Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 35

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 35

–**–**–

بادیہ کو زیادہ سے زیادہ آرام دینے کے لیے وہ ایک ماہ بعد ہی قبیلے پہنچے تھے۔اجڑے پجڑے قبیلے کو دیکھتے ہی ان کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔قافلے پر سب سے پہلے حکیم قنعب بن شمس کی نظر پڑی تھی۔وہ بہ مشکل چل سکتا تھا لیکن قافلے کو دیکھ کر وہ اتنا خوش ہوا تھا کہ بھاگتا ہوا ان تک پہنچا تھا۔
بیٹے سے ملتے ہوئے اس کی آنکھیں اشک بار ہو گئی تھیں۔قافلے والوں کے زخم ایک بات پھر تازہ ہو گئے تھے۔اونٹوں کو بٹھا کر سامان اتارنے سے پہلے وہ بنو جساسہ کے بچے ہوئے بوڑھوں کو ملنے حویلی میں داخل ہوئے۔بادیہ کا زخم اب بہتر تھا۔وہ بغیر سہارے کے چل سکتی تھی۔لیکن اس کے باوجود اغلب نے اسے سہارا دیا ہوا تھا۔شریم کو زندہ دیکھ کر انھیں نہایت خوشی ہوئی تھی۔شریم کا زخم بھی اب ٹھیک تھا۔شریم اپنے حجرے میں اکیلا تھا۔مالک ،مروان اور اغلب کے ہمراہ بادیہ کو دیکھ کر وہ حیرت سے اچھل پڑا تھا۔سب سے پہلے بادیہ اس کے سینے سے لپٹ کر رو پڑی۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شریم کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں۔
جذبات کا طوفان تھمتے ہی شریم نے یشکر کے متعلق پوچھا تھا۔بادیہ دوبارہ بلک پڑی تھی۔
شریم نے گلو گیر لہجے میں پوچھا۔”کیا ہوا تھا۔“
بادیہ ہونٹوں سے جذبات سے رندھی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔”ان کی تعداد دس تھی۔ اورعزیٰ کی قسم وہ بیس بھی ہوتے تویشکر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے لیکن مجھ سے نادانی سرزد ہوئی۔انھوں نے مجھے بھاگنے کا کہا ،مگرمیں ان کی مدد کرنا چاہتی تھی۔اس لیے وہیں کھڑی رہی۔اور پھر میں نے بنو نوفل کے ایک سوار کے عقب سے تلوار کا وار کیا،وہ تو خاص زخمی نہ ہوا البتہ اس کے جوابی وار سے مجھے کاری زخم آگیا تھا۔یشکر سات سواروں کو ہلاک کر چکے تھے لیکن میری چیخ سن کرحواس باختہ ہوگئے اور مجھے سنبھالنے دوڑے۔مجھے گھائل دیکھ کر انھیں دشمن بھول چکا تھا۔مجھے زخمی کرنے والا میرے قریب ہی کھڑا تھا۔اس کی گردن کاٹ کر وہ میرے زخم پر کپڑا باندھنے لگے اسی وقت بزدل دشمن نے پیچھے سے وار کر کے انھیں زخمی کر دیا۔مرنے سے پہلے انھوںنے بچ جانے والے دونوں بزدلوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا۔اور پھر میری زندگی کے کچھ دن باقی تھے کہ ہمارا اپنا قافلہ اس رستے آنکلا۔“وہ گلو گیر آواز میں سب کچھ بتاتی گئی۔
اسی وقت عریسہ اندر داخل ہوئی۔”عریسہ کی جان….“بادیہ کو دیکھتے ہی وہ حواس باختہ سی اس کی جانب بڑھی۔
شریم اور مالک وغیرہ حیران رہ گئے تھے۔خود بادیہ گھبرا کر بے ساختہ کھڑی ہو گئی تھی۔بادیہ سے دو قدم دور ایک دم عریسہ کے قدموں میں ٹھہراﺅآیا اور اس کی خوشی سے چمکتی آنکھوں بجھ گئی تھیں۔
”معذرت خواہ ہوں بیٹی !….مجھے غلط فہمی ہو ئی۔“اس کے ندامت بھرے لہجے میں گہرا دکھ پوشیدہ تھا۔
”یہ میری بھتیجی بادیہ ہے عریسہ۔“شریم فوراََ تعارف کرانے لگا۔”اور یہ عریسہ بنت منظر ہے۔بنو جساسہ کے سردارشریک کے ساتھ قافلے میں شامل تھی ،قافلہ لٹنے کے بعد قزاقوں کے ہاتھ چڑھ گئی اور پھر انھی کے پاس رہی۔کچھ دن پہلے ہی لوٹی ہے۔اب یہ تمھاری چچی ہے۔“
”تو تم ہو بادیہ۔“عریسہ نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما۔”تمھارے حسن کی تعریف سنی تھی لیکن یہ معلوم نہیں تھا تم اتنی زیادہ پیاری ہوو گی۔“اس کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے وہ بولیں۔”جانتی ہو تمھارا چہرہ اس چہرے کے کتنا مشابہ ہے جس کی خاطر میں نے سترہ سال قزاقوں کے ہاں گزار دیے۔“
بادیہ نے دھیرے سے پوچھا۔”میں سمجھی نہیں چچی جان۔“
”سمجھا بھی نہیں سکتی۔“وہ دکھی لہجے میں کہتے ہوئے پیچھے ہٹی۔”میں کچھ پینے کو لاتی ہوں۔“
”چچا جان وتینہ….؟“مالک نے کچھ پوچھنے کے لیے زبان کھولی لیکن اس کا سوال پورا ہونے سے پہلے شریم بول پڑا۔
” خیریت سے ہے ،وہ سلمیٰ ،ان کی ماں ،ثانیہ بیٹی کے پاس بنو اسد میں ہیں۔بنونوفل کے حملے سے چند دن پہلے ہی میں نے سلمی کے ہونے والے شوہر ملکان بن عسکر کے ساتھ انھیں وہاں بھجوا دیا تھا۔“
”چچا جان یہ سب ہوا کیسے ؟“مالک کے لہجے میں دکھ کے ساتھ انتقام کی خواہش بھی پوشیدہ تھی۔
”اس بارے اطمینان سے بات کریں گے بیٹا،فی الحال تم لوگ اونٹوں سے سامان اتارو اورتھوڑا آرام کرلو۔“
تینوں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئے جبکہ بادیہ نے کھسک کر چچا کے کندھے پر سر رکھااور بے آواز رونے لگی۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹی۔“وہ اس کا سرسہلانے لگے۔
”چچا جان !….یشکر مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔“اس کے ہونٹوں سے درد بھری سسکی نکلی۔ ”انھوں نے ہمیشہ حفاظت کرنے کا وعدہ کیا تھالیکن نبھاہنے کا وقت آیا تو سارے عہد و پیمان بھلا دیے۔“
”میری جان !….اپنی زندگی تو اس کے بس میں نہیں تھی ناں۔“شریم اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے تھے۔”جب تک زندہ رہاعہد نبھاتا رہا۔“
”چچا جان ،میں ان کے بغیر مر جاﺅں گی۔مجھے جینے کا طریقہ بھول گیا ہے۔ میں تو سچ میں اپنے سانسوں کے چلنے پر حیران ہوں۔“
”ایسا نہیں کہتے بیٹی !….“
”پتا ہے چچا جان ،قبیلے سے نکلنے کے بعد میں نے ان کے ساتھ کتنا گھٹیا اور برا برتاﺅ کیا تھا، لیکن انھوں نے مجھے ہمیشہ پھول کی طرح رکھا،میرے ناز اٹھائے ،مجھے لاڈلا بنا کر رکھا،مجھے درندوں سے بچایا،میری طرف بڑھنے والے میلے ہاتھوں کو جڑ سے کاٹااور ہر جگہ پر بادیہ کا سر فخر سے بلند کیے رکھا۔یہاں تک کہ بادیہ دل ہار گئی۔میں نے ان سے شادی کر لی تھی چچا جان۔ اور اب وہ مجھے فارس لے جارہے تھے تاکہ مجھے شہزادی بنا کر محل میں رکھیں۔اور پھر ظالم پہنچ گئے……..“اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
”تنا نہیں روتے چچا کی جان۔“شریم نے تسلی دیتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسا دیا۔
اسی وقت عریسہ صراحی اور پتھر کا پیالہ ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوئی۔”میں اپنی بیٹی کے لیے ٹھنڈی نبیذ لائی ہوں۔“(عرب کھجوروں کی گھٹلیاں نکال کرگودا چند گھنٹوں کے لیے پانی یا دودھ میں بھگو دیتے تھے۔یہاں تک کہ کھجوریں پانی یا دودھ میں حل ہو جاتی تھیں۔یہ ایک ٹھنڈا مشروب ہوتاہے۔ آج بھی عرب میں بڑے شوق سے پیا جاتا ہے۔اس کے بنانے کا طریقہ بھی بہت سادہ و آسان ہے۔البتہ علماءلکھتے ہیں کہ اگر کھجوروں کو بارہ گھنٹے سے زیادہ بھگو کر رکھا جائے تو اس میں نشہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اس کا پینا جائز نہیں رہتا ہے)
اس نے پیالہ بھر کر بادیہ کو تھمایا۔آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے اشک خشک کیے اور نبیذ پینے لگی۔عریسہ محویت سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔وہ حیران کن حد تک قُتیلہ کے مشابہ تھی۔
بادیہ کو بھی اس کی وارفتگی محسوس ہو گئی تھی۔اس کے ہونٹوں پر حزن و ملال میں ڈوبا تبسم نمودار ہوا۔”چچی جان ،آپ مجھے بھی اپنی بیٹی سمجھیں۔“
”قُتیلہ ،اس کا نام قُتیلہ ہے بیٹی۔“
بادیہ نے پوچھا۔”اسے کیا ہوا تھا ؟“
عریسہ سرعت سے بولی۔”عزیٰ نہ کرے اسے کچھ ہو۔“
بادیہ نے پوچھا۔”پھر آپ کے ساتھ کیوں نہیں آئی۔“
”آئے گی بیٹی ،جلد ہی آئے گی۔اس دنیا میں اگر وہ کسی سے محبت کرتی ہے تو وہ تمھاری چچی عریسہ ہے۔بس ٹھکانے کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔“
”کیا مطلب چچی جان ؟“بادیہ حیران رہ گئی تھی۔
عریسہ دھیرے سے مسکرائی۔”سب بتا دوں گی بیٹی۔فی الحال تم آرام کرو۔رات کو ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔“اور بادیہ نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
٭٭٭
آرمینیا کی فتح کے بعد سابو ذوالاکتاف کی نظریں گرجستان پر پڑیں۔اس وقت وہاں سارومیس کی حکومت تھی۔ سارو میس کو رومیوں کی حمایت حاصل تھی۔اور سابو ذوالاکتاف وہاں سے رومن تسلط کو ختم کرنا چاہتا تھا۔کیوں کہ گرجستان کے پہاڑی دروں کی بڑی اہمیت تھی۔
خصوصی دربار میں جہاںوزیر، صوبوں کے بِذَخش(گورنر) فوج کے سالار وغیرہ جمع تھے۔ اس نے گرجستان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لشکر جمع کرنے کا حکم دیا۔اور تھوڑے عرصے بعد وہ عظیم لشکر کی قیادت کرتا ہوا گرجستان کی طرف روانہ تھا۔الجزیرہ کا علاقہ پہلے سے اس کے قبضہ میں تھا۔ آرمینیا کے حکمران نے بھی سرتسلیم خم کیا ہوا تھا۔اس لیے راستے میں ایرانی لشکر کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی تھی۔ایرانی لشکر کی ساری ضروریات آسانی سے پوری ہوتی رہیں۔اور پھر ایک دن سابور کا لشکر گرجستان کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔سارومیس اتنی آسانی سے گرجستان کے تخت سے کنارا کش نہیں ہو سکتا تھا۔وہ سابور کی افواج کا جم کر مقابلہ کرتا مگر اس کا اپنا بھتیجا اسپاکورس اس کے خلاف صف آراءہوا۔سارو میس کو شکست ہوئی۔اور وہ گرجستان سے نکل بھاگا۔ سابور ذوالاکتاف نے اس کی جگہ اس کے بھتیجے اسپاکورس کو تخت نشین کیا۔ اپنی فوج وہاں متعین کی اور خود واپسی کی راہ لی۔اب گرجستان بھی اس کے قبضے میں تھا۔
گرجستان کے پہاڑی دروں کی اہمیت کے پیش نظر رومن فرماں رواوالنٹینین کو وہاں سابور ذوالاکتاف کا تسلط گوارا نہیں تھا۔وہ گرجستان کے معاملات میں مداخلت کے منصوبے سوچنے لگا۔اس کی کوشش تھی کہ وہاں دوبارہ سارو میس کی حکومت قائم ہو جائے جس کی ہمدردیاں رومن حکمران کے ساتھ تھیں۔آخر کار اس نے گرجستان پر حملے کا منصوبہ بنایااور اس مقصد کے لیے لشکر ترتیب دینے لگا۔گرجستان کا علاقہ سابور ذوالاکتاف کے پایہ تخت طیسفون سے کافی دور تھا۔رومن افواج سابور کے وہاں پہنچنے سے پہلے گرجستان کو فتح کر سکتے تھے۔ اس مقصد کے لیے سارو میس کی افواج بھی روم کے ساتھ تھیں۔اورسابور ذوالاکتاف فی الحال والنٹینین کے منصوبے سے لا علم تھا۔
٭٭٭
اگلے دن سورج کی تمازت میں تیزی آنے تک وہ بنو طرید پہنچ گئے تھے۔سارا رستا رشاقہ قُتیلہ کے پیچھے پیچھے ہی رہی تھی۔اس مخصوص درہ نما رستے سے گزرتے ہوئے جہاں انھوں نے بنو ضبع کے سواروں کا قلع قمع کیا تھا ،وہ رشاقہ کو مخاطب ہوئی۔
”یہ جگہ بنو ضبع کے سورماﺅں کا مقتل ہے۔یہ نسر دیوتا کے جھنڈ انھی کی لاشوں پر ضیافت اڑا رہے ہیں۔“
رشاقہ کی ناک میں بھی سخت بدبو پہنچ گئی تھی۔اس نے گلے میں جھولتی اوڑھنے ناک پر لپیٹ لی تھی۔
قُتیلہ نے ملکان کو اشارے سے اپنے آگے جانے کا بتایااور گھوڑے کی رفتار ایک دم تیز کر دی۔رشاقہ نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔گھڑی بھر بعد ہی وہ بنو طرید میں پہنچ گئی تھیں۔
وہاں وہ عورتوں کے ہمراہ صرف تین مردوں کو چھوڑ گئے تھے۔تینوں مرد قُتیلہ کو شمالی ٹیلوں پر تیر کمان کے ساتھ نظر آئے تھے۔وہ بنو طرید کی طرف آنے والے رستے کی نگرانی کر رہے تھے۔قُتیلہ کو دیکھتے ہی وہ خوشی سے کھل اٹھے تھے۔کیوں کہ اس خوب صورت دوشیزہ سے ان کے دلوں کو تقویت ملتی تھی۔اور ان کے حوصلے بلند ہوجاتے تھے۔
ان کے قریب گھوڑے کی لگام کھینچتے ہوئے قُتیلہ نے خیریت دریافت ،انھیں قافلے کی آمد سے مطلع کیا اور آگے بڑھ گئی۔بلیلہ ،طبقہ اور باقی عورتیں بھی خیمے سے باہر نکل کر اس سے ملنے لگیں۔اس کا کتا حطام بھی اس کے پیروں میں آ کر لوٹنے لگا تھا۔تمام اس کے عقب میں کھڑی رشاقہ کو حیرانی بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔قُتیلہ انھیں فتح کی خوش خبری سنا کر اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی۔بلیلہ نے اس کے گھوڑے کی لگام تھامتے ہوئے پوچھا۔
”ملکہ قُتیلہ ،نخیسہ(بھیڑ کے دودھ میں بکری کا دودھ ملانا) لے آﺅں یا سرخ شراب سے دل بہلانا پسند کریں گی۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔”اور کچھ نہیں ہے ؟“
بلیلہ نے کہا۔”نبیذ بھی موجود ہے ملکہ اور طبیعت چاہے تو دودھ میں شہد ملا کر لے آتی ہوں۔“
”ملکہ قُتیلہ کو تمھاری آخری بات پسند آئی ہے۔“وہ رشاقہ کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے وئے خیمے میں گھس گئی۔
خیمے میں کھجور کے پتوں سے بنی چٹائیاں بچھی تھیں۔اور ایک کونے میں لکڑی کا تخت پڑا تھا۔جس پر قُتیلہ کا بستر بچھا تھا۔اس کے سرہانے کے ساتھ ایک اور تخت موجود تھاجس پرجُلبان(چمڑے کاغلاف جس میں تلوار مع میان کے رکھی جائے ) میں لپٹی دو تلواریں ، تیروں سے بھرے دو ترکش، قَربان(وہ غلاف جس میں کمان رکھی جاتی تھی ) میں لپٹی دو کمانیں ،تین خنجر،چمڑے کی دو ڈھالیں، خود(لوہے کی ٹوپی)قزاگند(قدیم طرز کا جنگی لباس جس میں کچا ریشم بھرا جاتا تھا تاکہ تلوار کے زخم سے بچا جا سکے )تین ہلکی زرہیں ، دو برچھیاں ،ایک نیزہ ،کلائی سے کہنیوں تک پہننے والے مضبوط چمڑے کے حفاظتی پہناوے،گودھا(چمڑے کا وہ ٹکڑا جسے تیر انداز تانت کی چوٹ سے بچنے کے لیے بائیں کندھے پر باندھتے تھے)دو تین جَلیدے (ہڈی کا چھلا جو تیر انداز انگلی میں پہنتے تھے )پڑے تھے۔ رشاقہ نے اس سامان کو بڑی حیرانی اور شوق سے دیکھا تھا۔کیوں کہ جوان لڑکیوں کا جو اثاثہ ہو سکتا ہے وہ اس سے غافل نہیں تھی۔عورت ہمیشہ سے زیورات کی دیوانی رہی ہے۔لیکن اس کا خیمہ تو کسی پرانے جنگجو کے خیمے کی تصویر کشی کر رہا تھا۔اس کے بدن پر بھی کانوں میں سونے کی بالیوں ، گلے میں سبز زمرد کے چوڑے ہار اور کلائیوں میں پہنے دو مردانہ کنگنوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہاتھا۔
قُتیلہ کے اشارے پر وہ تخت کی پائنتی پر بیٹھتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔”ملکہ قُتیلہ کو سجنے کا شوق نہیں ہے۔“
اس کے ہونٹوں پر مَدُھر تبسم نمودار ہوا۔”ملکہ قُتیلہ کے کانوں اور گلے میں نظر آنے والے زیور بھی ماں جی نے زبردستی پہنائے تھے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے لکڑی کے تخت پر پڑی جلبان میں ملفوف ایک تلوار اٹھائی۔ اس کا غلاف کھول کر اس نے تلوارمیان سمیت رشاقہ کی طرف بڑھا دی۔
”یہ وہ تلوار ہے جو ملکہ قُتیلہ مشق کے لیے استعمال کیا کرتی تھی۔“
رشاقہ نے میان پکڑ کر تلوار نکالی ،وہ ایک عمدہ تلوار تھی۔وہ اسے کسنے لگی۔(تلوار پر دباﺅ ڈالنا ،جو تلوار عمدہ لوہے سے بنی ہوتی ہے اس کے دونوں سرے مل جاتے ہیں مگر وہ ٹوٹتی نہیں )
”بہت عمدہ تلوار ہے۔“رشاقہ نے تحسین آمیز لہجے میں کہتے ہوئے تلوار میان میں ڈالی اور واپس قُتیلہ کی جانب بڑھا دی۔
قُتیلہ فراخ دلی سے بولی۔”رکھ لو۔“
”کک….کیا۔“فرط مسرت سے رشاقہ کا چہرہ گلنار ہو گیا تھا۔”شکریہ ملکہ ،آپ بہت دیالو ہیں۔“اس نے میان کو چوم کر تلوار گود میں رکھ لی تھی۔
اسی وقت بلیلہ شہد ملے دودھ کا کٹورہ بھر کے لے آئی تھی۔
دودھ پی کر وہ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔بلیلہ نے تخت پر بیٹھتے ہوئے جونھی اس کی ٹانگوں پر ہاتھ رکھا۔وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
”ملکہ قُتیلہ کو ایسی خدمتیں لینے کی عادت نہیں ہے بلیلہ۔“
بلیلہ نے جلدی سے وضاحت کی۔”میں خوشی سے آپ کی ٹانگیں دبا رہی ہوں ملکہ۔“
”بات خوشی یا ناگواری کی نہیں ہے بلیلہ ،بس ملکہ قُتیلہ آرام پسند نہیں بننا چاہتی۔“اس نے نرمی سے بلیلہ کے ہاتھوں کو روک دیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد قافلے کی آمد کا واویلا مچ گیا تھا۔قُتیلہ کے حکم پر تمام آرام کے بجائے کام میں مصروف ہو گئے تھے۔غروب آفتاب سے پہلے نہ صرف خیمے لگ گئے تھے بلکہ سامان بھی تقسیم کیا جا چکا تھا۔قُتیلہ نے تمام سے مختصر سا خطاب کیا اور آخر میں آنے والی شام کو جشن منانے کا اعلان کر کے انھیں آرام کے لیے چھوڑ دیا۔
ملکان کورات کے لیے پہرہ دار مقرر کرنے کا کہہ کر وہ خود بھی آرام کرنے چل دی تھی۔
اگلے دن طلوع آفتاب کے ساتھ ہی جشن کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔سالم اونٹ، بکرے اور دنبے آگ پر بھونے جانے لگے۔شراب کے مٹکوں کے گرد گیلا کپڑا لپیٹ کر انھیں درختوں کے سائے کے نیچے رکھا گیا تاکہ شراب خوب ٹھنڈی ہوجائے۔تمام نے اہتمام سے نہا کر نئے کپڑے پہنے تھے۔ بلیلہ اور رشاقہ ،قُتیلہ کے منع کرنے کے باوجود اس کے سر پر تیل چپیڑ کر کنگھی کرنے لگیں۔ ان کی محبت و خلوص دیکھ کر قُتیلہ متبسم ہو کر خاموش ہوگئی تھی۔انھوں نے زبردستی ایک ریشمی لباس اسے پہنا دیا تھا۔سرخ رنگ کا کھلا چوغہ ،کمر میں نطاق،جبکہ ماتھے پر قساوا باندھنے کے بجائے رشاقہ نے سرخ و سفید موتیوں کا ہار اس انداز میں رکھا تھا کہ تاج کی طرح لگ رہا تھا۔بنو احمر کے سردار ذواب بن ثابت کے ساتھ اس کی شادی کے وقت عریسہ نے اسے یونھی سجایا تھا۔اور آج رشاقہ اور بلیلہ ضد کر کے اس کے حسن میں نکھار لے آئی تھیں۔
غروب آفتاب کے ساتھ ہی آگ کا بڑا آلاﺅ روشن کر کے وہ کھانے پینے میں مشغول ہو گئے تھے۔ بھنے ہوئے دنبے ،بکرے اور اونٹ کا گوشت کھانے کے ساتھ وہ شراب کے بھی جام پر جام لٹا رہے تھے۔شور وغل اور چیخ و پکار سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔جو کل تک اجنبی اور ناواقف تھے آج کے ان کے دکھ درد اور خوشیاں ایک ہو گئی تھیں۔کچھ عورتوں کو نئے خاوند مل گئے تھے، کچھ کو پہلی بار مردو ںکا ساتھ ملا تھا۔ان میں ایسے مرد و عورتیں بھی شامل تھے جن کے دل بچھڑنے والوں کے غم سے بھرے ہوئے تھے لیکن ماحول کو دیکھ کر انھوں نے بھی وقتی طور پر اس غم کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔یوں بھی انسانی فطرت میں قدرت نے بھول کا مادہ وافر مقدار میں ودیعت کیا ہے۔اسے خود غرضی کا نام دیا جائے ،بے وفائی کہا جائے یابے حسی، لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ بھول انسان کی بقا میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ورنہ انسان مرنے والے پیاروں کے غم سے کبھی نجات نہ پا سکتا اور ماضی کے دکھ درد اس سے جینے کا حوصلہ چھین لیتے۔
کھانے پینے کے بعد محفل موسیقی شروع ہو گئی تھی۔بربط،الغوزہ، دف وغیرہ کی آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا۔پیشہ ور قینات(مغنیہ) تو کوئی نہیں تھی البتہ طبقہ کی آواز بہت خوب صورت تھی اور شادی بیاہ کے موقع پر گانے گاتی رہتی تھی۔بلیلہ اور رشاقہ رقص کرنے لگیں ۔تھوڑی دیرمیں چند اور لڑکیاں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی تھیں۔شراب کے مٹکوں کے منھ کھل گئے تھے۔شاعری عربوں کی گھٹی میں پڑی تھی۔طبقہ فی البدیہہ قُتیلہ کی شان میں قصیدہ پڑھنے لگی ،جس میں قُتیلہ کے، حسن، بہادری دلیری اور بے جگری کا ذکر تھا۔
رشاقہ رقص کرتے ہوئے قُتیلہ کے قریب آکر اسے کھینچنے لگی ۔قُتیلہ خوش تھی ،اسے سرداری مل گئی تھی ،بنو طرید کے مرد وزن اس کی عزت کرتے تھے ،اس سے ڈرتے تھے اور اس کی خدمت کر کے خوش ہوتے تھے۔اور حالت طرب میں جب خوب صورت ساز بج رہے ہوں تو بغیر مرد وزن کی تخصیص کے ہر کوئی جھومنے لگتا ہے۔
وہ سرخ شراب کے چار پانچ قدح (شراب کے بڑے پیالے ) معدے میں انڈیل چکی تھی۔ رشاقہ کی ضد پر ہتھیار ڈالتے ہوئے وہ بھی اٹھ کر جھومنے لگی۔اسے رقص کرنا نہیں آتا تھا لیکن ساز کی لے پر کسی خوب صورت دوشیزہ کا بے ہنگم انداز میں جسم مٹکانا ہر رقص سے خوب صورت لگتا ہے۔ اسے ناچتے دیکھ کر مردوں نے فلک شگاف نعرے بلند کیے تھے۔گھڑی بھرجھومنے کے بعد وہ دوبارہ تخت پر بیٹھ گئی تھی۔ اس کا حسن کسی بھی مرد کے حواس چھین سکتا تھا۔اگر اس کا رعب نہ ہوتا تومردوں کی نگاہوں کا اس کے چہرے سے ہٹنا مشکل ہو جاتا۔البتہ قیروان بن اخلد قربان ہونے والی نظروں سے مسلسل ہی اسے گھورے جا رہا تھا۔کافی دنوں سے اس کے دل میں پلنے والی محبت میں ایک دم اضافہ ہو گیا تھا۔ اس کا انگ انگ قُتیلہ کی رفاقت کا خواہاں تھا۔ہر انجام بالائے طاق رکھ کر وہ اسے وارفتگی سے گھورتا رہا۔ اصرم بن خسار نے چند مرتبہ اسے ٹوکا بھی سہی مگر اس کی عقل پر جذبات غالب تھے۔اس نے اصرم کی بات کو درخور اعتناءنہیں جاناتھا۔
طبقہ کے بعد ملکان گانے لگا۔وہ بنو طرید کے لڑاکوں کی بہادری کے گن گا رہا تھا۔ایسے جنگجو جن کی سرخیل ملکہ قُتیلہ جیسی ماہر لڑاکا تھی،جس کی تلوار دشمنوں کو ایسے کاٹتی تھی جیسے جوان کاشتکار پکی ہوئی فصل کاٹتے ہیں۔جس کے آگے بڑے بڑے لڑاکوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اوراس کے مقابلے میں منجھے ہوئے جنگجوﺅں کی وہی حیثیت ہے جیسے ابو الحارث (شیر)کے سامنے خرگوش یا ہرن ہوتا ہے ۔
رات گئے تک وہ جشن جاری رہا تھا۔یہاں تک کہ نیند اور نشہ ان پر غلبہ پانے لگا۔قُتیلہ نے انھیں آرام کرنے کا مشورہ دیا اور خود اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی ۔کچھ مرداپنی عورتوں کو لے کر خیموں کی طرف بڑھ گئے تھے اور کچھ صحرا کی ٹھنڈی ریت ہی پرنئی بیویوں سے ہم آغوش ہوکر لیٹ گئے تھے۔شرم و حیا ان کے لغت میں نامانوس الفاظ تھے۔اس مدہوشی اور تھکن کے باوجود ملکان کو قُتیلہ کی پہرے دار مقرر کرنے کی ہدایت نہیں بھولی تھی۔
رات آہستہ آہستہ سرک رہی تھی۔قیروان بن اخلد کا جسم جذبات کی آگ میں بھٹی کی مانند تپ رہا تھا۔ارد گرد کے خیموں اور کھلے میدان سے ابھرنے والی مردو زن کی معنی خیز سرگوشیاں ،بلند و پست سسکیاں ،سریلی چیخیں اور نقرئی قہقہے اس کے جذبات کو بے لگام کررہے تھے۔اس کی آنکھوں کے سامنے قُتیلہ کا خوش نما بدن تھرک رہا تھا۔موسیقی کی لے پر وہ اچھل کود رہی تھی ،سر کو دائیں بائیں ہلا رہی تھی، بالائی و زیریں بدن کو مٹکا رہی تھی،قہقہے بلند کررہی تھی ،چکر کاٹتے ہوئے ہاتھوں کو مخصوص انداز میں لہرا رہی تھی۔اور جانے کیا کیا کر رہی تھی۔
وہ بدن پر لپیٹی چادر دور پھینک کر اٹھ بیٹھا۔وہ دو تین مرتبہ اظہار محبت کر چکا تھا۔ اور قُتیلہ نے اسے ایک بار بھی نہیں ڈانٹا تھا۔دل میں خوش فہمی جاگی کہ شاید وہ بھی اسے چاہتی ہے۔آخر جوان لڑکی کو بھی مرد کی حاجت و ضرورت ہوتی ہے۔یوں بھی وہاں مذہب و معاشرے کی رکاوٹ نہیں تھی،قاعدے و قانون کی بندش نہیں تھی، اصول و ضوابط کی قدغن نہیں تھی ۔اورمردوزن کا ملاپ فطرتی ضرورت ہونے کی وجہ سے بھوک وپیاس جیسے تقاضے ہی کی حیثیت رکھتا تھا۔
اس کا دل ورغلا رہا تھاکہ اسے ایک بار قُتیلہ کے خیمے میں جا کر اس کا عندیہ لینا چاہیے۔ہو سکتا تھا اسے بھی کسی مرد کی آغوش مطلوب ہوتی۔ قیروان اس کی طلب پوری کر کے اپنے سپنوں کو حقیقت کا جامہ پہنا سکتا تھا۔
خیمے سے باہر آکر وہ بے دھڑک قُتیلہ کے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔خیمے کے سامنے کا پردہ گرا ہوا تھا لیکن اندر قندیل روشن تھی۔جذبات سے بوجھل قدم لیے وہ اندر داخل ہوا۔ایک مرتبہ اس کے دماغ میں ہلکی سی جھجک اٹھی، چھٹی حس نے واپس پلٹنے کی استدعا کی ۔لیکن نفسانی جذبات اس کے پیروں کی زنجیر بن گئے تھے۔اس کی نظریں تخت پر لیٹی خوش بدن دوشیزہ کے وجودسے چپک گئی تھیں۔وہ چت لیٹی تھی ،لمبے سانس اس کی گہری نیند کا مظہر تھے۔سینے کے زیروبم نے قیروان کی رہی سہی عقل بھی خبط کر دی تھی۔قندیل کی سحر بھری روشنی میں اس کا بے رحم چہرہ معصومیت و بھول پن کا مرقع نظر آرہا تھا۔پلکوں کی گھنی جھالر نے دنبالہ آنکھوں کو ڈھانپا ہوا تھا لیکن سرمے کی لکیر دونوں آنکھوں کے پپوٹوں سے باہر نظر آرہی تھی۔صراحی دار گردن سے لپٹے سبز زمرد سے مزین طوق نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے۔گھنے سیاہ بال قساوا(ماتھے کی پٹی)کی قید سے آزاد تھے۔سر سے لپٹاسرخ و سفید موتیوں کا ہاربھی اس نے اتار دیا تھا۔اور اس وقت وہ گیسو چمڑے کے تکیے پر یوں بکھرے تھے جیسے ساون کی گھٹائیں پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ۔
ایک لٹ گندم گوں چہرے پرستواں ناک کو چھوتی ہوئی، بند ہونٹوں کی پنکھڑیوں کو عبور کر کے ٹھوڑی کو چوم رہی تھی۔اس کے سانس اندر کھینچنے پر وہ بال گول نتھنے کے قریب سمٹتے اور سانس باہر نکالنے پر ذرا سا پیچھے ہٹ جاتے۔وہ خفیف سی حرکت دیکھ کر اس لٹ پر کسی کالے ناگ کا گمان ہوتا تھا جو آہستہ آہستہ ہل کر اپنی زندگی کا یقین دلا رہا ہو۔اس کا دایاں ہاتھ ان بلندیوں پر دھرا تھا جہاں تک کسی اور کی رسائی کا انحصار اس کی مرضی کے تابع تھا۔جبکہ بایاں ہاتھ جسم سے ذرا سا الگ بستر پر پڑا تھا۔یوں کہ ہتھیلی کا رخ اوپر کی طرف تھا۔ اگر قیروان دست شناسی جانتاتوان لکیروں میں اپنے مقدر کی ریکھا ضرور تلاش کرتا۔
تخت کے قریب ہو کر وہ زمین پر بیٹھا اور پھر اس کے لبوں نے قُتیلہ کے پاﺅں کے تلوے سے اتصال کا حوصلہ کیا۔وہ ہلکے سے کسمسائی اور کروٹ تبدیل کر کے رخ دوسری جانب موڑ لیا۔یوں کہ دونوں ہاتھ باہم ملا کر چہرے کے سامنے دھر دیے تھے۔دائیں ٹانگ سیدھی اور بائیں ذرا سی پیٹ کی جانب سمٹ گئی تھی ۔اس کے جسم کے خوشنما نشیب و فرازایک دم قیروان کی نظروں سے اوجھل ہوئے، لیکن ساتھ ہی چھپے ہوئے دلکش زاویے و قوسیں کپڑوں کی اوٹ سے اپنی موجودی کا یقین دلانے لگے۔اس وقت قیروان کے دل سے ہر سود وزیاں کا احساس محو ہو چکا تھا۔عقل خبط ہونا کسے کہتے ہیں یہ اس پر پہلی بار آشکارا ہورہا تھا۔
دل کے واویلے پر کان دھرتے ہوئے اس نے دوبارہ اپنے لبوں کو آوارگی کی اجازت دی ، اس مرتبہ گستاخ لبوں نے تلوے کے بجائے شفاف پنڈلی کے لمس سے آشنائی حاصل کی تھی،کیوں کہ اس کی سراول کا ایک پائینچہ آدھی پنڈلی سے بھی اوپر تک سمٹ گیاتھا۔ قیروان کی اس گستاخی پر بھی اس کا جسم بے چینی کے انداز میں کسمساکر رہ گیا تھا۔
قیروان کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری ،اسے لگا وہ جاگ چکی ہے مگر جان بوجھ کر خود کو سوتا ظاہر کر رہی ہے ۔پائینتی سے سرہانے کی طرف کھسک کر وہ قُتیلہ کے چہرے پر جھکا۔اس کے لبوں نے پنڈلی سے براہ راست چہرے تک کا طویل سفر ایک لمحے میں طے کر ڈالاتھا۔ زبان نے طلائی قرط(بالی) سے مزین کان کی لو کا ذائقہ چکھا اس کے منھ میں شیرینی گھل گئی تھی۔ساتھ ہی اس کے دائیں ہاتھ نے ناقابلِ عبور بلندیوں پر کمند ڈالنے کی جسارت کی کہ مزید انتظار اس کے بس سے باہر ہو گیا تھا۔
ایک دم ہڑبڑاتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی تھی۔قیروان پر نظر پڑتے ہی نیند کے خمار سے بوجھل آنکھوں میں پہلے حیرانی اور پھرغصہ ابھرا۔ اس کے بائیں ہاتھ نے اپنے کان کی لو کو چھو کر گیلے پن کو محسوس کیا،ساتھ ہی دائیں ہاتھ نے بستر پر پڑی میان سے تلوار کھینچی ….
”اپنے آدمیوں کی گنتی میں کمی کرنا ملکہ قُتیلہ کو پسند تونہیں،لیکن تمھاری زندگی سے پریشانی ہو رہی ہے قیروان۔“چند الفاظ کی ادائی کے ساتھ ہی اس کا دایاں ہاتھ گھوم گیا تھا۔اس نے نہ تو قیروان سے باز پرس کی ضرورت محسوس کی تھی اور نہ معافی تلافی کا موقع دیا تھا۔بالکل آخری لمحوں میں قیروان کو محسوس ہوا کہ اسے اصرم بن خسار کی نصیحت پر عمل کر لینا چاہیے تھا۔اور اس کے بعدساری سوچیں اس بے انتہااذیت پر مرتکز ہوئیں جو تیز دھار تلوار کے گردن سے پار ہوجانے پر شروع ہوئی تھی۔اور پھر ہر قسم کی سوچیں اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھیں۔

اس کی گردن اڑتی ہوئی خیمے کے پردے سے جاٹکرائی اورنچلا دھڑ خیمے میں بچھی چٹائیوں کو داغ دار کرنے لگاتھا۔اس کے ساکن ہونے کا انتظار کیے بغیر قُتیلہ نے اسے پنڈلی سے پکڑ کر گھسیٹا اور خیمے کا پردہ ہٹا کر دور اچھال دیا۔قیروان کی بے نور ہوتی آنکھوں میں پشیمانی اور دہشت ثبت ہو چکی تھی۔ قُتیلہ نے اس کی کھوپڑی کو بھی پاﺅں کی ٹھوکر سے اس دور پھینکا اور واپس مڑکر اوندھے منھ بستر پر لیٹ گئی۔خمار آلود آنکھیں میچتے ہی اس کے سانس بھاری ہونے لگے۔ وہ قُتیلہ تھی ،کسی انسان کا قتل اس کے نزدیک مچھر مارنے سے بڑھ کر نہیں تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: