Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 3

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 3

–**–**–

بنو جساسہ کے نئے سردار شیبہ بن ثمامہ اور اس سے چھوٹے بھائی شریم بن ثمامہ کو وراثت میںبڑے بھائی شریک کی دونوں بیویاں بھی ملی تھیں۔ شیبہ نے سرادری کی خوشی میں دونوں عورتیں شریم کے حوالے کردی تھیں۔ شریک کی صرف ایک ہی بیٹی تھی ثانیہ بنت شریک۔ وہ بھی اپنے چچا شریم کی سر پرستی میں آگئی تھی۔ شیبہ بن ثمامہ کے تین بیٹے تھے ،جبکہ شریم دو بیٹیوں سلمیٰ اور وتینہ کا باپ تھا۔ اس کا کوئی لڑکا نہیں تھا۔ سردار بننے کے سال بھر بعد شیبہ کے ہاں بھی بیٹی کی ولادت ہوئی جس کا نام بادیہ رکھا گیا۔ بادیہ بچپن ہی سے غیر معمولی طور پر حسین تھی۔
حملہ آور قزاقوں کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ صرف اتنا معلوم ہوا تھا کہ وہ نسر کے پچاری تھے کیوں کہ ان کے پاس نسر کی شبیہہ کے جھنڈے تھے۔ اور ان کی ڈھالوں پر بھی نسر کی شبیہہ کھدی تھی۔ شیبہ کو بھائی کی موت کا بدلہ لیے بغیر چین نہیں آسکتا تھا۔ اس وقت بھی وہ قبیلے کے بڑوں کے ساتھ دارلمشورہ میں موجو دتھا۔
عمر رسیدہ صامت بن منبہ نے کہا۔ ”سردار، دونوں جوان ناکام ہو کر لوٹے ہیں ،حملہ آوروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔“
شیبہ بن ثمامہ افسردہ لہجے میں بولا۔ ”میں کب تک صدیٰ کو اسقونی ،اسقونی کہتے سنتا رہوں گا۔“
(عربوں کا خیال تھا کہ اگر کوئی شخص ناحق قتل کر دیا جائے تو اس کی کھوپڑی سے الو کی شکل کا ایک پرندہ برآمد ہوتا ہے۔ وہ اسے” صدیٰ“مذکر یا ”ہامة“ مونث کا نام دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک مقتول کا بدلہ نہیں لے لیا جاتا یہ پرندہ اس کی قبر میں موجود رہتا ہے اور ”اسقونی ،اسقونی “ مجھے پلاﺅ ،مجھے پلاﺅ پکارتا رہتا ہے )
شریم بن ثمامہ نے کہا۔ ”یا اخی،بہتر ہو گا کہ عرّاف الیمامہ سے مدد لی جائے۔“
(عربوں میں کاہن اور عرّاف غیب دان سمجھے جاتے تھے۔ ان میں فرق یہ تھا کہ کاہن مستقبل کی خبریں بتاتے اور عرّاف ماضی کی۔ ان میں مرد بھی تھے اور کاہنہ عورتیں بھی تھیں۔ مردوں میں شِق اور سطیح کے نام بہت مشہور ہیں۔ جبکہ عورتوں میں طریفہ ،زبراءسلمیٰ الہمدانیہ وغیرہ کافی شہرت رکھتی تھیں۔ عرّاف عموماََ اپنے اپنے علاقوں یا قبیلوں سے منسوب ہوتے تھے۔ مثلاََ عرّاف ہذیل، عرّاف نجدوغیرہ۔ کاہن غیب دانی کے علاوہ علاج معالجہ اور ٹونے ٹوٹکے بھی کرتے تھے )
صامت بن منبہ نے لقمہ دیا۔ ”سردار،یہی بہتر رہے گا۔“
شیبہ ،چھوٹے بھائی کی طرف متوجہ ہوا۔ ”کل کا سورج ،تمھیں یمامہ کے راستے پر گامزن دیکھے۔“اور شریم نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
٭٭٭
اہل فارس دنیا کے قدیم ترین گروہ سے ہیں۔ یہ اپنے معاصرین سے قوت و شوکت میں بڑھے ہوئے تھے۔ بلا اختلاف محققین اہل انساب اس بات کے قائل ہیں کہ اہل فارس سام بن نوح کی اولاد سے ہیں۔ ان کا جد اعلیٰ جس پر ان کا سلسلہ نسب منتہی ہوتا ہے وہ فرس ہے۔ موّرخین اہل فارس کے چار طبقات بیان کرتے ہیں۔ پہلے طبقے کو بیشدادیہ (فیشدادیہ )دوسرے کو کیانیہ ،تیسرے کو اشکانیہ (اشغانیہ )اور چوتھے کو ساسانیہ کہتے ہیں۔ تمام طبقات کا زمانہ حکومت کیومرث(بادشاہ اول فارس) کے عہد حکومت سے یزدجرد(آخری بادشاہ فارس )تک جو زمانہ خلافت سیدنا عثمان ؓ میں مارا گیا تھا چار ہزار دو سو اٹھاسی برس تک رہا۔
اہل فارس کا چوتھا طبقہ یعنی ساسانیہ کی حکومت کا آغازاردشیر بن بابک بن ساسان سے ہوا۔ یہ سکندر اعظم سے پانچ سو چودہ برس بعد پیدا ہوا۔ اس کی حکومت 226ءسے شروع ہوئی۔ اس نے اپنی حیات ہی میں اپنے بیٹے سابور(شاہ پور) اول کے سر پر تاج رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد اس کی نسل کے مختلف بادشاہ فارس پر حکمران رہے۔ یہاں تک کہ میلاد عیسوی کو تین صدیاں بیت چکی تھیں۔ جب ساسانی فرماں روا ہرمز بن نرسی تخت نشین ہوا۔ یہ اس طبقے کا آٹھواں بادشاہ تھا۔ اس کی وجہ سے مخلوقِ خدا مصیبت میں پھنس گئی تھی۔ تھوڑے عرصے کے اندر ہی اسے محسوس ہو گیا کہ لوگ اس سے خوف کھاتے ہیں ،دل ہی دل میں اس سے نفرت کرتے ہیں اوراس کے مرنے کی دعائیں کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ سخت دل گرفتہ ہوا۔ اس نے چند ایسے افراد کو بلایا جن پر اسے بھروسا تھااور ان کے سامنے ساری صورت حال رکھ دی۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایسا کون سا طریقہ تھا جس کی بدولت لوگ اسے پسند کرنے لگ جاتے ان کے دل سے بادشاہ کی نفرت و مخالفت نکل جاتی۔ تب ایک زیرک وزیر نے کہا۔
”بادشاہ سلامت ،خدا کی مخلوق نرم دل اور عادل بادشاہ کو پسند کرتی ہے۔ ایسا بادشاہ جو لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھے ،انھیں سہولیات بہم پہنچائے ،کمزورں کی مدد کرے اور زور آوروں کو ان کی حد میں پابند کرے۔ اور بادشاہ سلامت یاد رکھنا زندگی ایک دن ختم ہو جانی ہے۔ مخلوق خدا گزرے بادشاہ کو اس کے مظالم کی وجہ سے برائی سے یاد کرتی ہے اور لعنت ملامت کرتی رہتی ہے یا اس کے عدل و انصاف کی وجہ سے اس کے لیے دست بدعا رہتی ہے۔“باقی احباب نے بھی اسے نصیحتیں کیں۔
اس نے احباب کی باتوں کو فوراََ ہی پلے باندھ لیا تھا۔ سلطنت ساسانیہ میں طلوع ہونے والا اگلا سورج ہرمز بن نرسی کا عدل و انصاف دیکھ رہا تھا۔ اس نے پوری سلطنت میں کمزوروں کی دستگیری اور ظالموں کی سرکوبی کی۔ نئے شہر تعمیر کرائے۔ عدل و انصاف سے کام لے کر بددعا کرنے والے لوگوں کو دعاکرنے پر مجبور کر دیا۔ لوگ اس کی طویل عمر اور صحت مندی کی دعائیں مانگنے لگے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ نہ تو کوئی نیکی عمر بڑھا سکتی ہے اور نہ کوئی گناہ عمر کم کر سکتا ہے۔ یہ تو احکم الحاکمین کی مرضی اور منشا ہے کہ وہ مالک جس کو جتنی عمر عطا کرے۔ ہرمز کی حکومت کے سات سال ہی پورے ہوئے تھے کہ وہ بیمار پڑ گیا۔ اسے دکھ اس بات کا تھا کہ وہ بے اولاد تھا۔ لوگوں نے عبادت گاہوں میں اس کی اولاد کے لیے دعائیں مانگیں اور پھر جلد ہی ایک بیوی نے اسے حمل ٹھہرنے کی خوش خبری سنائی۔ سات سال پانچ ماہ حکومت کرنے کے بعد ہرمز بن نرسی کا بلاوا آگیا۔ مرنے سے پہلے اس نے حمل والے بچے کو بادشاہ بنانے کی وصیت کر دی تھی۔
ہرمز کی وفات کے بعد اس کی حاملہ بیوی نے ایک خوب صورت بچے کو جنم دیا۔ اس کا نام سابور (سابور ثانی)رکھا گیا۔ (اسے شاہ پوربھی لکھتے ہیں یعنی بادشاہ کا بیٹا )جو تاریخ میں سابور ذوالاکتاف کے نام سے مشہور ہوا۔ سابور پیدا ہوتے ہی بادشاہ بن گیا کیوں کہ اس کا باپ ہرمز اس کے بارے وصیت کر گیا تھا۔ ہرمز سے اس کی رعایا خوش تھی اس لیے انھوں نے اس کے بیٹے کی پیدائش کی خوشیاں منائیں۔ یوں فارس کی باگ دوڑ ایک ایسے بچے کے ہاتھ میں آگئی جو پالنے میں جھول رہا تھا۔ نہ تو کسی کو حکم دے سکتا تھا اور نہ کچھ سمجھنے کے قابل تھا۔ سابور کے وزراءنے اس کے والد ہرمز کے احکامات کے مطابق حکومت چلاتے رہے۔ معاملات یونھی چلتے رہے۔ اسی اثناءمیں پڑوسی ممالک کو معلوم ہوا کہ دولت ساسانیہ یعنی فارس کے تخت و تاج کا مالک ایک ایسا بچہ ہے جو ابھی تک ماں کا دودھ پی رہا ہے۔ یہ دیکھ کر ترک اور روم کے حکمرانوں کو فارس پر قبضہ کرنے کی لالچ پیدا ہوئی۔ کیوں کہ حکمران کی کمزوری انھیں فارس پر قبضے کی ترغیب دے رہی تھی۔ ترک اور روم سے بھی زیادہ عرب کے علاقے فارس کے قریب تھے۔ عرب میں باقاعدہ کوئی حکومت موجود نہیں تھی۔ ہر قبیلے کا اپنا سردار اور اپنے قوانین تھے۔ معاش وغیرہ کے ایسے ذرائع نا پید تھے جس سے لوگوں میں خوش حالی آتی۔ زراعت و کھیت باڑی کا انحصار بھی بارشوں پر تھا۔ لوٹ مار اور لڑائی جھگڑے ان کی گھٹی میں پڑے تھے۔ کمزور حکومت نے انھیں بھی متوجہ کیا اور عرب کے سرحدی قبائل فارس میں گھس آئے۔ بنوعبد قیس ،کاظمہ ،بحرین ، بکر بن وائل ، کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد سمندر کے راستے فارس کے سرحدی شہروں جیسے ابرشہر،اردشہر وغیرہ میں داخل ہوئے اور وہاں کے باسیوں کی زراعت ،مویشی اور دیگر مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔ یہ غارت گر عرب کافی عرصہ فارس کے ان علاقوں میں تباہی پھیلاتے رہے۔ انھیں ایرانی افواج کی طرف سے کوئی مزاحمت پیش نہ آئی۔
سابو ر لڑکا ہی تھا جب اس کی عقل مندی وزراءپر ظاہر ہونے لگی۔ ایک دن وہ طیسفون میں موجود شاہی محل میں تھا کہ اسے شور سنائی دیا۔
(سکندر اعظم کے جانشین سلیوکس اوّل نے دجلہ کے کنارے 307ق م میں اپنا دارلحکومت ”سلوکیہ “ آباد کیا تھا۔ 140ق م میں فارسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنا درالحکومت طیسفون آباد کیا۔ عربوں نے سلوکیہ اور طیسفون کو مجموعی طور پر مدائن کہنا شروع کر دیا۔ یہ ساسانیوں کا بھی دارلحکومت رہا۔ 15ھ بمطابق637ءمیں مسلمانوں نے سیدنا فاروق اعظم ؓ کی خلافت میں مدائن فتح کر لیا تھا)
وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ دریائے دجلہ کے پل پر لوگوں کی آمدورفت سے شور مچا ہوا ہے۔ اس نے فوراََ حکم دیا کہ اس پل کے ساتھ ایک اور پل تعمیر کر دیا جائے تاکہ آنے والے لوگوں کے لیے علاحدہ پل ہو اور جانے والے لوگوں کے لیے علاحدہ پل ہو۔ یوں جتنی بھی بھیڑ ہوتی آمدورفت میں رکاوٹ پیش نہ آتی۔ وزراءاس کی تدبیر پر حیران رہ گئے تھے۔ فوراََ ہی حکم کی تعمیل ہوئی اور دوسرے پل کے تعمیر ہوتے ہی بھیڑ ختم ہو گئی۔ لوگوں کی آمدوروفت بغیر کسی رکاوٹ کے آسانی سے ہونے لگی۔
اس کی عقل مندی کی شہرت عوام اور عمال میں پھیل گئی۔ وزراءاور دوسرے عہداداران اس کے پاس معاملات کے تصفیے کے لیے آنے لگے۔ کم عمر ہونے کے باوجود اس کے فیصلے نہایت عمدہ اور بہترین ہوتے تھے۔ اسی اثناءمیں ایک اہم معاملہ پیش آیا کہ سرحدوں پر موجود فوجیوں کا عرصہ زیادہ ہو رہا تھا اور سپاہی اس صورت حال سے بد دل اور تنگ آچکے تھے۔
سابو ر نے اس معاملے پر پریشانی کے اظہار کے بجائے سرحدی محافظوں کو ایک مراسلہ لکھ کر بھجوا دیا۔ جس میں تحریر تھا کہ ….”بلا شک و شبہ تم لوگوں کا سرحدوں پر ٹھہرنا اور عزیز و اقارب سے دور رہنا طویل ہو گیا ہے۔ اور کوئی بھی شخص گھر والوں کی مسلسل دوری برداشت نہیں کر سکتا ،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سرحدوں کو تمھاری ضرورت ہے۔ اگر تم لوگوں میں سے کوئی چھٹی آنا چاہے تو اسے خوشی سے گھر آنے کی اجازت دی جائے گی اور جو صبر سے کا م لے کر کچھ عرصہ مزید گزار ے گا اس کی عزت و اکرام میں اضافہ ہو گا۔ اور جب اس کے ساتھی چھٹی گزار کر واپس آئیں گے تو اسے گھر بھیج دیا جائے گا۔“ اس نے یہ حکم بھی دیا کہ جو لوگ چھٹی آئیں ان کی خالی جگہ پوری کرنے کے لیے عقبی افواج کو بھیجا جائے۔ کیوں کہ پہلی ترجیح سرحدوں کی حفاظت ہے۔
وزراءاس کا حکم سن کر حیران رہ گئے تھے۔ فوجی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کے باوجود سابور نے جو تجویز پیش کی تھی وہ ایک تجربہ کار سپہ سالار ہی دے سکتا تھا۔ اس کی ذہانت کی شہرت اس کی افواج تک بھی پہنچ گئی تھی۔ وہ اپنے بادشاہ کی حسنِ تدبیر پر شادمان اور خوش تھے۔
لڑکپن ہی سے ارکان حکومت نے اس کی جنگی تربیت اور لڑائی بھڑائی کے داﺅ پیچ سکھانے کا اہتمام کر دیا تھا۔ ہر فن کے مختلف اتالیق مقرر کر دیے گئے تھے۔
جب سابو ر کی عمر کے سولہ سال پورے ہوئے اور وہ مکمل مرد بن گیا تبھی ایک دن اس نے فوجی افسران اوراشراف مملکت کو جمع کیا اور ان کے سامنے ایک لمبی تقریر کی جس میں سب سے پہلے تو اپنے آباﺅ و اجداد پر ربّ کے احسانات و انعامات کا ذکر کیا۔ پھر اپنے اجداد کے کارنامے اور ان کے قوم کی بھلائی کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔ پھر اپنی کم عمری کی وجہ سے جو معاملات ڈھیلے پڑ گئے تھے اور لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ان کا بیان کیا ،بیرونی طاقتوں کی لشکر کشی اور فساد کا ذکر کر کے ان کی سرکوبی کا ارادہ ظاہر کیا اور اعلان کیا کہ وہ جلد ہی دشمنوں کی سرکوبی کے لیے ایک ہزار جنگجوﺅں کے ساتھ دارلخلافہ سے نکلے گا۔“
لوگوں نے اس کی تقریر کو نہایت پسند کیا اشرافِ مملکت نے اس کا شکریہ ادا کیا اور درخواست کی کہ وہ خود جنگ پر جانے کے بجائے لشکر کو روانہ کر دے۔ لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اور ایک ہزار بہترین جنگ جوﺅں کا لشکر اکٹھا کر کے قبایل عرب پر جا پڑا۔ اس نے اپنے ہمراہ جانے والے شہسواروں کو حکم دیا کہ وہ کسی پر بھی ترس نہ کھائیں اور نہ مال غنیمت کی طرف توجہ کریں۔ عرب اب تک بلاد فارس میں موجود تھے۔ سابور ان کی بے خبری میں ان پر حملہ آور ہوا۔ یہاں تک کہ سلطنت ساسانیہ میں موجود تمام عربوں کو قتل کر کے خلیج بحرین کو عبور کیا اورنزدیکی قبایل پر حملہ آور ہوا ،وہاں سے بنو عبد قیس ،تمیم اور پھر بکر بن وائل کے قبائل کو برباد کرتا ہوامقام رمال جا پہنچا۔ وہاں سے یمامہ آکر ان کے باسیوں کا بھی وہی حشر کیا۔ سابور جہاں سے گزرتا اس علاقے میں موجود پانی کے کنوﺅں کو مٹی سے بھروا دیتا۔ اس کے بعدوہ شام اور فارس کے درمیان موجود عرب قبائل پر جا پڑا اور انھیں بھی تہہ تیغ کر دیا۔ سابور جنگ میں پکڑے جانے والے عربوں کے دونوںاکتاف (بازو) کندھوں سے کٹوا دیتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا نام سابور ذوالاکتاف پڑ گیا۔
بحرین کے سردار عمرو بن تمیم کو گرفتار کر کے سابور کے پاس لایا گیا ،اس وقت عمروبن تمیم کی عمر تین سو برس ہو چکی تھی۔
سابور نے اسے کہا۔ ”میں تمام عربوں کو قتل کر دوں گا کہ تم لوگوں نے اتنا فساد پھیلایا ہے لوٹ مار و قتل و غارت کا طوفان برپا کیے رکھا ہے۔ اور تم سوچتے ہو کہ تمام جہاں پر تمھاری حکومت ہے۔ میں کسی مدعی حکومت کو زندہ نہیں رہنے دوں گا۔“
عمرو بن تمیم نے جواب دیا۔ ”بادشاہ سلامت ،اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں تو انھیں قتل و غارت سے نہیں روکا جا سکتا تھا۔ مستحق اپنا حق مانگنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ اور اگر وہ جھوٹے ہیں تو تمھیں یوں بھی ان پر قبضہ مل گیا ہے انھیں چھوڑ دے ہو سکتا ہے تیری آئندہ نسل ان سے فائدہ اٹھائے۔ بادشاہت کے لیے رعایا کی ضرورت ہوتی ہے اور جب رعایا نہیں رہے گی تو آپ کس پر حکمرانی کریں گے۔“
سابور کو عمرو بن تمیم کے جواب پر رحم آگیا اور اس نے قتل و غارت سے ہاتھ روک لیا۔ اس کے بعد اس نے بنی تغلب کے لوگوں کو جو بحرین اور خط سے آئے ہوئے تھے انھیں دارین میں جگہ دی ، بنی تمیم کے لوگوں کو ہجر میں آباد کیا ،بکر بن وائل ،عبدالقیس کو کرمان میں ٹھہرایا اور بنو حنظلہ کو اہواز میں رہنے کی جگہ دی۔ نئے شہر انبار (اس کوبرج سابوربھی کہتے ہیں )،سوس ،کرخ وغیرہ آباد کیے۔ اورعظیم کامیابیاں سمیٹ کر واپس لوٹا۔
واپس آکر اس نے زیادہ عرصہ آرام نہ کیا اور روم پر چڑھائی کر دی۔ اور سرحدی علاقوں کو فتح کیا۔ قلعوں کا محاصرہ کر کے مسمار کیا۔ اس وقت روم پر قسطنطین کی حکومت تھی۔ اسی بادشاہ نے قسطنطیہ شہر کو آباد کیا تھا۔ اور رومی بادشاہوں میں پہلا بادشاہ ہے جس نے عیسائی مذہب قبول کیا تھا۔ سابور کی فتوحات نے قسطنطین کو صلح کرنے پر مجبور کر دیا۔ صلح کے وفد کو سابور نے عزت افزائی دی اور جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ قسطنطین نے 337ءمیں وفات پائی۔ اس نے سلطنت اپنے تین بیٹوں میں بانٹ دی تھی کچھ علاقے اپنے دو بھتیجوں کو بھی دیے۔ بڑے بیٹے نے دونوں چچا زادوں کو قتل کرا کے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد بھائیوں کی آپس میں لڑائیاں شروع ہو گئیں ان لڑائیوں میں قسطنطین ثانی کامیاب ہوا۔ کچھ تاریخ دانوں نے اس کانام قسطنطش بھی لکھا ہے۔ قسطنطین ثانی کی وفات کے بعد اس کا جانشین الیانوس تخت پر بیٹھا۔ (اسے جولین مرتد کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے )وہ قدیم رومی مذہب کا پیروکار تھا ، لیکن اپنا مذہب چھپا کر رکھتا تھا۔ حکمران بنتے ہی اس نے نہ صرف اپنے مذہب کا اظہار کر دیا بلکہ پوری رومی مملکت کو پرانے مذہب پر لوٹا دیا۔ گرجوں کو مسمار کر دیا عیسائی راہبوں اور مذہبی پیشواﺅں کو قتل کرا دیا۔ اور فارس پر حملے کے لیے لشکر تیار کرنے لگا۔ (سابور ذوالاکتاف کے بارے کچھ تاریخ دان یہ بھی لکھتے ہیں کہ بحرین ،یمامہ وغیرہ کے عربوں کا بے دریغ قتل کرنے کے بعد سابور روم کی سرحد پر چلا گیااور وہاں جا کر اپنی افواج کو واپس بھیج کر خود بھیس تبدیل کرکے روم میں جا گھسا اور ایک عرصہ تک وہیں گھومتا رہا۔ اسی اثناءمیں قیصر روم کا ولیمہ تھا یہ بھی وہاں چلا گیا۔ قیصر روم نے اسے پہچان کر گرفتار کر لیا۔ قیصر کے حکم سے اسے بیل کی کھال میں بند کر دیاگیا اور قیصر اسے اپنے ساتھ پھراتا رہا۔ جب قیصر نے بلاد فارس پر حملہ کیا دوران لڑائی سابور کی نگرانی پر متعین محافظ غافل ہوئے اور سابور نے دوسرے قیدیوں کو کہا کہ بیل کی کھال پر زیتون کا تیل گرم کر کے ڈالیں چنانچہ انھوں نے ایسا کیا تو وہ کھال نرم ہو کر اس کے بدن سے اتر گئی ،پس سابور فوراََ اپنے شہر جا پہنچا اور محافظوں کو تعارف کرا کے شہر میں گھس گیا اور اپنی افواج کے ساتھ قیصر روم کی افواج پر شب خون مار کر اسے گرفتار کر لیا۔ اور کچھ عرصہ قیدی کے طور پر اسے اپنے ہمراہ پھراتا رہا اور پھر اس کی ناک اور ایڑھی کاٹ کر اسے گدھے پر بٹھا کر رومیوں کے پاس واپس بھیج دیا۔ لیکن یہ واقعات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ابن خلدون نے بھی انھیں جھوٹ قرار دیا ہے )
٭٭٭
شریم دس شہ سواروں کے ہمراہ یمامہ پہنچا۔ راستے میں انھیں دو دن لگ گئے تھے۔ جاتے ہی وہ عرّاف الیمامہ کے سامنے حاضر ہو گیا۔ نذرانہ پیش کر کے وہ مطمح نظر بیان کرنے لگا۔
”اے یمامہ کے معزز ترین بزرگ ،میرے بھائی اوربنو جساسہ کے سردار شریک بن ثمامہ کے قتل کو کئی چاند گزر چکے ہیں اور قاتل ہم سے پوشیدہ ہیں۔ ان کے قافلہ پر ظالم حملہ آور ہوئے تھے ، جو ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔ صدیٰ ایک تسلسل سے ان کی قبر میں آوازیں دے رہا ہے اور ہم بے بس ہیں۔“
یمامہ کے عمر رسیدہ عرّاف نے گہرا سانس لے کر ایک تنکا اٹھایا اور ریت پر لکیریں کھینچنے لگا۔ چند لمحے اسی شغل میں مشغول رہنے کے بعد وہ آنکھیں بند کر کے گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ شریم باادب بیٹھا رہا۔ وہ گھڑی بھر آنکھیں بند کر کے زیر لب کچھ بڑبڑاتا رہا۔ اور پھر آنکھیں کھولے بغیر اس کی ڈراﺅنی آواز ابھری۔
”شب کی تاریکی ہر طرف پھیل چکی ہے ،اس سے مقابلہ کرنے چاند بے نقاب ہوا ،خیموں کے درمیان بھڑکتا آلاﺅبجھنے کو ہے۔ گھڑسواروں نے خیموں کو گھیرے میں لے لیا ،ان کے ہاتھ میں نسر دیوتا کی شبیہ نظر آرہی ہے۔ سوئے ہوﺅ ں سے بہت کم زندہ بچے ہیں ،ان کے سردار کے چہرے پر لمبا زخم ہے جو بنو جساسہ کی قابل احترام خاتون کے ہاتھ سے لگا ہے ،وہ خاتون جس نے بنو جساسہ کے سردار کو جنم دیا ہے ،وہ آخری سانس لے رہی ہے ،قاتلوں میں سے ایک کو سردار نے رغال کے نام سے پکارا ہے ،وہ قیدیوں کو الرّملہ (صحراالربع الخالی)کی طرف گھسیٹ کر لے جا رہے ہیں ،وہاں خیموں کا ایک شہر بسا ہے ، وہ الرّملہ کے اندر ہیں ،وہ وہیں رہتے ہیں۔ وہ ظالم ہیں ان کے پاس بہت سارے جنگجو ہیں….بنو جساسہ کا سردار بدلہ لے گا ….مگر ابھی وقت ہے انتظار کرو ورنہ نقصان اٹھاﺅ گے ….انتظار کرو….“
شریم نے بے ساختہ پوچھا۔ ”اے میرے مالک ،کتنا انتظار ….؟“
”جب تک عزیٰ راستا ہموار نہیں کرتی ….“آنکھیں بند رکھتے ہوئے اس نے ہاتھ کے اشارے سے شریم کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔ اوروہ سر جھکائے عرّاف الیمامہ کے مکان سے نکل آیا۔
جونھی وہ بیت ِعراف الیمامہ سے باہر آیااس کے ایک ساتھی نے پوچھا۔ ”ربّ الیمامہ نے کیا کہا ہے ؟“ (وہ عراف اور کاہن کوتعظیماََ ربّ یعنی آقا و مالک کہہ کر بھی بلاتے تھے )
شریم نے تفصیل بتانے لگا۔ اس کی بات ختم ہوتے ہی حاجب بن قارب جلدی بولا۔ ”میں نے کہا تھا نا کہ حملہ کرنے والوں نے نسر دیوتا کی شبیہہ اٹھائی ہوئے تھی۔“
جریح بن ربیع بولا۔ ”نسر دیوتا کو تو ملک یمن میں نجران کے پاس قبیلہ ذی الکلاع کے لوگ پوجتے ہیں۔ اور اس قبیلہ کے لوگ قزاق نہیں ہیں۔“
شریم نے کہا۔ ”عراف الیمامہ کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔ اس کی تصدیق ابن قارب بھی کر رہا ہے جو شب ظلمت کا شاہد ہے۔“
”میرا مطلب ربّ الیمامہ کو جھٹلانا نہیں تھا۔“جریح نے سرعت سے صفائی پیش کی۔
خزاعہ بن حرام نے شریم کو مشورہ دیا۔ ”سردار کا بھائی اگر بنوذئب کا رستا ناپنے کو وقت کا ضیاع نہ سمجھے تو نسر کے پجاریوں کے بارے قابلِ اطمینان معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔“
شریم مستفسر ہوا۔ ”تم کاہنِ بنو ذئب سے مدد لینا چاہتے ہو۔“
”ہاں۔“خزاعہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”بنو ذئب کے کاہن سطیح کی عمر سو سال سے اوپر ہے اور اس سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے۔“(کاہنوں میں شِق اور سطیح کے نام بہت مشہور ہیں۔ دونوں کا شمار عرب کے طویل العمر لوگوں میں ہوتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے تین سو برس کی عمر پائی۔ اور ولادت نبویﷺ کے بعد وفات پائی۔ شِق کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ نصف انسان تھا۔ یعنی اس کی ایک آنکھ ،ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ تھی۔ جبکہ سطیح کے جسم میں سر کے سوا کوئی ہڈی نہیں تھی۔ اسے کپڑے یا چٹائی کی طرح تہہ کیا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے بیٹھنا ممکن نہیں تھا لیکن جب جوش غضب میں تن جاتا تو بیٹھ جاتا تھا۔ سطیح کا مطلب ہی ”بچھا ہوا“ یا ”چت “ ہے اس کا اصل نام ربیع تھا۔ بنو ذئب سے تعلق کی وجہ سے اسے ”الذّئبی“بھی کہا جاتا تھا۔ اواخر عمر میں بعض خوابوں کی تعبیر دیتے ہوئے شِق اور سطیح دونوں نے نبی کریمﷺکی آمد کی بھی خبر دی تھی )
شریم نے نفی میں سر ہلایا۔ ”نہیں میں عرّاف الیمامہ کے حکم کی تعمیل کرنا پسند کروں گا۔ اور انھوں نے انتظار کرنے کا کہا ہے۔“گھوڑے پر سوار ہو کر اس نے واپسی کا قصد کیا۔ یمامہ میں ٹھہرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
راستے کی مشکلات اور صعوبتوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے وہ دو دن بعد بنو جساسہ پہنے جہاں بڑی شدت سے ان کی واپسی کا انتظار کیا جا رہا تھا۔
” انتظار کی کوئی حد ہوتی ہے۔“بھائی کی بات سنتے ہی شیبہ نے بے چینی ظاہر کی۔
شریم نے کہا۔ ”یہ سوال میں نے پوچھا تھا ،جواب ملا جب تک عزیٰ منشا نہیں ہوتی۔“
شیبہ نے کہا۔ ”یہ کوئی جواب نہ ہوا۔“
شریم جھلاتا ہوا بولا۔ ”میں اعرّاف الیمامہ سے بحث نہیں کر سکتا تھا۔ اور جب انھوں نے انتظار کا کہا ہے تو ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔“
شیبہ نے پوچھا۔ ”ہمیں عزیٰ کی منشا کے بارے کون مطلع کرے گا ؟“
صامت بن منبہ نے کہا۔ ”عزیٰ لازوال قوتوں کی مالک ہے ،جب اس کی منشا ہو گی تو دشمن خود بہ خود ہمارے سامنے آ جائے گا۔“
سردارشیبہ طنزیہ لہجے میں بولا۔ ”نسر کے پچاری کہیں چکی کی گڑگڑاہٹ ہی نہ سنتے رہیں اور آٹا انھیں کہیں دکھائی نہ دے۔“۔ (یہ عربوں کی مشہور کہاوت ہے کہ چکی کی گڑگڑاہٹ تو سنتا ہوں مگر آٹا دکھائی نہیں دیتا۔ یعنی کوئی وعدہ یا دھمکی تو دے مگر کچھ کر کے نہ دکھائے )

”مجھے عرّاف الیمامہ پر بھروسا ہے۔ اور انتظار میں عافیت ہے۔“شریم اپنی بات سے ہٹنے پر تیار نہیں تھا۔
شیبہ حاضرین محفل پر افسوس بھری نگاہ ڈالتا ہوا باہر نکل گیا۔
٭٭٭
عریسہ بنت منظرکو بنو نسر میں اہم مقام مل گیا تھا۔ اس کی موجودی نے بنو نسرکو دایہ کی ضرورت سے بے فکر کر دیا تھا۔ سردار کے حکم سے اس کے لیے ایک علاحدہ خیمہ لگ گیا تھا۔ وہ جبلہ کی چہیتی بیوی جندلہ کی منظور نظر بن گئی تھی۔ اس لیے اب کوئی ناپسندیدہ مرد اس کے قریب نہیں آسکتا تھا۔ جندلہ کی بیٹی قُتیلہ بنت جبلہ اس سے زیادہ عریسہ کی گود میں پل رہی تھی۔ وہ عریسہ کو ماں ہی کہتی تھی۔ عریسہ کو بھی اس سے عجیب قسم کی انسیت تھی۔ اور قتیلہ ہی کی وجہ سے اسے بنو نسر میں رہنا آسان لگنے لگا تھا۔
وقت کبھی رکتا نہیں ،سستاتا نہیں ،دم نہیں لیتا ،اس کی رفتار کبھی مدہم نہیں ہوتی ، کبھی پیچھے نہیں پلٹا سیلابی پانی کے ریلے کی طرح آگے بڑھتے ہوئے رستے کی ہر چیز میں اپنے گزرنے کے نشان چھوڑتا جاتا ہے۔
قُتیلہ نے بچپن سے لڑکپن کی حدود میں قدم رکھا ،وہ باپ کے مزاج کا عکس تھی۔ وہی بربریت، وحشت ،خون خواری ،نڈر پن اوردلیری اس کے خون میں رچی تھی۔ لڑکی کم اور لڑکا زیادہ تھی۔ اس کے سارے شوق مردانہ تھے۔ گھڑسواری ،تیر اندازی اور تلوار بازی میں وہ کسی کہنہ سال جنگجو سے کم نہیں تھی۔ ضدی ،اکھڑ مزاج ،جھگڑالواوربے رحم۔ صرف عریسہ ایسی تھی جس کی بات پر وہ کان دھر لیتی۔ جب اس نے عمر کی تیرھویں سیڑھی پر قدم رکھا توجبلہ اسے لوٹ مار کی وارداتوں میں ساتھ رکھنے لگا تھا۔
٭٭٭
رات دو پہر بیت چکی تھی۔ چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ریت کے بڑے ٹیلوں کے درمیان خیموں کا چھوٹا سا شہر بسا تھا۔ خیمے کسی خاص ترتیب سے نصب نہیں تھے ،جس کو جو جگہ مناسب لگی تھی اس نے خیمہ گاڑ لیا تھا۔ البتہ اس بے ترتیبی میں ایک بات کا انھوں نے خیال رکھا تھا کہ خٰیموں کے درمیان میں اتنی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی جہاں قافلے کے تمام جانوروں سما گئے تھے۔ یوں کہ جانوروں کو خیموں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ یہ ایک بڑا قافلہ تھا۔
خیموں کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی کناروں پر آگ کے آلاﺅ روشن تھے۔ دونوں جگہوں پردو دو آدمی آلاﺅ کو روشن کرنے پر مامور تھے۔ آگ پر گاہے گاہے لکڑیاں ڈال کر وہ شعلوں کو تیز کرتے اور پھر گپیں ہانکنے لگتے۔
خیموں کے شمال مغربی جانب ریت کے بڑے ٹیلے پر چودہ سال کی لڑکی اوندھے منھ لیٹی آلاﺅ روشن کرنے والے آدمیوں کو گھور رہی تھی۔ ان میں ایک آدمی کارخ اسی ٹیلے کی جانب تھا لیکن وہ اپنے سامنے بیٹھے ساتھی کی جانب متوجہ تھا جس کی اس ٹیلے کی جانب پیٹھ تھی۔ لڑکی کے ساتھ بھاری تن و توش کا ایک مرد بھی لیٹا تھا اس کی نگاہیں لڑکی کے چہرے پر مرکوز تھیں۔ لمحہ بھر بعد اس نے سرگوشی میں پوچھا۔
”باباکی جان ،کون سا؟“
”بابا آپ جانتے ہیں قُتیلہ نے کبھی پیٹھ پر وار نہیں کیا ،سوائے اس کے جو بھاگ کر جان بچانے کی کوشش میں ہو۔“
”ٹھیک ہے ،تیا ر ہو جاﺅ۔ اشارہ ملنے والا ہے۔“جبلہ بن کنانہ نے کمان میں تیر ڈال کر چلہ پیچھے کو کھینچا۔ اس نے اپنی جانب پیٹھ کیے ہوئے شخص پر نشانہ سادھا تھا۔ کم سن لڑکی قُتیلہ نے کمان میں تیر ڈال کر کھڑے ہو کر چلّہ کھینچ لیا تھا۔ لمحہ بھر وہ اپنے اہداف کی طرف متوجہ رہے اسی اثناءمیں انھیں خیموں کے جنوب مشرقی کونے سے الو کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ الاﺅ کے گرد بیٹھے آدمی اس جانب متوجہ ہو گئے تھے۔ اسی وقت باپ، بیٹی نے ایک ساتھ تیر چھوڑ دیے تھے۔ لڑکی کا تیر ہدف کی گردن پر لگا تھا جبکہ جبلہ بن کنانہ کا تیر ہدف کی کھوپڑی میں گھس کر ماتھے سے باہر نکلا تھا۔ دونوں کو چیخنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ یہی حادثہ جنوب مشرقی پہرے داروں کو بھی پیش آچکا تھا۔
جبلہ کے کھڑا ہوتے ہی دائیں بائیں ٹیلوں کے عقب میں چھپے اس کے آدمی خیموں کی طرف دوڑ پڑے۔ سب سے آگے جبلہ اور قُتَیلہ بنت جبلہ تھے۔ وہ چھوٹی سی لڑکی لومڑ ی کی طرح ریت پر دوڑتے ہوئے خیموں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ باپ بیٹی پہلے خیمے میں داخل ہوئے جبلہ کے ہاتھ میں برچھی جب کہ قُتَیلہ نے تلوار پکڑی ہوئی تھی۔ خیموں میں لیٹے تین آدمیوں کو پتا ہی نہیں چلا تھا کہ کیا ہوا۔ دو کی گردنیں دھڑ سے الگ ہو گئیں جبکہ تیسرے کے ماتھے سے جبلہ کی برچھی آر پار ہو گئی تھی۔ باقی خیموں میں بھی خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ دو تین خیموں سے چیخ کی آواز بلند ہوئی اور خیموں میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ جیالوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ قزاق تیار تھے۔ بڑے قافلے کی خبر پا کر جبلہ نے اپنے ساتھ آدمی بھی زیادہ رکھے تھے۔
قتل و غارت کایہ کھیل تھوڑی دیر جاری رہا اورپھر جبلہ کے حکم پر قافلے میں زندہ بچ جانے والے مرد و زن کو اکھٹا کیا جانے لگا۔ پانچ جوان عورتیں اور پچیس مرد زندہ ہاتھ لگے تھے۔ تین مرد زخمی تھے۔ جبلہ بن کنانہ نے انھیں قتل کرنے کا اشارہ کیا۔ قُتَیلہ جلدی سے بولی۔
”نہیں بابا،انھیں ساتھ لے جائیں گے۔ صحت مند غلاموں کو ضایع کرنا کہاں عقل مندی ہے۔“
جبلہ نے بیٹی کی طرف دیکھا اور مسکرا کر رہ گیا تھا۔
”چھوڑ دو۔“اس نے تلوار سونتے اربد بن قیس کو پیچھے ہٹنے کا اشار کیا۔
قیدیوں کے چہرے پر اس نرم دل لڑکی کے لیے شکر گزاری کے اثرات نمودار ہوئے۔ ان بے چاروں کو یہ علم نہیں تھا کہ قُتَیلہ نے کیوں ان کے زندہ چھوڑ دینے کی سفارش کی تھی۔
جبلہ نے سامان سمیٹنے کا حکم دیا۔ تمام قیدیوں کو کام پر لگا کر قزاق ان کی نگرانی کرنے لگے۔
سورج مشرق سے سر ابھار رہا تھا جب وہ سب کچھ سمیٹ کر جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ قیدی عورتوں اور تین زخمیوں کو اونٹ پر بٹھا کر وہ چل پڑے۔ خیموں کی جگہ اب چاروں طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ مرد تو کیا ان ظالموں نے عورتوں کے مردہ بدن سے بھی لباس اتار لیے تھے۔
٭٭٭
”اگرخنجر پھینکتے وقت تمھارا ہاتھ چہرے سے پیچھے جائے گا تو نشانہ ضرور خطا ہو گا۔“ سکندر ،یشکر کو خنجر پھینکنے کی مشق کرا رہا تھا۔ پندرہ سالہ یشکر گزشتہ چھے سات سال سے تربیت کے سخت مراحل سے گزر رہا تھا۔ سکندر اپنی غیرموجودی میں مختلف فنون کے اتالیق اس کی تربیت پر مامور کر جاتا۔ یشکر کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے سکندر کو امید ہو چلی تھی کہ وہ اس کا صحیح جانشین ثابت ہو گا۔ دوپہر ڈھلے یشکر نے تھک کر مزید مشق سے معذوری ظاہر کی تبھی اس کے کندھوں پرایک شہتیر سے کاٹا ہوا چھے فٹ لمبا لکڑی کا ٹکڑا رکھ کر سکندر نے کہا۔

”میدان کا چکر لگا کر آﺅ تاکہ آرام کریں۔“
تربیتی میدان کافی وسیع و عریض تھا۔ یشکر کی واپسی گھڑی بھربعد ہی ہو سکی تھی۔ (ایک گھڑی قریباََ پچیس منٹ کی ہوتی ہے )سکندر کے قریب پہنچتے ہی اس نے کندھے پر اٹھایا شہتیر کا ٹکڑا نیچے پھینکا اور ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرنے لگا۔
سکندر اچک کر گھوڑے پر بیٹھا۔ ”گھر پہلے پہنچنے والا دوسرے سے ایک شرط منوا سکتا ہے۔“
”پدرِ محترم یہ زیادتی ہے۔“یشکر نے احتجاج کیا۔ ”آپ پھر سے پہلے سے گھوڑے پر سوار ہو گئے ہیں۔“
”میں بوڑھا بھی تو ہوں۔“سکندر نے قہقہہ لگا کر گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ یشکر کا گھوڑابھی سکندر نے تیار کر دیا تھا۔ یشکر بھاگ کر گھوڑے کے قریب ہوا۔ اس کے زین پر بیٹھنے تک سکندر نے فرلانگ بھر کا فاصلہ طے کر لیا تھا۔ یشکر نے لگام کو جھٹکا دیتے ہوئے گھوڑے کو دوڑنے کا اشارہ کیا ،سدھایا ہوا گھوڑا سکندر کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ تربیتی میدان کے دروازے پر متعین پہرے دار وں نے انھیں دور سے آتے دیکھ کر دروازہ کھول دیا تھا۔ یشکر جانتا تھا کہ ہارنے کی صورت میں اسے سہ پہر کو دوبارہ تربیتی میدان میں آنا پڑے گا۔ سکندر اس کے ہارنے پر یہی شرط پیش کیا کرتاتھا۔ البتہ یشکر کبھی جیت نہیں سکا تھا کہ کچھ منوانے کا سوچتا۔
پوری کوشش کے باوجود یشکر ،سکندر اور اپنے درمیان موجود فرلانگ بھر کی دوری کو ختم نہیں کر پایا تھا۔ حویلی کے سامنے اتر کر سکندر پیچھے دیکھنے لگا۔ داخلی دروازے پر کھڑے پہرے دار نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے گھوڑے کی لگام تھام لی تھی۔ یشکر کے قریب پہنچنے پر وہ مسکرایا۔
”جوان، پھر ہار گئے نا بوڑھے سے۔“
یشکر نے منھ بنایا۔ ”اگر اتنے ہی بوڑھے ہوتے تو بادشاہ سلامت نے آپ کو ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا ہوتا۔“
”تمھاری تربیت کی تکمیل کا انتظار ہے۔“
”آج کل آپ پہلے بھاگ پڑتے ہیں۔ اصولاََ تو دوڑ اکھٹے ہی شروع ہونا چاہیے۔“
سکندر مسکرایا۔ ”مجھے ہارنا پسند نہیں ہے۔“
”نا انصافی سے جیتنا ہار کے مترادف ہوتا ہے۔“
”نا انصافی کیسی۔“سکندر نے اسے چھیڑا۔ ”کمزور کو اتنی چھوٹ تو ملنا چاہیے۔“
وہ جواب دیے بغیر حویلی میں داخل ہو گیا۔ اقلیمہ نے مسکرا کر یشکر کو دیکھا۔
”پھر ہار گئے۔“
وہ تیقن سے بولا۔ ”جس دن فریقین نے اکٹھے گھوڑے بھگائے ،نتیجہ کوئی اور ہو گا۔“
سکندر نے قہقہہ لگایا۔ ”جوان ،تم شرط ہار چکے ہو ،سہ پہر کو تیار رہنا تیر اندازی کی مشق ہو گی۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: