Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 24

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 24

–**–**–

”یہ ہے ملکہ قُتیلہ کا قبیلہ۔“وہ ملکان بن نول کے ساتھ ریت کے ایک بلندٹیلے پر موجود تھی۔ سامنے ہی بنو نسر کی جھونپڑیوں اور خیموں میں جلتی ہوئی دھیمی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔بنو نسرمیں کتوں کے بھونکنے کے علاوہ کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔
”کرنا کیا ہے ؟“ملکان بن نول نے جوشیلے لہجے میں پوچھا۔
”کچھ بھی نہیں، ملکہ قُتیلہ اپنی ماں سے ملے گی اور ہم بنو عذرہ کا رخ کریں گے۔“
ملکان بن نول نے مشورہ دیا۔ ”اگر ملکہ چاہے تو ہم اسے ساتھ لیے چلتے ہیں۔“
”نہیں۔“قُتیلہ نے نفی میں سر ہلایا۔ ”ملکہ قُتیلہ ابھی اتنی طاقتور نہیں ہوئی کہ ماں کو ساتھ رکھ سکے۔ وہ فی الحال بنو نسر ہی میں محفوظ رہیں گی۔“
”تو چلیں؟“
”تم چکر کاٹ کر قبیلے کی دوسری جانب پہنچو۔دونوں گھوڑے بھی ساتھ لے جاﺅ۔وہاں کھجوروں کا ایک جھنڈ ہے جس کے درمیان پانی کا کنواں ہے۔اس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں ہو گا۔ تم چھاگلیں بھرلینا اور وہیں چھپ کر ملکہ قُتیلہ کا انتظار کرنا۔دیر ہونے کی صورت میں گھبرانا نہیں۔ کسی خطرے کی صورت میں میں الو کی تیز آواز نکالوں گی۔ تم فوراََبھاگنے کی کرنا۔“
ملکان نے گھبرا کر پوچھا۔”اور آپ؟“
”ملکہ قُتیلہ کی فکر چھوڑو۔جو کہا ہے اس پر عمل کرو۔“
”جو حکم۔“کہہ کر ملکان ٹیلے سے نیچے اترا۔اپنے گھوڑے کی زین سے قُتیلہ کے گھوڑے کی لگام باندھ کر وہ مغرب کی جانب روانہ ہو گیا تھا۔
قُتیلہ ٹیلے سے اتر کر جھونپڑیوں اور خیموں کے شہر کی طرف بڑھ گئی۔وہ اس کا اپنا قبیلہ تھا۔ تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ عریسہ کے خیمے کے قریب پہنچی۔وہ اس کا اپنا خیمہ تھا اور اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اندر سے بند پردے کو باہر سے کیسے کھولا جا سکتا تھا۔تھوڑی دیر بعد وہ خیمے کے اندر موجود تھی۔ خیمے کے درمیان پڑے چوڑے تخت پر جہاں وہ عریسہ کے ہمراہ لیٹا کرتا تھی۔عریسہ اکیلی لیٹی تھی۔اس کے دل میں ایک لمحہ کے لیے دکھ کی لہر اٹھی جسے اس نے بڑی سختی سے کچل دیا تھا۔ اس نے کبھی جذبات کو خود پر حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا تھا۔اس کا باپ جبلہ کہا کرتا تھا ….”سردار جذباتی نہیں موقع شناس ہوتے ہیں۔“ وہ بھی خود کو سردار ہی سمجھتی تھی۔
خیمے میں روشن دیے کی لو کو اس نے تھوڑا سا اونچا کر روشنی کو تیز کیا اور تخت پردھیرے سے بیٹھتے ہوئے اس نے عریسہ کی چھاتی پر سر رکھ دیا۔
اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں اور قُتیلہ کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر خوشی کے رنگ بکھر گئے تھے۔
”عریسہ کی جان۔“اس نے قُتیلہ کے چھریرے بدن کو بازوﺅں کے گھیرے میں لے لیا تھا۔ ”ماں کو اکیلا چھوڑ کر کہاں چلی گئی تھیں۔“
عریسہ کے گال پر بوسا دیتے ہوئے وہ بے نیازی سے بولی۔”ماں جی بتایا تو تھا ملکہ قُتیلہ اپنی حفاظت کرنا جانتی ہے۔“
”ملکہ ؟“عریسہ کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”ہاں ماں جی ،بنو طرید کی ملکہ قُتیلہ۔“
”یہ کون سا قبیلہ ہے؟“
وہ اطمینان سے بولی۔”یہ ملکہ قُتیلہ کا قبیلہ ہے۔“
”اپنی ماں کو لینے آئی ہو۔“عریسہ قربان ہونے والی نظروں سے اس کے پرکشش چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
”فی الحال تو ملکہ قُتیلہ ملاقات کی غرض سے آئی ہے ،جلد ہی ساتھ بھی لے جائے گی۔“
عریسہ دکھی لہجے میں بولی۔”بنو احمرکا سردار تمھاری تلاش میں آیا تھا۔سردار نے تم سے لاتعلقی کا اعلان کر کے تمھیں طرید قرار دے دیا۔“
”ماںجی !….آپ کا دکھی لہجہ ظاہر کر رہا ہے کہ آپ کو ملکہ قُتیلہ کی صلاحیتوں پر شک ہے۔“
”عریسہ کی جان !….میرے نزدیک تو دنیا کی سب سے نرم و نازک ،کمزور اور معصوم لڑکی میری قُتیلہ ہے۔“
وہ عریسہ کی سادگی پر متبسم ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کہیں ماں جی !“
”ہاں ….ہاں میری ملکہ قُتیلہ۔“عریسہ نے شفقت بھرے انداز میں اس کے ماتھے پر بوسا دیا۔
”ابھی تک کسی ماں نے ایسا بیٹا نہیں جنا جو آپ کی بیٹی کو زیر کر سکے۔اور فکر نہ کرنا ملکہ قُتیلہ جلد ہی اپنی ماں کو لینے آئے گی۔ فی الحال آپ یہیں محفوظ رہیں گی۔“
عریسہ مزاحیہ انداز میں بولی۔”میں منتظر رہوں گی ملکہ قُتیلہ۔“
”اب اجازت دیں۔“اس نے عریسہ کی مہربان چھاتی سے سر اٹھایا۔
”اتنی جلدی ….ابھی تو میں جی بھر کے تمھیں دیکھ بھی نہیں سکی۔“عریسہ گلو گیر ہونے لگی۔
”ملکہ قُتیلہ آپ سے ملاقات کے لیے آتی جاتی رہے گی ماں۔“
”اپنا بہت بہت خیال رکھنا عریسہ کی جان۔“عریسہ نے اسے زور سے اپنے ساتھ بھینچ لیا تھا۔
”ماں جی آپ بھی۔“
اسے رخصت کرنے کے لیے عریسہ بستر سے نیچے اتری۔خیمے کی چوب کے ساتھ لٹکا ہوا ایک مشکیزہ اتار کر اس نے قُتیلہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔سردار کے پاس سرخ شراب کا ایک مٹکا بہ طور تحفہ آیا تھا اس نے مجھے بھی ایک مشکیزہ دیا۔اس وقت تمھاری بہت زیادہ یاد آئی تھی۔تم سرخ شراب بہت شوق سے پیتی ہو نا۔“عریسہ مشکیزہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے جذباتی ہو گئی تھی۔
”آپ بھی ملکہ قُتیلہ کو کبھی نہیں بھولیں۔“ماں سے الوداعی معانقہ کر کے اس نے ماں کے گالوں پر بوسا دیا۔عریسہ نے اس کی آنکھیں اور پیشانی چومی۔اور قُتیلہ اسے وہیں رکنے کا کہہ کر خیمے سے باہر نکل آئی۔
اچانک ایک کتا اس کے قریب آکراگلے پنجوں کے ذریعے اس کی ٹانگوں سے لپٹنے لگا۔
”حطّام۔“وہ محبت بھرے انداز میں کتے کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی۔بھیڑئے کی سی رنگت والا جسیم کتا ،اس کے چھوٹے بھائی طرفہ کا تھا۔ لیکن وہ قُتیلہ کے ساتھ بھی بہت مانوس تھا۔
”چلو میرے ساتھ۔“اس کے پٹے میں ہاتھ ڈال کر وہ مطلوبہ سمت کی طرف بڑھ گئی۔عریسہ کے خیمے کے ساتھ ہی گھوڑوں کا اصطبل تھا۔کمر سے بندھا خنجر نکال کر اس نے خیمے سے ایک لمبی رسی کاٹی اور کتے کے پٹے سے باندھ کر ہاتھ میں تھام لی۔ حطّام اس سے کافی مانوس تھا لیکن پھر بھی وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔
کنویں کے قریب پہنچتے ہی اچانک حطّام کے کان کھڑے ہوئے اور اس کے منھ سے غراہٹ برآمد ہوئی۔قُتیلہ جلدی سے اس کا سر سہلا کر اسے سمجھانے لگی کہ وہاں موجود شخص ،اپنا آدمی تھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے دھیمے لہجے میں ملکان کو آواز دی۔
”میں تیار ہوں ملکہ۔“ملکان گھوڑوں کو پکڑے قریب آنے لگا۔سترہ اٹھارہ کے چاند نے اچھی خاصی روشنی پھیلائی ہوئی تھی۔”یہ کتا غالباََ آپ کا اپنا ہے ؟“اس کی نظر دور ہی سے کتے پر تھی۔
”اس کا نام حطّام ہے اور یہ میرے چھوٹے بھائی کا۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے کندھے سے لٹکا شراب کا مشکیزہ اپنے گھوڑے کی زین سے باندھا۔حطّام کی رسی بھی زین سے باندھ کر وہ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گئی۔
”واقعی حطّام ہی لگتا ہے۔“تعریفی انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے ملکان بھی گھوڑے پر سوار ہو گیا تھا۔(حطّام نام عربی میں شیر ببر کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس کے معنی ہیں ” کچومر نکال دینے والا۔“شاید یہ بات قارئین کے لیے حیرانی کا باعث ہو کہ شیر کے لیے عربی زبان میں ساڑھے تین سو نام مستعمل ہیں)
کھجوروں کے جھنڈ سے نکل کرملکان نے ستاروں کی مدد سے بنو عذرہ کے راستے کا تعین کیا اور انھوں نے گھوڑوں کی رفتار تیز کر دی۔بنو نسر کے مضافات سے نکلتے ہی اچانک قُتیلہ کی نظر ایک ٹیلے کے دامن میں جلتی آگ پر پڑی۔
وہ با آواز بلند بولی۔”یہ روشنی ملکہ قُتیلہ کو حیران کر رہی ہے۔“
ملکان نے رائے دی۔”شاید کوئی قافلے والے ہوں۔“
قُتیلہ نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،ایک تو یہ جگہ رستے سے ہٹ کر ہے۔دوسرا بنو نسر کے مضافات میں پڑاﺅ ڈالنے والے قافلے کا اتنی رات گئے محفوظ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔“
”رستے ہی میں آرہے ہیں جائزہ لے لیتے ہیں۔“
”چلو۔“قُتیلہ نے گھوڑے کا رخ اس جانب موڑ دیا تھا۔حطّام رسی سے بندھا پیچھے پیچھے آرہا تھا۔
الاﺅ کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا جاگ رہا تھا۔تین آدمی بستروں میں گھسے آگ کے دائیں بائیں لیٹے تھے۔آگ جلانے والا گھوڑوں کی ٹاپ سنتے ہی کھڑا ہو گیا تھا۔دونوں اس کے قریب جا کر رک گئے۔
”بنو نسر کے مضافات میں تمھاری موجودی حیران کن ہے۔“گفتگو کا آغاز قُتیلہ نے کیا تھا۔ اسی وقت ان کا ایک اور آدمی بھی بستر سے اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔شاید جاگنے والے نے اسے پاﺅں سے ٹہوکا دیا تھا۔
”کیا تمھارا تعلق بنو نسر سے ہے۔“کہتے ہوئے اس نے الاﺅ سے ایک جلتی لکڑی پکڑ کران کی شکل دیکھنے کے لیے اوپر اٹھائی۔قُتیلہ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اس نے لکڑی نیچے پھینکی اور ”شن “کی آواز کے ساتھ اس کی تلوار نیام سے باہر آگئی تھی۔
”امریل ،ساتھیوں کو جگاﺅہمارا انتظار اختتام پذیر ہوا۔سردار زادی تشریف لے آئی ہے۔“
اس کی بات نے قُتیلہ کو ششدر کر دیا تھا۔اسی دوران امریل جھنجوڑ کر اپنے ساتھیوں کو جگا چکا تھا۔
”تمھارا تعلق بنو احمر سے ہے۔“قُتیلہ ان کی تلواروں سے ذرا بھربھی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی۔
”خوب پہچانا سردار زادی!….جس دن تم سردارذواب بن ثابت کو سوتے میں قتل کر کے بھاگیں اس کے اگلے دن سے سردار نجار بن ثابت کے حکم پر ہماری ٹولیاں تمھاری تلاش میں گھوم رہی ہیں۔ہم چاروں عموماََ بنو نسر کے مضافات میں گھومتے رہتے ہیں کیوں کہ ہمیں اندازہ تھا کہ تم اپنے قبیلے میں ضرور لوٹو گی۔“
”اس یقین کی وجہ؟“وہ یوں بے پروائی سے سوال پوچھ رہی تھی جیسے اسے پکڑے جانے کا کوئی خوف ہی نہ ہو۔
”صحرائے اعظم میں اکیلی لڑکی کا بغیر سہارے زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔“
قُتیلہ نے منھ بناتے ہوئے پوچھا۔”اب کیا اپنے تیسرے سردار کو بھی ملکہ قُتیلہ کے ہاتھوں ضائع کرانا چاہتے ہو۔“
”پہلے والے سردار سادہ دل تھے کہ ایک دشمن لڑکی کی موجودی میں سو گئے۔سردار نجار بن ثابت ایسی غلطی نہیں دہرائے گا۔“مسلسل پہلا آدمی ہی قُتیلہ سے گفتگو کر رہا تھا۔باقی تینوں تلواریں سونتے بات چیت کے اختتام کے منتظر تھے۔ملکان بن نول بھی بے نیازی سے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھا تھا۔اسے اپنی شمشیرزنی پر تو اعتماد تھا ہی سہی اس سے بڑھ کر وہ قُتیلہ کی صلاحیتوںکا معترف تھا۔اس نوجوان لڑکی سے وہ دل کی گہرائیوں سے متاثر تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کو اس تک لے جانے میں کامیاب ہو سکو گے تو ایسی نوبت آئے گی نا۔“
”ہا….ہا….ہا۔“چاورں نے بیک وقت قہقہ بلند کیا تھا۔پہلا آدمی بولا۔”تم شاید اپنے ساتھی پر تکیہ کیے بیٹھی ہو۔یقین مانو اس کے گلے میں رسی ڈال کر ہم یہاں سے دوڑاتے ہوئے بنو احمر تک لے کے جائیں گے۔“
”بڑے ظالم ہو ،ملکہ قُتیلہ توڈر گئی۔“قُتیلہ نے سہمنے کی اداکاری کی۔
”تمھارا خود کو ملکہ کہنے کا مطلب ہے تمھیں بنو نسر کی سرداری مل گئی ہے۔“مسلسل ایک ہی آدمی انھیں مخاطب تھا۔شاید ان کا سرغنہ وہی تھا۔
”بنو نسر کی سرداری بھی مل جائے گی۔اور اب ملکہ قُتیلہ تمھاری جان بخشی کر کے جا رہی ہے۔ کوشش کرنا آئندہ سامنا نہ ہو۔“
چاروں نے بے ساختہ قہقہ بلند کیا۔ سرغنہ بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے بولا۔ ”بھولی سردار زادی ،اگر تمھارے ساتھ جاں نثاروں کی ٹولی بھی موجود ہوتی تو نجار بن ثابت کا غلام امریل اکیلاتمھیں کافی ہوتا۔ اس وقت تو تم صرف دو آدمی ہو۔“
قُتیلہ کی نظریں پہلی بار اس کے عقب میں موجود کڑیل حبشی پر پڑیں۔یقینا اس کا تعلق صحرائے اعظم سے نہیں تھا۔
”چلو پھر ملکہ قُتیلہ اور امریل مل کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔“چھلانگ لگا کر گھوڑے سے نیچے اترتے ہوئے اس نے تلوار بے نیام کر لی تھی۔
لمبے تڑنگے امریل کے منھ سے غراہٹ نکلی اس نے جھک کر ریت پر پڑی تلوار اٹھائی اور سرغنہ کو ہاتھ سے ایک جانب دھکیلتا ہوا وہ قُتیلہ کی جانب بڑھا۔اس کے دوسرے ساتھیوں نے روشنی بڑھانے کے لیے جلدی سے خشک لکڑیوں کا گھٹا آگ پر رکھ دیا تھا۔
امریل نے جنونی انداز میں تلوار گھمائی ،اس کا وار روکنے کے قُتیلہ نے اپنی تلوار سامنے کی۔ وہ امریل کی وحشیانہ قوت اور اس کے وار کی شدت کا اندازہ نہیں کر سکی تھی۔پہلے ہی وار سے اس کے ہاتھ سے تلوار نکل کر دور جا پڑی تھی۔ایک لمحے کے لیے وہ سن ہو کر رہ گئی تھی اسی وقت چیتے کی سی پھرتی سے امریل نے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالا اگلے ہی لمحے چھریرے بدن والی طویل قامت قُتیلہ اس کے بازو سے لٹک رہی تھی۔
”امریل فیصلہ کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا کرتا اورنہ قابو میں آئی لڑکی سے خراج کی وصولی میں تساہل برتتا ہے۔یہ کہتے ہوئے اس نے قُتیلہ کو نیچے پھینکا ، چوڑے پھل والی دودھاری تلوار ریت میں گاڑی اور اپنا بالائی لباس اتار کردور پھینک دیا۔
سرغنہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں امریل کا بازو پکڑنے کی کوشش کی۔”نہیں امریل ،یہ سردار کی ہے۔“
امریل کا ہاتھ گھوما ،چہرے پر پڑنے والے تھپڑ نے سرغنہ کو دور اچھال دیا تھا۔”اس معاملے میں امریل کو کسی کی حکمرانی قبول نہیں ہے۔ایسی نمکین دوشیزہ کے لیے امریل اپنے باپ کی گردن بھی اتارنے سے دریغ نہیں کرے گا۔“سرغنہ کا انجام دیکھے بغیر امریل ریت پر ششدر پڑی قُتیلہ کی جانب بڑھا۔خشک لکڑیوں کی وجہ سے آگ کے شعلے مزیدبلند ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ماحول خوب روشن ہو گیا تھا۔امریل کا سیاہ جسم آگ کی لپٹوں میں چمک رہا تھا۔اس کے مضبوط بازوﺅں کی تڑپتی ہوئی مچھلیاں دیکھنے والوں پر خوف طاری کر رہی تھیں۔ملکان بن نول نے اضطراری انداز میں گھوڑے سے چھلانگ لگاتے ہوئے تلوار بے نیام کی لیکن امریل کی جسمامت دیکھتے ہوئے اس کا دل خوفزدہ انداز میں دھڑک رہا تھا۔اسے مکمل یقین تھا کہ وہ قُتیلہ کو اس وحشی کے ہاتھوں پامال ہونے سے نہیں بچا سکتا تھا۔لیکن پھر بھی وہ آخری کوشش کرنا چاہتا تھا۔
٭٭٭
بنو جمرہ کے حملہ آوروں سے ٹکراﺅ میں اس کا کافی وقت ضائع ہو ا تھااور اب غروب آفتاب سے پہلے وہ بادیہ تک پہنچ جانا چاہتا تھا،لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں لگ رہا تھا کیوں کہ سورج کا جھکاﺅ واضح طور پر مغرب کی سمت میں ہو گیا تھا۔غروب آفتاب کچھ پہلے اس کی نظر چھوٹے سے قبیلے پر پڑی۔تین چار درجن خیموں پر مشتمل قبیلے کو پہلے اس نے کوئی قافلہ سمجھا تھا۔لیکن پھر بھیڑ بکریوں ،عورتوں اور بچوں کو دیکھتے ہی اسے خیال تبدیل کرنا پڑا تھا۔رستا چھوڑ کر وہ اس قبیلے کی طرف بڑھ گیا۔اس کے خیموں کے قریب پہنچنے تک چند جوان اور دو تین بوڑھے خیموں سے باہر نکل آئے تھے۔دو تین جوان لڑکیاں بھی اس مجمع کے عقب میں کھڑی یشکر کو جھانک رہی تھیں۔
”تمھاری شام سلامتی والی ہو۔“گھوڑے سے چھلانگ لگا کر نیچے اترتے ہوئے اس نے گفتگو کی ابتدا کی۔
”تم پر بھی ہبل کی نعمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔“سفید ریش بوڑھے نے جوابی سلام کہا۔
”میرا نام یشکر ہے اور میں ایک لڑکی تلاش میں آیا ہوں۔“
بوڑھابولا۔”میرا نام قیدوم بن اکتف بن قطام ہے۔اور میں بنو قطام کا سردار ہوں۔“
”محترم سردار ،یقینا آپ میری ساتھی لڑکی کے بارے معلومات رکھتے ہوں گے۔“ یشکر نے بات آگے بڑھائی۔
سردار قیدوم مایوس کن لہجے میں بولا۔”افسوس کہ نفی میں سر ہلانا میری مجبوری ہے۔“
یشکر نے سردار کے چہرے کو غور سے دیکھا اور بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔ ” اثبات میں ہلا کر ہی آپ سر کو کٹنے سے بچا سکتے ہیں۔“
”تم اکیلے ہو کر پورے قبیلے کو دھمکی دینے کی جرّات کررہے ہو۔“قیدوم کے لہجے میں غصے سے زیادہ حیرانی کا عنصر نمایاں تھا۔
”میں یہ دعویٰ تو نہیں کرتاکہ پورے قبیلے کو فنا کر دوں گا ،البتہ یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ قتل ہونے والوں کی تعداد تمھارے اندازے سے کہیں زیادہ ہو گی۔اس لیے بہتر ہے لڑکی میرے حوالے کر دو یا اس تک میری رہنمائی کر دو۔کیوں یہ میں نہیں مان سکتا کہ یہاں سے گزرنے والا مسافر بنو قطام والوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر آگے گزر جائے۔“
سردار مدبرانہ لہجے میں بولا۔”دیکھو جوان ،ہم لڑائی بھڑائی والے نہیں ہیں اور نہ میں جھوٹ کہہ رہا ہوں۔گو ہماری توہین ہو گی لیکن پھر بھی تمھیں ہمارے خیموں میں جھانکنے کی اجازت ہے۔“
”میرے پاس سات فالتو گھوڑے ہیں جو میں نے دشمنوں سے چھینے ہیں ،اس کے علاوہ اتنی ہی کمانیں اور تلواریں ہیں۔تم اچھی طرح جانتے ہو گے کہ ایک گھوڑے کے بدلے جوان لڑکی کا سودامہنگا نہیں ہوگا۔میں یہ سارے گھوڑے اور تلواریں تمھارے حوالے کرنے کو تیار ہوں۔لیکن مجھے وہ لڑکی چاہیے۔“دھمکی کارآمد نہ ہوتی دیکھ کر وہ سودے بازی پر اتر آیا تھا۔
بوڑھا قیدوم مایوسی سے بولا۔”جوان ،تمھاری پیشکش نہایت ورغلانے والی ہے،لیکن افسوس میرا جواب اب بھی نفی میں ہے۔ البتہ اس سے آدھی پیشکش پر بھی میں اپنے قبیلے کی خوب صورت ترین لڑکی تمھارے نکاح میں دینے کو تیار ہوں۔“
یشکرنے دل گرفتگی سے پوچھا۔”کیا واقعی تم نے یہاں سے کسی لڑکی کو گزرتے نہیں دیکھا۔“
سردار نے کہا۔’میں ہبل کی قسم کھا تا ہوں کہ ہم نے نہ تو کسی لڑکی کو پناہ دی ہے اور نہ کسی کو یہاں سے گرزتے دیکھا ہے۔البتہ دو فرسخ آگے ایک بڑا قبیلہ بنو عطفان موجود ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کی مطلوبہ لڑکی وہاں پناہ گزین ہو۔“
یشکر نے پوچھا۔”بنوعطفان کے سردار سے کوئی واقفیت ہے؟‘
قیدوم نے اثبات میں سر ہلایا۔” خصرامہ بن قلاص سے میرے بہت اچھے تعلقات ہیں۔“
” لڑکی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کرنے کا وعدہ تمھیں ان تلواروں اور گھوڑوں کا مالک بنا سکتا ہے۔“
”معزّز جوان !….ہم تیار ہیں۔میں اپنے دوبہترین جوان آپ کے ساتھ بھیجوں گا۔امید ہے وہ آپ کی اچھی رہنمائی کریں گے۔لیکن یاد رہے اس ضمن میں ہم صرف کوشش ہی کر سکتے ہیں۔“
”منظور ہے۔“یشکر نے گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھی پہلے گھوڑے کی لگام کھول کرسفید ریش بوڑھے کی طرف بڑھا دی۔اس انجان علاقے میں کسی کی مدد کے بغیر بادیہ کو ڈھونڈنا مشکل تھا۔ ان فالتو گھوڑوں اور تلواروں کے بدلے ، چند خیر خواہ پیدا کر لینامناسب سودا تھا۔
بوڑھا سردارگھوڑوں کی لگام ایک اور آدمی کے حوالے کرتاہوا پر مسرت لہجے میں بولا۔” یقینا آپ آج رات ہمیں خدمت گزاری کا موقع دیں گے ؟“
” بس اتنی دیر رکو ں گا کہ میں اورمیرا گھوڑا پیٹ بھر لیں۔“
سردار نے ایک آدمی کو یشکر کا گھوڑا پکڑنے کا اشارہ کیا اور اسے ساتھ لے کر اپنے خیمے میں گھس گیا۔کھانے سے پہلے سردار نے اسے انگور کی بہترین شراب پیش کی بعد میں گوشت کے شوربے اور جَو کی روٹی کے ساتھ اس کی تواضع کی۔سیر ہونے کے بعد بھی اس نے تھوڑی دیر انتظار کیا تاکہ عنبر بھی پیٹ بھر لے۔اس اثناءمیں قیدوم نے دو جوان اس کی رہنمائی کے لیے تیار کر لیے تھے۔اندھیرا چھا چکا تھا جب وہ تینوں بنو قطام سے نکلے۔یشکر کی رہنمائی کرنے والے ایک جوان کا نام اکتف بن قیس اور دوسرے کا امثل بن حرام تھا۔بنوعطفان کے مضافات میں داخل ہوتے ہی بھونکتے کتوں نے ان کا استقبال کیا تھا۔اکتف بن قیس اورامثل بن حرام کی وجہ سے بغیر کسی رکاوٹ کے اس کی رسائی بھاری جسامت والے بنوعطفان کے سردار کے خیمے تک ہو گئی تھی۔بادیہ کی آمد سے لا علمی کا اظہار کرنے کے بعد بنوعطفان کا سردار اشتیاق امیز لہجے میں کہنے لگا۔
”دو دن پہلے بنو نوفل کے آدمیوں کی ایک ٹولی جوان لڑکے اور لڑکی کو ڈھونڈتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے۔وہ مرد کا جو حلیہ بتا رہے تھے وہ بالکل تمھارے مشابہ تھا۔“
”کتنے آدمی تھے اور تم نے انھیں کیا جواب دیا۔“یشکر نے بے صبری سے پوچھا۔
”سات شہ سوار تھے۔اورتم دونوں یا کسی ایک کو پکڑوانے والے کو سوسو اونٹوں کا انعام دینے کا وعدہ کر رہے تھے۔“بنوعطفان کے سردار کو یشکرکو پہچاننے میں غلطی نہیں ہوئی تھی۔ یشکر کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں عجیب وحشت بھری چمک نمودار ہو گئی تھی۔ یوں جیسے پرانے دشمن کو دیکھنے کے بعد کسی کی آنکھوں میں پیدا ہوتی ہے۔
”اب کیا ارادہ ہے؟“یشکر پرسکون نظر آنے کی پوری کوشش کر رہا تھالیکن اس وقت اس کی حالت بھیڑیوں کے غول میں پھنس جانے والے چیتے کی سی تھی۔
قوی ہیکل سردار خصرامہ بن قلاص بے پروائی سے بولا۔”بنو قطام ہمارا حلیف قبیلہ ہے اور تم بنو قطام کے مہمان ہو۔بنو عطفان کی حدود میں تم سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔“
”لیکن وہ لڑکی توبنو قطام کی مہمان نہیں تھی ….“یشکر بہ غور دیوقامت سردار کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔خیمے میں لٹکی مشعل کی روشنی براہ راست سردار کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔اوراس کی آنکھوں میں ابھرنے والی وحشیانہ چمک کسی خاص خطرے کی نشان دہی کر رہی تھی۔
”صحیح کہا لیکن لڑکی کی بابت کچھ کہنا مجھے وقت کا ضیاع لگتا ہے۔“
”یاد رکھنابادیہ کی طرف غلط ارادے سے بڑھنے والے ہاتھ زیادہ عرصہ تک کندھوں سے جڑے نہیں رہ سکتے۔“ یشکر کو یقین کی حد تک شبہ تھا کہ بادیہ وہیں موجود تھی۔
سردار زہریلے لہجے میں بولا۔”تمھاری خوش قسمتی کہ تم بنو قطام کے حوالے سے اس خیمے میں موجود ہو۔ اس لیے بنو عطفان کی حدود تک تمھیں امن حاصل ہے۔“
یشکر ترکی بہ ترکی بولا۔”شاید یہ تمھاری خوش قسمتی ہو کہ میں بنو قطام کے حوالے سے تمھارے پاس آیا ہوں۔“
”اگر دل چاہے تو بنو قطام اور بنوعطفان کو درمیان سے ہٹا دیتے ہیں۔“یشکر کے سامنے پڑے آب خورے کو صراحی سے تازہ کرتے ہوئے وہ للکارنے کے انداز میں بولاتھا۔
اکتف بن قیس نے معاملہ سلجھانے کے لیے دخل اندازی کی۔”معزز سردار ،یقینا ہمارا مہمان اپنی ساتھی کی جدائی میں ذہنی طور پر منتشر ہے۔“
سردار کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”حفظِ مراتب کو مقدم نہ رکھنے والوں کا انجام عموماََ بھیانک ہوا کرتا ہے۔“
یشکر استہزائیہ لہجے میں بولا۔”بھرے قبیلے کے سر پر کسی اکیلے آدمی کو دھمکانا آسان ہے سردار !…. کبھی بنوعطفان سے باہر نکل کر یشکر سے ان الفاظ میں مخاطب ہو کر دیکھو۔“
”کہہ تو دیا دونوں قبیلوں کو درمیان سے ہٹا دیتے ہیں، تم بنو قطام کی پناہ واپس دے دو میں بنو عطفان کو بیچ سے ہٹا دیتا ہوں۔“دیو قامت سردارکی آنکھوں میں بھری وحشت پہلے سے بڑھ گئی تھی۔
”معزز سردار ،اجنبی کی طرف سے ہم معذرت کرتے ہیں۔ یہ سردار خصرامہ بن قلاص کی شہ زوری سے ناواقف ہے۔“ امثل بن حرام نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی۔
”کیا سردار کو یقین ہے کہ امثل بن حرام میرے خیالات کی صحیح ترجمانی کر پایا ہے۔“یشکر کا انداز تاﺅ دلانے والا تھا۔
”اخفش….“سردار خیمے کے کونے میں کھڑے غلام کی طرف متوجہ ہوا۔”بنوعطفان میں منادی کرا دو کہ ابن قلاص کا مدمقابل پیدا ہو گیا ہے۔“
”جی سردار۔“ کہتے ہوئے غلام خیمے سے باہر نکل گیا۔جبکہ سردار خیمے کا درمیانی پردہ ہٹا کر عقبی حصے میں چلا گیا تھا۔اس کے انداز سے واضح نظر آرہا تھا کہ وہ ہاتھ آئے یشکر کو جانے نہیں دینا چاہتا۔
امثل بن حرام ،یشکرکوسرگوشی میں مخاطب ہوا۔”جوان ،معذرت کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ تم سردار خصرامہ بن قلاص کو نہیں جانتے کہ کتنا خطرناک شخص ہے۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”وہ بھی تو یشکر کو نہیں جانتا۔“
امثل بن حرام دبے لہجے میں بولا۔” تمھاراسردار کے خلاف تلوار سونتنا بنو قطام کواپنے عہد سے بری کردے گا۔“
”بادیہ کو نقصان پہنچنا میرے لیے موت سے بڑی سزا ہے۔“
امثل نے جھلاتے ہوئے کہا۔”کس نے کہاہے کہ لڑکی یہاں موجود ہے۔“
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”مجھے سردار خصرامہ کی صرف نیت پر شک نہیں ہے۔ اس کی آنکھیں بھی ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ کچھ چھپا رہا ہے۔“
”تم بلا وجہ شک کر رہے ہو۔“امثل اسے سمجھانے کی پوری کو شش کر رہا تھا۔
یشکر نے نفی میں سر ہلایا۔”بادیہ ،بنو قطام اور بنوعطفان کے علاوہ کہیں نہیں جا سکتی۔ سردار قیدوم نے مجھے مطمئن کر دیا ہے جبکہ سردار خصرامہ کا انداز واضح کر رہا ہے کہ وہ انعام کے اونٹ چھوڑنا نہیں چاہتا۔“
”امثل ،جب یہ تمھاری بات سمجھنے کو تیار نہیں تو اسے اپنے حال پر چھوڑ دینا ہی مناسب ہو گا۔“ اکتف بن کیف نے زبان کھولی۔
یشکر متبسم ہوا۔”اکتف نے عقل مندی کا دامن تھاما ہے۔“
”اسے ذرا سابھی نقصان پہنچنے پر سردار قیدوم کی خفگی کا سامنا ہمیں کرنا ہوگا۔“امثل نے پریشانی ظاہر کی۔
”اگر یہ زندہ بچ گیا تو سردار قیدوم کو خود ہی مطمئن کر دے گا۔اور مر گیا تو ہمیں مبالغہ آرائی کی آزادی مل جائے گی۔“اکتف نے صاف گوئی سے اپنا ارادہ ظاہر کر دیا تھا۔
”اکتف جیسے لوگ ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔“اس مرتبہ بھی یشکر نے اسے سراہنے میں بخل سے کام نہیں لیا تھا۔
”یقینا سردار قیدوم کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری ہمیں ہی نبھانا پڑے گی۔ اور وہ اتنی آسانی سے نہیں مانیں گے۔“ امثل بن حرام ،اکتف سے متفق نہیں ہو پا رہا تھا۔وہ سردار قیدوم بن اکتف کو جانتا تھا۔قیدوم بن اکتف ایماندار اور عہد کا پاس رکھنے والا شخص تھا۔یشکر کو اس نے بنوعطفان میں مطمئن کر کے بھیجا تھا۔ اب یشکر کو کوئی نقصان پہنچنے کی صورت میں سردار نے سخت خفا ہوجانا تھا۔اور اس کے تئیں یشکرنے بلا شک و شبہ سردار خصرامہ بن قلاص کے مقابلے میں مارا جانا تھا۔
اکتف نے اس کی بات کا جواب دینا فضول سمجھا تھا۔ اسے خاموش پاکر امثل بن حرام یشکر کوسمجھانے کی کوشش میں مصروف ہوگیا،جبکہ اکتف بن قیس لاتعلقی کے انداز میں بیٹھا رہا۔اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یشکر جیسے لوگ مار کھانے کے بعد ہی سدھرتے ہیں۔اسے یشکر کا بنو قطام میں پہنچ کر سردار قبیلہ کو دھمکی دینا بھولا نہیں تھا۔اور اب وہ چاہتا تھا کہ سردار خصرامہ بن قلاص کے ہاتھوں ہی یشکر کو سبق ملے۔
اسی کشمکش کے دوران سردار خصرامہ بن قلاص کا غلام اخفش اندر داخل ہوا۔
”آپ لوگوں کو سردار یاد کر رہے ہیں۔“
”سردار تو خیمے کے اندر ہے۔“یشکر نے حیرانی کا اظہار کیا۔
اخفش نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں سردارکافی دیر پہلے خیمے کے عقبی دروازے سے باہر نکل گئے تھے۔“
یشکر سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
”اب بھی وقت ہے جوان ،سردارخصرامہ بن قلاص سے معذرت کرلینا تمھاری جان اور ہماری عزت بچا لے گا۔اور اگر تم نے مرنے کی ٹھان ہی لی ہے تو خودکشی کرنے اور بھی کئی طریقے ہیں۔“امثل بن حرام کسی طرح اسے مقابلے سے باز رکھنا چاہ رہا تھا۔
یشکر بے نیازی سے بولا۔”اگر سردار ، مجھے بنو غطفان کی تلاشی لینے کی اجازت دے دے تو تلاشی کے بعد مجھے معذرت کرنے میں تامّل نہیں ہوگا۔“
امثل بن حرام نے کہا۔”تھوڑی دیر بعد تم نے جان بخشی کے لیے ہمارا دامن تھامنا ہے۔اس لیے مناسب یہی ہوگا کہ ابھی سے اپنے ارادے سے باز آجاﺅ۔شمشیر زنی میں تھوڑی بہت مہارت رکھنے سے تم خصرامہ بن قلاص جیسے شہ زور کو شکست نہیں دے سکتے۔“
”امثل بن حرام !….تمھاری زبان ، نصیحت و مشورے کی حدود عبور کر کے طنز و تشنیع پر اتر آئی ہے۔ یقینا تم سردار خصرامہ اور میری لڑائی کا نتیجہ دیکھنے سے پہلے مرحوم کہلانا پسند نہیں کرو گے۔“
امثل بن حرام ہونٹ بھینچ کر خاموش ہو گیا تھا۔اس دوران وہ اخفش کی رہنمائی میں چلتے ہوئے سردار کے خیمے سے پچاس ساٹھ قدم دور لوگوں کے ہجوم میں پہنچ گئے تھے۔وہاں کھلے میدان میں آگ کا بڑا آلاﺅ روشن تھا۔لوگوں نے دائرہ بنا کر میدان کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔میدان کے غربی جانب ریت کا بڑا سا ٹیلا تھا جس پر گاﺅں کی عورتوں نے قبضہ جمایا ہوا تھا۔آلاﺅ کی روشنی کے علاوہ بھی جا بجا مشعلیں روشن تھیں۔سردار خصرامہ بن قلاص بالائی بدن برہنہ کیے بے چینی سے آلاﺅ کے گرد گھوم رہا تھا۔اس کا کسرتی جسم آگ کی روشنی میں کندن کی طرح دمک رہا تھا۔عام آدمی تو اسے دیکھ کر ہی ہیبت سے کانپنے لگ جاتا۔
انھیں دیکھ کر ہجوم میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔قریب پہنچنے پر لوگوں نے دائیں بائیں ہو کر انھیں آگے جانے کا رستا دیا۔امثل بن حرام اور اکتف بن قیس وہیں رک گئے تھے۔یشکر نپے تلے قدم رکھتا ہوا سردارخصرامہ کے سامنے جا پہنچا۔
”دیکھ لو جوان ،سردار خصرامہ بن قلاص اکیلا ہی تمھارے مقابل کھڑا ہے۔اب تم یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ ابن قلاص نے ایک اجنبی سے مقابلے کے لیے قبیلے کا سہارا لیا۔“
”سردار خصرامہ ،تم واقعی بہادر آدمی ہو،لیکن میرا مقصد تمھیں مقابلے کے لیے للکارنا نہیں تھا۔ میں تو صرف اپنی ساتھی کی بازیابی کا خواہش مند ہوں۔“
سردار خصرامہ بن قلاص کے ہونٹوں پر استہزائی ہنسی نمودار ہوئی۔”گویا امثل بن حرام اور اکتف بن قیس کی نصیحتیں تمھارے پلے پڑ گئی ہیں۔“
”اپنی شہ زوری کے اظہار کے لیے تم نے پورے قبیلے کو اکٹھا کیا ہواہے۔ہار گئے تو سر اٹھانے کے قابل نہیں رہو گے۔بہتر یہی ہے کہ میری پسپائی کو غنیمت جانواور لڑکی میرے حوالے کر کے اس فضول لڑائی سے جان چھڑاﺅ۔“
”اب وہ لڑکی صرف میری ہے۔“
یشکر شوخی سے بولا۔”مطلب انعام کے سو اونٹ چھوڑ دو گے۔“
”اونٹوں کے حصول کے لیے تمھارا لنگڑا لولا جسم ہی کافی رہے گا۔“
”سردار خصرامہ وعدہ کرو کہ ہار گئے تو لڑکی کو آرام سے میرے حوالے کر دو گے۔“یہ کہتے ہوئے یشکر نے صاعقہ کو بے نیام کیا اور اس کی نیام کو ڈھال کی شکل میں لپیٹنے لگا۔
”حیرانی ہو رہی ہے کہ ابن قلاص کے سامنے کھڑے ہو کر بھی تمھیں موت کا ڈر نہیں لگ رہا۔ “ سردار خصرامہ نے غلام کے ہاتھ سے تلوار اور چمڑے کی چوڑی ڈھال پکڑلی تھی۔
تین چار آدمی آلاﺅ کے ساتھ کھڑے ہو کرخشک لکڑیوں کی صورت شعلوں کا پیٹ بھر رہے تھے۔یشکر نے ایک نظر اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔
”سردار خصرامہ کسے پوجتے ہو؟“
”اگرسوچ رہے ہو کہ میرے معبود کا واسطہ دے کر اپنی جان بچا لو گے تو یہ تمھاری بھول ہے۔“
”میں بس یہ چاہتا ہوں کہ آخری بار اسے یاد کر لوکہ اس کے بعد شاید اسے یاد کرنے کی مہلت نہ ملے۔“
”ہونہہ۔“سردار نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”پتا ہے جوان !….وہ وہاں بیٹھی ہے۔“ سردار خصرامہ بن قلاص نے میدان سے ملحق ریت کے اونچے ٹیلے کی جانب اشارہ کیا۔”وہ بھی مجھے تمھارا نام لے کر دھمکا رہی تھی۔سوچا اسے تمھارا عبرت ناک انجام دکھا لوں۔اورتھوڑی دیر بعد جب ٹانگیں اور بازو تمھارے بقیہ جسم کاساتھ چھوڑ جائیں گے تب تمھیں اس سے ملواﺅں گا۔ لیکن اس وقت یہ خیال رکھنا کہ وہ ابن قلاص کی بیوی بننے والی ہے۔“
یشکر نے ایک دم ٹیلے کی جانب دیکھا۔وہاں عورتوں کا ہجوم تھا اور اندھیرے میں اتنی عورتوں کے درمیان بادیہ کو پہچاننا ممکن نہیں تھا۔
”سچ کہہ رہے ہو وہ وہاں بیٹھی ہے۔“یشکر اپنی بے تابی نہیں چھپا سکا تھا۔
”ہاں ،مگر تیرے کس کام کی۔“خصرامہ نے زہر خند لہجے میں کہتے ہوئے تیز رفتاری سے تلوار گھمائی۔وہ یشکر کی مزید بکواس سننے کے حق میں نہیں تھا۔
یشکر ذراسا اچھل کر پیچھے ہٹا۔ خصرامہ کا وار خطا کیا گیا تھا۔”ٹھہرو سرداراب تک مقابلے کے اصول طے نہیں ہوئے۔ پہلے مجھے یقین دلاﺅ کہ تمھاری گردن اور شانوں کے درمیان سے جب تلوارگزر جائے گی تو بنو عطفان والے مجھے اور بادیہ کو بہ حفاظت یہاں سے جانے دیں گے۔“
خصرامہ کے ہونٹوں پر استہزائیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”ابن قلاص تمھیں زبان دیتا ہے۔“
”تم اس وقت ہر قسم کے عہد نبھانے سے دور جا چکے ہو گے۔مجھے تمھارے بعد بنو عطفان کا سردار بننے والے کا عہد چاہیے۔“
خصرامہ نے زوردار آواز میں اعلان کیا۔”اگر میں مارا گیا تو بنو عطفان کا سردار میرا چچازاد بھائی ربان بن ساعدہوگا….“یہ کہہ کر وہ چچازاد بھائی کو مخاطب ہوا۔”ربان بن ساعد وعدہ کرو کہ میرے مارے جانے کی صورت میں تم بادیہ اور یشکر کو بہ حفاظت جانے دو گے۔“
خصرامہ ہی کی طرح کاطویل قامت ربان بن ساعداٹھ کر بولا۔”میں اجنبی نوجوان کے فاتح ہونے پر اسے اور اس کی ساتھی لڑکی کو بنو عطفان کی حدود تک حفاظت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ خصرامہ اور ربان دونوں کے انداز سے واضح نظر آرہا تھا کہ ان کے نزدیک شکست کھانا یشکر کا مقدر تھا۔
ربان کے بیٹھتے ہی خصرامہ طنزیہ انداز میں بولا۔”تم شاید زندگی کو طول دینے کے لیے یہ حربے استعمال میں لا رہے ہو،حالاں کہ میں تمھیں قتل نہیں کرں گا۔صرف ہاتھ پاﺅں کاٹوں گا۔“
”ہاں ،تمھاری زندگی۔“یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔”کیوں کہ میں تمھیں زندہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔“
”تیری تو ….“خصرامہ نے غصے سے بھڑکتے ہوئے یشکر پر حملہ کر دیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: