Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 29

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 29

–**–**–

زخمی نے فوراََ کہا۔”جی ملکہ قُتیلہ،لیکن پہلے ہم ملکہ قُتیلہ کے نام سے واقف نہیں تھے اور قبیلے سے تو اب بھی انجان ہیں۔“
وہ استہزائیہ لہجے میں بولی۔”یہ معلومات نہ تو تمھارے چند سانس بڑھا سکتی ہے اورنہ تمھیں کوئی اور فائدہ پہنچا سکتی ہے۔اس لیے یہ سوال رہنے دو،یہ بتاﺅ بنو ضبع میں یہی پچیس مرد تھے جو تم منھ اٹھا کر بھاگتے چلے آئے۔“
اس مرتبہ زخمی نے کوئی جواب دیے بغیر ہونٹ بھینچ لیے تھے۔
قُتیلہ اپنے ساتھیوں کی طرف مڑی۔”وہاں پیچھے ملکہ قُتیلہ کو ایک آدمی کی گردن آدھی کٹی ہوئی نظر آئی تھی۔ کس اناڑی کا کام تھا۔“
قیروان بن اخلداسے قربان ہوتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔”ملکہ اس پر میں نے وار کیا تھا۔“ یہ وہی تھا جس نے قُتیلہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
”شرم آنی چاہیے تمھیں۔“قُتیلہ نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔”تلوار چلانا نہیں آتا۔“
”ابھی سیکھ رہا ہوں ملکہ،سواع نے چاہا تو جلد ہی آپ کی توقعات پر پورا اتروں گا۔“
”قریب آﺅ۔“اسے پاس بلا کر وہ اس زخمی کی طرف مڑی جس سے باتیں کر رہی تھی۔قیروان جھجکتے ہوئے قریب ہوا۔
”دیکھو تلوار چلاتے وقت مقابل کی گردن کے پاس کبھی بھی ہاتھ روکنے کی کوشش نہ کرو،تلوار کو جس تیزی سے پیچھے سے لایا جائے اسی شدت سے ہاتھ آگے بڑھتا جائے اور جب تلوار ہدف سے ٹکرانے والی ہو اس وقت کلائی کو ہلکا سا اوپر کی طرف موڑ کر مخصوص انداز میں جھٹکا دیا جاتا ہے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی تلوار بے نیام کی اور اس کی دھار زخمی کی گردن سے لگا کر اپنی کلائی کو ذرا سا موڑ کر جھٹکا دینے کا نمونہ دکھایا۔
”سمجھ میں آگیا۔“اس نے قیروان سے تصدیق چاہی۔
”جی ملکہ۔“قیروان نے اثبات میں سر ہلادیا۔زخمی پہلے تو گھبرا گیا تھا لیکن جونھی اسے لگا کہ وہ صرف اپنے ساتھی کو سکھا رہی ہے اس نے سکھ بھرا سانس لیا تھا۔
”اب پورا نمونہ دیکھو۔“زخمی اطمینان بھرا سانس لے بھی نہیں پایا تھا کہ قُتیلہ کی تلوار بجلی کے کوندے کی طرح اس کی گردن کے پاس پہنچی۔گردن ہوا میں اڑتی ہوئی کئی قدم دور جا گری تھی۔بے سر کا لاشہ اذیت بھرے جھٹکے لینے لگا۔
”اب کر لو گے ؟“اس کے انداز سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ زندہ انسان پر تلوار چلا رہی ہے۔بلا شک و شبہ اس کے سینے میں دل کی جگہ پتھر رکھا ہوا تھا۔
قیروان نے اثبات میں سر ہلادیا۔باقی زخمیوں کے چہرے پر موت کی زردی چھا گئی تھی۔
”تم بتاﺅ،بنو ضبع میں کتنے مرد بقایا ہوں گے۔“قُتیلہ دوسرے زخمی کی طرف متوجہ ہوئی۔
اس کی آنکھوں میں غصے کی شدت سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔وہ کینہ توز نظروں سے قُتیلہ کو گھورتا رہا۔لمحہ بھر جواب کی منتظر رہنے کے بعد وہ قیروان کو مخاطب ہوئی۔”چلو نمونہ دکھاﺅ تم نے کیا سیکھا ہے۔“
”جی ملکہ۔“قیروان تھوک نگلتا ہوا دوسرے زخمی کے قریب ہوا،اس کی گردن پر تلوار رکھ کر اس نے اپنا نشانہ سیدھا کیا اور پھر دونوں ہاتھوں سے تلوار گھما کر اس کی گردن پرزوردار وار کیا،مگر اس کی تلوار گردن سے پار نہیں نکل سکی تھی۔زخمی اوندھے منھ گرتے ہوئے اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
”بہت خراب قیروان،تمھاری وجہ سے بے چارے کو کتنی تکلیف جھیلنا پڑ رہی ہے۔“افسوس بھرے انداز میں سرہلاتے ہوئے وہ تیسرے زخمی کی طرف مڑی۔
”تمھاری باری۔“
خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے وہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔”نہ تمھیں ملکہ سمجھتا ہوں اور نہ قبیلے سے غداری کر سکتاہوں۔“
وہ بے رحمی سے مسکرائی۔”یہ جوان ملکہ قُتیلے کو حوصلے والا لگتا ہے۔“یہ کہہ کر وہ قیروان کو بولی۔ ”ملکہ قُتیلہ کو معلوم ہو گیا ہے تم سے کیا غلطی ہو رہی ہے۔اصل میں غلطی ملکہ قُتیلہ کی ہے کہ براہ راست تمھیں گردن کاٹنے پر لگا دیا،اگر کم موٹے اعضاءسے شروعات کی جاتی تو تم اب تک کافی کچھ سیکھ چکے ہوتے۔یوں بھی گردن کٹ جانے کے بعد باقی جسم کو مشق کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے ان بے چاروں کے پاس فقط ایک ایک گردن ہے۔بہ ہر حال ابھی ہم بازو سے ابتداءکریں گے۔“
یہ کہتے ہی اس نے زخمی کی کلائی پکڑ کر اس کے بازو کو سیدھا کیا۔قیروان کو پتا چل گیا تھا کہ اس نے کیا کرنا ہے۔اس نے دونوں ہاتھوں سے تلوار پکڑ کر زور دار انداز میں گھمائی۔تلوار نے کہنی کو جسم سے علاحدہ کر دیا تھا۔ زخمی کے حلق سے زور دار چیخ برآمد ہوئی ۔ وہ دہرا ہو کر دوسرے ہاتھ سے اپنے کٹے ہوئے بازو کو دبا کر خون کی دھاروں کو روکنے کی کوشش کرنے لگا۔تکلیف کی شدت سے اس کے منھ سے بلند بانگ کراہیں برآمد ہو رہی تھیں۔
”ہونہہ!….پہلے سے بہتر ہے۔“قُتیلہ نے سر کو اوپر نیچے ہلایا۔”اب ٹانگ کی باری ہے۔“ اس نے اذیت سے کراہتے زخمی کی ٹانگ پکڑی وہ تڑپتے ہوئے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔اچانک ہی اس نے دوسری ٹانگ زور دار انداز میں قُتیلہ کے پیٹ میں مارنے کی کوشش کی۔
قتیلہ اسے ٹانگ کو پیٹ کی طرف سمیٹتے دیکھ کر چوکنا ہو گئی تھی اور اس کے تدارک کے لیے اس نے کمر سے باندھی چھوٹی نیام میں اڑسے خنجر کے دستے پر ایک ہاتھ رکھ دیا تھا۔جونھی اس کی ٹانگ تیزی سے قُتیلہ کے پیٹ کی طرف بڑھی، اس نے سرعت سے خنجر نکال کر اس کے پاﺅں کے سامنے پکڑ لیا۔زوردار انداز میں چلائی ہوئی ٹانگ کے سامنے تیزنوک والے خنجر نے رکاوٹ ڈالی اور خنجر چمڑے کے جوتے میں سوراخ کرتا ہوا پاﺅں کے تلوے سے بھی پار ہو گیا تھا۔ اس کے حلق سے زوردار چیخ نکلی،جتنی تیزی سے اس نے ٹانگ چلائی تھی اس سے زیادہ تیزی ٹانگ واپس سمیٹ لی۔
اس دوران قُتیلہ نے ایک ہاتھ سے اس کی دوسری ٹانگ تھامے رکھی تھی۔قیروان نے گھٹنے کا اندازہ کر کے تلوار بلند کی اگلے ہی لمحے زور سے چلائی ہوئی تلوار نے اذیت سے تڑپتے زخمی کی پنڈلی کو جسم کا حصہ نہیں رہنے دیا تھا۔بھیانک چیخ مارتے ہوئے وہ بے ہوش ہو گیا تھا۔
”آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے۔“قُتیلہ کے چہرے پر رحم کی رمق بھی موجود نہیں تھی۔وہ چوتھے قیدی کی طرف متوجہ ہوئی۔
”تمھارا ساتھی تو بے ہوش ہو گیا،کیا تم بتا سکتے ہو کہ بنو ضبع میں کتنے لڑاکا موجود ہوں گے؟“
”اپنے ساتھی کا حال دیکھنے کے بعد اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔وہ جلدی سے بولا۔”بوڑھے، جوان ملا کر چالیس سے زیادہ نہیں ہوں گے۔عورتیں اس کے علاوہ ہیں۔“
”تمھیں شرم آنی چاہیے بے غیرت……..“پانچویں قیدی غضب ناک ہو کر اپنے ساتھی کو ملامت کرنے لگا،لیکن قُتیلہ نے اسے فقرہ پورا نہیں کرنے دیا تھا۔ایک دم اپنی تلوار بے نیام کر تے ہوئے اس نے پانچویں زخمی کے منھ میںگھسیڑ دی تھی۔تلوار کی نوک اس کے کھوپڑی کے عقب سے نکل گئی تھی۔تلوار واپس کھینچ کر وہ بچ جانے والے زخمی کی طرف متوجہ ہوئی۔
” تم کچھ بتا رہے تھے۔“
اس کا جسم بید مجنوں کی طرح کانپ رہا تھا۔وہ ہکلایا….”جج….جی ملکہ عالیہ میں کہہ رہا تھا کل ملا کر چالیس کے قریب مرد ہوں گے۔بچے اور عورتیں اس کے علاوہ ہیں۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔”لڑنے والے مرد کتنے ہوں گے؟“
”تلوار اٹھانے والوں کی تعداد بیس پچیس سے زیادہ نہیں ہو گی۔“آخری رہ جانے والے کی ہمت جواب دے گئی تھی۔بے رحم قُتیلہ کے رعب و خوف نے اس کے اعصاب توڑ دیے تھے۔
قُتیلہ کے سوال جاری رہے۔”رزاح بن اسد کے بعد قبیلے کا سردار کون بنا ہے ؟“
”ہمیں اب تک رزاح کی موت کی تصدیق نہیں ہوئی،اس لیے سردار تو وہی ہے۔البتہ اس کا قائم مقام مضرس بن یربوع تھا۔“اس نے بازو اور ٹانگ کٹنے والے شخص کی طرف اشارہ کیا جس کی ٹانگ اور بازو سے بہنے والا بے تحاشا خون اسے آہستہ آہستہ موت کی وادی کی جانب دھکیل رہا تھا۔اب اگر اس کا خون بہنے سے روک بھی دیا جاتا تو اس کا بچنا محال تھا۔
”بنو ضبع یہاں سے کتنی دور ہے اور رستے کی پہچان کیا ہے؟“
وہ تھوک نگلتے ہوئے تفصیل سے بتانے لگا۔” یہاں سے سفر کرتے ہوئے وادی کا چوتھا موڑ مڑنے کے بجائے سیدھا آگے بڑھتے جائیں۔چوتھے موڑسے فرلانگ بھر دور ایک بڑا ٹیلہ آئے گا۔جو ارد گرد کے ٹیلوں سے کافی بلند ہے۔ٹیلے کی بلندی پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو شمالی تارے اور شعریٰ یمانیہ (اسے انگریزی میں سائرس کہتے ہیں۔اور سائرس جنوب مشرق سے طلوع ہو کر جنوب مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ )کے مقام غروب کے درمیانی فاصلے کے نصف کی جانب وہاں سے قریباََ دو فرسخ دور بنو ضبع واقع ہے۔“
”بلا شبہ تم رحم کیے جانے کے حق دارہو۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس کی تلوار بجلی کے کوندے کی طرح آخری آدمی کی گردن کی طرف بڑھی۔اس مرتبہ اس نے نئے انداز میں وار کیا تھا یوں کہ تلوار زخمی کی گردن کو کاٹتی ہوئی گزر گئی تھی اور سر اب تک شانوں پر نظر آرہا تھا۔
”اور ملکہ قُتیلہ کو اتنا ہی رحم کرنا آتا ہے۔“
مضروب کی آنکھوں میں اذیت اور حیرانی جیسے ثبت ہو گئی تھی۔خون کی دھار گردن کے چاروں جانب سے نکل کر بہنے لگی تھی۔اس کا جسم غیر متوازن ہوا اور آگے کو جھکتے ہوئے پہلے اس کی گردن زمین پر گری اور پھر وہ خود بھی گر کر ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگاتھا۔
قیروان نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا۔”یہ آپ نے کیسے کیا ملکہ؟“
مگر وہ اسے جواب دیے بغیر ملکان کی طرف متوجہ ہو گئی جو لمبے ڈگ بھرتا اس کے قریب آرہا تھا۔سورج غروب ہوچکا تھا،ہر طرف ملگجا اندھیرا پھیلا تھا۔قریب آکر وہ موّدبانہ لہجے میں بولا۔
”ملکہ،گھوڑے،تلواریں اور مرنے والوں کے لباس اکٹھے ہو گئے ہیں اور ان پانچ کے علاوہ تمام کی لاشوں کو ایک گڑھے میں ڈال دیا ہے۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”گڑھے میں پھینکنے کا تکلف ہی کیاہے،آج رات ابن آویٰ (گیدڑ)،ابو جعدہ(بھیڑیا) اور ام عامر(لگڑبگڑ)نے ان لاشوں پر دعوت اڑاناہے۔بقایا جات کا صفایا کل طلوع آفتاب کے بعدنسر(گدھ) دیوتا کر دے گا۔“
ملکان جلدی سے بولا۔”لاشوں پرریت نہیں پھینکی ملکہ۔“
اس نے سر کو ہلکی سی جنبش دے کر پسندیدگی کا عندیہ دیا اور تمام کو متوجہ کرتے ہوئے بولی۔ ”اس سے پہلے تمھارا تعلق کس قبیلے سے تھا،تم کام کیا کرتے تھے اور تمھارا زندگی گزارنے کا طریقہ کار کیا تھا یہ تمام باتیں بھول جاﺅ۔بس یہ یاد رکھو کہ اب تمھارا تعلق بنو طرید سے ہے اور اپنی بقا کے لیے تمھیں ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا ہے۔تمھاری تعداد اتنی مختصر ہے کہ کوئی بھی قزاق قبیلہ تمھیں تر نوالہ سمجھتے ہوئے نگلنے میں وقت ضایع نہیں کرے گا اور اس کی زندہ مثال بنو ضبع کے حالیہ حملے کی کوشش ہے۔اگر انھیں گھیر کر ہلاک نہ کرتے تو تمھاری زندگی میں آنے والی یہ آخری رات ہوتی۔یقینا بنوقیشرہ کے باسی اپنا انجام بھولے نہیں ہوں گے۔پورے قبیلے میں صرف انھی بندوں کو زندہ رہنے کا حق دیا گیا تھاجنھیں وہ غلام بنا کر بیچ سکتے تھے۔ہم بھی یونھی کریں گے بنو قیشرہ کی تباہی کا بدلہ بنو ضبع کی مکمل تباہی ہی سے پورا ہوگا۔ہم آج کی رات سفر میں گزاریں گے اور کل بنو ضبع کی تباہی کا دن ہوگا۔انھیں کیسے قابو کرنا ہے یہ ملکہ قُتیلہ نے سوچ لیا ہے۔فی الحال یہ گھوڑے اور سامان لے کر ہم قبیلے میں جائیں گے۔اور رات کا کھانا کھا کر سفر کا آغاز کریں گے۔کسی کو ملکہ قُتیلہ کی بات سے اختلاف ہے تو وہ اپنا منصوبہ بیان کر سکتا ہے۔“
”ہم ملکہ قُتیلہ سے متفق ہیں۔“ملکان بن نول نے بولنے میں پہل کی تھی۔
”ہم ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہیں۔“اس بار تمام بیک زبان بولے تھے۔
٭٭٭
سردارجبلہ نے رغال بن ذواب،غنم بن سلول اورزہیربن جزع کو عریسہ کے ہمراہ بھیجا تھا۔وہ عریسہ کے گھڑ سواری نہ جاننے کی وجہ سے وہاں تک اونٹوں پر پہنچے تھے۔راستے میں انھیں بنو جساسہ کی تباہی کی خبر معلوم ہو گئی تھی لیکن رغال بن ذواب نے اسے واپس لے جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔زہیر بن جزع کی حدی خوانی سے اونٹوں بہت تیز رفتاری سے فاصلہ طے کر رہے تھے۔ (عرب اونٹوں پر سفر کرتے وقت خوش الحانی سے اشعار پڑھتے تھے جن کو سن کر اونٹ وجد میں آجاتے اور پوری قوت سے دوڑنا شروع کر دیتے تھے۔اسی کو حدی خوانی کہتے ہیں )بنو جساسہ کے آثار نظر آتے ہی رغال بن ذواب اسے مخاطب ہوا۔
”عریسہ بنت منظر،اپنا خیال رکھنا۔آج سے تم بنو نسر کی ذمہ داری نہیں رہیں۔“
وہ رغال کی بات کا جواب دیے بغیر اجڑے پجڑے قبیلے کو دیکھنے لگی۔سترہ سال بعد وہ اپنے قبیلے میں لوٹی تھی۔
رغال اپنے ساتھیوں کو اشارہ کرتے ہوئے واپس مڑ گیا۔وہ اونٹ کی پشت پر بیٹھی جلے ہوئے مکانات کا نظارہ کرتی رہی۔اسے امید نہیں تھی کہ کوئی وہاں زندہ بچا ہو گا،مگر ایک دو گھروں سے اٹھتی دھویں کی لکیر ظاہر کر رہی تھی کہ وہاں زندگی کے آثار موجود تھے۔۔راستے میں آنے والے قبایل سے انھیں بنو جساسہ کی تباہی کے بارے کافی کچھ پتا چلا تھا۔ یشکر نامی فارسی جوان کا ذکر سن کر اس کے دماغ میں برسوں پہلے سردار شُریک بن ثمامہ سے کی ہوئی گفتگو تازہ ہوگئی تھی۔اس نے کہا تھا….
”اگر سردار کی اجازت ہو تو،ننھا سردار میرے رکھے ہوئے نام سے پکارا جائے ۔“
شُریک نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا تھا۔”یہ ولی عہدہے اور قبیلے کی رسم کے مطابق ولی عہد کا نام سارے بھائیوں نے مل کر طے کرنا ہوتا ہے۔“
چند لمحوں بعد اس نے پوچھا تھا۔ ”سردار !….جب تک چھوٹے سردار کا نام نہیں رکھا جاتا میں اسے یشکر کہہ سکتی ہوں ۔“
شُریک نے پسندیدگی کے انداز میں سر ہلایا۔”سرداروں والا نام ہے،اگر میری مرضی کا عمل دخل رہا تو بھائیوں کو یہی نام رکھنے کا مشورہ دوں گا۔ “
اور پھر یشکر کواس کے خریدار کے حوالے کرتے ہوئے اس نے یہی کہا تھا۔”معزز سردار، اس کا نام یشکر ہے۔“اور اب بنو جساسہ کی تباہی کے ضمن میں یشکر نام کے فارسی غلام کا ذکر سنتے ہی اس کے دل میں سردار زادے یشکر کی یاد تازہ ہو گئی تھی۔وہ بچہ جسے زندہ رکھنے کے لیے عریسہ، لڑکی سے عورت بنی تھی۔البتہ رغال وغیرہ کے سامنے اس نے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا تھا۔ان کے رخصت ہونے کے بعد دوبارہ اس کے دماغ میں یشکر کے بارے سابقہ یاد تازہ ہوئی اور وہ سر جھٹکتے ہوئے اس مکان کی طرف بڑھ گئی جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔آگ کی وجہ سے زیادہ تر مکانات کی چھتیں وغیرہ جل گئی تھیں اور جن مکانوں کی دیواروں میں لکڑی اور سرکنڈوں،اور کھجور کے پتوں وغیرہ کا استعمال ہوا تھا وہ مکمل جل گئے تھے اس کے باوجود بنو جساسہ کی گلیوں کی ہیئت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا۔
اس گاﺅں میں کھیل کود کر وہ جوان ہوئی تھی۔ وہاں کی ایک ایک گلی کوچے اور دیوارو در سے وہ واقف تھی۔بلاشک و شبہ سترہ سال کافی طویل عرصہ تھا لیکن یہ اتنا طویل بھی نہیں تھا کہ بنو جساسہ کی ساری آبادی جدید ہو گئی ہو۔کچھ مکانات کے اضافے اور پہلے سے بنے ہوئے کچھ مکانات میں چند ایک تبدیلیوں کے علاوہ کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا تھا۔البتہ وہاں ہوئی آتش زدگی نے قبیلے کو اجاڑ دیا تھا۔اس کے باوجود دھواں اٹھنے کا ماخذ حویلی کو وہ پہچان گئی تھی۔وہ بنو جساسہ کے سب سے عمر رسیدہ شخص صامت بن منبہ کی حویلی تھی۔
حویلی کا دروازہ کھلا تھا۔وہ بہ مشکل اونٹ کو بٹھا پائی تھی کہ حویلی کے دروازے پر حکیم قنعب بن عبد شمس نمودار ہوا۔جب وہ قبیلے سے گئی تھی اس وقت اس کی داڑھی میں اکادکا بال سفید تھے،لیکن اس وقت قنعب کی داڑھی اور بال مکمل سفید نظر آرہے تھے۔
”اس نے آنکھیں سکوڑ کر عریسہ کی طرح دیکھا۔اگلے ہی لمحے اس کی بوڑھی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک ابھری۔”اگر میری بوڑھی آنکھیں دھوکا نہیں دے رہیں تو یقینا میں اپنے جگری یار منظر بن قارب کی بیٹی کو دیکھ رہا ہوں۔“
عریسہ اس کے سامنے سر جھکاتے ہوئے گلوگیر لہجے میں بولی۔”چچا جان،آنکھیں بوڑھی سہی پرآپ کی عقل جوان ہے۔“
قنعب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔”اتنے سال بعد دیکھ کریقین بھی نہیں آرہا کہ تم زندہ ہو۔عزیٰ کی قسم،سردار شُریک بن ثمامہ کے قافلے کے زخم ایک بار پھر تازہ ہو گئے ہیں۔“
وہ افسردگی سے بولی۔”حالیہ مصیبت تو ہمارے قافلے کو پیش آنے والے حادثے سے کئی گنا بڑی نظر آرہی ہے۔“
قنعب نے گہری آہ بھرتے ہوئے کہا۔”درست کہا،اب بنو جساسہ بھولی بسری داستان بن چکا ہے۔اس حادثے نے پڑوسی قبایل کو نئی تقویم (کلینڈر)مہیا کر دی ہے۔“(عرب کے اندر باقاعدہ کوئی تقویم رائج نہیں تھی۔لوگ کسی خاص و اہم واقعے کے حساب سے تاریخ کو یاد رکھا کرتے تھے۔ جیسے سدِّ مآرب کا ٹوٹنا،حبشہ و یمن کی لڑائی،واقعہ اصحاب الفیل،کعبہ کی از سر نو تعمیر وغیرہ۔ اور اس ضمن میں پورا عرب ایک ہی تقویم استعمال نہیں کرتا تھا بلکہ ہر قبیلے کی اپنی اپنی تقویم بھی ہو سکتی تھی۔ یعنی کسی واقعے کی تاریخ بتانے کے لیے وہ یوں کہا کرتے تھے کہ ”یہ واقعہ حبشہ و یمن کی لڑائی کے اتنے عرصہ بعد پیش آیا“ عربوں میں باقاعدہ تقویم کا آغاز سیدنا فاروق اعظم ؓ کے دور حکومت میں ان کے حکم پرعمل میں آیا۔اور حضورﷺ کی مبارک ہجرت اس کی بنیاد ٹھہرائی گئی)
عریسہ بھی گہری آہ بھر کر رہ گئی تھی۔قنعب نے اس کے اونٹ کی مہار پکڑی اور حویلی کے وسیع صحن میں داخل ہو گیا۔اونٹ کو صحن میں گڑی اینٹھی سے باندھ کر وہ عریسہ کو ساتھ لیے اندرونی عمارت میں گھس گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بنو جساسہ کے بچ جانے والے افراد سے مل رہی تھی۔
٭٭٭
گھوڑے کے ریت پر پاﺅں مارنے اور خوفزدہ آواز نکالنے پر یشکر فوراََ جاگ گیا تھا۔بادیہ کے سر کے نیچے رکھا بازو ایک جھٹکے سے کھینچتے ہوئے اس نے پاس رکھی صاعقہ اٹھاکر ایک جھٹکے سے بے نیام کر لی تھی۔اس کے یوں اٹھنے پر بادیہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔مطلع بالکل صاف تھا۔اکیس ،بائیس کے چاند کی مدہم روشنی میں یشکر نے بڑی جسامت کے دو بھیڑئیوں کو پہچاننے میں غلطی نہیں کی تھی۔شایدوہ نر مادہ تھے اور اس وقت ان کے ارادے خاصے خطرناک نظر آرہے تھے۔اگر یشکر کی آنکھ عنبر کی ہنہناہٹ پر نہ کھلتی تو انھیں ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا۔یشکر کو اٹھتے دیکھ کر ایک بھیڑئیے نے دوڑتے ہوئے تین چار قدم لیے اور زقند بھری،مگر اس کی بدقسمتی کہ یشکر ہوشیار تھا،بھیڑئیے کے قریب آنے سے پہلے وہ صاعقہ کو پوری قوت سے گھما چکا تھا۔بھیڑئیے کی گردن کئی قدم دور جاپڑی تھی،جبکہ اس کا بے سر کا دھڑان کے بستر کے ساتھ ہی گر کر تڑپنے لگاتھا۔اپنے ساتھی کی حالت دیکھتے ہی دوسرا بھیڑیا بھیانک غراہٹ سے ان کی طرف بڑھا،بادیہ کانپ کر یشکر کے عقب میں جا دبکی تھی۔
یشکر صاعقہ کو سونتے عقابی نظروں سے بھیڑیئے پر نظر رکھے ہوئے تھا۔چاند کی روشنی میں وہ بھیڑیئے کی نقل و حرکت پر آسانی سے نظر رکھ سکتا تھا۔بھیڑیئے کی یلغار کے ساتھ وہ بھی گھٹنوں میں مناسب خم کیے تیار ہو گیا تھا۔دوسرے نے بھی پہلے بھیڑیئے کی طرح چند قدم تیز رفتاری سے لے کرزور سے اچھلااور اس کے ساتھ ہی یشکر نے ایک قدم آگے لیتے ہوئے اپنے بازوﺅں کو تیزی سے گھمایا،صاعقہ نے اس کے حکم کی تعمیل میں ذرا بھی سستی نہیں دکھائی تھی۔دوسرے بھیڑیئے کا سر پہلے بھیڑیئے کے سر سے دو قدم دور گرا تھا۔
یشکر بہ مشکل ہی سیدھا ہو پایا تھا کہ بادیہ شدت سے اس سے آن لپٹی تھی۔اس کا جسم خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔
”میری سردار زادی ڈر گئی ہے۔“صاعقہ کی نوک ریت میں گاڑتے ہوئے یشکر نے بادیہ کے لرزتے وجود کو بازوﺅں کے گھیرے میں لے لیا تھا۔
”کتنے بھیانک تھے۔“بادیہ نے خوف سے پھریری لی۔
وہ چاہت سے بولا۔”تو کیا ….سردار زادی کا یشکر موجود ہے نا۔“
وہ اس کی چھاتی میں منھ گھسیڑتے ہوئے بولی۔” ہمیشہ ہی پاس رہنا،کبھی چھوڑ کے نہ جانا۔“
”اتنی مشکل سے حاصل کیا ہے سردار زادی کو، اب جدا ہو کے مرنا ہے کیا۔“
”چلتے ہیں مجھے ڈر لگ رہا ہے یہاں۔“اس نے پہلی بار بھیڑیوں کو اتنے قریب سے دیکھا تھا اور اب تک سہمی ہوئی تھی۔
”میرے ہوتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا ہے۔“یشکر نے اسے بازوﺅں میں بھرا اورریت پر بچھے کمبل پر لا کر لٹا دیا۔رات کے آخری پہر اچھی خاصٰ خنکی ہو گئی تھی۔
”نہیں۔“ہونٹوں پر مدھر تبسم بکھیرتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا۔”آپ کے ہوتے ہوئے مجھے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔“
اس کا سر زانو پر رکھ کر یشکر گپ شپ کرنے لگا۔یشکر کے ساتھ راز و نیاز کے وقت وہ یونھی لیٹنا پسند کرتی تھی۔طلوعِ آفتاب تک وہ وہیں بیٹھے رہے۔اس کے بعد توشہ دان (وہ مخصوص برتن جس میں سفرکے دوران استعمال کی جانے والی خوراک رکھی جائے)سے اونٹ کا بھنا ہوا گوشت نکال کر انھوں نے پیٹ بھرا اور آگے جانے کے لیے تیار ہو گئے۔
یشکر نے دونوں گھوڑوں کو تیار کیا،بادیہ کو عنبر پر سوار کرا کر وہ خود سفید گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ سورج کی مدد سے جانے کی سمت کا تعین کر کے وہ درمیانی رفتار سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
بادیہ نے پوچھا۔”فارس پہنچنے تک کتنے مزید کتنی راتیں صحرا میں گزارنا پڑیں گی۔“
یشکر ہنسا۔”میرا خیال ہے سردار زادی صحرا سے تنگ پڑ گئی ہے۔“
”نہیں۔“بادیہ نے نفی میں سرہلایا۔”اگر آپ کا ساتھ میسر رہے تو میں ساری زندگی اس سفر سے لطف اندوز ہونے کے لیے تیار ہوں۔“
”مذاق کر رہا تھا۔“اس کی وارفتگی دیکھتے ہوئے یشکر کا دل خوشی سے بھر گیا تھا۔
”سچ تو یہ ہے کہ میں صرف آپ کی خوشی کے لیے فارس جانے پر راضی ہوئی ہوں ورنہ مجھے یہاں عریش (چھپر نما جھونپڑی،جس کی دیواریں نہیں ہوتیں اورجو صرف سائے کے لیے بنائی جاتی ہے)میں رہنا فارس کے پر تعیش محلات سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے۔“
”میں بھی اپنی سردار زادی کو کسی ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے فارس لے جا رہا ہوں ورنہ سردار زادی کی خوشی اور سکون سے بڑھ کر میرے لیے کوئی بات اہمیت نہیں رکھتی۔“یشکر ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا۔
وہ حسرت سے بولی۔”وہاں تھوڑا وقت گزار کر بنو جساسہ میں اپنے بھائیوں کو ملنے ضرور آﺅں گی۔“
یشکر محبت پاش لہجے میں بولا۔”بگھی میں بٹھا کر اپنی سردار زادی کو لاﺅں گا۔“
“ایک بات مانیں گے۔“
”کتنی بار کہا ہے کہ حکم دیا کرو۔“
”مجھے بادیہ کہا کرو نا۔“وہ ملتجی ہوئی۔
”سردار زادی کہلوانا برا لگتا ہے ؟“
بہت اچھا لگتا ہے،لیکن اس سے آپ کی تحقیر کا پہلو نکلتا ہے یوں جیسے کوئی ادنا شخص مجھے مخاطب ہو۔“
وہ مسکرایا۔”یشکر اپنی سردار زادی کا غلام ہے۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ٹھیک ہے، آج کے بعد میں بھی آپ کو آقا کہوں گی کیوں کہ میں بھی تو آپ کی باندی ہوں۔“
یشکر مصر ہوا۔”سردار زادی تو تم سچ میں ہواورمجھے بھی ایسا کہنا اچھا لگتا ہے۔اور اس سے میری تحقیر کا پہلو کہاں سے نکل آیا۔بھول گئیں قبیلے کے سارے معززین تمھیں سردارزادی کہا کرتے تھے۔“
بادیہ نے اسے تیکھی نظروں سے گھورا اور پھر اس کے ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”جانتی تھی،باتوں میں نہیں ہارو گے۔“یشکر بھی قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
وہ ایک بڑے ٹیلے کی بلندی پر پہنچے، سامنے پانی کی گزر گاہ نظر آرہی تھی جس کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب تھا۔یشکر نے اطمینان بھرا سانس لیا اور گھوڑوں کا رخ نشیب کی طرف کر دیا۔اس کے تئیں آگے کا سفر نسبتاََ آسان ثابت ہونے والا تھا۔کیوں کہ وادی میں پانی کے حصول کے ساتھ دھوپ سے بچنے کے لیے سایہ دار درخت بھی کثرت سے مل جایا کرتے تھے۔
نشیب میں اتر کر وہ وادی کے کنارے کنارے آگے بڑھنے لگے۔دھوپ کی شدت میں تیزی آگئی تھی۔یشکر کی نظریں کسی مناسب مقام کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔ وادی کا موڑ مڑتے ہی اسے درختوں کے جھنڈ میں لگاایک خیمہ نظر آیا۔
بادیہ نے بھی وہ دیکھ لیا تھا۔اس کے منھ سے اطمینان بھرا سانس خارج ہوا تھا۔
یشکر نے کہا۔”آفتاب کی تمازت کوبے اثرکرنے کے لیے اس سے بہتر مقام نہیں مل سکتا۔“
بادیہ نے اثباب میں سرہلاتے ہوئے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔”جی چاہتا ہے وادی کے کنارے ایسے ہی خیمہ لگا کر ہمیشہ کے لیے وہیں بسیرا کر لیں۔بس میں آپ اور ہمارے شرارتیں کرتے بچے۔“
”سردار زادی !….اس دنیا میں امن کا قیام بھی جنگ کے مرہون منت ہوتا ہے۔کمزور و طاقتور کی تقسیم،امارت و مفلسی کا فرق،اختیار و مجبوری کااختلاف،محبت و نفرت کا احساس یہ تمام عوامل امن کی راہ کے سب سے بڑے روڑے ہیں۔اگر کسی نے سکون سے رہنا ہو تو اسے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتا ہے۔“
وہ مایوسی سے بولی۔”میں نے تمنا ہی ظاہر کی ہے، آپ کو یہاں رہنے پر مجبورتو نہیں کیا۔“
”اپنی سردار زادی کی ہر خواہش میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے۔اور اگر یقین ہو کہ میں جان قربان کر کے سردارزادی کی خواہش پوری کر سکتا ہوں تو مجھے جان دینے میں بھی جھجک نہیں تھی۔“
بادیہ نے اسے محبت پاش نظروں سے گھوارا۔”مجھے موت نہیں آپ کی زندگی کی ضرورت ہے۔“
یشکر خوش دلی سے مسکرا دیا تھا۔وہ وادی کے کنارے بنے خیمے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ درمیانی عمر کا مضبوط جُثّے والا آدمی بیری کے سائے میں بیٹھا کھجور کے پتوں سے حصیر(چٹائی )بن رہا تھا۔خیمے کے گرد قائم جَمَنکا (خیمے کے گرد پردہ کے لیے کھڑی کی جانے والی قنات)خیمے کے وہاں مستقل لگاہونے کا اعلان کر رہی تھی۔ خیمے کے آگے ایک اور نخلہ( درختوں کاجھنڈ) تھاجہاں دو اونٹنیاں بندھی نظر آرہی تھیں۔ان کے ساتھ اونٹ کا چھوٹا بچہ دائیں بائیں دوڑتے ہوئے اٹھکیلیاں کر رہا تھا۔خیمہ تین درختوں کی قطارکے نیچے اس خوب صورتی سے لگایا گیا تھا کہ اس پر بہت کم دھوپ لگ رہی تھی۔
”تمھاری دوپہر سلامتی والی ہو۔“قریب پہنچتے ہی یشکر نے سلام کہا۔
”خوش آمدید۔“وہ کھڑے ہو کر مسکرایا۔
یشکرنے گھوڑے سے اترتے ہوئے پوچھا۔”ہمیں دوپہر کا وقت گزارنے کی اجازت مل سکتی ہے؟“
معانقہ کے لیے بازو پھیلاتے ہوئے وہ مسکرایا۔”ہماری خوش قسمتی کہ مہمان آئے۔“
اس سے گلے مل کر یشکر بادیہ کے قریب ہوا۔وہ نزاکت سے اس کے زانو پر پاﺅں رکھ کر نیچے اتر آئی تھی۔
ان کا میزبان خوش دلی سے ہنسا۔”لگتا ہے اجنبی اپنی ہم سفر کاسچا قدردان ہے۔“
یشکر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔”میرا نام یشکر ہے اور یہ میری شریک حیات سردار زادی بادیہ ہے۔“
”میرا نام اعمی بن مکیث ہے۔آئیں بیٹھیں۔“اس نے بیری کے تنے کے ساتھ کھڑی گول لپٹی حصیر( چٹائی) کھولی اور ان کے لیے ریت پر بچھا دی۔وہ خود لکڑی کی چوکی پر بیٹھا تھا۔حصیر کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی تکمیل کے مراحل سے گزری ہے۔
ان دونوں کے بیٹھتے ہی وہ خیمے کی طرف متوجہ ہو کر چلایا۔”خلیسہ مہمان آئے ہیں۔“
خیمے کا پردہ ہٹا کرفربہی مائل تنومند جسم اورمضبوط ہاتھ پاﺅں کی ایک عورت نمودار ہوئی۔وہ یقینا اعمیٰ بن مکیث کی بیوی تھی۔گندمی رنگت،ماتھے پر بنے مصنوعی نیلگوں ستارے،ایک ستارہ ٹھوڑی پر بھی کھدا تھا۔موٹی سیاہ آنکھیں،گلے میںسرخ رنگ کے آبگینوں کاہار،کانوں میں گول طلائی قرط (بالیاں )جن میں تین تین سفید موتی جگمگارہے تھے۔ناک کے دونوں نتھنوں میں کالے رنگ کے موٹے نگینے والے کوکے۔کلائیوں میںہاتھی دانت کے بنے ہوئے کنگن ،دونوں ہاتھوں کی انگلیاں خواتیم (چھوٹی انگشتری)سے مزین۔پاﺅں میں چاندی کے خلاخل(پازیب)،سرخ رنگ کی چوغہ نما قمیص اورکمر سے نطاق بندھا ہواتھا۔سنہرے بالوں اورتیکھے نقوش کی مالک خلیسہ ایک خوب صورت عورت تھی ۔اس کی آنکھیں دیکھ کر یشکر کو عجیب سی بے چینی ہوئی تھی۔
خلیسہ نے قریب ہو کر بادیہ کو گلے سے لگا کر اس کے رخسار پر بوسا دیا اور یشکر کی طرف دیکھ تعظیماََ سر جھکا لیا تھا۔
جونھی وہ بادیہ سے مل کر پیچھے ہٹی اعمیٰ بن مکیث نے کہا۔” سرخ ٹھنڈی شراب پلا کر مہمانوں کی تھکن اتار دو۔“
بادیہ جلدی سے بولی۔”میں پانی پینا پسند کروں گی۔“
خلیسہ کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔”بہتر ہے۔“نامعلوم یہ کہنا اثبات کے معنوں میں تھا یا اس نے بادیہ کے شراب نہ پینے کے عمل کو سراہاتھا۔
”آپ لو گ کہاں سے آرہے ہو اور کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟“اعمیٰ بن مکیث کھجور کے پتے اٹھا کر ایک بار پھرحصیر بننے میں مصرو ف ہو گیا تھا۔
یشکر نے کہا۔”بنو قطام سے بنو کاظمہ کا ارادہ باندھ کر نکلے تھے۔“
اس نے عنبر کی طرف دیکھتے ہوئے تحسین آمیز لہجے میں کہا۔”سردارزادی کی سواری مجھے پسند آئی ہے۔“
بادیہ ہلکی ندامت سے بولی۔”اگریہ مجھے محبوب شوہر کی طرف سے مہر میں نہ ملا ہوتا تو آپ کو بخش دیتی۔“
اعمیٰ نے عجیب سے لہجے میں کہا۔”سردارزادی،پسندیدہ چیز کے حصول کے لیے انسان جانے کتنے جتن کرتا ہے۔یقینا تمھیں پانے کے لیے محترم یشکر کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑے ہوں گے۔“
بادیہ حیا آلود لہجے میں بولی۔”آپ کا اندازہ درست ہے۔“
یشکر کو میاں بیوی کا اندازبے چینی میں مبتلا کر رہا تھا۔وہ پوچھنے لگا۔”یہاں نزدیک کوئی آبادی نہیں ہے ؟“
”ہمیں ویرانے پسند ہیں۔“براہ راست جواب دینے کے بجائے اس نے بالواسطہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی گویا نزدیک کوئی آبادی موجودنہیں ہے ۔لیکن یشکر اس کے جواب سے مطمئن نہیں ہواتھا۔
اسی وقت خلیسہ ہاتھوں میں چھاگل اور آب خورہ لیے نمودار ہوئی۔چھاگل سے آب خورہ بھر کر اس نے یشکر کے سامنے رکھا اور بادیہ کو مخاطب ہوئی۔” میں آپ کے لیے ضیاح(پانی ملا پتلا دودھ) لاتی ہوں۔“
بادیہ نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلادیا۔
یشکر نے آب خورہ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا۔ایک گھونٹ لیتے ہی وہ آب خورہ واپس رکھتے ہوئے خلیسہ کی جانب متوجہ ہوا جو بڑے غور سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
”اس کا ذائقہ کچھ عجیب سا ہے؟“یہ کہتے ہوئے اسے اپنے رگ و پے میں عجیب سے سنسناہٹ ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔بغیر کسی دقت کے اسے معلوم ہو گیا تھا کہ چھاگل کی شراب زہریلی تھی۔ اور عام نہیں عرب کے زہریلے ترین سانپ افعی کے زہر کی ملاوٹ اس میں کی گئی تھی۔ کسی بھی شخص کے لیے وہ ایک گھونٹ جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔سکندر کی معیت میں چونکہ اسے ہر قسم کے زہر کی پہچان ہو گئی تھی اس لیے اسے پہچاننے میں ذرا بھی دشواری نہیں ہوئی تھی۔
خلیسہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔”آپ کا وہم ہے۔ “
”چھوڑو خلیسہ اگر محترم اجنبی نے ایک گھونٹ بھر لیا ہے تو کیوں بے چارے کو جھوٹی تسلی دے رہی ہو۔“حصیرکو ایک جانب رکھ کر اعمیٰ بن مکیث کھڑا ہو گیا تھا۔
یشکربھی اعمیٰ کو تیکھی نظروں سے گھورتے ہوئے کھڑا ہوا۔اگلے ہی لمحے ”چھن“کی آواز کے ساتھ صاعقہ نے نیام سے جھانکا تھا۔
اعمیٰ بن مکیث نے قہقہ لگایا۔”محترم،تمھاری تگ و دو بے کار ہے۔اس شراب کا ایک قطرہ بھی کسی کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔اگر مجھے امید ہوتی کہ چند قدم بھی لے پاﺅ گے تو تمھیں اپنے بسائے ہوئے قبرستان کی جانب چلنے کی دعوت دیتا۔یقین کرو بھاری لاش کو وہاں تک گھسیٹ کر لے جانا کافی جان جوکھوں کا کام ہے۔“
یشکر نے پوچھا۔”تو تم مہمانوں کے ساتھ یہ برتاﺅ کرتے ہو؟“
”یہ جاننا تمھارے کس کام کا۔“نہتا ہونے کے باوجوداعمیٰ کو یشکر کی تلوار سے ذرا بھر خوف نہیں آرہا تھا۔
بادیہ کے لیے یہ صورت حال حیران کن ہونے کے ساتھ خوفزدہ کر دینے والی بھی تھی۔یہ جان کر کہ یشکر زہریلی شراب پی چکا تھا وہ زردپڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔اس پر سرسری نگاہ ڈالتے ہی یشکر کو اس کی ناگفتہ بہ حالت کا اندازہ ہوگیا تھا۔
”پریشان نہ ہوں سردار زادی،تمھارے یشکر پر کوئی زہر اثر نہیں کرتا۔“اسے تسلی دے کر وہ اعمیٰ کی طرف متوجہ ہوا۔”تم نے بھی سن لیا ہوگا۔اور یقینا اب میں اپنے سوال کا جواب پانے کا حق دار ہو گیا ہوں۔“یہ کہتے ہی اس نے تلوار کی نوک سے ٹہوکا دیتے ہوئے حیران و پریشان کھڑی خلیسہ کو شوہر کے قریب ہونے کا اشارہ کیا۔کیوں کہ اس کے اعمیٰ کی طرف متوجہ ہونے کافائدہ اٹھا کر وہ بادیہ کوئی نقصان پہنچا سکتی تھی۔
اعمیٰ کے چہرے پریشانی ابھری۔وہ گڑبڑاتے ہوئے بولا۔”مم….میں مذاق کر رہا تھا۔ شراب زہریلی نہیں ہے۔“
”اس سے ایک گھونٹ لے کر تم میری غلط فہمی دور کر سکتے ہو۔“آب خورہ اٹھا کر یشکر نے اس کی جانب بڑھایا۔
اعمیٰ نے بے چارگی سے آب خورے کو تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔اور ہاتھ میں آتے ہی اس نے ایک دم آب خورہ یشکر پر دے ماراتھا۔
یشکر کا ہاتھ سرعت سے اپنے چہرے اور آب خورے کے درمیان میں حائل ہوا تھا۔اسی وقت اعمیٰ نے اس پر چھلانگ لگا دی تھی۔لیکن بے وقوف جانتا نہیں تھا کہ اس کے سامنے یشکر کھڑا تھا۔ یشکر نے اپنی جگہ سے ہلے بغیر صاعقہ کی نوک کو سیدھا کر دیا تھا۔اپنی جھونک میں آگے آتے اعمیٰ کی چھاتی کو چیرتے ہوئے صاعقہ کی نوک اس کے کندھوں کے درمیان سے جا نکلی تھی۔زوردار لات اس کے سینے میں رسید کرتے ہوئے یشکر نے صاعقہ کو واپس کھینچ لیاتھا۔
اعمیٰ نیچے گر کر تڑپنے لگا تھا۔یشکر خلیسہ کی جانب متوجہ ہوا۔
اس نے سرعت سے پیش کش کی۔”بغیر مہر دیے مجھے اپنی بیوی بنا سکتے ہو۔“اس کے دلکش چہرے پر دعوت آمیز تبسم کھل رہا تھا۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اس کا شوہر سامنے پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔
یشکر کے کچھ کہنے سے پہلے اس کے عقب میں کھڑی بادیہ نے ایک دم اس کے ہاتھ سے تلوار جھپٹی اور دستے پر دونوں ہاتھ جماتے ہوئے خلیسہ کی طرف بڑھی۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ وار کرنے میں کامیاب ہوپاتی یشکر نے اسے دونوں بازوﺅں سے تھام لیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: