Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 33

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 33

–**–**–

دس سواروں کی آمد خلیسہ کے لیے کسی حیرت کا باعث نہیں بنی تھی۔اس کے شوہر اعمیٰ بن مکیث نے وہ جھونپڑا ایسی جگہ پر بنایا تھا کہ وہاں عموماََ مسافروں کا گزر رہتا تھا۔اگر مسافروں کی گنتی تین چار سے زیادہ نہ ہوتی تو اعمیٰ انھیں زہریلی شراب سے ہلاک کر کے ان کامال و اسباب لوٹ لیتا اور یہی ان کی آمدن کا ذریعہ تھا۔ مسافروں کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں وہ کوئی خطرہ مول نہیں لیتا تھا اور مسافروں کی خدمت کر کے ان سے کچھ سامان اینٹھ لیتا۔ان دونوں کا تعلق بنو عبد کلال سے تھا۔ وہاں رہایش بنانے سے پہلے وہ قبیلے ہی میں رہتے تھے۔قبیلے میں رہتے ہوئے بھی اعمیٰ کی یہی روش تھی۔ اور ایک بار دو مسافروں کو ہلاک کرنے کے بعد وہ ان کی لاشوں کو ٹھکانے نہیں لگا پایا تھا کہ قبیلے کے سردار تک وہ بات پہنچ گئی تھی۔تحقیق کرنے پر اس پر الزام ثابت ہوا اورسردارِ قبیلہ نے اسے قبیلہ بدر کر دیاتھا۔ تب سے وہ اپنی بیوی کو ساتھ لیے وادی کنارے آ بسا۔ اب اس کی لوٹ مار کا کوئی گواہ نہیں تھا۔جانے اس کی لوٹ مار کتنا عرصہ جاری رہتی اگر اس کی ہلاکت کے لیے اللہ تعالیٰ یشکر کو مقرر نہ کرتا۔البتہ اپنے چھوٹے بچے کی وجہ سے خلیسہ کی جان بچ گئی تھی۔یشکر اور بادیہ کے جانے کے بعد بھی خلیسہ وہاں سے کہیں جانے کی ہمت نہیں کر سکی تھی۔
سہ پہر کو وہ دونوں رخصت ہوئے اور غروب آفتاب کے وقت دس سواروں کی ٹولی وہاں پہنچ گئی تھی۔انھوں نے پہلی فرصت میں بادیہ کا حلیہ بتا کر اس کے بارے پوچھا تھا۔
خلیسہ نے نہ صرف بادیہ کو پہچان لیا تھا بلکہ اس کا اور یشکر کا نام بتا کراس نے بنو نوفل کے سواروں کو بھی سو فیصد یقین دلا دیا تھا کہ ان کے مطلوبہ افراد اسی رستے پر گامزن تھے۔
خلیسہ کو امید تھی کہ وہ سوار اس معلومات کے بدلے اسے انعام وغیرہ دیں گے لیکن انھوں نے تو وہ رات اس کے لیے جہنم بنا دی تھی۔اس کی دو بکریاں ذبح کر کے انھوں نے ضیافت اڑائی، اس کے پاس موجود تمام شراب کا صفایا کیا اور پوری رات اسے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنے بچے کو دودھ ہی پلا سکے۔ صبح صادق کووہ اسے سسکتا بلکتا چھوڑ کر رخصت ہوئے۔اور ان کے دفع ہوتے ہی اس نے ٹوٹے پھوٹے بدن کو گھسیٹے ہوئے خیمے کی طنابیں کھولیں،انھیں لپیٹ کر اونٹنیوں پر لادا اور بنو عبدکلال کی راہ لی۔ دوپہر کے وقت وہ سردارِ قبیلہ کے سامنے کھڑے ہو کر وہاں رہنے کی اجازت مانگ رہی تھی۔
اس کے بہت زیادہ منت کرنے کے باوجود سردار نے اسے قبیلے میں رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ پہلی بار قبیلہ چھوڑتے وقت اسے کوئی فکر نہیں تھی کہ شوہر اس کے ساتھ تھا۔لیکن اس بار بنو عبد کلال سے دھتکارے جانے کے بعد اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کہاں جائے۔صحرائے اعظم میں اکیلی عورت کن مصائب کا شکار ہو سکتی تھی اس کے لیے گزشتہ شب کا تصور کافی تھی۔قبیلے کے بغیر زندگی گزارنا کتنا مشکل تھا اس کا اندازہ اسے اب ہو رہاتھا۔کافی سوچ و بچار کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے کسی اور قبیلے کے ساتھ منسلک ہونا پڑے گا۔گو وہاں اسے دخیل سمجھا جاتا اور اس کی اہمیت قبیلے کے فرد کی سی نہ ہوتی،مگر اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔
بنو عبد کلال سے نکل کر وہ غمزدہ سی روانہ ہوئی۔اس کی خوش قسمتی تھی کہ اعمیٰ اس کے لیے دو عمدہ اونٹنیاں چھوڑ گیا تھا۔ایک اونٹنی پر اس نے خیمہ اور دوسرا سامان لادا تھا جبکہ دوسری پر اپنا بچہ سنبھال کر بیٹھ گئی،جبکہ اونٹنی کا بچہ ماں کے پیچھے خود بہ خود دوڑتا آرہا تھا۔اندھیرا چھانے سے پہلے ایک مناسب جگہ پر اونٹیاں بٹھا کر وہ اتر گئی۔سب سے پہلے اس نے خشک لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ لگائی۔اور بچے کو گود میں لے کر آگ کے پاس بیٹھ گئی۔ اس ویرانے میں وہ خوف کے مارے سو نہیں سکی تھی۔گو وہ کافی عرصے سے ویرانے میں رہتی آرہی تھی لیکن تب اس کے ساتھ شوہر ہوتا تھا۔اور اب وہ اکیلی تھی۔
جب تک لکڑیاں جلتی رہیں وہ بیٹھی رہی رات کے بالکل آخر پہر لکڑیاں ختم ہوئیں تو وہ بھی جانے کی تیاری میں لگ گئی۔سپیدہ سحر نمودار ہو چکا تھا جب وہ آگے بڑھی۔ذرا سا آگے جاتے ہی اس کی نظر ایک قافلے پر پڑی۔وہ وادی کے دوسرے کنارے پر حرکت کررہے تھے۔قافلے والوں نے اسے گہری نظر سے دیکھا تھا مگر کچھ کہے بغیر وہ آگے نکلتے گئے۔
طلوع آفتاب کے بعد بھی وہ آگے بڑھتی رہی۔گزشتہ شب کے رتجگے کے بعد اسے سونے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔اس کی نظر دو تین فرلانگ دور ایک نخلستان پر پڑی اور اس نے اونٹنیوں کو زور زور سے ہانکنا شروع کر دیا۔قریب پہنچنے پر وادی میں کھدا ہوا ایک گہرا گڑھا نظر آیا جس کی تہہ میں پانی جھانک رہا تھا۔یقینا قافلے والوں نے پانی کے حصول کی لیے وہ گڑھا کھودا تھا۔ایک بیری کے نیچے اونٹنیوں کو بٹھا کر وہ نیچے اتری۔سب سے پہلے اس نے دونوں اونٹنیوں کے گھٹنے کے ساتھ رسی کا چھوٹا ٹکڑا باندھا تاکہ وہ اس کے سامان اتارنے تک بیٹھ رہیں۔اس کے بعد درخت کی شاخ سے چادر باندھ کر اس میں اپنے بیٹے کو لٹایا۔اور سامان اتارنے لگی۔تھوڑی دیر بعد وہ سامان سے چمڑے کے دو ڈول اٹھا کر پانی والے گڑھے کی طرف جا رہی تھی۔دونوں اونٹنیوں کی مہاریں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ گڑھے میں زیادہ پانی دیکھ کر اس نے اونٹنیوں کو سیراب کرنا ضروری سمجھا تھا۔
کھلے منھ والا ڈول اونٹنیوں کے سامنے رکھ کر وہ دوسرے ڈول سے گڑھے سے پانی بھر بھر اس ڈول میں ڈالتی رہی۔بڑی اونٹنیوں کی دیکھا دیکھی چھوٹے بچے نے بھی ڈول میں منھ ڈال دیا تھا۔ اونٹنیوں کے سیراب ہونے کے بعد اس نے مشکیزے بھرے اور دوبارہ سائے میں آگئی۔اونٹنیوں کے پاﺅں باندھ کر اس نے چرنے کے لیے چھوڑا اور خود خیموں کو کھولے بغیر اس ترتیب سے رکھنے لگی کہ ان پر لیٹ کر تھوڑی نیند کر سکے۔
اچانک اس کے کانوں میں کسی کے کراہنے کی آواز آئی۔وہ خوف سے اچھل پڑی تھی، ساتھ ہی اس کی نظریں چاروں طرف گھومنے لگیں۔ذرا سی تگ و دو کے بعد اسے قریبی ٹیلے پر گدِھ کسی مردار کو نوچتے نظر آئے۔ چیخ کی آواز بھی اسی جانب سے آئی تھی۔ وہ متجسس سی اس جانب بڑھی۔ٹیلے پر چڑھتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کے قریب ہو گئی تھیں۔ وہاں ایک انسانی جسم پڑا تھا اور اس کے منھ سے کراہنے کی ہلکی ہلکی آوازیں آرہی تھیں۔شاید گدھ کے نوچنے پر اس کے منھ سے زوردار آواز نکلی تھی جو خلیسہ کے کانوں تک پہنچ گئی تھی۔ اس کی آمد سے گدھ اڑ کر ٹیلے کے دوسری جانب نشیب میں پڑی آلائشوں کی طرف بڑھ گئے تھے۔یوں لگتا تھا جیسے وہاں کئی جانوروں کے پیٹ کی آلائشیں پھینکی گئی ہوں۔بغیر کسی دقت کے اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کام اسے راستے میں ملنے والے قافلے کا تھا۔اوروجہ کوئی بھی تھی لیکن وہ آدمی یقینا انھی قافلے والوں نے وہاں چھوڑا تھا۔
زخمی اوندھے منھ پڑ اتھا۔گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھتے ہوئے خلیسہ نے نرمی سے اسے سیدھا کیا۔ایک اور حیرت اس کی منتظر تھی۔ شوہر کے قاتل کو وہ بغیرکسی تردد کے پہچان گئی تھی۔بلا شبہ وہ یشکر تھا اور اس وقت بے ہوش تھا۔
فوراََ ہی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے مرنے کے لیے وہیں چھوڑ دینا بہتر رہے گا۔اپنے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وہ کھڑی ہوئی اور اسی وقت دماغ میں وہ منظر جاگا جب یشکر نے اپنی بیوی کے ہاتھ سے تلوار لے کر اس کی جان بچائی تھی۔یشکر کو زہر دینے کی کوشش کے بعد وہ اسے قتل کرنے کا حق دار ہو گیا تھا لیکن،ایک معصوم بچے کی خاطر یشکر نے اسے معاف کر دیا تھا۔ بادیہ کے ہاتھوں قتل ہو جانے کے بعد جانے اس کے بیٹے کا کیا انجام ہوا ہوتا۔یہ سوچتے ہی اسے جھرجھری آگئی تھی۔
اس نے کھوجتی نظروں سے دوبارہ یشکر کے زخمی بدن کو دیکھا اور پھر اس کی جانب بڑھ گئی۔ وہ چوبیس پچیس سال کی صحت مند اور مضبوط عورت تھی۔لیکن یشکر جیسے قوی ہیکل لڑکے کو ہاتھوں میں اٹھانا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔ بغل میں ہاتھ دے کر اس نے یشکر کا بالائی بدن اوپر اٹھایا اور الٹے قدموں سائے کی جانب بڑھنے لگی۔
سائے تک اسے گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے اسے پسینہ آگیا تھا۔کمبل نیچے بچھا کر اس نے یشکر کو اوپر لٹایا، اس کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ رکھا اور خود دودھ والی اونٹنی کی طرف بڑھ گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ دودھ کے کٹورے سے قطرہ قطرہ دودھ اس کے حلق میں ٹپکا رہی تھی۔اس دوران اس نے وہیں پڑاﺅ ڈالنے کا فیصلہ کر لیاتھا۔
یشکر کو اونٹنی کادودھ پلا کر وہ خیمہ کھول کر لگانے لگی۔ضروری کاموں سے فارغ ہو کر وہ سوگئی تھی۔اس نے یشکر کے ساتھ ہی اپنا بستر بچھایا تھا۔بیری کی چھاﺅں کے نیچے لگے خیمے پر دھوپ نہیںپڑ رہی تھی۔اور جوانب کے پردے اٹھے ہونے کی وجہ سے ہوا بھی لگ رہی تھی۔اسے فوراََ ہی نیند آگئی تھی۔سہ پہر کو جب سورج مغرب کی جانب کافی جھک گیا تھا دھوپ خیمے کے اندر داخل ہوئی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔مغربی پردے گرا کر وہ خیمے سے باہر نکلی اور اونٹنیوں کی جانب بڑھ گئی جو درختوں کے پتوں پر منھ مار رہی تھیں۔
اونٹنیوں کو واپس لا کر اس نے درخت سے باندھا۔اور رات کو آگ جلانے کے لیے لکڑیاں اکھٹی کر نے لگی۔موذی جانوروں سے بچنے کے آگ روشن کرنا ضروری تھا۔غروب آفتاب کے وقت اس کی نظر دو شتر سواروں پر پڑی۔انھوں نے بھی وادی کنارے لگا خیمہ دیکھ لیا تھا۔انھیں اپنی جانب آتا دیکھ کر خلیسہ کا دل خوف سے دھڑکنے لگا تھا۔گزشتہ سے پیوستہ رات کو دس سواروں کا سامنا اس کے لیے اچھا تجربہ نہیں رہا تھا۔
”تمھاری شام سلامتی والی ہو۔“قریب آکر دونوںنے سلام کہا۔
”تم دونوں پر بھی برکتیں ہوں۔“اپنی اوڑھنی چہرے کے گرد لپیٹتے ہوئے اس نے جوابی سلام کہا۔
”مسافر وں کو بھوک کی حاجت نے رکنے کی ترغیب دی ہے۔“دونوں نے سرسری نظر خیمے میں لیٹے یشکر پر ڈالی۔خلیسہ نے اسے ہلکی چادر اوڑھا دی تھی اوریوں لگ رہا تھا جیسے وہ سویا ہوا ہو۔
”اونٹنی کا دودھ اور تھوڑی سی تمر(خشک کھجور) موجود ہیں۔“خلیسہ نے لہجے میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔
”اتنا ہی کافی ہے مہربان خاتون۔“دونوں اونٹوں سے نیچے اتر آئے تھے۔
خلیسہ نے ان کے بیٹھنے کے لیے خیمے سے باہر چٹائی بچھائی۔اور ان کے حوالے دو مٹھیاں تمر اور ایک بھرا ہوا کٹورا اونٹنی کے دودھ کاکیا۔
کھجوریں کھا کر انھوں نے دودھ پیا اس دوران وہ آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ایک وہاں شب بسری کی ضرورت محسوس کر رہا تھا جبکہ دوسرا آگے جانے پر بہ ضد تھا۔خلیسہ بہ ظاہر کام میں مصروف تھی لیکن اس نے کان دونوں کی باتوں پر دھرے تھے۔
وہاں نہ رکنے کی تجویز دینے والا زور وشور سے کہہ رہا تھا۔”حابس بن شفی،تم نہیں جانتے مجھے اس کی دنبالہ آنکھوں میں کیا نظر آیا۔بلا شبہ ہمارے جانے کا فیصلہ اسے منظور نہیں تھا۔“
حابس معترض ہوا۔”ایسا تھا تو فوراََ ہی قتل کر سکتی تھی۔“
”ایسا کرنے کی صورت میں وہ اہل بنوعقرب کے دلوں میں اپنے لیے محبت پیدا نہیں کر سکتی تھی۔“
حابس بولا۔”ہم نے کافی لمبا فاصلہ طے کر لیا ہے۔“
”ان کے پاس تیز رفتار گھوڑے موجود ہیں۔وہ ہم سے دگنی رفتار میں حرکت کرسکتے ہیں۔ اس لیے رکنے کا خیال دل سے نکال دو۔جب تک کسی محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتے ہمیں آگے بڑھتے رہنا ہوگا۔“
”غیاث بن اقمر،مجھے بس یہ وضاحت کردو کہ وہ ہمیں مارنے کے لیے اتنی تگ و دو کیوں کریں گے؟“حابس وہیں رکنے کے فیصلے پر ڈٹا تھا۔
غیاث بن اقمرفلسفیانہ لہجے میں بولا۔”حابس،تمھیں مطمئن کرنے کے لیے میرے پاس اپنے اندیشوں کے علاوہ کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔“
حابس منھ بناتے ہوئے بولا۔”ایسا بس تم سوچ رہے ہو۔اگر انھوں نے ہمیں مارنا ہوتا تو اب تک یہاں پہنچ چکے ہوتے۔“
وہ کھانے سے فارغ ہوچکے تھے لیکن وہاں سے اٹھنے کی ضرورت انھوں نے محسوس نہیں کی تھی۔حابس نے تھکن اور بے آرامی کے واسطے دے کر غیاث کو وہیں رکنے پر مجبور کر دیا تھا۔آخر میں حابس ہی خلیسہ کو مخاطب ہوا۔
”مہربان خاتون،اگر ہم رات کی چند گھڑیاں یہاں لیٹ جائیں، آپ کو اعتراض تو نہیں ہوگا۔“
خلیسہ گڑبڑاتے ہوئے بولی۔”اس کا فیصلہ تو میرے شوہر کر سکتے ہیں۔“
حابس نے کہا۔”میں انھی سے پوچھ لیتا ہوں۔“
”نن ….نہیں وہ سوئے ہیں۔آپ بس یہیں لیٹ جائیں میں ایک اور چٹائی دے دیتی ہوں۔“خلیسہ گھبرا گئی تھی۔
حابس مصر ہوا۔”اب سورج غروب ہو نے والا ہے۔اوراس وقت سونا تو جنات لانے کا باعث بنتا ہے، اس لیے آپ گھبرائیں نہیں میں انھیں جگا دیتا ہوں۔“
”کہہ دیا ناں آپ رات گزار لیں۔“خلیسہ اسے یشکر تک جانے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔
حابس کندھے اچکاتے ہوئے بیٹھ گیاتھا۔خلیسہ نے انھیں کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک اور چٹائی لا کر دی اور خیمے میں گھس گئی۔یشکر کا بدن سخت تپ رہا تھا۔ویرانے میں رہنے کی وجہ سے اعمیٰ بخار وغیرہ کی دوائی اپنے پاس رکھتا تھا۔خلیسہ وہ دوائی اونٹنی کے دودھ میں ڈال کریشکر کو پلانے لگی۔
حابس نے دروازے پر آکر پردہ ہٹائے بغیر پوچھا۔”مہربان خاتون اگر اجازت ہو تو ہم آپ کی اکٹھی کی ہوئی لکڑیوں کو آگ لگا لیں۔“
”لگالو۔“مختصراََ کہہ کر وہ یشکر کی طرف متوجہ رہی۔
”خاتون کا شوہر بیمار ہے اور جہاں تک میں میرا اندازہ ہے وہ بے ہوش پڑا ہے۔“حابس، غیاث کے پاس جا کر بتانے لگا۔
غیاث بے پروائی سے بولا۔”اس سے ہماراکیا لینا دینا۔“
”اس سے نہ سہی، اس کی بیوی سے تو ہے۔“حابس کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔اس کی آواز سرگوشی میں تبدیل ہو گئی تھی۔
”مناسب نہیں لگتا یار۔“غیاث کھل کے انکار نہیں کر سکا تھا۔یوں بھی خلیسہ کا خوش نما بدن ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے نظر انداز کر سکتے۔
حابس ہوس بھرے لہجے میں بولا۔”تمھاری قسم اس کے جسم پر تہہ بہ تہہ چڑھا ہوا گوشت دیکھ کر ہی یہاں رکنے پر اصرار کر رہا تھا۔میں نے تو سوچا تھا اس کے خاوند کو بے بس کر نا پڑے گا،مگر یہاں تو کوئی محنت ہی نہیں کرنا پڑ رہی۔“ عرب معاشرے میں خواتین کا فربہی مائل ہونا خوب صورتی کی علامت تھا۔اور خلیسہ کا صحت مند بدن ان کے حیوانی جذبات کو برانگیختہ کر رہا تھا۔یوں بھی ویرانے میں کسی اکیلی عورت پر دست درازی نہ کرنا ان کے نزدیک حماقت تھی اور وہ احمق نہیں کہلانا چاہیتے تھے۔
غیاث کی خاموشی اس کی رضامندی کا عندیہ تھا۔ حابس خشک لکڑیوں کے ڈھیر سے چھوٹی لکڑیاں لے کر آگ جلانے کے لیے اوپر نیچے رکھنے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ پتھروں کے ذریعے آگ سلگا چکا تھا۔
آگ جلا کر وہ تھکے ہوئے بدن کو آرام دینے کے لیے چٹائی پر پاﺅں پھیلا کر بیٹھ گئے۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی اور ان کی ہوس ناک سوچوں میں خلیسہ کا خوش نما بدن لہرا رہا تھا۔اور پھر حابس سے مزید صبر نہیں ہو سکا تھا۔اس نے خلیسہ کو آواز دی۔
”مہربان خاتون،پینے کا پانی مل جائے گا۔“
خلیسہ جاگ رہی تھی اور جانتی تھی کہ اگر اس نے جواب نہ دیا تو وہ خیمے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔اور وہ یشکر کا بے ہوش ہونا ان پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
”لاتی ہوں۔“بے زاری بھرے انداز میں کہہ کر اس نے بچے کوگود سے نکال کر بستر پر لٹایا۔ اورمشکیزہ اور مٹی کا پیالہ اٹھا کر خیمے سے باہر نکل آئی۔گو دل ہی دل میں وہ ان سے خوفزدہ تھی اور بار بار خود کو تسلیاں بھی دے رہی تھی کہ یشکر کی وجہ سے وہ اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکیں گے،لیکن بے چاری کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا خیمے سے باہر بلایاجانااس کے اندیشوں کی تصدیق کرنے والا تھا۔
اپنے بدن کو اس نے اچھی طرح چادر سے لپیٹ لیا تھا۔ الاﺅ نے ماحول کو خوب روشن کیا ہوا تھا۔اس روشنی میں دو قوی ہیکل مرد ہوس ناک نظریں اس کے وجود پر گاڑے بیٹھے تھے۔ خلیسہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔وہ جلدی سے مشکیزہ اور پیالہ ان کے قریب رکھ کر پیچھے مڑنے لگی۔
حابس نے دبنگ لہجے میں کہا۔”ٹھہرو۔“
وہ کانپ گئی تھی۔خوف سے لرزتے ہوئے وہ اس کی جانب مڑی۔”گھڑی بھر ہمارے پاس بھی بیٹھ جاﺅ۔بیمار خاوند کا ساتھ تمھیں کیا فائدہ دے گا۔“ہوس ناک لہجے میں کہتے ہوئے حابس نے ایک دم اس کی کلائی تھام لی تھی۔
”چھ….چھوڑو مجھے۔“وہ خوفزدہ انداز میں ہکلائی۔
”اتنی بھی کیا بے مروتی،تم ہماری میزبان ہو اور مہمانوں کی خدمت کرنا تمھاری ذمہ داری ہے۔“حابس نے جھٹکا دے کر اسے اپنے طرف کھینچا۔
”ہبل کے واسطے مجھے جانے دو۔“وہ گڑگڑائی۔
حابس نے شیطانی قہقہ لگایا۔”یہ وقت ہبل کو یاد کرنے کا نہیں ہے۔“
”میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے۔“حابس کی دست درازی بڑھتے دیکھ کر وہ چلائی تھی۔مگر اس کے چلانے کی پرواہ کیے بغیر حابس نے ایک جھٹکے سے اس کی چوغہ نما قمیص کو سامنے سے پھاڑ دیا تھا۔ غیاث اطمینان بھرے انداز میں الاﺅ پر لکڑیاں ڈالتے ہوئے تماشا دیکھ رہا تھا۔
خلیسہ کو مزاحمت پر آمادہ دیکھ کر حابس جذبات سے بوجھل آواز میں ہانپتا ہوابولا۔”ذرا اس کے ہاتھ پکڑو۔“
”اور ملکہ قُتیلہ کے لائق کیا حکم ہے۔“وہ آواز نہیں صورِ اسرافیل تھاجسے سن کر حابس اور غیاث دہشت و خوف سے سن ہو گئے تھے۔
قُتیلہ اور امریل روشنی کو دیکھ کراس جانب آئے تھے۔آگ کے الاﺅ کی وجہ سے وہ تماشا انھیں کافی دور سے نظر آگیا تھا۔ہوس بھرے جذبات نے ان کی سماعتوں پر مہر لگا دی تھی اور وہ گھوڑوں کی ٹاپ بھی نہیں سکے تھے۔یہ علاحدہ بات وہ سننا ان کے کسی کام نہیں آ سکتاتھا۔
سنہری بالوں والی خلیسہ چیختے ہوئے حابس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔اس نے قُتیلہ کی آواز نہیں سنی تھی،لیکن جونھی حابس کی گرفت اس کے بدن سے ہٹی وہ تڑپ کر اٹھی اسی وقت اس کی نظر آلاﺅ کی روشنی میں گھوڑے پر بیٹھی لڑکی پر پڑی۔ اگلے ہی لمحے وہ چیختے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔”سردار زادی بادیہ،مجھے ان درندوں سے بچا لو۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: