Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 32

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 32

–**–**–

شادی کی مختصر تقریب کے بعد قُتیلہ کے حکم پر بنو ضبع کاکارآمد سامان ایک جگہ جمع کر کے اونٹوں پر لادا جانے لگا۔اس ضمن میں قُتیلہ نے عورتوں کو اپنے اپنے گھر کے سامان کا مالک بنا دیا تھا۔سہ پہر تک وہ کوچ کرنے کے لیے تیار تھے۔بچوں اور عورتوں کو اونٹوں کے کجاوں میں بٹھادیا گیا۔تمام مرد گھوڑوں پر سوار تھے۔قافلے کے حرکت کرتے ہی قُتیلہ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ کر قافلے کو فخر وغرور سے دیکھ رہی تھی۔اس کے عقب میں ملکان اور امریل کھڑے تھے۔وہ اپنے قبیلے کو پہلے سے مضبوط کر چکی تھی۔
اصرم بن خسار،قیروان بن اخلد کے گھوڑے کے متوازی گھوڑا لاتے ہوئے تنبیہ کرنے والے انداز میں بولا۔”وہ افعی سے بھی زیادہ ظالم ہے۔“(افعی عرب کازہریلا ترین سانپ ہے۔اس کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔عرب جب کسی کو بہت زیادہ ظالم سمجھتے تو اسے افعی سے تشبیہ دیتے تھے)
قیروان بے پروائی سے بولا۔”لیکن مجھے فاختہ سے بھی معصوم لگتی ہے۔“
”زندگی اتنی بے قیمت تو نہیں ہے۔“اصرم نے اسے ڈرانے کی کوشش جاری رکھی۔
”اس کے بغیر یقینا بے وقعت ہے۔“قیروان کے لیے وہ نصیحتیں بے کار تھیں۔
اصرم نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔”کیا تمھیں امیدہے کہ اس کا ایک وار بھی سہار پاﺅ گے۔“
قیروان دل پر ہاتھ رکھ کر عاشقانہ لہجے میں بولا۔”اسے تلوار سونتنے کی ضرورت ہی کیا ہے، میرا دل تو اس مِرگ نین(ہرن کی سی آنکھوں والی )کی نگاہوں کے تیروں ہی سے چھلنی ہو چکا ہے۔“
اصرم فیصلہ کن لہجے میں بولا۔”مجھے تمھارے سانس گھٹتے نظر آرہے ہیں۔“
قیروان بے پروائی سے بولا۔”اگر وہ نہ ملی تب بھی بچنا مشکل ہے تو کیوں نہ اس کے حصول کی کوشش میں جان دی جائے۔“
اسے ملامت بھری نظروں سے گھورتے ہوئے اصرم نے گھوڑے کی رفتار بڑھا ئی اور اس اونٹ کے قریب ہو گیا جس پر اس کی دلھن سوار تھی۔
قُتیلہ آخری اونٹ کے گزرنے تک وہیں کھڑی قافلے کو دیکھتی رہی۔قافلے کے گزرتے ہی وہ ملکان کو مخاطب ہوئی۔
”ملکان قافلے کو احتیاط سے لے جانا،اندھیرا چھاتے ہی کسی مناسب جگہ پر پڑاﺅ ڈال لینا۔ رات کو پہرے دار مقرر کرنے سے لاغرضی نہ برتنا۔ ملکہ قُتیلہ اور امریل تمھیں جلد ہی آن ملیں گے۔“
ملکان نے پوچھا۔”کہاں کا ارادہ ہے ملکہ ؟“
وہ تفصیل بتاتے ہوئے بولی۔ ”دو آدمی دل میں کینہ لیے یہاں سے رخصت ہوئے ہیں۔انھیں یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ ملکہ قُتیلہ اس وقت کہاں ہے،اگر بنو احمر والوں کو اس کی بھنک بھی پڑ گئی تو مشکل میں پڑ جائیں گے۔“
ملکان تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”آپ بہت دور تک سوچتی ہیں ملکہ۔“
”سردار کا کام سوچنا ہی ہوتا ہے۔“اسے جواب دے کر وہ امریل کو مخاطب ہوئی۔”چلو۔“
ملکان قافلے کی طرف چل پڑا تھا جبکہ وہ امریل کی رہنمائی میں اس ٹیلے کی طرف بڑھ گئی جس کے پیچھے وہ غائب ہوئے تھے۔ٹیلے کے دوسری جانب وہ گھوڑے سے نیچے اتری اور ریت پر ان کے پاﺅں کے نشان ڈھونڈنے لگی۔امریل بھی نیچے اتر آیا تھا۔ایک پاﺅں کے نشان کے گرد دائرہ کھینچ کر وہ مشرق کی جانب اشارہ کر کے بولی۔”یہ تازہ نشان ہیں وہ اور اس طرف گئے ہیں۔“
امریل نے حیرانی سے پوچھا۔”مالکن کھوج لگانابھی جانتی ہے۔“
قُتیلہ مسکرائی۔ ”تمھیں حیرانی ہوئی۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”اب ملکہ قُتیلہ کے کسی کام پر حیرانی نہیں ہوتی۔“
”ملکہ قُتیلہ نے یہ فن بنو نسر کے ماہر کھوجی چچا غبشان بن عبشہ سے سیکھاتھا۔“
امریل سر ہلا کر رہ گیا تھا۔فرلانگ بھر کا فاصلے طے کرتے ہی ایک دم قُتیلہ نے گھوڑے کی لگام کھینچی۔اور نیچے اترتے ہوئے بڑبڑائی۔
”بری خبر۔“
”کیا ہوا مالکن؟“امریل پریشان ہو گیا تھا۔
”یہاں سے انھیں سواری مل گئی تھی۔دو اونٹ ہیں۔“وہ چھلانگ لگا کر سوار ہوئی اور گھوڑے کو ایڑھ لگاتے ہوئے بولی۔”انھوں نے جو سمت اختیار کی ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ آگے جا کر انھیں وادی کا سہارا مل جائے گا۔“
امریل نے بھی گھوڑے کو پوری رفتار سے بھگا دیا تھا۔سورج آہستہ آہستہ نیچے اتر رہا تھا۔ غروب آفتاب سے پہلے قُتیلہ اس بات کا یقین کر لینا چاہتی تھی کہ وہ وادی ہی میں اتر کر آگے بڑھ رہے ہیں۔اس کے برعکس ہونے کی صورت وہ سہولت سے ان کا تعاقب نہ کرسکتے۔کیوں کہ اندھیرے کی وجہ سے وہ نقش پا گم کر بیٹھتے اور اگر صبح کی روشنی کا انتظار کرتے تورات کو چلنے والی ہوا پاﺅں کے نشانات کو مٹا دیتی۔سب سے بڑھ کر ان کی منزل متعین نہیں تھی اور بنو عقرب کی تباہی کے بعد یہ اندازہ لگانا دشوار تھا کہ وہ کہاں کا ارادہ کیے ہوئے تھے۔
تھوڑا دور آکر قُتیلہ نے ایک بار پھر گھوڑا روکا۔ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے اس نے اونٹوں کے نقش پا کو دیکھا۔”اس طرف مڑے ہیں۔“کہہ کر وہ شمال کی جانب مڑ گئی تھی۔
امریل نے اندازہ لگایا۔”اس کا مطلب ہے وہ وادی کی طرف نہیں جانا چاہتے۔“
قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”دونوں اس علاقے سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں۔یہ وادی لمبا چکر کاٹ کر جس مقام پر پہنچ رہی ہے وہ ناک کی سیدھ میں وہاں پہنچا چاہتے ہیں۔“
”امید ہے ہم جلد ہی انھیں جالیں گے۔“امریل نے امید ظاہر کی۔
وہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے بولی۔”غلط فہمی ہے تمھاری،اونٹوں کے نقش پا کا درمیانی فاصلہ دیکھو، وہ پوری رفتار سے اونٹوں کو بھگاتے ہوئے جا رہے ہیں۔ملکہ قُتیلہ کو اگر ذرا بھی شبہ ہوتا کہ وہ سواری ڈھونڈ لیں گے تو انھیں اتنی ڈھیل نہ دیتی۔ “
”گویا انھیں تلاش کرنا ممکن نہیں رہا۔“
اس کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ ابھری۔”ملکہ قُتیلہ نے ایسا تو نہیں کہا۔“
امریل بھی مسکرا دیا تھا۔
اپنے گھوڑوں کو تیز رفتاری سے دوڑاتے وہ غروب آفتاب کے وقت وادی کے کنارے پہنچ گئے تھے۔دونوں اونٹوں کے پاﺅں کے نشانات وہیں سے وادی میں داخل ہو رہے تھے۔اس سے آگے وہ وادی ہی میں چلتے گئے تھے۔
پاﺅں کے نشانات کو وادی میں بڑھتا دیکھ کر قُتیلہ کے چہرے اطمینان ابھر آیا تھا۔اندھیرا گہرا ہورہا تھا لیکن وہ رکنے پر آمادہ نہیں تھی۔
”امریل تم وادی کے دائیں کنارے کو دیکھتے جانامیں بائیں جانب نظر رکھتی ہوں،اگر انھوں نے رکنے کا فیصلہ کیا تو موذی جانوروں سے بچنے کے لیے آگ ضرور روشن کریں گے۔“
امریل اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دائیں جانب حد نگاہ تک نظریں دوڑانے لگا۔اب وہ گھوڑوں کو دلکی چال میں دوڑا رہے تھے۔
٭٭٭
عریسہ نے شریم کوحکیم قنعب بن عبد شمس کا دیا ہوا سفوف پانی میں گھول کر پلایااور اس کا سر دبانے لگی۔شریم اور قبیلے کے بچ جانے والے باقی بوڑھوں نے سردار شریک بن ثمامہ اور اس کی بیوی عاقدہ کے قتل کی تفصیلات بڑی توجہ سے سنی تھیں۔یہ سن کر وہ ششدر رہ گئے تھے کہ بنو جساسہ کی سرداری کا حقیقی جانشین اب تک زندہ تھا۔البتہ اس کی گمشدگی کی مدت اتنی طویل تھی کہ وہ اسے تلاش کرنے کی کوشش تو کیا اس متعلق سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
شریم کی بیٹیاں اور بیوی بنو اسد میں ثانیہ بنت شریک کے ہاں موجود تھیں۔انھیں بھی اپنے قبیلے کی تباہی کے بارے علم ہو چکا تھااس کے ساتھ انھیں اپنے والدکے بچ جانے کا بھی پتا تھا۔لیکن شریم نے انھیں فی الحال بنو اسد ہی میں رکنے کی تاکید کی تھی۔
شریم کو بنو جساسہ کے قافلے کی آمد کا انتظار تھاکیوں کہ قافلے میں موجود تیس چالیس جوانوں کی مدد ہی سے وہ بنو جساسہ کی تعمیر نو پر توجہ دے سکتا تھا۔ حکیم قنعب بن عبد شمس کے مشورے پر عریسہ نے شریم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔اس کی مرہم پٹی کرنا،کپڑے تبدیل کرانا،بول بزار کی حاجت میں سہارا دینا۔یہ تمام وہ کام تھے جنھیں ایسی عورت اچھے طریقے سے سر انجام دے سکتی تھی جس کے ساتھ قریب کا تعلق ہو اور یہ بات قبیلے کے تجربہ کار اور جہاندیدہ افرد کی نظر سے اوجھل نہیں تھی۔انھوں نے عریسہ کی آمد کے چند دن بعد ہی اس کا شریم سے نکاح پڑھوا دیا تھا۔اجڑے پجڑے قبیلے کے زخمی سردار کی بیوی بنتے ہوئے بھی عریسہ خوشی سے رو دی تھی۔اسے شدت سے قُتیلہ کی یاد آئی۔نجانے اس کی جان سے پیاری شہزادی کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھا رہی تھی۔
٭٭٭
مالک بن شیبہ ایک بڑے قافلے کے ہمراہ بنو کاظمہ کے راستے واپس آرہا تھا۔بنو کاظمہ سے نکلنے کے بعد ان کا تیسرا پڑاﺅبنو نوجل کے مضافات میں آیا تھا۔ شام کو وہ اپنے منجھلے بھائی مروان بن شیبہ کے ساتھ بنو نوجل میں موجود ایک دوست کو ملنے گیا۔عقبہ بن مضرس اور اس نے ایک قافلے میں اکٹھے سفر کیا تھا۔تبھی اس کے ساتھ اچھی گپ شپ ہوئی تھی۔ اب اتفاق سے امیر قافلہ نے بنو نوجل کے مضافات میں پڑاﺅ ڈالا تو اس کا دل پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے مچل اٹھاتھا۔
ایک دو آدمیوں سے عقبہ کے گھر کا پتا پوچھ کر وہ اس کے مکان کے باہر پہنچ گئے تھے۔ان کے پکارنے پر دس بارہ سال کے ایک لڑکے نے باہر جھانکااور عقبہ کے متعلق پوچھنے پر سر ہلاتا ہوا اندر بھاگ گیا۔تھوڑی دیر بعد عقبہ بن مضرس ان سے بغل گیر ہورہا تھا۔
رسمی کلمات کی ادائی کے بعد وہ انہیں گھر میں لے گیا تھا۔کھجور کے پتوں سے بنی چوڑی حصیر(چٹائی)پر انھیں بٹھاتے ہوئے،عقبہ نے اپنی بیوی کو کھانا تیار کرنے کا کہا اور مالک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں بولا۔
”سب سے پہلے تو میں آپ کو پیش آنے والے حادثے کی تعزیت کرنا چاہوں گا۔یقین مانو کافی دنوں سے ارادہ کر رہا تھا کہ آپ کی طرف سے ہو آﺅں لیکن مصروفیات کی وجہ سے عمل نہ کر پایا۔“
”میں سمجھا نہیں۔“مالک ششدر رہ گیا تھا۔
عقبہ نے وضاحت کی۔”میں بنو جساسہ پر ہونے والے حملے کے بارے بات کر رہا ہوں۔“
”کیسا حملہ ؟“مالک کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔
عقبہ بن مضرس نے الجھے ہوئے انداز میں پوچھا۔”تم سفر سے لوٹ رہے ہو یا جا رہے ہو؟“
مالک سرسراتے ہوئے لہجے میں بولا۔”واپس آرہے ہیں۔“
”معاف کرنا دوست،کوئی اچھی خبر تو نہیں سنا رہالیکن سننے میں آیا ہے کہ بنو نوفل نے رات کی تاریکی میں بنو جساسہ پر حملہ کر کے پورے قبیلے کو برباد کر دیا۔تمھیں دیکھ کر مجھے لگا تھا شاید جتنی تباہی سننے میں آئی تھی اتنی نہیں ہوئی ،لیکن لگتا ہے ایسا نہیں ہے۔“
”حملہ،مگر کیوں ….؟“مالک کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی تھی۔اس کے چھوٹے بھائی مروان کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
”اڑتی اڑتی خبریں ہی پہنچی ہیں،آپ کے قبیلے میں موجود کسی فارسی غلام نے بنو نوفل کے سردار زادے کو قتل کیا اور پھر دیت وغیرہ کی ادائی پر دونوں قبیلوں کا کوئی اتفاق نہ ہو سکااور یہ بات اہل بنو نوفل کے حملے کی وجہ بنی۔“
”مگر یشکر نے بنی نوفل کے سردار زادے کو کیوں قتل کیا؟“
”اس ضمن میں آپ کی چھوٹی ہمشیرہ بادیہ بنت شیبہ کا نام لیا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے یشکر نے یہ قدم اٹھایا۔بادیہ کی شادی بنو نوفل کے سردار زادے سے کر دی گئی تھی،مگر یشکر نے اسے قتل کر دیا۔ اور جب بنو جساسہ پر حملہ ہوا تو وہ بادیہ بنت شیبہ کو لے کر بھاگ گیا۔اب بنو نوفل کے گھڑ سواروں کی کئی ٹولیاں ان دونوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔“عقبہ نے جھجکتے ہوئے تفصیل بیان کی۔
اس بات چیت کے دوران عقبہ کی بیوی نے ان کے سامنے کھانا چن دیا تھا لیکن دونوں بھائیوں کی بھوک اڑ چکی تھی۔انھیں کھانے سے زیادہ تفصیل جاننے میں دلچسپی تھی۔اور پھر عقبہ کے پاس موجود تمام معلومات حاصل کر کے انھوں نے واپسی کی راہ لی۔عقبہ کے بہت زیادہ اصرار کے باوجود وہ کھانا نہیں کھا سکے تھے۔پڑاﺅ میں داخل ہوتے ہی مالک نے چھوٹے بھائی کو اپنے آدمیوں کو وہ افسوس ناک خبر پہنچانے کا کہا اور خود امیر قافلہ کے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔تھوڑی دیر بعد اسے تفصیل بتا کر وہ اپنے کوچ کے ارادے سے باخبر کر چکا تھا۔
جب وہ قبیلے والوں کے پاس پہنچا تو تمام غم و غصے سے بھرے اس کے خیمے کے سامنے موجود تھے۔
بغیر کسی تمہید کے وہ گویا ہوا۔”چاند ربع ثانی میں ہے اس لیے طلوع ماہ کے ساتھ ہم یہاں سے کوچ کریں گے۔“
تمام سر جھکائے اپنے خیموں کی طرف بڑھ گئے۔اس کے بعد نیند آنا ممکن نہیں تھا۔جب اکیس کے چاند نے جب مشرق سے سر ابھارا تو وہ جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔اب وہ کم سے کم آرام کر کے بنو جساسہ پہنچنا چاہتے تھے۔اس بار انھیں کافی منافع ہاتھ آیا تھا۔خود کو خوش قسمت گردانتے ہوئے وہ خوشی کے گھوڑے پر سوار تھے،لیکن قبیلے کی تباہی کا سن کر ان کی ساری خوشیوں پر پانی پھر گیا تھا۔
سورج کی تمازت جب ناقابلِ برداشت ہو گئی تبھی انھوں نے چند گھڑیوں کے لیے پڑاﺅ ڈالا تھا۔جونھی سورج مغرب کی جانب جھکا وہ آگے جانے کے لیے تیار ہو گئے۔اور پھر اس وقت تک ان کا قافلہ رواں دواں رہا جب تک ہاتھ کو ہاتھ سجھائی دینا بند نہ ہوا۔اور طلوع آفتاب کے ساتھ دوبارہ ان کا سفر شروع ہو گیا۔یونھی تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے ان کا تیسرا دن تھا۔سورج کی تمازت میں شدت آگئی تھی ان کی نگاہیں چند گھڑیوں کے آرام کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔ تبھی چوڑی وادی کا موڑ کاٹتے ہوئے ان کی نظریں وادی کے وسط میں کھڑے چند گھوڑوں پر پڑیں،ابھی تک وہ پورے حیران بھی نہیں ہوپائے تھے کہ ایک آدمی زور سے چیخا۔”یہاں ہر طرف لاشیں بکھری ہیں۔“
باقیوں کو بھی گھوڑوں کے ساتھ بکھرے پڑے انسانی جسم نظر آگئے تھے۔مالک بن شیبہ کے حکم پر تمام نے تلواریں نکال کرہاتھوں میں تھام لی تھیں۔ان کی نظریں وادی کے کناروں کی جانب سرگرداں ہو گئیں،مگر کوئی حرکت نظر نہیں آرہی تھی۔
قافلے والے اپنی جگہ پر رک گئے تھے۔مالک گھوڑا بھگاتے ہوئے آگے بڑھا۔ریتلی زمین پر پڑی لاشوں کو دیکھتے ہوئے وہ آگے بڑھتا گیا۔ایک جگہ پر اسے ایک عورت مرد کی لاش سے لپٹی نظر آئی۔اور پھر عورت کی لاش میں خفیف سی حرکت دیکھتے ہوئے وہ حیرانی سے اچھل پڑا تھا۔گھوڑے سے چھلانگ لگا کر نیچے اترتے ہوئے وہ چلایا۔”یہ زندہ ہے۔“
آگے بڑھ کر جونھی اس نے عورت کو سیدھا کیا،ایک دم آسمان اس کے سر پر آن گرا تھا۔وہ بادیہ تھی۔بے ہوشی کی حالت میں بھی وہ ہولے ہولے کراہ رہی تھی۔جس مرد کی لاش سے وہ لپٹی تھی اس کا چہرہ دیکھ کر مالک ششدر رہ گیا تھا۔وہ فارسی غلام یشکر تھا۔اپنی چھوٹی بہن کا اس حالت میں کسی مرد سے لپٹنا ظاہر کر رہا تھا کہ وہ اسے سب کچھ مانتی تھی۔
اس نے احتیاط سے بادیہ کو سیدھا لٹایا۔اس کے پیٹ پر بندھی خِمار(اوڑھنی) خون سے تر بتر تھی۔قبیلے کے چند اور جوان اس کے نزدیک پہنچ گئے تھے۔بادیہ کو پہچانتے ہی ان کی حیرانی کی انتہا نہیں رہی تھی۔
یشکر کی لاش کو ایک آدمی نے سیدھا کیا اور ایک دم چلا اٹھا۔”یہ بھی زندہ ہے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے یشکر کی چھاتی پر سر رکھ دیا تھا۔”بالکل زندہ ہے۔دل کی دھڑکن ذرا مدہم ہے لیکن سانس لے رہا ہے۔“
مالک کے حکم پر وہ باقی آدمیوں کا بھی جائزہ لینے لگے،مگر ان دو کے علاوہ کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔ان کے جسم اب تک گرم تھے جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ مقابلا تھوڑی دیر پہلے ہی ہوا تھا۔قافلے میں موجود کافی آدمیوں نے بنو نوفل کے دو تین آدمیوں کو پہچان لیا تھا۔اور اس کے بعد ساری کہانی کا اندازہ لگانا ان کے لیے دشوار نہیں تھا۔بنو نوفل کے سوار بادیہ اور یشکر کے تعاقب میں تھے اور اس جگہ ان کا ٹاکرا ہوا تھا۔ان کے دس بندوں کو ہلاک کر کے وہ خود بھی شدید زخمی ہوگیا تھا۔یشکر کے بارے مالک اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ ایک بہترین جنگ جو تھا،لیکن وہ اتنا ماہر لڑاکا تھا اس کا اندازہ اسے اس وقت ہو رہا تھا۔
اپنے چچا کا کمیت گھوڑا اور اپنے والد کا سفید گھوڑا بھی اس نے پہچان لیا تھا۔یشکر کی تلوار اس کے قریب ہی پڑی تھی۔سب سے پہلے تو مالک نے حکیم قنعب بن عبد شمس کے بیٹے بلتعہ بن قنعب کو زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کو کہا۔
مروان بن شیبہ اور اغلب بن شیبہ دونوں اپنی بہن بادیہ کی مرہم پٹی کے لیے بلتعہ کا ہاتھ بٹانے لگے۔بلتعہ نے اپنا دوائیوں والا تھیلا کھول کر مخصوص جڑی بوٹیوں کا سفوف نکالا اور بادیہ کے زخم پر ڈال کر اوپر سے دوبارہ پٹی باندھنے لگا۔
انھیں زخمیوں کے ساتھ مصروف چھوڑ کر مالک نے چند جوانوں کو وادی کے دائیں بائیں کناروں پر حفاظت کی غرض سے کھڑا کر دیاتھا۔اور اس کے بعد وہ قافلے میں موجود قبیلے کے تین معززین کو بلا کر مشورہ کرنے لگا۔
قبیلے کے مشیر مصدع بن عیسان کے چھوٹے بھائی فاخربن عیسان نے خیال ظاہر کیا۔”اگر بنو نوفل والوں تک ان لاشوں کی خبر پہنچ گئی تو وہ یہی سمجھیں گے کہ انھیں ہمارے قافلے والوں نے ہلاک کیا ہے،کیوں کہ یہ وادی کے درمیان میں پڑے ہیں اور ہمارے پیچھے آنے والے قافلے کو یہ لاشیں مل جائیں گی۔بغیر کسی محنت کے وہ ہمیں قصور وار ٹھہرائیں گے۔کوئی بھی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوگا کہ یہ ایک فارسی غلام کا کارنامہ ہے۔“
وہب بن مرشد کے بیٹے مساحق بن وہب نے کہا۔میں فاخر کی بات سے متفق ہوں۔“
حبال بن صمہ نے ان دونوں کی تائید میں سر ہلا دیا تھا۔
مالک نے گھمبیر لہجے میں پوچھا۔”خطرے سے کیسے نمٹا جائے ؟“
مساحق بن وہب نے کہا۔”بہتر ہو گا کہ تمام لاشوں کو دفن کر دیا جائے۔“
حبال نے پوچھا۔”ہتھیار اور گھوڑوں کا کیا کریں گے ؟“
فاخر بن عیسان نے جواب دیا۔”ہتھیاروں کو اپنے سامان میں چھپانا مشکل نہیں ہوگاباقی گھوڑوں کو ذبح کر کے کچھ کھا لیں گے اور کچھ گوشت کو خشک کر کے ذخیرہ کر لیں گے۔“
حبال بن صمہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا۔”گوشت کو خشک کرنے کے لیے تو کم از کم دو دن دھوپ میں پھیلانا پڑے گا۔“
مالک نے فاخر کی تجویز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔”بادیہ شدید زخمی ہے اور ایسی حالت میں ہمیں پڑاﺅ ڈالے بغیر چارہ نہیں ہے۔“
تمام کا اتفاق ہوتے ہی پہلے مرحلے میں انھوں نے بنونوفل والوں کی لاشیں دبائیں ۔اس کے لیے پھاﺅڑے موجود تھے۔نرم ریت میں کھدائی کے لیے کدالوں کی ضرورت نہیں تھی۔مالک کے حکم پر کافی گہرا گڑھا کھودا گیا تھا تاکہ جنگلی جانور لاشوں کو نہ نکال سکیں۔تمام لاشوں کو ایک ہی گڑھے میں ڈال کر انھوں نے اوپر ریت ڈال دی تھی۔تین آدمیوں کومالک نے نخلستان وغیرہ کی تلاش کے لیے بھیجا تھا تاکہ وہاں پڑاﺅ ڈالا جا سکے۔ان کے لاشیں دفن کرنے تک وہ لوٹ آئے تھے۔وہاں سے فرسخ بھر دور وادی کے کنارے موجود نخلستان انھیں پڑاﺅ کے لیے بہترین لگا تھا۔
حکیم بلتعہ بن قنعب اس دوران بادیہ اور یشکر کی مرہم پٹی کر چکا تھا۔یشکر کے پیٹ کا زخم گہرا اور خطرنا ک تھا اس وجہ سے انھیں داغنے کی ضرورت پڑ گئی تھی۔چوڑے پھل کی دہکتی ہوئی تلوار کے زخم پر لگتے ہی یشکر نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولی ضرور تھیں مگر وہ شعور کی دنیا سے بہت دور تھا۔دو تین لمحوں بعد وہ دوبارہ بے ہوش ہو چکا تھا۔اس کے منھ میں انھوں نے زبردستی اونٹنی کا نیم گرم دودھ انڈیلا تھا۔
وہاں سے نخلستان تک جانے کے لیے انھوں نے یشکر اور بادیہ کو بہت احتیاط سے اونٹوں کے کجاوں میں لٹا کر لایا تھا۔
بنو نوفل والوں کے ایک گھوڑے کی تو ٹانگ کٹی ہوئی تھی اس کو تو انھوں نے اسی جگہ ذبح کر دیا تھا باقیوں کو نخلستان میں لا کر ذبح کیا گیا تھا۔عربوں کے نزدیک گھوڑا بہت قیمتی جانور ہے زمانہ قدیم میں تو اس کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ تھی کہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر جنگ لڑی جاتی تھی۔لیکن دشمن کے گھوڑے ان کے گلے کی ہڈی بن سکتے تھے اس لیے وہ انھیں ذبح کرنے پر مجبور تھے۔رات کو چار آدمیوں کو حفاظت کی ذمہ داری سونپ کر باقی سونے کے لیے لیٹ گئے تھے۔
رات گئے،مالک کو مراون کی سرگوشی سنائی دی۔”تو پھر کیا سوچا؟“
مالک نے حیرانی سے پوچھا۔”کس بارے۔“
مروان نے کہا۔”بادیہ کے بارے۔“
مالک امید بھرے لہجے میں بولا۔”عزیٰ نے چاہا تو جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی۔“
مراون نے عجیب سے لہجے میں کہا۔”میں اس کی صحت کے بارے فکر مند نہیں ہوں۔“
مالک بیزاری سے بولا۔”یار صاف صاف کہو میں بجھارتیں بوجھنے کی حالت میں نہیں ہوں۔“
”وہ بے ہوشی کی حالت میں کئی بار بڑبڑائی اور جانتے ہوئے اس نے کیا کہا؟“
مالک بیزاری سے بولا۔”بولتے رہو۔“
مروان تشویش ظاہر کرتا ہوا بولا۔”دو بار کہا،یشکر تمھارے بغیر بادیہ مر جائے گی۔ایک بار بولی،یشکر اپنی سردارزادی کو اکیلا چھوڑا تو خفا ہو جاﺅں گی۔تین چار دفعہ یونھی یشکر یشکر پکارااور آخری بار تو میرا خون ہی خشک کر دیا۔کہہ رہی تھی،یاد ہے وعدہ کیا تھا کہ اپنی شریک حیات کی حفاظت کرو گے۔“
مالک نے خیال ظاہر کیا۔”اس کا مطلب ہے وہ اپنی مرضی سے یشکر کے ہمراہ بھاگی تھی۔ اور یہ بھی کہ دونوں نے شادی کر لی ہے۔“
مروان نے اثبات میں سرہلایا۔”بالکل ایسا ہی ہے۔اور جونھی یہ بات باہر نکلی آلِ ثمامہ کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہےںگے ۔ ایک عجمی غلام کو اپنی بہن کا شوہر تسلیم کرنے سے بہتر ہے بہن ہی نہ رہے۔“
مالک دانت پیستے ہوئے بولا۔”اپنی ہانڈی کے نیچے آگ جلانے کے لیے میں اپنی کَڑی کے بجائے پڑوسی کا شہتیر جلانا پسند کروں گا۔“
”تمھارا مطلب ہے یشکر……..؟“مروان نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
مالک نے اثبات میں سرہلایا۔”تم ٹھیک سمجھے،ایک فارسی غلام کی جان میری اعلا نسب بہن سے قیمتی نہیں ہے۔“
”اسے قتل کر دیا تو لوگوں کے ہاتھ بات آجائے گی۔“مروان کے لہجے میں اندیشے چھپے تھے۔
”ہاں،لیکن خود بہ خود مر گیا تو کون پوچھے گا؟“
مروان نے پوچھا۔”ایسا ہوگا کیسے ؟“
”طلوع ماہ کے ساتھ میں ایک دم کوچ کا اعلان کروں گا۔اس سے تھوڑی دیر پہلے تم یشکر کو اٹھا کر پڑاﺅ سے ذرا دور لٹا دینا۔اور اس کا خیمہ لپیٹ دینا۔بادیہ کو چھوٹے بھائی اغلب کے ساتھ مل کر کجاوے میں لٹا دینا۔یشکر والے اونٹ پر خالی کجاوا لاد دینا۔اول تو کسی کو افراتفری میں یشکر کا خیال ہی نہیں آئے گا۔اور اگر کسی نے پوچھ بھی لیا تو گول مول جواب دے دینا کہ اونٹ میں کسی نے لٹا دیا ہوگا۔ دوپہر کو اگلا پڑاﺅ ڈالیں گے ۔ جونھی پتا چلے گا کہ یشکر کو ساتھ نہیں لایا گیا،میں تفتیش کر کے تم دونوں کو ذمہ دار ٹھہراﺅں گا اور حکم دوں گا کہ آرام کرنے کے بجائے اسے واپس لینے جاﺅ۔تم ایک دو کوس پیچھے آکر کسی سائے میں دوپہر گزار لینا اور سہ پہر ڈھلے واپس لوٹ کر بتا دینا کہ وہ باقی نہیں بچ سکا۔“
مروان معترض ہوا۔”باقی تو ٹھیک ہے مگر ہم نے پہلے طے کیا تھا کہ دو تین دن یہیں رہیں گے۔“
”اس کا بھی حل ہے۔“مالک مسکراتے ہوئے اسے تجویز بتانے لگا۔
مطمئن انداز میں سرہلاتے ہوئے وہ اٹھتا ہوا بولا۔”اب آپ آرام کریں میں اغلب کو دیکھتا ہوں وہ بادیہ کے ہمراہ اکیلا ہوگا۔“
اور مالک آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا۔مروان نے اغلب کے پاس جا کر پہلے اسے مالک سے ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا اور پھر دونوں بھائی اسی خیمے ہی میں لیٹ گئے تھے۔
رات کے تیسرے پہر مروان رفع حاجت کے بہانے اٹھا اور پہرے پر بیٹھے آدمیوں کو بتا کر پڑاﺅ سے تھوڑا آگے بڑھا۔اس وقت چو بیس پچیس کا چاند طلوع ہو چکا تھا لیکن اس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔پہرے داروں سے ذرا سے فاصلے پر آتے ہی وہ زور سے چلایا۔” کون ….؟“
ایک لمحے کو ٹھہر کر وہ دوبارہ چلایا۔”ٹھہرو،بھاگو مت ….کون ہو تم لوگ….“دو تین آوازیں دے کر وہ عجلت میں پیچھے بھاگا۔
”مجھے شک ہے وہ قذاق تھے۔“پہرے داروں کے دل میں شک کا بیچ بوتا ہوا وہ سیدھا امیر قافلہ مالک کے پاس پہنچا اور اسے جگا کر بہ ظاہر جوش خروش سے ساری بات بتا دی۔اس کے زور زور سے بولنے کی وجہ سے زیادہ تر آدمی جاگ گئے تھے۔
اس کی بات سنتے ہی مالک نے بغیر کسی سے مشورہ کیے فوراََ کوچ کا حکم دے دیا تھا۔قذاقوں کے خوف نے لوگوں کو زیادہ سوچنے کا موقع نہیں دیا تھا۔کوچ کا حکم ملتے ہی لوگ افراتفری میں خیمے لپیٹنے لگے۔تبھی مروان بھاگ کر بلتعہ کے خیمے کی طرف بڑھا۔یشکروہیں لیٹا تھا۔شور و غل کی آواز پر بلتعہ بن قنعب نہ صرف جاگ چکا تھا بلکہ اسے کوچ کی خبر بھی مل چکی تھی۔مروان نے اس کے ساتھ مل کر خیمہ لپیٹا اور اسے کہنے لگا۔
”تم جا کر اغلب کے ساتھ خیمہ لپیٹو میں اونٹوں پر کجاوے باندھتا ہوں۔“
بلتعہ بغیر کسی تکرار کے اغلب کے خیمے کی طرف بڑھ گیاتھا۔مروان نے اس کے جاتے ہی پہلی فرصت میں یشکر کو بازوﺅں میں بھرا اور پڑاﺅ سے دو تین سو قدم دور لا کر لٹا دیا۔ایک بار تو اس کے جی میں آیا تھا کہ اس کا گلا دبا کر کام مکمل کر دے،مگر پھر مرے ہوئے کو مارنا اسے عجیب محسوس ہوا تھا۔
وہ واپس بھاگتاہوا اونٹوں کے قریب پہنچا۔یشکر کے لیے اونٹ تیار کر کے اس نے بلتعہ کے خیمے کے قریب چھوڑا اور خود دوسرے لوگوں کی مدد کرنے لگا۔
دوسری جانب اغلب نے بلتعہ کو اپنے ساتھ مشغول کرنے کے بجائے مالک بھائی کے پاس بھیج دیا تھا۔مالک بار بار چلا کر تمام کو جلدی کرنے کا حکم دے رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد اونٹ لادے جا چکے تھے۔بلتعہ گھوڑا پکڑ کر اپنے سامان کے پاس پہنچا۔وہاں اسے یشکر نظر نہیں آیا تھا۔اونٹ پر لدا کجاوا دیکھ کر اسے محسوس ہوا مروان نے یشکر کو بھی کجاوے میں لاد دیا ہوگا۔یوں بھی یشکر اس کے لیے اتنا اہم نہیں تھا کہ وہ زیادہ تردد کرتا۔ایک عربی کے لیے عجمی غلام کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی۔
حفاظت کی غرض سے قافلے کے دونوں پہلوﺅں پر آٹھ آٹھ مسلح گھڑسوار مقرر کر کے مالک نے قافلہ کوچ کروا دیا۔اپنے اعلا نسب پر انگلی اٹھنے سے پہلے انھوں نے ایک غلام کی قربانی دے کراس کا سدّباب کر دیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: