Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 26

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 26

–**–**–

اعلان کے خاتمے کے ساتھ ہی خصرامہ نے یشکر سے کوئی بات کی اور یشکر کے جواب پر ایک دم بھڑک کر حملہ آور ہو گیا تھا۔
یشکر ایک بار پھر اچھل کر پیچھے ہٹا خصرامہ کا وار خطا گیا تھا۔وہ غصے میں آکر تابڑ توڑ حملے کرنے لگا۔یشکر اس کا کوئی وار اپنی تلوار پر سہارتا کسی وار کے سامنے ڈھال پکڑتا ، کبھی جھک کر خصرامہ کی تلوار کو سر پر سے گزارتا اور کبھی اچھل کر پیچھے یا دائیں بائیں ہٹ کر اس کا وار ضائع کرتا۔ اس نے ابھی تک جوابی وار نہیں کیا تھا۔ خصرامہ کا غصہ دم بدم بڑھتا جا رہا تھا۔اس کے حملوں میں چیتے کی پھرتی اور گینڈے کی طاقت پوشیدہ تھی۔لیکن اس کا مدمقابل جس کا بہ ظاہر اس کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا وہ اطمینان بھرے انداز میں اس کے وار ہوا میں اڑاتا جا رہا تھا۔شروع میں خصرامہ کے ہر وار پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والوں کو جلد ہی چپ نے آپکڑا تھا۔بادیہ دھڑکتے دل اور مناجاتوں بھری زبان کے ساتھ وہ اعصاب شکن لڑائی دیکھ رہی تھی۔
اچانک خصرامہ کی تلوار بجلی کے کوندے کی طرح یشکر کی گردن کی طرف بڑھی۔بادیہ نے خوف سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔یشکر نے ایک دم گھٹنوں سے اوپر ی جسم کو پیچھے کی جانب پھینکا۔یوں کہ گھٹنوں سے اوپر کا جسم زمین کے متوازی ہو گیا تھا۔ خصرامہ کی تلوار” شاں “کی آواز کے ساتھ اس کے اوپر سے گزر گئی تھی۔دیکھنے والوں کے منھ سے حیرانی بھری ”اوہ….“ نکلی تھی۔یشکر کا جسم ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا۔ اسی وقت خصرامہ نے بجائے تلوار کے وار کے اپنی داہنی ٹانگ پورے زور سے اس کی چھاتی میں رسید کی تھی۔ یشکر اڑتا ہوا الاﺅ کے قریب جا گرا تھا۔

”سردار خصرامہ بن قلاص کی جے۔“تماش بینوں نے زوردار نعرہ بلند کیاتھا۔
خصرامہ بھاگ کر اس کے قریب پہنچا مگر اس وقت تک یشکر قلابازی کھا کر کھڑا ہو گیا تھا۔قریب پہنچتے ہی اس نے تیزی سے تلوار گھما کر اسے نشانہ بنانا چاہا مگر وہ یشکر ہی کیا جو اس کے ہاتھ آجاتا۔وہ مسلسل وار کرتا گیا اور یشکر اطمینان سے دفاع کرتا رہا۔ جلد ہی خصرامہ کے حملوں میں سستی نمودار ہونے لگی اور اس وقت اسے محسوس ہوا کہ یشکر اسے تھکاناچاہتا تھا۔شروع شروع میں جوش و غضب سے حملے کرنے والے کو احساس ہو گیا تھا کہ اس کا مقابل نہایت منجھا ہوا شمشیر زن اورانتہا کا پھرتیلا تھا۔
جونھی یشکر کو محسوس ہوا کہ خصرامہ کے حملوں میں سستی آگئی ہے وہ زہریلے لہجے میں بولا۔
”خصرامہ بن قلاص۔اب میری باری ہے۔“یہ کہتے ہی اس نے دفاع کی جگہ دھاوا بول دیا۔اس کی یورش میں بلا کی تیزی تھی۔خصرامہ سے دفاع کرنا مشکل ہورہاتھا۔صاعقہ کی مسلسل یلغار خصرامہ کے بالائی بدن پر کئی خراشیں ڈال چکی تھی۔ خصرامہ بہ مشکل ان حملوں سے بچ پا رہا تھا۔اور پھر یشکر کا ایک وار خصرامہ نے ڈھال پر سہارااور اس سے پہلے کہ اس کی تلوار جوابی وار کر پاتی یشکر نے سرعت سے اپنی ڈھال اس کے تلوار کے دستے کو پکڑے ہوئے ہاتھ پر مخصوص انداز میں رسید کی۔خصرامہ کی تلوار اڑتے ہوئے دور جاگری تھی۔خصرامہ نے بوکھلا کر دو تین قدم پیچھے لیے مگر یشکر اسے بھاگنے کا موقع نہیں دے سکتا تھا۔ اس نے صاعقہ اوپر اٹھا کر زوردار وار کیا جسے خصرامہ نے مشکل سے ڈھال پر سہارا تھالیکن اس دوران یشکر کی ڈھال اتنے زور سے اس کے چہرے پر پڑی تھی کہ اس نے ڈھال پھینک کرہاتھ چہرے پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔
یشکر نے فوراََ ہی صاعقہ کی نوک اس کی گردن سے لگادی تھی۔
”کیا کہا تھا وہ میرا یشکر ہے۔“بادیہ نے فخریہ انداز میں بنو عطفان کی دوشیزہ کو پکارا۔ مگر وہ ہکا بکا میدان میں کھڑے خصرامہ کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر موت کی زردی ڈیرے ڈال چکی تھی۔
”سردار خصرامہ،تمھیں زندہ نہیں چھوڑ سکتا البتہ بادیہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو حرف بہ حرف سنا دو تو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دوں گا۔ ہو سکتا ہے اگلی بار تم بہتر مقابلہ کر پاﺅ۔“
خصرامہ تھوک نگلتا ہوا بولا۔”میں نے اسے عزت سے حجرے میں رکھا تھا اور اس کے ساتھ کوئی بد تمیزی بھی نہیں کی۔“
” تمھارے سلوک کے بارے نہیں اس سے جو گفتگو ہوئی ہے اس بارے پوچھا ہے۔“ صاعقہ کی نوک اس کی گردن کے نرم گوشت میں دھنسنے لگی تھی۔
وہ جلدی سے بولا۔”میں نے اسے شادی کی پیشکش کی تھی اور اس نے کہا کہ وہ اپنے چچازاد یشکر سے منسوب ہے اور یہ کہا کہ اس کی طرف بڑھنے والا میلا ہاتھ یشکر کاٹ دیا کرتا ہے۔اور یہ کہ یشکر ہمیشہ اس کے قریب ہی رہتا ہے۔“یہ کہتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور پھربے بسی سے بولا۔ ”لاریب وہ سچ کہ رہی تھی۔“
یشکر نے صاعقہ پیچھے کھینچی۔”تلوار اٹھا لو خصرامہ ،یشکر زبان دے کے نہیں پھراکرتا۔“
خصرامہ تھکے تھکے انداز میں تلوار کی طرف بڑھا۔تلوار اور ڈھال اٹھا کروہ یشکر کے قریب پہنچا۔ ”لات کی قسم میں جانتا ہوں کہ تمھیں شکست دینا میرے لیے ناممکن ہے۔لیکن میں بنو عطفان کی کنواریوں کے طعنے نہیں سن سکتا اس لیے خون کے آخری قطرے تک ناممکن کو ممکن میں بدلنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔“یہ کہتے ہی اس نے یشکر پر حملہ کر دیا تھا۔اس کی پہلے والی تیزی اور پھرتی کہیں غائب ہو گئی تھی۔اس کے انداز میں مایوسی اور یلغار میں بددلی چھپی تھی۔یشکر نے اس کے چند وار ڈھال پر روکے اور پھر اس کا ایک تیز وار جھکائی دے کر خطا کرتے ہوئے اس نے صاعقہ کو اس تیزی سے گھمایا تھا کہ خصرامہ کے کچھ سمجھنے تک صاعقہ اس کی گردن کو ایسے کاٹ چکی تھی جیسے گاجر مولی کو تیز دھار چھری کاٹتی ہے۔ اس کی گردن ہوا میں اڑتی ہوئی الاﺅ کے قریب جا پڑی تھی۔اس کے ہاتھ بے جان انداز میں نیچے گرے اور وہ دھڑام سے چھاتی کے بل ریت پر گر کر ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔ اس کی کھلی آنکھوں میں اذیت اور حیرت جیسے ثبت ہو گئی تھی۔پورے میدان میں صرف آگ کے بھڑکتے شعلوں کی آواز گونج رہی تھی اس کے علاوہ اتنی گہری خاموشی تھی کہ گویا وہاں کوئی موجود ہی نہ ہو۔ بنو عطفان کا فخر ،ا ن کابہادرسپوت اور جنگجو سردار اپنے سر اور دھڑ کو جداکروائے زمین پر ڈھیر پڑا تھا۔ اس کا سرخ خون پیاسی ریت بے صبری سے نگل رہی تھی۔
چپ کے ماحول میں بادیہ سے بحث کرنے والی دوشیزہ کی چیخ نے جان ڈالی تھی۔وہ دھاڑیں مار مارکر رو رہی تھی۔اس کے ساتھ ہی چند بوڑھی عورتوں نے بھی سینہ کوبی شروع کر دی تھی۔ہجوم میں ہلچل ہوئی اور تمام بھاگتے ہوئے سردار کے جسم اور سر کی طرف بڑھے۔یشکر گہرے سانس لیتے ہوئے صاعقہ کو بے نیام کیے کھڑا رہا۔ جذبات میں بھرے ہجوم سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ اس پر حملہ کر دیتے۔
سردار خصرامہ بن قلاص کاچچازاد بھائی ربان بن ساعدیشکر کے نزدیک پہنچا۔خلاف توقع اس کے چہرے اتنا حزن و ملال نہیں تھا جو یکشر تصور کر رہا تھا۔
”جوان ،سردار کی آخری رسومات تک تمھارے پاس وقت ہے اپنی ساتھی کو لے کر بنو عطفان کی حدود سے نکل جاﺅ۔اس کے بعد میں تم سے بری الذمہ ہو جاﺅں گا۔“
یشکر نے پر جوش لہجے میں پوچھا۔”میری ساتھی کہاں ہے۔“
ربان بن ساعد نے ٹیلے کی جانب دیکھ کراونچی آواز میں کہا۔”سردارزادی کو یہاں لے آﺅ۔“
چند لمحوں بعد دونوں باندیاں اسے لیے ہوئے وہاں پہنچ گئی تھیں۔
”یہ رہی تمھاری امانت۔اور ایک بار پھر یاددہانی کرا دوں ،میں سردار کی آخری رسومات تک اپنے لوگوں کو روکوں گا اس کے بعد میرا عہد ختم ہو جائے گا۔“
یشکر نے بادیہ کی جانب نگاہیں اٹھائیں۔ وہ گہری نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی۔ یشکر کو اس کے چہرے پر عجیب سے رنگ بکھرے نظر آئے۔مگر وہ وقت ایسی باتوں کو سوچنے کا نہیں تھا۔
”سردار ہمارے گھوڑے۔“وہ ربان کی جانب متوجہ ہوا۔
ربان بن ساعد نے قریب موجودایک ادھیڑ عمر مرد کو کہا۔” کرز بن سریع ،گھوڑے ان کے حوالے کردو۔“
”جی سردار۔“کہہ کر اس نے قہر آلود آنکھیں یشکر پر ڈالیں اور ایک جانب چل پڑا۔
”چلو۔“یشکر ،بادیہ کے چہرے کی جانب دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔اسی دوران بنو قطام سے تعلق رکھنے والے امثل اور اکتف بھی ان کے قریب پہنچ گئے تھے۔ دونوں کے چہروں پر چھائی مرعوبیت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی۔
امثل ،اکتف اور یشکر کے گھوڑے سردار کے خیمے کے باہر بندھے تھے جبکہ بادیہ کا گھوڑا اصطبل میں تھا۔ کرز بن سریع ،بادیہ کا گھوڑا اس کے حوالے کر کے میدان کی طرف بڑھ گیاتھاجہاں سے رونے پیٹنے کی تیز آوازیں اب تک آرہی تھیں۔
”چلیں۔“یشکر امثل اور اکتف کی طرف متوجہ ہوا۔
”مجھے گھوڑے پر سوار کون کرائے گا؟“بادیہ کی شوخی بھری آواز نے یشکر کو چونکا دیا تھا۔
”معذرت خواہ ہوں سردارزادی ،مجھے خیال نہیں رہا تھا۔“یشکرنے جلدی سے قریب ہو کر گھٹنا زمین پر ٹیک دیاتھا۔
بادیہ نزاکت سے اس کی ران پر پاﺅں رکھتے ہوئے گھوڑے پر بیٹھ گئی تھی۔
”اب کیا ارادہ ہے۔“امثل اور اکتف نے گھوڑوں پر سوار ہو کر پوچھا۔
یشکر باآواز بلند بولا۔””اب ہم رخصت لیں گے تم سردار قیدوم کی خدمت میں میرا شکریہ پہنچا دینا۔ “
”کیا مطلب ؟“امثل نے حیرانی سے پوچھا۔
”مطلب یہ کہ ہم نے بہت لمبا سفر کرنا ہے۔“ہاتھ لہرا کر یشکر نے وادی کی جانب گھوڑے بڑھا دیے۔اکتف اور امثل نے وہیں سے بنو قطام کا رخ کر لیا تھا۔
خیموں سے تھوڑ دور جاتے ہی یشکر نے بھی اپنے گھوڑے کا رخ بنو قطام کی جانب موڑ دیا تھا۔
”کہاں جارہے ہیں۔“بادیہ نے حیرانی سے پوچھا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”بنو قطام۔“
”مگر پہلے تو تم کچھ اور کہہ رہے تھے؟“
”بنو عطفان والوں کو سنانے کے لیے ایسا کہا تھا ورنہ صبح صادق ہونے کو ہے،ہم کتنا سفر کر لیں گے۔طلوع آفتاب کے ساتھ سفر کرنا دشوارہو جاتاہے۔نہ سفر کر سکیں گے اور نہ کہیں ٹھہرنے کا حوصلہ ہو گا۔جبکہ مجھے مسلسل جاگتے ہوئے دوسری رات گزر گئی ہے۔دن کو بھی دو تین گھڑیوں سے زیادہ آرام نہیں کر سکا تھا۔بہتر ہو گا کہ سردار قطام کے مہمان بن جائیں۔ قابل بھروسا شخص ہے امید ہے ہماری حفاظت کا بندوبست کر لے گا۔“
بادیہ نے پوچھا۔”بنو جمرہ کے سواروں سے جان بچا کر تم کس وقت بنو قطام پہنچے تھے۔“
”آفتاب غروب ہونے کو تھا۔باقی بنو جمرہ کا صرف ایک آدمی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو سکا تھا باقیوں کی لاشیں مردار خور جانوروں کی ضیافت کے لیے میں وہیں چھوڑ آیا تھا۔“
”تو رات کو آرام کر لیتے۔ میری تلاش کا کام اگلی صبح پر بھی ٹالا جا سکتا تھا۔“بادیہ کے معنی خیز لہجے سے یشکر کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔لیکن اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکا تھا۔وہ دل میں کوئی غلط فہمی نہیں پالنا چاہتا تھا۔ جب ایک بار اس نے بادیہ کو بنو اسد تک پہنچانے کا تہیہ کر لیا تھا تو اب مزید سوچنا بے کار تھا۔
”کچھ پوچھا ہے میں نے؟“بادیہ نے اس کا جواب جاننا چاہا۔
”سردارزادی !….جن سوالوں کے جواب معلوم ہوں اور دہرائے جانے پر سماعت پر بوجھ بن جائیں ان کے بارے کریدفضول لگتی ہے۔“ یشکر تلخ ہونے لگا۔
بادیہ کا مترنم قہقہ گونجا۔یشکر کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا۔ہنسی رکتے ہی وہ کہنے لگی۔
”تمھارے کہنے کا مطلب ہے، میری محبت کی وجہ سے تم نے اپنی نیند پر میری تلاش کو ترجیح دی اور اس بارے میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ہے نا؟“
یشکر نے خاموش رہنے میں عافیت جانی تھی۔بادیہ کی باتیں اسے نہایت عجیب لگ رہی تھیں۔ کہاں تو وہ اس کی بات کا جواب دینا گوارا نہیں کرتی تھی،اس کے محبت جتانے پر تلخ ہونے لگتی تھی اور کہاں ایک لاڈلے محبوب کی طرح برتاﺅ کرناشروع کر دیا تھا۔
اسے خاموش پا کر وہ شرارت بھرے لہجے میں بولی۔”اچھا تم نے عہد کیا تھا کہ کسی دوسرے کی شادی مجھ سے نہیں ہونے دو گے۔“
وہ حیرانی سے بولا۔”تمھارے سامنے ہی اپنا عہد واپس لے لیا تھا۔“
”اور یہ بھی کہا تھا کہ میری تجویز کی ہوئی ہر سزاتمھیں قبول ہو گی۔“بادیہ نے بہ ظاہر سنجیدہ لہجے پوچھا۔
”ہاں۔“
وہ شرارتی انداز میں بولی۔”تو سناﺅں سزا؟“
”منتظر ہوں ….“یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اگر تمھارا سر مانگوں ؟“اس نے مشورہ چاہنے والے انداز میں پوچھا۔مشرق سے سپیدہ سحر نمودار ہو رہا تھا۔ہر طرف خوشگوار اجالا بکھرا تھا۔دونوں کے گھوڑے دلکی چال میں متوازی دوڑ رہے تھے۔
یشکر نے لگام کھینچتے ہوئے گھوڑے کو روکا،چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور اس کے گھوڑے کے ساتھ گھٹنا ٹیکتے ہوئے بولا۔”نیچے آجاﺅ سردار زادی۔“
ہونٹوں پر شوخ مسکراہٹ بکھیرتے وہ اس کی ران پر پاﺅں رکھ کر نیچے اتر آئی تھی۔
یشکر نے صاعقہ کو بے نیام کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں پر رکھ کر اس کی طرف بڑھا دیا تھا۔ ”یہ لو ….کوشش کرنا ایک ہی وارمیں گردن کٹے۔“
بادیہ نے صاعقہ کے دستے پر گرفت جمائی ،یشکر دوزانو بیٹھتے ہوئے بادیہ کے دلکش چہرے کو دیکھنے لگا۔
تلوار کی دھار پر ہاتھ پھیر کر وہ اس کے قریب ہوئی۔ یشکر کا قد اس سے بہت اونچا تھا۔اس کی آسانی کے لیے اس نے فوراََ زانو حالت بنا لی تھی۔
مزید قریب ہو کر اس نے اچانک تلوار نیچے پھینکی اور دونوں ہاتھ یشکر کے کندھوں پر رکھتے ہوئے قاتلانہ مسکراہٹ سے بولی۔
”سر کے بدلے دل کا سودا کیسا رہے گا؟“
ایک لمحے کے لیے تو یشکر کو اپنی سماعتوں پر دھوکا ہواتھا۔اس کی آنکھوں میں حیرانی ابھری ، اور ہونٹوں بات کرنے کے لیے تھرتھرائے مگر آواز برآمد نہیں ہوئی تھی۔
”سچ کہہ رہی ہوں۔وہ اس کے مزید قریب ہوئی۔گزشتہ رات مجھ پر بہت گراں گزری تھی۔ میں نے عزیٰ سے تمھاری سلامتی کی مناجات کیں ،پھر آگ کے سامنے دامن پھیلایا کیوں کہ تم آگ کی پوجا کرتے ہو۔پھر مقابلے کے دوران بنو عطفان کی ایک لڑکی مجھ سے بحث کرنے لگی۔وہ کہہ رہی تھی کہ خصرامہ بن قلاص،یشکر کے ہاتھ اور ٹانگیں کاٹ دے گا۔جبکہ میں نے دوسرا دعویٰ کیا۔اور پھر میرا کہا پورا ہوا۔تب میں نے اس لڑکی کو آواز دے کر استفسار کیا….”کہا تھا ناں میرا یشکر تمھارے سردار کی گردن کو غلولے کی طرح اڑا دے گا۔“اس نے لمحہ بھر کے لیے توقف کیا اور پھر ناز بھرے انداز میں مستفسر ہوئی۔”میں نے ٹھیک کہا تھا ناں ،تم میرے یشکر ہونا ں؟“
یشکر کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی،اس کی گنگ ہوتی زبان سے بہ مشکل نکلا۔”کب سے تھا سردار زادی !“
”بادیہ نہیں کہو گے۔“وہ اتنے قریب ہوگئی کہ مزید قربت ممکن نہیں رہی تھی۔یشکر کے کندھوں پر موجود اس کے دونوں ہاتھوں نے ایک دوسرے کو تھام کر یشکر کے گلے میں ریشمی بانہوں کا پھندہ کس دیا تھا۔
یشکر کے مضبوط بازوﺅں نے سحرزدہ انداز میں اس کے کومل بدن کے گرد گھیراڈالا۔ ”کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔“
”معلوم ہے میں نے خصرامہ بن قلاص کو کہا تھا کہ میری نسبت اپنے چچا زاد یشکر بن شریم سے طے ہو چکی ہے۔میں نے جھوٹ تو نہیں کہا تھا ناں ؟“اس نے معصومیت سے پوچھا۔
”کبھی نہیں ،میری بادیہ جھوٹ بول ہی نہیں سکتی۔“
سورج نے مشرق سے سر ابھارا۔ اسے بانہوں کے گھیرے سے آزاد کرتے ہوئے یشکر مشرق کی جانب مڑا اور سورج کے سامنے سرجھکاتے ہوئے اس نے چند مخصوص الفاظ کہے اور پھر بادیہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔”ابھرنے والے کی قسم تم یشکر کو اس کی جان سے کئی گنا زیادہ عزیز ہو۔“
”جانتی ہوں ،پہلے دن سے جانتی ہوں ….تب سے جب آپ نے پہلی بار مجھے بنو جساسہ کے کنویں کے قریب دیکھا تھا۔“بادیہ کے لہجے میں اس کے لیے احترام در آیا تھا۔
یشکر نے وارفتگی سے پوچھا۔”اگر میں سردار قیدوم کو کہہ دوں کہ آج ہی ہماری شادی کروادے؟“
وہ شوخی سے مسکرائی۔”تو سمجھوں گی آپ نے میرے دل کی سرگوشی سن لی ہے۔“
” چلیں تاکہ نیک کام میں دیر نہ ہو۔“یشکر نے کھڑے ہوتے ہوئے اسے بازوﺅں میں بھرا اور گھوڑے پر لا کر بٹھا دیا۔
وہ شرارت سے بولی۔”اب اس طرح گھوڑے پر بٹھایا کرو گے۔“
”اچھا نہیں لگا۔“یشکر نے پریشانی ظاہر کی۔
وہ ناز سے بولی۔”ایسا تو نہیں کہا۔“
یشکر نے بے اختیار گہرا سانس لیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہی انھیں بنو قطام کے آثار نظر آنے لگ گئے تھے
٭٭٭
بنو احمر کا سردار نجار بن ثابت دوسو سواروں کو ساتھ لے کر نو نسر کے مضافات میں پہنچا ہوا تھا۔ اطلاع ملنے پر سردار جبلہ بن کنانہ بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔گزشتہ رات بنو احمر کا بچ جانے والا آدمی گرتا پڑتا قبیلے میں پہنچا تھا۔سردار نجار رات ہی کواپنے آدمی اکٹھے کر کے اس جانب چل پڑا تھا۔وہ اگلی صبح طلوع آفتاب کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔پورے دن اور رات کا طویل وقت مردار خور جانوروں کی ضیافت کے لیے کافی تھا۔جانوروں نے بنو احمر کے دونوں مقتولوں کی سربریدہ لاشوں سے گوشت کی آخری بوٹی تک نوچ لی تھی۔رہی سہی کسر کرگسوں (گدھ)نے پوری کر دی تھی۔ان کے پنجر اور کھوکھلی کھوپڑیاں اٹھواتے ہوئے سردار نجار، جبلہ بن کنانہ کے ساتھ تلخ کلام ہوا۔
”یہ تمھاری بیٹی کی کارروائی ہے اور دیکھ لینا اس کا انجام کتنا بھیانک ہوتا ہے۔“
”بنو نسر کے لیے ایک طرید کی موت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔“جبلہ نے بے پروائی ظاہر کی۔
نجار نے دانت پیسے۔”میرا شک درست تھا کہ وہ قبیلے کا رخ ضرور کرے گی۔“
جبلہ نے منھ بنایا۔”اس کا قبیلے میں آنا میرے علم میں نہیں ہے۔ تمھی سے سن رہا ہوں کہ ان آدمیوں کے قتل میں اس کا ہاتھ ہے۔“
”میرے پاس گواہ موجود ہے۔“اس کے اشارے پر بنو احمر کا پراگندہ حال آدمی سامنے آیا۔
”غراب بن ارصاد،بنو نسر کے سردار کو بتاﺅکیا ہوا تھا۔“
غراب بن ارصاد تفصیل بتلاتا ہوا بولا۔”وہ صبح صادق کے قریب بنو نسر کی جانب سے برآمد ہوئی ،اس کے ہمراہ ایک طویل قامت آدمی بھی تھا۔دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔ہمیں نیند سے امریل بن خرشہ نے جگایا تھا۔اور پھر اس کی اور وحشی امریل کی جنگ ہوئی ،سردار زادی نے امریل کو قتل کر کے کرز بن سریع اور جابربن اسیرکی گردنیں بھی کاٹ دیں۔اور مجھے رہا کر دیا کہ اپنے سردار تک یہ پیغام پہنچا دوں۔اس کے بعد مجھے معلوم نہیں وہ کس طرف چلے گئے۔“
جبلہ کے ہونٹوں پر اشتہزائی مسکراہٹ نمودارہوئی۔”مجھے بنو احمر کے شہ سواوروں کی کارکردگی پر افسوس ہے۔ اگر چار جنگجو اکیلی لڑکی کو زیر نہیں کر سکے تو اور کیا کارنامہ سرانجام دیں گے۔بہتر ہو گا کہ سردار نجار اپنے آدمیوں سے باز پرس کریں۔اہل بنو نسر نہ پہلے دشمنی چاہتے تھے اور نہ اب ایسا ارادہ رکھتے ہیں۔باقی نسر کی قسم میں بنو نسر سے تعلق رکھنے والی طرید کی آمد سے بے خبر ہوں۔اگر تمھیں شک ہے کہ وہ اب بھی بنو نسر میں کہیں چھپی ہوگی تو تلاشی لے کر اپنے شکوک رفع کر سکتے ہو لیکن اگر وہ نہ ملی تو بنو احمر کا سردار ایک سو اونٹ بہ طور جرمانہ ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔“
نجار بن ثابت نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔”اگر میں بغیر جرمانہ ادا کیے تلاشی لینا چاہوں ؟“
”پھر میں بھی اپنے آدمیوں کے ساتھ بنو احمر کی تلاشی لوں گا ،کیوں کہ مجھے شک ہے قُتیلہ تمھاری قید میں ہے اور چونکہ وہ بنو نسر کی بھی مجرم ہے اس لیے اپنی مجرم کو سزا دینے کے لیے اس کی واپسی کا مطالبہ میرا بھی حق ہے۔“
”تم بنو احمر کے سردار کو للکا ررہے ہو۔“نجار بن ثابت کا چہرہ غصے کی شدت سے بگڑ گیا تھا۔
”نہیں۔“جبلہ نے نفی میں سر ہلایا۔”اگر میری بات غلط ہے تو ثالثی کروا لیتے ہیں۔“
”ثالث کی آڑ کمزور لیا کرتے ہیں۔“نجار بن ثابت کے لہجے میں اپنی تعداد کے زیادہ ہونے کا زعم ابل رہا تھا۔
”سردارنجار بن ثابت،میں صلح کی آخری کوشش کر چکا ہوں ،یہاں تک کہ اپنی سگی بیٹی کو عاق کر کے در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیا۔ اگر ایک لڑکی تمھارے لیے لا ینحل مسئلہ بنی ہوئی ہے تو اس کا دوش اہل بنو نسر کے سر نہ ڈالو۔باقی بنو نسر کی تلاشی لینے کے لیے میں دو شرائط پیش کر چکا ہوں اگر قبول ہیں تو خوش آمدیدنہیں تو تمھارے اگلے اقدام کا انتظار رہے گا۔“یہ کہہ کر جبلہ بن کنانہ نے اپنے آدمیوںکو سر ہلا کرواپس چلنے کا اشارہ کیا۔اس کے ہمراہ آئے ہوئے دس سواروں نے گھوڑے موڑ لیے تھے۔
نجار بن ثابت کینہ توزنظروں سے اس کی پشت کو گھورتا رہ گیا تھا۔ان کے جاتے ہی وہ غراب بن ارصاد کی طرف متوجہ ہوا۔
”امریل بن خرشہ کی لاش نظر نہیں آرہی۔“
غراب بن ارصاد ایک مخصوص جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔”اسے سردار زادی نے یہاں گرایا تھا۔اور مکے مار مار کر بے ہوش کر دیا تھا۔میں نے سوچا شاید بعد میں اسے قتل کر دیا ہو لیکن لگتا ہے ہوش آنے پر وہ خود ہی کہیں چلا گیا۔“
نجار نے حیرانی سے کہا۔”اگر مرضی سے جاتا تو بنو احمر کا رخ کرتا۔“
”امریل بن خرشہ جیسے لڑاکے کوایک لڑکی سے شکست کھانے کی ذلت کہاں برداشت ہو رہی ہو گی۔غراب بن ارصاد کا خیال صحیح ہے قُتیلہ اسے مردہ سمجھ کر اپنے ساتھی کے ساتھ چلی گئی ہو گی اورہوش میں آنے پر امریل نے کسی اور سمت کا رخ کر لیا ہو گا۔یہ بھی ممکن ہے وہ بدلہ لینے کے لیے اس کے تعاقب میں ہو۔“ اس کے دست راست قدامہ بن شیبان نے خیال ظاہر کیا۔
نجابن ثابت نے سر کو اوپر نیچے حرکت دی۔ ”موّخر الذکر امکان میرے دل کو لگ رہا ہے۔“
قدامہ نے پوچھا۔”بنو نسر کے بارے کیا سوچا؟“
” بنو نسر کا قلع قمع کرنا مشکل نہیں لیکن اس لڑائی کے لیے کافی خون بہانا پڑے گا۔باقی جبلہ بن کنانہ نے اصولی بات کی ہے۔ ہمارے لڑاکے جس قبیلے کی ایک لڑکی کے ہاتھوں گردنیں کٹوا رہے ہیں وہ اس قبیلے کے مردوں سے کیا جنگ کریں گے ؟“
”آپ ہماری توہین کر رہے ہیں سردار۔“بنو احمر کا ایک بہترین شمشیر زن ریاب بن مجمع شاکی ہوا۔”صرف غراب کے کہنے پر ہم یہ یقین نہیں کر سکتے کہ قُتیلہ نے امریل کو شکست دی ہو گی۔ممکن ہے انھیں غافل پڑے دیکھ کر اس لڑکی نے ان کی گردنیں کاٹی ہوں اور غراب کی آنکھ اچانک کھل گئی ہو اور یہ جان بچا کر قبیلے میں بھاگ آیا ہو۔لازم بات ہے اپنی غفلت پر پردہ ڈالنے کے لیے اس نے کوئی نہ کوئی کہانی تو گھڑنا تھی۔اس سے پہلے وہ لڑکی سردار کیدار بن ثابت اوذواب بن ثابت کو بھی تو سوتے میں قتل کر چکی ہے۔“
غراب سراسیمہ لہجے میں بولا۔”سردار ،میں نے ذرا سی بھی غلط بیانی نہیں کی۔اگر ریاب بن مجمع کی بات کو صحیح مانا جائے تو پھر امریل بن خرشہ کی لاش بھی یہاں موجود ہونا چاہیے تھی۔“
ریاب جلدی سے بولا۔”وہ ان کے تعاقب میں ہو گا۔“
غراب نے دلیل پیش کی۔”کیا ممکن ہے کہ امریل کے ہوتے ہوئے ایک لڑکی کرز بن سریع اور جابربن اسیرکی گردنیں کاٹ کر بھاگ گئی ہو ،چلو میں بزدل اور بھگوڑا ٹھہرا۔“
”تواس نے لڑ کر امریل کو زیر کیا تھا۔“ریاب کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رقصاں تھی۔
”ہبل کی قسم میں جھوٹ نہیں بول رہا۔“غراب نے پر اعتماد لہجے میں قسم کھائی۔
نجار ان کی گفتگو میں دخیل ہوا۔”ریاب بن مجمع،غراب کو جھٹلانا اتنا بھی آسان نہیں ہے۔وہ لڑکی بلا شک و شبہ ماہر شمشیر زن اور نہایت خو صورت ہے۔زیادہ تر لڑاکے اس کی معصوم صورت اور دنبالہ آنکھوں سے سحرزدہ ہو کر مار کھا جاتے ہیں۔“
”مگرآپ کا غلام امریل بن خرشہ ایسا نہیں تھا سردار !“ریاب نے احتجاج کیا۔”وہ کسی لڑکی کے حسن سے متاثر نہیں ہوسکتا۔اور غراب کے بہ قول قُتیلہ اور امریل کے درمیان طویل لڑائی ہوئی جس میں ہار امریل کا مقدر بنی۔ایک نازک اندام لڑکی کا اتنی دیر شمشیرزنی کرنا مجھے ہضم نہیں ہورہا۔میں خود شمشیر زن ہوں اور جانتا ہوں کہ مسلسل تلوار چلانا کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا عمل ہے۔“
”قُتیلہ کی تلاش میں مزید ٹولیاں بھیج دو۔اگر وہ بنو نسر سے نکل کر ان کے پاس پہنچی تھی تو یقینا اس کا رخ شمال کی جانب ہوگا۔اور اب ہر ٹولی میں چار کے بجائے آٹھ جنگجو ہوں گے۔“
”جی سردار۔“زیاب اثبات میں سر ہلا کر بنو احمر کے شہسواروں کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔
٭٭٭
قُتیلہ گہری نیند میں تھی۔ہوا بالکل رکی ہوئی تھی۔امریل خاموشی سے اٹھا اس نے ایک چادر درخت کی ٹہنیوں سے باندھ کر اس کے نچلے حصے میں اپنی کمان باندھی اور کمان کے درمیان میں رسی باندھ کر اسے آہستہ آہستہ کھینچنے لگا۔یوں ہلکی ہلکی ہوا قُتیلہ کے چہرے پر ظاہر ہونے والے پسینے کو ختم کرنے لگی تھی۔درخت کے تنے سے ٹیک لگائے وہ کافی دیر اسی شغل میں مصروف رہا۔قُتیلہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں عجیب سی عقیدت نمودار ہوجاتی تھی۔جس لڑکی کی جانب اس نے بری نیت سے قدم بڑھائے تھے اب اسی لڑکی کا آرام و سکون امریل کی پہلی ترجیح بنا ہوا تھا۔
کروٹ تبدیل کرتے ہوئے اچانک قُتیلہ کی آنکھ کھلی، وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔اس نے حیرانی بھری نظروں سے درخت کی ٹہنیوں سے بندھی چادر دیکھی اور پھر اس کی نظریں درخت سے ٹیک لگائے امریل پر پڑیں۔
”یہ کیا ہے امریل؟“قُتیلہ کی آواز میں خفگی شامل تھی۔
وہ خفیف ہوتا ہوا بولا۔ ”مالکن کو پسینہ آیا ہواتھا۔ مجھے ڈر ہوا مالکن کی نیند خراب نہ ہو جائے۔“
”امریل ،ملکہ قُتیلہ آسائشوں کی عادی نہیں ہے۔“اس کا لہجہ کافی سخت تھا۔
”مالکن ،یہ بات مجھ سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے لیکن غلام کاکام تو اپنی مالکن کو آرام پہنچانا ہوتا ہے نا۔“
”آئندہ تم ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے۔اب چادر کو اتارو اور لیٹ جاﺅ۔“اسے سخت لہجے میں تنبیہ کرتے ہوئے اس نے اپنا سر سرھانے رکھی گھوڑے کی زین پر ٹیک دیا۔
چند لمحے تک جب اسے کپڑا اسی طرح لٹکتا دکھائی دیتا رہا تب اس نے امریل کی جانب دیکھا وہ اس کی جانب پیٹھ موڑے دھوپ میں بیٹھا تھا۔یقینا وہ خفا تھااور خفگی کے اظہار کاطریقہ اس کے علاوہ اسے کوئی نہیں سوجھا تھا۔
”امریل !“قُتیلہ نے ہنسی دباتے ہوئے سخت لہجے میں پکارا۔”یہ کیا بے وقوفی ہے۔سائے میں آجاﺅ۔“
”میں یہیں ٹھیک ہوں مالکن۔“امریل کے لہجے میں خفگی بھری تھی۔
قُتیلہ چند لمحے اس کی پیٹھ کو گھورتی رہی اور پھر بے بسی بھرے لہجے میں بولی۔”اچھا جو کرنا ہے کرو ،مگرسائے میں آجاﺅ۔“
امریل کے چہرے پر مسرت نمودار ہوئی۔دوبارہ درخت کے تنے سے ٹیک لگا تے ہوئے اپنے شغل میں لگ گیا۔
قُتیلہ کے ہونٹوں پر ہنسی نمودار ہوئی۔”امریل ،تم ملکہ قُتیلہ کوناکارہ کرنا چاہتے ہو۔“
”مالکن!….بھرپور نیند لینے سے آدمی ناکارہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔“
افسوس بھرے انداز میں سرہلاتے ہوئے قُتیلہ لیٹ گئی تھی۔امریل کو سمجھانا فضول تھا۔ وہ عقیدت میں ڈوب کر قُتیلہ کو ہر سکون پہنچانا چاہتا تھااور ایسے آدمی کو منع کرنا اتنا آسان بھی نہیںہوتا۔
”کچھ لوگ آرہے ہیں مالکن۔“آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس کی سماعتوں میں امریل کی آواز پڑی۔اسی وقت حطام نے بھی بھونکنا شروع کر دیا تھا۔
اٹھ کر اس نے امریل کے دیکھنے کی سمت نگاہ دوڑائی پانچ گھڑسوار وں کا رخ اسی جانب تھا۔ یقینا وہ کافی دیر سے سائے کی تلاش میں سرگرداں تھے۔
قُتیلہ بے پروائی سے بولی۔”آنے دو ،یہاں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ دوپہر گزار سکیں۔“
”تمھاری دوپہرسلامتی والی ہو۔“انھوں نے دور ہی سے سلام کہا تھا۔
قُتیلہ مستفسر ہوئی۔”تم شاید کافی دیر سے سائے کی تلاش میں بھٹک رہے تھے۔“
قُتیلہ کی بات ختم ہونے تک وہ بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔قُتیلہ پر نظر پڑتے ہی سب سے آگے والے کی آنکھوں میں تیز چمک ابھری ،گھوڑے سے نیچے چھلانگ لگاتے ہوئے اس نے تلوار میان سے کھینچی۔اور پر مسرت لہجے میں بولا۔” مجھے لگتا ہے ہماری تلاش اختتام پذیر ہوگئی۔“اس کی تیز نظریں قُتیلہ کے چہرے پر گڑی تھیں جو انھیں دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
”تمھارا اندازہ بالکل صحیح ہے حباشہ۔“دوسرے آدمی نے بھی اس کی تقلید میں گھوڑے سے چھلانگ لگاتے ہوئے اپنی تلوار بے نیام کر لی تھی۔”بلا شک و شبہ یہ سردارزادی بادیہ بنت شیبہ ہے۔ اور یقینا یہ یشکر ہوگا۔“اس نے ملکان بن نول کی طرف اشارہ کیا جو ان کی گفتگو سن کر جاگ گیا تھا۔ان کے باقی ساتھیوں نے بھی گھوڑوں سے اتر کر تلواریں سونتنے میں دیر نہیں کی تھی۔
ملکان بن نول ان کی بے وقوفی پر مسکرایا۔”اگر میں کہوں تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے۔“
”صحرائے اعظم کی حسین ترین لڑکی بادیہ بنت شیبہ ہے اور بلا شک و شبہ اس وقت ہماری آنکھیں اسی کی حسین صورت سے ٹھنڈک پا رہی ہیں۔“حباشہ نامی شخص کی آنکھیں گندمی رنگت والی قُتیلہ کے چہرے پر گڑی تھیں۔
”جوان تم نے ملکہ قُتیلہ پر تلوار تاننے کی جرّات کی ہے۔اسے تمھاری غلط فہمی جانتے ہوئے ملکہ قُتیلہ تمھیں ایک موقع دیتی ہے۔ تلواریں نیام میں کرکے اس سائے میں دوپہر گزارواور بادیہ نامی سردار زادی کی تلاش میں روانہ ہو جاﺅ۔“
حباشہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”سردار زادی ،تمھاری زبان جھوٹ کا سہارا لے کر اپنی شناخت پر لاکھ پردہ ڈالے مگر گندمی رنگت ،موٹی سیاہ آنکھیں ، گھنے بال ،کشادہ پیشانی، گلابی ہونٹ ،ستواں ناک یہ سب چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں کہ تم بادیہ بنت شیبہ ہو۔وہی حسینہ جس کی تلاش میں ہم کئی دن سے صحرا کی خاک چھان رہے ہیں۔“
قُتیلہ کے چہرے پر غصہ ابھرااپنی تلوار اٹھاتے ہوئے وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔اسے اٹھتا دیکھ کر امریل بھی اچھل کر کھڑا ہو گیا تھا۔
”میرا خیال ہے یہ وہ نہیں ہے۔“حباشہ کے عقب میں کھڑے ہوئے آدمی نے قُتیلہ کی قامت دیکھتے ہوئے تذبذب سے کہا۔”بادیہ بنت شیبہ طویل قامت نہیں ہے اور اس کا جسم بھی مائل بہ فربی ہے۔جبکہ یہ چھریرے بدن کی مالک ہے۔“
”کوئی بات نہیں اساف۔“حباشہ خباثت سے ہنسا۔”سردار ،شماس بن جزع کو یہ پھول پسند نہ بھی آیا تو ہم جیسے قدردانوں کا بھلا ہو ……..“
مگرقُتیلہ کی بجلی کے کوندے کی طرح لہرانے والی تلوار نے اسے بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔اس کی گردن اڑ تی ہوئی کئی قدم دور جا گری تھی۔اس کے عقب میں کھڑا اساف ایک لمحے کے لیے ششدر رہ گیا تھا۔اور جب تک اس کی حیرانی ختم ہوتی قُتیلہ دوسری بار تلوار گھما چکی تھی۔اس مرتبہ اس نے دائیں جانب کے بجائے بائیں جانب سے تلوارگھمائی تھی اور اساف کی گردن ،حباشہ کی گردن کے مخالف اتنے ہی فاصلے پر جاپڑی تھی جتنی دورحباشہ کی گردن گئی تھی۔اسی وقت امریل آندھی و طوفان کی طرف باقی افراد کی طرف بڑھا تھا۔
”امریل ایک کو زندہ چھوڑ دینا۔“قُتیلہ زور سے چلائی تھی۔اگر اسے ایک لمحے کی دیر ہوجاتی تو امریل کی تلوار بچ جانے والے آخری آدمی کا مزاج بھی پوچھ چکی ہوتی۔اس نے بڑی مشکل سے خود کو روکا تھا۔چار آدمی نہایت مختصر وقت میں نیچے گرکر اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹک رہے تھے جبکہ ان کی گردنیں دھوپ میں پڑی تھیں۔ان کا آخری زندہ رہ جانے والا ساتھی تلوار پھینک کر خوف سے تھر تھرکانپنے لگا تھا۔
خوب صورت نقوش کی حامل لڑکی اتنی ماہر شمشیر زن اور اتنی ظالم ہو گی یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔رہی سہی کسر حبشی امریل کی وحشت نے پوری کر دی تھی۔
قُتیلہ نے حباشہ کے کپڑوں سے صاف کر کے تلوار نیام میں ڈالی اور اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے بے رحمی سے بولی۔”اب شروع ہو جاﺅتمھاری زندگی کی طوالت بولتے رہنے میں ہے۔“
”میں رحم کا طالب ہوں۔“بچ جانے والا شخص سخت سہما ہوا تھا۔
قُتیلہ نے اسے تیکھی نظروں سے گھورا۔”میں نے تعارف پوچھا ہے ،معذرت کرنے کا نہیں کہا ہے۔“
وہ سرعت سے شروع ہو گیا۔’میرانام یزیدبن ملحان اورتعلق بنو نوفل سے ہے۔ ہم بنو جساسہ کی سردارزادی بادیہ بنت شیبہ کو ڈھونڈ رہے تھے جس نے ایک فارسی غلام کے ہمراہ راہ فرار اختیار کی ہوئی ہے۔بد قسمتی سے ہم نے اس کی شکل دیکھی ہوئی نہیں تھی بس اتنا معلوم تھا کہ وہ صحرائے عرب کی خوب صورت ترین دوشیزہ ہے۔ آپ کی حسین صورت کو دیکھ کر میرے ساتھیوں کو غلط فہمی ہو گئی تھی۔اور وہ انجانے میں گستاخی کر بیٹھے۔“
قُتیلہ نے اشتیاق سے پوچھا۔”بادیہ بنت شیبہ کا تعلق بنو جساسہ سے ہے اور تمھارا بنونوفل سے پھر تم اسے کیوں ڈھونڈ رہے ہو ؟“
”اس کے حسن کے قصے سن کر کافی قبائل کے سردارزادے اور سردار اس سے شادی کے خواہش مند تھے۔بادیہ کے والد سردار شیبہ کا کسی ایک قبیلے کے لیے اثبات کرنا باقی قبائل کی خفگی کا باعث بنتا۔پس اس نے بادیہ کے امیدواروں کے درمیان شمشیر زنی کا مقابلہ کرایا جس میں سردار زادے ہزیل بن شماس کو فتح نصیب ہوئی۔ وعدے کے مطابق بادیہ سے اس کا نکاح ہو گیا۔بنو جساسہ میں ساری رات جشن منایا جاتا رہا اور صبح کے وقت جب تمام سو گئے تبھی سردار شیبہ کے بھائی شریم کافارسی النسل غلام یشکر جسے اس نے آزاد کر کے منھ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔اس نے سردارزادے ہزیل کو قتل کر دیا۔بنو نوفل کے سردارشماس بن جزع نے خون بہا کے طور پرایک ہزار اونٹوں کے ساتھ یشکر اور بادیہ کا بھی مطالبہ کر دیا۔ اور بنو جساسہ کے انکار پر بنو نوفل نے حملہ کر کے تمام قبیلے کا خاتمہ کر دیا لیکن یشکر سردار زادی بادیہ کو لے کر بھاگ نکلا اور اب ہم اسی کی تلاش میں ہیں۔“
بادیہ نے پوچھا۔ ”بادیہ کے عاشق نے سردارزادے ہزیل کو مقابلہ کر کے قتل کیا یا نیند کی حالت میں انجام تک پہنچایا۔“
یزید جلدی سے بولا۔”اگر سردار زادہ جاگ رہا ہوتا تو یشکر جیسے دس جوانوں پر بھاری تھا۔ اس غلام نے سوتے میں ہزیل بن شماس کا خون بہایا ہے۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا۔”گویا بزدل شخص ہے۔اور بزدلوں کی ملکہ قُتیلہ کے قبیلے کوئی جگہ نہیں ہے۔“
ملکان بن نول ،یزید کو مخاطب ہوا۔”تمھارے قبیلے کی اور ٹولیاں بھی سردارزادی بادیہ کی تلاش میں نکلی ہوں گی؟“
”ہاں۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔
ملکان بن نول اگلا سوال پوچھا۔”کیا تمام نے بادیہ بنت شیبہ کو نہیں دیکھاہوااور اندازے سے اس کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔“
یزید نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ،اکثر ٹولیوں کے ہمراہ ایسے افرادموجود ہیں جنہوں نے یشکر کو دیکھا ہوا ہے۔“
”اس کا مطلب ہے ہمیں آگے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔“ملکان بن نول قُتیلہ کی جانب متوجہ تھا۔
قُتیلہ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”اگر بنو نوفل والوں کے مقدر میں ملکہ قتیلہ کے ہاتھوں قتل ہونا لکھا ہے تو ان کی قسمت۔“
”اس کا کیا کرنا ہے ؟“ملکان نے یزید کی جانب اشارہ کیا۔
”ہم نے دو دو آدمی قتل کیے ہیں ایک کی گردن پر تلوار چلانا تمھارا بھی فرض بنتا ہے۔“بے رحمی سے مسکراتے ہوئے وہ لیٹ گئی تھی۔
یزید گڑگڑایا۔”میں رحم کی درخوست کرتا ہوں۔“
”امریل ،ملکہ قُتیلہ کو گرمی محسوس ہو رہی ہے۔“آنکھوں بند کرتے ہوئے اس نے امریل کو آواز دی۔
”جی مالکن۔“مستعدی سے کہتے ہوئے امریل رسی کھینچ کر کپڑا جھُلانے لگا۔
ملکان تلوار بے نیام کرتے ہوئے بچ جانے والے کی طرف بڑھا۔اس نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ہاتھ باندھ لیے تھے۔لیکن ملکان بن نول نے بے دردی سے تلوار کا وار کرتے ہوئے اسے بھی ساتھیوں کے پاس پہنچا دیا تھا۔ایک مردے کے کپڑوں سے تلوار کی دھار صاف کر کے اس نے تلوار نیام میں کی اور لاشوں کو گھسیٹ کر سائے سے دور پھینکنے لگا۔لاشوں کو ٹھکانے لگا کر اس نے تلواریں اکھٹی کیں اور پھر گھوڑوں کو سنبھالنے لگا۔جب وہ فارغ ہو کر دوبارہ لیٹنے کے لیے پہنچا تب تک قُتیلہ کے گہرے سانس اس کے سوجانے کا اعلان کر رہے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: