Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 23

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 23

–**–**–

یوسانوس کے ساتھ ایران کا جو معاہدہ ہوا اس کی رو سے رومیوں نے بہ ظاہر ایران کی برتری تسلیم کر لی اور وہ صوبے لوٹا دیے تھے جن پر ایران نے اپنا حق ظاہر کیا تھا۔
(تاریخ کے حوالے سے ایک بات قارئین ذہن میں رکھیں کہ مختلف تاریخ دانوں کے ہاں زمانہ قبل آمد مصطفیٰ ﷺ کے شاہان کے ناموں میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ البتہ ان سے منسوب کاموں میں تقریباََ مماثلت موجود ہے۔ جیسے سابور ذوالاکتاف کو کچھ سابو ر اور کچھ شاہ پور لکھتے ہیں۔ جولین مرتد بحوالہ تاریخ ایران کا نام طبری الیانوس لکھتا ہے ،ابن خلدون نے اسے بولیانش اور المیالش کے نام سے ذکر کیا ہے تاریخ الیعقوبی میں اس کانام یولیانوس لکھا گیا ہے ، تاریخ المسعودی نے اسے للیانس کے نام سے ذکر کیا ہے اورکامل ابن الاثیر میں اسے یولیانوس لکھا ہے۔یوسانوس بہ حوالہ طبری کو تاریخ ایران نے جووئین کے نام سے ذکر کیا ہے اور ابن خلدون نے یوشانوش لکھا ہے،کامل ابن الاثیر میں یونیانوس لکھا ہے،تاریخ المسعودی میں یونیاس لکھا ہے )
آرمینیا سے بھی روم نے اپنا تسلط اٹھانا گوارا کر لیا تھا۔ اور اس وجہ ایران کو آرمینیا میں اپنا تسلط جمانے کا موقع مل گیا تھا۔میدان ان کے لیے خالی تھا۔ سابور من مانی کر سکتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ یوسانوس نے یہ شرائط نہایت مجبور ہو کر منظور کی تھیں۔اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ معاہدے کے چند ماہ بعد ہی یوسانوس فوت ہو گیا۔اس کی جگہ والنٹینین قیصر روم بنا۔ یوسانوس کا سابور سے کیا ہوا معاہدہ اسے سخت ناگوار گزرتا تھا۔وہ کھلم کھلا اس معاہدے کو توڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کی خواہش ضرور تھی یہ معاہدہ ختم ہو جائے۔چنانچہ اس نے معاہدے کو منسوخ کرنے کا جواز پیدا کرنے کے لیے روم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔مشرقی علاقوں کی حکومت اس نے اپنے بھائی والنس کو سونپی اور مغربی علاقوں کی عنان حکومت اپنے ہاتھ میں رکھی۔
دوسری جانب سابو ر چاہتا تھا کہ جس قدر جلد ممکن ہو آرمینیا میں رومیوں کے رہے سہے اثرات ختم کر دے۔اس مقصد کے لیے اس نے آرمینیا کے حکم راں اشک کو جو رومیوں کے زیر اثر تھااپنے دربار میں بلا کر اسیر کر لیا۔اس کے بعد سابور نے اپنی افواج آرمینیا بھیج کر وہاں اپنا تسلط مکمل کر لیا۔آرمینیا میں صرف ارتو گوسا کا قلعہ اس کی دسترس سے محفوظ رہا۔ اس جگہ اشک کی ملکہ اپنے خزانے کو سمیٹ کر پناہ گزین تھی۔
والنٹینین کو آرمینیا کے معاملات کی خبر تھی اور وہ ان معاملات سے بے تعلق بھی نہیں رہنا چاہتا تھا لیکن صلح کے معاہدے کے خلاف کوئی قدم اٹھاتے ہوئے ہچکچاتا تھا۔اسی دوران آرمینیا کے اسیر حکمران اشک کا بیٹا پارہ آرمینیا سے بھاگ کر روم پہنچا اور آرمینیا کے تخت و تاج کی واپسی کے لیے شہنشاہ روم سے کمک مانگی۔والنٹینین نے فوج کے کچھ دستے دے کر اسے واپس بھیجا۔ جاسوسوں کے ذریعے سابور کو یہ اطلاع بغیر کسی تاخیر کے پہنچی تھی۔پارہ کی لشکر کشی کا سدباب کرنے کے لیے وہ وقت ضائع کیے بغیر طیسفون سے نکلا اور آرمینیا پر لشکر کشی کر دی۔پارہ اس کے مقابلے پر ٹک نہیںسکا تھا۔سابور نے اسے شکست دے کر ارتو گوسا کے قلعے پر بھی حملہ کر دیا۔قلعہ سر کر کے اس نے اشک کے خزانے پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔شکست کھا کر پارہ نے مجبو رہو کر شاہ ایران کی اطاعت کر لی تھی۔
٭٭٭
ایک دن مزید وہیں گزار کر قُتیلہ نے مشورے سے بنو قیشرہ جانے کا ارادہ کیا۔وہاں سے بنو قیشرہ آدھی منزل کے فاصلے پر تھا۔صبح کے چلے ہوئے وہ دوپہر سے پہلے بنو قیشرہ پہنچ گئے تھے۔اجڑے ہوئے قبیلے میں ہر طرف ویرانی کا راج تھا۔جا بجا بکھری لاشوں کو گدھ چمٹے ہوئے تھے۔زیادہ تر لاشوں کو گیدڑ ،بھیڑئے اور دوسرے مردار خور جانور چٹ کر گئے تھے۔بنو ضبع والوں کی مہربانی سے انھیں بہت اچھی ضیافت ملی تھی۔قبیلے کی حالت دیکھتے ہوئے بنو قیشرہ کی پانچوں لڑکیاں رونے لگی تھیں۔ مردوں کی آنکھیں بھی نم آلود تھیں۔
نسر دیوتا (گدھ)کو تعظٰم پیش کر کے قُتیلہ تمام کو مخاطب ہوئی۔”ماضی کی یا دمیں رونے والوں کا مستقبل بھی آہ وزاری کرتے گزرتا ہے۔جو بیت گیا اسے بھلا دو،جس نے زخم دیا اسے عبرت کا نمونہ بنا دو۔جس نے محروم کیا اس سے چھین لو۔جلے ہوئے خیمے ، ٹوٹی ہوئی جھونپڑیاں تعمیر کی جاسکتی ہیں۔مرنے والوں کے قتل کا بدلہ لینے کے بعد خوشیاں منائی جاتی ہیں آنسو نہیں بہائے جاتے اور ہم نے بدلہ لے لیا ہے۔ اگر تمھارا دل سیر نہیں ہوا تو ملکہ قُتیلہ وعدہ کرتی ہے کہ بنو ضبع کا قبیلہ صحرائے اعظم میں ایک بھولی بسری داستان بن جائے گا ،ان کی عورتیں بنو طرید کے مردوں کے بچے پیدا کریں گی۔ اور یاد رکھنا ملکہ قُتیلہ عمد نبھانا جانتی ہے۔ اب ملکہ قُتیلہ کو کسی آنکھ میں آنسو نظر نہ آئے۔“
اس کی تحکمانہ آواز میں ایسا اثر تھا کہ تمام کے چہرے جوش سے تمتمانے لگے تھے۔
”سب سے پہلے اپنی لاشوں کو دفن کرو ،اس کے بعد پرانی بستی کے پہلو میں نئے خیمے آباد کیے جائیں گے۔“
قُتیلہ کے اس حکم پر تمام چہروں کے گرد کپڑے لپیٹ کر ادھ کھائی لاشیں اور مکمل پنجر گڑھے کھود کر دفن کرنے لگے۔ قُتیلہ بھی اس کام میں پیچھے نہیں تھی۔دوپہر ڈھلنے تک وہ تمام لاشوں کو دفنا چکے تھے۔ اگلے مرحلے میں وہ ادھ جلے خیموں اور ٹوٹی ہوئی جھونپڑیوں سے کارآرمد چیزیں نکال رہے تھے۔شام تک انھوں نے بنوقیشرہ کے پہلو میں نئے خیمے لگا لیے تھے۔پانی کے چشمے کی وجہ سے قُتیلہ نے اسی مقام پر اپنا نیا قبیلہ بسانا ضروری سمجھا تھا۔
غروب آفتاب کے وقت وہ ایک بار پھر تمام کو مخاطب تھی۔”یاد رکھنا، تم حالت جنگ میں ہو۔ تمھاری تعداد ناکافی ہے اور کمزور کو ترنوالہ سمجھ کر ہر شہ زور نگلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کمزوری پر قابو پانے کے لیے تمھیں نیند و آرام کی قربانی دینا پڑے گی۔رات کے وقت کم از کم تین افراد جاگ کر پہرہ دیں گے تاکہ باقی بے فکری سے سو سکیں۔قبیلے کے اطراف میں مجھے کتے کے چند بچے نظر آئے ہیں،انھیں اچھی خوراک دے کر تربیت دو تاکہ وہ دشمن کی آمد کی پیشگی اطلاع دیں۔کیا کسی کو ملکہ قُتیلہ کی باتوں سے اختلاف ہے ؟“
”ہمیں کوئی اختلاف نہیں ہے ،ہم ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہیں۔“تمام نے بآواز بلند اقرار کیا تھا۔ اسی رات موسم خراب ہوا اور صبح تک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تھی۔جو اگلے دو تین دن تک جاری رہی تھی۔بارش نے بنو قیشرہ کے مرنے والا خون اور ماحول میں پھیلی بدبو وغیرہ کو بالکل ختم کر دیا تھا۔وہ تی بارش ان کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوئی تھی۔
بارش کے رکنے کی اگلی صبح قُتیلہ مردوں کو شمشیر زنی کی مشق کروا رہی تھی۔اسی سہ پہر اس نے پانچوں لڑکیوں کی مرضی معلوم کر کے انھیں پانچ مردوں کے ساتھ بیاہ دیا تھا۔کیوں کہ وہ دیکھ چکی تھی کہ زیادہ تر مرد ان لڑکیوں سے قریب ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں ایک لڑکی نے ملکان بن نول کی بیوی بننے کی خواہش کی تھی اور ملکان بن نول کے انکار پر قُتیلہ نے اسے قریب بن فلیح کے عقد میں دے دیا تھا۔ ان کے قبیلے میں مردوں کی تعدادسترہ تھی۔پانچ کی شادی کے بعد بارہ باقی بچ گئے تھے۔
”چند سورج انتظار کر لو ،تمام کو لڑکیاں مل جائیں گی۔بنو ضبع کی کنواریوں اور بیواﺅں کا مصرف بنوطرید کے مردوں کو تسکین پہنچانا ہے۔“
مردوں خوش ہو کر نعرہ بلند کیا،قُتیلہ مسکرا دی تھی۔
باقیوں کے جانے کے بعد وہ ملکان بن نول کی جانب متوجہ ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کی سمجھ میں تمھارا انکار نہیں آیا ملکان؟“
وہ جذباتی لہجے میں بولا۔”ملکان شادی کرے گا تو بنو عذرہ کی شہزادی سے ورنہ کسی سے نہیں۔“
قُتیلہ ہنسی۔”یہ وہی لڑکی ہے ناجس دو شوہروں کو تم قتل کر چکے ہو۔“
”جی ملکہ۔“ملکان نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تو کیا ایک عورت تمھارے لیے کافی رہے گی۔“
”وہ مل جائے تو ملکان کسی دوسری عورت کی خواہش نہیں کرے گا۔“
قُتیلہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”پہلی ملاقات میں تم نے ملکہ قُتیلہ کو دیکھ کر تو کسی اور خواہش کا اظہار کیا تھا۔“
”ملکہ قُتیلہ کا حسن گستاخی کے ارتکاب کی وجہ بنا تھا۔“
”بنو عذرہ یہاں سے کتنی منزل ہو گا؟“قُتیلہ نے موضوع تبدیل کیا۔
”جس جگہ ہماری ملاقات ہوئی تھی وہاں تک پہنچتے ہوئے میں نے دو بار سورج کو طلوع ہوتا دیکھا تھا۔“
”صبح صادق کے وقت تیار رہنا ،تم ملکہ قُتیلہ کے ساتھ بنو عذرہ کی شہزادی کو لینے جا رہے ہو۔“
”کک….کیا۔“فرط مسرت سے وہ ہکلا گیا تھا۔
”ملکان بن نول ،ملکہ قُتیلہ اپنے خدمت گاروں کو محروم نہیں رکھا کرتی۔“
وہ جذباتی لہجے میں بولا۔”اگر طبقہ بنت عتیبہ مجھے مل گئی تو ملکہ کا احسان کبھی نہیں اتار سکوں گا۔“
قُتیلہ بے نیازی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ بات دہرانے کی عادی نہیں ہے۔“
”میں ابھی سے تیاری شروع کر دیتا ہوں۔“ملکان عجلت کا اظہار کرتا ہوا قُتیلہ کے خیمے سے باہر نکل گیا۔
ملکان کے باہر جاتے ہی ایک نوجوان نے اندر آنے کی اجازت مانگی وہ شاید ملکان کے جانے ہی کا انتظا رکر رہا تھا۔
قُتیلہ نے منھ سے کچھ کہے بنا سر ہلا دیا تھا۔
نوجوان اندر داخل ہو ا۔ قُتیلہ نے گہری سیاہ آنکھیں اس کی جانب اٹھائیں۔وہ خاصا گھبرایا ہوا لگ رہا تھا۔
”گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے قیروان۔“قُتیلہ کا باوقار لہجہ اس کی عمر سے میل نہیں کھا رہا تھا۔ وہ جوان اس سے چند سال بڑا ہی ہوگا مگر وہ یوں مخاطب ہوئی تھی جیسے اس کی سرپرست ہو۔
گہرا سانس لے کر قیروان بن اخلد نے ہمت مجتمع کی اور پھر ایک دم بولا۔”میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر بے رحمانہ مسکراہٹ ابھری۔”بنو ضبع کی کنواریاں ہاتھ آئیں گی تو اپنا شادی کاشوق پورا کر لینا ،ملکہ قُتیلہ وعدہ کرتی ہے سب سے پہلے تمھیں انتخاب کا موقع دے گی۔“
”مگر میں آ پ کے عشق میں مبتلا ہوں۔“اس نے بے باکی سے نگاہیں قُتیلہ کے پرکشش چہرے پر گاڑ دیں۔
گہرا سانس لیتے ہوئے قُتیلہ نے غصہ ضبط کرنے کی کوشش کی۔ بولتے وقت اس کے لہجے سے غصہ مفقود تھا۔”تو جاﺅ شمشیر زنی اور تیر اندازی میں مہارت حاصل کرو تاکہ ملکہ قُتیلہ کو بزور بازو زیر کر سکو۔“
وہ جذباتی لہجے میں بولا۔”میں آپ کے لیے جان بھی دے سکتا ہوں۔“
”وقت آنے پر ملکہ قُتیلہ آزما لے گی۔“یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خیمے سے نکلنے کا اشارہ کیا۔قیروان چاہت بھری نظریں اس کے چہرے پر ڈالتا ہوا باہر نکل گیا۔قُتیلہ کسی گہری سوچ میں کھو گئی تھی۔
٭٭٭
بنو نوجل سے نکلتے ہی انھیں بارش نے آلیا تھا۔مجبوراََ انھیں دو تین دن خیموں میں محدود ہونا پڑا۔ بارش رکتے ہی انھوں نے رختِ سفر باندھامزید چند قبائل کی خاک چھاننے کے بعد بہرام مایوس ہو گیا تھا۔بنو دیل کے مضافات میں پڑاﺅ ڈالتے ہوئے وہ مرہ بن اثمد سے اسی متعلق بات کر رہا تھا۔
”میرا خیال ہے ہم وقت ضائع کر رہے ہیں۔“
”شاید ایسا ہی ہو۔“مرہ نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔”لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ایک غلام لڑکے کو صحرائے اعظم میں تلاش کرنا اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔یہ بھی ممکن ہے اسے خریدنے والے نے آگے بیچ دیاہو۔ کیوں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ غلاموں کی نیلامی کے وقت قافلہ تجارت کی غرض سے حیرہ کی طرف جا رہا تھا۔“
”تو واپسی کے بارے کیا مشورہ ہے۔“بہرام نے ترجمان کی وساطت سے پوچھا۔
مرہ بے پروائی سے بولا۔ ”آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔اور اگر میرا مشورہ معلوم کرنا ضروری ہے تو میرا خیال ہے جن قبائل کے نام ہمیں معلوم ہیں وہاں ایک بار جا کر پوچھنا ضرور چاہیے۔“
ان کی گفتگوکے دوران ہی بنو دیل کے چند معززین وہاں پہنچ گئے تھے۔بنو دیل کا سردار مسعدہ بن فرازی بھی ان کے ہمراہ تھا۔
بہرام کے اشارے پر مرہ ان سے یشکر کے متعلق معلوم کرنے لگا۔
مرہ کی بات سنتے ہی مسعدہ بولا۔”آپ لوگوں کو آنے میں تاخیر ہوئی ہے۔“
مرہ بے صبری سے مستفسر ہوا۔”کیا یہ تاخیر ناقابل تلافی ہے ؟“
مسعدہ بن فرازی پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”مجھے اثبات میں سر ہلانا پڑے گا۔“
مرہ نے پوچھا۔”تفصیل جان سکتا ہوں؟“
سردار مسعدہ تفصیل بتاتا ہوا بولا۔”یشکر نامی فارسی لڑکا، شریم بن ثمامہ نے خریدا تھا جو بنو جساسہ کے سردار کا بھائی تھا۔اس لڑکے نے دوبار شریم کی جان بچائی جس کی وجہ سے شریم بن ثمامہ نے اسے منھ بولا بیٹا بنا لیا۔اسی اثناءمیں یشکر بنو جساسہ کی سردار زادی بادیہ بنت شیبہ پر فریفتہ ہو گیا جو یقینا صحرائے اعظم کی حسینہ کہلانے کی حق دار ہے۔بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا، مگر یشکر کی بدقسمتی کہ سردار زادی بادیہ بنت شیبہ پر اتفاقاََ بنو اخنف کے سردار زادے محاسب بن فہراور بنو اسد کے سردار زادے مظمون بن قیس کی نظر پڑ گئی۔دونوں گہرے دوست تھے ،لیکن بادیہ کے حصول کی تمنا میں ان کی دوستی رقابت میں تبدیل ہو گئی۔سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ دومة الجندل کے میلے میں بنو اخنف کے سردار زادے محاسب بن فہر کے شاعر چچا خباب بن ثورنے مظمون بن قیس اور محاسب بن فہر کے درمیان گہری دوستی کو رقابت میں بدلنے کی وجہ بادیہ بنت شیبہ کو ٹھہراتے ہوئے اس کے حسن کا ایسا نقشہ کھینچا تھا کہ میلے کے ختم ہونے کے فوراََ بعد بنو جساسہ میں بادیہ کے لیے کئی قبیلوں کے سردار زادوں کے رشتے پہنچ گئے تھے۔شیبہ بن ثمامہ مصیبت میں آگیا تھا۔ایک کو ہاں کرنا باقی تمام سے تعلقات کا انقطاع تھا۔پس اس نے بادیہ کے تمام امیدواروں کے درمیان شمشیر زنی کا مقابلہ کرایا……..“ وہ تفصیل بتاتا گیا۔ترجمان وہ باتیں بہرام کو بتاتا جا رہا تھا۔آخر میں مسعدہ بن فرازی کہہ رہا تھا۔بنو جساسہ میں بہ مشکل چند بوڑھے مردوزن ،کچھ زخمی اور کچھ کم سن بچے بنو نوفل کی یلغار سے بچ پائے ہیں۔اکا دکا نوجوان ہی بھاگنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اوراب تک وہ بنو نوفل کی شکاری ٹولیوں سے چھپتے پھر رہے ہیں۔بھاگنے والوں میں یشکر سرفہرست ہے جس کی تلاش کے لیے بنو نوفل والے پاگلوں کی طرح صحرائے اعظم کی خاک چھان رہے ہیں۔ وہ جواں مرد نہ صرف خود ان کا گھیرا توڑ کر بھاگ گیا ہے بلکہ ساتھ اپنی محبوبہ کو بھی لے گیا ہے۔بادیہ بھی اس کے ہمراہ ہے۔ “
بنو جساسہ کی تباہی کی خبر وہ پہلے بھی دو تین قبائل سے سن چکے تھے۔لیکن اتنی تفصیل سے انھیں کسی نے بھی نہیں بتایا تھا۔خاص کر یشکر کا ذکر وہ پہلی بار سن رہے تھے۔ دوسرے قبائل کو بنو جساسہ اور بنو نوفل کے جھگڑے کی بابت ضرورمعلوم تھا لیکن یشکر کی ذات سے وہ لاعلم تھے۔ یشکر کے بارے انھیں بس اتنا ہی معلوم تھا کہ وہ بنو جساسہ کے سردار کے بھائی کا منھ بولا بیٹا تھا۔
بہرام کے کہنے پر ترجمان نے مسعدہ سے پوچھا۔”کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یشکر نے کون سی سمت اختیار کی ہو گی؟“
مسعدہ بولا۔”میرے خیال میں تو اسے بنو جمل ، بنو لخم یا ہمارے پاس پناہ کے لیے آنا چاہیے تھا، کیوں کہ یہ تینوں بنو جساسہ کے حلیف قبیلے ہیں۔ ادھر نہ آنے کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یشکر ،بادیہ کو لے کر فارس کی طرف نکل گیا ہے۔اپنے وطن پہنچ کر ہی وہ بنو نوفل کے عتاب سے جان بچا سکتا ہے۔ بنو نوفل کی چند ٹولیاں بھی دبا اور بنو کاظمہ کی جانب روانہ ہو چکی ہیں تاکہ وہ یشکر کو فارس میں داخل ہونے سے پہلے گرفتار کر سکیں۔“
بہرام کے ایک معزز ساتھی نے کہا۔”ان حالات میں تو واپسی کا فیصلہ ہی قابل عمل ہو سکتا ہے۔“
لمحہ بھر سوچ کر بہرام نے خیال ظاہر کیا۔”میرا تو خیال ہے بنو جمل اور بنو لخم کا جائزہ بھی لے لینا چاہیے ہو سکتا ہے یشکر وہاں چھپا ہو۔“
اس کی زبان سے بنو لخم و جمل کا نام سنتے ہی مسعدہ ،ترجمان سے استفسار کرنے لگا۔اور ترجمان نے اس تک بہرام کی بات پہنچا دی۔
وہ اعتماد سے بولا۔”اگر انھوں نے بنو جمل یا لخم میں پناہ لی ہوتی تو میں لاعلم نہ ہوتا۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بنو جساسہ کے حلیف قبائل کے باہر بنو نوفل کی شکاری ٹولیاں مسلسل گشت کر رہی ہیں تاکہ یشکر کو قبیلے میں گھسنے سے پہلے ہی گرفتارکرلیا جائے۔“
سردار مسعدہ سے مزید گفتگو کے بعد بہرام نے واپسی کا ارادہ کر لیا تھا۔یشکر نے جن حالات میں راہ فرار اختیار کی تھی اسے پورا یقین تھاکہ وہ فارس کا رخ کرے گا۔اس کے برعکس ہونے کی صورت میں بھی اسے ڈھونڈنا کارِ دار تھا کہ صحرائے اعظم میں ایک ایسے شخص کی تلاش جو دشمنوں سے چھپتا پھر رہا ہو ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھی۔سب سے بڑھ کر سبرینہ کی جدائی اسے کھل رہی تھی۔اگر یشکر فارس نہ پہنچا ہوتا تو تھوڑے عرصے بعد دوبارہ بھی ادھر کا رخ کر سکتا تھا۔
اس کا ارادہ جان کر اس کے ہمراہ آئے ہوئے سپاہیوں کے چہرے کھل اٹھے تھے۔
٭٭٭
طلوع آفتاب تک وہ تسلسل سے آگے بڑھتے رہے اس دوران یشکر نے کئی بار اسے مخاطب کرنے کے لیے ہمت مجتمع کرنا چاہی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔بادیہ اچھا خاصا آرام کر چکی تھی لیکن یشکر مسلسل سفر میں تھا۔آرام کی ضرورت محسوس کرنے کے باوجود وہ خود کو رکنے پر آمادہ نہ کرسکا تھاکہ بنو جمرہ والے سردار کی موت پر ان کا تعاقب کرنے کی ضرور کوشش کرتے۔اور وہ دوبارہ ان کے ہاتھ نہیں آنا چاہتاتھا۔
”مجھے تھکن محسوس ہو رہی ہے۔“اس کی سماعتوں میں بادیہ کی دلکش آواز گونجی۔ وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولی تھی۔سورج خوب روشن ہوچکا تھا۔یشکر کی نظریں بھی کسی پناہ کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں۔
”آرام کے قابل کوئی مقام نظر آئے تو رکوں۔“
وہ پوچھنے لگی۔” کہاں جارہے ہیں؟“
یشکرچاہت سے بولا۔”جہاں آپ کا دل چاہے وہیں لے جاﺅں گا۔“
” بنو اسد کا رستا معلوم ہے؟“بادیہ کے لہجے میں شامل جھجک اس کے لیے انوکھی تھی۔
”ہم اسی طرف جا رہے ہیں۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے گھوڑے کا رخ وادی کے کنارے اُگے ہوئے درختوں کی طرف موڑ دیا۔وہ درخت ایک ٹیلے کی چوٹی پر موجود تھے۔ وادی کے کناروں کے پر اسے وقفے وقفے سے کافی درخت نظر آئے تھے مگر پہلے نظر آنے والے درخت نسبتاََ نشیب میں تھے۔جبکہ بلند جگہ پر موجود ان درختوں کے نیچے وہ آرام کرنے کے ساتھ دور ہی سے اپنے تعاقب میں آنے والوں کو تاڑ کر حفاظت کا بندوبست کر سکتا تھا۔
درخت کے جھنڈ میں پہنچتے ہی یشکر چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور بادیہ کو نیچے اترنے میں مدد دینے کے لیے اس کے گھوڑ ے کے ساتھ زانو حالت بنا لی۔
گہری نگاہ یشکر پر ڈالتے ہوئے وہ بے تکلفی سے اس کی ران پر پاﺅں رکھ کر نیچے اتر گئی تھی۔
یشکر نے جلدی سے زین کے ساتھ بندھا کمبل کھول کر نیچے بچھایا۔
”بیٹھیں سردار زادی۔“اسے کہہ کر وہ گھوڑوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔دونوں گھوڑوں کی زینیں اتار کر اس نے نیچے رکھیں اور گھوڑوں کے پاﺅں باندھ کر انھیں چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ وادی کے کنارے کافی گھاس اگی تھی۔
بادیہ بہ ظاہر انجان بنے کن اکھیوں سے اس کی طرف متوجہ تھی۔ یشکر کو پانی کی چھاگل کے ساتھ اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ وادی میں بہنے والے تیز رفتار پانی کی جانب متوجہ ہو گئی جو اچھلتا شور مچاتا رستے میں آنے والی ہر چیز پر اپنے زور کا اظہار کرتا جا رہا تھا۔
پانی اس کے حوالے کر کے یشکر نے تھیلے سے عمد ہ تمر نکال کر اس کے سامنے رکھیں اور خود ایک جانب بیٹھ کر وارفتگی سے اسے گھورنے لگا۔اس کے مسلسل گھورنے پر بادیہ نے اضطراری انداز میں پہلو بدلتے ہوئے نصیحت جھاڑی۔” رسوائی ،نظروں پر قابو پانے والوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔“
”انسانی اعضاءپر دل کی حکمرانی مسلّم ہے ،آنکھیں بے چاری تو بے اختیار ہیں۔“یشکر کے فلسفیانہ لہجے کے پیچھے بھی عجیب سا دکھ پوشیدہ تھا۔
”کمزور ارادوں کے مالک افراد کے دماغ پر ہمیشہ دل حاوی رہتاہے۔“کھجوریں چباتے ہوئے اس نے ایک اور وار کیا۔
وہ برا منائے بغیر بولا۔”ہر انسان کی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا ضرور آتا ہے جب دماغ کو دل کی بغاوت پر ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں۔“
”برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟“کھجور کی گھٹلی وادی کی طرف اچھالتے ہوئے اس نے نظر بھر کر یشکر کو دیکھا۔نہ جانے اس کی آنکھوں میں کیسا سحر تھا کہ یشکر کی ساری تھکاوٹ، کسلمندی اوربے آرامی دور ہو گئی تھی۔اس کے ہونٹوں سے پھسلا۔
”آج تک آپ کی کسی بات کا برا مانا ہے۔“
اس کے دل پر اوچھا وار کرتے ہوئے وہ سفاکی سے بولی۔”جب تک گوہ کے دانت قایم ہیں میں تم سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ البتہ اس وقت تمھارے اختیار میں ہوں اور جانتی ہوں ایک وحشی کہاں تک جا سکتا ہے۔ “ (گوہ کے دانت مضبوط ہوتے ہیں کبھی ٹوٹتے ہی نہیں ،یہ عرب اس موقع پر بولتے ہیں جب کوئی کام کبھی نہ کرنے کا ارادہ ہو )
وہ دکھی دل سے بولا۔”آپ کے ارادے سے زیادہ اندیشے نے دل دکھایا ہے۔ آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ یشکر اپنی سردارزادی کو ذرا سی تکلیف دینے کے بعد زندہ بھی رہ سکتا ہے۔“
”مرد ہمیشہ پیار و محبت اور نرمی کے ڈھکوسلے سے عورت کو جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔ناکام ہونے پر اس کی وحشت بے پردہ ہوتی ہے۔“
یشکر کے ہونٹ مسکرانے کے انداز میں کھنچے،مگر چہرے پر چھائی اذیت کو اس کا تبسم نہیں ٹال سکا تھا۔ ” ناکامی تو مجھے اس دن واضح ہو گئی تھی جب آپ نے کہا تھا کہ میرے علاوہ کوئی بھی ہو آپ کو قبول ہے۔رہی سہی کسر بنو جمرہ آکر رفع ہو گئی تھی۔“
”تو تمھیں میرا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے تھا۔بنو جمرہ کا سردار مجھ سے شادی کر رہا تھا اور ایک عرب سردار کی بیوی بننے پر مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔“بادیہ کو اس کے احساسات کی کوئی پروا نہیں تھی۔
”مگر اس وقت تو تم بنو جمرہ کے سردار کو کچھ اور کہہ رہی تھیں۔“یشکر نے اس کی گفتگو یاد دلائی۔
وہ اس کے دل پر چرکا لگاتے ہوئے بولی۔”وہ وقتی ابال تھا کہ اس نے شادی کی اجازت نہیں لی تھی ورنہ ایک عر ب سردار، عجمی غلام سے کہیں بہتر تھا۔“
یشکر برامنائے بغیر بولا۔”آپ شاید میرا عہد بھول گئی ہیں کہ بادیہ بن شیبہ میری زندگی میں کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی۔“
”اور تم اسے محبت سمجھتے ہو۔“بادیہ کے چہرے پر نفرت پھیل گئی تھی۔ ”تمھاری اسی خود غرضی نے بنو جساسہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ،میرے شفیق والدین کو قتل ہونا پڑا، تمھیں بیٹا بنانے والا باقی نہ بچااور تم اب تک اس بے غیرتی پر فخر کر رہے ہو۔“
”محبت کرنے والے اچھے برے انجام سے بے پروا ہوتے ہیں۔وہ سود و خسارے کو پیش نظر نہیں رکھتے۔ان کا مطمح نظر محبوب کا حصول ہوتا ہے اس کے علاوہ ہر بات ثانوی رہ جاتی ہے۔اور یشکر بھی بادیہ سے محبت کرتا ہے۔“
” برے انجام کا تعلق اگر محبت کرنے والے کی اپنی ذات سے ہو ، خسارے میں اگر کوئی دوسرا شریک نہ ہو رہا ہو۔تو یقینا میں بھی اسے محبت کی معراج سمجھتی ،مگر تمھاری وجہ سے تو بے گناہ لوگوں پر قیامت ٹوٹی ،جسے تم اپنی محبوبہ سمجھتے ہو اس کا گھر اجڑا۔واہ تمھاری محبت اور تمھارا فلسفہ۔“یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی تھی۔ ”یہ بتاﺅ تمھیں کیا نقصان پہنچا؟ تمھارے ہاتھ تو ایک مظلوم لڑکی آگئی جس سے جھوٹی محبت کے تم دعوے دار ہو۔ تمھاری ہوس کی تو تسکین ہو رہی ہے۔ اسے گھورنے کی اجازت ہے، چھونے میں کوئی امر مانع نہیں۔ اور اگر جنسی ہوس کا غلبہ ہوا تو اسے برباد کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی بہانہ ہاتھ آجائے گا جس کی توجیح کے لیے محبت کا کوئی نیا فلسفہ جھاڑا جائے گا۔ “ اس کے قہر آلود لہجے نے یشکر کو لرزا دیا تھااور اس وقت یہ عقدہ وا ہوا کہ بادیہ کبھی بھی اس کی نہیں ہو سکتی تھی۔یشکر نے نظریں جھکا لیں۔ سکندر کا تربیت یافتہ ،باتوں کے فن میں ماہر ،حاضر دما غ و حاضر جواب یشکر لاجواب ہو گیا تھا۔ بادیہ کی باتیں حقیقت تھیں۔ سارے خسارے اور نقصان تو اس کے محبوب کے حصے میں آئے تھے۔ اسے کیا فرق پڑا کہ بنو جساسہ تباہ ہوا ،اسے کیا غم کہ بادیہ کے والدین نہ رہے ،اسے کیا فکر کہ شریم زندگی کی بازی ہارا۔دکھ کی لہر نے اس کے دل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس کی حالت اس سپہ سالا ر جیسی تھی جو جیت کے نشہ میں چوردشمن کا تعاقب کرتے ہوئے دشمن کے گھیرے میں آجائے اور تب اسے معلوم ہو کہ دشمن کی پس قدمی تو بس جنگی حکمت عملی تھی۔
خاموشی کا دورانیہ طویل ہونے لگا۔ فضا میں صرف وادی میں اچھلتے شور مچاتے پانی کا شور گونج رہا تھا۔اسے لگا تیز رفتا ر پانی بھی اس کی خود غرضی کو کوس رہا ہے۔ اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بادیہ اس کے بولنے کی منتظر تھی۔خاموشی کے تسلسل کو بادیہ کی آواز ہی نے توڑا تھا۔کمبل پر لیٹ کر اس نے یشکر کے مقدر کا فیصلہ سناتے ہوئے اعلان کیا۔
”یشکر ،مجھے تم سے نفرت ہے۔بلاشبہ ہمارا ایک ہونا گوہ اور مچھلی ملاپ ہو گا۔“ (گوہ کبھی پانی پیتی ہی نہیں۔بس منہ کھول کر ہوا کھینچتی ہے اور اسے کی پیاس بجھ جاتی ہے۔ اس وجہ سے عرب ناممکن کام کو گوہ کے پانی سے تعلق کو ظاہر کرنے سے کرتے ہیں )
دل پر بھاری بوجھ لیے وہ ریت پر لیٹ گیا۔اسے نیند لیے گزشتہ رات اور اس سے پہلے پورا دن بیت چکا تھا۔مگر نیند اس کی آنکھوں سے بہت دور تھی۔اپنے محبوب کے لیے مبغوض ترین شخصیت اس کی تھی۔وہ زیادہ دیر نہیں سوچ سکا تھا۔ اس کی بھرائی ہوئی آواز ابھری۔
” آپ کا مجرم ہوں سردار زادی !….آپ کی تجویز کی ہوئی ہر سزا مجھے قبول ہے۔ اور میں آج اپنا عہد واپس لیتا ہوں۔ آپ جس سے چاہیں شادی کر لینا۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کروٹ لے کر بادیہ سے رخ موڑااسے یقین تھا کہ وہ جواب نہیں دے گی،مگر اس کا یقین گمان فاسد ثابت ہوا تھا۔
”مجھے بنو اسد پہنچا کر تمھاری ذمہ داری پوری ہو جائے گی۔ بنو اسد کا سردار زادہ مجھ سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا۔ امید ہے مجھے خوشی سے قبول کرلے گا۔“
اس کا ارادہ جان کر یشکر جواب دینے کا حوصلہ کھو چکا تھا۔ وہ خاموش لیٹا رہا۔ بادیہ نے بھی چپ سادھ لی تھی۔جلد ہی بادیہ کے گہرے سانس اس کے غافل ہونے کا اعلان کرنے لگے۔ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے وہ بادیہ کے پرکشش و جاذب نظر چہرے کو گھورنے لگا۔نیند کی حالت میں وہ پہلے سے بھی معصوم اور مقدس لگ رہی تھی۔ حقائق کا جائزہ لینے پر وہ اسے حق کی حامی نظر آرہی تھی۔
”آج اور ابھی کے بعد آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔ “خود کلامی کرتے ہوئے اس نے ایک جھٹکے سے رخ تبدیل کیا اور دوبارہ اس کی جانب پیٹھ موڑکر لیٹ گیا۔محبت کوئی اختیاری جذبہ نہیں تھا کہ وہ اسے کھرچ کر دل سے مٹا دیتا،لیکن جذبات کا اظہار اس کے بس میں تھا۔اپنی وارفتگی پر بے نیازی و بے پروائی کو مسلط کر کے وہ بادیہ کی شکایت کو رفع کر سکتا تھا۔دیکھنے اور بولنے کا نظام اس کے دماغ کے تابع تھا۔نپی تلی گفتگواور نظروں کی حفاظت بادیہ کی نفرت کو کم نہ بھی کرتی مزید بڑھاوا دینے سے روک سکتی تھی۔
وہ کافی دیر انھی خیالوں میں کھویا رہا یہاں تک کہ نیند کی دیوی اس پر مہربان ہو گئی۔ بہتے پانی نے باِ دسموم (تپتی لو)کو اتنی ٹھنڈک بخش دی تھی کہ وہ جسم کو نہیں جلا رہی تھی۔درختوں کے سائے نے دھوپ کے سامنے بند باندھا ہوا تھااور تھکاوٹ و بے آرامی نے اسے وقتی طور پر اسے دکھوں سے نجات دلا دی تھی۔
”یشکر ….یشکر….“اس کی نیند میں بادیہ کی گھبرائی ہوئی آواز نے خلل ڈالا تھا۔وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔ بادیہ کے آدھے کمبل پر دھوپ آچکی تھی اور اسی وجہ سے وہ جاگی تھی۔لیکن کمبل کو درست کرنے سے پہلے اس کی نظریں اپنے آنے کی سمت اٹھیں اور دور چھوٹے چھوٹے دھبوں کی صورت دوڑتے ہوئے گھڑسواروں کو دیکھتے ہی اس نے یشکر کو جگانے میں دیر نہیں کی تھی۔یشکر کی سوالیہ نظروں کے جواب میں اس نے گھڑ سواروں کی جانب ہاتھ کا اشارہ کیا۔یشکر نے سرعت سے جگہ چھوڑی اور گھوڑوں کی طرف بھاگا جو پیٹ بھر کردرخت کے سائے میں آکر کھڑے ہو گئے تھے۔
اس نے بادیہ کے گھوڑے پر زین ڈالی کمبل جھاڑ کر زین سے باندھا ،اس دوران گھڑ سوار نزدیک آتے جا رہے تھے۔بادیہ سراسیمگی کی حالت میں اسی جانب متوجہ تھی۔ اس کے چہرے پر لرزتی خوف کی پرچھائیاں ظاہر کر رہی تھیں کہ وہ کتنا کچھ بنو جمرہ کے سردار سے شادی کے حق میں تھی۔
وہ خوف زدہ آواز میں بولی۔”یشکر جلدی کرو وہ قریب آتے جا رہے ہیں۔“
”آپ کا گھوڑا تیار ے سردار زادی۔وادی کا کنارہ نہ چھوڑنا۔اگر زندہ بچا تو آپ کے پاس پہنچ جاﺅں گا۔اور یہ تلوار بھی اپنے پاس رکھیں کام آئے گی۔“اس نے بنو جمرہ کے مقتولوں سے چھینی ہوئی تلواروں میں سے ایک تلوار مع نیام کے بادیہ کی جانب بڑھادی۔
”کک ….کیا مطلب ؟“وہ ہکلا گئی تھی۔
”میں حملہ آوروں کو روکتا ہوں۔اگر اکٹھے بھاگنے کی کوشش کی تودونوں مارے جائیں گے۔آپ اطمینان سے جائیں ،میرے جیتے جی وہ آپ کا پیچھا نہیں کر سکیں گے۔امید ہے میرے مرنے تک آپ ان کی دسترس سے دور جا چکی ہوں گی۔“یہ کہتے ہی اس نے بادیہ کو سوار کرانے کے لیے گھٹنا نیچے ٹیک دیا۔
”جان بوجھ کر مرنے کی کوشش کرنابزدلی کہلاتی ہے۔اب جبکہ ہمارے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے تو پرانے جھگڑوں کو بھول جانا چاہیے۔“عجیب سے لہجے میں کہتے ہوئے وہ گھوڑے پر سوار ہو گئی تھی۔
کوئی جواب دیے بغیر یشکر نے اس کے گھوڑے کو تھپکی دی اور گھوڑا نشیب میں اتر نے لگا۔
بادیہ نے مڑ کر گہری نگاہوں سے اسے گھورا مگر وہ اپنے احساسات کو چھپائے ترکش کی طرف متوجہ ہو گیاتھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ بادیہ کا تشویش ظاہر کرنا صرف اپنی ذات کے لیے تھا۔ یشکر سے اسے صرف اتنی ہی ہمدردی تھی کہ وہ اسے باحفاظت بنو اسد تک پہنچا سکتا تھا۔ورنہ تو اپنی نفرت کا اظہار وہ واضح انداز میںکر چکی تھی۔
سر جھٹک کر اس نے ان خیالات کو دماغ سے نکالا اور حملہ آوروں کو دیکھنے لگا۔انھیں دور ہی سے روکنا ضروری تھا۔ اس طرح ایک تو وہ فوری طور پر حملہ نہیں کر سکتے تھے ، دوسرا بادیہ کودور نکلنے کا زیادہ سے زیادہ وقت بھی مل جاتا۔اس نے حملہ آوروں کو گنا ،ان کی تعداد آٹھ تھی۔وہ کسی بھی صورت انھیں بادیہ تک پہنچنے کاموقع نہیں دینا چاہتا تھا۔
کمان میں تیر ڈال کر اس نے چلّہ پکڑا۔ تیر کو مخصوص زوایے پر بلندکر کے تانت کو پیچھے کھینچا۔ اس کا نشانہ سب سے اگلا گھڑ سوار تھالیکن یشکر کے اندازے کے مطابق ابھی تک وہ تیر کی مار سے دور تھا۔ وہ اس کے مخصوص جگہ تک پہنچنے کا انتظار کرتا رہا۔ جونھی وہ مار کی حد میں پہنچا یشکر نے تیر چھوڑ دیا۔تیر سنسناتا ہوا آسمان کی طرف بلند ہوا۔کیوں کہ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے تیر کو اونچائی کا زاویہ دیاگیاتھا۔
بدنصیب سوار کے گھوڑے کے قدم مخصوص مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی منجھے ہوئے تیر انداز کا تیر بلندیوں کا سفر ختم کر کے گہرائیوں کے سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔تیرکی نوک اس کی چھاتی کو چیرتے ہوئے پار نکل گئی تھی۔تیز چیخ کے اخراج کے ساتھ وہ سر کے بل نیچے گرا۔رہی سہی کسر اس کے یوں گرنے سے پوری ہو گئی تھی۔ اس کے عقب میں آنے والے گھڑسواروں نے اپنے ساتھی کی چیخیں سنتے ہی گھوڑوں کی لگامیں کھینچ لی تھیں۔اس دوران ایک سوار کا گھوڑا مرنے والے کی جگہ سے آگے گزر گیا تھا۔اس کے گھوڑا موڑنے سے پہلے ہی یشکر کی کمان دوسرا تیر بھی اگل چکی تھی۔اس مرتبہ بھی تیر سے ہدف کی تلاش میں کوتاہی نہیں ہوئی تھی۔باقی سوار پلٹ کر پیچھے بھاگے اور ایک چھوٹے سے ٹیلے کی آڑ میں پناہ ڈھونڈ لی۔ انھیں یشکر کا ٹھکانہ معلوم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی۔
اب وہ مار کی حد سے نکل گئے تھے اور یشکر خواہ مخواہ تیر ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔البتہ حملہ آوروں کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ آئی جو درختوں کے جھنڈ سے کافی پہلے ہی زمین میں گڑ گئی تھی۔پہلے تیروں کی ناکامی کے بعد بھی انھیں عقل نہیں آئی تھی ہر آدمی نے تین ،چار تیر ضرور ضائع کیے تھے۔ شاید اپنے ساتھیوں کے مرنے کا غصہ وہ تیر چلا کر نکال رہے تھے۔
ایک دفعہ تو یشکر کے دل میں آیا کہ وہاں سے نکل جائے ،کیوں کہ حملہ آور وں نے کافی دیر تک کمین گاہ سے نہیں نکلنا تھا۔لیکن جس راستے پر اس نے فرار ہونا تھا دو تین فرلانگ کے بعد وہ حملہ آوروں کے چھپنے کی جگہ سے نظر آنے لگ جاتا۔اس نے بھاگنے کا ارادہ تبدیل کر لیا۔بادیہ کا گھوڑا اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔
حملہ آورزیادہ دیر آڑ میں نہیں رکے تھے جلد ہی اسے تین آدمی شمال مشرق کی جانب حرکت کرتے نظر آئے۔یقینا وہ چکر کاٹ کر دو فرلانگ کے فاصلے پر موجود شمالی جانب کے ٹیلوں سے ہو کر مغرب اور شمال کی جانب سے اسے گھیرے میں لینا چاہتے تھے۔شرقی جانب ان کے ساتھی موجود تھے جبکہ جنوب کی جانب ویسے بھی تیرز رفتار سیل جاری تھا۔وہ مکمل طور پر ان کے گھیرے میں آجاتا۔
اس کا دماغ تیزی سے سوچنے میں مصروف تھا۔ حملہ آوروں کا دو پارٹیوں میں تقسیم ہوناجہاں اس کے لیے نقصان دہ تھا وہیں یہ فائدہ بھی تھا کہ وہ تین آدمیوں سے آسانی سے نبٹ سکتا تھا۔ورنہ گھیرا مکمل ہونے کے بعد وہ کچھ نہ کر سکتا۔اور رات کی تاریکی میں دشمن اس پر آسانی سے قابو پا لیتے۔ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے اس نے عنبر کی لگام درخت سے باندھی اور خود نشیب میں اتر کر مشرق کی طرف بڑھنے لگا حملہ آوروں کے مغرب کی طرف پہنچنے سے پہلے اس کا ٹیلے کی آڑ میں چھپے دشمنوں تک پہنچنا ضروری تھا ورنہ وہ دیکھ لیا جاتا۔وادی کے کنارے چلتے ہوئے وہ احتیاط سے آگے بڑھنے لگا۔
وادی میں پانی اسی زور شور سے بہہ رہا تھا۔تیز بارشوں کے بعد پانی کا بہاﺅ کئی کئی دن تک جاری رہتا تھا۔پانی اتنا تیز تھا کہ اگر وہ وادی میں گر جاتا تو یقینا اسے جان کے لالے پڑجانے تھے۔پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوا وہ آگے بڑھتا رہا۔اس دوران وہ پیچھے مڑ کر بھی ایک نظر ڈال لیتا۔
محتاط انداز میں چلتا ہوا وہ ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے آگے بڑھنے پر اسے ٹیلے کے عقب میں لیٹے دشمن کی نظر میں آنا پڑتا۔کیوں کہ وہ جس ٹیلے کی آڑ لے کر وہاں تک پہنچا تھا اس جگہ پر وہ ٹیلا ختم ہو چکا تھا۔گرم ریت پر لیٹ کر اس نے آڑ سے سر نکالا حملہ آوروں کا ایک ساتھی اسے نظر آگیا باقی ٹیلے کی آڑ میں تھے۔وہ اسی جھنڈ کی طرف متوجہ تھا جہاں پہلے یشکر چھپا ہواتھا۔اس جگہ سے اسے تیر سے نشانہ بنانا آسان تھاکیوں کہ اس کا فاصلہ پچاس قدم سے زیادہ نہیں تھا اور اتنے فاصلے سے یشکر کو نشانہ خطا ہونے کا ذرا سابھی اندیشہ نہیں تھا۔ لیکن اس طرح باقی دور ہوشیار ہو جاتے۔ ایک لمحہ سوچنے کے بعد اس نے کمان میں تیر ڈال کر چلّہ کھینچا۔کمان کا رخ آسمان کی طرف کر کے اس نے تیر چھوڑ دیا۔آسان نشانے کے بجائے اس نے مشکل نشانہ اس لیے باندھا تھا کہ دشمنوں کو اس کی جگہ کے بارے اندازہ نہ ہو۔پہلے تیر کے بعد اس نے دوسرا تیر بھی اسی زاویے پر چلا دیا لیکن دوسرے تیر کے لیے چونکہ اسے ہدف نظر نہیں آرہا تھا اس لیے اس نے نظر آنے والے شخص سے ایک قدم بائیں ہدف منتخب کا تھا۔ اگر اس کے پہلو میں دوسرا ساتھی لیٹا ہوتا تو یقینا نشانہ بن جاتا دوسری صورت میں آسمان سے نازل ہونے والا تیر انھیں یشکر کی جگہ کے بارے اچنبھے میں رکھتا۔
یشکر کے کانوں کو جلد ہی دل پسند آواز سنائی دے گئی تھی۔ہدف بننے والے کی دردناک چیخ کافی بلند تھی۔یشکر نے آڑ سے گردن نکال کر جھانکا،وہ بری طرح تڑپ رہا تھا۔تیر آدھے سے زیادہ اس کی چھاتی سے پار نکل گیا تھا۔دوسری چیخ نہ سن کر اسے آخری تیر کے خالی جانے کا یقین ہو گیا تھا۔ اور اسی وقت بچ جانے والے دونوں حملہ آور سراسیمگی کے عالم میں اس ٹیلے سے دور بھاگتے جا رہے تھے۔ وہ اتنے خوفزدہ تھے کہ انھیں اپنے گھوڑے پکڑنے کا خیال بھی نہیں رہا تھا۔اس وقت دونوں آسان شکار ثابت ہوئے تھے۔اتنے کم فاصلے سے وہ یشکرکے تیرسے نہیں بچ سکتے تھے۔لمحہ بھر کے وقفہ سے دونوں تپتی ریت پر گر کر ایڑیاں رگڑ رہے تھے۔
ان کی طرف سے بے فکر ہوتے ہی یشکر درختوں کے جھنڈ کی طرف بھاگا۔ نرم ریت اس کے قدموں کے نیچے سے سرکتے ہوئے اس کی تیز رفتاری کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔واپس اپنی جگہ پر پہنچتے ہی اس نے سامنے نگاہ دوڑائی اور گہرا سانس لے کر رہ گیاغربی جانب ٹیلے پر اسے ایک گھڑ سوار نظر آرہا تھا۔ شمالی جانب بھی دو تین فرلانگ کے فاصلے پر ٹیلوں کی قطار گزر رہی تھی اور انھی ٹیلوں کی آڑ لے کر وہ آگے پہنچا تھا۔ اسے یقین تھا کہ شمالی جانب بھی ان کا ایک یا دو آدمی ضرور موجود ہونے تھے۔ان کے تیئں وہ چاروں طرف گھیرا ڈال چکے تھے۔جبکہ یشکر کے پاس پیچھے جانے کا انتخاب موجود تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اندھیرا ہونے سے پہلے انھوں نے آگے نہیں بڑھنا تھا۔ان کی تعداد کم ہونے کے بعد یشکر کے لیے ان کا مقابلہ کرنا مشکل نہیں رہا تھا لیکن وہ وقت ضائع کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔ رہ رہ کر اس کے دماغ میں بادیہ کا خیال آرہا تھا۔ اکیلی لڑکی کو کوئی بھی مسئلہ درپیش آسکتا تھا وہ جتنا جلدی اس کے پاس پہنچ جاتا اتنا ہی بہتر تھا۔
اس نے زیادہ سوچنے میں وقت ضائع نہیں کیا تھا۔ اس کا دماغ سرعت سے سوچتا تھا اور پھر اتنی ہی تیزی سے وہ عمل کر گزرتا تھا۔ سکندر کی دی ہوئی خصوصی تربیت نے اسے کندن بنا دیا تھا۔ گھوڑے کو وہیں بندھا چھوڑ کر وہ درختوں کی آڑ لیتا ہوا شرقی نشیب میں اترا اور آڑ میسر آتے ہی ان مقتولوں کی طرف بڑھ گیا جو تھوڑی دیر پہلے اس کے تیروں کا نشانہ بنے تھے۔عربی نسل کے وفادار گھوڑے مالکوں کے مرنے کے بعد بھی اس جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ایک مقتول کے سر پر لپٹا ہوا کپڑا کھول کر اس نے اسی کے انداز میں اپنے منھ سر پر لپیٹا اور اس کے گھوڑے پر بیٹھ کر تیزی سے شمال کی جانب بڑھ گیا۔ اس نے وہی رستا اختیار کیا تھا جس پر آگے جانے والے تینوں حملہ آورچل کر گئے تھے۔اس کا لباس حملہ آوروں سے مختلف نہیں تھا اس لیے اسے لباس تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔
ان تینوں کے گھوڑوں کے سموں کے نشان ابھی تک مٹے نہیں تھے۔انھی نشانات پر گھوڑا دوڑاتا ہوا ٹیلوں کے دوسری جانب پہنچ گیا۔اور پھردو ٹیلوں کے درمیانی خلا سے گزر کر وہ مغرب کی جانب بڑھ گیا۔جلد ہی اسے دونوں دشمن نظر آگئے تھے۔ایک ٹیلے کی بنیاد میں درخت کے سائے کے نیچے بیٹھا تھا جبکہ دوسرایشکر پر نظر رکھنے کے لیے ٹیلے کے اوپر اس طرح بیٹھا تھا کہ وہ دوسری جانب سے نظر نہیں آسکتا تھا۔تپتی ریت سے بچنے کے لیے اس نے جسم کے نیچے گھوڑے کی زین رکھ چھوڑی تھی۔وہ بس یشکر کے گھوڑے ہی کی نگرانی کر رہا تھا۔اس جگہ سے اس کے ساتھیوں کی لاشیں نظر نہیں آسکتی تھیں۔
یشکر کے اندازے کے مطابق وہ اسے کافی دور سے دیکھ چکے تھے لیکن اپنے ساتھی کے سفید گھوڑے کی وجہ سے وہ یشکر کو اپنا ساتھی ہی سمجھ رہے تھے۔یشکر بھی پر اعتماد انداز میں ان کی طرف بڑھتا رہا۔
”کیا بات ہے اقرب۔“درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے شخص سے وہ تیس چالیس قدم دور تھا کہ وہ بے صبری سے مستفسر ہوتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
جواب دینے کے بجائے یشکر نے گھوڑے کی رفتار بڑھائی اور اس کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ صاعقہ کی کئی بار کی آزمائی ہوئی دھار کا امتحان لیتا گیا۔ٹیلے کے اوپر بیٹھے ہوا آدمی اپنے ساتھی کا تڑپتا لاشہ دیکھ کر لمحہ بھر کے لیے ششدر رہ گیا تھا۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھی کے روپ میں آنے والا موت کا ہرکارہ ہوگا۔
ابتدائی جھٹکے سے سنبھلتے ہی اس نے ریت پر پڑی کمان اٹھائی اور ترکش سے تیر نکالنے لگا۔
اس کے قریب جانے کی کوشش میں یشکر اس کے تیر کا شکار ہو سکتا تھا۔ اس نے صاعقہ نیچے پھینک کر کلائی کی نیام میں اڑسائی باریک دھار والا خنجر نکالا۔اس کا مقابل کمان میں تیر ڈال کر چلّہ کھینچ ہی رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا خنجر بڑی کمان سے پھینکے ہوئے تیر کی طرح اڑتا ہوا اس کی شہ رگ میں پیوست ہو گیاتھا۔
کمان اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گری اور اس کے دونوں ہاتھ گلے میں دھنسے خنجر کی طرف بڑھ گئے۔اس نے خنجر کو ایک جھٹکے سے باہر نکال کر پھینکا ،اس کے ساتھ ہی اس کے گلے سے خون فوراے کی صورت میں نکلنے لگا تھا۔وہ چکرا کر گھٹنوں کے بل گرا اور اور پھر پیچھے لیٹ گیا۔
یشکر نے نیچے اتر کر اپنا خنجر اور صاعقہ اٹھائی اور دوبارہ گھوڑے پر بیٹھ گیا۔گھوڑا نشیب میں اتار کر وہ مغرب کی جانب آگے بڑھ گیاجہاں اس کا آخری دشمن چھپا تھا۔اس وقت وہ وادی کے متوازی ہی جا رہا تھا۔دو ٹیلوں کے درمیانی خلا کے قریب پہنچ کر وہ احتیاط سے آگے بڑھا۔ٹیلے کی آڑ سے جھانک کر اس نے دشمن کے چھپنے کی جگہ کی طرف نگاہ دوڑائی مگر وہ دکھائی نہ دیا۔ مخالف سمت دیکھنے پر بھی اسے کچھ نظر نہیں آیا تھا۔خلا سے نکلے بغیر وہ ٹیلے کی بلندی پر چڑھنے لگا۔اوپر پہنچ کر اس نے اطراف میں نگاہ دوڑائی۔دور جاتے ہوئے ایک گھڑ سوار پر نظر پڑتے ہی وہ گہرا سانس لے کر ٹیلے سے اترنے لگا۔ یقینا اس نے ٹیلے کی بلندی پر موجود اپنے ساتھی کو یشکر کا شکار بنتے دیکھ لیا تھااور اس کے بعد ڈر کر بھاگنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ کارنہیں تھا۔
یشکر نے ٹیلے سے اتر کر درختوں کے جھنڈ کا رخ کیا۔ایک بار تو اس کا ارادہ بھاگنے والے کا تعاقب کرنے کا ہوا۔اسے پورا یقین تھا کہ تیز رفتار عنبر نے اسے بنو جمرہ میں داخل ہونے سے پہلے جا لینا تھا لیکن اس طرح اس کا بہت زیاد وقت ضائع ہو جاتا اور بادیہ سے اس کا فاصلہ مزید بڑھ جاتا۔ جبکہ وہ جلد از جلد بادیہ کے پاس پہنچنا چاہتا تھا۔بادیہ نے وقت رخصت جس انداز میں بات کی تھی اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اسے یشکر کی ضرورت تھی۔گو وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کی یہ ضرورت بنو اسد جانے تک ہی تھی۔ لیکن یہ بات اسے بادیہ کا خیال رکھنے سے روک نہیں سکتی تھی۔ البتہ اسے بنو اسد پہنچا کر اس کی ذمہ داری ختم ہو جاتی۔اس کے بعد وہ آسانی سے فارس کا رخ کر سکتا تھا۔ اگر سکندر زندہ نہ بھی ہوتا تو اس کی جائیداد یشکر کو بغیر کسی تگ ودو کے مل جانی تھی۔شہنشاہِ فارس کے ذاتی محافظوں تک اس کی رسائی تھی اور وہ سکندر کے ساتھ ان سے کئی بار مل چکا تھا۔
مقتول دشمنوں کے پاس موجود پانی کی چھاگلوں سے اس نے ایک بڑا مشکیزا بھرا ،اپنے ترکش کی کمی ان کے تیروں سے پوری کی اور عنبر پر بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔دشمن کے گھوڑے اور اسلحہ یونھی چھوڑ دینا بے وقوفی تھی۔اور وہ بے وقوف نہیں تھا۔ ان کی تلواریں اور کمانیں اس نے ایک گھوڑے پر باندھیں اور گھوڑوں کی لگامیں ایک دووسرے کی زین سے باندھ کر سب سے آگے والے کی لگام اپنی زین سے باندھ لی۔اس نے بادیہ کو وادی کے ساتھ ساتھ چلنے کا کہا تھا۔اور اب وہ اسی رستے پر آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ جلد از جلد بادیہ تک پہنچ جائے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: