“
وہ ہکلائی۔”اس کی کوئی ضرورت تو نہیں تھی۔“
”یہ سردار کا حکم ہے۔“معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے بھیمہ نے چمڑے کا ڈول غسل خانے میں رکھا اور بادیہ کو اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا۔اس کے انداز سے واضح لگ رہا تھا کہ بادیہ کے پاس انکار کی گنجایش موجود نہیں تھی۔
طوعن و کرھن و ہ اندر داخل ہوگئی۔جب تک وہ غسل سے فارغ ہوتی بھیمہ وہاں موجود مشعل کو روشن کر چکی تھی۔
نہا کر بادیہ جونھی پرانے لباس کی طرف متوجہ ہوئی اسی وقت بھیمہ نے غسل خانے کے دروازے کے اوپر نئے کپڑے لٹکاتے ہوئے کہا۔
”سردار زادی ،آپ کا نیا لباس۔“
”لباس کو دیکھتے ہی وہ حیران رہ گئی تھی۔سرخ ریشم کا نیا نکور لباس اسے حیرت زدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔اتنا قیمتی لباس سردار ایک مسافر کے حوالے کر رہا تھا تو اس میں اس کا اپنافائدہ ضرور پوشیدہ تھا۔
”شاید یہ لوگ میرا گھوڑا ہتھیانا چاہتے ہیں۔“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں ابھری مگر یہ سوچ اس کے دل کو تسلی نہیں دے سکی تھی۔
” میرا پرانا لباس بہتر رہے گا۔“نئے لباس کو واپس دروازے پر لٹکا کر وہ پرانی قمیص جھاڑنے لگی۔
بھیمہ نے باہرسے آواز دی۔”سردار زادی، اگر آپ نے نئے کپڑے نہ پہنے تو سردار کو برا لگے گا اور وہ اسے اپنی توہین خیال کرے گا۔“
”کل یہاں سے جاتے ہوئے اپنے کپڑے پہن لوں گی۔اس طرح وہ میرا گھوڑا نہیں ہتھیا سکیں گے۔“ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے اس نے ریشمی لباس پہننا شروع کر دیا۔
جونھی وہ غسل خانے سے نکلی بھیمہ باہر تیار کھڑی تھی۔اسے دیکھتے ہی وہ تحسین آمیز لہجے میں بولی۔
”سردار زادی ،بلا شک و شبہ آپ بہت خوب صورت ہیں۔“
بادیہ شرما گئی تھی۔بھیمہ نے اسے بیٹھنے کے لیے لکڑی کی چوکی پیش کی اور اس کے لیے کھانا نکالنے لگی۔باریک آٹے کی روٹیاں اور گوشت کا سالن ،وہ رغبت سے کھانے لگی۔
اسے اکیلا چھوڑ کر بھیمہ کسی کام سے اٹھ گئی تھی۔جب تک وہ کھانے سے فارغ ہوتی بھیمہ لوٹ آئی تھی۔
”آئیں آپ کو آرام گاہ دکھادوں۔“اسے ساتھ لے کر بھیمہ ایک بار پھر اندر گھس گئی۔تنگ راہداری میں آنے آمنے سامنے دو کمرے بنے ہوئے تھے۔وہ اسے بائیں جانب والے کمرے میں لے گئی۔ چاروں کونوں میں لگی ہوئی قندیلوں نے کمرے کو خوب روشن کیا ہوا تھا۔ چاروں دیواروں کے ساتھ رنگین کپڑا لگا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ جھونپڑی کے بجائے اعلا تعمیر کا نمونہ دکھائی دے رہا تھا۔درمیان میں ایک تخت پڑا تھا جس پر پھول دار ریشمی چادر بچھی ہوئی تھی اور دو تکیے پڑے تھے۔تکیوں پر بھی ریشمی غلاف چڑھائے گئے تھے۔
”کہیں آپ مجھے سردار کی آرام گاہ میں تو نہیں لے آئیں۔“وہ حیران رہ گئی تھی۔
”اب یہ آپ کی خواب گاہ ہے سردار زادی۔“ معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے اس نے بادیہ کو تخت پر بٹھایا اور باہر نکل گئی۔جاتے ہوئے وہ دروازے کے کواڑ بند کر گئی تھی۔بادیہ اس آرام دہ تخت پر بے اطمینانی محسوس کر رہی تھی۔ سارے التفات اس کی سمجھ سے باہر تھے۔ ایک مسافر کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کرنا جہاں بنو جمرہ کے اعلا اخلاق کا مظہرتھا وہیں بادیہ کوبھی ششدر کر رہا تھا۔
چند لمحے تو وہ بے اطمینانی سے بیٹھی رہی اور پھر آہستہ آہستہ پھیل کرتکیے سے ٹیک لگائی اور آخر لیٹ گئی۔اسی دوران اس کی سماعتوں میں ساز بجنے کی آوازیں گونجیںاس کے ساتھ ہی ایک خوش آواز قینات (مغنّیہ )کی آواز بلند ہوئی۔ بادیہ مسحور ہو کراس کا نغمہ سنتی رہی۔ قینات سردارِ قبیلہ کی تعریف میں رطب اللسان تھی۔رات گئے تک محفل موسیقی جمی رہی۔بادیہ کے کانوں میں بنو جمرہ کے مردوزن کے پر جوش نعرے، عود ،طنبورہ ،دف وغیرہ کے ساز اور خوش آوازقینات (مغنّیہ )کے گیت گونجتے رہے۔یہاں تک کہ دن بھر کی تھکن اسے ان آوازوں سے دور لے گئی۔رات کا جانے کون ساپہر تھا۔اسے اپنے گال پر کھردرے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ قبیلے کا سردار تخت پر اس کے ساتھ بیٹھا پر ہوس نظروں سے گھور رہا تھا۔وہ اپنے آپ میں سمٹ گئی تھی۔
”سردار آ….آپ یہاں کیسے ؟“وہ ہکلا گئی تھی۔اس کا دل کسی انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔
وہ ریشہ خطمی ہوتے ہوئے بولا۔”سردار تو میں دوسروں کے لیے ہوں۔تمھارے لیے تو عاص بن شہاب ہوں۔“
”مم….مگر آپ نے مجھے اس وقت کیوں جگایا۔“
”بہت بھولی ہو۔پگلی ابھی باہر جو گانے بجانے کی محفل جمی تھی وہ ہماری شادی کی خوشی میں منعقد کی گئی تھی۔“
”شش….شادی ….کیسی شادی؟“وہ متوحش لہجے میں بولی۔”میری رائے تو کسی نے نہیں لی اور نہ مجھے بتایا گیا۔“
”ہا….ہا….ہا۔“سردار کا قہقہ بلندہوا۔”اب بتا دیا ہے نا۔“وہ بادیہ کی حالت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
”مم….مگر مجھے یہ شادی قبول نہیں ہے۔“بادیہ نے صاف انکار کر دیا تھا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”پوچھ نہیں ، بتا رہا ہوں کہ اب تم عاص بن شہاب کی بیوی ہو۔“
”میں نے تم سے پناہ مانگی تھی اور زبان دے کر پھرنا کسی سردار کو زیب نہیں دیتا۔“
”میں نے کہا تھا کہ عجمی غلام سے تمھیں پناہ دی اور میں اس قول سے نہیں پھرا۔باقی تمھیں بنو جمرہ کے سردار کی بیوی بنایا گیا ہے باندی بنا کر قید نہیں کیا گیا۔“
”میں اسی وقت یہاں سے جانا چاہوں گی۔“حتمی لہجے میں کہتے ہوئے بادیہ دروازے کی طرف بڑھی۔
عاص بن شہاب نے جھپٹ کر اس کا بازو پکڑا اور تخت پر دھکا دیتے ہوئے بولا۔”شوہر کی اجازت کے بغیر جو بیوی گھر سے باہرنکلنے کی کوشش کرتی ہے اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔“
بادیہ غصے میں چلائی۔”نہیں ہوں میں تمھاری بیوی۔“
”امید ہے صبح تک تمھیں یقین آجائے گا۔“بے پروائی سے کہتے ہوئے عاص اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔
بادیہ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن عاص بن حارث اس کے دونوں بازوﺅں سے پکڑ کر تکیے پر دھکا دیتے ہوئے بولا۔ ”شیر کے منھ میں آیا ہوا ہرن کتنا ہی کیوں نہ تڑپے اس نے شیر کی غذا ہی بننا ہوتا ہے۔“
”آپ کو عزیٰ کا واسطہ مجھے جانے دو۔میں پہلے بھی بہت ظلم کاٹ چکی ہوں۔“بادیہ نے دونوں ہاتھ معافی کے انداز میں جوڑ دیے تھے۔
وہ بے نیازی سے بولا۔”میں صرف شمس کا پجاری ہوں۔اور اس ضمن میں ڈوبتے شمس کی خدمت میں قربانی پیش کر چکا ہوں۔“
”یاد رکھنا یشکر تمھیں چھوڑے گا نہیں۔“منت سے کام نہ بنتے دیکھ کر وہ دھمکیوں پر اتر آئی تھی اور دھمکی کے لیے اس کی زبان سے بے اختیاری میں یشکرہی کا نام نکلا تھا۔
سردار نے دلچسپی سے پوچھا۔”یہ یشکر کون ہے بھلا ؟“
وہ جلدی سے بولی۔”وہی عجمی شہ سوار جس کے ساتھ جانے سے میں نے انکار کیا تھا۔“
”ہا….ہا….ہا“سردار نے زورادار قہقہ بلند کیا۔ ”یقینا اس بے چارے کی لاش صبح تک بحر ہند میں پہنچ جائے گی۔“
ایک لمحے کے لیے وہ سن ہو گئی تھی۔جانے کیوں یشکر کی موت کا سن کر اسے سخت صدمہ پہنچا تھا۔ اسی وقت عاص کا ہاتھ اس کے گریبان کی طرف بڑھا اس سے پہلے کہ وہ بادیہ کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت کر پاتا کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔کسی نے لات مار کر دروازے کی کنڈی توڑ دی تھی۔
”شاید میرے بارے تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے سردار۔“یشکر بے نیام صاعقہ کو ہاتھ میں پکڑے اندر داخل ہورہا تھا۔اس کے چہرے سے پھوٹنے والی خوشی دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ باہر کھڑے ہو کر اس نے بادیہ اور سردار کی ساری باتیں سن لی تھیں۔
٭٭٭
وقتی طور پر یشکر نے وہاں سے ہٹنا گوارا کر لیا تھا مگر بنو جمرہ والوں کی شکلیں دیکھ کر اس کے دل میں خطرناک قسم کے اندیشے سرسرانے لگے تھے۔اس وقت اگر وہ بادیہ کو ساتھ لے جانے کی ضد کرتا تواکیلے اتنے سارے آدمیوں کا مقابلہ نہ کر سکتا۔اسے بنو جمرہ سے باہر نکالنے والے تینوں آدمی اس کے گھوڑے کے آگے چلتے ہوئے سرگوشیوں میں گفتگو کر رہے تھے۔وہ گہری نظروں سے جھونپڑیوں ، خیموں اور عُرُش کا جائزہ لیتا رہا۔
(عُرُش ،عریش کی جمع ہے۔اس کا مطلب گھاس پھونس کی ایسی جھونپڑی جو سایہ حاصل کرنے کے لیے بنائی جائے۔ بالکل جیسے ہمارے دیہی علاقوں میں چھپّربنائے جاتے ہیں )
بنو جمرہ سے نکل کر وہ وادی کے کنارے پہنچے ،پانی کا بہاﺅ اسی شدت سے جاری تھا۔حرقة اس کے گھوڑے کی لگام وادی کے کنارے اگے کھجور کے درخت کے تنے سے باندھتے ہوئے بولا۔
”جوان ،یہ حمیٰ سردار عاص بن شہاب کی ہے۔اور تمھیں اس حدود سے باہر نکالنے کے لیے ہم اتنی دور تک پیدل نہیں جا سکتے اس لیے تمھیں وادی کو عبور کر کے یہاں سے غائب ہونا پڑے گا۔اور یہاں تک رہنمائی کرنے کے معاوضے میں یہ کمیت میں رکھ رہاہوں لہاذا آگے تمھیں پیدل جانا ہوگا۔“
(پہلے زمانہ میں حمیٰ اس چراگاہ کو کہا جاتا تھا جسے قبیلے کا سردار اپنے لےے مخصوص کر لیتا اور اعلان کر دیتا کہ اس چراگاہ میں کسی کو اپنے جانور چرانے کی اجازت نہیں۔حمیٰ بنانے کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا ،کہ علاقے کا سردار اپنے ہمراہ بلند آواز کتا لے جاتا اور پھر اس کتے کی آواز جہاں تک جاتی اس جگہ تک سردار کی حمیٰ بن جاتی۔اور عوام کو اس میں داخلے اور اپنے جانور چرانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی )
”تمھاری صاف گوئی مجھے پسند آئی۔“عنبر سے نیچے اترتے ہوئے یشکر کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ دوڑ رہی تھی۔”بس ایک سوال پوچھنا تھا۔“
”پوچھو۔“حرقة بن عارب نے خوشگوار حیرت سے پوچھا۔
”اگر میں تمھارے شانوں سے گردن کا بوجھ ہٹا دوں تو کیا پھر مجھے گھوڑا پاس رکھنے کی اجازت ہو گی۔“
حرقة نے قہقہ لگایا۔”سچ تو یہ ہے کہ ہم تمھیں قتل کرنے ہی یہاں تک آئے ہیں۔“یہ کہتے ہوئے اس نے تلوار ننگی کر لی تھی۔اس کے دونوں ساتھیوں نے بھی اس کی تقلید میں سستی نہیں دکھائی تھی۔
صاعقہ کے دستے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے اطمینان بھرے لہجے میں پوچھا۔ ”کیا مرنے سے پہلے یہ بتانا پسند کرو گے کہ اس لڑکی کے ساتھ تم کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟“
”اس کی فکر نہ کرو،یقینا بنو جمرہ کا سردار اتنی خوب صورت لڑکی کو اپنے حرم میں داخل کرلے گا۔“ حرقة تلوار سونت کر آگے بڑھا۔ اس کے دونوں ساتھی بھی پھیل کر یشکر کی طرف بڑھے تاکہ اسے تین اطراف سے گھیرا جا سکے۔
یشکر نے ایک نظر پیچھے مڑ کر بنو جمرہ پر ڈالی مگر وہاں سے قبیلے کی آبادی نظر نہیں آرہی تھی۔ایک اونچا ٹیلا درمیان میں آڑ کی صورت میں موجود تھا۔عقب سے مطمئن ہوتے ہی وہ دشمن کی طرف متوجہ ہوا۔اسے گھیرنے کی غرض سے وہ پھیل گئے تھے۔تلوار نکالنے سے پہلے اس نے کلائی میں باندھی نیام سے دو باریک دھار والے خنجر نکالے اور اس سے پہلے کہ مخالفین کچھ سمجھ پاتے دو خنجر کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح جعل بن اخسر اور حرب بن ذواب کی طرف بڑھے۔حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس نے خنجر پھینکنے کے لیے دونوں ہاتھوں کا استعمال کیا تھا۔خنجروں کی نوک سے پکڑ کر اس نے دونوں ہاتھ سینے کے سامنے باندھے اور ایک دم دائیں بائیں ہاتھ کھولتے ہوئے مخالف سمتوں میں خنجر پھینک دیے۔ دونوں خنجر دستے تک گردن کے نرم گوشت میں دھنس گئے تھے۔جعل بن اخسر اورحرب بن ذواب خرخراتے ہوئے نیچے گرے اور ایڑیاں رگڑنے لگے۔ مقابلے کی شروعات سے پہلے ہی وہ انجام کو پہنچ گئے تھے۔تیسراخنجر نکال کر اس نے ششدر کھڑے حرقة کی طرف پھینکا مگر اس کے بازو کی حرکت کے ساتھ ہی حرقة نے خود کو زمین پر گرا لیا تھا۔ خنجر اس کے سر کے اوپر سے گزر کر کھجور کے تنے میں پیوست ہو گیا تھا۔
حرقة اچھل کر کھڑا ہوا اگلے ہی لمحے وہ تلوار گھماتا ہوا اس کے قریب پہنچا۔یشکر کواس سے اتنی چستی کی توقع نہیں تھی۔جھکائی دے کر اس کے وار سے جان بچاتے ہوئے یشکر نے دو قدم پیچھے لیے اور صاعقہ نکال کر حرقة کے اگلے وار سے بچنے کے لیے اس کی تلوار کے سامنے پکڑ لی۔ تلواروں کے ٹکرانے کی جھنکار ابھری اور پھر یہ ساز تسلسل سے بجنے لگا۔ حرقة ماہر شمیشر زن تھا،مگر اس کی بدقسمتی کہ اس وقت یشکر کے مدمقابل تھا۔جلد ہی اسے احساس ہو گیا تھا کہ اس نوجوان پر قابو پانا اس کے بس سے باہر تھا۔وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔یقینا وہ بھاگنے کا رستا ڈھونڈ رہا تھا۔مگر یشکر اسے یہ سہولت دینے پر آمادہ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ صرف یہ پریشانی تھی کہ وہ نیام کو ڈھال کی صورت لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں نہیں پکڑ سکا تھا۔
مسلسل حرقةکے پیچھے جاتے ہوئے وہ حرب بن ذواب کی لاش کے پاس پہنچا اور ایک لمحے کے لیے اپنے قدموں کو روکتے ہوئے وہ نیچے جھکا اگلے ہی لمحے حرب کی تلوار اس کے بائیں ہاتھ میں تھی۔دوران تربیت وہ دونوں ہاتھوں سے تلوار چلانے کی مشق کر چکا تھا۔دوسری تلوار ہاتھ آتے ہی اس کے حملوں میں شدت آئی ، حرقة کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا تھااور جلد ہی اس پریشانی نے اذیت کا روپ دھار لیا تھا۔ یشکر کے بائیں ہاتھ میں موجود تلوار کا وار اپنی تلوار پر روک کر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچنا چاہا مگر اس وقت تک یشکر دائیں ہاتھ میں موجود صاعقہ کو حرکت دے چکا تھا۔صاعقہ ،حرقة کی کلائی کو جسم سے علاحدہ کرتے ہوئے نکل گئی تھی۔تیز کراہ اس کے ہونٹوں سے خارج ہوئی اور وہ دوسرے ہاتھ سے کٹی ہوئی کلائی تھام کر خون کے بہاﺅ کو روکنے کی کوشش کرنے لگا۔
یشکر نے پاﺅں کی زوردار ٹھوکر اس کی چھاتی میں رسید کی۔درد بھری چیخ منھ سے خارج کرتے ہوئے وہ پیچھے لیٹ گیا تھا۔صاعقہ کو نیام میں ڈال کر اس نے دوسری تلوار دونوں ہاتھوں میں پکڑی اور ایک جھٹکے سے حرقة کے سینے میں اتار دی۔تلوار اس کی چھاتی میں چھوڑ کر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔ حرقة کا چہرہ تکلیف کی شدت سے مسخ ہو گیا تھا۔اس کا جسم تشنج کے مریض کی طرح مسلسل جھٹکے لے رہا تھا۔اسے تڑپتا چھوڑ کر یشکر اس کے ساتھیوں کی طرف مڑا،اپنے خنجر ا ن کی گردنوں سے نکال کر ان کے لباس سے صاف کر کے اس نے مخصوص جگہ پر رکھے، کھجور کے تنے میں گھسا خنجر بھی اسے نہیں بھولا تھا۔اس سے فارغ ہوتے ہی وہ ان کی لاشوں کو اٹھا کر باری باری وادی میں بہتے سیل (سیلاب)میں پھینکنے لگا۔ البتہ ایک کا لبادہ اتار کر اس نے تینوں تلواریں لپیٹ کر گھوڑے کی زین سے باندھ تھیں کہ وہ انھیں کہیں بھی بیچ کر زادراہ پیدا کر سکتا تھا۔
سورج غائب ہو چکا تھا البتہ روشنی ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی۔وہ بنو جمرہ کے مغرب کی جانب موجود تھا۔مقتولوں کی لاشوں کو پانی میں بہا کر وہ بنو جمرہ کے شمال کی جانب بڑھ گیا۔کوس بھر کا چکر کاٹ کر وہ شمال کی جانب ایک بڑے ٹیلے پر چڑھ گیا۔وہاں سے بنو جمرہ میں جلنے والی مشعلیں دکھائی دے رہی تھیں۔حرقة اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے بعد اس کے دل میں یہ اندیشہ بہ ہرحال موجود تھا کہ کہیں لوگ ان کے واپس نہ پہنچنے پر انھیں ڈھونڈنے نہ نکل پڑیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں یشکران کے ہاتھ میں آسکتا تھا۔لیکن ٹیلے پر لیٹ کر قبیلے کا جائزہ لینے پر اسے ایسی کوئی ہلچل نظر نہیں آئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ملگجا اندھیرا تاریکی میں تبدیل ہو چکا تھا۔ٹیلے سے اتر کر وہ قبیلے کی جانب بڑھااسی وقت اس کے کانوں میں سازوں کی آواز پہنچنے لگی۔ایک جگہ پر اسے آگ کا الاﺅ جلتا ہوا نظر آرہا تھا۔اس کے اندازے کے مطابق وہ جگہ سردار کے جھونپڑے کے قریب تھی۔ٹیلے سے اتر کر اس نے نشیب میں جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں گھوڑے کو باندھا اور چہرے کے گرد کپڑا لپیٹتا ہوا وہ محفل موسیقی والی جگہ کی طرف بڑھ گیا جہاں ایک خوش آواز قینات ماحول کو بس میں کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔پہلے وہ سردارِ قبیلہ کی تعریفوں میں رطب اللسان رہی اور پھر وہ اپنی جوانی کے رازوں سے پردہ اٹھانے لگی۔ یشکر کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بادیہ کے سراپے کا نقشہ کھینچ رہی ہو۔ حسن کے جس معیار کو وہ گیت کے بولوں کی صورت زیر بحث لائے ہوئے تھی وہ سراپا بادیہ کے علاوہ کسی کا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
وہ چھپتا چھپاتا محفلِ موسیقی کے حاضرین کے قریب پہنچ گیا تھا۔وہ دائرے کی صورت میں آلاﺅ کے گرد جمگھٹا بنائے موجود تھے۔درمیان میں ناکافی لباس پہنے چند لونڈیاں محو رقص تھیں۔سردار اور قبیلے کے دوسرے معزّزین چبوترے پر براجمان تھے۔پرکشش ابدان والی لونڈیاں الاﺅ کے گرد یوں چکرا رہی تھیں جیسے شمع کے گرد پروانے گھومتے ہیں۔اس کے ساتھ وہ ساز کی لے پر اپنے جسم کو یوں تروڑ مروڑ رہی تھیں جیسے مرغ بسمل جان کنی کے عالم میں تڑپتا ہے۔حاضرین جہاں قینات (مغنّیہ ) کی خوب صورت اور پرسوز آواز سے لطف اندوز ہو رہے تھے وہیں لونڈیوں کے رقص بھی ان کے خون کی گردش کو تیز کیے ہوئے تھے۔اسی وجہ سے کسی کو نہ تو یشکر کی آمدکا پتا چلا تھا اور نہ اپنے ساتھیوں کی غیر حاضری محسوس ہوئی تھی۔
”کیا سچ مچ وہ سردار زادی اتنی خوب صورت ہے کہ سردار اسے اپنے حرم میں داخل کر رہا ہے۔“یشکر کے سامنے کھڑے آدمی آپس میں محو گفتگو تھے۔پوچھنے والے کے سوال پر یشکر بھی ہمہ تن گوش ہو گیا تھا۔
دوسرے نے جوا ب دیا۔”میں نے اسے نہیں دیکھا لیکن خندب بن خلف کی زبانی سنا ہے کہ اس جیسی آج تک نہیں دیکھی گئی۔“
پہلا بولا۔”اسی لیے سردار اتنا خوش نظر آرہا ہے۔“
یشکر چند لمحے ان کی گفتگو سنتا رہا اور پھر غیر محسوس انداز میں پیچھے کو کھسک کر وہاں سے دور ہو گیا۔تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ سردار کی مکان نما جھونپڑی کے عقب میں پہنچ گیا تھا۔چند لمحے دم سادھے وہیں بیٹھنے کے بعد وہ زمین پر لیٹ کر رینگتا ہوا اس چبوترے کے قریب پہنچ گیا جہاں سردار، قبیلے کے معززین کے ہمراہ بیٹھا تھا۔سردار کے قریبی ساتھی نئی دلھن کے نام پر فحش مذاق کر رہے تھے۔ ان کی بے ہودہ باتوں نے یشکر کے خون کی گردش کو تیز کر دیا تھا۔انھیں کی گفتگو سے یشکر کو یہ بھی معلوم ہوا کہ سردار کی پہلے والی دونوں بیویاں داغ مفارقت دے گئی تھیں۔ ان دنوں سردار کسی نئی دلھن کی تلاش میں تھا اور اس کی خوش قسمتی کہ وہاں ایک ایسی لڑکی پہنچ گئی تھی جو نہ صرف حسب و نسب کے لحاظ سے سردار زادی تھی بلکہ شکل و صورت میں بھی نمایاں تھی۔جس جگہ یشکر نے پناہ لی ہوئی تھی وہ ایک تاریک گوشہ تھا۔ وہاں سے الاﺅ کے گرد مٹکنے والی رقاصائیں تو نظر نہیں آرہی تھیں البتہ خوش آواز قینات کی آواز تواتر سے اس کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔
کچھ دیر وہیں ٹھہرنے کے بعد یشکر ایک بار پھر رینگتا ہوا پیچھے ہٹا۔سردار کے جھونپڑے کے عقب میں پہنچتے ہی وہ کھڑا ہوا اورمحتاط انداز میں بنو جمرہ کا جائزہ لینے لگا کافی دیر گھومنے کے بعد وہ سردار کے چبوترے کے پاس لوٹ آیا تھا۔ایک بار تو اس کے جی میں سردار کے خیمے میں گھسنے کا خیال آیا تھا لیکن پھر اسے خوف محسوس ہوا کہ اگر اسے دیکھ کر بادیہ نے شور مچایا تو اس کا پکڑا جانا لازم تھا۔ اتنے افراد کا مقابلہ کرنا اس کے بس سے باہر تھا۔ البتہ جشن کے خاتمے پر لوگ واپس لوٹ جاتے اور اکیلے سردار پر قابو پانا اس کے لیے مشکل نہ ہوتا۔ بادیہ اس شادی پر راضی تھی یا نہیں اس بارے وہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔اگر اس شادی میں اس کی مرضی شامل تھی تو اسے وہاں سے بے ہوش کر کے ہی لے جایا جا سکتا تھا۔
وہ ہنگامہ رات گئے تک جاری رہایہاں تک کہ سردار کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔وہ نئی دلھن کے پاس جانے کے لیے بے چین ہو رہا تھا۔قینات کے ذومعنی اشعار ، ناچنے والیوں کے بدن کی لوچ اور شراب کے نشے نے اس کے اشتیاق کو چار چاند لگا دیے تھے۔سردارکے حکم پر محفل برخاست ہوئی۔اس نے اگلے دن پورے قبیلے کی ضیافت کا اعلان بھی کر دیا تھا۔
یشکر ایک مرتبہ پھر رینگتا ہوا جھونپڑے کے عقب میں پہنچا۔جھونپڑے کی دیوار اتنی اونچی نہیں تھی کہ اسے اندر داخل ہونے میں کوئی مشکل درپیش آتی۔اگر دیوار مٹی کے گاڑھے گارے سے لیپی نہ گئی ہوتی تو وہ اوپر چڑھنے کے بجائے دیوار میں سوراخ کر کے اندر داخل ہونا پسند کرتا۔وہ پتلی دیوار کے دوسری جانب احتیاط سے اترا۔چھوٹے سے صحن کے بعد اندرونی عمارت کا دروازہ نظر آرہا تھا۔دروازے کے ساتھ لٹکی ہوئی مشعل کی روشنی میں اس نے صحن کا جائزہ لیا۔اور دبے قدموں دروازے کے قریب ہوا۔اندر سے آتی ہوئی ایک زنانہ آواز نے اسے مزید چوکنا کر دیا تھا۔
”سردارزادی ،سو گئی ہے سردار۔“
”ٹھیک ہے بھیمہ ،تم غسل خانے میں نہانے کا پانی رکھ کر آرام کر سکتی ہو۔“
”جی سردار۔“بھیمہ کی کرخت آواز یشکر کے کانوں میں پڑی۔ وہ فوراََ دروازے کے قریب دیوار سے پشت چپکا کر کھڑا ہو گیا۔دروازہ کھول کر بھیمہ باہر نکلی ،اس سے پہلے یشکر کی حساس سماعتوں میں اندرونی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز پہنچ گئی تھی۔یقینا سردار بادیہ کے پاس پہنچ گیا تھا۔ یشکر کے دماغ میں چنگاریں بھر گئی تھیں۔
بھیمہ بہ مشکل ایک قدم لے پائی تھی کہ یشکر نے جھپٹ کر اسے پکڑا،سب سے پہلے اس کے ہاتھ نے بھیمہ کا منھ بند کیا تھا۔
بھیمہ تنومند اور ہٹی کٹی عورت تھی ،یشکر کے ہاتھوں میں آتے ہی وہ زور سے مچلی۔اس نے پوری قوت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی تھی۔وہ مکمل احتجاج بھی نہیں کر پائی تھی کہ یشکر نے دائیں ہاتھ میں تھاماہوا چوڑے پھل والا خنجر اس کی گردن میں اتار دیا۔خون فوراے کی طرح اس کی گردن سے بہنے لگاتھا۔ اس کی جان چھڑانے کی کوشش جان کنی کی حرکت میں تبدیل ہو گئی تھی۔اسے آرام سے زمین پر لٹا کر یشکر اند رگھس گیا۔دروازے کے قریب پہنچ کر وہ عاص بن شہاب اور بادیہ کی باتیں سننے لگا۔اور پھر بادیہ کی دھمکی سنتے ہی اس کا دل انجانی خوشی سے دھڑکنے لگا تھا۔وہ بنو جمرہ کے سردار سے شادی پر تیار نہیں تھی۔ اب اس کا کام آسان ہو گیا تھا۔
سردار عاص کا بھونڈا قہقہ سنتے ہی اس نے اندر گھسنے کا فیصلہ کیا ،اگلے ہی لمحے اس نے زوردار لات دروازے پر ریسد کی اور دروازے کی کمزور سی کنڈی کو توڑتاہوا اندر داخل ہوگیا۔
”شاید میرے بارے تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے سردار۔“شوخ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے تلوار سیدھی کی۔”اپنے آدمیوں کے احوال سے اتنی زیادہ لاغرضی بھی اچھی نہیں ہوتی۔ “
بنو جمرہ کا سردارعاس بن شہاب گڑبڑاتے ہوئے بولا۔”تت….تم یہاں سے بچ کر نہیں نکل سکو گے۔“ خوف سے اس کا رنگ زرد ہو گیا تھا۔یشکر نے کن اکھیوں سے بادیہ کو گھورا ،اس کا چہرہ خوشی سے گلنار ہوگیا تھا۔
”اپنی سردار زادی کے لیے میں بنو جمرہ کی پوری آبادی کو تہہ تیغ کر سکتا ہوں۔“غضب ناک لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ایک جھٹکے سے صاعقہ کہ نوک عاص کی گردن میں گھسیڑ دی تھی۔
وہ خرخرتا ہوا تخت پر گرا اور تڑپنے لگا۔بادیہ چھلانگ مار کر نیچے اتر آئی تھی۔
”ہمیں جلدی نکلنا ہو گا۔“
”مم….میں تیار ہوں۔“سر جھکاتے ہوئے اس نے خفیف لہجے میں کہا۔
یشکر نے کمرے کی دیوار سے لٹکا ہوا شراب کا بھرا مشکیزہ اتار کر کندھے سے لٹکایا،ترکش اور کمان پیٹھ پر لادے اور بادیہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔اس کا رخ جھونپڑے کے داخلی دروازے کی طرف تھا۔ گھوڑوں کا اصطبل سردار کے جھونپڑے کے بائیں جانب بنا تھا۔بادیہ کے گھوڑے پر زین کس کے وہ باہر لایااور زمین پر گھٹنا ٹیک کر اس نے بادیہ کو گھوڑے پر سوار ہونے کا اشارہ کیا۔
وہ نزاکت سے اس کی ران پر پاﺅں رکھ کر گھوڑے پر سوار ہو گئی تھی۔گھوڑے کی لگام تھام کر یشکر اس جانب بڑھ گیا جہاں اس کا اپنا گھوڑا بندھا تھا۔تھوڑی دیر بعد وہ گھوڑے دوڑاتے ہوئے وادی کی جانب بڑھتے جا رہے تھے۔ بادیہ بالکل خاموش تھی۔ یشکر نے بھی اسے مخاطب کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔بادیہ کی تلخ و توہین آمیز گفتگو اس نے بھلا دی تھی۔اس حال میں بھی بادیہ کا اپنے ہمراہ آنا اسے اپنی خوش قسمتی لگ رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: