Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 25

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 25

–**–**–

امریل رک کر ملکان بن نول کی طرف متوجہ ہوا اسی وقت ششدر لیٹی قُتیلہ تڑپ کر اچھلی دوسرے ہی لمحے اپنی تلوار اٹھا کر وہ ملکان کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
”ملکان بن نول ملکہ قُتیلہ کو تمھاری دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے پشت پر لٹکی ڈھال بھی بائیں ہاتھ میں تھام لی تھی۔
ملکان دوبارہ گھوڑے کی طرف بڑھ گیا۔قُتیلہ کے اطمینان بھرے لہجے نے اس کے دل کو کافی ڈھارس دی تھی۔
امریل قُتیلہ کی جانب مڑا۔اس کے ہونٹوں پر زہریلا تبسم نمودار ہوا۔اس نے تلوار اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ تمھارے تلوار اٹھانے تک حملہ نہیں کرے گی۔“قُتیلہ کے لہجے میں ذرا بھر گھبراہٹ موجود نہیں تھی۔اس نے امریل کے نہتا ہونے کا بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”سردار زادی ،ضد چھوڑدو۔مجھے ہٹ دھرم لڑکیوں پر بے تحاشا غصہ آتا ہے۔“امریل کے نزدیک قُتیلہ کا تلوار پکڑنا کسی اہمیت کا حامل نہیں تھا۔
”تلوار پکڑ لو امریل ،نہتے سوّر پر وار کرنا ملکہ قُتیلہ کو پسند نہیں ہے۔“
گالی سن کرامریل کے منھ سے زوردارغراہٹ نکلی۔ اس نے لپک کر ریت میں گڑی تلوارنکالی اور دھاڑتے ہوئے قُتیلہ کی جانب بڑھا۔اس مرتبہ بھی اس نے حملہ کرنے میں پہل کی تھی۔بھاری ڈیل ڈول رکھنے کے باوجود اس کے جسم میں چیتے کی سی پھرتی بھری تھی۔لیکن اس مرتبہ قُتیلہ تیار تھی۔بجلی کے کوندے کی طرح لپکنے والی تلوار کاوار قُتیلہ نے جھکائی دے کر خطا کیا تھا۔
وار کے خطا جانے پر امریل عام لڑاکوں کی طرح لڑکھڑایا نہیں تھا۔ اس کی تلوار اسی تسلسل سے واپس آئی۔قُتیلہ نے فوراََ ڈھال آگے پکڑی۔امریل کے زوردار وار کو اس نے بڑی مشکل سے سہارا تھا۔اس کے ساتھ ہی اس کے دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تلوار اتنی تیزی سے امریل کے چہرے کی طرف بڑھی کہ اسے چہرہ پیچھے کرنے میں ایک لحظے کے ہزارویں حصے کی بھی دیر ہوجاتی تو تلوار اس کے چہرے کو زخمی کر چکی ہوتی۔ہلکا سا اچھل کر پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے قُتیلہ کا وار خطا کیا۔
قُتیلہ وار خطا جانے پر رکی نہیں تھی۔ایک قدم آگے لیتے ہوئے اس نے زوردار لات امریل کے پیٹ میں رسید کی۔یہ اس کا پسندیدہ داﺅ تھا۔امریل لڑکھڑا کر دو تین قدم پیچھے ہٹتا چلاگیا۔ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یقینا کولہوں کے بل گر گیا ہوتا۔اس کے سنبھلنے تک قُتیلہ کی تلوار اس کی چھاتی پر خراش ڈال چکی تھی۔قُتیلہ کے پے در پے حملوں سے امریل کے ہونٹوں پر چھائی استہزائی مسکراہٹ گہری سنجیدگی میں تبدیل ہو چکی تھی۔اور پھرایک ایسی جنگ چھڑ گئی جس نے وہاں موجود تماشائیوں پر سکتہ طاری کر دیا تھا۔ تیز رفتاری ،طاقت، مہارت،جوش و غضب کے ساتھ جانے کتنے داﺅ پیچ آزمائے جارہے تھے۔ امریل تیز رفتار، طاقت وراور سخت جان جنگ جو تھا تو لمبی قامت ،چھریرے بدن اوربہ ظاہر موم دکھائی دینے والی قُتیلہ بھی بلا کی تیز رفتار اور ہمت والی تھی۔اس کے نرم ونازک نظر آنے والے جسم میں طاقت کا خزانہ پوشیدہ تھا۔امریل کی تلوار نے اس کے سینے بازوﺅںاور پیٹ پر ہلکی پھلکی خراشیں ڈالی تھیں تو خود امریل کے بالائی بدن سے جگہ جگہ خون رس رہا تھا۔دونوں کا پسینہ دھاروں کی صورت میں بہہ رہا تھا۔
اور پھر امریل نے قُتیلہ کا ایک زوردار وار سہارنے کے لیے تلوار آگے کی۔دونوں تلواروں کے ٹکرانے پر زوردار چھن چھناہٹ ابھری۔اور اس سے پہلے کہ امریل تلوار پیچھے کھینچتا ،قُتیلہ نے بائیں ہاتھ میں تھامی ہوئی چمڑے کی مضبوط ڈھال اس مہارت سے اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر رسید کی کہ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری تھی۔وہ جب تک تلوار چھوٹ جانے کی حیرانی پر قابو پاتا قُتیلہ تلوار کی نوک اس کی گردن سے لگا چکی تھی۔ایک لمحے کے لیے امریل کی آنکھوں میں موت کی پرچھائیاں لہرائیں۔مگر اسی وقت قُتیلہ نے اپنی تلوار پیچھے ہٹالی۔
”ملکہ قُتیلہ کسی کا ادھار رکھنے کی عادی نہیں ہے امریل۔ گو تم نے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے ملکہ قُتیلہ کی جان نہیں لی تھی۔پھر بھی ملکہ قُتیلہ تمھیں ایک موقع ضرور دے گی۔اپنی تلوار اٹھا لو۔اور دھیان سے لڑنا کہ ملکہ قُتیلہ ادھار ضرور چکاتی ہے رحم کرنا نہیں جانتی۔“
امریل نے سرعت سے جھک کر اپنی دودھاری تلوار اٹھائی اور غضب ناک انداز میں قُتیلہ کی جانب بڑھا۔اس کے حملے میں تیزی کے ساتھ درستی اور مہارت شامل تھی۔لیکن اس کی بد قسمتی کہ مقابل قُتیلہ تھی جو بچپن ہی سے تلوار سے کھیلتی آرہی تھی۔لڑائی بھڑائی اس کا مشغلہ نہیں جنون تھا۔امریل کا وار جھکائی دے کر خطا کر کے اس نے جوابی حملہ کر دیا۔ایک بار پھر گھمسان کا رن پڑ گیاتھا۔نہ امریل تھکنے پر تیار تھا اور نہ قُتیلہ سانس لینے پر آمادہ۔جسامت کے لحاظ سے امریل اس سے دگنے ڈیل ڈول کا تھا لیکن داﺅ پیچ کے حساب سے قُتیلہ بڑھی ہوئی تھی۔لڑائی بھڑائی کی خداداد صلاحیت اسے ورثے میں ملی تھی۔
لڑائی کا دوسرا مرحلہ پہلی بار سے بھی طول کھینچ گیا تھا۔اسے بے بس کر کے قابو پانے کی کوشش کرنے والا امریل اب اس کی جان لینے کے درپے تھا۔پہلے وارسے اسے زیر کرنے کی خوش فہمی ہوا میں اڑ گئی تھی۔
اور پھر لڑائی کا اختتامی مرحلہ عجیب انداز میں سامنے آیا تھا۔ امریل نے اپنی تلوار دونوں ہاتھوں میں سر سے بلند کر کے پورے زور سے نیچے لائی۔اگر وہ وار قُتیلہ کے سر پر لگ جاتا تو یقینا اس کے جسم نے دو ٹکڑے ہو جانا تھا۔قُتیلہ نے اس کی تلوار کے سامنے تلوار پکڑی اور ڈھال والے ہاتھ سے اپنی تلوار کو سہارا دیا۔ وار خطا جانے پر امریل رکا نہیں تھا۔فوراََ ہی اس نے تلوار گھمائی، نشانہ قُتیلہ کا درمیانی جسم تھا۔ اگر قُتیلہ گھٹنوں میں خم دے کر نیچے جھکتی تو تلوار اس کی گردن سے پار ہو جاتی۔لیکن قُتیلہ نے گھٹنوں میں خم دیتے ہوئے اپنا جسم پیچھے کی طرف پھینکا یوں کہ گھٹنوں سے اوپر کا جسم زمین کے متوازی ہو گیا تھا۔یہ پینترا اتنا مشکل اور حیران کن تھا کہ تماشائی پلکیں جھپکنا بھول گئے تھے۔ یہ مہارت کی انتہا تھی۔امریل کے دوبارہ وار کرنے سے پہلے اس کا جسم لچکدار شاخ کی طرح سیدھا ہوا۔امریل کے تلوار گھمانے سے پہلے اس کی زوردار لات امریل کے پیٹ میں لگی وہ تکلیف کی شدت سے دہرا ہوگیاتھا۔ اسی لمحے اس کا گھٹنا پوری قوت سے نیچے جھکے امریل کے ماتھے پر لگا۔وہ ایک دم سیدھا ہوتے ہوئے لڑکھڑایا۔اس نے سنبھلنے کی کوشش کی اور شاید وہ کامیاب بھی ہو جاتا،مگر قُتیلہ اسے مزید موقع دینے پر تیار نہیں تھی۔اس کے دائیں پاﺅں کی ٹھوکر پوری قوت سے امریل کی پنڈلیوں کے عقب میں لگی اور امریل پیٹھ کے بل ریت پرگرگیا تھا۔اس وقت قُتیلہ بڑی آسانی سے اسے ہلاک کر سکتی تھی لیکن اس پر تلوار کا وار کرنے کے بجائے قُتیلہ نے اس کی تلوار کے دستے پر زور سے ڈھال رسید کی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرگر دور جا پڑی تھی۔ڈھال بھی اپنے ہاتھ سے پھینکتے ہوئے اس نے دونوں گھٹنے ملا کر پوری قوت سے امریل کے پیٹ میں رسید کیے۔اس کے منھ سے درد بھری کراہ خارج ہوئی تھی۔قُتیلہ اس کے تڑپنے کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کی چھاتی پر سوار ہوئی اور اس کے چہرے پر تابڑ توڑ مکے برسانے لگی۔چند مکے کھاتے ہی امریل نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیے تھے۔
اس کی بے ہوشی کا یقین کرتے ہی وہ اس کی چھاتی سے اتری۔اس کا گندمی چہرہ تمتمایا ہوا تھا۔ اپنی تلوار اٹھا کر بنو احمر کے ششدر کھڑے آدمیوں کی طرف بڑھتے ہوئے وہ سرغنہ کو مخاطب ہوئی۔
”تمھارا شہسوار تو ایک لڑکی کو زیر نہ کر سکا۔“
سرغنہ اتنا حیران تھا کہ اس کے منھ سے کوئی جواب نہیں نکل سکا تھا۔اس دوران وہ اس کے قریب پہنچ گئی تھی۔مزید کوئی بات کیے اس نے اتنی سرعت سے تلوار گھمائی تھی کہ سرغنہ بے چارے کو کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔اس کی گردن اڑتی ہوئی ملکان بن نول کے قدموں میں جا گری تھی۔
”ہم ملکہ قُتیلہ کے حضور رحم کی درخواست کرتے ہیں۔“بنو احمر کے بچ جانے والے دونوں آدمی ہاتھ بلند کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے تھے۔تلواریں انھوں نے پھینک دی تھیں۔ قُتیلہ کی لڑائی دیکھنے کے بعد ان کے دل سے مقابلے کا شوق ہوا ہو گیا تھا۔
”کوئی ایسی وجہ کہ ملکہ قُتیلہ کو تمھارے زندہ رہنے کی ضرورت محسوس ہو۔“
ایک نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔”ہم بنو احمر کے سردار کو سمجھائیں گے کہ ملکہ قُتیلہ کا مقابلہ کرنا بنو احمر والوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ اور لوگوں کی یہ غلط فہمی بھی دور کریں گے کہ ملکہ قُتیلہ نے سوتے ہوئے سردار کو قتل کیا تھا۔“
”یہ پیغام تم دونوں سے کوئی ایک بھی لے جاسکتا ہے۔ملکہ قُتیلہ کے سامنے ایسی وجہ بیان کرو کہ تم دونوں کو زندہ چھوڑ سکے۔“
دوسرا بولا۔”ہم رحم دل ملکہ سے رحم کی امید کرتے ہیں اور ….“
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے قُتیلہ کی تلوار گھومی۔اس کی گردن غُلولے(غلیل میں ڈالنے والی گولی) کی طرف اڑتی ہوئی دور جا پڑی تھی۔
”جھوٹ بول رہا تھا ،ملکہ قُتیلہ کو رحم کرنے سے نفرت ہے۔“مدلل جواب دیتے ہوئے اس نے دوسرے کی طرف تلوار سیدھی کی۔”ملکہ قُتیلہ کو سوال دہرانے کی عادت نہیں ہے۔“
”ملکہ ،میں جواب دے چکا ہوں اور میرے ساتھی کا سر قلم کر کے آپ نے اپنے ہی اعتراض کا خاتمہ کر دیا ہے۔“(مطلب اب تو پیغام لے جانے والا میں اکیلا ہی بچا ہوں)
”نجار بن ثابت کو کہنا ،اگر قدرتی موت کا طلب گار ہے تو میری تلاش میں بھیجی ہوئی ٹولیوں کو واپس بلالے ورنہ مجھے اس کی خبر لینے کے لیے متوجہ ہونا پڑے گا۔“(عرب جب کسی کو دھمکی دیتے تو کہتے تھے میںاب تمھاری طرف متوجہ ہوں گااور تیری خبر لوں گا)
”غلام حرف بہ حرف یہ خبر سردار تک پہنچادے گا۔“
”ملکہ قُتیلہ کا ارادہ تبدیل ہونے سے پہلے بھاگ جاﺅ۔“
”ملکہ قُتیلہ کا اقبال بلند ہو۔“کہہ کر وہ اپنے گھوڑے کی طرف بڑھا۔
قُتیلہ فوراََ بولی۔”جوان ،بنو احمر تک جانے کے لیے تمھیں اپنے پاﺅں پر انحصار کرنا پڑے گا۔“
”جو حکم ملکہ۔“گھوڑے کی طرف جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے وہ پیدل بھاگ پڑا۔ احساس برتری کا شکار لڑکی سے وہ جتنی جلدی دور ہو جاتا اتنا ہی بہتر تھا۔
قُتیلہ ریت پر ڈھیر ہوتے ہوئے بولی۔”ملکان بن نول ،میرے گھوڑے کی زین سے سرخ شراب کا بندھا مشکیزہ مجھے پکڑا دو۔“
”جی ملکہ۔“ملکان کی عقیدت میں ڈوبی آواز ابھری۔قُتیلہ کی عزت اس کے دل پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی تھی۔
آگ کے شعلے مدہم پڑچکے تھے لیکن سپیدہ سحر نمودار ہو چکا تھا۔ہر طرف ملگجا اجالا پھیل رہا تھا۔ ملکان مشکیزہ کھول کر اس کے پاس لے آیا۔قُتیلہ کو سخت پیاس محسوس ہورہی تھی۔مشکیزے کا منھ کھول کر وہ غٹاغٹ شراب پیتی گئی۔
اسی وقت بے ہوش پڑے امریل کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی۔اس کے منھ سے تیز کراہ خارج ہوئی تھی۔آنکھیں کھول کر وہ چند لمحے یونھی چت لیٹا رہا اور پھر کوشش کر کے اٹھ بیٹھا۔ تلوار اس کے قریب ہی پڑی تھی۔قُتیلہ نے اس کی تلوار اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اسے اٹھتا دیکھ کر ملکان نے اپنا ہاتھ تلوار کے دستے پر رکھ لیا تھا۔اس کی ذرا سی غلط حرکت پر وہ اس کا سر قلم کرنے کے لیے تیا رتھا۔مگر وہ قمیص کے دامن سے اپنے چہرے سے رستا خون پونچھنے لگا۔
”ملکان اسے شراب پلاﺅ تاکہ یہ حواسوں میں آسکے۔“قُتیلہ نے ہاتھ میں پکڑا مشکیزہ ملکان کی طرف اچھالا۔
مشکیزے کو ہوا ہی میں پکڑ کر ملکان نے چند گھونٹ خود لیے اور پھرمحتاط قدموں سے امریل کی طرف بڑھ گیا۔
”یہ لو، حلق گیلا کر لو۔“عام سے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے مشکیزہ امریل کی طرف بڑھا دیاتھا۔
خلافِ توقع امریل نے شرافت سے مشکیزہ تھام کر منھ سے لگالیا۔اور پھر مشکیزہ اس نے منھ سے اس وقت ہٹایا جب ادھ بھرے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی اس نے حلق میں انڈیل لیا تھا۔
خالی مشکیزہ ایک جانب پھینکتے ہوئے وہ قُتیلہ کی جانب متوجہ ہوا۔”مجھے زندہ چھوڑنے کی وجہ؟“
”تم اچھا لڑے امریل !….جاﺅ ملکہ قُتیلہ نے تمھاری جان بخش دی۔“
”میں نے ساری زندگی یہ تمنا کرتے گزار دی کہ میرا مالک ایسا آدمی ہو جو مجھ سے اچھا لڑاکا ہومگر یہ خواہش ہنوز تشنہ ہے۔“یہ کہہ کر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور لڑکھڑاتے ہوئے قُتیلہ کی جانب بڑھا۔ ملکان نے اضطراری انداز میں تلوار بے نیام کر لی تھی۔قُتیلہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی کرنے سے روکا اور گہری نظروں سے امریل کا جائزہ لینے لگی۔اس سے دو قدم دور رک کر امریل نے اپنی دو دھاری تلوار کی نوک ریت پر ٹیکی اور گھٹنا نیچے لگا کر عقیدت سے بولا۔
”کیا ملکہ حسن اس ناکارہ کو اپنی غلامی میں قبول کرے گی۔“
”امریل ،تم بہادر شخص ہو اور ملکہ قُتیلہ بہادروں کو غلام نہیں ساتھی بنانا پسند کرتی ہے۔اور خوش ہو جاﺅ آج سے تم ملکہ قُتیلہ کے ساتھی ہو۔“
امریل دوبارہ بولا۔”ملکہ میری خواہش آپ کا غلام بننے کی ہے۔“
قُتیلہ مسکرائی۔”اگر مصر ہو تو ملکہ قُتیلہ تمھیں اپنا خصوصی غلام بنانے کا اعلان کرتی ہے۔“
”شکریہ مالکن۔“امریل نے اٹھ کر تلوار نیام میں ڈالی اور قُتیلہ کے عقب میں جا کر کھڑا ہو گیا۔
”ملکان بن نول ،ہمیں فی الفور آگے بڑھنا ہو گا، یہ نہ ہو زندہ بچ جانے والا آدمی اپنے مددگاروں کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔“
ملکان نے پوچھا۔”ملکہ اسے زندہ چھوڑنے کی حکمت میری سمجھ سے بالاتر ہے۔جبکہ یہ تو میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ملکہ قُتیلہ رحم کرنا نہیں جانتی۔“
”اگرملکہ قُتیلہ تمام کو قتل کر دیتی تو بنو احمر والے اس قتل و غارت کو بنو نسر کے کھاتے میں ڈالتے۔ اور ملکہ قُتیلہ نہیں چاہتی کہ بنو احمر والے بنو نسر پر حملہ آور ہوں کیوں کہ بنو نسر میں قُتیلہ کی پیاری امی جان موجود ہیں۔“
”ملکان کے ماں باپ آپ پر قربان ،بلا شک و شبہ آپ سرداری کی اہل ہیں۔“
”ملکہ قُتیلہ تمھاری بات سے متفق ہے ملکان۔“وہ اٹھ کر گھوڑے کی طرف بڑھ گئی۔امریل نے فوراََ آگے بڑھ کر گھٹنا نیچے ٹیک دیاتھا۔
”امریل!….ملکہ قُتیلہ کو آسائشوں کا عادی نہ بناﺅ۔“یہ کہتے ہوئے وہ امریل کے گھٹنے پر پاﺅں رکھے بغیر زور سے اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گئی تھی۔حطّام بھی گھوڑوں کو روانہ ہوتے دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
امریل ادب سے سرجھکا کر وہاں بندھے ہوئے چاروں گھوڑوں کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بنو عذرہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔سب سے آگے ملکان کو گھوڑا تھا اور آخر میں گرانڈیل امریل آرہا تھا۔اس کے پیچھے اس کے تینوں ساتھیوں کے گھوڑے ایک قطار میں اس طرح بھاگتے ہوئے آرہے تھے کہ ان کی لگامیں ایک دوسرے کی زین سے بندھی ہوئی تھیں اور سب سے آگے والے کی لگام امریل کے گھوڑے کی زین سے بندھی تھی۔
٭٭٭
شریم نے ہوش میں آتے ہی عفرا بن عوف اور ایک دوسرے آدمی کو بنو جمل روانہ کر دیا تھا۔ بنو جمل ان کا حلیف قبیلہ تھا اور اس وقت انھیں ان کی مدد کی ضرورت تھی۔چونکہ وہاں کوئی گھوڑا یا اونٹ وغیرہ بنونوفل والوں نے باقی نہیں چھوڑا تھا اس لیے دونوں کو پیدل ہی بنو جمل جانا پڑ گیا تھا۔تیز رفتار بارش اور ہوا نے سفر کی صعوبتوں کو گھٹانے کے بجائے بڑھا دیا تھا۔گرتے پڑتے سردی سے ٹھٹھرتے دونوں بوڑھے صبح صادق کے چلے سہ پہر کو بنو جمل پہنچے تھے۔سردار کلاب بن مرہ کے سامنے دہائی دیتے ہوئے دونوں رو پڑے تھے۔سردار کلاب بن مرہ نے دوستی کا حق ادا کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔دونوں بوڑھوں کو فوراََ نئے کپڑے پہنا کراچھا کھانا کھلایا گیا اور ان کی رہائش کا بندوبست سقیفہ بنو جمل میں کیا گیا۔ چونکہ وہ دونوں تھکے ہوئے تھے اس لیے ان کی رہنمائی کے بغیر کلاب بن مرہ نے مددگاروں کی ایک ٹولی بنو جساسہ روانہ کر دی۔پندرہ افراد پر مشتمل اس ٹولی کے ہمراہ بنو جمل کا حکیم بھی جا رہا تھا۔اس کے علاوہ کھجور کی شراب کے چند مشکیزے،اونٹ کا بھنا ہوا گوشت ، عمدہ تمر کی تھیلیاں بھی اس ٹولی کے ساتھ بھیجی گئی تھیں۔بنو جمل سے بنو جساسہ کا فاصلہ چار پانچ فرسخ سے زیادہ نہیں تھا۔(ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے )
گھڑسواروں کی ٹولی غروب آفتاب کے کافی بعد بنو جساسہ پہنچ پائی تھی۔صامت بن منبہ کی حویلی اتفاق سے بالکل سلامت بچ گئی تھی۔شریم کے کہنے پر بنو جساسہ کے بچے کچے افراد وہیں جمع ہو گئے تھے۔بنو جمل کے افراد نے وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے زخمی شریم سے رسمی افسوس کیااور پھرانھیں کھانا کھلانے لگے۔حکیم قنعب بن عبد شمس اکیلا ہی زخمیوں کی مرہم پٹی کر رہا تھا۔ بنو جمل کا حکیم اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔
رات گئے حکیم قنعب بن عبد شمس ،بنو جمل کے حکیم مخموربن حجرکے ہمراہ شریم کے گھاﺅ کا جائزہ لے رہا تھا۔
”داغنے کے علاوہ کوئی رستا نظر نہیں آتا۔“حکیم مخمور بن حجر نے مایوسی کے انداز میں سر ہلایا۔ شریم اس وقت کمزوری کی وجہ سے بے ہوش پڑا تھا۔
قنعب بن عبد شمس بولا۔”تو شروع کیا جائے ،ورنہ جتنی دیر ہوتی جائے گی گھاﺅ بگڑتا جائے گا۔“
حکیم مخمور نے اپنے قبیلے کے آدمی کو بلایا اور ضروری ہدایات دینے لگا۔اس آدمی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے ساتھی سے چوڑے پھل والی تلوار طلب کی اور کمرے میں جلتی آگ پر رکھ دی۔گھڑی بھر بعد تلوار کا پھل گرم ہو کرسرخ ہو گیا تھا۔۔
حکیم قنعب بن عبدشمس نے احتیاط سے شریم کے زخم پر بندھی پٹی ہٹائی ،دو آدمیوں کو اس نے شریم کی ٹانگیں اور بازو پکڑنے کا اشارہ کیا اور تپی ہوئی تلوار اس کے زخم پر رکھ دی۔
شریم کے منھ سے زوردار چیخ نکلی اور اس نے مچلتے ہوئے اچھلنے کی کوشش کی لیکن جکڑنے والوں نے کافی مضبوطی سے پکڑا ہواتھا وہ بس ذرا سا ہل کر رہ گیا تھا۔ گوشت جلنے کی سڑانڈ حجرے میں پھیل گئی تھی۔
تکیلف کی شدت سے شریم کو ہوش آگیا تھا۔ وہ بری طرح کراہ رہا تھا۔حکیم قنعب اس کے زخم پر ایک مخصوص مرہم کا لیپ کرنے لگا۔
٭٭٭
یشکر سے الوداع ہوتے ہی بادیہ تیز رفتاری سے وہاں سے دور ہوتی گئی۔وہ بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ رہی تھی۔نجانے کیوں اس کا دل یشکر کو اکیلا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہو پا رہا تھا۔
”وہ اکیلا آٹھ سواروں کا مقابلہ کیسے کرے گا۔شاید میں اس کی تھوڑی بہت مدد کر پاﺅں۔“یہ سوچ آتے ہی وہ ذرا دیر کے لیے ٹیلوں کی آڑ لے کر رک گئی تھی۔پھر اسے خیال آیا کہ
”شاید یشکر نے اسے اس لیے بھگایا ہو کہ اس کے دور جاتے ہی خود بھی بھاگ پڑے گااور اگر وہ وہیں کھڑی رہی تو یشکر کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔“اس سوچ نے اسے دوبارہ سفر جاری رکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔دوپہر ڈھلے اسے ایک چھوٹا سا قبیلہ نظر آیا۔ اس کی آنکھوں میں فوراََ ہی بنو جمرہ کے واقعات تازہ ہو گئے تھے۔ گھوڑا روک کر وہ قبیلے کا جائزہ لینے لگی۔ اگر وہ وادی کے کنارے کنارے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی تو یقینا قبیلے والوں کی نظر میں آجاتی۔ اور وہ فی الحال یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی۔اسے علم تھا کہ چھوٹے قبائل عموماََقزاقی اور رہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہوتے تھے۔اس لیے ان سے بچ کر آگے بڑھنے میں فائدہ تھا۔
اپنا رخ تبدیل کر کے اس نے ٹیلوں کی آڑ لیتے ہوئے شمال کی جانب گھوڑا بھگا دیا۔قبیلے سے مناسب فاصلے پر آکر اس نے دوبارہ رخ تبدیل کیا اور تقریباََ وادی کے متوازی آگے بڑھنے لگی۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ رستے میں آنے والے قبیلے کی حدود سے نکل گئی ہو گی تب جنوب مغرب کا رخ کر کے اس نے کم و بیش ایک فرسخ کا فاصلہ طے کیا اور دوبارہ وادی کے کنارے پہنچ گئی۔یشکر کی ہدایات کے مطابق وہ وادی کے کنارے کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔تھوڑا سا فاصلہ مزید طے کرنے کے بعد وہ اچانک ٹیلوں کے دامن میں جانکلی تھی جہاں ایک بڑے قبیلے کے آثار نظر آرہے تھے۔گھوڑے کو روکتے روکتے بھی وہ ٹیلوں کی حدود سے باہرنکل آئی تھی۔ وہ قبیلہ وادی کے کنارے تک پھیلا ہوا تھا۔اور اس سے چند قدموں کے فاصلے پر تین آدمی موجود تھے۔واپس مڑنے کی کوشش کرنا بے وقوفی تھی۔وہ پر اعتماد انداز میں انھی کی طرف بڑھنے لگی۔
”عزیٰ کے نام پر کیا ایک مسافر عورت کو پناہ مل سکتی ہے؟“قریب جاتے ہی اس نے مدد کے لیے پکارا۔
ایک نے جواب دیا۔”معزز خاتون !….اس کا فیصلہ قبیلے کا سردار ہی کرے گا۔“
بادیہ نے کہا ”تو مجھے سردار کے پاس لے چلو۔“
”چلیں۔“وہ رہنمائی کے لیے آگے ہو گئے۔
تھوڑی دیر بعد وہ سردارِ قبیلہ کے سامنے موجود تھی۔وہ اپنی حویلی کے باہر بنے ہوئے ایک بڑے سے چبوترے پر بیٹھا تھا۔
”سردار پر عزیٰ کی رحمتیں ہوں۔“گھوڑے سے اتر کر اس نے خفیف سا سر جھکا کر سردار کو تعظیم پیش کی تھی۔
بادیہ کے چہرے پر نظر پڑتے ہی سردار چونک گیا تھا۔بے ساختہ بولا۔”صحرائے اعظم کی حسینہ کو ابن قلاص خوش آمدید کہتا ہے۔“
بادیہ کے چہرے پر حیا آلود سرخی نمودار ہوئی وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی۔”سردار میں پناہ مانگنے آئی ہوں۔“
سردار کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔” کیا خیال ہے ،تمھیں پناہ دے کر میں بنو نوفل کا مقابلہ کر پاﺅں گا۔“
بادیہ ششدر رہ گئی تھی۔”کک….کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟“
” دومة الجندل کے میلے میں، بنو اخنف کے شاعر خباب بن ثورنے جس حسینہ کے دلکش سراپے کا نقشہ کھینچا تھا مجھے یقین ہے میں اس کی دید سے فیض یاب ہو رہا ہوں۔“
وہ گلوگیر ہوئی۔”ہاں میں وہی بد نصیب ہوں اور پناہ کی تلاش میں در در کی خاک چھان رہی ہوں۔“
سردار عجیب سے لہجے میں بولا۔ ”بنو نوجل کے سردار سامہ بن تیم کی دو بیویوں عکرشہ اورلیلیٰ کے حسن کے چرچے سن کر میں نے بھی بنو نوجل کا قصد کیا تھا۔پھرلیلیٰ اور عکرشہ کو دیکھ کر ان کے حصول کے لیے کوشاں ہوا،مگر سامہ بن تیم کسی قیمت پر اپنی بیویوں سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔اور آج جس حسینہ کی صورت میری آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہی ہے ،لاریب وہ لیلیٰ و عکرشہ سے کئی گنا بڑھ کر خوب صورت ہے۔سردار خصرامہ بن قلاص کی بیوی بننے کا وعدہ کر لو بنو عطفان تمھیں اپنی پناہ میں لے لے گا۔“
وہ جلدی سے بولی۔”معزّز سردار، میری نسبت طے ہو چکی ہے۔“
”سردارزادی !….بنونوفل کے آدمیوں کی زبانی مجھ تک تمھاری ساری کہانی پہنچ چکی ہے۔ سردار زادے ہزیل بن شماس کی موت کے بعد اس کابوڑھاباپ ہی تمھارا دعوے دار ہے۔اس کے علاوہ کسی کا نام سننے میں نہیں آیا۔“سردار برملا اسے جھوٹا گردان رہا تھا۔
گڑبڑاتے ہوئے بے اختیار اس کے ہونٹوں سے نکلا۔”مم….میں اپنے چچا زادیشکر کے نام ہو چکی ہوں۔“اور اسی وقت ایک دم اس پر انکشاف ہوا کہ لاشعوری طور پر وہ جانے کب کی یشکر کی ہو چکی تھی۔
سردارنے طنزیہ لہجے میں کہا۔”اوہ ….ایک عجمی غلام ،جس بزدل نے سردارزادے ہزیل بن شماس کو سوتے میں قتل کیا اور اب صحرائے اعظم میں چھپنے کی جگہ ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔“
وہ اعتماد سے بولی۔ ”وہ میرے چچا جان شریم کا منھ بولا بیٹا ہے۔ اور عرب سردار کی زبان خون کے نسب سے زیادہ پائدار ہوتی ہے۔باقی اس نے ہزیل کو سوتے میں قتل نہیں کیا تھا۔بنو نوفل والوں سے یہ عار برداشت نہیں ہورہی کہ ایک عجمی ان کے سردار زادے کو شکست دے سکتاہے۔اس لیے انھوں نے جھوٹ کا دامن پکڑ اہوا ہے۔“
”بنو نوفل والوں نے تم دونوں میں ہر ایک کے بدلے سو سو اونٹ انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ تمھاری صورت میں سو اونٹ میرے بہت قریب ہیں۔ لیکن چاہو تو سو اونٹوں کو تم پر قربان کر سکتا ہوں۔ میرا بننے کا وعدہ کر لو۔قبیلے کا سردار ہوں ، طاقتورجوان ہوں ، خوب صورت ہوں۔یقینا تمھیں خوش رکھوں گا۔“
”اگر پناہ نہیں دے سکتے تو مجھے جانے دو۔“بادیہ نے اس کی پیشکش حقارت سے ٹھکرا دی تھی۔
”اب یہ ممکن نہیں رہا۔میں نے بنو اخنف کے شاعر خباب بن ثورکے قیصدے کو ایک شاعر کی خوش خیالی سمجھا تھا۔مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس کا قیصدہ تو بنو جساسہ کی شہزادی کے شایانِ شان ہی نہیں تھا۔اب پچھتاوا یہ ہورہا ہے کہ جب تمھارے حصول کے لیے سردارزادے سونتے برسرپیکار تھے اس وقت میں وہاں یوں نہیں تھا۔“
” یاد رکھنا سردار،میری طرف بڑھنے والا میلا ہاتھ یشکر کاٹ دیا کرتا ہے۔“اس سے سردار کی بے ہودہ گوئی زیادہ دیر برداشت نہیں ہو سکی تھی۔
خصرامہ بن قلاص نے قہقہ بلند کیا۔”وہ ہے کہاں ؟“
بادیہ بے خوفی سے بولی۔”وہ ہمیشہ بادیہ کے بہت قریب رہتا ہے۔ تمھاری آنکھوں کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔“
”یہ دلیری کی ادا ہمیں پسند آئی ہے۔ باقی تمھارے شوہر ہزیل بن شماس کو اگریشکر نے مقابلہ کر کے قتل کیا تھااور اس کا یہ اقدام تمھارے نزدیک جائز ہے تومجھے بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایسا موقع ملنا چاہیے۔ یقینایشکر کو شکست دے کر تم پر میرا حق متعین ہو جائے گا۔فی الحال تم آرام کرو،یشکر کے ملنے کے بعد بات ہوگی۔“
سردار کے اشارے پر اسے دو لونڈیاں پکڑ کر ایک درمیانے مکان میں لے آئی تھیں۔ایک صاف ستھرے حجرے میں داخل ہو کر انھوں بادیہ کومسہری پر بچھے نرم نرم بستر پربٹھا یااورباہر نکل گئیں۔ جانے سے پہلے انھوں نے طاقچے میں رکھا ہوا دیا روشن کردیا تھا۔ حجرے کے دروازے کو باہر سے بند کرنا انھیں نہیں بھولا تھا۔
یوں بھی بادیہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہاں اس کی حیثیت ایک قیدی سے بڑھ کر نہیں تھی۔ اسے مختلف اندیشوں نے گھیر لیا تھا۔نہ جانے یشکر کس حال میں تھا۔اور کب تک وہاں پہنچ پاتا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ بنو جمرہ کے سواروں کے ہاتھوں وہ شدید زخمی یا قتل ہو چکا ہو۔
”نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔“اس نے فوراََ ہی اذیت بھری سوچ کو دماغ سے دور جھٹکا۔ اسی دم اس پر انکشاف ہوا کہ یشکر کی موت کی خبر اس کے دل پر گراں گزر رہی ہے۔سردار خصرامہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بھی اس نے یشکر کے ساتھ اپنے تعلق اس انداز میں اجاگر کیا تھا گویا وہ اس کا محبوب ہی تو ہو۔اس نے یشکر کا نام لے کر اسے دھمکی بھی دی تھی۔اور ایسااس کے ساتھ دوسری بار پیش آرہا تھا۔ اس سے پہلے بنو جمرہ کے سردار کو بھی دھمکی دیتے ہوئے اس نے یشکر کا نام استعمال کیا تھا۔
اچانک ایک سوچ اس کے دماغ میں ابھری ….”کیا میری بربادی کا ذمہ دار مجھے اچھا لگنے لگاہے۔“مگر اسی وقت دل کے کسی گوشے میں سرکشی کی لہر اٹھی۔”وہ میری خاطر لڑ رہا ہے۔اور اس نے جان بوجھ کر میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ہے۔تنہائی میں بھی وہ میرا ایسا ہی خیال رکھتا آیا ہے جیسے سردارزادیوں کا رکھا جاتا ہے۔کیا ہوا اگر نادانستگی میں کوئی غلطی کر بیٹھا۔ محبت زبردستی تو نہیں کی جاتی یہ فطری جذبہ کسی کے دل میں ،کسی کے لیے ،کسی بھی وقت پیدا ہو سکتا ہے۔ بنو جساسہ کی تباہی کے اصل قصوروار تو بنو نوفل والے ہیں میں خواہ مخواہ ہی اس غریب کو مطعون کرتی رہی اور اس نے بھی مجھے جھٹلانے کے بجائے ہر الزام اپنے سر لے لیا۔“
”قصوروار تو وہ ہے۔“پہلی سوچ دلیل کے ساتھ میدان میں اتری۔”اپنی محبت کے حصول کے لیے پورے بنو جساسہ کو داﺅ پر لگا دینا قصور نہیں تو کیا ہے؟“
”اسے کیا معلوم تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔“ایک کمزور سی سوچ نے یشکر کے دفاع کی ٹھانی اور اس کی خوش قسمتی کہ اسے دل کی بھرپور تائید حاصل تھی۔
”کیا پتا وہ بنو جمرہ کے شہ سواروں کا مقابلہ کر بھی پایا ہو گا کہ نہیں۔“ایک تیسری سوچ پہلی دونوں سوچوں پر غالب آگئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں اس کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔اسے اپنی دیوی عزیٰ پر پورا بھروسا تھا کہ وہ اس کی مناجات کو رایگاں نہیں کرے گی۔
”یاد رکھنا ،اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں ساری زندگی تمھاری پوجا نہیں کروں گی۔اوراپنی ہر حاجت صرف ودّ ، سواع اور لات و منات سے مانگوں گی۔“دعا مانگنے کے ساتھ وہ اپنی دیوی کو دھمکیاں دینے سے بھی باز آئی تھی۔
پھر نجانے سوچ میں کیا آیا کہ وہ اٹھ کر جلتے ہوئے دیے کے قریب پہنچی۔ ”پتا ہے نا وہ تمھیں پوجتا ہے۔“دیے کی لو پر نظریں جماتے ہوئے وہ زیر لب بولی۔ ”اس کی حفاظت کرنا،اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ میرا اکیلا سہارا باقی بچا ہے۔اور اب میں اس سے نفرت بھی نہیں کرتی۔بالکل تھوڑی سی بھی نفرت بھی میرے دل میں باقی نہیں ہے۔ عزیٰ کی قسم میں سچ کہہ رہی ہوں….“
اچانک دروازے پر کھٹکا ہوا اور وہ آگ سے گفتگو ادھوری چھوڑ کر جلدی سے مسہری پر بیٹھ گئی۔اسے وہاں لانے والی دونوں باندیاں ہاتھوں میں کھانے کے برتن اٹھائے اندر داخل ہو رہی تھیں۔ایک کے ہاتھ میں مٹی کی رکابی تھی جس میں گوشت کے شوربے میں روٹی کے ٹکڑے ڈال کر ثرید بنائی گئی تھی۔شوربے میں بھیگی روٹی کے اوپر گوشت کے قتلے پڑے تھے۔جبکہ دوسری نے پانی کی صراحی اور آب خورہ اٹھایا ہواتھا۔
بادیہ نے دوپہر سے پہلے تھوڑی سی کھجوریں کھائی تھیں اور اس وقت سورج غروب ہو چکا تھا۔ پریشانی کے باوجود وہ سخت قسم کی بھوک محسوس کر رہی تھی۔اور پھر اتنا عمدہ کھانا دیکھ کر سامنے پا کر تو اس کی بھوک مزید چمک اٹھی تھی۔لونڈیاں کھانے کے برتن مسہری پر رکھ کر باہر نکل گئی تھیں۔ وہ ثرید سے انصاف کرنے لگی۔پیٹ بھر کر کھانے کے بعد اس نے صراحی کا ٹھنڈا پانی پیا اور چمڑے کے غلاف والے تکیے سے ٹیک لگا کر لیٹ گئی۔اس کی سوچوں کا رخ اپنے بھائیوں کی جانب مڑ گیا تھا جانے انھوں نے کب واپس لوٹنا تھااور واپس آکر جب وہ بنو جساسہ کو دیکھتے تو ان پر کیا گزرتی۔
” کیا وہ یشکر کے ساتھ میری شادی کرنے پر تیا رہو جائیں گے اور نہ ہوئے تو کیا میں ان کی مرضی کے بغیر یشکر کو اپنا لوں گی۔چچا شریم زندہ ہوتے تو ضرر میری مدد کرتے، اگر یشکر کے ساتھ فارس چلی جاﺅں تو ساری مصیبتوں اور دکھوں سے جان چھوٹ جائے گی۔‘کیا کرنا چاہیے۔کس سے مشورہ کرنا چاہیے۔“مختلف قسم کی سوچیں اس کے دماغ میں سرگرداں رہیں۔ان سوچوں میں کھانے کے برتن لے جانے والی لونڈی نے خلل ڈالا تھا۔ اس مرتبہ وہ اکیلی آئی تھی۔مٹی کی رکابی اٹھاکر وہ واپس مڑگئی تھی ،پانی کی صراحی اور آب خورہ وہیں چھوڑ دیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد وہ دوبارہ سوچوں میں کھو گئی تھی۔یہاں تک کہ نیند نے اسے مہربان آغوش میں سمیٹ لیاتھا۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا کہ حجرے کا دروازہ زور دار آواز کے ساتھ کھلا۔وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔ دروازے پر سردار خصرامہ بن قلاص کو دیکھ کر اس کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔
”ڈرو مت سردارزادی!“وہ پر مسرت لہجے میں بولا۔”ابنِ قلاص زبان کا پکا ہے۔وعدہ کیا تھا ناں یشکر کے ساتھ مقابلہ کیے بغیر تم پر حق نہیں جتاﺅں گا۔شکر ہے مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا میرا رقیب خود بخود یہاں پہنچ گیا ہے۔چلو، اپنی آنکھوں سے دیکھ لو تمھارے کس امیدوار کی بانہوں میں زیادہ دم ہے۔“
اس نے متوحش ہو کر پوچھا۔”تم نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے؟“
وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔”ابھی تک تو کچھ بھی نہیں کیا،صرف مقابلے کی دعوت دی ہے۔اور اب ملکہ حسن کے امیدواروں کے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی کہ صحرائے اعظم کا گلاب کس کے مکان میں خوشبو بکھیرے گا۔باقی یہ مقابلہ اس لیے بھی دیکھنا پڑے گا کہ تمھیں یقین ہو جائے ابنِ قلاص نے سردارزادی بادیہ بنت شیبہ کو زور بازو جیتا ہے۔“
وہ منمنائی۔”سردار کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم ہمیں جانے دو ،میں بالکل اکیلی رہ گئی ہوں اور یشکر میرا آخری سہارا ہے۔“
خصرامہ ریشہ خطمی ہوتے ہوئے بولا۔”تمھار اآخری سہارا خصرامہ بن قلاص ہے اور تم اکیلی نہیں ہو پورا بنوعطفان تمھارے ساتھ ہے۔“
”اس لڑائی میں صرف یشکر نہیں تمھاری جان کو بھی تو خطرہ ہے۔“نجانے کیوں وہ اسے لڑائی سے باز رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔پہلے یشکر کو لڑتا دیکھ کر اسے کوئی احساس نہیں ہوتا تھا اور اب اس کے بارے احساسات میں جو تبدیلی آئی تھی وہ اسے ڈرا رہی تھی۔
خصرامہ نے قہقہ بلند کیا۔”اگر میری جان کی فکر ہو رہی ہے تو تمھارا شکر گزار ہوں۔اور یشکر کے بارے فکر نہ کرنا۔میں اسے قتل نہیں کروں گا۔صرف شکست دوں گا۔اس کی موت تو شایداہل ِبنونوفل کے ہاتھ لکھی ہے۔“
”سردار میں منت کرتی ہوں۔“بادیہ آخری حد تک چلی گئی تھی۔
”ہر خوشی تمھارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا سردارزادی!….لیکن کسی ایسے شخص کو معاف نہیں کر سکتا جس کے بارے تمھارے دل میں نرم گوشہ موجود ہو۔“ یہ کہتے ہی وہ حجرے سے نکل گیاتھا۔ اس کے ہمراہ آئی ہوئی دو تنومند لونڈیوں نے بادیہ کواپنے درمیان گھیرتے ہوئے دروازے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ ان کی معیت میں چلتی ہوئی وہ حجرے اور پھر اس مکان سے بھی باہر آگئی تھی۔چاند آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ایک جانب آگ کا بڑا آلاﺅ روشن تھا جس کے گرد لوگوں نے گھیرا ڈالا ہوا تھا۔دونوں لونڈیوں کے معیت میں چلتی ہوئی وہ میدان سے ملحق ریت کے اونچے ٹیلے پر چڑھی۔وہاں قبیلے کی ساری عورتیں اکھٹی تھیں۔ وہ اسے عجیب نظروں سے گھورنے لگی تھیں۔
ریت پر بٹھا کر دونوں لونڈیاں اس کے دائیں بائیں چوکس ہو کر بیٹھ گئی تھیں۔
بادیہ نے سامنے میدان میں نگاہ دوڑائی آگ کے روشن الاﺅ کے ساتھ ہی سردار خصرامہ بالائی بدن برہنہ کیے کھڑا تھا۔ اس کے گھٹے ہوئے کسرتی جسم کو دیکھتے ہی بادیہ کے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی۔بھاری تن و توش کا پہاڑ، جسمانی لحاظ سے یشکر سے کئی گنا برتر نظر آرہا تھا۔ اس نے یشکر کو ایک بار ہی لڑتے دیکھا تھا جب وہ بنونوفل کے حملہ آوروں سے گھتم گھتا ہواتھا۔ لیکن بنو نوفل کے ان آدمیوں میں سے کوئی بھی سردار خصرامہ بن قلاص جیسے تن وتوش کا مالک نہیں تھا۔
اسی وقت لوگوں کے مجمع میں سے یشکر برآمد ہوا۔پر اعتماد انداز میں نپے تلے قدم رکھتا ہوا وہ سردار کے سامنے آکر رک گیا تھا۔طوالت میں دونوں قریباََ برابر ہی تھے لیکن جثے کے اعتبار سے خصرامہ بہت زیادہ توانا نظر آرہا تھا۔
بادیہ کے دائیں جانب بیٹھی ایک دوشیزہ نے فخریہ انداز میں کہا۔”یہ تو سردار کا ایک وار بھی برداشت نہیں کر سکے گا۔“یہ کہتے ہوئے اس کی استہزائی نظریں بادیہ کی جانب اٹھیں۔اس کے ہلتے لب دیکھ کر وہ دوبارہ بولی۔”اپنے معبود کو پکارنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ سردار خصرامہ بن قلاص کے ہاتھوں آئے شکار کو تمھارا معبود بھی نہیں بچا سکے گا۔“
وہ اس لڑکی پر قہر آلود نگاہ ڈالتے ہوئے بولی۔”مجھے عزیٰ پر بھروسا ہے۔“
دوشیزہ نے اس کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر کہا۔”لات کے سامنے عزیٰ کی وہی حیثیت ہے جوتمھارے محبوب کی سردار خصرامہ بن قلاص کے سامنے ہے۔“
”یشکر نے اکیلے ہی بنو نوفل کے سردار زادے کا سر قلم کیا ، اس کے قبیلے کے چھے آدمیوں کو تنہا موت سے ہم کنار کیا، بنو جمرہ کے سردار کو تلوار کے ایک وار سے قبر کی راہ دکھائی اور اس کے آٹھ شہ سواروں کے ساتھ لڑ کر کامیاب و کامران میرے پیچھے پہنچا ہے۔وہ بھیانک سانپ کو خالی ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے۔ وہ سانپ کا زہر چوس کر مرنے والے کو بچا سکتا ہے۔اس کا اندھیرے میں چلایا ہوا تیر بھی ہدف سے خطا نہیں جاتا۔ وہ شاہ ایران کا خاص آدمی ہے ،وہ یشکر ہے۔ “بادیہ جوش میں آکر جو منھ میں آیا کہتی گئی تھی۔
بنو عطفان کی دوشیزہ نے قہقہ لگایا۔ ”چند لمحوں بعد تمھارے یشکر کی ٹانگیں اور بازو جسم کا حصہ نہیں رہیں گے۔“
”تمھارے سردار کا سر غلولے کی طرح ہوا میں نہ اڑا تو پھر کہنا۔“بادیہ باتوں میں ہار نہیں مان سکتی تھی۔
”تمھاری خوش فہمی چند لمحوں کی مہمان ہے۔“مخالف لڑکی کی باتوں سے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ سردار خصرامہ کے بارے اس کے دل میں کوئی نرم گوشہ موجودتھا۔
اسے جواب دینے سے پہلے بادیہ نے یشکر کو بے تابی سے ٹیلے پر بیٹھی خواتین کو تکتے دیکھا۔بے ساختہ اس کے دماغ میں سوال اٹھا ….
”کیا اسے سردار نے بتا دیا ہے کہ اس کی بادیہ یہاں بیٹھی ہے؟“اس سوال کا جواب یشکر ہی دے سکتا تھا۔وہ بنو عطفان کی لڑکی پر لعنت بھیج کر یشکر کی طرف متوجہ ہو گئی جو خصرامہ سے کوئی بات کر رہا تھا۔اس کی بات کا جواب دیتے ہی خصرامہ نے اچانک تلوار گھمائی ،یشکر اچھل کر پیچھے ہٹا اورجوابی حملے کے بجائے خصرامہ کو کچھ کہنے لگا۔
”کہیں اس سے معافی تو نہیں مانگ رہا۔“بادیہ کے دل میں ایک اور سوال اٹھا۔اگر ایسا تھا تو اس کے فارسی محبوب نے اس کی ناک کٹوا دی تھی۔
”بے شک ناک کٹ جائے مگر وہ زندہ بچ جائے۔“دل کی گہرائیوں سے ایک تمنا جاگی تھی۔ لیکن اسی وقت خصرامہ کی بھاری آواز نے اس کی تمنا کا گلا گھونٹتے ہوئے اس کے دل میں جاگنے والے اس وسوسے کا خاتمہ کر دیا تھا کہ یشکر نے اس سے معافی مانگی تھی۔
خصرامہ کا اعلان اور اس کے چچا زاد بھائی ربان کے وعدے نے اسے پھر باور کرادیا تھا کہ یشکر کی جان خطرے میں تھی۔
”کاش میں اسے بتا سکتی کہ بنو جساسہ کی سردار زادی کو وہ عجمی قبول ہے۔کاش اسے مرنے سے پہلے معلوم ہو جائے کہ بادیہ نے اس سے نفرت ترک کر دی ہے ،کاش وہ جان جائے کہ بادیہ اس کی زندگی کے لیے عزیٰ سے مناجاتیں کر رہی ہے۔کاش ایک بار صرف ایک بار مجھے اس سے اکیلے میں بات کرنے کا موقع مل جائے۔“اس کے دل میں عجیب طرح کی خواہشیں سر ابھار رہی تھیں۔
جاری ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: