Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 28

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 28

–**–**–

”تو آپ ناکام رہے ؟“سبرینہ کے چہرے پر چھائی اس کی آمد کی خوشی مدہم پڑ گئی تھی۔
”ہاں۔“بہرام نے افسردگی سے سر ہلایا۔”لیکن لوٹنا میری مجبوری تھی کہ صحرائے اعظم میں کسی ایسے آدمی کو تلاش کرنا جو دشمنوں سے چھپتا پھر رہاہوقریباََ ناممکن ہے۔اس کے ساتھ مجھے یہ امید بھی ہے کہ یشکر دشمنوں سے جان چھڑانے کے لیے فارس کا رخ کرے گا۔“
”چلو اس کی زندگی کی نوید تو مل گئی ہے نا؟“سبرینہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے روشن پہلو کو اجاگر کیا۔
”اگر اس نے واپس آکر تم سے انتظار نہ کرنے کا شکوہ کیا ….؟“بہرام کے لہجے میں عجیب سے اندیشے پنہاں تھے۔
سبرینہ کے ہونٹوں پر مدھر تبسم نمودار ہوا۔بہرام کو وارفتگی سے دیکھے ہوئے وہ چاہت بھرے لہجے میں بولی۔”وہ میرا محسن ہے،مجھے اس سے ہمدردی سہی،مگر دل کیا کروں جو صرف ایک ہی نام پر دھڑکتا ہے۔“
بہرام کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا۔وہ سبرینہ کے رخِ روشن پر مہر محبت ثبت کرتا ہوابولا۔ ”مجھے معزز سکندرکے پاس حاضر ہونا ہے وہ بے چینی سے منتظر ہوں گے۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”پہلے انھی کے پاس جانا تھا۔“
”تو تمھیں معلوم نہیں ہے کہ میں پہلے یہاں کیوں آیاہوں۔“بہرام کے لہجے میں شکوہ در آیا تھا۔
سبرینہ کے نقرئی قہقے نے بہرام کی سماعتوں میں رس گھولا۔”جلدی لوٹنا،آپ کی خانم پر ایک ایک لمحہ سال بن کر گزرے گا۔“
اوربہرام مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ سکندر کے سامنے بیٹھا سفر کی تفصیلات دہرا رہا تھا۔
سکندر نے پوچھا۔”تمھیں یہ کیوں کر لگا کہ یشکر فارس کا رخ کرے گا۔“
بہرام اعتماد سے بولا۔”جن حالات میں وہ اپنے قبیلے سے بھاگا ،اس کے پاس کوئی دوسرا راستا ہی نہیں بچتا۔“
”ٹھیک کہہ رہے ہو،لیکن واپسی کی جلدی نہیں کرنا چاہیے تھی۔ایسی صورت میں جب ایک بڑا قبیلہ اس کی جان کے درپے تھاتمھیں بنو کاظمہ میں رک کر اس کی راہ دیکھنا چاہیے تھی۔“سکندر کو اس کی واپسی کا فیصلہ درست نہیں لگا تھا۔
”میری آمد کا مقصد ایک تو حضوروالا کو حالات سے آگاہ کرنا تھا،دوسرامحدود سپاہ کے ساتھ میں بنو کاظمہ سے دبا تک پھیلے،خلیج الفارس کے مکمل ساحل کی نگرانی نہیں کر سکتا تھا۔اور پھرمجھے یہ بھی امید تھی کہ یشکر لوٹ آیاہوگا۔“بہرام نے صفائی پیش کی۔
”ہونہہ!….“لمحہ بھر سوچنے کے بعد سکندرنے پوچھا۔”اب کیا ارادہ ہے ؟“
بہرام جلدی سے بولا۔”جو حضور والا کا حکم ہو۔“
”شہنشاہ معظم کی مہمات بھی اختتام پذیر ہوتی نظر نہیں آتیں ورنہ میں تمھارے ساتھ ہی چلتا۔ بہ ہر حال چند دن دیکھ لیتے ہیں اگر یشکر نہ آیا تو تمھیں دوبارہ رخت سفر باندھنا پڑے گا۔“
بہرام موّدبانہ لہجے میں بولا۔”جو حضور کی منشا ہو۔“
اور سکندر نے اوپر نیچے سر ہلاتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے دی تھی۔
٭٭٭
ہوا کے جھونکے آہستہ آہستہ تیز ہو رہے تھے اور ریت کا طوفان قریب آتا جا رہا تھا۔ایک ٹیلا سر کرتے ہی یشکر کو نشیب میں غضاءکی چند جھاڑیاں نظر آئیں جنھیں دیکھ کر اس نے اطمینان کا گہرا سانس لیا اور رفتار بڑھاتے ہوئے گھوڑوں کا رخ ادھر موڑ دیا۔ہوا کی رفتار میں ایک دم اضافہ ہو گیا تھا۔ ریت ان کے چہروں اور جسم کے کھلے حصوں پر سوئیوں کی طرح چبھ رہی تھی۔یشکر کے لیے وہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا،اگر اکیلا ہوتا تو قطعن پروا نہ کرتا مگر اب اسے بادیہ کی فکر تھی۔وہ نرم و نازک لڑکی ایسے مصائب کہاں برداشت کر سکتی تھی۔
جھاڑیوں کے قریب گھوڑے روکتے ہی وہ چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور اور فوراََ ہی بادیہ کی طرف بڑھا اگلے لمحے بازوﺅں میں بھر کر اسے نیچے اتارا اورخِمار(اوڑھنی )کو مضبوطی سے اس کے چہرے کے گرد لپیٹنے لگا۔بادیہ اطمینان بھرے انداز میں اسے گھور رہی تھی۔یشکر کی موجودی میں اسے آسمانی آفت سے بھی ڈر نہیں لگ رہا تھا۔
بادیہ سے بے فکر ہو کر اس نے دونوں گھوڑوں کی لگامیں پکڑیں اور جھنڈسے چند قدم کے فاصلے پر موجود اکیلی جھاڑی کی طرف بڑھ گیا۔دونوں گھوڑوں کوجھاڑی کے نظر نہ آنے والے تنے سے باندھ کراس نے اپنے گھوڑے کی زین سے باندھا کمبل کھولا اور بادیہ کو لے کر ہوا کے مخالف رخ جھاڑیوں کی جڑ میں دبک گیا۔کمبل کو اس نے اپنے اور بادیہ کے گرد مضبوطی سے لپیٹ لیا تھا۔بادیہ کا سر گود میں رکھ کر وہ اس پر جھک کر بیٹھ گیا۔ہوا دم بہ دم تیز ہوتی جا رہی تھی۔ہوا میں اڑتی ریت نے سورج کو ڈھانپ کر رات کا سماں کر دیا تھا۔
بادیہ دونوں بانہیں اس کی کمر سے لپیٹ کرسکون بھرے انداز میں لیٹی تھی۔ غضاءکی جھاڑیوں نے اچھی خاصی آڑ مہیا کر رکھی تھی اس کے باوجود ریت تواتر سے یشکر کی پیٹھ سے ٹکرا رہی تھی۔ اس کی حتی الوسع کوشش یہی تھی کہ بادیہ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
طوفان جاری رہا تیز ہوا سیروں کے حساب سے ان کے جسم پر ریت پھینک رہی تھی۔ہوا کی ”شاں…. شاں “کے ساتھ گھوڑوں کی بے چینی بھری ہنہناہٹ بھی یشکر کو سنائی دے رہی تھی۔یہ کھیل کافی دیر جاری رہا۔ریت کے طوفان نے ان کے اعصاب شل کر دیے تھے،ایک ہی ہیئت میں بیٹھے بیٹھے یشکر کا بدن اکڑنے لگا تھا۔بادیہ کی حالت البتہ کافی بہتر تھی کہ اس کے بالائی بدن کو یشکر نے ہر طرف سے پناہ میں لیا ہوا تھا۔
اور پھر وہ اعصاب شکن،تند و تیز ہوا آہستہ آہستہ تھمنے لگی یہاں تک کہ اس نے زحمت سے رحمت کا روپ دھار لیا۔ہوا میں موجود ریت کے ذرات بھی زمین پر بیٹھ گئے تھے۔
یشکر نے بدن سے لپیٹے کمبل کو اتارا،اس پر سیروں کے حساب سے ریت پڑی تھی۔کمبل سے سر نکالتے ہی اسے ہر جانب اندھیرے کا راج نظر آیا۔
”بیٹھے رہو ناں مجھے نیند آرہی ہے۔“اسے اٹھنے پر آمادہ دیکھ کر بادیہ مزاحیہ انداز میں بولی تھی۔
یشکر نے اس کے رخ پر لپیٹی خِمار(اوڑھنی) کھولتے ہوئے چاہت بھرے لہجے میں کہا۔”اب آرام ہی کرناہے میری سردار زادی۔“
وہ کھل کھلاتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔” اب توآپ کی شریک حیات ہوں پھر ہر وقت سردار زادی کہنے کا مطلب؟“
”کیوں کہ تم ہو ہی سردار زادی۔“وہ اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے کمبل جھاڑنے لگا۔بادیہ کو پیاس لگ رہی تھی وہ مسکراتے ہوئے گھوڑوں کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭
طوفان کے قریب پہنچنے سے پہلے وہ بنو طرید پہنچ گئے تھے۔ان کی آمد سے پہلے ہی بنو طرید کے باسی چوبیں نکال کر خیموں کو زمین بوس کرچکے تھے۔انھوں نے اونٹوں کو دائرے میں بیٹھا کر تمام کے گھٹنے باندھ دیے تھے تاکہ وہ گھبرا کربھاگ نہ جائیںاوراونٹوں کے اس گھیرے میں بھیڑ بکریوں کو بند کر دیا۔گھوڑوں کو انھوں نے غضا اورا¿ثل کی جھاڑیوں سے باندھ دیا تھا۔(عرب ا¿ثل کی جھاڑیوں کو بستیوں اور کھیتوں کے گرد قطار میں لگا کر آڑ بنا دیتے تھے۔اور یہ جھاڑیاں رتیلی آندھی کو روکتی تھیںاسی طرح غضاءبھی قبیلوں کی حدود میں اگائی جاتی کیوں کہ اس کی لکڑی بہت سخت ہوتی ہے اورغضاءکی لکڑی سے حاصل ہونے والا کوئلہ بہت دیر تک جلتارہتا ہے۔چنانچہ عربی ادب میں جمر الغضا ( غضا کے انگارے) کی ترکیب اکثر ملتی ہے۔سید الغضا یا ذئب الغضا کی ترکیب بھی مستعمل ہے کیونکہ غضاءکے جھنڈ میں رہنے والا بھیڑیا چالاک سمجھا جاتا ہے۔”از عربی ادب قبل الاسلام “)
قُتیلہ اور اس کے ساتھی جب بنو طرید میں داخل ہوئے تو ہوا کے جھکڑ شروع ہو چکے تھے۔انھوں نے فی الفور اپنے گھوڑے جھاڑیوں سے باندھے اور ا¿ثل کی جھاڑیوں کی اوٹ میں دبک گئے۔یوں بھی بنو قیشرہ والوں نے اس جگہ رہایش اختیار کرتے وقت ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھاجہاں ریت کا طوفان کم سے کم اثر انداز ہو سکتا تھا۔اور بنو قیشرہ کا محل وقوع ہی قُتیلہ کو اتنا پسند آیا تھا کہ اس نے اپنے قبیلے کو اسی جگہ رکھنا پسند کیا تھا۔
بھیانک آندھی کافی دیر جاری رہی تھی۔رات گئے جب ہوا کی رفتار میں کمی آئی تو وہ آڑ سے باہر نکل آئے۔قُتیلہ کے حکم پر سب سے پہلے وہ مشعلیں جلا کر خیمے لگانے لگے۔اس دوران قُتیلہ نے قریب بن فلیح اورعامر بن اسود کو پاس بلا یااور قبیلے کی خیر خبر پوچھنے لگی۔
عامر بن اسود نے جواب دینے میں پہل کی تھی۔”ملکہ، گزشتا کل بنو ضبع کے چار باسی یہاں سے گزرے تھے وہ اپنے آدمیوں کو تلاش کر رہے تھے۔ہم نے ان کے آدمیوں کے بارے لا علمی کا اظہار کر دیا۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔”کیا وہ قبیلے کے اندر داخل ہوئے تھے ؟“
”جی۔“ دونوں نے ایک ساتھ سر ہلا دیا تھا۔
بلیلہ نامی لڑکی اس کے لیے ضیاح (پانی ملا پتلا دودھ)کا کٹورہ بھر لائی تھی۔قُتیلہ ایک گھونٹ بھرکر کٹورہ واپس کرتے ہوئے کہا۔
”ملکہ قُتیلہ کو نخیسہ پسند ہے۔“(نخیسہ،بھیڑکے ایسے دودھ کو کہتے ہیں جس میں بکری کا دودھ ملایا گیا ہو)
”ابھی لائی۔“بلیلہ نے خوش دلی سے کٹورہ تھاما اور واپس مڑ گئی۔
قُتیلہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئی۔”اگر وہ قبیلے کے اندر داخل ہوئے تھے تو یقینا انھوں نے خیموں کو بھی دیکھا ہو گا اور ناممکن ہے کہ وہ اپنے خیموں کو نہ پہچان پائے ہوں۔“
قریب بن فلیح گھبرا کر بولا۔”اس بارے تو ہم نے سوچا ہی نہیں تھا۔“
”سوچنے کے لیے ملکہ قُتیلہ ہے نا؟“قُتیلہ کے لہجے میں طنز شامل نہیں تھا لیکن اس کے باوجوددونوں نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا۔
”جانتے ہو،اگر ملکہ قُتیلہ کو ایک دن کی بھی دیر ہوئی ہوتی تو واپسی پر بنو طرید کا انجام بنو قیشرہ والا ہوچکاہوتا۔“
”ہمیں اپنی حماقت کا احساس ہو گیا ہے ملکہ اور ……..“قریب نے معذرت کا اظہار کرنا چاہا، مگر قُتیلہ نے اسے فقرہ پورا نہیں کرنے دیا تھا۔
”ملکان بن نول اور اصرم بن خسار کو بلاﺅ۔“
قریب سر ہلاتا ہواخیمے گاڑتے ہوئے لوگوں کی طرف بڑھ گیا۔بلیلہ نخیسہ کا کٹورا بھر لائی تھی۔قُتیلہ نے سر کے اشارے سے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کٹورہ تھام لیا۔جب تک وہ دودھ پیتی ملکان بن نول اور اصرم بن خسار وہاں پہنچ گئے تھے۔
خالی کٹورا بلیلہ کے حوالے کرتے ہوئے وہ اصرم کو مخاطب ہوئی۔”اصرم،یہاں سے بنو ضبع کتنی دور ہے؟“
اصرم بولا۔”کبھی جانے کا اتفاق تو نہیں ہواالبتہ جس وقت ہم قیدی تھے ان کی گفتگو سے میں نے جو اندازہ لگایا تھا اس کے مطابق قریباََ ڈیڑھ منزل ہو گا۔“
”سواروں کے لیے یہ فاصلہ اتنازیادہ نہیں ہے اگر آج طوفان نہ آیا ہوتا تو بنو ضبع والے تمھارا گھیراﺅ کر چکے ہوتے۔“
اصرم بن خسارحیرانی سے بولا۔”مگر ان کے آدمیوں کو تو ہم نے مطمئن کر دیا تھا۔“
قُتیلہ تیقن سے بولی۔”اپنے خیموں کو پہچانتے ہی انھیں اصل بات واضح ہو گئی ہو گی۔خیموں کے علاوہ ان کے آدمیوں سے چھینے ہوئے گھوڑے بھی یہاں موجود تھے۔البتہ تمھیں جھانسہ دینے کے لیے انھوں نے اطمینان کا اظہار کرنا ہی تھا۔“
اصرم بن خسار ندامت سے بولا۔”ہمارے دماغ میں ان کے خیموں اور گھوڑوں کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔“
قُتیلہ صاف گوئی سے بولی۔”آتا بھی کیسے کہ ساری زندگی تم لوگوں نے بھیڑ بکریاں چرا نے میں گزار دی ہے۔“
ملکان بن نول نے زبان کھولی۔”اب کرنا کیا ہے؟“
”اب تو ملکہ قُتیلہ پہنچ گئی ہے۔“اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔اسی وقت امریل نے قریب آکر کہا۔
”مالکن،آپ کا خیمہ لگا دیا ہے۔“
اثبات میں سر ہلا کر وہ خاموش رہی۔مشعل کی روشنی میں اس کے دلکش چہرے پر چھایا تفکر واضح نظر آرہا تھا۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے سر اٹھایا۔
”ملکان تمام کو لے کر شمالی ٹیلوں پر پہنچ جاﺅ۔آج رات خیموں میں کوئی نہیں سوئے گا۔گواہل بنو ضبع کے آنے کا امکان تو نہیں ہے مگر ملکہ قُتیلہ کو ئی خطرہ نہیں مول لینا چاہتی۔“
”جو حکم ملکہ۔“ملکان واپس مڑ گیا۔
وہ رات قبیلے والوں نے ٹیلوں پر بسر کی تھی۔قُتیلہ بھی ان کے ساتھ ہی تھی۔اگلے دن طلوع شمس کے ساتھ ہی قُتیلہ نے تمام کو طلب کر لیا تھا۔عورتوں کو غداء(صبح کاکھانا) کی تیاری کا کہہ کر وہ مردوں کے ساتھ مل کر بنو ضع والوں سے نبٹنے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگی۔غداءتیا رہونے تک وہ منصوبہ تیا ر کر چکے تھے۔کھانے سے فارغ ہو کر قُتیلہ، خواتین کے ساتھ تین مردوں کو چھوڑ کر باقی پندرہ مردوں کے ہمراہ بنو ضبع سے آنے والے رستے کی جانب چل پڑی۔ گھات کے لیے انھوں نے جس جگہ کا انتخاب کیا تھاوہ ان کے قبیلے سے فرسخ بھر دور تھی۔وہاں وادی قدرتی طور پر تنگ ہو جاتی تھی اور دائیں بائیں موجود ٹیلوں کی وجہ سے درہ نما رستا بن گیا تھا۔جگہ کا انتخاب قُتیلہ نے کیا تھا۔وہاں پہنچنے تک دھوپ میں خاصی تیزی آگئی تھی۔قُتیلہ کے حکم پر دوپہر کا وقت انھوں نے وادی کے کنارے موجود درختوں کے سائے میں گزاراجونھی دھوپ کی شدت میں کمی آئی تمام نے درّہ نما مقام پر مورچے سنبھال لیے تھے۔
ملکان نے ریت کی حدت کو برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔”ہو سکتا ہے وہ آج بھی نہ آئیں۔“
قتیلہ پر اعتماد لہجے میں بولی۔”اگر آج نہ آئے تو کبھی بھی نہیں آئیں گے۔“
ملکان نے اطمینان سے لیٹی قُتیلہ کی آنکھوں میں جھانکا۔اس کی آنکھوں میں قُتیلہ کے لیے ستائش بھری تھی۔بہ ظاہر نرم و نازک نظر آنے والی لڑکی کتنی سخت جان تھی اس بارے ملکان کو پہلے ہی اتنے تجربات ہو چکے تھے کہ اس کا گرم ریت پر سکون سے لیٹنا اسے ششدر نہیں کر رہا تھا۔ورنہ حقیقت تو یہی تھی کہ اگر وہ زرق برق لباس میں ملبوس عالیشان محل میں تخت پر بیٹھی ہوتی تو دیکھنے والے یہی سمجھتے کہ بہار کی دھوپ بھی اس دوشیزہ کی رنگت کو میلا کر دے گی۔اور اُس حالت میں کوئی اس کے ہاتھوں میں دودھاری تلوار دیکھ لیتا تو بلا شک و شبہ یہی سمجھتا کہ نہ تووہ ملائم ہاتھ تلوار تھامنے کے لیے بنے ہیں اور نہ نازک بازو اس تلوار کا وزن ہی سہار سکتے ہیں۔اسے گھوڑے پر سوار دیکھ کر سائیس کبھی بھی گھوڑے کی لگام ہاتھ سے نہ چھوڑتا کہ اسے نرم و نازک دوشیزہ کے نیچے گرنے کا خطرہ ہوتا۔
”کن سوچوں میں کھو گئے ہو۔“اسے مسلسل خود کو گھورتے دیکھ کر قُتیلہ کے باریک ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔اس کی مسکراہٹ یقینا بہت زیادہ خوب صورت تھی،لیکن اس کی فطرت سے واقف ملکان کو اسے ہنستا دیکھ کر یوں لگتا جیسے کوئی شیرنی دانت نکوسے اپنے شکار کو گھور رہی ہو۔
”اس یقین کی وجہ؟“ملکان نے اس کے سوال کے بجائے اول الذکراندازے کی بابت استفسار کیا۔
”کیوں کہ ملکہ قُتیلہ خود قزاق ہے اور اچھی طرح جانتی ہے کہ قزاق کیا سوچتے ہیں،ان کا مزاج کیسا ہوتا ہے اور وہ کیسے کام کرتے ہیں؟“
ملکان نے ایک اور سوال اٹھایا۔”ہو سکتا ہے وہ اندھیرا چھانے کے بعد پہنچیں ؟“
”ایسا ہونا، ممکن ہے۔اور اگر وہ غروب آفتاب سے پہلے نہ پہنچے تو ملکہ قُتیلہ کا منصوبہ تبدیل ہو جائے گا۔پھر انھیں بنو طرید میں گھیریں گے۔“
ملکان تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”آپ کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے۔“
وہ اعتماد سے بولی۔”کیوں ملکہ قُتیلہ کسی امکان کو نظر انداز نہیں کرتی۔“
ملکان بن نول نے وادی میں دور تک نگاہیں دوڑائیں۔آدھے کوس کے بعد وادی میں ایک بڑا موڑ آرہا تھا۔وہاں سے وادی شمال سے مغرب کی جانب مڑ گئی تھی۔اور اس سے آگے کا علاقہ نظر سے اوجھل تھا۔چند لمحے اسی طرف متوجہ رہنے کے بعد وہ دوبارہ قُتیلہ کو دیکھنے لگا۔گرمی کی شدت سے اس کا گندمی چہرہ تمتمایا ہوا تھا۔گھنے بالوں پر بندھی سیاہ پٹی پسینے سے تر ہو کر گیلی ہو گئی تھی۔وہ عموماََ بالوں کو کھلا ہی رکھتی تھی۔لیکن کبھی کبھار دوچوٹیاں باندھ لیتی تھی۔یقینااس کے بالوں نے کبھی خِمار (اوڑھنی) کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ کمر پروہ نطاق (کمر بند)ضرور باندھتی تھی۔پاﺅں میں چمڑے کے بند جوتے ہوتے تھے۔اس کی درع(قمیص) عموماََکالے، سرخ یا نیلے رنگ کی ہوتی اور زیریں لباس ہمیشہ سراول (پائجامہ یا شلوار ) ہوتا تھا۔عام عورتوں کی طرح پھولدار کپڑے اس نے کبھی نہیں پہنے تھے۔وہ سجنے سنورنے کی شوقین نہیں تھی۔لیکن اس کے کانوں میں عریسہ نے زبردستی طلائی قرط (چھوٹی بالیاں )اور گلے میں سبز زمرد کا طوق(بھاری بھرکم گلے کا ہار جو گردن سے چپک جاتا ہے)ڈال دیا تھا۔ کلائیوں میں نقرئی مسکتان تھے(چاندی کے چوڑے کنگن نما زیورجو دونوں کلائیوں میں ایک ایک پہنا جاتا تھا۔کنگن اس زمانے میں مرد بھی پہنا کرتے تھے) سیاہ آنکھوں میں سرمہ بھی وہ کثرت سے لگایا کرتی تھی۔بلکہ سرمے کی لکیر کو وہ گوشہ چشم سے کافی آگے تک بڑھا دیتی۔ یوں دنبالہ آنکھیں دیکھنے والوں کو مرعوب کردیتی تھیں۔وہ خوب صورت تھی لیکن اس کی کشش کو اس کی بے رحمی نے ایک رعب دے دیا تھا۔ جاننے والے اس سے مرعوب رہتے تھے۔ڈر ایسی چیز ہے جو حیوانی خواہشات کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اور اس کے قریب رہنے والے بھی جانتے تھے کہ اس کی مرضی کے بغیر کسی ناگوارحرکت کا نتیجہ کیا نکل سکتا تھا۔زبان سے زیادہ وہ شمشیر چلانے کی عادی تھی۔اوراس کی شمشیر کندھوں اور سر کے درمیان گزرنے میں سستی نہیں دکھاتی تھی۔رحم کا لفظ اس کے لغت میں درج نہیں تھا۔وہ ہمیشہ دماغ کی مان کر چلتی تھی۔اس کے پتھر دل میں اگر کسی کے لیے ہمدردی یا محبت کا عنصر موجود تھا تو وہ بس عریسہ تھی۔
”پانی لے آﺅں؟“ملکان نے اس کے سراپے سے نظر ہٹا کر عقبی نشیب میں جھاڑیوں سے بندھے گھوڑوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اس نے نفی میں سرہلایا۔”کبھی کبھی پیاس برداشت کرنا مفید رہتا ہے۔“
اسی وقت تیتر کے بولنے کی آواز ابھری۔وہ اصرم بن خسارتھااورمخالف جانب کے ٹیلے پر لیٹا تھا۔تیتر کی بولی خطرے کا اشارہ تھا۔قُتیلہ فوراََ ہی وادی کے موڑ کی جانب متوجہ ہو گئی تھی۔وہاں سے دو گھڑ سوار نمودار ہوئے اور آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔وہ دُلکی چال میں گھوڑوں کو بھگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔
ملکان کے ہونٹوں سے تحسین آمیز آواز برآمد ہوئی۔”بلا شک و شبہ ملکہ قُتیلہ،ملکہ کہلانے کی حق دار ہے۔اور قبیلے کی سرداری صرف ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہی جچتی ہے۔“
قُتیلہ نے اس تعریف پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔دشمنوں کو آتا دیکھ کر وہ انگلی میں جَلیدہ (ہڈی کا چھلا جو تیر انداز انگلی میں پہنتے تھے )پہننے لگی ۔
وادی کے دونوں کناروں پراس نے پانچ پانچ تیر انداز لٹا دیے تھے جبکہ چھے آدمی دشمنوں کو سامنے سے روکنے کے لیے موجود تھے۔سامنے والوں کے ساتھ امریل موجود تھا۔یلغار کی ابتداءقُتیلہ کے تیر چلانے پر ہونا تھی۔جلد ہی وہ اتنے فاصلے پر پہنچ گئے تھے کہ قُتیلہ آسانی سے انھیں گن سکتی تھی۔
”بیس اور پانچ۔“قتیلہ کے گننے سے پہلے ملکان انھیں شمار چکا تھا۔
قُتیلہ نے آہستہ سے سر ہلایا اور ان کے مزید قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔آخری آدمی کو اپنے سامنے گزرتے دیکھ کر وہ فوراََ دوزانو ہوئی اگلے ہی لمحے اس کی کمان تیر اُگل چکی تھی۔اور اتنے نزدیک سے اس کے چلائے ہوئے تیر کا خطا جانا ناممکن تھا۔وہ آدمی گردن کے بل نیچے گرا تھا۔اس کے ساتھ ہی بنو ضبع کے سواروں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔وادی کے دونوں پہلوﺅں سے بارش کی طرح تیر برسنے لگے تھے۔بنو ضبع کے آدمی مردہ چھپکلیوں کی طرح گھوڑوں سے گر رہے تھے۔ایک لمحے کو تو تمام سراسیمہ ہو کر گھوڑوں کی لگامیں کھینچ کر رکے اور پھر انھوں گھوڑوں کو تیز بھگا کر اس جگہ سے دور ہونا چاہا، اسی وقت امریل اور اس کے ساتھیوں نے سامنے سے بھی تیروں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔پانچ چھے آدمی اور نیچے گرے،بچ جانے والوں کی عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔انھوں نے واپس مڑنے کا فیصلہ کیا، اس وقت تک قتیلہ لومڑی کی طرح بھاگتے ہوئے نیچے پہنچ چکی تھی۔ملکان اس کے پیچھے پیچھے تھا۔بنو ضبع کے آٹھ نو کے قریب سوار اب تک گھوڑوں کی پیٹھ پر نظر آرہے تھے باقی زخمی یا مردہ حالت میں نیچے گر چکے تھے۔بھاگتے ہوئے بھی قُتیلہ کے ہاتھ تیر چلانے سے نہیں رکے تھے۔دو اور سوار نیچے گرے۔ وادی میں اترتے ہی قُتیلہ سوار سے محروم بنو ضبع کے ایک گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوئی اور تلوار بے نیام کرتے ہوئے سامنے سے آنے والے سواروں کی طرف متوجہ ہو گئی۔ملکان نیچے کھڑے ہوکر مسلسل تیر برسا رہا تھا اس کی اور ٹیلوں پر موجود افراد کی کوشش سے تین اور سوار نیچے گر گئے تھے۔امریل اپنے چھے ساتھیوں کے ہمرا ان کے تعاقب میں آرہا تھا۔
قُتیلہ گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے سب سے آگے والے کی طرف بڑھی۔قُتیلہ کو ننگی تلوار کے ساتھ اپنی جانب آتا دیکھ کر مذکورہ سوار نے اپنی تلوار بے نیام کر لی تھی۔دونوں سوار تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے۔بالکل آخری وقت میں قُتیلہ نے رکابوں سے پاﺅں نکالے اور ایک دم گھوڑے کی پیٹھ پرپاﺅں کے بل بیٹھ گئی۔یوں بھاگتے گھوڑے کی پیٹھ پر پاﺅں رکھ کر توازن قائم رکھنا قُتیلہ جیسی شہسوار ہی کے لیے ممکن تھا۔جونھی دونوں گھوڑوں کی گردنیں برابر ہوئیں وہ زور سے اوپر کو اچھلی اگلے ہی لمحے اس کی تلوار مخالف سوار کی گردن کا رابطہ بقیہ بدن سے منقطع کر چکی تھی۔وہ قلابازی کھا کر دونوں قدموں پر سیدھی کھڑی ہوئی اور رکے بغیرگھوڑے کی طرف بھاگ پڑی جو سوار کا وزن ہٹتے ہی کھڑا ہو گیا تھا۔گھوڑے پر سوار ہوکر اس نے پیچھے موڑا۔اس کے ہاتھوں قتل ہونے والے آخری آدمی کا بغیر سر کا دھڑ پچاس ساٹھ قدم دور جا کر گرا تھا۔بنو ضبع کے دو سوار گھوڑوں کی پیٹھ پر نظر آرہے تھے۔دونوں سخت خوفزدہ تھے۔اور وہاں سے دور جانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔قُتیلہ نے گھوڑے کو سر پٹ دوڑا دیا تھا۔امریل ایک سوار سے چند قدم عقب میں تھادوسرے کے پیچھے قُتیلہ ہولی۔وہ فرلانگ بھر سے زیادہ دور نہیں جا سکے تھے ۔جونھی اس کا گھوڑا بنو ضبع کے سوار کے متوازی ہوا اس نے ایک بار پھر وہی حرکت دہرائی۔دونوں پاﺅں رکاب سے نکال کر وہ سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھی اور اگلے ہی لمحے ہوا میں اچھل کر دوسرے سوار کی چھاتی میں تلوارگھساتے ہوئے اسے ساتھ لیے دوسری جانب جاگری۔نیچے گرنے سے پہلے وہ قلابازی کھا کر دونوں قدموں پر کھڑی ہو گئی تھی۔اس کی تلوار دستے تک مخالف کے سینے میں گڑی تھی۔وہ بن جل کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا۔اس خوش کن نظارے سے رخ موڑ کر وہ امریل کو دیکھنے لگی۔وہ بھی اپنے شکار کے قریب پہنچ گیا تھا۔دونوں کی تلواریں مسلسل ٹکرانے لگیں،خون کا ذائقہ چکھنا امریل کی تلوار کے حصے میں آیا تھا۔مخالف کا ہاتھ کلائی سے کٹ کر دور جا گرا تھا۔اگلی باری اس کے سر کی تھی۔اس کے سر کو علاحدہ ہوتے دیکھ کر قُتیلہ اپنی تلوار کی طرف متوجہ ہوئی۔اس کے شکار کا جسم اب تک ہل رہا تھا۔تلوار اس کی چھاتی سے کھینچ کر قتیلہ نے اسی کے لباس پر رگڑ کر صاف کی اور گھوڑے پر بیٹھ کر پیچھے کوروانہ ہو گئی۔سورج تھوڑی دیر کا مہمان تھا۔اس کی روشنی پیلی پڑ چکی تھی۔
قُتیلہ کے ساتھی بنو ضبع کے بچ جانے والے زخمیوں کو اکٹھا کر رہے تھے۔دو تین زخمی مزاحمت کی کوشش میں اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں سے جا ملے تھے۔زندہ بچنے والے زخمیوں کی تعداد پانچ تھی۔
قُتیلہ کے حکم پر ملکان بن نول اپنے دس ساتھیوں کوہمراہ لے کر مرنے والوں کے گھوڑوں کو اکٹھا کرنے لگا۔اسی وقت امریل واپس پہنچ گیا تھا۔قُتیلہ کے قریب گھوڑے سے اترتے ہوئے اس نے گھٹنا زمین پر ٹیک کر قُتیلہ کا ہاتھ تھامااور اس کے ہاتھ کو دونوں آنکھوں سے لگاتے ہوئے بوسا دے کر کہا۔
”مالکن،غلام اب تک حیران ہے کہ کوئی شہ سوار اس اندازسے بھی اپنے مخالف کو ٹھکانے لگا سکتا ہے۔بلا شک و شبہ یہ مہارت کی انتہا تھی۔“
” ملکہ قُتیلہ کے لیے معمولی بات ہے۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے وہ زخمیوں کی طرف متوجہ ہوئی۔
”تو تمھارا تعلق بنو ضبع سے ہے اور تم ہمارے قبیلے پر حملہ کرنے آرہے تھے۔“
ایک زخمی ہمت کرتا ہوا بولا۔”اے معزز خاتون بلا شک و شبہ ہمارا تعلق بنو ضبع سے ہے،لیکن آپ کو تو ہم جانتے بھی نہیں ہیں۔“
”جاننے والے مجھے ملکہ قُتیلہ کہتے ہیں اور جو نہیں جانتے انھیں بھی ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ ہی کہنا چاہیے۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: