Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 36

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 36

–**–**–

”تمھارا شوہر کیسے زخمی ہوا تھا۔“قتیلہ کے جانے کے دوسرے روز، دوپہر کو ایک درخت کے سائے میں یشکر کو لٹاتے ہوئے امریل پہلی بار اسے مخاطب ہوا تھا۔ورنہ قُتیلہ کے جانے کے بعد سے وہ مسلسل خاموش تھا۔خلیسہ اسے کئی بار مخاطب کرنے کی کوشش کر چکی تھی لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی۔وہ خلیسہ کے ساتھ مل کر سارا کام کرتا بلکہ خلیسہ سے کچھ زیادہ کام ہی کرتا تھا۔رات کو وہ خلیسہ کے خیمے سے تھوڑے فاصلے پر آگ جلا کر لیٹ جاتا۔دوپہر کو بھی اس کے ساتھ سامان وغیرہ اتروا کر وہ دوسرے درخت کے سائے کا رخ کرتا۔اب دوسرے دن کو پڑاﺅ ڈالتے ہوئے وہ پہلی باراسے مخاطب ہورہا تھا۔
وہ خوش گوار حیرت سے بولی۔”کچھ مردوں نے غلط نیت سے میری طرف ہاتھ بڑھانا چاہا جو میرے شوہر سے برداشت نہ ہوا اوروہ ان سے ٹکرا گئے۔“اس نے صریحاََ جھوٹ اگلا تھا۔
امریل نے گفتگو کو طول دیا۔”تمھارے شوہر کے زخمی ہونے کے بعد کیا ہوا۔“
”وہ پانچ آدمی تھے۔تین کو میرے شوہر نے زخمی ہونے سے پہلے قتل کیا اور دو کی گرن زخمی ہونے کے بعد اتاری، اس کے بعد خود بھی بے ہوش ہو گئے تھے اور اب تک ہوش میں نہیں آئے۔“
اثبات میں سرہلاتے ہوئے امریل دوسرے درخت کی طرف بڑھ گیا تھا جو پچاس ساٹھ قدم دور تھا۔خلیسہ نے یشکر کے ساتھ ہی چادر بچھائی اور اپنے بیٹے سے اٹھکیلیاں کرنے لگی۔
”سردار زادی ،تمام کو قتل کر دیا….تمھارے یشکر نے ساروں کو ہلاک کر دیا ….بس تمھیں نہ بچا سکا ،بادیہ ….اٹھو ….اٹھو ناں ……..“یشکر زور زور سے بڑبڑایا۔اس کا سانس پہلے سے تیز چلنے لگا تھا۔ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچ گئی تھیں۔دو تین لمحوں بعد گہرا سانس خارج کرتے ہوئے اس نے بدن ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔خلیسہ دودھ کا کٹورا اٹھا کر تھوڑا تھوڑا دودھ اس کے حلق میں ٹپکانے لگی۔وہ دو تین مرتبہ پہلے بھی اس سے ملتے جلتے الفاظ منھ سے نکال چکا تھا۔اس کی خود کلامی سے خلیسہ کو اتنا اندازہ ہو گیا تھا کہ بنو نوفل کے سواران کے تعاقب میں پہنچ گئے تھے۔اور بھرپور مقابلے کے بعد یشکرنے تمام کو ہلاک کر دیالیکن خود کو زخمی ہونے اور اپنی بیوی کو مرنے سے نہ بچا سکا۔بعد میں قافلے والوں نے اس کی مرہم پٹی تو کر دی لیکن کسی وجہ سے وہ اسے ساتھ نہیں لے جاسکے تھے۔وہ دو تین مرتبہ بہت تھوڑے وقفے کے لیے ہوش میں آیا تھا لیکن بات چیت کیے بغیر اس پر دوبارہ غشی طاری ہو گئی تھی۔اس کی مسلسل بے ہوشی کی وجہ بہت زیادہ خون کا بہہ جانا تھا۔اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے خلیسہ موقع ملتے ہی اسے اونٹنی کا دودھ پلانے لگتی۔
اس وقت بھی پیالہ بھر دودھ اس کے حلق میں ٹپکا کر وہ پٹی کھول کراس کے زخم کا جائزہ لینے لگی۔داغنے کی وجہ سے زخم جلدی سے بھرتا جا رہا تھا۔پیٹھ پر موجود زخم بھی اب کافی بہتر تھا۔زخم کی پیپ اور پانی وغیرہ خشک کرنے والا مخصوص جڑی بوٹیوں کا سفوف زخم پر چھڑک کر اس نے دوبارہ پٹی باندھ دی تھی۔یشکر جہاں اس کا دشمن تھا وہیں اس کا مسیحا بھی تھا۔اگر وہ نہ ہوتا تو یقینا بادیہ کی تلوار اس کا کام تمام کر چکی ہوتی۔وہ یشکر کی پٹی باندھ کر بہ مشکل فارغ ہوئی تھی کہ اسے دور ٹیلے کی اوٹ سے دو افرادنمودار ہوتے نظر آئے۔دونوں پیدل بھاگ رہے تھے۔وہاں اکا دکا درختوں کو دیکھتے ہی ان کا رخ اسی جانب مڑگیا تھا۔شاید انھیں اونٹ بھی نظر آگئے تھے۔
”امریل۔“ان کے قریب آنے سے پہلے خلیسہ نے دوسرے درخت کے نیچے لیٹے اپنے ہم سفر کو آواز دی۔
امریل نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور اس نے دوڑتے ہوئے آدمیوں کی جانب اشارہ کر دیا۔دونوں آدمیوں کا رخ خلیسہ والے درخت کی طرف تھا۔امریل سرعت سے اپنی جگہ چھوڑ کر خلیسہ کے نزدیک پہنچا۔اس کی تیزی نے خلیسہ کو حیران کر دیا تھا۔
”کیا وہ اتنی اہم ہے کہ اس کے لیے اتنی سرعت کا مظاہرہ کیا جاتا۔“ایک تلخ سوچ اس کے دماغ میں لہرا کر رہ گئی تھی۔ بھاگتے ہوئے آدمی قریب پہنچ گئے تھے۔خال و خد سے دونوں عربی نظر نہیں آتے تھے۔ان کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا۔ان کے پاﺅں میں جوتے نہیں تھے۔درخت کی چھاﺅں میں آتے ہی دونوں گھٹنوں کے بل گر ئے اور پھر اوندھے منھ لیٹ گئے تھے۔ان کے لباس جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے ،بال نہایت روکھے اور گندے جیسے انھیں پانی و تیل کی شکل دیکھے عرصہ بیت گیا ہو ، منتشرداڑھیاں ، آنکھوں سے جھلکتا خوف و ہراس۔یوں لگتا تھا جیسے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ان کی عمریں بھی پچیس سال سے کم ہی لگ رہی تھیں۔
صحرا کی ریت میں دوڑنا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جن کا واسطہ صحرا سے پڑ چکا ہو۔ ننگے پاو¿ں تپتی دھوپ جلتے تندور کی مانند لگتی ہے۔ اور پھر تیز دھوپ سے سر بھی چولھے پر پڑی ہانڈی کی طرح کھولنے لگتا ہے،پانی دنیا کی سب سے بڑی نعمت محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت وہ دونوں بھی اسی صورت حال سے دوچار تھے۔
امریل اور خلیسہ ایک دوسرے کی طرف دیکھا،امریل نے کندھے اچکاتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا۔خلیسہ دوبارہ اجنبیوں کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔گھڑی بھر بعد ہی ان کا سانس اعتدال پذیرہوسکا تھا۔بڑی مشکل سے دونوں سیدھے ہو کر بیٹھے۔دونوں کے بال کافی لمبے تھے۔ایک نے بال مینڈھیوں کی صورت گوندھ رکھے تھے جبکہ دوسرے کے بال بکھرے ہوئے تھے۔
”آسمان والے کے نام پر ہمیں پینے کو تھوڑاپانی مل سکتا ہے۔“مینڈھیوں والے نے ہمت کرتے ہوئے فصیح عربی میں کہا تھا۔شکل کے برعکس اس کا لہجہ بالکل عربوں کا سا تھا۔
خلیسہ نے جلدی سے تنے سے لٹکے مشکیزے سے دو آب خورے بھرے اور انھیں پکڑا دیے۔
دونوں ہاتھوں سے آب خورہ تھام کر انھوں نے ایک ہی سانس میں خالی کر دیا تھااور مزید کی طلب میں وہ دوبارہ خلیسہ کی طرف یتیمانہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
خلیسہ نے دونوں آب خورے دوبارہ بھر دیے تھے۔دوسری مرتبہ بھی انھوں نے سانس لیے بغیر آب خورے خالی کردیے تھے۔خلیسہ کے تیسری مرتبہ آب خورے بھرنے کے ارادے سے آگے بڑھی لیکن امریل نے اسے روک دیا تھا۔
”مزید نہیں۔“
وہ امریل کی طرف متوجہ ہوئی۔”ہمارے پاس بھرے ہوئے دو بڑے مشکیزے اور بھی پڑے ہیں۔“
امریل بولا۔”جانتا ہوں ،لیکن فی الحال انھیں مزید پانی نہ پلاﺅ تھوڑی دیر بعد پلادینا۔“
”اے مہربان آدمی ،ہمارے پاس یہاں رکنے کا وقت نہیں ہے۔تھوڑی سی خوراک اور پانی اگر مل جائے تو ہم آگے بڑھ جائیں گے۔“اس مرتبہ بھی مینڈھیوں والے نے بولنے کی ہمت کی تھی۔
امریل نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا۔”مسئلہ پانی و خوراک کا نہیں تمھاری حالت کا ہے دوست۔تم اپنی توانائی خرچ کر چکے ہو اور اب بغیر سواری کے مزید سفر کرنا تمھارے لیے ممکن نہ ہوگا۔زیادہ سے زیادہ دو تین کوس ہی بھاگ پاﺅ گے اور اس کے بعد دردناک موت کا استقبال کرنا تمھارا مقدر ہو گا۔“
مینڈھیوں والا مسکین لہجے میں بولا۔”یہاں رکنے کی صورت بھی موت ہی مقدر بنے گی تو کیوں نہ کوشش کر کے مریں۔“
امریل نے پوچھا۔”کس کے ڈر سے بھاگ رہے ہو؟“
”ہم یمامہ کے ایک رئیس کے غلام ہیں اور اس سے وفاداری کرنا ہمیں مہنگا پڑ گیا۔“اس مرتبہ دوسرے نے زبان کھولی تھی۔
امریل فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”وفادارلوگ کبھی نقصان نہیں اٹھاتے۔“
مینڈھیوں والے کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”ہمارا بھی یہی خیال تھا۔“
امریل نے دلچسپی سے پوچھا۔”کیا ہوا تھا؟“
مینڈھیوں والا تفصیل بتاتا ہوا بولا۔” تتالہ بنتطلیق، یمامہ کی سب سے حسین و جمیل قینات(مغنیہ)تھی۔اس کی خوب صورتی سے متاثر ہوکرہمارے رئیس جرہم بن قسامہنے اسے اپنے حرم میں ڈال لیا (مطلب شادی کر لی) پیشہ ور عورت ایک ایسے رئیس پر قانع نہیں رہ سکتی تھی جس کی دس دوسری بیویاں بھی موجود ہوں۔وہ خوب صورت فاحشہ ،رئیس کے غلاموں کو نوازنے لگی۔جو اسے اچھا لگتا رئیس کی غیر موجودی میں اسے اپنی خواب گاہ میں بلا لیتی۔ہم دونوں بھی جوان تھے اس نے ہمیںعلاحدہ علاحدہ دو تین مرتبہ بلا کر اپنی خواہش پوری کرنا چاہی،مگر ہم رئیس کے وفادار تھے اس نے ہمارے بچپن میں ہمیں خریدااور پال پوس کر بڑا کیا ہم کیسے خیانت کے مرتکب ہوسکتے تھے۔اس لیے دونوں نے اپنی اپنی جگہ انکار کر دیا۔جب تتالہ بنت طلیق کا اصرار بڑھا تو ہم نے صاف صاف کہہ دیا کہ ”اگر اس نے مجبور کیا تو ہم یہ بات رئیس کو بتلا دیں گے۔“اور یہ ہماری غلطی تھی کہ ایسی عورت کو للکار بیٹھے جو بدکردار ہونے کے ساتھ اپنے شوہر کی لاڈلی بھی تھی۔پس اس نے اگلے ہی دن اپنی قمیص کا گریبان پھاڑ کر شور مچا دیا کہ ہم دونوں نے اس پر ہاتھ ڈالا ہے۔ایسی باتوں میں عورت ہی کا اعتبار کیا جاتا ہے۔خاص کر اس صورت میں جب مقابل ہم جیسے پیدائشی غلام ہوں۔جرہم بن قسامہ نے بغیر تحقیق یا استفسار کے ہمیں اپنے جلادوں کے حوالے کر دیا۔انھوں نے مار مار کر ہماری کھال ادھیڑدی۔لیکن ہمارے آقا کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا کیوں کہ اس کے تئیں ہم نے اس کے نسب میں نقب لگانے کی کوشش کی تھی۔گزشتا شام اس نے اعلان کیا کہ اگلے دن سرعام ہمارا سر قلم کیا جائے گا،تاکہ دوسرے غلاموں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ہمارے رونے پیٹنے اور صفائیاں دینے کو اس نے قابلِ التفات نہیں جانا تھا۔رات ایک پہر بیت گئی تھی۔ہم دھڑکتے دلوں سے آنے والی بھیانک صبح کے منتظر تھے کہ اچانک قید خانے کا دروازہ کھلا وہ تتالہ بنت طلیق تھی۔اسے دیکھ کر ہم حیران رہ گئے تھے۔وہ بغیر کسی تمہید کے بولی۔”محافظ خواب آور شراب کے زیر اثر سوئے پڑے ہیں اور ہم جان بچانا چاہتے ہیں تو بھاگ جائیں۔“ ہماری بے گناہی کا صرف اسی کو معلوم تھا شاید ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے یہ قدم اٹھایا تھا۔بہ ہرحال کچھ بھی تھاہمیں بھاگنے کا موقع مل گیا تھاہم سمت کا تعین کیے بغیر بھاگ پڑے۔اگر اس وقت ہمیں سواری وغیرہ حاصل کرنے کا خیال آگیا ہوتا تو کافی دور نکل گئے ہوتے مگر تیزی میں درستی بھول گئے۔اور یمامہ کی حدود سے نکلنے کے بعد جب یہ خیال آیا تو واپس لوٹنے کی ہمت نہ ہو سکی۔“
امریل نے کہا۔”تم نے اپنے نام نہیں بتائے۔“
مینڈھیوں والا بولا۔”میرا نام سائب بن شراحیل اور یہ بجرہ بن ودقہ ہے۔“
امریل ہنسا۔”تو سائب بن شراحیل یہ غلط فہمی تو دل سے نکال دو کہ تتالہ جیسی عورت کا ضمیر جاگ سکتا ہے۔تمھیں بھگا کر اس نے اپنی بے گناہی پر مہر ثبت کی ہے۔اگر پہلے رئیس کو تمھارے بے گناہ ہونے کاذرا بھر شبہ تھا بھی سہی تو اب نہیں رہا۔“
بجرہ بولا۔”ہمارے بھاگ جانے کا علم ہوتے ہی رئیس کے آدمی ہماری تلاش میں نکل پڑے ہوں گے۔اور انھی کے خوف سے ہم رات سے مسلسل بھاگ رہے ہیں۔“
امریل صاف گوئی سے بولا۔”حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے غلط سمت اختیار کی ہوئی ہے۔تم جنوب کی طرف جا رہے ہو، اس طرف تو الرمّلہ (صحرائے اعظم الربع الخالی)ہے اور وہاں سوائے موت کے کیا ملے گا۔تمھیں مشرق کا رخ کرنا چاہیے تھا۔ جہاں بنو عبدالقیس،بکر بن وائل یا بنو کاظمہ جیسے بڑے قبیلے کے کسی معزّزشخص کے ہاں تمھیں پناہ سکتی تھی۔یا خلیج العربی (خلیج الفارس )کے رستے تم فارس بھاگ سکتے تھے۔“
بجرہ بن ودقہ مایوسی بھرے لہجے میں بولا۔”بھاگتے وقت سمتوں کا تعین ہمیں بھول گیا تھا۔ہماری کوشش تھی کہ جتنا جلدی ہو یمامہ سے دور نکل بھاگیں۔“
امریل بولا۔”بہ ہرحال تم نے کافی لمبا فاصلہ طے کیا ہے ،لیکن رئیس کے آدمی گھوڑوں پر سوار ہوں گے اس لحاظ سے تو انھیں اب تک تمھیں آلینا چاہیے تھا۔“
اس دوران خلیسہ خاموش رہ کر دلچسپی سے ان کی گفتگو سنتی رہی۔
سائب لجاجت سے بولا۔”بعل دیوتاآپ دونوں کی جوڑی کو سلامت رکھے ،کیا آپ اس ضمن میں ہماری مدد کر سکتے ہیں؟“
ایک دم امریل کی آنکھیں سنہرے بالوں والی خلیسہ کی جانب اٹھیں ،اسی وقت خلیسہ نے بھی سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اس کی جانب دیکھا تھا۔دونوں کی آنکھیں ملیں،خلیسہ کو امریل کی آنکھوں میں عجیب سی حسرت ہلکورے لیتی نظر آئی تھی۔چہرہ موڑ کر وہ نیچے دیکھنے لگی۔
”ہمارا تعلق بنو طرید سے ہے۔اورہماری سردارن، ملکہ قُتیلہ تمھیں پناہ دے سکتی ہے۔“ امریل نے اسے تسلی دی۔
سائب مایوسی سے بولا۔”جرہم بن قسامہ کے مقابل ایک عورت کی پناہ ہمیں کیا فائدہ دے سکتی ہے۔“
امریل پُراعتماد لہجے میں بولا۔”اگر میں کہوں کہ ایسے رئیس کے پورے لشکر کے لیے ملکہ قُتیلہ اکیلی کافی ہے پھر؟“
سائب بغیر لگی لپٹی رکھے صاف گوئی سے بولا۔”تو میں اسے آپ کی غلط فہمی جانوں گا۔“
”امریل….“خلیسہ نے اضطراری انداز میں آواز دی۔
امریل اس کی طرف مڑا ہوا اور اسے دوسری جانب متوجہ پاکر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا،فرلانگ بھر کے فاصلے پر چند گھڑسوار نظر آئے۔ان کا رخ اسی جانب تھا۔
”شاید یہ جرہم بن قسامہ کے آدمی ہیں۔“امریل نے خیال ظاہر کیا۔ سائب بن شراحیل اور بجرہ بن ودقہ نے بھی انھیں دیکھ لیا تھا۔دونوں کے چہرے ایک دم زرد پڑ گئے تھے۔
دونوں گڑگڑائے۔”بعل کے واسطے ہمیں کہیں چھپا لو….“
امریل بے نیازی سے بولا۔”ڈر کیوں رہے ہو ہماری تعداد برابرہے۔“اس نے خلیسہ اور یشکر کو بھی شمار کیا تھا۔
بجرہ بجھے دل سے بولا۔”ہمیں بھاگنے کی غلطی نہیں کرنا چاہیے تھی ،یقینا تتالہ اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔“
سائب ،امریل کو مخاطب ہوا۔”اے مہربان ،تمھاری تلوار ہماری موت کو آسان کر سکتی ہے۔ بعل کا واسطہ ان کے آنے سے پہلے ہمیں ختم کر دو ،ورنہ وہ ظالم رئیس ہمیں تڑپا تڑپا کے ہلاک کرے گا۔“
امریل نے انھیں جھڑکا۔”جب مرنا طے ہے تو کچھ کر کے کیوں نہیں مرتے۔“
اسی اثناءمیں گھڑ سوار ان کے قریب پہنچ گئے تھے۔بلاشبہ وہ ان کے پاﺅں کی نشانات کھوجتے ہوئے وہاں پہنچے تھے۔
”تمھارا خیال تھارئیس جرہم بن قسامہ کی قید سے نکل بھاگنا اتنا آسان ہے۔“ایک قوی ہیکل گھڑ سوار نے طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے نیچے چھلانگ لگائی۔اس نے امریل اور خلیسہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔
”ساعدبن اناس،ہم بے قصور ہیں۔مالکن کو کوئی غلط فہمی ہوئی تھی۔“سائب اور بجرہ نے گھٹنوں کے بل گرتے ہوئے ہاتھ باندھ لیے تھے۔
ساعد بے پروائی سے بولا۔”اس کا فیصلہ خود رئیس کریں گے۔“انھیں یہ کہہ کر وہ اپنے آدمیوں سے مخاطب ہوا۔”ان کے گلے میں رسے ڈالو،محترم رئیس نے کہا تھا انھیں دوڑا کر واپس لانا ہے۔اور اگر یہ دوڑ نہ سکیں تو گھسیٹے ہوئے لے آنا۔“
دو آدمی گھوڑوں سے اتر کر خرجی سے رسی نکالنے لگے۔
اچانک امریل کی سنجیدہ آواز ابھری۔”محترم ساعدبن اناس!….شاید آپ جانتے نہیں یہ ملکہ قُتیلہ کے خصوصی غلام امریل بن خرشہ کی پناہ میں ہیں۔“
قوی ہیکل ساعدبن اناس امریل کی جانب متوجہ ہوا۔پھر اس کی نظریں دلکش خلیسہ پر پڑیں۔ساتھ ہی اس کے ہونٹوں پر استہزائی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”جرہم بن قسامہ کے مجرموں کو پناہ دینے والے سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور اس جسارت پرتمھیں سنہرانہ (سنہرے بالوں والی)سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔“
”اگر زندہ بچ گئے تو یہ تمھاری ہوئی۔“امریل کی تلوار” چھن “کی آواز پیدا کرتی نیام سے باہر نکلی تھی۔
”تم نے افعی کے بل میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔“ساعد بن اناس نے زہریلے لہجے میں کہتے ہوئے تلوار بے نیام کر لی تھی۔(افعی عرب کا زہریلا سانپ ہے اور اس کے بل میں ہاتھ ڈالنے کا مطلب خودکشی کرنا ہوتا ہے )
اس کے گھوڑوں سے اترنے والے دونوں ساتھیوں نے بھی خرجی سے نکالی رسی پھینکتے ہوئے تلواریں پکڑ لی تھیں۔
ساعد اپنے ساتھیوں کو مداخلت نہ کرنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا۔”تم لوگ اپنا کام کرو ،اس حبشی غلام کے لیے ساعد اکیلا کافی ہے۔“
یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے کہ بجلی کے کوندے کی طرح امریل نے اپنی جگہ سے حرکت کی،ساعد بن اناس نے اس کا وار روکنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے تلوار سامنے کرنے سے پہلے امریل کی لمبی تلوار اس کی گردن کے پار گزر چکی تھی۔اس کی گردن اڑتے ہوئے دور جا پڑی تھی۔
امریل کے ہونٹوں سے اطمینان بھرے انداز میں نکلا۔”غلط فہمی ہے تمھاری۔“
ساعد کے دونوں ساتھی جو اس کے کہنے پر تلواریں نیام میں ڈال رہے تھے دوبارہ تلواروں کو بے نیام کرنے لگے۔لیکن اس وقت تک امریل بگولے کی طرح حرکت کرتا ہوا ان کے قریب پہنچ گیا تھا۔ایک کی چھاتی میں اس کی زوردار لات لگی اور دوسرے کے نرخرے میں تلوار گھس گئی تھی۔
گھوڑوں پر بے فکری سے بیٹھے ان کے دونوں ساتھ ہڑبڑا کر نیچے اترے۔ایک نے ہاتھ میں لمبے دستے والا نیزہ اوردوسرے نے تیز دھار کلھاڑا تھاما ہوا تھا۔دونوں دھاڑتے ہوئے ایک ساتھ امریل کی طرف لپکے۔
لمبے نیزے کی انّی سے پہلو بچاتے ہوئے امریل نے بایاں ہاتھ نیزے کی انّی سے ہاتھ بھر پیچھے ڈالا،ساتھ ہی اس کے دائیں ہاتھ نے کلھاڑے کے سامنے تلوار پکڑ لی تھی۔
اسی دوران اس کی لات کھایا ہوا شخص تلوار سونتے عقب کے جانب سے اس کی طرف بڑھا۔
خلیسہ خوف و دہشت سے چلائی۔”امریل ،تمھارے پیچھے ….“
امریل نے ایک دم نیزے کے دستے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے پیچھے مڑا اور بغیر لحظہ ضائع کیے نیچے جھک کر قلابازی کھاتا ہوا تلوار کا وار بچا گیا۔بس اچٹتا ہوا وار اس کے بائیں بازو پر لگا تھا جس سے درمیانہ زخم آیا تھا۔
وہ تینوں ایک ساتھ اس کی جانب بڑھے تھے۔چند الٹے قدم لے کر وہ سرعت سے بائیں ہاتھ موجود کلھاڑے والے کے نزدیک ہوا۔اس کا تیز وار تلوار کی دھار پر سہارتے ہوئے امریل نے زوردار لات اس کے پیٹ میں رسید کی وہ کولھوں کے بل نیچے گرا کلھاڑا اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔ اور اس سے پہلے کہ وہ کلھاڑا اٹھاتا امریل کی تلوار اس کے دائیں ہاتھ کوکہنی سے علاحدہ کر چکی تھی۔
اذیت بھری چیخ اس کے ہونٹوں سے نکلی اور وہ مضروب بازو کو پکڑ کر دہرا ہو گیا تھا۔زمین پر لوٹ لگاتے ہوئے امریل کھڑا ہوا تو اس نے دوسرے ہاتھ میں کلھاڑا تھاما ہوا تھا۔
بچ جانے والے دونوں دشمنوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پینترے بدلتے ہوئے سنبھل کر اس کی جانب بڑھنے لگے۔اچانک امریل نے بائیں ہاتھ میں تھاما کلھاڑا دائیں ہاتھ میں منتقل کیا۔اور تلوار بائیں ہاتھ میں تھام لی۔ساتھ ہی وہ پھرکی کی طرح گھوما دوبارہ دشمنوں کی جانب رخ کرتے ہوئے اس کے دائیں میں موجود کلھاڑابجلی کے کوندے کی طرح نیزے والے کے سر کی طرف بڑھا۔اس کے سنبھلنے سے پہلے کلھاڑے کا پھل اس کی کھوپڑی کو تربوز کی طرح کھول چکا تھا۔
اب میدان میں ایک ہی مقابل بچ گیا تھا۔اس کے چہرے پر نظر آنے والاخوف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ امریل سے مرعوب ہو چکا ہے۔لیکن راہ فرار نہ پا کر لڑنا اس کی مجبوری بن گئی تھی۔
امریل پینترہ بدلتا ہوا اس کے قریب ہوا ،دونوں کی تلواریں ٹکرائیں۔چھنچھناہٹ کی آواز فضا میں گونجی اور پھر وہ” چھن چھن“زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکی تھی۔مخالف کا ایک وار گھٹنوں میں خم دے کر امریل نے سر کے اوپر سے گزار،زوردار وار کے خطا جانے پر وہ لڑکھڑا گیا تھا۔اس کے سنبھلنے سے پہلے امریل کی تلواراس کے دائیں پہلو میں سوراخ کرتی ہوئی بائیں پہلو سے جا نکلی تھی۔تلوار کو مخصوص انداز میں مروڑتے ہوئے امریل نے ایک جھٹکے سے پیچھے کھینچا۔مخالف کی انتڑیاں تلوار کے ساتھ لپٹی ہوئی باہر آگئی تھیں۔
تلوار ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے اور پھر گھٹنوں کے بل ریت پر گر گیا تھا۔
اچانک امریل کو پیٹھ پیچھے تیز کراہ سنائی دی۔وہ ایک دم مڑا،یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا تھا کہ ہاتھ کٹے دشمن نے درد کی پرواہ کیے بغیر نیزہ اٹھا کر امریل کی پیٹھ میں گھونپنے کی کوشش کی تھی۔اور اس سے پہلے کہ وہ کامیاب ہو پاتا ،خلیسہ نے ساعد بن اناس کی تلوار اٹھا کر اس کی پشت میں گھسیڑ دی تھی۔
امریل کا دایاں ہاتھ گھوما ہاتھ کی طرح اس کا سر بھی جسم سے علاحدہ ہو کر دو ر جا پڑا تھا۔
خلیسہ تلوار پھینک کر بھاگتے ہوئے اس کے قریب پہنچی۔اور فوراََ ہی اپنی اوڑھنی سے پٹی پھاڑ کر اس کے زخم پر لپیٹنے لگی۔
”زیادہ درد تو نہیں کر رہا۔“اس نے فکر مندی سے پوچھا۔امریل نے نفی میں سر ہلایا،اس کی آنکھوں میں والہانہ چمک دیکھتے ہوئے خلیسہ نے سر جھکا لیا تھا۔عورت کی اداﺅں میں سے ایک خطرناک ادا مرد کے لیے فکرمندی ظاہر کرنا ہوتاہے۔اور اس وقت اس کا پریشانی ظاہر کرنا امریل کو بہت زیادہ متاثر کر گیا تھا۔
جونھی وہ پٹی باندھ کر پیچھے ہٹی ،امریل آہستہ سے بولا۔”شکریہ ،تم نے میری جان بچائی۔“
”جان بچانے والے تو آپ ہیں ،میں نے تو بس آپ کا ہاتھ بٹایا ہے۔“امریل کے منھ سے شکریے کے الفاظ سن کر وہ محجوب سی ہو گئی تھی۔
سائب بن شراحیل اور بجرہ بن ودقہ ہکا بکا اسی ہیئت میں بیٹھے تھے۔امریل ہنستے ہوئے انھیں مخاطب ہوا۔”اب یقین آیا کہ ملکہ قُتیلہ کی پناہ تمھیں اپنے رئیس کے شر سے بچا لے گی۔“
سائب عقیدت میں ڈوبے لہجے میں بولا۔”بعل تمھارا اقبال بلند کرے ،تم نے ہمیں نئی زندگی دی ہے۔“
”اب اٹھ جاﺅ،گھوڑوں کو اس درخت کے ساتھ باندھو،لاشوں کو دور پھینکو اور جس کا لباس اچھا لگے وہ اتار کر پہن لو ،آج سے تمھارا تعلق بنو طرید سے ہے اور تمھاری طرف بڑھنے والے ہاتھ کے خلاف بنو طرید کی ساری تلواریں بے نیام ہوں گی۔“
٭٭٭
”میری تلوار نہیں مل رہی۔“سہ پہر کو نیند سے بیدار ہوتے ہی مالک بن شیبہ نے صاعقہ کے بارے استفسارکیا تھا جو اس کے پہلو سے غائب تھی۔
مروان بولا۔”میں نے بادیہ کے ہاتھوں میں دیکھی تھی۔“
مالک بادیہ کو آواز دیتا ہوا عریسہ کے حجرے کی طرف بڑھا ،کیوں کہ بادیہ نے اپنا بستر وہیں لگایا تھا۔
”جی بھائی۔“اس کے حجرے میں داخل ہونے سے پہلے بادیہ نے باہر جھانکا۔
وہ پوچھنے لگا۔”میری تلوار تم نے اٹھائی ہے ؟“
”نہیں۔‘بادیہ نے نفی میں سرہلایا۔
مالک نے کہا۔”مروان کہہ رہا تھا اس نے تمھارے ہاتھوں دیکھی تھی۔“
بادیہ اطمینان سے بولی۔”میرے ہاتھوں میں صاعقہ تھی اور وہ میری اپنی تلوارہے ،آپ کی نہیں۔“
”ہوش میں تو ہو۔“مالک کو غصہ آگیا تھا۔”صاعقہ تمھاری کیسے ہوئی؟“
وہ بنا خوف کھائے بولی۔”عنبر اور صاعقہ میرا حق مہر ہے۔جو میرے شوہر یشکر نے دیا تھا۔“
مالک طیش میں آتا ہوابولا۔”اس کے بعد تمھارے منھ سے اس بدیسی غلام کا نام نہ سنوں۔“
وہ بے باکی سے بولی۔”وہ غلام نہیں ،چچا جان کا منھ بولا بیٹا تھا۔اور اگر غلام بھی ہوتا تو میرا شوہر تھا۔مجھے بچاتے ہوئے وہ لڑتا ہوا مارا گیا اور آج میں اس کا نام لینا چھوڑ دوں۔“
”بکواس بند کرو۔“مالک کا ہاتھ اسے تھپڑ مارنے کے لیے اٹھا۔
اسی وقت شریم نے اپنے حجرے سے جھانکا۔”مالک،تمھیں شرم آنا چاہیے بہن پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے۔اور آج اگر تمھاری بہن باعزت یہاں نظر آرہی ہے تو یہ اسی غلام کی بہادری کا نتیجہ ہے جو بنونوفل کے بھیڑیوں کے چنگل سے اسے جان پر کھیل کر نکال کر لے گیااور پھر مسلسل اس کی حفاظت کی۔اور تمھاری بہن کی مرضی سے اس سے شادی کی کوئی زور زبردستی کا معاملہ نہیں تھا۔“
مالک تلخ ہوتا ہوا بولا۔”ہم پر یہ مصیبت بھی اسی کی وجہ سے ٹوٹی ہے۔“
شریم نے انکار میں سرہلایا۔”یہ غلط ہے۔“
مالک نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔”تو ٹھیک کیا ہے ؟“
”بنو نوفل کو طاقت کا زعم تھااور انھوں نے اس کا مظاہرہ کیا۔“
مالک نے منھ بناتے ہوئے کہا۔”انھیں یہ موقع کس نے فراہم کیا۔“
”یشکر نے مردوں والا کام کیا تھا۔اور اہل بنو نوفل مانیں یا نہ مانیں یشکر نے سردارزادے ہزیل کو لڑائی میں شکست دی تھی۔اس کی گواہی تو تم بھی دو گے کہ یشکر کیسا شہسوار تھا۔ اور کوئی مرد اپنی محبت غیر کو سونپنے پر تیار نہیں ہوتا۔ وہ خون بہا کے طور پر بنو نوفل جانے پر بھی تیار تھا، لیکن بنو نوفل والے طاقت کے زعم میں ناجائز مطالبے کر رہے تھے۔بنو نوفل کے مطالبے کو تمھارے والد شیبہ بن شمامہ نے رد کیا تھا۔ باقی اس نے ڈر کر میدان نہیں چھوڑا ،تمھاری بہن کو بنو نوفل کے سردار کی باندی بننے سے بچانے کے لیے اتنی تگ و دو کی تھی۔اور تمھیں علم ہونا چاہیے کہ وہ عام شخص نہیں شہنشاہ فارس کے بہترین سالار کا بیٹا تھا۔گو حالات نے وقتی طور پر اس کے گلے میں غلامی کا طوق پہنادیاتھا مگر وہ غلام نہیں تھا۔“
”وہ عجمی تھا۔“مالک نے بے پروائی سے سرہلایاگویا شریم کی باتوں کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہ ہو۔
”وہ عربی تھا۔“خاموش کھڑی بادیہ بپھرتے ہوئے بولی۔”وہ دودھ پیتا بچہ تھا جب اسے سوقِ صحار سے فارس کے معزز سالارسکندر نے بیس سونے کے سکے دے کر خریدا تھا۔اور پھر اسے بیٹا بنا کر پالا پوسا اورشہنشاہ فارس کا خصوصی محافظ بنانے کی تربیت دی۔“
یہ الفاظ بادیہ کے ہونٹوں پر تھے کہ خاموشی سے ان کی تکرار سنتی عریسہ متوحش ہو کر باہر نکلی۔
اس نے بادیہ سے پوچھا۔”یہ بات تمھیں کس نے بتائی ہے ؟“
”کک ….کون سی بات چچی جان۔“بادیہ ہکلا گئی تھی۔
”یہی کہ یشکر کو بیس سونے کے سکوں کے عوض میں سوقِ صحار سے خریدا گیاتھا۔“
بادیہ نے جلدی سے کہا۔”خود یشکر نے بتائی تھی۔“عریسہ کا جوش و خروش دیکھ کر شریم اور مالک بھی اپنی تکرار بھول گئے تھے۔
عریسہ کے سوال جاری رہے۔”یشکر کی عمر کتنی تھی۔“
بادیہ الجھن آمیز لہجے میں بولی۔”میرا ہم عمر ہوگا۔“
”اب آخری سوال پوچھ رہی ہوں خوب سوچ کر جواب دینا۔“عریسہ کے لہجے میں شامل جوش سوا ہوگیا تھا۔”کیا یشکر کے دائیں بازو پر کبوتر کے انڈے کی طرح ،بلکہ نہیں کبوتر کے انڈے سے کافی بڑا سرخ نشان موجود تھا۔“
”ہاں ….“شریم نے بھی بادیہ کے ساتھ ہی سرہلادیا۔”وہ تو میں نے بھی دیکھا تھا۔“
عریسہ نے گہرا سانس لیا اور اس کی آنکھوں میں نمی بھرتی چلی گئی۔”ملنے سے پہلے ہی بچھڑ گیا۔“
شریم پریشان ہو کر بولا۔”عریسہ کیا ہوا ،کچھ ہمیں بھی پتا چلے ؟“
”وہ یشکر بن شریک بن ثمامہ تھا سردار،اسے کتنے ہی دن میں نے چھاتی سے لگا کر رکھا۔ اس کی پیدایش کے وقت میں نے سردار شریک سے عرض کی تھی کہ مجھے اس کا نام رکھنے کی اجازت دی جائے مگر انھوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ بنو جساسہ کا سردار ہے اور سردار کا نام قبیلے کے بڑے رکھتے ہیں۔مگر پھر سردار نہ رہا ،اس کی شریک حیات نہ رہی اور ننھا سردار مجھے مل گیا۔اور جس وقت میں نے فارسی سالار کے حوالے اسے کیا تھا تب میں نے لجاجت سے کہا تھا ،سردار اس کا نام یشکر ہے۔وہ واپس آیا مگر اسے کسی نے نہ پہچانا ،قبیلے کا سردار اپنے چچا کا غلام بن کے پھرتا رہا۔“عریسہ نے آنسو بہاتے ہوئے جو انکشاف کیا تھا اس نے شریم کو دنگ کر دیا تھا۔بادیہ کی آنکھوں سے بھی پانی کاجھرنا پھوٹا اور وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھتے حجرے میں گھس گئی۔لیکن سب سے برا حال مالک بن شیبہ کا تھا۔اس نے نہ صرف اپنی بہن کا سہاگ اجاڑا تھا بلکہ بنو جساسہ کے حقیقی سردار کو موت کے حوالے کر دیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: