Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 27

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 27

–**–**–

”مجھے سچ جاننا ہے ؟“جبلہ بن کنانہ بغیر کسی تمہید کے عریسہ کو مخاطب ہوا تھا۔
چند لمحے ہاں ،ناں کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ دھیرے سے بولی۔”وہ آئی تھی یہاں۔“
”مجھے کیوں نہیں بتایا؟“جبلہ نے بڑی مشکل سے غصے پر قابو پایا تھا۔
”وہ رات گئے یہاں پہنچی تھی چند لمحوں کی خیرات میری جھولی میں ڈالی اور چلتی بنی۔“عریسہ کی آواز بھرانے لگی تھی۔
”تمھیں چاہیے تھا کہ اس کے جاتے ہی مجھے مطلع کرتیں ۔نہیں تو صبح ہوتے ہی مجھے اطلاع دی جا سکتی تھی۔“جبلہ سخت خفا تھا۔
”وہ کم سن و کم عقل ہے سردار!“عریسہ سر جھکاتے ہوئے گڑگڑائی۔
جبلہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اہل بنونسر کو اس نے موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ،بنو احمر کے دوسرداروں کی گردنیں کاٹ چکی ہے اور وہ اب تک بچی ہے۔“
عریسہ نے نادم انداز میں گردن جھکا لی تھی یوں جیسے قُتیلہ کی ہر غلطی کی وہ ذمہ دار ہو۔
”جانتی ہو مجھے جتانے کے لیے وہ اپنے چھوٹے بھائی طرفہ کے کتے کو بھی ساتھ لے گئی ہے۔ یہ بات مجھے حطام کے غائب ہونے ہی سے سمجھ لینا چاہیے تھی ،مگر میں نے سوچا شایدکہیں مر کھپ گئی ہے۔“
”نسر نہ کرے اسے کچھ ہو۔“عریسہ گھبرا گئی تھی۔
”تمھیں اس کے ساتھ چلا جانا چاہیے تھا۔“جبلہ کے لہجے میں مشورے کے بجائے بیزاری کا عنصر نمایاں تھا۔
”کیا بنو نسر کے لیے عریسہ مفید نہیں رہی۔“لہجے سے چھلکتے دکھ کو اس نے چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”کسی شخص کی ذات سے پہنچنے والے فائدے اور نقصان کاتناسب مدنظر رکھا جاتا ہے۔اس لحاظ سے تمھاری وجہ سے بنو نسر کسی بھی وقت تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔جب تک تم یہاں موجود ہوقُتیلہ بنو نسر کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔اور اس سے کوئی بعید نہیں کہ مستقبل کے سردار طرفہ یا اس کے بھائی سامہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ جس لڑکی کو باپ کا لحاظ نہیں اس کے نزدیک بھائیوں کی کیا اہمیت ہو گی۔ بلکہ طرفہ کا کتا چرا کر اس نے اشارہ دے بھی دیا ہے۔اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ تم اپنے قبیلے میں واپس لوٹ جاﺅ۔وہ صرف تمھاری وجہ سے بنو نسر کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔اور یقینا تمھیں اپنا قبیلہ ڈھونڈنے میں کوئی دشواری نہیں ہو گی کیوں کہ بنو جساسہ اہل حضر ہیں۔“
(عرب معاشرہ قدیم ترین زمانوں سے دو واضح حصوں میں منقسم چلا آرہا ہے۔ ”اہل البدو“یعنی خانہ بدوش اور ”اہل الحضر“ یعنی مقیم لوگ۔اس بارے پہلے بتایا جا چکا ہے )
”اور یہ ہے میری سترہ سالہ خدمتوں کا صلہ۔“عریسہ کی آنکھوں میں نمی ابھری۔
جبلہ بیر لگی لپٹی رکھے صاف گوئی سے بولا۔”عریسہ بنت منظر !….بنونسر میں تمھاری آمد کے شروع کے دو تین ماہ کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے بعد تمھیں یہاں ہمیشہ عزت ہی ملی ہوگی۔اور اب بھی یہاں سے بھیجنا حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہے نہ کہ تم سے جان چھڑانا۔بنو نسر کے لیے قُتیلہ ناسور کی شکل اختیار کر گئی ہے اور ناسور کا مکمل علاج اسے کاٹ کر بدن سے علاحدہ کردینے میں ہوتا ہے۔ اگر ناسور کو بدن سے نکالتے وقت تندرست بدن کا کچھ حصہ بھی ساتھ نہ کاٹا جائے تو مکمل شفا حاصل نہیں ہو سکتی۔“
عریسہ ملتجی ہوئی۔”سردار!….جب تک وہ دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کر تی مجھے یہیں رہنے دیں۔ اس نے خود بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی مجھے یہاں سے لے جائے گی۔اور وہ چاہے یا نہیں اس بار میں اس کے ہمراہ چلی جاﺅں گی۔“
”فکر نہ کرو ،اگر یہاں آئی تو میں اسے بنو جساسہ کا پتا بتا دوں گا۔لیکن تمھیں مزید یہاں نہیں رکھ سکتا۔اس کی طرف داری کر کے تم نے قُتیلہ اوربنو نسرکے مفادات میں سے قُتیلہ کا انتخاب کیا ہے۔ اور مجھے ڈر ہے کہ اس کی شہہ پر تم یہاں کسی کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہو۔“
”اتنی گھٹیا لگتی ہوں۔“عریسہ شاکی ہوئی۔
”محبت بہت کچھ کروا دیتی ہے۔اگر تم بنو نسر کے ساتھ مخلص ہوتیں تو قُتیلہ کی آمد کے بارے مجھ سے کچھ نہ چھپاتیں۔ بلکہ ہو سکتا ہے وہ پہلے بھی یہاں آتی رہی ہو اور تم نے ہمیں بے خبر رکھا ہو….“
”ایسا کچھ نہیں ہے۔“عریسہ کراہی۔
”تیار رہنا ،شام کو تین افراد تمھارے ہمراہ جائیں گے۔اور یاد رکھنا کسی طرید سے واسطہ رکھنا قبیلے سے غداری کے زمرے میں آتا ہے۔اگر میری آنکھوں پر تمھاری خدمات کی پٹی نہ بندھی ہوتی تو یقینا میرا فیصلہ اس کے برعکس ہوتا۔“جبلہ پر اس کی منت زاری کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
”سردار ،آپ نے مجھ سے شادی نہیں کی لیکن میں نے ہمیشہ آپ کوخاوند ہی سمجھا ہے۔میری چھوٹی سی خطا کی اتنی بڑی سزا نہ دیں۔ قُتیلہ سے محبت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں طرفہ اور سامہ کو پیار نہیں کرتی۔آپ کے تینوں بچے ہی مجھے اپنی اولاد لگتے ہیں۔ اب بنو جساسہ میں میرا کوئی باقی نہیں رہا۔ ایک بوڑھی ماں تھی جانے کب کی مر کھپ گئی ہو گی۔“
”تم اعتبار کھو چکی ہو عریسہ۔میری غلطی کہ ایسا بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔“لہجے میں خودغرضی سموتے ہوئے جبلہ لمبے ڈگ رکھتا ہواخیمے سے باہر نکل گیا تھا۔
عریسہ گہرا سانس لیتے ہوئے لکڑی کے تخت پر بیٹھ گئی تھی۔اسے بنو نسر سے جانے کا دکھ نہیں تھا۔ بس یہ اندیشہ تھا کہ جب قُتیلہ وہاں آتی تو اسے نہ پاکرپریشان ہو جاتی۔یہ بھی ممکن تھاکہ عریسہ کی غیر موجودی سے بھڑک کر وہ کوئی الٹا سیدھا قدم اٹھا لیتی اور اکیلی لڑکی اتنے بڑے قبیلے سے ٹکر تو نہیں لے سکتی تھی۔ اہل بنو احمر پہلے سے اس کی تلاش میں سرگرداں تھے ،اگر ان کے ساتھ بنو نسر والے بھی اس کی موت کے درپے ہو جاتے تو اسے صحرائے اعظم میں پناہ ملنا مشکل ہوجاتی۔ قتیلہ کے بچپن میں اس سے ہلکی سی ہمدردی رکھنے والے دل میں قُتیلہ کے جوان ہونے تک اس کی محبت چھتناور درخت کی صورت مکمل بدن میں پھیل گئی تھی۔اس کی محبت وہ ہمدردی کا محور و مرکز بس قُتیلہ ہی کا وجود تھا۔اندیشوں کی بہتات اسے سخت بے چین کیے ہوئے تھی۔
٭٭٭
ان کے بنو قطام پہنچنے تک اکتف بن قیس اورامثل بن حرام،سردار قیدوم کو ان کی جانے کی بابت بتلا چکے تھے۔یشکر کو وہاں دیکھ کر قیدوم کو خوش گوار حیرت ہوئی تھی۔
”اکتف اورامثل تو کوئی اور کہانی سنا رہے تھے؟“
یشکر نے وضاحت کی ۔”اہل بنو عطفان کے سامنے مجھے جھوٹ بولنا پڑ گیا تھا۔کیوں کہ خصرامہ کی تدفین کے بعد وہ پاگلوں کی طرح ہماری تلاش میں نکل کھڑے ہوں گے۔ اور ہم فی الحال تھکے ہیں چند گھڑیاں آرام کر کے ہی سفر کے قابل ہو سکیںگے۔“
قیدوم مسکرایا۔”ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔نیا سردارربان بن ساعدجانے کب سے قبیلے کی سرداری کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کی خصرامہ بن قلاص سے ہونے والی ان بن سے تمام واقف ہیں۔ جس شخص کی وجہ سے اسے سردار ملی وہ کبھی بھی اسے ضائع نہیں کرے گا۔البتہ خصرامہ کے ہمدردوں کو دکھانے کے لیے شاید وہ چند ٹولیاں تمھاری تلاش میں نکال بھی دے۔لیکن اس کی پوری کوشش یہی ہو گی کہ ان ٹولیوں کا رخ تمھارے جانے کی سمت کو نہ ہو۔“
یشکر کے چہرے پر اطمینان نمودار ہوا۔”اچھا ،آپ کتنی دیر میں ہمارا نکاح پڑھا سکتے ہیں۔“ یہ سنتے ہی بادیہ نے شرما کر سر جھکا لیا تھا۔
قیدوم کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے حیرانی نمودار ہوئی اور پھر وہ خوش دلی سے مسکرا دیا تھا۔ ”یقینا غداءکے تیار ہونے تک اس بابرکت کا م سے فارغ ہو جائیں گے۔“(اس دور میں عربوں میں عموماََ دو اوقات کا کھانامستعمل تھا۔طعامِ صبح جسے غداءکہتے اور طعامِ شب ،جسے عشاءکہتے تھے)
اور پھر سردار قیدوم نے یشکراور بادیہ کی شادی کر دی تھی۔یشکر نے صاعقہ اور عنبر کوبادیہ کا حق مہر مقررکیاتھا۔
”سردارزادی کو ایک گھوڑا اور ایک تلوار مہر میں ملی ہے ،واہ….“تنہائی ملتے ہی بادیہ متبسم ہوئی۔
”یہ تلوار مجھے اپنے باپ سکندر نے تحفے میں دی تھی اور یہ گھوڑا بھی اپنے باپ شریم سے حاصل ہوا ہے۔اور میرا سب سے قیمتی سرمایہ یہی تھا جو میں نے تمھارے حوالے کر دیا ہے۔“
بادیہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے چاہت بھرے لہجے میں بولی۔”اچھی طرح جانتی ہوں ،کہ آپ کی زندگی میں میری کیا اہمیت ہے۔“
”پھر طنزیہ انداز میں صاعقہ اور عنبر کا ذکر کیوں کیا ہے ۔یہ تلوار اردشیربن بابک بن ساسان کی ہے جو محترم و معززسکندر کے آباﺅ اجدا د میں نسل در نسل منتقل ہوتی آرہی ہے۔“
”کیا سکندر آپ کا اصل باپ نہیں ہے۔“سکندر کا نام لینے پر بادیہ چونک گئی تھی۔
”نہیں ۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”انھوں نے مجھے سوقِ صحار میں کسی بدو سے خریدا تھا۔ میری رگوں میں بھی کسی عرب ہی کا خون دوڑ رہا ہے ۔“
بادیہ کے چہرے پر خوشی نمودار ہوئی۔”یہ بات آپ نے پہلے کیوں نہیں بتائی۔“
”بادیہ ،محبت کرنے والے حسب نسب اورمال و دولت وغیرہ نہیں دیکھتے۔بس وہ محبت کرتے ہیں ۔اگر تم سردار زادی کے بجائے ایک لونڈی بھی ہوتیں تو مجھے اتنی ہی پیاری لگتیں اور تب بھی میں تمھیں اپنی سردارزادی اور شہزادی ہی سمجھتا۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”لونڈی تو اب بھی ہوں لیکن صرف اپنے یشکر کی ۔“
”مجھے یقین تھا کہ اہورمزدا تمھیں میرے نصیب میں ضرور لکھے گا۔اور دیکھ لو میں نے تمھیں پا لیا۔“
بادیہ نے پوچھا۔”یہ اہور مزدا کون ہے کیا یہ عزیٰ اور ہبل سے بھی زیادہ طاقتور ہے ؟“
”ہاں اہورمزدا سب سے زیادہ طاقتور ہے۔وہ نور کا دیوتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ بدی کے دیوتا اہرمن سے بھی زیادہ طاقتور ہے ۔باباجان بتایا کرتے تھے کہ اس کائنات کی عمر بارہ ہزار سال ہے۔شروع کے تین ہزار سال کے عرصے میں اہورامزدا اور اہرمن ،اپنے اپنے عالم میں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو امن و آرام سے رہے۔دونوں عالم کی حدین صرف ایک جانب سے ملی ہوئی ہیں اور باقی تین اطراف سے دونوں عالم لامتناہی ہیں۔ عالم نور اوپر ہے اور عالم ظلمت نیچے ہے جبکہ ان کے درمیان ہوا ہے۔ پہلے تین ہزار سال کے درمیان اہورا مزدا کی مخلوقات امکانی حالت میں رہیں۔ پھر بدی کے دیوتا اہرمن نے نورکو دیکھ لیا۔اور اسے نابود کرنے کے درپے ہوا۔ نور کے دیوتا اہورا مزداجسے مستقبل کا سب حال معلوم تھا۔ اس نے بدی کے دیوتا اہرمن کو نوہزار سال کی جنگ کی دعوت دے دی۔ جبکہ اہرمن کو صرف ماضی کا علم تھا چنانچہ وہ رضامند ہو گیا۔ اس کے بعد اہورامزدا نے پیشن گوئی کی کہ اس جنگ کا خاتمہ عالم ظلمت کی شکست پر ہوگا۔ یہ سن کر اہرمن خوف زدہ ہو گیا اور دوبارہ ظلمت میں گھس کر پناہ گزین ہوا۔ وہاں وہ تین ہزار سال تک پڑا رہا۔ اس اثناءمیں اہورامزدا نے مخلوقات کو پیدا کرنا شروع کردیا۔ سب سے آخر میں اس نے گائے اور سب سے پہلا دیوہیکل انسان بنایا جس کا نام گیومرد تھا۔ اور وہ نوع انسانی کا ابتدائی نمونہ تھا۔ تب اہرمن نے ظلمت سے نکل کر اہورامزدا کی مخلوقات پر حملہ کر دیا۔ عناصر کو ناپاک کیا۔ حشرات اور موذی قسم کے کیڑے یعنی سانپ بچھو وغیرہ پیدا کیے۔ اہورامزدا نے آسمان کے آگے ایک خندق کھودی تھی ،لیکن اہرمن حملے پر حملے کرتا رہا۔ اور بالآخر اس نے پہلے تو گائے کو اور پھر گیومرد کو مارڈالا۔ لیکن گیومرد کے تخم سے جو زمین میں پنہاں تھاچالیس برس بعد ایک درخت اگاجس میں سب سے پہلا انسانی جوڑا مَشیگ اور مشیانگ پیداہوا۔اور اس طرح نورو ظلمت کی آمیزش کا دور شروع ہوا۔ خیر و شر کی اس جنگ میں انسان اچھے برے اعمال کے مطابق اہورا مزدا یا اہرمن کے مددگار ہیں۔جو لوگ نیکی کے راستے پر چلیں گے وہ مرنے کے بعد چنوت پل پر سے آسانی سے گزر کر بہشت میں جا داخل ہوں گے۔ لیکن جب بدکار لوگ اس پر سے گزریں گے تو پل تنگ ہو کر تلوار کی دھار کی مانند باریک ہو جائے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ نیچے گر جائیں گے اور وہاں اپنے گناہوں کے مطابق عذاب سہیں گے۔ جن لوگوں کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے وہ ہمیست گان میں مقیم ہوں گے۔وہاں نہ جزا ہے نہ سزا۔نوع بشر کے ابتداءکے تین ہزارسال کے بعد انسان کو سچا مذہب سکھانے کے لیے زرتشت کو بھیجا گیا۔ اس وقت دنیا کی عمر کے صرف تین ہزار سال باقی تھے۔ ہر ہزار سال کے بعد ایک نجات دہندہ بطریق اعجاز زرتشت کے تخم سے جو ایک جھیل میں پوشیدہ ہے پیدا ہوتا ہے جس وقت تیسرا اور آخری نجات دہندہ پیدا ہوگا جو افضل سوشِنیس کہلاتا ہے، تو خیر و شر میں آخری اور فیصلہ کن جنگ شروع ہو جائے گی۔ تمام ہیرو اور دیو باہم لڑنے کے لیے دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ تمام مردے اٹھائے جائیں گے۔ اور دمدار ستارہ گوچہر زمین پر آگرے گا۔ زمین میں اس شدت سے آگ لگے گی کہ کہ تمام دھاتیں پگھل کر ایک آتشیں سیلاب کی طرح روئے زمین پر پھیل جائیں گی۔ تمام انسانوں کو جو پہلے سے زندہ ہوں گے یا مردے سے دوبارہ زندہ ہوئے ہوں گے۔ اس سیلاب میں سے گزرنا ہوگا۔ وہ سیلاب نیکو کاروں کے لیے خوشگوارگرم دودھ کی مانند ہوگا۔ اس امتحان کے بعد پاک صاف ہو کر سب لوگ بہشت میں داخل ہوجائیں گے۔ خداﺅں اور دیوﺅں کی آخری جنگ کے بعد جس کا خاتمہ دیوﺅں کی شکست اور تباہی پر ہوگا اہرمن ابدالآباد کے لیے تاریکی میں جا گرے گا اور زمین صاف و ہمورا ہوجائے گی اور دنیا اس طرح پاک ہونے کے بعد ہمیشہ کے لیے سکون و امن میں رہے گی۔“(ازتاریخ ایران بعہد ساسان)
وہ محویت سے یشکر کی تفصیلی باتیں سن رہی تھی اس کے خاموش ہوتے ہی گویا ہوئی۔”کیا بہشت میں سب اکٹھے ہوں گے؟“
یشکر نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں زمین پر محبت کرنے والے مردوعورت جنھوں نے اہورمزدا کا ساتھ دیا ہوگا وہ بہشت میں بھی میاں بیوی ہوں گے۔“
”اگر میں عزیٰ کی پوجا کے ساتھ اہورمزدا اور شمس کو بھی دیوتامان لوں تو کیا میں بہشت میں آپ کے ساتھ رہ پاﺅں گی۔“
”ہاں بالکل رہ پاﺅ گی۔اور یاد رکھو جتنے بھی نیکی اور روشنی کے دیوتا ہیں تمام اہورمزدا کی طرف ہیں ۔اور جتنی کالی طاقتیں ہیں ساری اہرمن کی مددگار ہیں ۔“
”اچھا یہ تلوار میری طرف سے تحفہ رکھ لیں۔“صاعقہ کو بے نیام کر کے بادیہ نے بوسا دیا اور تلوار یشکر کی طرف بڑھادی۔
”کیا میراتحفہ پسند نہیں آیا۔“یشکر کے لہجے میں مایوسی تھی۔
”جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔لیکن آپ میرے محافظ بھی تو ہیں نا ں۔اور یہ تحفہ اس لیے واپس کر رہی ہوں کہ میری حفاظت کرسکیں۔“
یشکر تلوار تھامتے ہوئے وارفتگی سے بولا۔”میں اپنی سردارزادی کے قدموں میں اتنے زیورات اور ملبوسات ڈھیر کروں گا جتنے فارس کی ملکہ کے پاس بھی نہیں ہوں گے ۔“
وہ اس کے کندھے پر سر رکھتے پوچھنے لگی۔ ”مجھے فارس لے جاﺅ گے ناں ۔“
”ہاں ،صحرائے اعظم کی لاثانی حسینہ کو فارس ضرورلے جاﺅں گا۔“یشکر کے بازوﺅں نے اس کے نرم و ملائم جسم کا گھیراﺅ کر لیا تھا۔
٭٭٭
”یہ جان کر اچھا لگا کہ کوئی لڑکی آپ جیسی جنگجو نہ سہی خوب صورت تو ہے۔“ ملکان بن نول مزاحیہ انداز میں بولا تھا۔دھوپ کی شدت میں کمی ہوتے ہی انھوں نے سفر کا آغاز کر دیا تھا۔
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”ملکہ قُتیلہ کو اپنی خوب صورتی سے کوئی غرض نہیں ہے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اچھی خاصی نفرت ہے کیوں کہ ملکہ قُتیلہ کی در بدری کی اصل وجہ یہی صورت ہی تو ہے۔“
”آپ شادی نہیں کریں گی۔“ملکان کے لہجے میں اشتیاق چھپا تھا۔
قتیلہ نے ترچھی نظر سے اسے گھورا۔”تم کرو گے ملکہ قُتیلہ سے شادی؟“
ملکان جھجکا۔”بات میری پسند یا خواہش کی نہیں ملکہ قُتیلہ کی مرضی کی ہے۔“
”فرض کرو ملکہ قُتیلہ یہی چاہتی ہو۔“قُتیلہ کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ کھل رہی تھی۔
”میں نے ساری زندگی طبقہ بن عتیبہ کے خواب دیکھے ہیں۔بس میں یہ درخواست کروں گا کہ ملکہ مجھے اس سے شادی کرنے سے نہ روکے۔باقی ملکان بن نول کو ملکہ اپنا غلام پائے گی۔“
قُتیلہ کا مترنم قہقہ گونجا۔”ملکان بن نول ،ملکہ قُتیلہ کی نظروں نے آج تک کسی ایسے مرد کو نہیں دیکھا جس کی اجارہ داری اپنے بدن پر قبول کر سکے۔اور یادرکھنا ملکہ قُتیلہ تمھیں جاںنثار ساتھی سمجھتی ہے۔ کسی خوش فہمی یا حماقت کا ارتکاب کرنے سے پہلے ملکہ قُتیلہ سے مشورہ کر لیناکیوں کہ ملکہ قُتیلہ کو بنو طرید کے مردوں میں کمی کرنا پسند نہیں ہے۔“
ملکان سنجیدگی سے بولا۔”ملکہ،میں نے کبھی ایسی خواہش دل میں نہیں پالی ہے۔پہلے میں آپ سے متاثر تھا اور اب عقیدت رکھتا ہوں۔آپ کو ملکہ کہتا نہیں سمجھتا بھی ہوں۔“
”ملکہ قُتیلہ مردوں کی نظریں پہچانتی ہے ملکان!“ وہ بھی سنجیدہ ہو گئی تھی۔
امریل خاموش تھا۔اور وہ عموماََ خاموش رہنا ہی پسند کرتا تھا۔بنو نوفل اور بنو احمر والے سواروں کے گھوڑے اس کی زین سے بندھے اس کے پیچھے ایک قطار میں دوڑتے ہوئے آرہے تھے۔
”اب منزل کتنی دور ہے۔“وہ زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکی تھی۔
”اگر اسی رفتار سے دوڑتے رہے تو شعریٰ یمانیہ کے غروب سے گھڑی بھر پہلے پہنچ جائیں گے۔“ ملکان بن نول نے آسمان دنیا کے روشن ستارے کا نام لیا۔(یاد رہے کہ آسمان پر نظر آنے والے ستارے زمین کی مخصوص حرکت کی وجہ سے سورج کی طرح مشرق سے طلو ع ہو کر مغرب میں غروب ہوتے نظر آتے ہیں۔اور ہر ستارہ چار منٹ کم چوبیس گھنٹے میں چکر مکمل کرتا ہے۔اس لحاظ سے جو ستارہ آج رات کے نو بجے آسمان پر جس مقام پر دکھائی دے گا۔ اگلے دن اس مقام پر مقررہ وقت سے چار منٹ پہلے پہنچ جائے گا۔ اس طرح ہفتہ میں آدھا گھنٹا اور تین ماہ کے بعدچھے گھنٹے کا فرق پڑے گا۔ اور عرب ستاروں کی حرکت پر بہت گہری نگاہ رکھتے تھے۔انھیں معلوم ہوتا تھا کہ کس مشہور ستارے کے طلوع کا وقت کیا ہے اوراس نے غروب کس وقت ہونا ہے۔ستاروں سے راستا معلوم کرنے کے علاوہ وہ ان سے اوقات معلوم کرنے کا کام بھی لیتے تھے۔ مختلف ستاروں کے طلوع و غروب کا موسمی تغیرات سے کیا ربط ہے یہ انھیں اچھی طرح پتا تھا۔اس بارے انھوں نے منظوم گُر تیار کر رکھے تھے۔ مثلاََ”جب تیسری کا چاند ثریا میں آجائے تو سمجھو جاڑا آگیا۔ یا ”جب چودھویں کے چاند اور ثریا کی یکجائی ہو تو آغاز ِ سرما کی خنکی آجاتی ہے )
قُتیلہ نے پوچھا۔”کیا طبقہ بھی تمھیں پسند کرتی ہے کہ یا اسے زبردستی لانا پڑے گا۔“
ملکان خوش دلی سے بولا۔”اسی کی ایما پر تو میں نے دو قتل کیے تھے۔“
”اگر وہ اتنی ہی پیاری تھی تو تمھیں پہلے شادی کر لینا چاہیے تھی۔“
”میں نے اس کی شادی ہوجانے کے بعدپہلی بار اسے دیکھا تھا۔“ملکان تفصیل بتاتا ہوا بولا۔ ”طبقہ کا پہلا شوہر قیس میراواقف کار تھا۔اور اسی سے تعلق کی وجہ سے مجھے طبقہ کو دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ اور تب ہمیں محسوس ہوا کہ ایک دوسرے کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔پس میں نے قیس کو منت کی تھی کہ وہ کوئی بھی قیمت لے کر طبقہ کو آزاد کردے مگر اس نے انکار کر دیا تھا۔ مجبوراََ مجھے انتہائی قدم اٹھانا پڑا تھا۔قیس کے بعد اس کے دوسرے بھائی کو بھی میں نے پیغام بھجوایا تھاکہ وہ طبقہ سے دور رہے مگر اسے بھی طبقہ کی خوب صورتی لے ڈوبی۔ “
”کیا وہ ملکہ قُتیلہ سے بھی خوب صورت ہے ؟“قتیلہ نے مزاحیہ انداز میں پوچھا۔
ملکان نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ،پر مجھے لگتی ہے۔“
قُتیلہ خاموش رہی تھی۔غروب آفتاب کے بعد بھی وہ چلتے رہے تھے۔ملکان نے ستاروں کی مددسے اپنا رخ بنو عذرہ کی سمت ہی رکھا تھا۔ نصف رات بیت چکی تھی جب وہ بنو عذرہ مضاات میں پہنچے۔
آبادی میں داخلے سے پہلے قُتیلہ کے حکم پر تمام رک گئے تھے۔
وہ امریل کی طرف متوجہ ہوئی۔”امریل تمھیں یہیں رہ کر ہمارا انتظار کرنا ہوگا۔“
امریل کے چہرے پر خفگی نمودار ہوئی۔”مالکن کو امریل کی منشا کا پتا ہے۔“
وہ رکھائی سے بولی۔”ملکہ قتیلہ کسی کی منشا کی پابند نہیں ہے امریل۔“
وہ معترض ہوا۔”مالکن !….ملکان بن نول مجھ سے اچھا لڑاکا نہیں ہے۔وہ آپ کی حفاظت مجھ سے بہتر نہیں کرسکتا۔“
خلاف طبیعت وہ اسے سمجھاتے ہوے بولی۔”امریل!…. تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ملکہ قُتیلہ کو کسی محافظ کی ضرورت نہیں ہے۔باقی ملکان کو بہتر سمجھنے کی وجہ سے نہیں، علاقہ پہچاننے کی وجہ سے ترجیح دی ہے۔اور تمھیں یہاں چھوڑنے کا مقصد گھوڑوں کی دیکھ بھال کرنا ہے تاکہ ہمیں بھاگتے ہوئے کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔اور قبیلے میں حطام کو ساتھ لے کر داخل ہوئے تو اس نے بنو عذرہ کے کتوں پربھونک بھونک کرہر سوئے ہوئے آدمی کو جگا دینا ہے۔“
”غلام شرمندہ ہے۔“امریل نے خفیف لہجے میں اقرار کیا۔
”چلو ملکان۔“قُتیلہ گھوڑے سے اترتے ہوئے بولی۔امریل کی بات کا جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔
ملکان سر ہلاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ملکہ قتیلہ تلوار بے نیام کرتے ہوئے اس کے ہمراہ ہو لی تھی۔ ملکان اسے بنو عذرہ کی مختلف گلیوں سے گزارتے ہوئے ایک حویلی نما مکان کے سامنے آکر رک گیاتھا۔
”یہ ہے بنو عذرہ کی شہزادی کی حویلی؟“وہ دھیرے سے مسکرائی۔
”جی ملکہ۔“ملکان بے قابو ہوتی دھڑکنوں پر قابو پانے کی کوشش میں ناکام ہو رہاتھا۔
”دیوار پھلانگ کر اندرداخل ہونا پڑے گا۔“یہ کہتے ہوئے قُتیلہ نے اسے نیچے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ملکان اس کا مطمح نظر جان گیا تھا۔وہ دیوار کے ساتھ اکڑوں بیٹھ گیا تھا۔قُتیلہ نے تلوار نیام میں کرتے ہوئے اس کے کندھوں پر پاﺅں رکھے اور اسے اٹھنے کا اشارہ کیا۔وہ دیوار کا سہارا لیتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔دیوار کا کنارہ اب بھی قُتیلہ کی رسائی سے دو تین ہاتھ اوپر تھا۔ذرا سا جھکتے ہوئے وہ زور سے اچھلی ،اگلے ہی لمحے وہ دیوار کی کگر میں انگلیاں پھنسا چکی تھی۔اس کے ساتھ ہی وہ بازوﺅں کے سہارے آرام سے اوپر اٹھتی گئی۔بیس اکیس کا چاند اس وقت تک طلوع ہو کر کافی اوپر آچکا تھا۔چوڑی دیوار پر لیٹ کر اس نے صحن کا جائزہ لیاوسیع صحن میں اسے کوئی حرکت نظر نہیں آرہی تھی۔صرف حویلی کے دروازے کے سامنے ایک آدمی چارپائی پر لیٹا ہوا نظر آیا۔حویلی کے اندر کی جانب لٹک کر وہ پنجوں کے بل زمین پر کودی۔نیچے گرتے ساتھ وہ دیوار کی جڑ میں دبک کر بیٹھ گئی تھی۔لیکن چارپائی پر لیٹے آدمی کی نیند میں کوئی خلل نہیں پڑا تھا۔لمحہ بھر ٹھہر کر وہ دبے قدموں اس کے قریب پہنچی۔وہ اونی کمبل میں غائب تھا۔ تیز دھار خنجر نکال کر اس نے ایک جھٹکے سے سوئے ہوئے شخص کے سر سے کمبل اتارا اور اس سے پہلے کہ وہ ہڑبڑا کر اٹھ سکتا قُتیلہ کا ہاتھ اس کے منھ پر جم گیا تھا۔
اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ زور سے مچلا۔لیکن اتنی دیر میں تیز دھار خنجر اس کے گلے کو آدھے سے زیادہ کاٹ چکا تھا۔اس کا جسم اذیت سے پھڑکنے لگا تھا۔قُتیلہ نے اسے چارپائی سے نیچے پھینکا کیوں کہ چارپائی پر اس کے تڑپنے کی وجہ سے آواز پیدا ہو رہی تھی۔
اسے ایڑیاں رگڑتا چھوڑ کر وہ حویلی کے بڑے دروازے کے قریب ہوئی اور اس میں بنی ذیلی کھڑکی کھول کر ملکان کو اندر بلا لیا۔
”اس کے کمرے سے واقف ہو نا؟“قُتیلہ نے سرگوشی کی۔
اثبات میں سرہلاتے ہوئے ملکان رہنمائی کے لیے آگے بڑھ گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ ایک اندرونی کمرے کے سامنے کھڑے تھے۔قُتیلہ نے ہاتھ اٹھا کر ہلکی سی دستک دی۔
”کون۔“کسی مرد کے پاﺅں کی چاپ ابھری۔
”مالک دروازہ کھولیں۔“قُتیلہ نے گھبرائی ہوئی آواز میں پکارا۔ اس کی مترنم آواز ایسی نہیں تھی کہ کوئی مرد خطرہ محسوس کرتا۔دروازہ فوراََ کھلا۔کمرے میں قندیل روشن تھی لیکن دروازہ کھولنے والے کی روشنی کی طرف پیٹھ تھی اس لیے وہ صحیح طریقے سے اس کی شکل نہیں دیکھ سکتی تھی۔یوں بھی اسے کسی کی شکل سے کوئی غرض نہیں تھی۔دروازہ کھلتے ہی اس کا دایاں بازو سرعت سے حرکت میں آیا اور تلوار کی نوک دروازہ کھولنے والے کے گلے کے نرم گوشت میں دھنستی چلی گئی۔ ایسے وقت وہ ہمیشہ گلے ہی کو نشانہ بناتی تھی تاکہ مخالف کو چیخنے کا موقع نہ مل سکے۔ وہ خرخراتا ہوا نیچے گر گیا تھا۔
اس کی لاش کو پھلانگتے ہوئے دونوں اندر داخل ہوئے۔پچیس چھبیس سال کی ایک عورت اسی وقت جاگی تھی۔ اور اس سے پہلے کہ وہ سریلی چیخ بلند کرتی۔ملکان سرعت سے بولا۔
”طبقہ !….میں ہوں ملکان۔“
چیخنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے وہ اچھل کر بستر سے اتری اور ملکان سے لپٹ گئی تھی۔
”یہ چونچلے خطرے کی حدود سے نکلنے کے بعد اچھے لگتے ہیں۔“درشت لہجے میں کہتے ہوئے قُتیلہ پیچھے مڑ گئی تھی۔
”جی ملکہ۔“مودّب لہجے میں کہتے ہوئے ملکان بڑی مشکل سے طبقہ سے علاحدہ ہوا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف کھینچا۔
”مجھے زیورات تو اٹھانے دو۔“اس صورت حال میں بھی ایک عورت کو اپنے زیورات نہیں بھولے تھے۔
”جلدی کرو۔“ملکان نے اثبات میں سر ہلایا۔
طبقہ نے سرعت سے لکڑی کا صندوق کھولا اور زیورات کی پوٹلی اٹھا کر بغل میں دبا لی۔اگلے دو تین لمحوں میں وہ داخلی دروازے پر منتظرکھڑی قتیلہ کے پاس پہنچ گئے تھے۔انھیں قریب آتا دیکھ کر قُتیلہ حویلی سے باہر نکل گئی۔
تھوڑی دیر بعد وہ امریل کے پاس پہنچ گئے تھے۔
٭٭٭
سردار قیدوم کے اندازے صحیح ثابت ہوئے تھے۔ بنو عطفان کے نئے سردار ربان بن ساعدنے یشکر اور بادیہ کی تلاش میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی تھی۔بادیہ کی محبت پاکر یشکر نے ہر قسم کے اندیشے ،خطرات پسِ پشت ڈال دیے تھے۔اس کا دل ہی آگے سفرکرنے کو نہیں کر رہا تھا۔وہ دن رات بادیہ کے ساتھ جھونپڑے میں گھسا رہتا۔بادیہ کی وارفتگی اور محبت بھی یشکر سے کسی درجہ کم نہیں تھی۔چار دن بنو قطام میں گزار کر یشکر بادل نخواستہ آگے جانے کو تیار ہوا۔اس کا ارادہ فارس جانے کا تھا۔اسے امید تھی کہ سکندر کی غیر موجودی میں بھی شہنشاہ ِ ایران نے اسے سکندر کی جگہ بہ طور محافظ رکھ لینا تھا۔سکندر کی جائیداد وغیرہ واپس حاصل کر کے وہ بادہ کوعیش و آرام والی زندگی مہیا کر سکتا تھا۔
”میرا تو مشورہ ہے کہ کچھ عرصة مزید ہمیں خدمت کا موقع دیتے۔“اسے جانے پر تیار دیکھ کر سردار قیدوم نے خلوص بھرے لہجے میں مشورہ دیا تھا۔
”شکریہ سردار!….مگر ہمیں جلد از جلد فارس پہنچنا ہوگا۔اہل بنو نوفل کسی بھی وقت ادھر کا رخ کر سکتے ہیں۔اور ہمیں پناہ دینے کی وجہ سے وہ بنو قطام کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔“
سردار قیدوم نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔”اہلِ بنو قطام اپنے مہمانوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔“
یشکر جلدی سے بولا۔”میں نے آپ کی شجاعت یا خلوص پر شک کا اظہار نہیں کیا سردار۔میں بس فضول جنگ سے بچنے کی تگ و دو میں ہوں۔سردار زادی بادیہ کو حاصل کرنے کے بعد میری کوئی خواہش اور تمنا ادھوری نہیں رہ گئی۔اب بقیہ زندگی امن و سکون سے گزارنا چاہتا ہوں۔اور اس وقت سرزمین ایران ہی میری امیدوں پر پوار اتر سکتی ہے۔“
”خوش رہو جوان۔“وارفتگی سے بغل گیر ہوتے ہوئے اس نے یشکر کے دونوں گالوں پر بوسا دیااور بادیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر انھیں جانے کی اجازت دے دی۔یشکر نے پہلے بادیہ کو عنبر پر سوار کرایا اور پھر خود اس کے سفید گھوڑے پر بیٹھ گیا۔شادی سے پہلے اس کا ارادہ بادیہ کو بنو اسد پہنچانے کا تھا اس لیے اس کا رخ شمال مغرب کی جانب تھا ۔مگر اب ایران جانے کے لیے اسے جانے کی سمت تبدیل کرنا پڑ رہی تھی۔اگر وہ مشرق کا رخ کرتا تو اسے بنو جمرہ کے قریب سے ہو کر گزرنا پڑتااور وہ ان کا کافی نقصان کر چکا تھا۔اس نے مشرق کے بجائے شمال مشرق کا رخ کیا ۔بنو کاظمہ یا بکر بن وائل کے قبائل میں جاکر وہ خلیج العربی کو بحری جہاز کے ذریعے عبور کر کے ایران کا رخ کر سکتا تھا۔
سفر کا آغاز انھوں نے دھوپ کی شدت میں کمی آنے کے بعد کیا تھا۔غروب آفتاب تک وہ بنوقطام کو کافی پیچھے چھوڑ چکے تھے۔صحرائے عرب میں سفر کرنے والے وادیوں سے شاہراﺅں کا کام لیتے تھے۔ اور یہ وادیاں ہاتھ کی لکیروں کی طرح صحرائے اعظم میں بکھری ہوئی ہیں۔پانی کی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے ان وادیوں میں سفر کرنا بہت زیادہ مفید تھا۔کیوں کہ وادیوں کی تہوں میں محفوظ پانی قافلوں کے کام آتا۔ اور وادیوں میں اگنے والا سبزہ مسافروں کے مویشیوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرتا تھا۔ یشکر پہلے جس وادی میں محو سفر تھا اسے بنو جمرہ کی وجہ سے ترک کرنا پڑگیا تھا۔بنو قطام سے نکلتے وقت اسے امید تھی کہ وہ جلد ہی کسی وادی میں جا نکلے گا۔لیکن بدقسمتی سے اسے ناکامی ہوئی تھی ۔
سہ پہر کے وقت اسے مشرق کی جانب سے کالی گھٹا اٹھتی نظر آئی۔اس کے چہرے پر تشویش ظاہر ہوئی۔بادیہ نے بھی وہ آفت دیکھ لی تھی۔اس نے فوراََ یشکر کو آواز دی۔
”دیکھ لیا ہے۔“لہجے میں اطمینان پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے دائیں بائیں پناہ کی تلاش میں نظریں دوڑانا شروع کردی تھیں۔لیکن ہر طرف ریت ہی ریت تھی۔
بادیہ سرسراتی آواز میں بولی۔”کوئی جائے پناہ نظر نہیں آرہی۔“
”یشکر تمھارے ساتھ ہے بادیہ۔“اس نے با اعتماد اور جرّات آمیز لہجے میں کہا ۔لیکن اس حوصلے کے پس پردہ چھپے اندیشے بادیہ کی نظر سے اوجھل نہیں تھے۔وہ اس قدرتی آفت کی تباہ کاری سے اچھی طرح واقف تھی۔اور یہ بھی جانتی تھی کہ ایسی آفات کا مقابلہ کرنا ایک انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
جب تک ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے شروع نہیں ہو گئے تھے وہ گھوڑے دوڑاتے رہے۔ اس دوران یشکرکی آنکھیں کسی مناسب پناہ کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔مگر چاروں طرف پھیلی ریت میں وہ کوئی جائے پناہ تلاش نہیں کر پا رہا تھا۔
٭٭٭
امریل نے پرجوش لہجے میں پوچھا۔”مالکن ،غلام تیر چلانے کی اجازت چاہتا ہے۔“ایک ٹیکری پر اوندھے منھ لیٹے ہوئے وہ نشیب میں ہرن کے جوڑے کودیکھ رہے تھے۔ وہاں وہ دن چڑھے پہنچے تھے۔سہ پہر کے وقت قُتیلہ، امریل کو ساتھ لے کر شکار کی تلاش میں نکلی تھی کہ وہ رات سے بھوکے تھے۔ملکان اور طبقہ کو انھوں نے گھوڑوں کے ساتھ وہیں چھوڑ دیا تھا۔ان کی خوش قسمتی تھی کہ دو تین فرلانگ کے بعد ہی انھیں شکار نظر آگیا تھا۔وہ پتھریلی زمین تھی اور گزشتہ ہفتے ہونے والی بارش کا پانی اب تک ایک گڑھے میں موجود تھا۔وہ جانور وہیں سے پیاس بجھا رہے تھے۔
قُتیلہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔”دونوں کا شکار کر لو گے؟“
امریل کے کو اس کے سوال پر حیرت ہوئی تھی۔”ایک وقت میں ایک ہی کا شکار ممکن ہے مالکن۔“
قُتیلہ اطمینان سے بولی۔”ایسا بس تم سمجھتے ہو۔“یہ کہتے ہوئے اس نے چلّے میں تیر جوڑ کرنر پر نشانہ سادھا اور پھر تیر کو ستر اسی درجے کا زاویہ دے کر تیر چھوڑ دیا،اس کے ساتھ ہی اس نے جلدی سے دوسرا تیر کمان میں ڈال کر مادہ پر نشانہ سادھتے ہوئے سیدھا چھوڑ دیا تھا۔
تیر وں نے ایک ساتھ ہدف کو ڈھونڈا تھا۔دونوں ہرن ناگہانی پڑنے والی آفت سے زور سے اچھلے اور پھر نیچے گر کر تڑپنے لگے تھے۔
قُتیلہ کمان پیٹھ پیچھے لٹکا کر نشیب کی طرف بھاگ پڑی تھی جبکہ امریل ہکا بکا اس وحشی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو فنون سپہ گری میں کمال کے درجے کو پہنچی ہوئی تھی۔ جس انداز میں اس نے ایک ساتھ دونوں ہرنوں کو شکار کیا تھاایسا امریل خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔
قتیلہ تڑپتے ہوئے ہرنوں کے قریب پہنچ گئی تھی ۔وہ حیرانی پر قابو پاکر اس کے پیچھے بھاگا۔ اس کے قریب پہنچنے تک وہ دونوں جانوروں کے گلے پر خنجر پھیر چکی تھی۔
”مالکن ،مجھے بھی ایسی تیز اندازی سیکھنا ہے۔“قُتیلہ کے پاس جاتے ہی دل میں چھپی خواہش ،سوال بن کر اس کے ہونٹوں پر مچلی۔
”منع کس نے کیا ہے۔“قُتیلہ کے چہرے پر وہی بے پروائی تھی جو اس کا خاصا تھا۔
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”آپ سکھائیں گی؟“
”ضرور۔“اثبات میں سرہلاتے ہوئے وہ ہرنی کو اٹھانے کے لیے جھکی۔
”یہ کام غلام کے لیے چھوڑ دیں مالکن۔“امریل نے اس کے ہاتھ سے ذبح ہوئی ہرنی لینا چاہی۔
قُتیلہ نے سخت لہجے میں کہا۔”تم وہ ہرن اٹھاﺅ۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”غلام دونوں کو ایک ساتھ اٹھا سکتا ہے۔“
”اگر تم ہرن اٹھا کر ملکہ قُتیلہ سے پہلے گھوڑوں تک پہنچ گئے تو آئندہ تمھاری ایسی پیشکش ملکہ قُتیلہ مان لیا کرے گی۔“
جب سے اس کا ٹکراﺅ قُتیلہ کے ساتھ ہوا تھاوہ ہر وقت اسی کوشش میں ہوتا تھا کہ کسی طرح قُتیلہ کو متاثر کر لے۔مگر وہ ہر بار اس پر نئی چھاپ چھوڑ جاتی تھی۔اس وقت قتیلہ کی للکار نے اسے یہ موقع فراہم کر دیا تھا۔ایک جھٹکے سے ہرن کا لاشہ اٹھا کر وہ دوڑ پڑا۔قُتیلہ پہلے سے تیار تھی۔دونوں تیز رفتاری سے ٹیکری کی بلندی سر کر رہے تھے۔بیس پچیس قدم اٹھاتے ہی امریل کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی ایک اور خوش فہمی دور ہونے والی تھی۔مکمل زور لگا کر بھی وہ قُتیلہ سے دو قدم پیچھے ہی تھا۔ٹیکری کی بلندی تک پہنچنے تک وہ ایک قدم مزید آگے بڑھ گئی تھی۔اور پھر دوسری جانب نشیب میں کھڑے گھوڑوں تک پہنچنے تک وہ فاصلہ برقرار رہا تھا۔دونوں کا سانس پھول گیا تھا۔پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح قُتیلہ کے چہرے کی شفاف جلد پر پھسل رہے تھے۔
”تم ہار گئے امریل۔“ہرنی کو اپنے گھوڑے کی زین پر رکھتے ہوئے وہ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گئی تھی۔
”جی مالکن۔“اس کی تقلید میں وہ گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے بولا۔”کوشش توکی تھی جیتنے کی لیکن ملکہ قُتیلہ کو کسی جسمانی کھیل میں ہرانا شاید ممکن نہیں ہے۔“
”بہر حال اچھی کوشش تھی۔“خوش دلی سے مسکراتے ہوئے اس نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی تھی۔ آگے پیچھے گھوڑے دوڑاتے وہ ملکان اور طبقہ کے پاس پہنچ گئے تھے۔ان کے قریب پہنچنے پر ہی دونوں کو ہوش آیا تھا۔ ملکان کھسیاتے ہوئے طبقہ سے دور ہوا۔تبھی قُتیلہ سنجیدہ لہجے میں گویا ہوئی۔
”ملکان ،ملکہ قُتیلہ نے ابھی تک تم دونوں کو رشتہ ازدواج میں نہیں باندھا۔“
”معذرت خواہ ہوں ملکہ !….ہمیں اندازہ نہیں تھا آپ اتنی جلدی لوٹ آئیں گے۔“ ملکان نے ندامت کے اظہار میں دیر نہیں لگائی تھی۔
”یہ ملکہ قُتیلہ کے سوال کا جواب نہیں ہے۔“قُتیلہ کی دنبالہ آنکھوں میں کوئی ایسی بات پوشیدہ تھی کہ ملکان کانپ گیا تھا۔
”مجھے اپنے قصور کا اعتراف ہے ملکہ۔“
”قبیلے تک تم طبقہ سے بات نہیں کرو گے۔ورنہ ملکہ قُتیلہ ،طبقہ کو جہاں سے اٹھا کر لائی ہے وہیں پہنچا دے گی۔“
ملکان نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔”جی ملکہ ۔“
”لکڑیاں اکھٹی کر کے آگ جلاﺅ۔“موضوع تبدیل کرتے ہوئے وہ گھوڑے سے اتری اور ہرن اٹھا کر بیری کے درخت کی طرف بڑھ گئی تھی۔چند لمحوں بعد وہ ہرن کو الٹا لٹکا کر اس کی کھال اتار رہی تھی۔اس کے تیزی و مہارت سے چلتے ہوئے ہاتھ دیکھ کر امریل کو یقین ہو چلا تھا کہ اس کام میں بھی وہ قُتیلہ کا مقابلہ نہ کرپائے گا۔کبھی کبھی اسے لگتا قدرت نے قُتیلہ کو لڑکی بنا کر زیادتی کی تھی۔ورنہ اس کے نسوانی جسم میں کسی کہن سالہ جنگجو کی روح مقید تھی۔وہ دوسرے ہرن کو لٹکا کر کھال اتارنے لگا۔ان کے گوشت صاف کرنے تک ملکان لکڑیاں اکھٹی کر کے آگ لگا چکا تھا۔
طبقہ نے اس کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کی لیکن اس نے آنکھ سے اسے دور ہونے کا اشارہ کیا۔وہ قُتیلہ کو خفا کرنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا تھا۔طبقہ نے بھی قُتیلہ کی باتیں سن لی تھیں۔اور ملکان جیسے اکھڑ کا مودّبانہ لہجہ اسے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ وہ پُرکشش دوشیزہ صرف نام کی ملکہ نہیں تھی۔
امریل نے سب سے پہلے ہرن کی کلیجی بھون کر قُتیلہ کو پیش کی تھی۔تمام نے سیر ہو کر بھنا ہوا گوشت کھایابقیہ گوشت انھوں نے چمڑے کے تھیلے میں محفوظ کر لیاتھا۔
طلوعِ ماہ کے ساتھ سفر جاری کریں گے۔“قُتیلہ نے حکم جاری کیا۔
”میں جاگ رہا ہوں ،تم آرام کرو۔“امریل، ملکان کو مخاطب ہوا۔
سرہلاتے ہوئے ملکان، قُتیلہ کے بائیں ہاتھ ،سر کے نیچے گھوڑے کی زین رکھ کر لیٹ گیاتھا۔کیوں قطبہ دائیں جانب ریت پر چادر بچھا کر لیٹی ہوئی تھی۔
چاند کے نکلتے ہی وہ آگے روانہ ہو گئے تھے ۔ ملکان اپنا گھوڑا قُتیلہ کے متوازی ہی دوڑاتا رہا۔
فرسخ بھر فاصلہ طے کرنے کے بعد ملکان نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”ملکہ اب تک خفا ہے۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر مدہم مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”جاﺅ اس کے ساتھ گپ شپ کرو،پریشان ہو رہی ہوگی۔“
”شکریہ ملکہ ۔“ملکان نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے گھوڑے کی رفتار کم کی اگلے ہی لمحے وہ قطبہ کے پہلو میں گھوڑا دوڑا رہا تھا۔
”مل گئی اجازت۔“قطبہ نے خفگی بھرے انداز میں پوچھا۔
”ہاں۔“ملکان نے بغیر ندامت ظاہر کیے سر ہلایا۔ ”اوریادرکھنا ملکان کی جان،وہ ہماری سردار ہے اور اسی کی وجہ سے مجھے تمھارے حصول میں کامیابی ہوئی ہے۔“
”میں نے اس کا گلہ تو نہیں کیا۔“ طبقہ نے صفائی پیش کی ۔
ملکان جلدی سے بولا۔”ایسا کبھی سوچنا بھی مت۔اس کی صورت دیکھ کر غلط فہمی میں مبتلا ہونے والوں کو پچھتانے کا موقع نہیں ملتا۔“
طبقہ نے دبے لہجے میں پوچھا۔”اس چھوکری میں سوائے خوب صورتی اور نخرے کے کوئی خوبی نظر تو نہیں آتی۔“
ملکان دعوا کرتا ہوابولا۔”ہبل کی قسم اگر دس بہترین شہسوار بھی اس کے خلاف میدان میں اتریں تو شکست کھانے کے علاوہ کچھ نہیں کر پائیں گے۔“
”پہلے تم جھوٹ نہیں بولتے تھے۔“طبقہ کے لہجے میں بے یقینی تھی۔
”اب بھی نہیں بولتا۔“
”میں نہیں مانتی۔“طبقہ نے نفی میں سرہلایا۔
”مجھے بھی کوئی زبانی کلامی بتاتا تو یقین نہ کرتا۔“
”تو کیا اسے لڑتے ہوئے دیکھ چکے ہو۔“طبقہ نے اشتیاق آمیز لہجے میں پوچھا۔
”اس کے خلاف تلوار سونتنے کی غلطی کی تھی۔یقین کرواگر اسے میری ضرورت نہ ہوتی تو تمھیں اپنے تیسرے شوہر کے بچے پال کرہی عمرگزارنا پڑتی۔“
”تمھیں ،مجھ سے خوب صورت لگتی ہے۔“طبقہ کے نزدیک شمشیرزنی سے زیادہ قُتیلہ کی خوب صورتی خطرناک تھی۔
ملکان جھٹ بولا۔”بنو عذرہ کی شہزادی کی طرح پرکشش لڑکی نہ تو آج تک کسی ماں نے جنی ہے اور نہ آئندہ کوئی امید ہے ۔“
طبقہ کھل کھلا کر ہنس پڑی تھی۔
دن چڑھے تک وہ درمیانی رفتار سے گھوڑے دوڑاتے رہے ۔حطام کو اب قُتیلہ نے کھلا چھوڑ دیا تھا۔اور اسی کی وجہ سے اس نے گھوڑوں کی رفتار میں اضافہ نہیں کیا تھا۔ دھوپ میں جیسے ہی شدت آئی انھوں نے ایک مناسب جگہ دیکھ کر پڑاﺅ ڈال لیا تھا۔ گو اس جگہ سے بنو طرید کا فاصلہ ڈیڑھ دو فرسخ سے زیادہ نہیں تھااس کے باوجود قُتیلہ نے آرام کرنا زیادہ پسند کیا تھا۔
”مالکن۔“دوپہر ڈھلنے والی تھی جب امریل نے گھبرائے ہوئے انداز میں قُتیلہ کو آواز دی ۔
”کیا ہے امریل ؟“قُتیلہ نے آنکھیں کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
امریل پریشانی بھرے لہجے میں بولا۔”مالکن !….آپ کو اٹھ کر جائزہ لینا چاہیے۔“
قُتیلہ نے اٹھنے میں ایک پل بھی نہیں لگایاتھا۔اٹھتے ہی اس نے امریل کی انگلی کے اشارے کے تعاقب میں نگاہیں دوڑائیں۔
دور افق پر کالی گھٹا چھائی دکھائی دے رہی تھی۔بلاشک و شبہ وہ ریت کا بھیانک طوفان تھا۔
”چلو ،وقت کم ہے۔“قُتیلہ جیسی نڈر کے لہجے میں بھی اندیشے جھلک رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد وہ چاروں فالتو گھوڑوں کو ہمراہ لیے تیز رفتاری سے بنو طرید کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ طوفان کارخ شمال سے جنوب کی طرف تھااور بنو طرید بھی اسی سمت کو واقع تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: