Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 37

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 37

–**–**–

قیروان بن اخلد کی لاش پر سب سے پہلے ان پہرے داروں کی نظر پڑی تھی جو طلوع آفتاب سے ذراپہلے ،پہرے داری کی ذمہ داری کسی اور کے حوالے کر کے اپنے خیموں میں سونے جا رہے تھے۔
انھوں نے فوراََ ملکان کو جگا کر صورت حال سے آگاہ کیا۔تھوڑی دیر بعد وہاں کافی لوگ جمع ہو گئے تھے۔
”میں جانتا ہوں یہ کس کا کام ہے؟“وہ اصرم بن خسار کی آواز تھی۔تمام تجسس بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگے۔
اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری۔”اگر آپ لوگ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اسے ملکہ قُتیلہ کے خیمے سے باہر پھینکا گیا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ اسے کیوں قتل کرے گی؟“ملکان بن نول نے حیرانی کا اظہار کیا۔باقیوں کے چہرے پر بھی الجھن بھری حیرانی نظر آرہی تھی۔
”کیوں کہ یہ اسی قابل تھا۔میں نے بہت سمجھایا کہ اپنی جان کے دشمن نہ بنو ،مگر اس کے سر پر ملکہ قُتیلہ سے محبت کا بھوت سوار تھا۔یقینا گزشتا رات یہ اپنے جذبات کے سامنے بند نہ باندھ سکااوراس نے ملکہ کے خیمے میں گھسنے کی جسارت کی ہوگی۔ نتیجہ آپ لوگوں کے سامنے ہے۔“اصرم نے صورت حال کا کامیاب تجزیہ کیاتھا۔
عامر بن اسود نے کہا۔”تمھاری بات دل کو لگتی ہے ،میں نے بھی کئی بار اسے وارفتگی سے ملکہ قُتیلہ کو گھورتے دیکھاتھا۔اور وہ نظر انداز کرتی رہیں،مگر کب تک؟ہم اس سے مطلب کی بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں یہ عشق جھاڑ رہا تھا۔“
”میرا خیال ہے اسے دفنا دیتے ہیں۔“یہ مشورہ قریب بن فلیح نے دیا تھا۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ملکان نے دو جوانوں کو پھاﺅڑے لانے کا حکم دیا اور باقی قیروان کی لاش اٹھا کر خیموں کے حدود سے باہر جانے لگے۔آفتاب مشرق سے سر ابھار رہا تھا۔دھوپ تیز ہونے سے پہلے وہ قیروان کو دفنا کر واپس لوٹ آئے تھے۔
قُتیلہ انھیں اپنے خیمے کے سامنے رشاقہ کے ساتھ کھڑی نظرآئی۔اس نے رات کو پہنا ہوا ریشمی لباس اتار دیا تھا۔اور اس وقت اپنے پسندیدہ حلیے میں تھی۔
ملکان نے قریب جاتے ہوئے کہا۔”ملکہ قُتیلہ کی صبح سلامتی والی ہو۔“
”آﺅ ملکان۔“وہ خوش دلی سے مسکرائی۔”صبح صبح یہ جمگھٹا کہاں سے آرہا ہے۔“
”ہم قیراون بن اخلد کی لاش دفنانے گئے تھے۔“ملکان اسے مطلع کرنے کے ساتھ اصرم کے اندازے کی تصدیق بھی کرنا چاہ رہا تھا۔
” مقتول محبت….“قُتیلہ بے رحمی سے ہنسی۔”وہ دعوا کر رہا تھا کہ ملکہ قُتیلہ کے لیے جان بھی دے سکتا ہے،پس ملکہ قُتیلہ نے اسے آزمانا ضروری سمجھا۔اور اب ملکہ قُتیلہ کو یقین ہو گیا ہے کہ وہ سچ کہہ رہا تھا۔افسوس اس بات کا ہے کہ ملکہ قُتیلہ کے قبیلے میں ایک فرد کی کمی ہو گئی ہے۔“
”میرا خیال ہے آیندہ ملکہ قُتیلہ کے خیمے کے سامنے پہرے دار مقرر کرنا پڑے گا۔“
”ضرورت نہیں ہے۔“قُتیلہ نے نفی میں سر ہلایا۔”خودکشی کا فیصلہ کرنے والے پہرے داروں کا لحاظ نہیں کیاکرتے۔بہ ہرحال تمام قبیلے کو اکٹھا کرو ملکہ قُتیلہ نے کچھ ضروری باتیں کرنا ہیں۔“
ملکان اثبات میں سرہلاتا ہوا دور کھڑے جوانوںکی طرف بڑھ گیا۔
گھڑی بھر بعد قُتیلہ ریت کے ٹیلے پر کھڑی بنو طرید کے مرد و زن کو مخاطب تھی۔”تمام لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے پاس قابلِ کاشت زمین تو بہت ہے لیکن اتنا پانی نہیں ہے کہ زمین کو سیراب کیاجا سکے۔نہ تجارت جانتے ہیں اور نہ کمائی کاکوئی دوسرا ذریعہ ہمیں میسر ہے۔جبکہ زندہ رہنے کے لیے بہت ساری چیزوں کی حاجت ہوتی ہے۔پہننے کے لیے لباس ،کھانے لیے خوراک،پینے کے لیے شراب ودودھ ،آرام کے لیے عمدہ بستر،سر چھپانے کے لیے خیمہ یا جھونپڑا اورسواری کے لیے اونٹ و گھوڑوں کی ضرورت سے ہم لاتعلق نہیں ہو سکتے۔اس وقت ہمارے پاس اونٹ ،بھیڑ بکریاں ،گھوڑے ، خچر، گدھے وغیرہ کافی تعداد میں ہیں۔لیکن ہم پیٹ بھرنے کے لیے انھیں کھاتے رہے تو جلد ہی یہ ذخیرہ ختم کر بیٹھیں گے۔اور یاد رکھنا زندہ رہنے کے لیے بہت زیادہ کوشش کرنا پڑتی ہے۔بھوکا رہ کر ترسنے والے ہمیشہ گھاٹے میں رہتے ہیں اور چھین کر کھالینے والوں کا پیٹ بھرا رہتا ہے۔صحرائے اعظم میں صرف اسی کو زندہ رہنے کا حق ہے جو زندگی گزارنے کے طریقوں سے واقف ہو۔ابو الحارث(شیر) اگر ہرن و نیل گائے کے قتل کو ظلم گردانتا رہے تو جان سے جائے گا۔اس لیے اگر تم لوگوں نے عزت سے زندہ رہنا ہے، اپنی نسل کو آگے بڑھانا تو اپنے حصے کا رزق چھیننا ہوگا۔ کسی دوسرے کے رزق کو اپنا نوالہ بنانے کے لیے ہمت ،حوصلہ وجرّات درکار ہوتی ہے۔یہ خصوصیات صلاحیتوں کے مرہون منت ہوتی ہیں۔اور صلاحیتوں کے حصول کے لیے کٹھن محنت ،کڑی مشقت اور عمدہ تربیت کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ آج بنو طرید کی تعداد سو سے زیادہ سہی لیکن ان میں لڑنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔آخر ملکہ قُتیلہ اکیلی کتنوں سے مقابلہ کر لے گی۔اگر اس کی پشت پر بہترین شہسواروں کی ٹولی نہ ہوئی تو ایک دن جان سے جائے گی۔اور ملکہ قُتیلہ نسر دیوتا کی قسم کھا کر کہتی ہے وہ مرنے سے نہیں ڈرتی۔ملکہ قُتیلہ کا یقین ہے کہ ،جو مزہ لڑ کر مرنے میں ہے وہ ڈر کر جینے میں نہیںہے۔لیکن ملکہ قُتیلہ کی موت کے بعد اگر بنو طرید نے بکھر جانا اور ابن آویٰ کے غول کی شکل اختیار کر لینا ہے تو ملکہ قُتیلہ کسی بڑے قبیلے میں دخیل کی حیثیت سے رہنا پسند کرے گی۔حالانکہ دخیل قبیلے کا بدترین فرد ہوتا ہے۔اور تم لوگ ملکہ قُتیلہ کو کسی دوسرے قبیلے کا بدترین فرد بننے سے اسی طرح بچا سکتے ہوکہ فنون حرب کو ذوق و شوق سے سیکھو۔کیا تمام ملکہ قُتیلہ کے ساتھ متفق ہیں۔
”ہاں ہم ملکہ قُتیلہ کے ساتھ متفق ہیں۔“تمام بیک زبان بولے تھے۔
”اور یاد رکھنا ،ملکہ قُتیلہ تم تمام سے پیار کرتی ہے۔“
ملکان بن نول اور اصرم بن خسار بآواز بلند بولے۔”ہمیں بھی ملکہ قُتیلہ سے پیار ہے۔“
”ہاں ہمیں بھی ملکہ قُتیلہ سے پیار ہے۔“اس مرتبہ مجمع بیک آواز چلایاتھا۔
مجمع کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے وہ مسکرا دی تھی۔لمحہ بھر ٹھہر کر وہ بولی۔”تمام شادی شدہ عورتیں پیچھے ہو جائیں۔“
عورتیں خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی تھیں۔
”ہماری کھانے پینے کی ضروریات کا خیال رکھنا عورتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔اس لیے تمام عورتیں چھوٹے بچوں کو ہمراہ لے کر اپنے خیموں میں جاسکتی ہیں۔
چند لمحوں کے اندر مجمع کی ایک تہائی تعداد خیموں کی طرف بڑھ گئی تھی۔اب وہاں مرداور قریب البلوغ لڑکے لڑکیاں بچ گئے تھے۔
” سارے سیاف( شمشیر زن،جواں مرد) سامنے آجائیں۔“
پینتیس چالیس کے قریب مرد سامنے آگئے تھے۔ان میں رشاقہ بھی شامل تھی۔پندرہ مرد پیچھے موجود تھے۔ان کے علاوہ اڑھائی تین درجن قریب البلوغ لڑکے و لڑکیاں تھیں۔
پندرہ اناڑی مردوں کے ساتھ قُتیلہ نے ایک ایک لڑاکے کو بانٹ دیا جو انھیں شمشیر زنی کی کے رموز سکھلاتا۔باقی لڑاکوں کے حوالے اس نے ایک ایک دو دو لڑکے کر دیے اور تمام لڑکیوں کو اپنے اور رشاقہ کے پاس بلا لیا۔تھوڑی دیر بعد بنو طرید کے مضافات کسی تربیتی میدان کا نظارا پیش کر رہے تھے۔لڑکیوں کو قُتیلہ نے شمشیر زنی کے بجائے تیر اندازی سکھلانا بہتر سمجھا تھا۔اس مقصد کے لیے اصل تیر کے بجائے انھوں نے جُماح (بغیر نوک کا تیر جس سے تیز اندازی کی مشق ہوتی تھی)سے شروعات کی تھی۔
٭٭٭
وہ ایک بھیانک رات تھی۔بادیہ عریسہ کی بغل میں چہرہ گھسیڑے آنسو بہاتی رہی۔وہ جسے غلام سمجھ کر دھتکارتی رہی تھی وہ سردار زادہ تھا۔گو بعد میں دل ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے یشکر کو اپنا لیا تھا۔ اور اس کے حسب و نسب کے بجائے وہ شخصیت و صلاحیتوں کو بیچ لے آئی تھی۔یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے ہر وقت سردارزادی پکارنے والا سچ مچ اس کا سردار تھا۔وہ ہمیشہ اس کے ناز اٹھاتا رہا تھا۔اپنی ضرورتوں پر اس کے آرام کو ترجیح دیتا رہا۔ایسا محافظ جواسے بچانے کے لیے دشمن کے تیر و تلوار کے سامنے اپنے جسم کو ڈھال بنانے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتا تھا۔
”بس کر عریسہ کی جان ،اتنا نہیں روتے۔“عریسہ نے اس کا سر پکڑ کر پیچھے کیا ،چراغ کی ملگجی روشنی میں چاند سا چہرہ آنسوﺅں سے تر نظر آرہا تھا۔
”چچی جان ،میں نے انھیں بہت ستایا تھا،ان کی بہت زیادہ توہین کی تھی۔انھیں غلام ،عجمی اور گھٹیا نسب ہونے کے طعنے دیے تھے۔اور پتا نہیں کیا کچھ کیا۔اگر میں پہلے دن سے ان کے محبت سے بڑھائے ہوئے ہاتھ کوتھام لیتی تو یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا۔“
”یہ دیوتاﺅں کے کیے ہوئے فیصلے ہیں بیٹی ،شکر کرو کہ تم نے اسے اپنا لیا تھا۔دیر سے سہی مگر اس کی دلی مراد پوری ہو گئی تھی۔اور یقین کرو اگر اسے معلوم ہوتا کہ وہ بنو جساسہ کا سردار ہے تب بھی وہ تمھارے ناز نخرے اسی طرح اٹھاتا اور دشمنوں سے بچانے کے لیے یونھی جان قربان کر دیتا جیسے اب کی ہے۔“
”چچی جان اگر اس دن میں نے ان کا کہا مان لیا ہوتا توآج وہ زندہ ہوتے۔مجھے زخمی دیکھ کر وہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے تبھی بزدل دشمن نے ان کی پیٹھ پر وار کیا تھا۔“
”اچھا پتا ہے تمھارے بجائے قُتیلہ اس کے ساتھ ہوتی تو بنو نوفل کے آدھے سواروں کو سنبھال لیتی۔“اس کی ذہنی رو بٹانے کی غرض سے عریسہ نے نئی بحث چھیڑی۔
”آپ کی بیٹی شمشیر زنی جانتی ہے؟“بادیہ کے چہرے پر حیرانی نمودار ہوئی۔
عریسہ فخریہ لہجے میں بولی۔”ایسی ویسی ،بنو نسر ایک جنگجو قبیلہ ہے لیکن کسی میں اتنی جرّات نہیں تھی کہ ملکہ قُتیلہ سے مقابلے کی ہمت کرتا۔“
”ملکہ قُتیلہ ….؟“بادیہ نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔
عریسہ کے چہرے پر شفقت بھراتبسم ابھرا۔”آخری ملاقات میں وہ خود کو ملکہ قُتیلہ کہہ رہی تھی۔“
”وہ یشکر سے اچھی شمشیر زن تو نہیں ہوسکتی۔“
”ہاں ،میری بادیہ کا یشکر بہت اچھا شہ سوار تھا۔“عریسہ نے پیار بھرے انداز میں اس کے گال تھپتھپائے۔
بادیہ نے خوشی سے مسکراتے ہوئے تقاضا کیا۔”مجھے اپنی بیٹی کے بارے ساری تفصیل بتاﺅ ناں۔“
عریسہ چند لمحے سوچ میں ڈوبی رہی اور پھر گفتگو آغاز وہاں سے کیا جب جبلہ نے ،رغال کو حکم دیا تھا کہ قُتیلہ کی ماں جندلہ کے لیے ساتھ والے قبیلے سے دایہ کو بلا لائے اور اس وقت عریسہ نے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔
بادیہ دلچسپی سے اس کی باتیں سننے لگی۔
٭٭٭
انھوں نے مزید دو دن سفر میں گزارے تھے۔راستے میں سائب بن شراحیل اور بجرہ بن ودقہ کا رویہ امریل کے ساتھ نہایت عقیدت مندانہ رہا تھا۔خلیسہ کے اطوار میں بھی اس کے لیے پہلے سے بڑھ کر احترام در آیا تھا۔اب وہ صبح شام اسے شہد ملے دودھ کا کٹورا پیش کرتی اوراس کے زخمی بازو کی پٹی بھی روز تبدیل کرتی تھی۔ہر وقت لیے دیے رکھنے والا امریل اب خلیسہ سے کافی باتیں کر لیتا تھا۔
سفر کی آخری شب یشکر کو بھی ہوش آگیا تھا۔اس وقت خلیسہ فنجان(چھوٹا پیالہ) سے شہد ملا دودھ اس کے حلق میں ٹپکا رہی تھی جب اس نے آنکھیں کھول دیں۔تھوڑی دیر وہ خالی خالی نظروں سے خیمے کی چھت کو تکتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں شعور کی چمک نمودار ہوئی۔سر گھما کر اس نے خلیسہ کی جانب دیکھا۔اور پھر ”بادیہ ….“کا نام لیتے ہوئے ایک جھٹکے سے بیٹھنے کی کوشش کی۔
”آہ ….“ منھ سے زوردار کراہ نکالتے ہوئے وہ دوبارہ تکیے پر گر گیا تھا۔وہ حرکت اسے مہنگی پڑی تھی۔
”آرام سے ….تم گھایل ہو۔“خلیسہ فوراََ اس کے پیٹ کا زخم سہلانے لگی۔
”بادیہ کہاں ہے ….وہ ٹھیک تو ہے ….اس کا زخم کیسا ہے ….میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔“یشکر کے ہونٹوں سے ایک ساتھ کئی سوالات ادا ہوئے تھے۔
”ہمیں وہاں دفنانے کے لیے گیارہ لاشیں ملی تھیں جن میں ایک لاش لڑکی کی بھی تھی۔“ خلیسہ نے اپنے احسان کا وزن بڑھانے کے لیے جان بوجھ کرجھوٹ بولا تھا۔گزشتا تین چارروز سے وہ یشکر کے منھ سے بنو نوفل کے تمام آدمیوں کے قتل کے بارے اور بادیہ کے زخمی ہونے کے بارے سنتی آرہی تھی۔اور یشکرکے وہاں اکیلا پڑا ہونے کو دیکھ کر اس نے یہی اندازہ لگایا تھا کہ وہ تنہا ہی زندہ بچا ہوگا۔ اور قافلے والوں نے اس کی مرہم پٹی کر کے اسے وہیں چھوڑ دیا کہ ایک زخمی آدمی کو بغیر کسی تعلق کے وہ ساتھ پھرانے کی تکلیف مول نہیں لے سکتے تھے۔
”ایسا نہیں ہو سکتا۔“یشکر نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی مگر خلیسہ نے اس کے سینے پر زور دے کر کوشش ناکام بنا دی تھی۔
”ایسا ہی ہے۔سردارزادی بادیہ باقی نہیں رہی۔“وہ تیقن سے بولی۔
یشکر کی آنکھوں میں جوار بھاٹا اٹھااور آنسوﺅں کا ریلا اس کاچہرہ و تکیہ بھگونے لگا تھا۔
”مرد روتے نہیں ہیں یشکر….تم نے کوشش کی مگر ناکام رہے۔لات و منات اور عزیٰ کی یہی منشا تھی۔“
مگر آنسو اختیاری تو نہیں ہوتے کہ یشکر اس کے کہنے پر روک لیتا۔خلیسہ اسے تسلی دیتے ہوئے اوڑھنی سے اس کے اشک خشک کرتی رہی۔جذبات کا آلاﺅ آہستہ آہستہ مدہم ہوا اور اس کے آنسو تھم گئے۔ ہتھیلیوں سے دونوں آنکھیں رگڑکروہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
”تم خلیسہ ہونا؟“اس نے بغیردقت کے اسے پہچان لیا تھا۔
خلیسہ کے ہونٹوں پر دلاآویز تبسم ابھرا۔”گویا مجھے بھلا نہیں سکے ہو۔“
”تم وہاں کیسے پہنچیں؟“
”اکیلی عورت ویرانے میں تو نہیں رہ سکتی تھی،وہاں سے ڈیرا اٹھا کر میں اپنے قبیلے بنو عبدکلال پہنچی مگر سردار نے ترس کھانے سے انکار کر دیا۔پناہ کی تلاش میں آگے بڑھی اورایک ایسی جگہ پہنچ گئی جہاں ہر طرف لاشیں بکھری تھیں اور ایک قافلے کے لوگ لاشوں کو دفنا رہے تھے۔تمھاری حالت بھی بہت خراب تھی۔خاص کر پیٹ کے زخم کا علاج داغنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔قافلے والے مرہم پٹی کر کے آگے بڑھ گئے اور میں احسان کا بدلہ چکانے کے لیے تمھاری دیکھ بھال کرنے لگی۔“جھوٹ سچ ملا کر اس نے ایک کہانی بیان کر دی تھی۔
”مجھے بادیہ کی قبر دکھا سکتی ہو۔“
خلیسہ نے نفی میں سرہلایا۔”ہم وہاں سے کافی دور آگئے ہیں۔“
یشکر نے اذیت بھرے لہجے میں پوچھا۔”اسے کی قبر وادی کے اندر ہی بنائی تھی یا کنارے پر دفن کیا تھا؟“
خلیسہ کو پتا ہی نہیں تھا کہ بنو نوفل اور یشکر کا ٹکراﺅ کہاں ہوا تھا لیکن اس کے سوال سے اندازہ ہوا کہ ان کا آمنا سامنا وادی کے بیچوں بیچ ہوا تھا۔وہ بات بناتے ہوئے بولی۔
”لاشیں قافلے والوں کے اقرباءکی نہیں تھیں کہ دفنانے کے لیے بہتر جگہ کی تلاش کرتے ،جو جس جگہ پڑا تھا گڑھا کھود کر زیر زمین کر دیا گیا۔“
”زخمی ہوتے وقت میری تلوار میرے ہاتھ میں تھی۔“یشکر کودیرینہ ساتھی صاعقہ کی یاد آئی۔
خلیسہ نے منھ بنایا۔”قافلے والوں کی مہربانی کہ انھوں نے میری سواری چھیننے کی کوشش نہیں کی۔“
”اب ہم کہاں ہیں؟“یشکر کے پاس بہت سارے سوالات تھے۔
خلیسہ پست آوازمیں بولی”ہم ملکہ قُتیلہ کے قبیلے بنو طرید جا رہے ہیں اور یاد رکھنا اب تمھارا نام یشکر نہیں اعمیٰ بن مکیث ہے اور تم میرے شوہر ہو۔“
یشکر نے حیرانی سے پوچھا۔”دماغ تو ٹھیک ہے۔“
خلیسہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔”تمھاراواسطہ اس بد دماغ لڑکی سے نہیں پڑا ،زبان سے زیادہ اس کے ہاتھ چلتے ہیں ،جو تلوار کے بغیر نہیں ہوتے۔اس لیے جب تک ٹھیک نہیں ہو جاتے تمھیں اعمیٰ بن مکیث بن کر رہنا ہوگا۔ تندرست ہونے کے بعد یوں بھی تم وہاں نہیں رکوگے۔“آخری فقرہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں اداسی در آئی تھی۔
یشکر الجھن آمیز لہجے میں بولا۔”کون بد دماغ لڑکی ….اور اسے میرے نام سے کیا غرض؟ میں یشکر ہوں یا اعمیٰ اسے کیا فرق پڑتا ہے۔“
”آہستہ بولو،خیمے سے باہر اس کا ایک وفادارغلام موجود ہے۔“خلیسہ نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا۔”اس کا نام ملکہ قُتیلہ ہے اور وہ بنو طرید کی سردارن ہے۔(سردار کا موّنث میرے خیال میں سردارن ہی ہونا چاہیے)چار سورج پہلے جب قافلے والے چلے گئے تھے غروب آفتاب کے وقت دو مسافر وہاں پہنچے۔میں نے انھیں کھلایا پلایا اور ٹھہرنے کی جگہ دی۔ لیکن ان کی نیت خراب ہو گئی اور اس سے پہلے کہ وہ مذموم مقصد میں کامیاب ہوپاتے ملکہ قُتیلہ اپنے غلام کے ہمراہ وہاں پہنچ گئی۔اس کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے میں نے اپنے شوہر کے زخمی ہونے کا دکھڑا سنایااور مدد کی درخواست کی ….“خلیسہ بلا کم و کاست ساری تفصیل بتانے لگی۔آخر میں وہ کہہ رہی تھی۔”چونکہ میں نے اس کے سامنے تمھیں اپنا شوہر کہا تھااب اصل بات معلوم ہونے پر وہ مجھے جھوٹا سمجھے گی۔“
یشکر نے منھ بنایا۔”تمھیں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔اور اگر شروع میں بول ہی دیا تھاتو بعد میں وضاحت کر دیتیں۔“
” اس کی باتوں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ تم دونوں کے نام سے غائبانہ واقف ہے۔اس لیے میں تمھاری اصلیت ظاہرنہ کر پائی۔“
یشکر الجھن آمیز حیرانی سے بولا۔”تمھاری باتیں میرے سر سے اوپر گزر رہی ہیں۔وہ ہمیں کیسے جانتی تھی۔اور تمھاری گفتگو میں ہمارا ذکر کیسے آگیا۔“
خلیسہ کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہت ابھری۔” اس کی شکل تمھاری بادیہ کے اتنی مشابہ ہے کہ پہلی نظر پڑتے وقت میں نے اسے سردار زادی بادیہ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔جب وہ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے گھوڑے سے چھلانگ لگا کر نیچے اتری تب مجھے احساس ہواکہ وہ سردارزادی بادیہ نہیں تھی۔ کیوں اس کا قد سردار زادی سے اونچا ہے اور بدن چھریرا ہے۔اس نے یہ بھی اقرار کیا کہ وہ سردارزادی کا نام پہلے بھی سن چکی ہے۔شاید ان کے ہم شکل ہونے کی وجہ سے پہلے بھی کسی نے اس کے سامنے سردارزادی کا نام لیا ہو گا۔ اس ضمن میں تمھارا نام بھی آیا ہوگا۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سردارزادی بادیہ کو گھٹیا لقب سے یاد کر رہی تھی جیسے نہایت ناپسندیدہ آدمی کا نام لیا جائے۔مجھے تمھاری اصلیت سے پردہ اٹھانا مناسب نہ لگاکہ کہیں وہ تمھیں کوئی نقصان پہنچانے پرنہ تُل جائے۔ایسا ہونے کی صورت میں تمھاری کوئی مدد نہ کر پاتی۔ جبکہ میں تمھارے احسان کا بوجھ جلد از جلد اتار پھینکنا چاہتی تھی اس لیے تمھیں بچانے کے لیے اپنے جھوٹ پر ڈٹی رہی۔“
”سچ میں بادیہ کی طرح لگتی ہے؟“اس مرتبہ یشکر اپنے لہجے میں موجود اشتیاق نہیں چھپا سکا تھا۔
خلیسہ نے اثبات میں سرہلایا۔”چہرے کی حد تک بالکل تمھاری بادیہ جیسی ہے۔لیکن بہت بد دماغ، اکھڑ مزاج اور جلد طیش میں آجانے والی ہے۔جسم پر کسی کہنہ سال جنگجو کی طرح ہتھیار سجائے ہوتے ہیں۔ترکش،تیر کمان، خنجر ،تلواراور ڈھال وہ سوتے ہوئے ہی جسم سے علاحدہ کرتی ہے۔آنکھ کھلتے ہی دوبارہ پہن لیتی ہے۔“
یشکر پر سکون لہجے میں بولا۔”تمھاری ساری باتوں میں کام کی صرف ایک ہی بات ہے کہ میں دوبارہ اپنی سردار زادی کا دیدار کر سکوں گا۔“
خلیسہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔ ”دھیان سے رہنا محترم بہت خطرناک ہے۔اس کا غلام امریل بن خرشہ کل بتا رہا تھا کہ اس نے آج تک اپنی مالکن جیسا ماہر لڑاکا نہیں دیکھا۔“
یشکر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”غلام اپنی مالکن کی تعریف نہیں کرے گا تو کون کرے گا۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”تمھیں اعمی بن مکیث بننے پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔“ اس کا زخم کو سہلاتا ہوا ہاتھ غیر محسوس انداز میں یشکر کی چھاتی پر رینگنے لگا۔
وہ دھیرے سے بولا۔”نام کی حد تک اعتراض نہیں ہے۔“
”مجھ میں کوئی کمی ہے۔“خلیسہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
”مجھے بھوک لگی ہے۔“یشکر نے اس کی با ت کا جواب نہیں دیا تھا۔
گہرا سانس لیتے ہوئے خلیسہ پیچھے ہٹی۔”میں دود ھ اور تمر(خشک کھجور) لاتی ہوں۔“
صبح صادق کے ساتھ انھوں نے سفر شروع کیا۔ طلوع آفتاب کے وقت وہ بنو طرید میں داخل ہورہے تھے۔ٹیلوں کے درمیان شمشیر زنی ،نیزہ بازی اور تیر اندازی کی مشق کو دیکھ کرامریل گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس طرف بڑھ گیا۔
ملکان بن نول ،رشاقہ بن زیاد اور قریب بن فلیح تینوں مل کر قُتیلہ کو زیر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔چاروں کے ہاتھوں میں دھات کی کند تلواریں تھیں جو شمشیر زنی کی مشق کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔قُتیلہ چھلاوا بنی ان کی مرمت کر رہی تھی۔قریب پہنچتے ہی امریل چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اترا اور نیچے پڑی ہوئی ایک کند تلوار اٹھا کر بجلی کی سی سرعت سے قُتیلہ کی طرف بڑھا۔قُتیلہ کی نظر بھی اس پر پڑ چکی تھی۔ملکان کی چھاتی میں زوردار لات رسید کرتے ہوئے اس نے چمڑے کی ڈھال قریب بن فلیح پرسر پر رسید کی اور پھر ایک دم وہی ڈھال امریل کی تلوار کے سامنے پکڑ لی۔وار رک جانے کے بعد امریل رکا نہیں تھا بلکہ اس کے حملے مسلسل جاری رہے اور قُتیلہ اچھل اچھل کر اس کے وار خطا کرنے لگی۔ ملکان ،قریب اور رشاقہ پیچھے ہٹ گئے تھے۔تینوں کے چڑھے ہوئے سانس ظاہر کر رہے تھے کہ وہ کافی دیر سے مشق کر رہے تھے۔ قُتیلہ کا سانس اب بھی ہموار تھا۔البتہ پسینہ موتیوں کے قطروں کی طرح اس کے ملیح چہرے پر بہہ رہاتھا۔
دونوں کی تلواریں مسلسل ٹکرانے لگیں۔امریل تازہ دم تھا لیکن سامنے قُتیلہ تھی۔لڑائی طول کھینچنے لگی۔اب تک کوئی بھی ایسا وار مقابل کے جسم پر نہیں کر سکا تھا کہ مخالف ہارا ہوا تصور کیا جاتا۔
اچانک امریل کی زوردار لات قُتیلہ کے پیٹ کی طرف بڑھی۔پہلو بچاتے ہوئے قُتیلہ نے اس کا وار خطا کیا اور اس کی جوابی ٹھوکر امریل کی دوسری ٹانگ پر لگی وہ کولہوں کے بل نیچے گرگیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی قُتیلہ کی تلوار اس کی گردن سے لگ گئی تھی۔
ان کی لڑائی کے دوران تمام مشق چھوڑ کر دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے تھے۔امریل کے ہارتے ہی زوردار نعرہ بلند ہوا تھا۔”ملکہ قُتیلہ کی جے ….“
منقر بن اسقح کے ساتھ کھڑے ضحاک بن عتیک نے کہا۔”کاش یہ اتنی اچھی لڑاکا نہ ہوتی۔“
منقر نے اسے کڑی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔”ضحاک احتیاط سے وہ ہماری سردار ہے۔“
ضحاک جلدی سے بولا۔”ہاں میں بھی اسے ملکہ ہی سمجھتا ہوں۔“یہ کہہ کر وہ دل ہی دل میں بولا۔”بس اس سے شکست کھانے کا غم بھلانا ذرا مشکل لگ رہا ہے۔“
اسی وقت امریل نے قُتیلہ کی تلوار کوہاتھ سے ایک طرف دھکیلااور اچھل کر کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔”دوبارہ۔“
ایک بار پھر گھمسان کا رن پڑا۔دونوں کا پسینہ دھاروں کی صورت میں پورے جسم کو بھگو رہا تھا۔اور پھر امریل کی تلوار کی نوک قُتیلہ کے سینے کی طرف اتنی سرعت سے بڑھی تھی کہ دیکھنے والوں کو یقین ہو گیا تھا کہ امریل نے مقابلہ برابر کر دیا ہے۔لیکن بالکل آخری لمحے قُتیلہ لچکدار شاخ کی طرح پیچھے کو جھک گئی تھی۔قُتیلہ کا گھٹنوں سے بالائی جسم زمین کے متوازی ہوا،امریل اپنی جھونک میں آگے کی طرف بڑھا تھا۔قُتیلہ نے اپنی تلوار کا پیپلا(نوکدار سرا)نیچے ٹیک کر جسم کو وہیں روکا ،ساتھ ہی اس کے پاﺅں کی زوردار ٹھوکرامریل کے تلوار والے ہاتھ پر پڑی۔اس کی تلوار اڑتی ہوئی دور جا گری تھی۔اپنی تلوار کے دستے پر زور دیتے ہوئے وہ کمان کی تانت کے طرح سیدھی ہوئی اور اس کے سر کی بھرپور ٹکر امریل کی چھاتی میں لگی تھی۔کولہوں کے بل نیچے گرتے ہوئے وہ چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔قُتیلہ نے تلوار کی نوک اس کی چھاتی پر لگا کر واپس کھینچی اور ڈھال کندھے سے لٹکا کر اس نے اپناہاتھ سہارے کے لیے امریل کی طرف بڑھا دیا۔
قُتیلہ نام کے نعروں سے فضا گونج اٹھی تھی۔
اس کا ہاتھ تھام کرامریل اٹھااور پھر وہی ہاتھ دونوں آنکھوں سے لگا کر چومتے ہوئے بولا۔
”مجھے ملکہ قُتیلہ کا خصوصی غلام ہونے پر فخر ہے۔“
وہ متبسم ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ تیسری بار مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔“
وہ عقیدت سے بولا۔”اگر جیتنے کی امید ہوتی تو کوشش کر لیتا۔“
”تو پہلے جیتنے کی امید پر لڑے تھے۔“
”نہیں۔“امریل نے نفی میں سرہلایا۔”سیکھنے کے لیے،اگرجیتنے کی خواہش ہوتی تو اس سے لڑتا۔“اس نے سرخ رورشاقہ کی جانب اشارہ کیا۔“
”میں تو جیسے موم کی گڑیا ہوں نا؟“رشاقہ نے دانت پیستے ہوئے تلوار سونتی۔
”نہیں رشاقہ۔“قُتیلہ نے اسے منع کرتے ہوئے کہا۔”تمھیں مزید تربیت کی ضرورت ہے۔“
”آپ دیکھیں تو سہی۔“رشاقہ نے اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے بجلی کی سی سرعت سے امریل پر حملہ کر دیا تھا۔
امریل نے اس کے دوتین وار روک کر چڑھائی شروع کر دی۔وہ مقابلہ جلد ہی ختم ہو گیا تھا۔امریل کی زوردار لات پیٹ میں کھا کر رشاقہ دور جا پڑی تھی۔امریل نے اس کی گردن پر تلوار کی نوک چبھوئی۔
”اب بتاﺅسفید لومڑی۔“
رشاقہ نے تلوار کو ہاتھ مار کر گردن سے دور کیا اور اٹھتے ہوئے بولی۔ ”کالے ریچھ، میں جلد ہی اصل تلوار سے تمھارا سر اتاروں گی۔“
تمام کھل کھلا کر ہنس پڑے تھے۔وہ بے پروائی سے چلتے ہوئے قُتیلہ کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
یشکر نے وہ مقابلے اونٹ پر بیٹھے ہوئے دیکھے تھے۔قُتیلہ کی شمشیر زنی سے زیادہ وہ اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔وہ بادیہ جیسی تھی لیکن بادیہ نہیں تھی۔کڑی مشقت سے اس کا چہرہ سنولایا ہوا لگ رہا تھا۔رشاقہ کے شکست کھانے کے بعد خلیسہ نے کھنکارتے ہوئے یشکر کو مخاطب کیا تھا۔
”کیسی لگی؟“
وہ مسکرایا۔”کون ؟“
”دونوں۔“خلیسہ بھی کھل کھلا دی تھی۔
اس نے دوبارہ قُتیلہ کے چہرے پر نظریں مرکوز کیں۔”بادیہ سامنے ہوتی ہے تو میں کسی اور پر توجہ مرکوز نہیں کر سکتا اوریہ بادیہ جیسی ہی ہے۔“
اس وقت امریل ،قُتیلہ کو راستے میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیل بتا رہا تھا۔اس سے باتیں کرتے ہوئے وہ انھی کی طرف بڑھنے لگی۔خلیسہ نے اونٹنی کی مہار کو مخصوص انداز میں جھٹکا دے کر نیچے بٹھایااورزمین پر اتر گئی۔یشکر کجاوے میں رضائی سے ٹیک لگائے بیٹھا رہا۔
مرعوب سے کھڑے سائب بن شراحیل اور بجرہ بن ودقہ پر گہری نظر ڈال کر اس نے یشکر اور خلیسہ کودیکھا۔
”ملکہ قُتیلہ تمھیں بنو طرید میں خوش آمدید کہتی ہے۔آج سے تم ہمارا حصہ ہو۔تمھار ااور بنو طرید کا فائدہ اور نقصان سانجھی ہے۔“
سائب بن شراحیل اور بجرہ بن ودقہ نے عقیدت بھرے انداز میں سر جھکاتے ہوئے کہا۔ ”ہم ملکہ قُتیلہ کے شکر گزار ہیں۔“
وہ بنو یمامہ کے آدمیوں کے گھوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔”ان میں سے اپنے لیے گھوڑے پسند کر لو۔“اور پھر ملکان کی طرف متوجہ ہوئی۔”انھیں ایک ایک خیمہ اور تلوار دے دو۔ اورکل سے دونوں کی تربیت شروع کر ادو۔“
”جی ملکہ۔“ملکان نے موّدبانہ انداز میں سرجھکا دیا تھا۔
وہ خلیسہ کو مخاطب ہوئی۔”تمھارے پاس تو کافی سامان موجود ہے ،اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاﺅ۔“
”ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ملکہ قُتیلہ۔“
”اگر سواری کے لیے گھوڑا پسند ہو تو یہ اونٹ واپس کرنے پڑیں گے۔“قُتیلہ نے حابس اور غیاث کے اونٹوں کی طرف اشارہ کیا۔
خلیسہ نے نفی میں سرہلایا۔”مجھے اونٹ پسند ہیں ملکہ۔“
”ٹھیک ہے کسی مناسب جگہ پر خیمہ لگا لو ،امریل تمھاری مدد کرے گا۔“
امریل خوش دلی سے سرہلاتا ہوا ان کے ساتھ ہو لیا۔اس دوران یشکر بے پروائی سے بیٹھا رہا نہ تو قُتیلہ نے اسے مخاطب کرنے کی ضرورت محسوس کی تھی اور نہ اس نے ہی یہ زحمت کی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: