Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 30

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 30

–**–**–

”چھوڑو مجھے ….“بادیہ کا غصہ قابل دید تھا۔
” بات تو سنو۔“یشکر نے دونوں بازوﺅں سے پکڑ کر مچلتی ہوئی بادیہ کا رخ اپنی جانب موڑا۔
بادیہ طیش سے چلائی۔”یشکر،سردار زادی آپ کو حکم دے رہی ہے کہ اس عورت کی گردن اتار دو۔“
”اگر یہ حکم سردار زادی،یشکر کو اس کی اپنی جان کے لیے بھی دے تو فروگزاشت نہیں ہو گی لیکن ایک عرض تو سن لو۔“یشکر کا لہجہ لجاجت سے پُر تھا۔جبکہ خلیسہ کا چہرہ خوف سے زرد پڑ گیا تھا۔
مجھے کچھ نہیں سننا۔“نامعلوم بادیہ کس بات پر اتنی تپی ہوئی تھی۔
”مجھے اس عورت سے صرف ایک سوال پوچھنے دو ۔“اس کے بازو آزاد کرتے ہوئے یشکر نے دونوں ہاتھوں میں اس کا موہنا چہرہ تھام لیا تھا جو غصے کی شدت سے لال ہو رہا تھا۔
گہرا سانس لیتے ہوئے بادیہ نے اپنے ابال کو لمحہ بھر کے لیے قابو کیا۔اس کی خاموشی کو غنیمت سمجھتے ہوئے یشکر خلیسہ کی جانب متوجہ ہوا۔
”کتنے بچے ہیں تمھارے؟“
خلیسہ ہکلائی۔”بب….بس ایک ہی ہے۔ڈیڑھ سال کاہے،اب تک دودھ پی رہا ہے۔“
یشکر نے بادیہ کو دیکھا،اس نے چہرہ نیچے جھکا لیا تھا۔
اس کی ٹھوڑی کو شہادت کی انگلی سے نرمی سے چھوتے ہوئے یشکر نے اس کا سر آہستہ سے اوپر کیا۔
”اب حکم دہرائیں سردارزادی،قتل کر دوں ؟“
بادیہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی نمودار ہوئی۔ سر کو دائیں بائیں جنبش دیتے ہوئے اس نے یشکر کے سینے پر سر رکھ دیاتھا۔
”مجھے خیال نہیں آیا تھا۔“اس نے جیسے کراہتے ہوئے اعتراف کیا ۔
”کیا ہو گیاتھا میری سردارزادی کو؟“یشکر نے اس کے جسم کے گردبازوﺅں کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے پوچھا۔”ڈر لگ گیاتھا کہ اس کی پیشکش مان لوں گا۔“
”نہیں۔“بادیہ نے سسکی بھری۔ ”اس بد بخت نے میرے یشکر کو زہر پلانا چاہا۔“
”یہ عورت ہے اور لازماََ شوہر کے کہنے پر ایسا کرتی ہو گی۔اگر اس کے برعکس بھی ہے تو اس کے بچے کا کوئی قصور نہیں ہے۔اس معصوم کے ساتھ اتنا ظلم مجھے گوارا نہیں تھا۔“
”آپ بہت اچھے ہیں،مجھے اتنے بڑے ظلم سے بچا لیا ورنہ میں ساری زندگی کے پچھتاوے خرید نے پر تلی تھی۔“
” تھوڑا آرام کرو میں تمھارے لیے اچھے مشروب کا بندوبست کرتا ہوں۔“یشکر نے جھک کر اسے دونوں بازوﺅں میں اٹھایااور چٹائی پر لا کر بٹھا دیا۔بادیہ کے چہرے پر اپنی خوش قسمتی کاغرور پھیل گیا تھا۔عورت کی ترجیحات ہر زمانے میں ایک سی رہی ہیں۔اور ایک عورت کی سب سے بڑی خواہش ہی یہی ہوتی ہے کہ شوہر اس کی نازبرداریوں میں لگا رہے۔
بادیہ نے اندیشہ ظاہر کیا۔”پتا نہیں انھوں نے کس کس مشروب میں زہر کی ملاوٹ کی ہو گی۔“
”یشکر کے ہوتے سردارزادی کو یہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
بادیہ نے زہریلی شراب کا تصور کرتے ہوئے خوف سے پھریری لی اور بے یقینی سے مستفسر ہوئی۔”سچ میں آپ پر زہر کا اثر نہیں ہوتا؟“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ اس کا گال تھپتھپاتا ہوا بولا۔”لمبی کہانی ہے،تفصیل بعد میں سن لینا۔“
بادیہ کے ہونٹوں پر دل آویز تبسم نمودار ہوا۔”ٹھیک ہے۔“
یشکر نے صاعقہ کو اعمیٰ کے لباس سے رگڑ کر صاف کیا اور نیام میں ڈال کر خلیسہ کو خیمے کی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا۔وہ خوف سے منجمد اب تک وہیں کھڑی تھی۔اگر یشکر نے بروقت بادیہ کو نہ پکڑا ہوتا تو اب تک اس کی لاش بھی ٹھنڈی ہو چکی ہوتی۔
٭٭٭
قُتیلہ کا گھوڑا سب سے آگے تھا۔ہر مشکل کام میں وہ سامنے رہنا ہی پسند کرتی تھی۔ امریل اور ملکان اس کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے ۔ انھوں نے کبھی بھی اپنا گھوڑا اس سے آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی سبقت لے جانے کی کوشش کو وہ آسانی سے ناکام بنا سکتی تھی۔وادی کا چوتھا موڑ مڑنے کے بجائے وہ آگے بڑھتے گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک ایسے ٹیلے پر کھڑے تھے جو ارد گرد کے ٹیلوں سے نمایاں بلند تھا۔قُتیلہ نے ٹیلے کی بلندی پر گھوڑا روک کر شمال کی جانب رخ موڑا۔شمالی تارے کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے بائیں جانب گردن گھمائی۔شعری یمانیہ نصف سے زیادہ سفر طے کر چکا تھا لیکن اب تک مقام غروب پر نہیں پہنچا تھا۔اس نے شعریٰ یمانیہ کے جائے غروب کا اندازہ لگاتے ہوئے بایاں ہاتھ اس جانب سیدھا کیا،جبکہ اس کا دایاں ہاتھ شمالی تارے کی سمت پھیلا تھا۔اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیانی فاصلے کے نصف کا اندازہ کرتے ہوئے اس نے اسی رخ آسمان پر چمکتے ایک اورروشن ستارے کا انتخاب کیا اور امریل کو مخاطب ہوئی۔”اس طرف۔“
امریل سر ہلاتے ہوئے مودّبانہ لہجے میں بولا۔”جی مالکن۔“
قُتیلہ نے گھوڑا آگے بڑھا دیا۔لیکن ہر تین چار فرلانگ کے سفر کے بعد وہ سمت درست رکھنے کے لیے چنے ہوئے ستارے کی جگہ ایک اور ستارہ چن لیتی۔کیوں کہ زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ستارے بھی مشرق سے طلوع ہو کر مغر ب کی جانب سفر کرتے نظر آتے ہیں۔اس لیے کسی مخصوص سمت کی جانب بڑھتے ہوئے مسلسل ایک ستارے کو سمت کی درستی کے لیے نہیں چنا جا سکتا ہے۔نصف گھڑی کی مدت میں پہلے ستارے کے عقب میں مناسب فاصلے پر آنے والے کسی دوسرے ستارے کی جانب رخ موڑنا ضروری ہو جاتا ہے۔اور یہ بات قُتیلہ کو اچھی طرح معلوم تھی۔اپنے آبائی قبیلے بنو نسر کے کھوجی،غبشان بن عبشہ کے ساتھ وہ سیکڑوں بار اس کی مشق کر چکی تھی۔اور بیسیوں بار اسے عملی زندگی میں بروے کار بھی لا چکی تھی۔امریل اور ملکان سمیت اس کے ہمراہ پندرہ سوار محو سفر تھے۔
صبح کا ملگجا اجالا ہر سمت پھیل گیا تھا جب وہ ایک ٹیلے پر کھڑی بنو ضبع قبیلے کے بے ربط پھیلے خیموں اورجھونپڑوں کو دیکھ رہی تھی۔
لمحہ بھر جائزہ لے کر اس نے قبیلے کی مخالف جانب گھوڑے کو نشیب میں اتارا۔اس کے تمام ساتھی وہاں کھڑے سوالیہ نظروں سے اسے گھور رہے تھے۔ان کے سامنے گھوڑا روک کر وہ تفصیل سے اپنے منصوبے پر روشنی ڈالنے لگی۔آخر وہ کہہ رہی تھی۔”جن پانچ آدمیوں کے پاس بنو ضبع کے آدمیوں سے چھینے ہوئے گھوڑے ہیں وہ یہیں رک کرہمارے بلاوے کا انتظار کر یں گے۔یہ جگہ قبیلے سے کافی نزدیک ہے۔ کوئی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی یہاں آسکتا ہے۔اور مسئلہ اس کے آنے نہیں صحیح سلامت واپس لوٹ جانے پر بنے گا۔چیخنے کا موقع دے کر اپنے پاﺅں پر کلھاڑی نہ مارنا۔دو آدمی ٹیلے کی بلندی پر لیٹ کر قبیلے کی جانب متوجہ رہیں اوراشارہ ملتے ہی سرعت کا مظاہرہ کرنا۔باقی آدمی ملکہ قُتیلہ کا پلو تھام لیں۔“(یعنی اس کے پیچھے آجائیں )یہ کہہ کر وہ ٹیلے کے عقب میں آگے بڑھ گئی۔دس سوار اس کے پیچھے چل پڑے تھے۔ٹیلوں کی آڑ میں رہتے ہوئے انھوں نے لمبا چکر کاٹااور بنو ضبع کے مغربی جانب پہنچ گئے۔لمحہ بھر وہاں رک کر قُتیلہ نے خُرجی (گھوڑے کے پہلو میں لٹکایا ہوا سامان کا تھیلا)سے ایک کالے رنگ کا کپڑا نکالا اور چہرے پر لپیٹ لیا۔اب اس کی دُنبالہ آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں باقی چہرہ چھپ گیا تھا۔ڈھاٹا باندھ کر وہ آگے بڑھ گئی تھی۔سورج مشرق سے سر ابھار چکا تھا۔بنو ضبع میں ہلکی پھلکی چہل پہل نظر آرہی تھی۔انھیں فوراََ ہی دیکھ لیا گیا تھا۔وہ لمبے قد کا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا۔قُتیلہ نے اس کے قریب گھوڑا روکا۔
”ہمیں قبیلے کے سردار سے ملنا ہے ؟“امریل نے بغیرر سمی کلمات کی ادائی کے گفتگو کا آغاز کیا تھا۔
”بنو ضبع میں سردار کی غیر حاضری کی وجہ سے اجنبیوں کی میزبانی کا بار اوس بن جشم کے ناتواں کاندھوں پر ہے۔“گویاوہ خود کو سردار کا قائم مقام بتلا رہا تھا۔
”ہمارا تعلق بنونوفل سے ہے اور یہاں آمد کا مقصد بنو جساسہ کی سردارزادی بادیہ اورایک فارسی بھگوڑے یشکر کی تلاش ہے۔ہمیں اطلاع ملی ہے کہ انھیں دو سورج پہلے بنو ضبع کے مضافات میں دیکھا گیا ہے۔“امریل نے منصوبے کے مطابق گفتگو آگے بڑھائی۔
اوس بن جشم اعتما د سے بولا۔”بنو نوفل کے چند سوارچار سورج قبل ہی اپنی تسلی کرکے گئے ہیں۔“اسی دوران دو اور مرد وہاں پہنچ کر ان کی گفتگو سننے لگے تھے۔
امریل نے منھ بنایا۔”میں نے گزشتا سے پیوستہ کل کی بات کی ہے۔“
اوس بن جشم نے نفی میں سرہلایا۔”میرے علم میں ایسی کوئی خبر نہیں ہے۔“
قُتیلہ نے زبان کھولی۔”اوس بن جشم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اہل بنو نوفل اپنے دشمنوں کو پناہ دینے والوں کو اتنی مہلت بھی نہیں دیں گے جتنی کمان کے چلے کو چھوڑنے والا تیر شکار کو دیتا ہے۔“
نسوانی آواز سن کر اوس بن جشم اور بنو ضبع کے دوسرے دو آدمیوں نے دلچسپی سے قُتیلہ کو دیکھا تھا۔
اوس بن جشم مصلحت آمیز لہجے میں بولا۔”لڑکی،ہم نہ تو بنو نوفل سے جنگ چاہتے ہیں اور نہ ہم نے کسی کو پناہ دی ہے۔عورت ذات ہونے کے ناطے تمھیں اجازت ہے کہ بنو ضبع کے تمام گھروں میں جھانک کر اپنی تسلی کر لو۔“
”بنو ضبع کے معزز دانش مند سے ہمیں یہی توقع تھی۔قبیلے کی تلاشی سے زیادہ ہمیں بنو ضبع کے تمام مردوں سے بات چیت کی خواہش ہے۔ممکن ہے کسی نے ہمارے دشمنوں کو بنو ضبع کے مضافات میں دیکھا ہو اور ان کے جانے کی سمت سے واقف ہو اس لیے اگر تمام مردوں کو ایک جگہ جمع کر کے ہمیں گفتگو کی اجازت دی جائے تو ہم بنو نوفل کے سردار کو بنو ضبع کے بارے تسلی کرا سکیں گے۔“ملکان نے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق گفتگو آگے بڑھائی۔
اوس بن جشم نے کہا۔”بنو ضبع میں مردوں کی قلیل تعداد موجود ہے زیادہ تر کل شب کو کسی کام کے سلسلے میں قبیلے سے باہر نکلے ہیں۔امید ہے چند گھڑیوں تک ان کی واپسی ہو جائے گی۔“
امریل نے لقمہ دیا۔”ہمارے پاس وقت کی قلت ہے اس لیے جو مرد اس وقت حاضر ہیں انھی سے گفتگوکر کے ہم اپنا سفر جاری رکھنا چاہیں گے۔“
اوس بن جشم اثبات میں سرہلاتے ہوئے پاس کھڑے بنو ضبع کے دونوں آدمیوں کو بولا۔ ”قبیلے کے تمام مردوں کو سقیفہ بنو ضبع کے سامنے جمع کرومیں مہمانوں کی خاطر داری کر لوں۔“وہ سر ہلاتے ہوئے چل پڑے۔
”چلیں۔“اوس بن جشم نے انھیں اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔بنو نوفل جیسے بڑے قبیلے سے خواہ مخواہ دشمنی مول لینا عقل مندی نہ کہلائی جاتی۔اور یہ بات اوس بن جشم کو اچھی طرح معلوم تھی۔
”شرب و طعام(کھانے پینے) سے کلام کے بعد ہی مستفید ہو سکیں گے۔“اس کی معیت میں گھوڑے آگے بڑھاتے ہوئے ملکان نے کھانے پینے کی دعوت کو خوب صورتی سے ٹالا۔کیوں کہ عرب دشمنوں سے چھین کر تو کھا سکتے تھے ان کے ہاں مہمان بن کر کھانے کو برا جانتے تھے۔
”اہل بنو ضبع کو دھوکا دینے والا نہیں پاﺅ گے۔“اوس بن جشم نے اس کے انکار کو کوئی اور رخ دیا تھا۔
وہ جواب دیے بغیر اس کی معیت میں چلتے رہے۔ اوس بن جشم انھیں ایک بڑے جھونپڑے کے قریب لے آیا۔جو بناوٹ کے لحاظ سے دوسرے جھونپڑوں سے نمایاں نظر آرہا تھا۔ جھونپڑے کے سامنے دو تین ہاتھ اونچاچبوترہ بنا تھا۔اوس بن جشم کی دعوت پر وہ گھوڑوں سے اترے اور سقفیہ بنو ضبع کے ساتھ گڑی اینٹھیوں سے اپنے گھوڑے باندھ دیے۔انھیں چبوترے پر بٹھا کر اوس بن جشم نے میزبانی کی روایت نبھانے کے لیے جانا چاہا۔
ملکان اسے روکتا ہوا بولا۔”اوس بن جشم،کھانے پینے کا بندوبست بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔“
”کیا چاہتے ہو تم لوگ؟“اوس بن جشم کے چہرے پر خوف نمودار ہوا۔جو مہمان اسے بار بار ضیافت کا بندوبست کرنے سے روک رہے تھے ان کی آمد خیر کا سبب نہیں ہو سکتی تھی۔
اچانک قُتیلہ کی تلوار نیام سے باہر نکلی اور اس سے پہلے کہ اوس بن جشم کی سمجھ میں کچھ آتا تلوار اس کے نرخرے میں پیوست ہو چکی تھی۔اس کی آنکھوں میں خوف و دہشت جیسے منجمد ہو گیا تھا۔بولنے کی کوشش میں اس کے منھ سے خون کی کلّی برآمد ہوئی۔
”اس کا شک رفع کرنا ضروری تھا۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے قُتیلہ نے تلوار واپس کھینچی اور اوس کے سر سے عمامہ اتارکر دھار پر کپڑا پھیرنے لگی۔اوس بن جشم نیچے گر کر تڑپنے لگا تھا۔قُتیلہ کے ساتھی فوراََ اس انداز میں کھڑے ہوگئے کہ دور سے اوس بن جشم کا جسم نظر نہیں آسکتا تھا۔
”اسے جھونپڑے کے اندر لے جا کر کسی تخت وغیرہ کے نیچے چھپا دو۔“ اوس کے بدن کی حرکت رکتے ہی قُتیلہ دائیں بائیں کا جائزہ لے کر امریل کو مخاطب ہوئی۔
”جی مالکن۔“کہہ کر امریل اسے ٹانگ سے پکڑ کر اندر گھسیٹ کر لے گیا۔باقی افراد اس کے خون پر صاف ریت پھینکنے لگے۔
قبیلے کے چار پانچ مرد انھیں قریب آتے دکھائی دیئے۔اسی وقت امریل جھونپڑے سے برآمد ہوا۔قُتیلہ کی جانب دیکھ کر اس نے سر کو خفیف سی حرکت دی تھی۔
”ملکان،تم تبوّل (چھوٹے پیشاب)کے بہانے جھونپڑوں کی حدود سے باہر نکلو۔اور فارغ ہو کر بھی وہیں ٹھہرے رہنا۔لوگوں کے جمع ہوتے ہی ملکہ قُتیلہ بات چیت کا آغاز کرے گی اسی وقت تم اپنے ساتھیوں کو بلا لینا۔“
ملکان سر ہلاتا ہوا اپنے آزار (زیریں لباس)سے چھیڑ خانی کرتا ہوامخصوص سمت کو بڑھ گیا۔ بنو ضبع کے ادھیڑ عمر اور جوان وہاں پہنچ کر ان سے ہاتھ ملانے لگے۔ان کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔تھوڑی دیر میں چالیس پینتالیس افراد جمع ہو گئے تھے۔
”اوس بن جشم کہاں ہے؟“ایک معزّز صورت آدمی پوچھنے لگا۔
امریل ہنسا۔”اسے مہمانوں کے کھانے پینے کی فکر تھی۔“
وہ ادھیڑ عمر شخص ایک نوجوان کو مخاطب ہوا۔”میرا خیال ہے تمام مرد تو جمع ہو گئے ہیں۔جاﺅ سانف اسے مطلع کرو۔“
”ٹھہرو۔“اچانک قُتیلہ سامنے ہوئی۔”اسے بلانے کی ضرورت نہیں۔ملکہ قُتیلہ کی بات پر توجہ دو۔“یہ کہتے ہوئے اس نے چہرے پر باندھا ڈھاٹا کھول دیا تھا۔چاندنے جیسے بدلیوں کے عقب سے جھانکا تھا۔اس کا چہرہ مشرق کی جانب تھا۔سورج کی روشنی سے اس کے گلے میں پڑے سبز زمرّد جگمگا اٹھے تھے۔ماتھے پر باندھی کالی پٹی سے روشن جبیں مزید کشادہ نظر آنے لگی تھی۔اس نے لمبے بالوں کو دوحصوں میں منقسم کر کے آدھے دائیں اور آدھے بائیں جانب سے نکال کر سینے پر پھیلا دیئے تھے۔دنبالہ آنکھیں حاضرین کی طرف متوجہ ہوئیں کئی جوان دلوں کو تھام کر رہ گئے تھے۔
اس کی نقرئی آواز بلند ہوئی۔”جاننے والے ملکہ قُتیلہ کو،ملکہ قُتیلہ کہتے۔تمھیں بھی جب تک سانس بقایا ہیں یہی کہنا چاہیے۔اور ملکہ قُتیلہ یہاں تمھاری قسمت کا فیصلہ کرنے آئی ہے۔“یہ کہتے ہوئے اس کی سرسری نگاہ اپنے ساتھیوں کے چھپنے کے جگہ کی طرف اٹھی۔پانچوں گھڑ سوار ٹیلے کے عقب سے نمودار ہو گئے تھے۔قُتیلہ کے باقی ساتھی بھی غیر محسوس انداز میں مجمع کے چاروں اطراف میں پھیل گئے تھے۔اس کی بات جاری رہی ….
”بنو ضبع کے سردار رزاح بن اسد نے بنو قیشرہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔بنو قیشرہ کے باسیوں نے ملکہ قُتیلہ کے سامنے انصاف کی دہائی دی اور نتیجہ تم لوگوں کے سامنے ہے۔“
بنو ضبع والے اس کی بے ربط گفتگو کو سمجھ نہیں پائے تھے۔ایک لمبا تڑنگا کڑیل جوان منھ بگاڑ کر بولا۔”ارے چھوکری،تمھاری باتیں سمجھ میں نہیں آرہیں۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر زہریلا تبسم نمودار ہوا۔”ایک قدم آگے آکر بات کرو جوان۔“
”ایک قدم کیا،میں تمھارے پاس ہی آجا تا ہوں خوب صورت چھوکری۔“دانت نکالتے ہوئے اس نے چبوترے کی منڈیر پر پاﺅں رکھا۔اسی وقت قُتیلہ کی تلوار”چھن۔“کی آوازپیدا کرتی نیام سے باہر نکلی۔دوسرا قدم چبوترے پر رکھنے سے پہلے اس کی گردن بگولے میں اڑتے خش و خاشاک کی طرح حرکت کرتی مجمع کے درمیان میں جا پڑی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ کو کسی دوسرے تخاطب سے نہ پکارتے تو پہلی باری تمھاری نہ آتی۔“
ایک لمحہ کے لیے مجمع کو سانپ سونگھ گیاتھا۔اور پھر کسی کے کچھ بولنے سے پہلے ان پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ان کے گرد پھیلے بنو طرید کے آدمیوں نے تلواریں بے نیام کر کے انھیں پکی ہوئی فصل کی طرح کاٹنا شروع کر دیا تھا۔قُتیلہ چھلانگ لگا کر چبوترے سے اتری اور اس کی دودھاری تلوار بجلی کے کوندے کی طرح لپکنے لگی۔قتل و غارت اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ماحول بنو ضبع کے افراد کی چیخ و پکار و دہائیوں سے گونج اٹھا تھا۔لیکن چالیس افراد کو کاٹنے کے لیے جب پندرہ بے نیام تلواریں موجود ہوں تو صفایا ہوتے اتنی دیر نہیں لگتی۔پانچوں گھڑ سوار قتیلہ کی ہدایت کے مطابق مجمع کے گرد کھلے دائرے میں رک گئے تھے۔ جو شخص جان بچا کر خیموں کا رخ کرنے کی کوشش کرتا وہ چند قدم سے زیادہ نہ لے پاتا۔قُتیلہ کی تلوار سے کٹنے والی گردنیں مرنے والوں کی مجموعی تعداد کا ایک چوتھائی تھیں۔
مرنے والوں کی چیخ و پکار سن کر قریبی خیموں سے عورتوں نے باہر نکل کر دیکھا اور قتل غارت دیکھتے ہی ان خوف زدہ چیخیں پورے قبیلے میں پھیل گئی تھیں۔
”بھاگنے کی کوشش کرنے والوں کی جنس میں تمیز نہ کرنااور خیموں میں موجود صرف مردوں کو ہلاک کرنا۔“تیز لہجے میں حکم صادر کرتے ہوئے قُتیلہ نے اپنے گھوڑے کی رسی کوکھولا اور اچھل کر سوار ہو گئی۔بنو ضبع میں چیخ و پکار اور ”ہائے وائے“ کاشور کافی دیر تک جاری رہا۔البتہ حالات پر جلد ہی قابو پا لیا گیا تھا۔دھوپ کی شدت میں اچھی خاصی تیزی آگئی تھی۔قبیلے کی عورتوں اور بچوں کو انھوں نے ایک میدان میں جمع کر لیا تھا۔مزاحمت کرتے ہوئے درجن بھر عورتوں نے گردن کٹوانے کا حوصلہ کیا تھاورنہ زیادہ تر کو انھوں نے خیموں کے کونوں کھدروں میں سہماہوا پکڑا تھا۔
”مالکن،ایک جھونپڑے میں قیدی بھی موجود ہیں۔“اپنی خون آلود تلوار ایک نوجوان لڑکی کی خِمار(اوڑھنی)سے صاف کر کے اس نے نیام میں ڈالی ہی تھی کہ امریل نے قریب آکر موّدبانہ لہجے میں اطلاع دی۔
”قیدی ….“قُتیلہ کے چہرے پر خوش گوارحیرت نمودار ہوئی۔”کہاں ہیں ؟….ملکہ قُتیلہ پہلے انھیں دیکھنا پسند کرے گی۔“
”آئیں مالکن۔“امریل اس کی رہنمائی کرتا ہوا ایک طرف بڑھ گیا۔جھونپڑے کے باہر اصرم بن خسار اورعامر بن اسودموجود تھے۔قُتیلہ کو دیکھ کر عامر نے بن اسود نے جھونپڑے کا دروازہ کھولا۔وہ گرم جوشی سے اندر داخل ہوئی۔
وسیع جھونپڑا قیدیوں سے بھراہوا تھا۔دروازے سے داہنی دیوار کے ساتھ ایک خوبصوت لڑکی بیٹھی تھی۔اس کے ہاتھ پاﺅں سختی سے جکڑے ہوئے تھے ۔اس کے علاوہ تمام قیدی مرد تھے ان کے ہاتھ بھی پشت پر باندھے گئے تھے۔جھونپڑے کی ہر دیوار کے ساتھ دس دس مرد دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے گویا وہاں تیس مرد اورایک لڑکی موجود تھی۔جھونپڑے کے وسط میں پانی کا ایک مٹکا رکھا ہوا تھا۔اور اس پر ٹوٹے ہوئے کنارے والا مٹی کا ایک آب خورہ بھی اوندھا پڑا تھا۔اس کے علاوہ جھونپڑے کوئی چیز موجود نہیں۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر تمام کی نگاہیں اس طرف اٹھ گئی تھیں۔ان کے چہروں پر پژمردگی چھائی ہوئی تھی۔ان پر سرسری نگاہ دوڑا کر قُتیلہ بندھی ہوئی لڑکی کو مخاطب ہوئی۔
”تمھارے ہاتھ پاﺅں کیوں بندھے ہیں۔“یہ سوال اس کے دل میں اس لیے اٹھا تھا کہ وہ عورت قیدیوں کے ہاتھ پاﺅں باندھنے کا رواج نہیں تھا۔خال ہی ایسا موقع آتا کہ عورتوں کو ہاتھ پاﺅں باندھے جاتے۔
لڑکی کے چہرے پر برہمی اور آنکھوں میںغیض و غضب بھرا تھا۔قُتیلہ کو نفرت بھری نظروں سے گھورتے ہوئے وہ بولی۔”کیوں کہ میرے ہاتھ پاﺅں کھلے ہوتے تو یقینا تم جیسی چھوکری کی گردن کندھوں پر نظر نہ آرہی ہوتی۔“
”بکواس بند کرو۔“امریل غصے میں دھاڑتا ہوا اس کی جانب بڑھا۔
”نہیں امریل۔“قُتیلہ کے ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ کھل رہی تھی۔”ملکہ قُتیلہ کو اس کا جواب پسند آیا ہے۔“
نفرت بھرے انداز میں ریت پر تھوکتے ہوئے وہ بدتمیزی سے بولی۔”کالے ریچھ،اگر ہمت ہے تو بندشیں کھول کرمجھے ایک عدد تلوار دے دو،پھر دیکھتی ہوئی تم کتنے مرد ہو؟“
”مالکن۔“امریل قُتیلہ کی جانب اجازت طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے ملتجی ہوا۔غصے کی شدت سے اس کا رنگ تبدیل ہو گیا تھا۔
قُتیلہ کے ہونٹوں پر اسی طرح مسکراہٹ کھل رہی تھی۔نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ اس لڑکی سے پوچھنے لگی۔”کیا نام ہے تمھارا؟“
قُتیلہ کا سوال اس کے لیے قابلِ التفات نہیں تھا۔وہ جواب دیئے بغیر بے نیازی سے بیٹھی رہی۔
”اس کانام رشاقہ بنت زیادبن تابوت ہے۔“یہ جواب ایک سہمے ہوئے جوان نے دیا تھا۔
”تمھارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟“اس مرتبہ قتیلہ نے ایسے مرد سے پوچھا تھا جو باقیوں سے عمر میں بڑا نظر آرہا تھا۔قُتیلہ کے اندازے کے مطابق اس کی عمر پینتس سے چالیس سال کے درمیان تھی جبکہ باقی قیدی تیس سال سے کم عمر کے تھے۔اور لڑکی کی عمر توبائیس تیئس سال سے زیادہ نہیں تھی۔
وہ تلخی سے بولا۔”جن کی وجہ سے ہم اس حال کو پہنچے کیا انھیں معلوم نہیں کہ ہمارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟“
قُتیلہ اس کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بولی۔”جن کی وجہ سے تم اس حال کو پہنچے ہو،ان کا ملکہ قُتیلہ وہ حال کر چکی ہے جس کے تم متمنی تھے۔یقینا چیخ و پکار تمھاری سماعتوں تک بھی پہنچی ہو گی۔“
بنو ضبع کے انجام کا سن کر تمام کے چہرے پر حیرانی ابھری تھی۔اسے مخاطب ہونے والا مایوسی سے بولا۔”ہاں چیخ و پکار تو سنی تھی ،لیکن ہم سوچ رہے تھے اور قیدی لائے گئے ہیں ۔باقی ہمیں ان کی ہلاکت سے زیادہ اپنے انجام کی فکر ہے۔“
”تمام کی بندشیں کھول دو امریل۔“قُتیلہ غصے میں کھولتے امریل کی جانب متوجہ ہوئی جو کینہ توز نظروں سے رشاقہ کو گھور رہا۔رشاقہ بھی تاﺅ دلاتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کی جانب متوجہ تھی۔
”جی مالکن۔“کہہ کر امریل نے کمر سے بندھی چمڑے کی نیام سے جِمبِیا(شیر کے ناخن کی شکل کا دودھاری خنجر)نکال کر قیدیوں کی طرف بڑھ گیا۔قُتیلہ نے عامر اوراصرم کو بھی آواز دے کر اندر بلا لیا تھا۔قیدیوں کے چہروں پر حیرت جیسے ثبت ہو گئی تھی۔
”اب بتاﺅ؟“قُتیلہ نے پہلے والے مرد کو مخاطب ہوئی۔
”رحم دل لڑکی ……..“
اس کا فقرہ پورا ہونے سے پہلے اس نے قطع کلامی کی۔”ملکہ قُتیلہ کو صرف ملکہ قُتیلہ کہلوانا پسند ہے۔اور اپنی یہ غلط فہمی بھی دور کر لو کہ ملکہ قُتیلہ رحم دل ہے۔“
رشاقہ کی استہزائی آواز ابھری۔”منھ سے ماں کے دودھ کی بُو نہیں گئی اور باتیں سنو۔“
قُتیلہ کی گردن اس کی جانب گھومی، عامر اور اصرم کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ انھیں رشاقہ نام کی لڑکی لمحے بھر کی مہمان نظر آرہی تھی۔
”رشاقہ محسنوں کے ساتھ بد تمیزی سے پیش نہیں آتے۔“اس مرد نے سخت لہجے میں رشاقہ کو ڈانٹا تھا۔
رشاقہ کہاں چپ رہنے والی تھی بے پروائی سے کندھے اچکا کر بولی۔”میں اپنا ایک ہاتھ بندھوا کر اس نخریلی کے ساتھ شمشیرزنی کا مقابلہ کرنے پر تیار ہوں۔“
قیدیوں کے چہروں پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔اصرم بن خسار اور عامر بن اسود بھی اپنی ہنسی نہیں روک پائے تھے۔ لیکن جانبین کی ہنسی میں ایک فرق بہ ہر حال موجود تھا۔قیدی رشاقہ کی بہادری اور قُتیلہ کی کمزوری پر متبسم ہوئے تھے جبکہ اصرم اور عامر اس کی حماقت پر مسکرائے تھے۔البتہ امریل کے چہرے پر ظاہر ہونے والا غصہ کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔
گہرا سانس لیتے ہوئے قُتیلہ جیسے بے بسی سے مسکرائی۔”ملکہ قُتیلہ تو ڈر گئی۔“یہ کہتے ہوئے اس نے رخ موڑ لیا تھا۔
”اب بولو۔“وہ مذکورہ مرد کی جانب متوجہ ہوئی۔
وہ دکھی لہجے میں بولا۔”ملکہ قُتیلہ،میرا نام منقربن اسقح ہے۔اورہمارا تعلق بنو عقرب سے تھا۔“
”تھا….؟“قُتیلہ کا لہجہ سوالیہ ابھرا۔
منقر نے اذیت بھرے لہجے میں جواب دیا۔”ہاں بنو عقرب تو اب باقی نہیں رہا۔اہل بنو ضبع نے دھوکے سے ہمیں قابو کیاورنہ ہم اتنی آسانی سے شکست تسلیم نہ کرتے۔ مشکیں کس کے،ہماری آنکھوں کے سامنے قبیلے کے زخمیوں،بوڑھوںاورشیر خوار بچوں کی گردنیں قلم کی گئیں۔بس قریب البلوغ لڑکیوں ، لڑکوں، جوان عورتوں اور ایسے مردوں کو ان ظالموں نے قیدی بنا لیاجنھیں بیچ سکتے تھے۔ہماری عورتیں ،لڑکیوں اورلڑکوں کوتو انھوں نے آپس میں بانٹ لیااب ہمیںشجر کے میلے میں بیچاجائے گا۔“(عرب میں تیرہ مقامات پر بڑے بڑے میلے لگتے تھے ۔دومة لجندل، مشقر، صحار، دبا، شجر، عدن، صنعا، حضرموت، عکاظ،ذوالمجاز،منی، خیبراور یمامہ۔ ” تاریخ الارض القرآن حصہ دوم از سید سلیمان ندوی ؒ “)
قُتیلہ نے پوچھا۔”لڑائی کی غرض و غایت لوٹ مار تھی یا کچھ اور۔“
منقر نے کہا۔”لمبی کہانی ہے۔“
”ٹھیک ہے ملکہ قتیلہ بعد میں سن لے گی۔پہلے تم ملکہ قُتیلہ کی پیش کش سن لو۔“
”سن رہے ہیں۔“صرف منقر ہی اس کے ساتھ محو گفتگو تھا۔
”ملکہ قتیلہ کے قبیلے کا نام بنو طرید ہے۔اور ملکہ قُتیلہ تم تمام کو بنو طرید میں خوش آمدید کرنے کو تیار ہے۔تمھارے مردوں کو بنو ضبع کی کنواریاں اور بیوائیں بھی ملیں گی رہائش کے لیے خیمے، کھانے کو خوراک،لڑنے کو ہتھیاراور سواری کے لیے گھوڑے بھی ملیں گے۔بس ملکہ قُتیلہ کی اطاعت کرنا پڑے گی۔ اور بنو طرید کے قوانین کی پاسداری لازمی ہو گی۔“
”اور جسے یہ شرائط منظور نہ ہوں۔“ایک قوی ہیکل مرد نے تیکھے لہجے میں پوچھاتھا۔
قُتیلہ اطمینان سے بولی۔”تووہ جا سکتا ہے۔لیکن یاد رکھنا بنو طرید دھتکارے ہوﺅں کی پناہ گاہ ہے۔اور یہاں عدل و انصاف ملتا ہے۔اور باہر سے آنے والوں کو دخیل نہیں سمجھا جاتا۔“(اگر کسی قبیلے میں باہر سے کوئی آکر شامل ہوتا تو اسے دخیل سمجھاجاتا تھااور اسے قبیلے کے اصل باسی کے سے حقوق نہیں ملتے تھے)
” ضحاک بن عتیک کو ایک عورت کی سرداری قبول نہیں ہے۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے وہ مجمع سے باہر آگیا تھا۔
”ہمیں بھی۔“ پانچ مردوں نے اس کی تقلید کی۔
رشاقہ نے بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہوئے کہا۔”جس قبیلے کی سردار ایک نخریلی چھوکری ہو گی وہاں دوسرے قبائل کے سرداروں کے رشتا لانے والے وفود ہی سے خلاصی نہیں ہوپائے گی۔“
”کیا آپ لوگ تیا رہیں۔“رشاقہ کی بات کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے قُتیلہ باقیوں کو مخاطب ہوئی۔
منقر بن اسقح نے کہا۔”ہاں ملکہ قُتیلہ ہم تیار ہیں۔“باقیوں نے بھی اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
ضحاک بن عتیک معنی خیز لہجے میں بولا۔”ہم بھی تیار ہو جاتے اگر ملکہ قُتیلہ،مجھے بہ طورشوہر قبول کر لیتی۔“ملکہ کے لفظ کو اس نے استہزائی انداز میں ادا کیا تھا۔
”تیری تو ….“امریل کی تلوار بجلی کے کوندے کی طرح لپکی،لیکن قُتیلہ نے ایک دم اپنی ڈھال سامنے کر دی تھی۔اگر اسے ایک لحظے کی بھی دیر ہو جاتی تو ضحاک کی گردن جھونپڑے سے باہر جا کر گرتی۔
”امریل،بات چیت ختم نہیں ہوئی۔“اس کے بہ ظاہر سادہ بولے گئے الفاظ میں جو سفاکی چھپی تھی اس نے عامر بن اسود اور اصرم بن خسار کو لرزا دیا تھا۔
ایک لمحے کے لیے ضحاک کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔لیکن جلد ہی اپنی حالت پر قابو پا کر وہ بہ ظاہر نڈر لہجے میں بولا۔”تلوار ہاتھ میں لے کر ہر کوئی شہ زوری دکھا سکتا ہے۔“
”فکر نہ کرو تلوار مل جائے۔“قُتیلہ کے ہونٹ ہنسنے کے انداز میں کھلے۔اصرم اور خسار کو سفید آبدار دانت کسی خون خوار شیرنی کی کچلیوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔
”ضحاک بے وقوفی مت کرو….اور رشاقہ تم بھی ادھر آجاﺅ۔“منقر بن اسقح نے معاملہ فہمی سے کام لینا چاہا۔
”ٹھہرو منقر۔“اسے ہاتھ اٹھا کرروکتے ہوئے قُتیلہ ضحاک کی طرف متوجہ ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ نے آج تک کسی مرد کے رشتے کو نہیں ٹھکرایا۔تم یا تمھارے پانچ ساتھیوں میں سے جو چاہے ملکہ قُتیلہ کو بزور بازو جیت سکتا ہے۔اور ملکہ قُتیلہ کے ساتھ اسے بنو طرید کی سرداری بھی ملے گی۔کیوں ملکہ قُتیلہ تو اس کی بیوی بن کر سرداری کے قابل نہیں رہے گی۔بلاشک و شبہ سرداری شوہر کے ساتھ جچتی ہے۔“
ضحاک کے چہرے پر خوشی کی چمک ابھری۔”ملکہ صاحبہ،تمھیں حاصل کرنے کے لیے مجھے کس سے مقابلہ کرنا ہوگا۔“
قُتیلہ نے گہرا سانس لیا۔اور پھر دھیمے لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ کے حصول کے لیے مقابلہ بھی تو ملکہ قُتیلہ ہی سے کرنا ہوگا۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: