Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 34

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 34

–**–**–

قُتیلہ کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔وہ چھلانگ لگا کر گھوڑے سے نیچے اترتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ نے اس قُلّتین (فاحشہ)کا نام پہلے بھی سنا ہے۔اور اگر تم اسے دیکھنے کے بعد بھی ملکہ قُتیلہ کو اس نام سے پکار رہی ہو تو ملکہ قُتیلہ کا حیران ہونابنتاہے۔“
خلیسہ ٹھٹک کر رکی،لڑکی کا چہرہ سردار زادی بادیہ کے بہت زیادہ مشابہ تھا۔لیکن یہ بادیہ ہرگز نہیں تھی۔بادیہ کا قد درمیانہ اور بدن فربہی مائل تھا جبکہ یہ چھریرے و سڈول جسم کی مالک تھی۔اس کا قد بھی بادیہ سے لمبا تھا۔ بادیہ کھلتی ہوئی گندمی رنگت کی تھی،اور اِس کاگندمی رنگ کڑی مشقت سے سنولایاہوا تھا۔ البتہ سیاہ گھنی و لمبی زلفیں اورغزالی آنکھوں میں صرف سجاوٹ کا فرق تھا۔بادیہ بھی سرمہ لگاتی تھی لیکن اس کی طرح آنکھوں کو دُنبالہ نہیں کرتی تھی۔اور بادیہ کے سر پر اوڑھنی تھی جبکہ اِس کے سر پر کالے رنگ کاقساوا(ماتھے پر باندھنے کی پٹی)تھا۔ سب سے بڑھ کر اس کی پشت پر لٹکا ترکش و ڈھال، کندھے سے لٹکتی کمان،کمر سے بندھی نیام،بائیں کندھے پر لپٹاگودھا(چمڑے کا ٹکڑا جسے تیر انداز بائیں کندھے پر باندھتے تاکہ کندھا تانت سے زخمی نہ ہو) اسے کوئی جنگجو ثابت کر رہے تھے۔اور بادیہ تو اسے چھوئی موئی سی لگی تھی،نرم و نازک اور نخریلی سی۔ شوہر بازوﺅں میں بھر کر اسے گھوڑے پر بٹھاتااتارتا تھا۔ اور یہ کسی ماہر سوار کی طرح چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اتری تھی۔
”مم….مجھ سے غلطی ہو گئی سردار زادی۔“اس لڑکی میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہی خلیسہ کا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا۔
وہ بے پروائی سے بولی۔”سردارزادی ہونے کے باوجود، ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ کہلانا ہی پسند ہے۔“
خلیسہ سسکی بھرتے ہوئے بولی۔”ایک بے کس عورت ان ظالموں کے شر سے ملکہ قُتیلہ کی پناہ چاہتی ہے۔انھیں میں نے کھانا دیا رات کو رہنے کا ٹھکانہ دیا اور یہ میری عزت کے دشمن بن گئے۔ میرا شوہر بیمار ہے ،اگر ٹھیک ہوتا تو یقینا مجھے یوں بے عزت نہ ہونا پڑتا۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر زہریلی ہنسی نمودار ہوئی۔”خاتون تم نے صحیح درکھٹکھٹایا ہے۔“(مطلب تمھیں انصاف ملے گا)
حابس مکاری سے بولا۔”مم….ملکہ قُتیلہ ….ہم بنو طرید کے باسی بننے پر تیار ہیں۔ہم ملکہ قتیلہ کی سرداری قبول کرتے ہیں۔“
”تم صحیح فیصلہ کرنے میں دیر کر چکے ہو جوان۔“(مطلب تمھیں پہلے بنو طرید کا باسی بننا چاہیے تھا)اس نے ایک جھٹکے سے تلوار بے نیام کی۔
غیاث خوفزدہ لہجے میں بولا۔”ہم ملکہ قُتیلہ کی اجازت ہی سے آئے تھے۔“
”اب یہ تکرار بے فائدہ ہے ،ملکہ قُتیلہ ایک مظلوم خاتون کو زبان دے چکی ہے۔“
حابس جلدی سے بولا۔”ہم اس خاتون سے معافی مانگ لیں گے۔“
”تم لوگوں نے اونٹ کو گابھن کرنا چاہا اور ناکامی پر عقاب کے انڈوں کے متلاشی ہورہے ہو۔“مشہور کہاوت دہراتے ہوئے وہ مسکرا دی تھی۔(یعنی اونٹ نر ہونے کی وجہ سے گابھن نہیں ہوسکتا اور نہ عقاب نر پرندہ ہو کر انڈے دے سکتا ہے)
غیاث نے یتیمانہ لہجے میں کہا۔”ہم رحم کے خواست گار ہیں۔“حالاں تھوڑی دیر پہلے ایک مظلوم عورت اس سے رحم ہی کی بھیک مانگ رہی تھی لیکن وہ کچھ بھی سننے پر آمادہ نہیں تھے۔اور اب اپنی جان پر بنی تھی تو وہ رحم کے متلاشی ہو رہے تھے۔ایسے ظالموں پر اللہ پاک ظالم ہی مسلط کرتا ہے اور ان پر بھی ایک ظالم مسلط ہو گئی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ سے غلط امیدیں باندھ رہے ہو۔“اس نے دو بار تلوار گھماکر اس مباحثے کا اختتام کر دیا تھا۔دونوں کے بے سر کے لاشے اسی ریت پر تڑپ رہے تھے جہاں وہ خلیسہ کو تڑپانے کا گھناﺅنا منصوبہ سوچے ہوئے تھے۔
نزع کی اذیت سے برسر پیکارحابس کی قمیص کے دامن کو پھاڑ کر اپنی تلوار کی دھار صاف کرتے ہوئے وہ خلیسہ کی جانب متوجہ ہوئی۔”تم مسافر ہو؟“
خلیسہ نے نفی میں سرہلایا۔”ایک طرید ہوں ملکہ قُتیلہ۔مجھے اور میرے شوہر کو بنو عبد کلال کے سردار نے قبیلے سے عاق کر دیا ہے۔“
وہ فیاضی سے بولی۔”تمھیں ملکہ قُتیلہ بنو طرید میں خوش آمدید کہتی ہے ؟“
”بنو طرید….؟“خلیسہ کے چہرے پر حیرانی نمودار ہوئی۔”اس قبیلے کا نام پہلی بار سنا ہے۔“
اس کی بات کا جواب دیے بغیر وہ امریل کی طرف متوجہ ہوئی۔”واپسی کے بارے کیا مشورہ ہے ؟“
”چند گھڑیاں آرام کرنا بہتر رہے گا۔“
”ان کی لاشوں کو تھوڑا دور پھینک دو تاکہ ابوجعدہ اور ابن آویٰ کو ملکہ قتیلہ کے لیے مناجات کا موقع ملے۔“
امریل خوش دلی سے سر ہلاتا ہوالاشوں کی جانب بڑھ گیا۔دونوں کی ایک ایک ٹانگ پکڑ کر وہ انھیں گھسیٹتا ہوا دور لے جانے لگا۔قُتیلہ نے گھوڑے سے زین اتارکر چٹائی کے پاس رکھی اور اپنے بدن پر سجے ہتھیار اتارنے لگی،ترکش ،ڈھال ،کمان،تلواراور خنجر اتار کر اس نے اپنے پہلو میں رکھے اور زین پر سر ٹیک کر لیٹ گئی۔
”میں آپ کے ساتھ جانے کو تیا ر ہوں ملکہ قُتیلہ۔“کافی دیر سے سوچ و بچار میں مصروف خلیسہ آخر کار فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
”تم نے ملکہ قُتیلہ کو بادیہ کے نام سے کیوں پکارا تھا؟“ دل میں موجود خلش اس کے ہونٹوں پر سوال بن کے ابھری۔
خلیسہ ندامت سے بولی۔”سردارزادی بادیہ کا چہرہ بالکل آپ کی طرح ہے ،آگ کی روشنی میں آپ پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے مجھے اس کا گمان ہوا ،لیکن بہ غور دیکھنے پر میری غلط فہمی دور ہو گئی تھی۔“
”کیا وہ بالکل ملکہ قُتیلہ کی طرح دکھتی ہے ؟“
”نہیں ملکہ ،اس کا قد آپ سے چھوٹا ہے اور جسم میری طرح فربہی مائل ہے۔نخریلی اور شوہر کی لاڈلی ہے۔اس کا شوہر بازوﺅں میں بھر کر اسے گھوڑے سے اتارتا تھا اور بازوﺅں ہی میں اٹھا کر گھوڑے پر بٹھاتا تھا۔شوہر کی گود میں سر رکھ کر سوتی تھی۔بس آنکھیں ،بال اور ناک وغیرہ ذرا آپ کے مشابہ تھیں۔ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کہاں اور وہ کہاں۔“خلیسہ کے لہجے میں خوشامد در آئی تھی۔
قُتیلہ نے پوچھا۔”تم نے انھیں کہاں دیکھا؟“
”وہ اس کا شوہر کچھ دیر سستانے کے لیے ہمارے پاس رکے تھے۔اوردن کا کچھ حصہ گزار کر آگے بڑھ گئے تھے۔“
وہ بے زاری سے سرہلاتے ہوئے بولی۔”اگر پانی موجود ہے تو ملکہ قُتیلہ اور امریل کے گھوڑے پیاسے ہیں۔“
”پانی موجود ہے۔“ چمڑے کے ڈول اٹھا کر خلیسہ نے دونوں گھوڑوں کی لگامیں تھامیں اوروادی میں کھدے گڑھے کی طرف بڑھ گئی۔وہ پچاس ساٹھ قدم ہی دور تھا۔
گھوڑوں کو پانی پلا کر وہ واپس آئی تو امریل بھی واپس پہنچ چکا تھا۔گھوڑوں کو درخت سے باندھ کر وہ ان دونوں کے لیے اونٹنی کا دودھ لے آئی تھی۔
صبح تڑکے وہ جانے کے لیے تیار تھے۔امریل نے سامان کے اونٹ ہی پر یشکر کے لیے ایسے جگہ تیار کی تھی کہ اسے آرام سے لٹایا جا سکے۔
سفر کے آغاز کے ساتھ ہی قُتیلہ نے امریل کو ہدایت دی۔” تم خلیسہ کو حفاظت سے لے کر آنا۔ملکہ قُتیلہ کاوہاں جلدی پہنچنا ضروری ہے۔“یہ کہتے ہی اس نے امریل کا جواب سنے بغیر گھوڑے کو ایڑھ لگادی تھی۔
٭٭٭
بنو عبد کلال کے مضافات میں انھوں نے پڑاﺅ ڈالا تھا۔سامان اتارتے ہوئے جونھی یشکر کے غائب ہونے کا پتا چلا مالک غصے میں آگیا تھا۔سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق اس نے دونوں بھائیوں کو خوب ڈانٹا اور سزا کے طور پر یشکر کے پیچھے جانے کا حکم دیا۔دوسرے معززین نے دبی زبان میں اسے منع بھی کیا کہ ایک زخمی غلام کے لیے اتنی تگ و دو کرنا کسی لحاظ سے مناسب نہیں تھا۔لیکن مالک اپنے فیصلے پر ڈٹا رہا۔
مروان اور اغلب گھوڑوں پر بیٹھ کر واپس چل پڑے ،اپنے پڑاﺅ سے کوس ادھ کوس دور آتے ہی انھیں ایک نخلہ (درختوں کا جھنڈ) مل گیا تھا۔سہ پہر تک دونوں وہیں لیٹے آرام کرتے رہے۔جونھی مغرب کی جانب سورج کا جھکاﺅ واضح ہوا انھوں نے واپسی کی راہ لی۔
یشکر کی موت کی خبر کسی کے لیے حیرانی کا باعث نہیں بنی تھی۔اس دوران بادیہ کو بھی ہوش آگیا تھا۔تینوں بھائیوں کو دیکھ کر وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی۔لیکن خوشی کے وہ لمحات نہایت مختصر تھے۔جونھی اسے یشکر کے مرنے کا معلوم ہوا ایک دم اس کی آنکھیں آبشار کا منظر پیش کرنے لگیں۔
”جھوٹ بولتے تھے تم جھوٹے ،چھوڑ گئے ناں اپنی سردارزادی کو اکیلا۔تم تو کہتے تھے بہشت میں اکھٹے جائیں گے پھر ارادہ کیوں تبدیل کر دیا۔بس اتنی ہی محبت تھی۔یہ نہیں سوچا کی تمھارے بعد بادیہ پر کیا گزرے گی۔“اس کی سوچوں میں ہزاروں شکوے پھیل گئے تھے۔
مروان نے مالک کی طرف دیکھا۔اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کر کے تینوں بھائی اسے اکیلا چھوڑ کر خیمے سے باہر آگئے تھے۔مالک نے فوراََ قافلے کے افراد کو اکٹھا کر کے مختصر سی ہدایت دی۔
”تمام کو معلوم ہونا چاہیے کہ فارسی غلام سردارزادی بادیہ کو بچاتے ہوئے زخمی ہوا تھا۔اب اگر بادیہ کو معلوم ہو گیا کہ اس کی حفاظت کرنے والے کو ہم بے پروائی سے چھوڑ کرآگئے تھے اور ہماری وجہ سے وہ جانبر نہیں ہو سکا تو شاید وہ خفگی کا اظہار کرے۔اور خود کو یا ہمیں قصور ٹھہراتے ہوئے وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت کر بیٹھے، مناسب یہی ہے کہ تمام نے کہنا ہے وہ ہمیں مردہ ملا تھا۔یوں بھی حکیم بلتعہ بن قنعب کہہ رہے تھے کہ اس کا جانبر ہونا مشکل تھا۔“
بلتعہ بن قنعب نے فوراََ ہی مالک کی تائید میں سر ہلادیا تھا۔”اس کے پیٹ کا گھاﺅخطرناک تھا۔گو ہم نے زخم کو داغ تو دیا تھا لیکن پھر بھی اس کے بچ جانے کی امیدیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔“
وہاںانھوں نے ہفتہ بھر پڑاﺅ ڈالے رکھا اس دوران بادیہ کا زخم کافی بہتر ہو گیا تھا۔ لیکن جو گھاﺅ اس کے دل پر لگا تھا اس کا کوئی مرہم نہیں تھا۔یشکر نہایت مختصر وقت کے لیے اس کی زندگی میں آیا تھا اور ان مٹ نقوش چھوڑ گیا تھا۔اس کی چاہت بھری گفتگو،وارفتگی سے دیکھنا،نرم لہجے میں میری سردارزادی کہنا ،اپنے مضبوط بازوﺅں میں بھر کرگھوڑے پر بٹھانا،اتارنا۔اس کے غصے کو یوں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا جیسے وہ اسی کام کے لیے تو دنیا میں آیا ہو۔اور پھر اس کی بے جگری وبہادری کہاں بھلانے کے قابل تھی۔سردار خصرامہ بن قلاص جیسے شہ زور کو اس نے صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔بنو نوفل کے دس سواروں کوگھڑی بھر میں خاک چٹا دی تھی۔اگر بادیہ کو زخمی ہوتا دیکھ کر وہ اپنے حواس نہ کھو بیٹھتا تو بنو نوفل کے سواروں کی تلوار اسے چھو بھی نہیں سکتی تھی۔بادیہ کو اپنی نادانی پر افسوس ہوا۔اگر وہ احمقانہ انداز میں لڑائی میں شامل نہ ہوئی ہوتی تو یشکر اس کے پاس موجود ہوتا۔
٭٭٭
وہ اندھیرا چھانے سے پہلے پڑاﺅ ڈالنے کی تیاری کر رہے تھے جب قُتیلہ وہاں پہنچ گئی تھی۔ ملکان اسے دیکھ کر خوش ہو گیا تھا۔
”ملکہ امریل نظر نہیں آرہا۔“اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
”ایک خاتون نے ملکہ قُتیلہ سے پناہ مانگی تھی۔اس کا شوہر بیمار تھا۔انھی کے ساتھ آرہا ہے۔“
ملکان ہنسا۔”لگتا ہے ملکہ قُتیلہ رحم دل ہوتی جا رہی ہے۔“
وہ سنجیدگی سے بولی۔”نہیں ملکان،ملکہ قُتیلہ رحم دل نہیں سمجھ دار ہوتی جا رہی ہے۔اور اس سمجھ داری کی ابتداءتمھیں زندہ چھوڑنے سے ہوئی۔کیوں کہ ملکہ قُتیلہ کتنی ہی شہ زور کیوں نہ ہو اسے صحرائے اعظم میں بقا کی جنگ لڑنے کے لیے سپاہیوں کی ضرورت ہے۔اور یہ سمجھ داری ہی تھی کہ ملکہ قُتیلہ کے قبیلے کی گنتی جو چار سے شروع ہوئی تھی آج سو کا عدد عبور کر گئی ہے۔“
”یقینا ملکہ قُتیلہ سرخ شراب سے مستفید ہونا چاہے گی۔“ملکان نے ہاتھ میں پکڑا مشکیزہ اس کی جانب بڑھایا۔
”امی کہتی ہیں ملکہ قُتیلہ سرخ شراب زیادہ پسند کرتی ہے۔“عریسہ کی یاد اس کے ہونٹوں پر ہنسی لے آئی تھی۔اس کا وہ تبسم ملکان کو انوکھا لگا تھا۔یوں جیسے کوئی معصوم دوشیزہ مسکرا رہی ہو۔ورنہ اسے مسکراتا دیکھ کر ملکان کو لگتا کوئی شیرنی دانت نکوسے شکار پر حملہ کر نے والی ہے۔
ملکان نے مشورہ دیا۔”اب ملکہ قُتیلہ اپنی امی کو بنو طرید لا سکتی ہے۔“
”ہاں۔“مشکیزہ منھ سے لگا کر اس نے چند بڑے بڑے گھونٹ لیے اور مشکیزہ واپس ملکان کی جانب بڑھا دیا۔”رشاقہ کو ملکہ قُتیلہ کے پاس بھیجو۔“
ملکان سر ہلاتا ہوا اس کے خیمے نکل گیا۔وہ چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔اس کے نیچے مِرگ چھالہ (ہرن کی کھال کا بستر)بچھا تھا۔“تھوڑی دیر بعد رشاقہ جھجکتے ہوئے اس کے خیمے میں داخل ہوئی۔
”ملکہ قُتیلہ کی رات سلامتی والی ہو۔“اس نے اندرداخل ہوتے ہی سلام کہا۔
”بیٹھو۔“اس کے سراپے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے قُتیلہ دھیمے لہجے میں بولی۔
وہ چٹائی پر بیٹھ گئی تھی۔
قُتیلہ نے نرمی سے پوچھا۔”اب بتاﺅ،بنو عقرب کے جوان ،بنو ضبع کے بزدلوں کے سامنے بھیڑ کے بچے سے بھی زیادہ کمزور اور ذلیل کیسے ہو گئے تھے۔“(کسی کی کمزوری اجاگر کرنے کے لیے عرب ،بھیڑ کے بچے سے تشبیہ دیا کرتے تھے)
رشاقہ تفصیل بتاتے ہوئے بولی۔”بنو ضبع کے سردار رزاح بن اسد کا چھوٹا بھائی کرکم بن اسدبنو عقرب کے مضافات میں شکار کھیل رہا تھا۔پانی ختم ہونے پروہ اپنے دو ساتھیوںکے ہمراہ بنو عقرب کے کنویں سے مشکیزہ بھرنے کے لیے آیا۔ موسم نہایت خوش گوار تھا۔کنویں سے ملحق نخلستان میں ہم جھولا جھول رہی تھیں۔ اس کی نظر مجھ پر پڑی۔وہ عشقیہ اشعار پڑھ کر مجھے چھیڑنے لگا۔اور میں نے اسے بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے شمشیر زنی کی دعوت دے ڈالی۔ایک مرد کے لیے عورت کی للکار برداشت کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔اور پھر اسے اپنی شمشیر زنی پر زعم تھا۔وہ فوراََ مقابلے پر تیار ہو گیا۔مجھے تلوار بازی کی تربیت میرے والد زیاد بن تابوت کروایا کرتے تھے۔بنو عقرب کے کم ہی مرد ایسے تھے جو مجھ سے مقابلہ کرپاتے۔اس سے مقابلہ شروع ہوا اور زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا تھا۔میںنے صرف جیتنے پر اکتفا نہیں کیا اورعواقب پر غور کیے بغیر تلوار دستے تک اس کی چھاتی میں گھونپ دی۔غلطی اس کی تھی کہ اس نے دوسرے قبیلے کی لڑکیوں پر پھبتی کسی تھی۔اور پھر وہ مقابلے میں ہارا تھا اس کے قتل کی دیت (خون بہا)بھی کسی صورت نہیں بنتی تھی۔مقابلے کے گواہ تو اس دونوں دوست بھی تھے۔لیکن اس کے باوجوددونوں قبیلوں میں مصالحت کی گفتگو لازمی تھی۔قبیلے کے معززین ان کے مطالبے کے منتظر تھے۔اور ہمیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔سردار رزاح بن اسداور اس کا بڑا بھائی کلاب بن اسدہمارے پاس اس طرح آئے کہ ان کے چہروں پر غصے یا نفرت کا شائبہ تک نہیں تھا۔وہ ایک مختصر جماعت کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔بات چیت نہایت اچھے ماحول میں ہوئی۔جو ہو گیا تھا اسے نظر انداز کرتے ہوئے انھوں نے صلح کے لیے ایک چھوٹی سی شرط رکھی۔ انھیں بنو عقرب کی کسی جوان لڑکی کا رشتا بنو ضبع کے معزز خاندان کے لڑکے کے لیے درکار تھا۔انھوں نے یہ شرط اس عاجزی سے پیش کی تھی کہ ہمیں مانتے ہی بنی۔دو دن بعد وہ بارات لے کر پہنچ گئے تھے۔اتنا بڑا معاملہ آسانی سے نبٹ گیا تھا۔پوری رات جشن منایا جاتا رہا۔اسی دوران انھوں نے اپنے ساتھ لائی اعلاارغوانی شراب کے مٹکوں کا منھ کھول دیا۔ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ شراب میں بے ہوشی کی دوا ملا کر لائے تھے۔ آنکھیں کھلیں توایک بھیانک منظر ہمارامنتظر تھا۔قبیلے میں موجود جوان مردوں کی مشکیں انھوں نے کس دی تھیں۔جوان لڑکیوں ، قریب البلوغ لڑکوں و لڑکیوں کو علاحدہ کر کے ان کے علاوہ تمام کی گردنیں کاٹ دی گئی تھیں۔شیر خوار بچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ اب وہ شجر (یہ بحر عرب کے ساحل پر حضرموت اور عمان کے بیچ میں واقع تھا)کے میلے کے منتظر تھے۔وہیں پر بنو عقرب کے جوانوں کو بیچا جاتا۔لیکن اس سے پہلے ملکہ قُتیلہ ہماری نجات دہندہ بن کر پہنچ گئیں۔“
قُتیلہ دلچسپی سے وہ تفصیل سنتی رہی۔اس کی بات ختم ہوتے ہی وہ مسکرائی۔”تمھارے بارے سردار رزاح نے کیا سوچا تھا؟“
رشاقہ بولی۔”مجھے وہ باندی بنا کر رکھنا چاہتا تھا۔لیکن میں نے بھی اسے واضح الفاظ میں للکارا تھا کہ اگر خود کو مرد سمجھتا ہے تو بزورِ بازو مجھے زیر کر کے دکھائے۔اس نے میری مقابلے کی دعوت قبول کر لی تھی لیکن مقابلے سے پہلے وہ ایک اور مہم پر روانہ ہوا۔اسے اطلاع ملی تھی کہ دبا سے ایک قافلہ یمن جا رہا ہے۔ اسے لوٹنے کے لیے وہ دودرجن کے قریب سواروں کے ساتھ روانہ ہوااور پھر واپس نہ لوٹا۔بنو ضبع والے چند دن تومنتظر رہے اور پھر ان کی تلاش میں ٹولیاں نکال دیں۔تین چاردن پہلے پہرے داروں سے معلوم ہوا کہ انھیں اپنے آدمیوں کی سن گن مل گئی تھی۔اور ان کی بازیابی کے لیے انھوںنے اپنے مزید جنگجو روانہ کیے جو تاحال لاپتا ہیں۔“
قُتیلہ اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بولی۔”قافلے کی سرکوبی کے لیے جاتے ہوئے رستے میں ان کی نظر بنو قیشرہ پر پڑی اور قافلے کے بجائے انھوں نے قبیلے کو لوٹ لیا۔بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن اس کے بعدسردار رزاح کے بڑے بھائی کلاب بن اسد نے ملکہ قُتیلہ پر ہاتھ ڈال دیا۔نتیجے کے طورپر انھیں زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔اور ان کی موت کا بدلہ لینے والے جنگجو بھی ملکہ قُتیلہ کا شکار ہو گئے۔ملکہ قُتیلہ بنو ضبع کے مکمل خاتمے کے لیے یہاں آئی تھی اور تمھاری قسمت اچھی تھی کہ تم ملکہ قُتیلہ کو مل گئے۔تمھیں پناہ چاہیے تھی اور ملکہ قُتیلہ کو لڑنے والے سپاہیوں کی تلاش تھی۔“
رشاقہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”ملکہ قُتیلہ مجھ سے خفا تو ہو گی۔میں انجانے میں بہت بد تمیزی کر گئی تھی۔“
قُتیلہ نے متبسم ہو کرنفی میں سرہلایا۔”ملکہ قُتیلہ کو جنگ جو لڑکیاں پسند ہیں۔اگر خفا ہوتی تو تمھارے سر و دھڑ کے درمیان کب کی جدائی ڈال چکی ہوتی۔“
رشاقہ ندامت بھرے لہجے میں بولی۔”میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی لڑکی اتنی آسانی سے ابوجان کے مایہ ناز شاگرد کو چت کر دے گی۔ابوجان کی وفات کے بعد ضحاک بن عتیک ہی بنو عقرب کا سب سے بہترین لڑاکا تھا۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔” تمھیں وہ اچھا لگتا ہے۔“
رشاقہ نے نفی میں سرہلایا۔”مجھے اپنے معیار کا آج تک نظر ہی نہیں آیا،البتہ کچھ عرصہ پہلے ہمارے پڑوسی قبیلے بنو سعد کے قافلے پر قزاقوں نے حملہ کیا تھا ،اس حملے کو ایک فارسی نوجوان یشکرنے نہ صرف پسپا کیا تھا بلکہ قزاقوں کو درجن بھر لاشیں چھوڑ کر بھاگنا پڑگیا تھا۔اس کا تعلق بنو جساسہ سے تھا۔ دونوں قبیلے ایک ہی قافلے کی صورت حرکت کر رہے تھے۔بنو سعد کی ایک سہیلی سے مجھے اس بارے معلوم ہوا جس کا بھائی اس قافلے میں شامل تھا۔اس کے مطابق قزاقوں کے چھے سوار یشکر کی تلوار کا نشانہ بنے تھے۔تبھی میرے دل نے یشکر نامی فارسی جوان کوسراہا تھا۔اور اب چند دن پہلے ہی معلوم ہوا ہے کہ یشکر نے بنو جساسہ کی سردار زادی کے عشق میں مبتلا ہو کر بنو نوفل کے سردار زادے کو قتل کردیا۔اپنے سردارزادے کا بدلہ لینے کے لیے جب اہل بنو نوفل نے بنو جساسہ پر چڑھائی کی تو وہ سردارزادی کو ساتھ لے کر فرار ہو گیا اور اب تک بنو نوفل والے دونوں کی تلاش میں زمین و آسمان ایک کیے ہوئے ہیں۔مگر اسے تلاش نہیں کر سکے۔“
قُتیلہ مستفسر ہوئی۔”وہ قافلہ بنو کاظمہ سے ہو کر آرہا تھا۔“
”آپ کو کیسے پتا چلاملکہ؟“رشاقہ نے حیرانی ظاہر کی۔
”اس فارسی جوان کی خوش قسمتی تھی کہ اس دن ملکہ قُتیلہ دبا سے یمن جانے والے قافلے کو لوٹنے گئی تھی۔ورنہ آج رشاقہ کسی یشکر نامی جوان سے واقف نہ ہوتی۔“
”میں سمجھی نہیں ملکہ قُتیلہ۔“رشاقہ کی حیرانی زائل نہیں ہوئی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ کا تعلق بنو نسر سے ہے۔اور جب یہ واقعہ پیش آیا اس دن بنو نسر سے دوٹولیاں دومختلف قافلوں کو لوٹنے گئی تھیں۔بنو کاظمہ سے آنے والے قافلے میں وہ لوگ شامل تھے جنھیں ملکہ قُتیلہ کی سرداری پر اعتراض تھا۔اور نتیجہ انھیں بھگتنا پڑا تھا۔“
رشاقہ نے پوچھا۔”مگرآپ نے تو ہمیں بنو طرید میں شامل کیا ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ نے بنو نسر چھوڑ دیا ہے۔“
”کیوں ؟“رشاقہ کے استفسارختم ہونے میں نہیں آرہے تھے۔
”کیوں کہ ملکہ قُتیلہ خود سے کمزور کی بالادستی قبول نہیں کر سکتی۔“
رشاقہ چاہت بھرے لہجے میں بولی۔”مجھے ملکہ قُتیلہ سے محبت ہو گئی ہے۔“
قُتیلہ ہنسی۔”فارسی نوجوان یشکر سے بھی زیادہ۔“
”میں اس سے محبت تو نہیں کرتی ،بس متاثر تھی۔وہ اچھا جنگجو ہے اور بہترین لڑاکوں سے متاثر ہوجانا میری کمزوری ہے۔“
قُتیلہ ناگواری سے بولی۔”وہ ایک بزدل شخص ہے۔سوتے ہوئے دشمن پر وار کرنا اچھے لڑاکوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔اور سنا ہے اس نے بنو نوفل کے سردار زادے کو سوتے میں ہلاک کیا تھا۔“
”ایسا تو نہیں ہے۔“رشاقہ نے نفی میں سر ہلایا۔”بنو جساسہ کے حلیف قبیلے بنو دیل کا سردارمسعدہ بن فرازی چچا منقر بن اسقح کا گہرا دوست ہے۔انھی سے چچا منقر بن اسقح کو ساری بات معلوم ہوئی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ یشکر نے بنو نوفل کے سردار زادے ہزیل کو سوتے میں ہلاک نہیں کیابلکہ جگا کر اس سے مقابلہ کیا اوروہ مقابلے میں ہار گیاتھا۔ اس کے بعد بنو جساسہ کے وفد نے بنو نوفل جا کر پیش کش کی تھی کہ وہ اپنے بہترین جنگجوکو یشکر سے لڑا کر جانچ سکتے ہیں۔لیکن بنو نوفل والے اسے ایک غلام گردان کر مقابلے سے پہلو تہی کر گئے۔“
قُتیلہ نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”تم اس کی بہت زیادہ طرف داری کر رہی ہو۔“
رشاقہ صاف گوئی سے بولی۔”کیوں کہ ملکہ قُتیلہ کے بعد میں یشکر سے متاثر ہوں۔“
”وہ عجمی غلام ہے رشاقہ اور تم ایک معزز خاندان کی بیٹی ہو۔“
”اب وہ آزاد ہے۔بنو جساسہ کے سردار کے چھوٹے بھائی شریم نے اسے آزاد کر کے اپنا منھ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔“
”اسے بنو نوفل کے حملے کے وقت قبیلہ چھوڑ کر بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔“قُتیلہ کو اس کی بہادری ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
”وہ اپنی محبت کو بچانے کے لیے بھاگا تھا۔اگر فرار نہ ہوتا توسردارزادی بادیہ کو بنو نوفل والے پکڑ کر لے جاتے۔سننے میں آیا ہے کہ بنو نوفل کے دس بارہ سواروں کو تہہ تیغ کر کے وہ اپنی محبوبہ کویوںنکال کر لے گیاجیسے ابو الحارث(ببر شیر)اناڑی شکاریوں کا گھیرا توڑ کر نکلتا ہے۔“
قُتیلہ نے اشتیاق سے پوچھا۔”کیا تم نے بادیہ کو دیکھا ہے۔“
”نہیں۔“رشاقہ نے نفی میں سرہلایا۔”البتہ اس کے بارے سنا کافی کچھ ہے۔کہتے ہیں وہ بنو نوجل کے سردار سامہ بن تیم کی دونوں بیویوں عکرشہ ولیلیٰ سے بھی خوب صورت ہے۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا”وہ ملکہ قُتیلہ کو اچھی نہیں لگتی۔“
رشاقہ جلدی سے بولی۔”وہ یقینا حسین ہوگی لیکن ملکہ قُتیلہ کے سامنے اس کے حسن کا چراغ نہیں جلے گا۔“
قُتیلہ کھل کھلا کر ہنسی ،جیسے رشاقہ کی بے وقوفی سے محظوظ ہوئی ہو۔”کیا ملکہ قُتیلہ خوب صورت ہے۔“
رشاقہ خلوص سے بولی۔”میری آنکھوں نے تو آج تک ایسی صورت نہیں دیکھی۔“
”ہو سکتا ہے اس وِشاق(لونڈی) کو دیکھنے کے بعد تمھاری رائے تبدیل ہوجائے۔“قُتیلہ نے بادیہ کو نفرت انگیز نام سے یاد کیا۔
”اگر ملکہ قُتیلہ کو ناگوار نہ گزرے تو ایک سوال پوچھوں۔“
قُتیلہ فراخ دلی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ نے تمھیں اپنا دوست بنا لیا ہے ،تم بغیر کسی جھجک کے سوال کر سکتی ہو۔“
”مجھے ملکہ قُتیلہ کی دوستی پر ساری زندگی فخر رہے گا۔“ممنونیت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔ ”آپ کو بادیہ اور یشکر برے کیوں لگتے ہیں؟“
”ملکہ قُتیلہ نے کبھی سوچا نہیں۔بلکہ ملکہ قُتیلہ سے ان کا کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا۔البتہ ایک بار بنو نوفل کے سواروں کی ٹولی سے سامنا ہوا ، انھوں نے ملکہ قُتیلہ کو بادیہ سمجھ کر ہاتھ ڈالنا چاہاتھا۔خیر ان کی جسارت کا جواب تو ملکہ قُتیلہ نے دے دیا تھا لیکن اسی وقت سے وہ بری لگنے لگی۔بلکہ کل بھی ایک عورت نے ملکہ قُتیلہ کو بادیہ سمجھ لیا تھااور حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس نے بادیہ کو دیکھا ہوا بھی ہے۔“
رشاقہ نے خیال ظاہر کیا۔”شاید بادیہ کی شکل ،ملکہ قُتیلہ سے ملتی جلتی ہو۔“
”ملکہ قُتیلہ نے اس سنہرانہ (سنہرے بالوں والی)سے یہی بات پوچھی تھی۔کہہ رہی تھی کہ جسامت میں تو نہیں البتہ چہرے سے وہ ملکہ قُتیلہ کے مشابہ ہے۔“
رشاقہ نے اسے آنکھیں بند کرتے دیکھ کر کہا۔”ملکہ قُتیلہ تھکی ہو گی۔“
”ملکہ قُتیلہ ،تھکتی نہیں ہے ،مگر آرام کرنا چاہے گی۔“
اور رشاقہ سرہلاتے ہوئے خیمے سے باہر نکل گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: