Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 31

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 31

–**–**–

دھوپ کی تمازت میں کمی آتے ہی یشکر نے گھوڑوں کو سفر کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہاں چند گھڑیاں گزار کر وہ تازہ دم ہو گئے تھے۔خلیسہ نے ان کے ساتھ چلنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی،لیکن بادیہ نے انکار میں سر ہلا دیا تھا۔خلیسہ سے انھیں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ وہاں سے دو تین کوس دور بنو عبد کلال واقع تھا۔اس ضمن میں اس کے شوہر اعمیٰ نے غلط بیانی کی تھی۔
انھوں نے خلیسہ سے الوداعی کلمات کے تبادلے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔یوں بھی وہاں گزارا وقت کوئی اچھا تجربہ نہیں رہا تھا۔
غروب آفتاب کے وقت وہ ایک قبیلے کے آثار دیکھ رہے تھے۔جو بنو عبد کلال کی آبادی تھی۔یشکر نے قبیلے میں داخل ہونے کو مناسب نہیں سمجھا تھا۔وہ قبیلے کے پہلو سے ہو کر آگے بڑھتے گئے۔بنو عبد کلال کے چند مکینوں کی نظر ان پر ضرور پڑی تھی۔لیکن وہ اتنے فاصلے پر موجود تھے کہ گفتگو کا تبادلہ نہیں ہو سکا تھا۔اندھیرا پھیلنے تک وہ بنو عبد کلال سے آگے نکل گئے تھے۔
بادیہ نے پوچھا۔”شب باشی کا کیا ارادہ ہے؟“
یشکر نے کہا۔”تاریکی بڑھ گئی ہے،اس لیے آرام کرنا پڑے گا۔یوں بھی چاند ربع ثانی میں ہے اس لیے پچھلی شب سفر کے لیے بہتر رہے گی۔“(چاند کی چار شکلیں معروف ہیں،اول محاق یعنی وہ حالت جب چاند نظر نہیں آرہا ہوتا۔اس حالت کو ہندی میں اماوس کہتے ہیں۔جبکہ اردو میں محاق اور اماوس دونوں مستعمل ہیں۔دوسری حالت ہلال ہے جب چاند بالکل باریک ہوتا ہے،تیسری حالت تربیع ہے یعنی جب چاند آدھا ہو جاتا ہے اوراسے کہتے ہیں چاند ربع اول میں ہے۔چوتھی حالت بدرہے جب چاند مکمل ہو جاتا ہے۔ بدر کے بعد چاند بتدریج کم ہونا شروع ہوتا ہے اور اکیس کو دوبارہ آدھا ہو جاتا ہے۔اس حالت کو بھی تربیع کہتے ہیں۔یعنی تربیع ثانی یا ربع ثانی)
”کوئی ایسی جگہ ڈھونڈنا جہاں بھیڑیوں کی پہنچ سے دور ہوں۔“بادیہ نے گزشتہ شب کو یاد کر کے جھرجھری لی۔
یشکر بولا۔” برزسواہ(مقدس آگ )ان موذیوں سے دور رکھتی۔لیکن اس تاریکی میں لکڑیاں ڈھونڈنامشکل ہے۔“
”پھر۔“بادیہ کے لہجے میں مایوسی تھی۔
یشکر اطمینان سے بولا۔”میں جاگ کر اپنی سردار زادی کی حفاظت کروں گا۔بھیڑیوں سے بھی اور سانپ وبچھو سے بھی۔“
”دوپہر کو بھی آ پ نہیں سوئے تھے،بس میرا سر گود میں رکھ کر بیٹھے رہے۔“نجانے وہ شکایت تھی،فکر مندی تھی یا اپنی خوش قسمتی کا اظہارتھا۔
”میں مسلسل گھوڑے کی پیٹھ پربیٹھ کر بغیر کھائے پیئے اور سوئے تین بار سورج کو طلوع ہوتا دیکھ سکتا ہوں۔“
بادیہ وارفتگی سے بولی۔”جانتی ہوں میرا یشکر وہ بھی کر سکتا ہے جو کوئی دوسرا سوچ بھی نہیں سکتا۔“
ایک ٹیلے کی بلندی پر گھوڑا روک کر یشکر نیچے اترا اور بادیہ کی طرف بڑھ گیا۔اسے بازوﺅں میں بھرکراس نے نیچے اتارا۔وہ کھل کھلا دی۔
”کیا ہوا؟“اس کی ہنسی سن کر یشکر کے دل کو کچھ ہونے لگتا تھا۔
”کتنے ناز اٹھاتے ہو۔“اس کے کندھے پرسر رکھتے ہوئے وہ اٹھلائی۔
”افسوس اس بات کا ہے کہ میری وجہ سے سردار زادی کو اتنی صعوبتیں اٹھانا پڑیں۔اپنی بادیہ سے بہت شرمندہ ہوں۔لیکن کیا کرتا خود پر قابو بھی ……..“
بات پوری ہونے سے پہلے بادیہ نے اس کے ہونٹوں پر مہر لگا دی تھی۔وہ ایک دم ساکت ہو گیا تھا۔نجانے کتنی دیر گزری گئی،پھر بادیہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ”ابو جان اور امی جان کی موت کے ذمہ دار آپ نہیں ہیں۔عزیٰ کی قسم آپ کی بادیہ آپ سے خوش ہے۔ اور آئندہ اگر منھ سے ندامت یا معذرت کا لفظ نکالا تو سچ میں خفا ہو جاﺅں گی۔“
”اچھا میں زینیں اتار لوں پھر بہت سی باتیں کریں گے۔“
”مجھے تو نیند آئی ہے۔“لاڈ بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ دوبارہ کھل کھلا دی تھی۔یشکر بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتاگھوڑوں کی طرف بڑھ گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ اس کا سر گود میں لیے گھوڑوں کی زینیں اوپر نیچے رکھ کر ان سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔بادیہ کے چہرے پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اسے بتا رہا تھا کہ سکندر نے اسے کہاں سے اور کس مقصد کے لیے خریدا تھااورکیسے اسے زہر کا عادی بنایا۔وہ زیادہ دیر باتیں نہیں کر سکاتھا، جلد ہی بادیہ کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔اس کا محافظ جاگ رہا تھا وہ بے فکری سے سو گئی۔یوں بھی یشکر ہر وقت اس کی ناز برداری میں لگا رہتا تھااور وہ اسے اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہوئے بغیر کسی جھجک یا تکلف کے وہ حق وصول کرتی رہتی۔ بیوی تھی لیکن محبوبہ کے درجے پر فائز تھی۔اور اچھی طرح جانتی تھی کہ یشکر کے نزدیک اس کی کیا اہمیت تھی۔
رات گہری ہونے لگی۔ ہر طرف تاریکی کا راج تھا۔دور کہیں گیدڑوں کی منحوس ”ہکوہو“ سنائی دے رہی تھی۔وہ آنکھیں کھولے اطراف کا جائزہ لیتا رہا۔آدھی رات بیت چکی تھی جب جھینپے جھینپے چاند نے مشرق کی جانب سے سر ابھارا۔بادیہ نے کروٹ تبدیل کر کے اپنے گھٹنے پیٹ کی طرف سمیٹے، خنکی بڑھ گئی تھی۔یشکر نے اس ایک موٹی چادر کھول کر اس کے بدن پر ڈال دی۔اس کا ارادہ چاند کے نکلنے کے ساتھ آگے سفر کا تھا،لیکن بادیہ کو گہری نیند میں دیکھ کر وہ اسے اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکا تھا۔مسلسل گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر سفر کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔وہ خود تو مسلسل گھڑسواری کا عادی تھا لیکن بادیہ تو نرم ونازک دوشیزہ تھی۔وہ اس کی نیند پوری ہونے کا انتظار کرتا رہا۔سپیدہ سحر نمودار ہورہا تھا جب بادیہ نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔
”جاگ گئی ہے میری سردار زادی۔“یشکر اس کے چہرے پر جھک گیا تھا۔
وہ ناز سے بولی۔”چاند اتنا اوپر آگیا ہے،آپ نے تو کہا تھا طلوع ماہ کے ساتھ آگے چلیں گے۔“
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”تمھیں جگانے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔“
بادیہ نے اس کی گود سے سر اٹھاتے ہوئے توبہ شکن انگڑائی لی۔”اب کیا ارادہ ہے؟“یشکر کے پہلو میں پڑا مشکیزہ اٹھا کر اس نے منھ سے لگا لیا تھا۔
”چلتے ہیں۔“یشکر زین اٹھا کر عنبر کی طرف بڑھ گیا۔باری باری دونوں گھوڑوں کو سفر کے لیے تیار کر کے اس نے بادیہ کو عنبر پر سوار کرایااور پھر خود بھی چھلانگ لگا کر اپنے گھوڑے پر بیٹھ گیا۔ گھوڑے وادی کے نشیب میں اتار کر وہ آگے بڑھ گئے تھے۔طلوع آفتاب کے ساتھ چند لمحوں کے لیے رک کر دونوں نے بکری کا بھنا ہوا گوشت کھایا جو وہ خلیسہ کے ہاں سے لے آئے تھے۔اور پانی وغیرہ پی کر دوبارہ آگے بڑھ گئے۔ دھوپ کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی یشکر کی نگاہیں کسی مناسب مقام کی تلاش میں چاروں طرف گھومنے لگیں۔انسانی آنکھ کے دیکھنے کا نظاراایک سو اسی درجے ہوتا ہے۔گو انسان کو نظر وہی چیز آتی ہے جس پر اس کی نظریں مرتکز ہوتی ہیں لیکن دوسری چیزیں کا معدوم سا ہیولہ اس کی بصارتوں میں ضرورابھرتا ہے۔اس وقت بھی دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے اسے محسوس ہوا جیسے عقب میں حرکت ہو رہی ہے۔اس نے یکدم پیچھے مڑ کر دیکھاگھڑسواروں کی ایک ٹولی تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھتی آرہی تھی۔یشکر کا دل نا خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔
”مجھے آنے والوں کے ارادے اچھے نہیں لگ رہے۔“اس نے بادیہ کو خطرے سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا تھا۔
”کک….کون ہیں یہ ؟“وہ اتنے سواروں کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔
یشکر تفکر سے بولا۔”پتا نہیں،لیکن دشمن ہوئے تو تمھیں بھاگنے کی کوشش کرنا ہوگی،میں انھیں سنبھال لوں گا۔“
”کبھی نہیں جاﺅں گی۔“بادیہ نے سختی سے انکار کر دیا تھا۔”مرنا ہوا تو ایک ساتھ ہی مریں گے۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”سردار زادی، سمجھنے کی کوشش کرو۔تمھاری موجودی مجھے کھل کر لڑنے نہیں دے گی۔“
”میں آپ کے ساتھ مل کر لڑوں گی۔“بادیہ اسے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھی۔اور پھر ان کی تکرار کے کسی کنارے لگنے سے پہلے گھڑ سواروں کا دستہ قریب پہنچ گیا تھا۔یشکر کو مجبوراََ گھوڑا روکنا پڑا۔
ابھی وہ چند قدم دور ہی تھے کہ ایک زوردار آواز میں چلایا۔
”معبدبن سماک،ہمای مطلوبہ جوڑی ہے۔سردار زادی بادیہ بنت شیبہ کو میں اچھی طرح پہچانتا ہوں۔“
”یعنی سنہرانہ (سنہرے بالوں والی) کی اطلاع درست ہے۔“یہ کہنے والا غالباََ معبد بن سماک تھا۔یقینا انھیں خلیسہ سے ان کے بارے معلوم ہوا تھا۔سنہرے بالوں والی کا ذکر کر کے معبد بن سماک نے رہا سہا شک بھی دور کر دیا تھا۔
یشکر نے بھی فوراََ ہی انھیں پہچان لیا تھا وہ بنو نوفل کے سوار تھے۔ان میں آگے والے تین چار ایسے تھے جنھیں یشکر، بادیہ کی سردار زادے ہزیل سے ہونے والی شادی کے موقع پر بنو جساسہ میں دیکھ چکا تھا۔ بادیہ اور یشکر کو دیکھتے ہی ان کے چہرے کھل اٹھے تھے۔
”سردارزادی،میری درخواست ہے کہ موقع ملتے ہی بھاگنے کی کوشش کرنا۔امید ہے عنبر تمھیں مایوس نہیں کرے گا۔اور تیری قسم جلد ہی تم سے آن ملوں گا۔“ یہ کہتے ہی یشکر نے صاعقہ کو بے نیام کیا۔بنو نوفل کے سواروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ دس سواروں کے خلاف بھی تلوار سونتنے کی حماقت کرے گا۔
”اگر تمھیں بنو نوفل پہنچنے سے پہلے ہی گردن کٹوانے کا شوق ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔“ وہ تمام نصف دائرے کی صورت ان کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے۔
یشکر نے جس تیزی سے تلوار نیام سے نکالی تھی اسی سرعت سے واپس ڈال دی۔
بنو نوفل کے سواروں نے زوردار قہقہ لگایا۔انھوں نے سوچا شاید یشکر مقابلے کا ارادہ ترک کر رہا ہے۔
ان کے ہنسنے پر توجہ دیئے بغیر یشکر نے اپنی دونوں کلائیوںمیں پہنی چمڑے کی پٹیوں میں اڑسے جَم±دَھر(سیدھی نوک کے باریک دودھاری خنجر جن میں خم نہیں ہوتا)نکالے اور پھر بجلی کے کوندے کی طرح دونوں خنجرہوا میں تیرتے ہوئے دو آدمیوں کی گردنوں میں پیوست ہو گئے تھے۔ان کے قہقہے رکے اور وہ غصے میں بکتے جھکتے یشکر کی جانب بڑھے۔
یشکر نے دوبارہ صاعقہ کو بے نیام کیا سب سے آگے والے کا وار جھکائی دے کر خطا کرتے ہوئے یشکر نے اس کے پیچھے آنے والے کی گردن صفائی سے اڑا دی تھی۔اس کے ساتھ ہی اس نے گھوڑے کو موڑ کر ان کے گھیرے سے خود کو نکالا۔سات دشمن بچ گئے تھے۔اور پھر وہاں گھمسان کا معرکہ شروع ہو گیا۔
بادیہ نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی تھی۔بنو نوفل کے سوار بھی اسے نظر انداز کیے یشکر کو زیر کرنے کی کوشش میں لگے تھے ۔تھوڑی دیر انتظار کے بعد اس نے زین کے ساتھ بندھی تلوار کھولی اور یشکر کی مدد کے لیے آگے بڑھی۔وہ بہ مشکل ہی تلوار تھامنا جانتی تھی۔
بنو نوفل کے سوار یشکر کو گھیرنے میں مصروف تھے وہ چھلاوہ بنا انھیں بندروں کی طرح نچارہا تھا۔ اس وقت دو گھڑ سوار یشکر کے گھوڑے کے دائیں بائیں گھوڑا دوڑاتے ہوئے اسے نشانہ بنانے کی کوشش میں مصروف تھے۔بائیں ہاتھ سے اس نے کمر سے بندھی چمڑے کی نیام سے جِمبِیا(شیر کے ناخن کی شکل کا مڑا ہوادودھاری خنجر)نکالا اور لہرا کر بائیں جانب آنے والے گھڑ سوار پر پھینک دیا۔ چوڑے پھل کا تیزدھار خنجر ہوا میں دو چکر کاٹ کر گھڑ سوار کی شہ رگ میں پیوست ہوا تھا۔یقینا دوڑتے گھوڑے پر بیٹھ کر بائیں ہاتھ سے اتنا درست نشانہ لگانا سکندرجیسے سالار کے ہونہار شاگرد ہی کا کام تھا۔
خنجر ہاتھ سے نکالتے ہی اس نے ایک دم رکاب سے پاﺅں نکال کر گھوڑے کی پیٹھ پر رکھے اور پھر جیسے اڑتا ہواوہ داہنی جانب کے سوار کو لے کر دوسری جانب وادی کی ریتلی زمین پرجا گرا۔صاعقہ دستے تک بنو نوفل کے سوار کی چھاتی میں گڑی تھی۔تلوار کو ایک جھٹکے سے کھینچ کر اس نے زمین پر لوٹتے ہوئے پیچھے آنے والے گھڑسوار کے وار سے خود کو بچایا اور اس کے ساتھ ہی صاعقہ نے گھوڑے کی اگلے ٹانگ اس کے جسم سے علاحدہ کر دی تھی۔گھوڑا سوار کو لیے نیچے گرا۔اس کے اٹھ کر سنبھلنے تک یشکر اس کے سر پر پہنچ گیا تھا۔صاعقہ کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر یشکر نے اس کی کھوپڑی پر زوردار وار کیا۔ کھوپڑی پکے ہوئے تربوز کی ماند کھل گئی تھی۔
اس وقت تک بادیہ تلوار کو ہاتھ میں نیزے کی طرف پکڑے ایک سوار کے قریب پہنچ چکی تھی، وہ یشکر کی جانب متوجہ تھا۔اس نے ایک دم اس کی پیٹھ میں تلوار کی نوک چبھوئی۔اناڑی پن سے کیے گئے وار نے دشمن کو معمولی زخمی کیا تھا۔
پیچھے مڑتے ہوئے زخمی آدمی نے بے دردی سے اپنی تلوار بادیہ کے پیٹ میں گھونپ دی تھی۔ بادیہ کے ہونٹوں سے درد ناک انداز میں ”یشکر “نکلا تھا۔تکلیف کے وقت پیاروں ہی کی یاد آیا کرتی ہے۔ایسے پیارے جو حفاظت و دیکھ بھال کرتے ہوں،جن پر بھروسا ہو۔
اس کی اذیت بھری چیخ سنتے ہی یشکر ایک لمحے کو جیسے سن ہو گیا تھا۔ اسی وقت یشکر کے عقب میں آنے والے تیز رفتار گھڑ سوار نے یشکر پر زوردار وار کیا۔اور یشکر کی خوش قسمتی تھی کہ اس کا وار ذرا اوچھا پڑا اور بجائے اس کی گردن یا سر پر لگنے کے، بائیں کندھے پر لگا تھا۔ زوردار کراہ یشکر کے منھ سے برآمد ہوئی، لیکن اپنے زخم کی پرواہ کیے بغیر وہ بادیہ کی طرف بھاگا جو نیچے جھکتے ہوئے وادی کی ریتلی زمین پر گر گئی تھی۔اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے پیٹ کو دبایا ہوا تھا۔
یشکر پر کامیاب وار کرنے والے گھڑ سوار نے گھوڑا موڑا اور دوبارہ یشکر کی جانب بڑھا۔ قریب پہنچتے ہی اس کی تلوار یشکر کے سر کی جانب بڑھی، نیچے جھکتے ہوئے یشکر نے اس کا وار خطا کیا اور ایک دم گھوم کر اچھلتے ہوئے اس گردن کاٹنے کی کامیاب کوشش کر ڈالی۔اب بنو نوفل کے تین سوار ہی باقی بچے تھے۔ان میں سے ایک وہ تھا جسے بادیہ نے زخمی کیا تھا۔اور اس کے جوابی وار سے وہ خود نیچے گر گئی تھی۔وہ بھی بادیہ کو دیکھنے کے لیے نیچے اترا ،اپنے پہلو پر اس نے چادر باندھ لی تھی۔اسی وقت یشکر بھاگتا ہوااس کے قریب پہنچ گیا تھا۔
بنو نوفل کے زخمی سوار نے یشکر کو دیکھتے ہی بادیہ کی فکر چھوڑتے ہوئے یشکر سے نبرد آزما ہونا ضروری سمجھاتھا۔ لیکن اس وقت یشکر کے سر پر وحشت سوار تھی۔ زخمی کندھے کا درد بھی اسے بھولا ہوا تھا۔مسلسل دو بار حریف کی تلوار سے صاعقہ ٹکرا کر اس نے تیسرا وار جھکائی دے کر خطا کیا اس کے ساتھ صاعقہ اس کا نرخرہ ادھیڑتے ہوئے اس کی گردن کے عقب میں جا نکلی تھی۔وہ خرخراتا ہوا نیچے گرگیا۔
یشکر بادیہ کی طرف بڑھا،اس کا کراہنا سن کر اسے دشمن بھول گئے تھے۔
”میری سردار زادی۔“بے تابی سے کہتے ہوئے وہ بادیہ پر جھکا۔
”ی….یی….یشکر ….“
”چپ“یشکر نے اس کے ہونٹوں پر مہر لگاتے ہوئے فورا اس کی خِمار(اوڑھنی) اس کے پیٹ کے زخم پر لپیٹنے لگا۔رہ جانے والے دونوں سوار اپنے آٹھ ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد یشکر سے خوفزدہ نظر آرہے تھے۔انھوں نے پہلے تو بھاگنے کا سوچا لیکن یشکر کو بادیہ کے ساتھ مشغول دیکھ کر انھیں لگا وہ اس کی غفلت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور گھوڑے سے اتر کر دبے پاﺅں اس کی طرف بڑھے۔یشکر اس وقت بادیہ کو تسلیاں دے رہا تھا۔
”میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گا سردار زادی ….فکر نہ کرو تم بچ جاﺅ گی ….جب تک یشکر زند……..دا….آہ….“بنو نوفل کے بچ جانے والے ایک آدمی نے اس کی پیٹھ میں تلوار گھسیڑ دی تھی۔بادیہ کی فکر میں اسے دشمن سے بے خبر نہیں ہوناچاہیے تھا۔البتہ ایک غلطی بنونوفل کے اس جنگجو سے ہوئی تھی کہ اس نے یشکر کے بائیں پہلو کے بجائے دائیں طرف کو نشانہ بنایا تھا۔
دوبارہ وار کرنے کے لیے اس نے تلوار پیچھے کھینچی۔اسی وقت یشکر صاعقہ کے دستے پر گرفت جماتے ہوئے اس کی جانب مڑا،دونوں کی تلواریں ایک ساتھ حرکت میں آئی تھیں۔حریف کی تلوار یشکر کے پیٹ کی طرف بڑھی لیکن اس سے پہلے صاعقہ نے اس کی تلوار والی کلائی اڑاد ی تھی۔دردناک انداز میں چیختے ہوئے اس نے دوسرے ہاتھ سے کلائی تھام لی تھی۔اسی وقت اس کے دوسرے ساتھی نے اپنی تلوار یشکر کے پیٹ میں گھونپ دی تھی۔ایسا کرتے ہوئے اسے یشکر کے قریب آنا پڑا تھا۔بے انتہا تکلیف کے باوجود یشکر کے ہاتھ رکے نہیں تھے صاعقہ بجلی کی سی تیزی سے حرکت میں آئی اور دشمن کی ٹھوڑی میں گھس کر کھوپڑی سے پارنکل گئی تھی۔وہ بے جان ہو کر پیچھے گرا،صاعقہ کو پیچھے کھینچتے ہوئے یشکر نے آخری بچ جانے والی کی گردن پر زوردار وار کیا۔وہ اپنی کٹی ہوئی کلائی کی تکلیف سے دہرا ہوا تھا۔صاعقہ نے اسے ہر قسم کی تکلیف کے احساس سے آزاد کر دیا تھا۔
وہ خود بے دم ہو کرگھٹنوں کے بل گرا،دو تین اذیت بھرے سانس لے کر اس نے تلوار کو پیٹ سے کھینچ کر نکالااور دور پھینک دیا۔اس کے زخم سے خون کا فوراہ جاری ہواتھا، جسے زور سے دبا کر وہ خون روکنے کی کوشش کرنے لگا۔چند لمحے زخم کو دبائے رکھنے کے بعد اس نے اپنی قمیص پھاڑ کر زور سے پیٹ پر باندھی اور پھر بادیہ کی جانب مڑ گیا۔اس کے ہونٹوں سے اب تک کراہیں نکل رہی تھیں۔
”سردارزادی،تمھارے یشکر نے تمام کو قتل کر دیا۔تمام کو قتل کر دیا۔“اکھڑے سانسوں سے کہتے ہوئے وہ بے دم سا ہو کر بادیہ کے اوپر گر گیاتھا۔بادیہ کی بانہیں بھی خود بہ خوداس کے جسم کے گرد لپٹ گئی تھیں۔
وہ لڑکھڑاتی ہوئے زبان میں پوچھنے لگی۔”ہ….ہا….م ….ہم بب….با….ہشت ….مم…. میں….آ….کٹھ ٹھے ….ہو….ہوں….گ….گے….نن….نا….یی….یش …. کر…. “(ہم بہشت میں اکٹھے ہوں گے نا یشکر)
”ہہ….ہاں….سس…. سردار زادی….تت….تم ہامے شہ ….یش کر…. کی…. راہوگی ہمے شا ….یی….یاد ہے نا….کک…. کیا وا….دا….کی یاتھتھ آ کہ مم….میرے سس …. سوا….تت…. تم ….سس ….سے کک….کسی نے ….بھی ….شش….شادی ….کک….کی تت….تواس….اے ….قق….قتل…. ہو….نا….پپ….پڑ….ڑے …. گا….“(ہاں سردار زادی تم ہمیشہ یشکر کی رہو گی ہمیشہ،یاد ہے نا کیا وعدہ کیا تھاکہ میرے سوا تم سے کسی نے بھی شادی کی کوشش کی تو اسے قتل ہونا پڑے گا)یشکر کا سانس اکھڑا رہا تھا۔لیکن اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھلی تھی۔بادیہ کی آنکھوں سے پانی کی آبشار جاری تھی۔اور پھر یشکر کا ذہن اندھیروں میں ڈوبنے لگا۔بادیہ کانپتے ہاتھوں سے اپنی درع (چوغہ نما قمیص)کا دامن پھاڑ کر اس کی پیٹھ کے زخم پر لپیٹنے لگی تاکہ خون کا اخراج رک جائے۔اس کی اپنی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔ اور پھر وہ بھی بے دم ہو کر یشکر پر گر گئی۔دو محبت سے دھڑکتے دل نفرت کرنے والوں کا شکار ہو گئے تھے۔
٭٭٭
ضحاک نے عجلت کا اظہار کرتے ہوئے قُتیلہ کوکہا۔”ذراجلدی کریں،اب صبر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔اورمجھے تمھارے مقابلے کے لیے صرف ڈھال کافی ہوگی۔“
قُتیلہ فراخ دلی سے بولی۔”اگر تمھارے ساتھیوں کے دل میں بھی ملکہ قُتیلہ سے شادی کی خواہش ہے تو تم مقابلے کے لیے اکٹھے میدان میں اتر سکتے ہو۔“
”احمق تو نہیں ہوں،یہ چھوکری اور سرداری تو بس ضحاک ہی کو ملے گی۔“
”امریل مقابلے کی جگہ تیار کراﺅ۔“قُتیلہ کوشش کے باوجود لہجے کی لرزش پر قابو نہیں پا سکی تھی۔امریل جانتا تھا کہ اس کا غصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ کھلے میدان میں موجود تھے۔بنو ضبع کی لڑکیاں اور جوان عورتیں سسکیاں بھرتے مظلومیت سے اپنے ارد گرد پھیلے مسلح افراد کو گھور رہی تھیں۔وہاں بڑی تعداد میں بچے بھی موجود تھے۔اور ان کا رونا دھوناتسلسل سے جاری تھا۔کچھ شیر خوار بچوں کوعورتوں نے اپنی چھاتیوں سے لگایا ہوا تھا۔ قُتیلہ کے حکم پر امریل نے ایک تلوار اور ڈھال ضحاک کے حوالے کر دی تھی۔گو ضحاک نے تلوار بے پروائی سے ہاتھ میں تھامی تھی کہ اسے قُتیلہ جیسی دوشیزہ کے لیے ڈھال بھی غیرضروری لگ رہی تھی۔ ایسی نرم و ملائم اور البیلی لڑکی کو تو خالی ہاتھوں بے بس کرنا اس جیسے مرد کے لیے چنداں دشوار نہیں تھا۔ البتہ اس کے حوالے تلوار کرتے وقت قوی ہیکل حبشی امریل کی آنکھوں میں پوشیدہ استہزاءنے اسے اچنبھے میں ضرور ڈالا تھا۔
مقابلہ شروع ہونے سے پہلے منقر بن اسقح نے قُتیلہ کے قریب جا کر سرگوشی کی۔”ملکہ قُتیلہ، ضحاک بن عتیک ہمارے قبیلے کے بہترین جنگجو زیاد بن تابوت کا سب سے اچھا شاگرد ہے۔زیادہ کے علاوہ اس نے آج تک کسی سے شکست نہیں کھائی۔ بہتر ہوگا اپنے ارادے سے باز رہیں۔“
وہ متبسم ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ کو تمھارا خلوص پسند آیا منقر،سامنے کھڑی بنو ضبع کی کنواریوں اور بیواﺅں میں اپنی بیوی پسند کرنے کا موقع ملکہ قُتیلہ تمھیں سب سے پہلے دے گی۔“
منقر کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں پیچھے ہٹ گیا تھا۔ اس دوشیزہ کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور پوشیدہ تھا جس نے اس کے دل کی دھڑکن کو تیز کر دیا تھا۔
امریل کے کہنے پر مقابلے کی شروعات ہوئی تھی۔قُتیلہ نے ایک گہری نظر بے پروائی سے تلوار پکڑے ضحاک پر ڈالی۔ جس کے ہونٹوں پر استہزائی ہنسی کھل رہی تھی۔
”ضحاک بن عتیک کو یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ ایک چھوکری کے ساتھ مقابلے کے لیے تماشائی بنا کھڑا ہے۔یقینا میں سرداری کے حصول کے لیے بھی کسی عورت سے مقابلے پر تیار نہ ہوتا،لیکن کیا کروں تمھاری شکل و صورت اور حسن نے اچھے بھلے کی تمیز بھلا دی ہے۔“
”تم مادہ ریچھ سے بھی زیادہ احمق ہوضحاک۔“(عرب کسی کی بے وقوفی ظاہر کرنے کے اسے ریچھنی ہی سے تشبیہ دیا کرتے تھے )زہریلے لہجے میں مشہور کہاوت دہراتے ہوئے وہ بجلی کے کوندے کی طرح اس کی جانب لپکی۔ضحاک بہ مشکل اس کا وار اپنی ڈھال پر سہار سکا تھا۔پہلے وار کے بعد قُتیلہ کی تلواردوبارہ اسی تیزی اور شدت سے ضحاک کے جسم کی طرف بڑھی تھی۔اس نے بے ساختہ چند الٹے قدم لے کر اپنی جان بچائی۔ایک دم اس کی بے نیازی اور بے پروائی پر سنجیدگی غالب آگئی تھی۔تلوار کے دستے پر گرفت جماتے ہوئے اس نے پینترا بدلا اور اپنی تلوار قُتیلہ کی تلوار سے بھڑا دی۔تلواروں کے ٹکرانے کی چھن چھناہٹ ابھری اور اس” چھن چھن “کے معدوم ہونے سے پہلے قُتیلہ کی ٹانگ پوری قوت سے اس کے پیٹ سے ٹکرا چکی تھی۔
پیٹ میں اٹھنے والے درد کی لہر پر بڑی مشکل سے قابو پاتے ہوئے وہ اچھل کر پیچھے ہوا اور پھر چند قدم الٹے پاﺅں ہٹتا گیا۔
قُتیلہ نے تلوار کو اپنے ہاتھ ہی میں پھرکی کی طرح گھما کر دائیں ہاتھ کو اپنے جسم کے چاروں طرف گھمایا۔یوں جیسے بغیر کسی مقابل کے لوگوں کے سامنے تلواربازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پھر چکر کاٹتے ہوئے وہ ضحاک کے قریب ہوئی۔ضحاک بھی تیار تھا۔اس نے تیزی سے ہاتھ گھمایا،اس کا وار قُتیلہ نے ہلکی سی جھکائی دے کر خطا کیا، ساتھ ہی اس کی تلوار ضحاک کی طرف بڑھی جسے اس نے ڈھال پر سہارا تھا لیکن اتنی دیر میں قُتیلہ نے بائیں ہاتھ میں تھامی مضبوط چرمی ڈھال پوری قوت سے اس کے چہرے پر دے ماری تھی۔ضحاک کے دودانت ٹوٹ کر باہر آگرے تھے۔خون تھوکتا ہوا وہ دوبارہ الٹے قدموں پیچھے ہٹا۔اب اس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی،پریشانی میں تبدیل ہوچکی تھی۔اس کے دماغ میں قُتیلہ کا تھوڑی دیر پہلے کہافقرہ گونجا….”اگر تمھارے ساتھیوں کے دل میں بھی ملکہ قُتیلہ سے شادی کی خواہش ہے تو تم مقابلے کے لیے اکٹھے میدان میں اتر سکتے ہو۔“
وہ اس وقت مذکورہ فقرے کی سنگینی پر غور نہیں کر سکا تھا۔بلا شبہ وہ فقرہ ایک دوشیزہ کے یاقوتی ہونٹوں سے ادا ہوا تھا۔وہ جس کی نقرئی آواز بھی سننے والوں کی سماعتوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی تھی،لیکن ان الفاظ کی ادائی کے پیچھے جو اعتماد تھا اس کا ادراک ضحاک کو اب ہو رہا تھا۔
گہرے سانس لے کر اس نے اپنی توانائی مجتمع کی اور پراعتماد انداز میں پینترے بدلتی دوشیزہ کی طرف متوجہ ہوا۔جس کی دُنبالہ آنکھوں سے نکلنے والی تپش اسے ہراساں کیے جا رہی تھی۔تلوار اس کے ہاتھوں میں یوں گھوم رہی تھی جیسے وہ ہاتھ میں رسی تھامے گھما رہی ہو۔اس نے آج تک کسی جنگجو کو اس چابک دستی سے تلوار گھماتے نہیں دیکھا تھا۔اتنی تیزی سے تو اس کا استاد زیاد بن تابوت بھی تلوار نہیں گھما سکتا تھا۔ضحاک کو اپنی عزت خاک میں ملتی محسوس ہو رہی تھی۔
پہلی بار اس پر نظر پڑتے وقت ضحاک کو محسوس ہوا تھا کہ وہ انسان نہیں کوئی اپسرا یا پری ہے۔ اور اس وقت بھی اسے یہی محسوس ہورہا تھا کہ وہ کوئی انسان نہیں ہے۔البتہ پری اور اپسرا کی تشبیہ کی جگہ بدروح یا چھلاوے نے لے لی تھی۔کیوں کہ اس تیزی سے حملہ آور ہوناکسی آدمی کے بس سے باہرہے۔
قُتیلہ اس کے قریب پہنچ چکی تھی۔تلواریں ایک بار پھر ٹکرائی تھیں،اس مرتبہ ضحاک نے اپنی لات،قُتیلہ کے پیٹ میں مارنے کی کوشش کی تھی۔پیچھے ہٹنے کے بجائے قُتیلہ نے پہلو بچاتے ہوئے اس کا وار خطا کیا۔ٹانگ کے ہدف پر نہ لگنے کی وجہ سے وہ ذرا سا لڑکھڑایااور قُتیلہ جیسی لڑاکا سے بعید تھا کہ وہ مخالف کی اس بے قاعدگی کا فائدہ نہ اٹھاتی۔
اس کے سنبھلنے سے پہلے قُتیلہ کی زوردار لات اس کے پہلو میں لگی۔ضحاک نے تلوار کی نوک ریت میں گاڑتے ہوئے دستے پرہاتھ ٹیک کر بڑی مشکل سے خود کو گرنے سے بچایاتھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی ڈھال قُتیلہ کی بجلی کے کوندے کی طرح لپکتی تلوار کے سامنے پکڑی اور پھر ایک دم قلابازی کھاتے ہوئے وہ قُتیلہ کی زد سے نکل گیاتھا۔زمین سے اٹھ کر دو تین قدم دوڑتے ہوئے اس نے قُتیلہ سے مزید فاصلہ پیدا کیا تھا۔اس کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔ پسینے کی دھاریں چہرے پر ایک تسلسل سے رواں تھیں۔
اس کے برعکس قُتیلہ کا سانس بالکل ہموار چل رہا تھا۔البتہ پسینے کے قطرے اس کی شفاف گندمی جلد پر موتیوں کی طرح پھسل رہے تھے۔ یہ علاحدہ بات کہ وہ خوش کن نظارہ ضحاک کے دل کو نہیں لبھا رہا تھا۔موت کے فرشتے کی صورت اتنی خوب صورت بھی ہو سکتی ہے یہ ضحاک کو آج پتا چلا تھا۔
قُتیلہ کے قریب پہنچنے تک وہ سنبھل گیا تھا۔دونوں کی تلواریں ایک تسلسل سے چند بار ٹکرائیں۔اور پھرضحاک نے پوری مہارت استعمال میں لاتے ہوئے ایک زور دار وار کیا جسے قُتیلہ نے ڈھال پر سہار اتھا۔اس کے ساتھ ہی ضحاک نے ایک دم گھٹنازمین پر ٹیکتے ہوئے پوری قوت سے دوبارہ تلوارگھمائی، اب کے قُتیلہ کے ہاتھ میں پکڑی ڈھال کی وجہ سے اس نے قُتیلہ کے پیٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔یہ ضحاک کا خصوصی داﺅ تھا۔
قُتیلہ کے لیے پیچھے ہٹنے یا نیچے جھک کر وار خطا کرنے کا موقع ختم ہو چکا تھا۔وہ صرف اپنے بدن کو زمین پر گرا کر اس وار سے بچ سکتی تھی لیکن ایسا ہونے کی صورت میں ضحاک کا اگلا وار بچانے کا موقع اس کے پاس موجود نہ ہوتا۔وہاں موجود ہر اچھے شمشیر زن کے دماغ میں دو جمع دو چار کی طرح وہ صورت حال واضح تھی۔تمام یہی سوچ رہے تھے کہ قُتیلہ کو ضحاک کو ایسا موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے تھا۔البتہ امریل اور ملکان مطمئن انداز میں مسکرا ئے تھے۔کیوں کہ ان دونوں کو اچھی طرح پتا تھا کہ قُتیلہ کا ضحاک کو ایسا موقع فراہم کرنا وہ چارہ تھا جس پر مچھلی جھپٹ چکی تھی۔
ضحاک کی تلوار قُتیلہ کے بدن کے قریب پہنچی۔اس نے نہ پیچھے ہٹنے کی کوشش میں خود کوزخمی کرانا گوارا کیا،نہ زمین پر گرنے کی حماقت کی اورنہ اتنے زوردار وار کے سامنے ترچھی تلوار تھامنے کی بے وقوفی کی۔ اس کے بجائے ایک دم اس کا گھٹنوں سے اوپری بدن اس باریک اورلچک دار پودے کی طرح پیچھے کو جھکا جسے تیز ہوا کا سامنا ہو۔ضحاک کی تلوار اس کے جسم سے ہاتھ بھر اوپر سے گزر گئی تھی۔ تلوار کے گزرتے ہی وہ اسی تیز ی سے واپس ہوئی جس تیزی سے پیچھے کو جھکی تھی۔تلوار کوپوری قوت سے گھمانے کی وجہ سے ضحاک لڑکھڑا گیا تھا۔ اور اس سے پہلے کہ سنبھل پاتا اس کے کندھوں پر قُتیلہ کی زوردار لات لگی۔اگر وہ زانو حالت میں نہ ہوتا تو شاید یہ لات اس کی تشریف پر لگی ہوتی۔ وہ منھ کے بل نیچے گراتھا۔ایک دم کروٹ بدلتے ہوئے اس نے قُتیلہ سے دور ہٹنے کی کوشش کی مگر اب قُتیلہ اسے کوئی ڈھیل نہیں دینا چاہتی تھی۔
ڈھال کو ہاتھ سے پھینکتے ہوئے اس نے تلوار کے دستے کو دونوں ہاتھوں میں تھاما اور جیسے ہی ضحاک کی دوسری کروٹ پوری ہوئی تلوار کی نوک کو زمین کے رخ نیچے لاتے ہوئے قُتیلہ نے پوری قوت سے ضحاک کی ران میں اتار دیا تھا۔ ضحاک کے ہونٹوں سے نکلنے والی اذیت بھری چیخ سن کر کئی بچے چلا اٹھے تھے۔تلوار ران کے گوشت کو چیرتی ہوئی دوسری جانب نکل گئی تھی۔تلوار کو اس کی ران میں گڑا چھوڑ کر قُتیلہ نے پاﺅں کی ٹھوکر سے ضحاک کے ہاتھ سے تلوار دور پھینکی اورجھک کر اس کے ہاتھ سے ڈھال بھی چھین لی۔
اور پھراس کی ران میں گڑی تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھ کر ذرا سا گھماتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔ ”اب بتاﺅ،کیا نام ہے ملکہ قتیلہ کا؟“
وہ فوراََ بولا۔”م….مم….ملکہ قُتیلہ ….ملکہ قُتیلہ ….“تکلیف کی شدت سے اس کی صورت مسخ ہو گئی تھی۔
”بنو طرید والے ذرا اونچا سنتے ہیں،اپنی زبان کو دوبارہ زحمت دو۔“قُتیلہ نے تلوار کو گھمانا جاری رکھا تھا۔
”آہ ہ ہ ….“وہ کرب ناک انداز میں چلاتے ہوئے بولا۔”ملکہ قُتیلہ ….آپ کا نام ملکہ قُتیلہ ہے۔میں بھی آئندہ ملکہ قُتیلہ ہی کہوں گا۔م….مم مجھے معاف کر دو ملکہ قُتیلہ….“اذیت سے اس کا جسم لرزنے لگا تھا۔بنو ضبع کی زیادہ تر عورتوں نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔اس کی زخمی ٹانگ سے بھل بھل خون نکل رہا تھا۔اور اس کا پورا جسم تشنج کے مریض کی طرح جھٹکے لے رہا تھا۔
ایک جھٹکے سے تلوار پیچھے کھینچتے ہوئے قُتیلہ نے پاﺅں کی بھرپور ٹھوکر اس کے چہرے پر رسید کی۔ایک اور دانت سے محروم ہوتے ہوئے وہ پیچھے گر گیا تھا۔
”منقر بن اسقح….“وہ بنو عقرب کے بڑے کو مخاطب ہوئی۔
”جی ملکہ۔“اس بار منقر کے لہجے میں شامل ادب پہلے سے بڑھ گیا تھا۔
”اس کا خون روکو….فی الحال ملکہ قُتیلہ اسے زندہ رہنے کاایک موقع دے رہی ہے۔“
”جی ملکہ قُتیلہ۔“کہہ کر منقر بھاگ کر اذیت سے تڑپتے ضحاک کے قریب پہنچااور اپنی چادر اس کے زخم پر کس کے لپیٹنے لگا۔
”اگلی باری کس کی ہے۔“قُتیلہ نے ضحاک کے ساتھ باہر نکلنے والوں سے دریافت کیا تھا۔ تمام نے سر نیچے کرتے ہوئے خاموشی سادھ لی تھی۔
وہ دوبارہ بولی۔”جو جانا چاہتا ہے فوراََ بھاگ جائے۔“
دو تنومند مرد قُتیلہ کو زہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے وہاں سے چل دیئے تھے۔قُتیلہ نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کوکس نام سے پکارو گے ؟“اس نے بچ جانے والے تین مردوں سے پوچھا۔
”ملکہ قُتیلہ….“تمام بیک زبان بولے تھے۔رشاقہ بھی کہنے والوں میں شامل تھی۔وہ سر اٹھا کر قُتیلہ کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔وہ خود بہترین لڑاکا تھی لیکن قُتیلہ کو لڑتے دیکھ کر اس کی خود اعتمادی کے غبارے سے ہوا نکل گئی تھی۔
وہ امریل اور ملکان کی طرف مڑی۔ دونوں آنکھوں میں ستائش وعقیدت لیے اس کی جانب متوجہ تھے۔”بنو عقرب کے جوانوں میں ہتھیار بانٹ دو۔“
وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے ہتھیاروں کے ڈھیر کی جانب بڑھ گئے تھے۔اہل بنو ضبع کے جھونپڑوں اور خیموں سے ملنے والی تلواریں،برچھیاں،نیزے اور تیر کمان وغیرہ ان میں بانٹ دیئے گئے تھے۔وہاں سے حاصل ہونے والے گھوڑوں کی تعداد کم تھی۔البتہ اونٹ کثیرتعداد میں حاصل ہوئے تھے۔ صرف سردار قبیلہ رزاح کے سو سے زیادہ اونٹ تھے۔
”امریل ان دونوں کے جانے کی سمت نگاہ میں رکھنا۔“اسے دبے لہجے میں کہہ کر وہ اصرم کی طرف متوجہ ہوئی ….
”وہ جَردہ(صحرائی ریت کے رنگ کا گھوڑا)رشاقہ بنت زیادہ کے حوالے کردو۔“
اصرم نے۔”جی ملکہ۔“کہہ کر گھوڑے کی لگام پکڑی اور رشاقہ کے ہاتھ میں تھمادی۔ وہ حیرانی سے اسے گھورنے لگی تھی۔
اصرم نے کہا۔”ملکہ قُتیلہ کے حکم پریہ تمھارا ہوا۔“
رشاقہ کے چہرے پر خوش گوار حیرت نمودار ہوئی۔اس نے ممنونیت بھری نظروں سے قُتیلہ کی جانب دیکھا مگر وہ کسی اور جانب متوجہ تھی۔
ہتھیار اور سواریوں کی تقسیم کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر سب کے سامنے آئی۔
” تمام عورتیں اور لڑکیاں سن لیں،ملکہ قُتیلہ نے تمھارے مردوں کو اس لیے ہلاک کیا کہ وہ اسی قابل تھے۔انھوں نے ملکہ قُتیلہ کے قبیلے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔البتہ تمھارا کوئی قصورنہیں تھا اس لیے ملکہ قُتیلہ نے مردوں کو علاحدہ کر کے ان کے ناپاک وجود سے سینہ ءزمین کو نجات دی۔لڑائی میں قید ہونے والوں کی حیثیت لونڈی و غلام کی ہوتی ہے۔لیکن ملکہ قُتیلہ تمھیں لونڈی نہیں بنائے گی۔ تمھاری شادیاں کرائے گی تمھیں آزاد عورت کے حقوق ملیں گے۔تمھارے بچوں کو کھانا ملے گا، تمھیں امن دیا جائے گا۔بنو ضبع نے بنو قیشرہ کو اجاڑ دیا،بنو عقرب کا صفایا کر دیااور خود بھی برباد ہوا۔اب تم سب جس قبیلے میں ہواس کا نام بنو طرید ہے۔یہاں بنو قیشرہ بنو فزار، بنو عیان،بنو عقرب یا بنو نسر کا نام لے کر کسی فخر و غرور کا اظہار نہیں کیا جائے گا۔یہاں کوئی دخیل نہیں ہوگا۔سب بنو طرید کے باسی ہوں گے اور اب ہمارا مرنا جینا بنوطرید کے لیے ہو گا۔“اتنا کہہ کر وہ ایک لمحے کو خاموش ہوئی۔اور پھر منقر بن اسقح کو مخاطب ہوئی ۔” ملکہ قُتیلہ کے وعدے کی تکمیل کا وقت آن پہنچا ہے۔رشاقہ کے علاوہ تم کسی بھی لڑکی پر ہاتھ رکھ سکتے ہو۔“
”شکریہ ملکہ قُتیلہ۔“کہہ کر اسقح نے بنو ضبع کی عورتوں پر سرسری نظر دوڑائی اور ایک سہمی ہوئی خوش شکل لڑکی کا ہاتھ تھام لیا۔
”قیراون بن اخلد۔“قُتیلہ نے بنو قیشرہ کے اس جوان کو دعوت دی جس نے قُتیلہ سے شادی کی خواہش کی تھی۔
”ملکہ کو میرے دل کا حال معلوم ہے۔“قُتیلہ کو چاہت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے قیروان نے انکار میں سر ہلا دیا تھا۔ایک لمحے کو قُتیلہ کے گندمی چہرے پر سرخی نمودار ہوئی تھی،لیکن جب وہ بولی تو اس کے لہجے میں غصہ شامل نہیں تھا۔”یقینا تم شیر کی جھاڑی سے تیتر تلاش کررہے ہو۔“(یعنی ایسا ہونا ناممکن ہے )
قیروان امید بھرے لہجے میں بولا۔”دنیا امید پر قائم ہے ملکہ۔“
رخ موڑتے ہوئے قُتیلہ نے اگلا نام پکارا۔
”امریل بن خرشہ۔“
”غلام کسی لڑکی کی ضرورت محسوس نہیں کرتامالکن۔“
”ملکان بن نول کے لیے تو طبقہ ہی کافی ہو گی۔“اس کی جانب دیکھتے ہوئے قُتیلہ کے ہونٹوں پر تبسم ابھرا۔
ملکان نے بے شرمی سے دانت نکالتے ہوئے سر ہلادیا تھا۔
قُتیلہ ایک ایک کرکے تمام مردوں کو دعوت دیتی گئی،یہاں تک کہ تمام عورتوں کوتقسیم کر دیا گیا۔چند مردوں کو تو دو دو عورتیں ملی تھیں۔
عورتوں کے تقسیم کے بعد اس نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔”تمام مرد اپنی ہونے والی بیوی کا ہاتھ تھام کر ان کے ساتھ مہر طے کر لیں۔“
ہلکی سی بھنبھناہٹ ابھری جو چند لمحے جاری رہی اور پھر خاموشی چھا گئی تھی۔
قُتیلہ نے پوچھا۔”کیا تمام عورتوں کو یہ مرد قبول ہیں جنھوں نے ان کے ہاتھ کو تھاما ہوا ہے؟“
کچھ نے ہلکی آواز اورکچھ نے بلند آواز میں۔”ہاں “کہا تھا۔
قُتیلہ نے اگلے الفاظ دہرائے۔”کیا تمام مروں کو یہ عورتیں قبول ہیں جو اپنے ہاتھ تمھارے ہاتھوں میں دے چکی ہیں ؟“
”قبول ہیں۔“مردوں نے خوشی سے چہکتے ہوئے باآواز بلند کہا تھا۔
وہ پر رعب لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ ہر اس عورت کو اس مرد کے نکاح میں دیتی ہے جس کے ہاتھ میں وہ اپنا ہاتھ دے چکی ہے۔“یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکی اور پھر بولی۔”تمام کو ملکہ قُتیلہ کی طرف سے شادی مبارک ہو۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: