Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 38

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 38

–**–**–

رات کو منقر بن اسقح اجازت مانگ کر قُتیلہ کے خیمے میں داخل ہوا۔
”بیٹھو منقر۔“قُتیلہ نے نیچے بچھی چٹائی کی جانب اشارہ کیا۔
”میں کچھ کہنے کوحاضر ہوا تھا۔“وہ مضطرب سا نیچے بیٹھ گیا تھا۔
قُتیلہ نے صراحی سے شراب کا پیالہ بھر کے اس کی جانب بڑھایا۔
”شکریہ ملکہ۔“دونوں ہاتھوں سے پیالہ تھام کر اس نے ایک گھونٹ لیا۔
”کہو۔“قُتیلہ نے اپنے لیے بھی اک پیالہ بھرا اور اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
منقر نے جھجکتے ہوئے کہا۔”مجھے لگتا ہے کچھ لوگوں کے دل میں کینہ ہے۔“
وہ ہنسی۔”کچھ لوگوں سے مراد اگر ضحاک بن عتیک ہے تو ملکہ قُتیلہ جانتی ہے۔“
”اس کے بارے ملکہ کو مناسب قدم اٹھانا ہوگا۔“منقر قُتیلہ کی فراست کا پہلے سے معترف تھا۔اس لیے اظہار حیرانی کے بجائے مشورہ دینے لگا۔
”اس کی کسی غلط حرکت سے پہلے اگر ملکہ قُتیلہ نے انتہائی قدم اٹھایا تو بنو طرید کے باسیوں کے دل میں ملکہ قُتیلہ کے لیے بد گمانی پیدا ہو جائے گی۔اس لیے انتظار بہتر ہے۔ہو سکتا ہے سدھر جائے، نہیں تو اس جیسے دس بھی ملکہ قُتیلہ کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔“
منقر نے خالی پیالہ نیچے رکھا۔”ایک اور عرض بھی کرنا تھی۔“
”بولو۔“قُتیلہ نے دوبارہ پیالہ بھرنے کے لیے صراحی اس کی جانب بڑھائی۔
مودّب انداز میں صراحی تھام کر اس نے اپنا پیالہ بھرا اور پھر اٹھ کر قُتیلہ کے ہاتھ میں تھامے ہوئے ادھ بھرے پیالے میں مزید شراب انڈیلنے لگا۔
صراحی کو قُتیلہ کے قریب رکھ کر وہ بیٹھا اور جھجکتے ہوئے بولا۔”اگر میری بات ملکہ کو بری لگے تو معافی کی گنجایش موجود ہونا چاہیے۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر غیر محسوس تبسم رینگا۔”قیروان بن اخلد اچھا جوان تھا۔بس محبوبہ کے انتخاب میں غلطی کر بیٹھا۔“(گویا اس نے ڈھکے چھپے لفظوں میں قُتیلہ سے اظہار محبت کرنے والوں کے انجام سے آگاہ کیا تھا)
منقر محجوب ساہوتا ہوا بولا۔”ملکہ قُتیلہ میرے لیے میری بیٹی کی پشت کی طرح ہے۔“ (مطلب تمھیں بیٹی کی طرح خود پر حرام سمجھتا ہوں)
”بولومنقر چچا!“اس مرتبہ قُتیلہ کے لہجے میں نرمی تھی۔
”میں جانتا ہوں کہ بنو طرید میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کو ملکہ قُتیلہ نے سختی سے منع کیا ہوا ہے کہ کوئی سابقہ قبیلے کی روایات ،رسوم اور فخر و مباہات کا اظہار نہیں کرے گا۔“
”تو….“
”بنو عقرب کے لوگ چاند کی حالت بدر(چودھویں کا چاند) میں جشن منانے کے عادی تھے۔اگر ملکہ کی اجازت ہو تو ہم اس رسم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔“
قُتیلہ نے چند لمحے سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد کہا۔”ملکہ قُتیلہ کو بہ ظاہر کوئی قباحت نظر نہیں آرہی۔البتہ کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ جشن اہل بنو عقرب کی منشا پر منعقد کیا جارہا ہے۔اس رسم کا اعلان ملکہ قُتیلہ خود کردے گی۔ آج کے بعد بدر کی رات بنو طرید والے جشن منایا کریں گے۔“
”ملکہ قُتیلہ کا اقبال بلند ہو۔“منقر اختتامی کلمات کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔اس کے چہرے پر ظاہر ہونے والی خوشی بتا رہی تھی کہ وہ مطمئن ہو کر جارہا ہے۔
قُتیلہ نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
٭٭٭
بنو نوفل کے سواروں کی آمدکی خبرشریم پر بجلی بن کر گری تھی۔ تین دن پہلے ہی اس کی بیٹیاں، بیوی اور اس کا ہونے والا دامادملکان بن عسکر بنو اسد سے واپس لوٹے تھے۔اور آج دوپہر ڈھلے یہ مصیبت نازل ہو گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد وہ دھڑکتے دل سے ان کے سامنے کھڑا تھا۔
”سرداری مبارک ہو شریم بن ثمامہ۔“چھوٹے قد اور مضبوط جسم کے مالک قرضم بن جدن نے اپنے پیلے دانتوں کی نمایش کی۔
”میرا خیال ہے بنو جساسہ بہت بڑا بھگتان برداشت کر چکا ہے۔“شریم نے ان کی آمد کا مقصد جاننا چاہا۔
قرضم بن جدن نخوت سے بولا۔”بنو نوفل سے ٹکرانے والوں کی نسلیں مٹ جایا کرتی ہیں۔“
شریم خاموش کھڑا رہا۔بات بڑھا کر وہ بنو جساسہ کے رہے سہے افراد کو لقمہ اجل نہیں بنا سکتا تھا۔بادیہ کی وہاں موجودی کو بھی انھوں نے بہت زیادہ خفیہ رکھا ہوا تھا اور اس کی سوچوں کو یہی اندیشے جکڑے ہوئے تھے۔
شریم کو خاموش پاکر قرضم نے بات بڑھائی۔”بہ ہرحال ،ہم نے سنا ہے اس دفعہ تمھارے تجارتی قافلے کو کافی منافع ہوا ہے ،بنو نوفل کا سردار حلیف اور دوست قبائل کی دعوت کر رہا ہے۔اس کے لیے چند مٹکے حیرہ کی عمدہ شراب کے درکار تھے۔یقینااہل بنو جساسہ تعاون کریں گے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے شریم نے اپنے ندیشوں کو غلط ثابت ہوتا دیکھ کر دل ہی دل میں شکر کیاتھا۔”ہمارا قافلہ اتنی زیادہ شراب تو نہیں لا سکا تھا ،پھر بھی تمھیں دس مٹکے مل جائیں گے۔“
”کم از کم بیس مٹکے ورنہ ہمیں جائزہ لینے کے لیے خود تمھارے ٹوٹے پھوٹے گھروں کو کھنگالنا پڑے گا۔“قرضم کے لہجے میں شامل غرورنے شریم کو سرتاپا سلگا دیا تھا۔
شریم بے بس سا اپنے بھتیجے مالک کی جانب متوجہ ہوا جو غصے سے پیچ و تاب کھارہا تھا۔ ”مطلوبہ مقدار میں شراب کے مٹکے ان کے حوالے کردو۔“
قرضم ڈھٹائی سے بولا۔”اور ہاں شراب لے جانے کے لیے اونٹوں کی ضرورت بھی پڑے گی ،اب شراب کے مٹکے ہم گھوڑں کی پیٹھ پر تو نہیں لاد سکتے۔یوں بھی بنو جساسہ نے سردار زادے ہزیل کا خون بہا ادا نہیں کیا تھا۔“
”آپ ہمارے ہزاروں مویشی ہانک کر لے گئے تھے۔“شریم نے بڑی مشکل سے اپنے غصے پر قابو پایا تھا۔
قرضم بے پروائی سے بولا۔”وہ مویشی غنیمت کے طور پر ہمارے ہاتھ آئے تھے۔“
غصے کے اظہار کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔شریم نے سر جھٹک کر دس اونٹ تیار کرنے کا حکم دیا۔ تھوڑی دیر بعد بنو نوفل کے چند سوار دس اونٹوں پر عمدہ شراب کے بیس مٹکے لادے واپس روانہ ہو گئے تھے۔بنو جساسہ والے سوائے کڑھنے اور کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
٭٭٭
چاند نے سرِ شام مشرق سے سر ابھارا۔بنو طرید کے باسی جشن کی تیاریاں مکمل کر چکے تھے۔ غروب آفتاب کے ساتھ ہی آگ پر سالم بھنے ہوئے اونٹ،دنبے اور بکروں کے گوشت کے ساتھ انصاف کیا جانے لگا۔خلیسہ یشکر کو سہارا دے کر باہر لے آئی تھی۔خلیسہ کی بہترین دیکھ بھال سے اس کے زخموں میں روز بہ روز بہتری آرہی تھی۔
قُتیلہ کے خیمے کے سامنے ایک اونچا چبوترا بنا دیا گیا تھا۔جس پر لکڑی کا تخت رکھا تھا۔قُتیلہ اسی پر بیٹھی تھی۔رشاقہ ایک بڑی رکابی میں اس کے لیے بھنا ہوا گوشت لے گئی تھی۔قُتیلہ نے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔رشاقہ مودّب انداز میں بیٹھ گئی تھی۔پچھلے جشن کی طرح اس بار بھی رشاقہ نے اسے تیار کیا تھا۔سرخ رنگ کی فُر±جی( ایسا چغہ جو سامنے سے کھلا ہو)جس پر خوب صورت بیل بوٹے کڑھے تھے۔قُتیلہ نے ٹخنوں تک آتی فُرجی اپنے عام لباس کے اوپر ہی پہن لی تھی۔اس کے سر پر بندھی قساوا کھول کر رشاقہ نے خوبصورت موتیوں کا ہار اس کے کھلے بالوں پر ٹکا دیا تھا۔سرخ و سفید موتیوں کا ہار،تاج کی طرح اس کے سر پر سج رہا تھا۔
جشن کی شب کے لیے تمام کے لیے شراب اور کھانے کا انتظام قبیلے کی سردار یعنی قُتیلہ کی جانب سے تھا۔
چودھویں کے چاند کی رومان پرور روشنی اور پھر چار کونوں میں بھڑکتے آلاﺅکی سحر انگیزروشنی نے دلوں میں عجیب قسم کی ترنگ اور ولولہ پیدا کر دیا تھا۔لبوں سے خود بہ خود قہقہے برآمد ہو رہے تھے۔ غموں و دکھوں کے لیے عارضی طور پر بنو طرید کی حدودمیں آنے پر پابندی لگ چکی تھی۔لیکن ایک ایسا شخص وہاں موجود تھا جو اس ماحول میں بھی غمگین تھا۔اپنی سردار زادی کو یاد کرتے ہوئے یشکر کی نگاہیں بار بار تخت پر بیٹھی قُتیلہ کی جانب اٹھ جاتیں جو رشاقہ کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔مگر اس کی ہنسی بادیہ سے مختلف تھی۔بادیہ شرمیلی تھی اور یہ بے باک وہ ہنستے ہوئے سر جھکا لیتی تھی اور قتیلہ کا چہرہ ہنستے ہوئے اوپر کو اٹھ جاتا تھا۔بادیہ اس کی بیوی ہونے کے باوجود عموماََ اسے کن اکھیوں سے دیکھا کرتی، جبکہ قُتیلہ مردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی تھی۔بلاشبہ بادیہ ہراساں اور معصوم ہرنی جیسی تھی اور قُتیلہ زخمی شیرنی کی طرح خوں خوار اور بھڑکیلی تھی۔
کھانے پینے کے بعد محفلِ موسیقی اور رقص کی شروعات ہو گئی۔طبقہ اور ملکان کی آوازیں جادو جگانے لگیں۔اس وقت قُتیلہ کا چہرہ خصوصی طور پر دو افراد کے لیے مرکز نگاہ بنا ہواتھا۔ایک کی نگاہوں میں خوشگوار دلچسپی جبکہ دوسرے کی نگاہوں میں ہوس ابل رہی تھی۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی نگاہوں کے سامنے تمام پردے ہٹے ہوئے ہیں۔
محفل عروج پر پہنچی، رشاقہ نے مستی سے جھومتے ہوئے قُتیلہ کو کھینچا،شراب کے نشے میں مخمور قُتیلہ لہراتے ہوئے کھڑی ہوئی اور خوب صورت سازوں پر تھرکنے لگی۔اسے ناچنا نہیں آتا تھا۔وہ میدان جنگ میں جس خوب صورتی اور مہارت سے لہراتی بل کھاتی تھی اس انداز میں وہ رقص کرنے سے عاجز تھی۔وہ بس پینترے بدلنے کے انداز میں اچھل کود کر رہی تھی۔تماشائیوں نے اس کے نام کے نعرے لگاتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔وہ اس سے متاثر تھے ،ڈرتے تھے ،عقیدت رکھتے تھے اور اسے انوکھا خیال کرتے تھے۔اس کا یوں بے تکلفی سے رقص کرنا انھیں از حد محظوظ کر رہا تھا۔
ہوس بھری آنکھوں کی حسرت کچھ مزید بڑھ گئی تھی۔وہ اپنے ہونٹوں کودانتوں سے یوں کاٹ رہا تھا جیسے اس کے اپنے ہونٹوں کے بجائے قُتیلہ کے شہابی لب ہوں اوروہ ضحاک بن عتیک تھا۔
٭٭٭
بادیہ ،عریسہ کی گود میں سر چھپائے لیٹی تھی۔وتینہ ،سلمیٰ اور ان کی ماں نائلہ بھی وہیں موجود تھیں۔یشکر کے بعد وہ ہر لمحے خود کو غیر محفوظ سا محسوس کرتی۔جبکہ اس کی موجودی میں وہ خود کو نڈر و بے خوف محسوس کیا کرتی تھی۔ابتداءمیں وہ یشکر کو اپنے بھائیوں کی دھمکی دیا کرتی تھی۔اوراس وقت تینوں بھائی بنو جساسہ میں موجود تھے لیکن ان کی موجودی سے اسے تحفظ کا احساس نہیں ہورہا تھا۔
یشکر کی موت کا سن کر وتینہ بہت روئی تھی۔سلمیٰ سے لپٹ کر اس نے سسکتے ہوئے کہا تھا۔ بھائی ہماری قسمت ہی میں نہیں ہے۔“
شریم حجرے میں داخل ہوا۔”دفع ہو گئے ہیں۔“بنونوفل کے سواروں کی واپسی کا بتاتے ہوئے اس نے تسلی دی۔
تمام نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا۔وتینہ پوچھنے لگی۔”ابوجان ،ان کی آمد کا مقصد کیا تھا۔“
”اپنی طاقت کا اظہار کرنے آئے تھے۔یہ باور کرانے آئے تھے کہ انھیں بنو جساسہ کے خلاف ہر قسم کی من مانی کی کھلی چھوٹ ہے۔“شریم دکھ کے اظہار سے خود کو نہیں روک سکا تھا۔
سلمیٰ ووتینہ کی ماں نائلہ بولی۔”ہمیں یہاں سے کوچ کر کے کسی اور قبیلے میں ضم ہونا پڑے گا۔بنو دیل، بنو جمل یا بنو لخم اس کے لیے بہترین چناﺅ ثابت ہوں گے۔“
شریم تلخی سے بولا۔”تم چاہتی ہو بنو جساسہ کا نام و نشان بھی مٹ جائے۔“
”میرا مطلب یہ نہیں تھا۔“نائلہ گھبرا گئی تھی۔
شریم طنزیہ انداز میں بولا۔”بنو جساسہ کی زمین زرخیز ہے ،یہاں نہ خشک ہونے والے پانی کے کنویں موجود ہیں، رہایش کے لیے مضبوط حویلیاں بنی ہیں اور یہ سب چھوڑ کر ہم کسی اور قبیلے میں دخیل بن کر جا بیٹھیں۔وہ بھی صرف اس لیے کہ بنو نوفل والے ہمیں تنگ کر رہے ہیں۔“
نائلہ نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا۔
”ہم حلیف قبایل میں اپنے مردوں کی شادیاں کریں گے، بنو جساسہ کے ان مردو زن کو تلاش کر کے آزاد کرانے کی کوشش کریں گے جنھیں غلام بنا کر بیچا گیا ہے۔اور مجھے یقین ہے ہماری اگلی نسل بنونوفل سے ان تمام زیادتیوں کا بدلہ لے گی۔“
”معافی چاہتی ہوں سردار ،آپ کو میری گفتگو سے تکلیف پہنچی۔“نائلہ نے معذرت کرنے میں عافیت جانی تھی۔
اسی شام شریم اپنے بھتیجے کو کہہ رہا تھا۔”وتینہ جوان ہو گئی ہے مالک!….اور میں چاہتا ہوں سلمیٰ اور اس کو ایک ساتھ رخصت کیا جائے۔“
مالک بن شیبہ پر مسرت لہجے میں بولا۔”چچاجان !….یہ رشتا میرے لیے اعزازسے کم نہیں ہے۔“
شریم اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”پرسوں تمھارا نکاح ہو گا۔یقینا تیاری کے لیے دودن کافی ہوں گے۔“
”جی چچا جان۔“مالک نے سعادت مندی سے سرہلادیاتھا۔
٭٭٭
یشکر خیمے سے کم ہی نکلتا تھا۔کیوں کہ وہ قُتیلہ کو نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔اسے دیکھتے ہوئے بادیہ کی یاد بڑی شدت سے حملہ آور ہوتی تھی۔اس کے زخم اب بتدریج ٹھیک ہو رہے تھے۔خلیسہ نے ایک اونٹ دے کر بدلے میں دس بکرے حاصل کیے تھے۔ہر تیسرے چوتھے روزوہ ایک بکرا ذبح کرتی اوراس کا گوشت اکٹھا بھون کر رکھ لیتی۔جب وہ ختم ہو جاتا تو ایک اور بکرا ذبح کر لیتی۔یشکر کی تواضع میں اس نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔
اب وہ اپنی پسند کا بھی کھل کر اظہار کرنے لگی تھی۔مگر یشکر کے لیے اس کی خوب صورتی کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔بادیہ کے بدلے اسے قُتیلہ بھی قبول نہیں تھی اس کی کیا دال گلتی۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ اس کی نظر میں بادیہ مر چکی تھی اور مرے ہوئے آدمی کی جگہ زیادہ عرصہ تک خالی نہیں رہتی جلد ہی پر ہوجاتی ہے۔اور وہ جس معاشرے میں سانس لے رہا تھا وہاں یوں بھی ایک مرد کئی کئی عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکتا تھا۔(اسلام سے پہلے عربوں میں رواج تھا کہ ایک مرد جتنی چاہتا عورتوں کو بیاہ کر اپنے پاس رکھ لیتا۔اسلام کی آمد کے بعد صرف چار عورتیں رکھنے کی اجازت دی گئی۔جب یہ حکم نازل ہوا اس وقت کافی صحابہ کرام ؓ ایسے تھے جن کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں۔ یہاں تک کہ سیدنا فاروق اعظم ؓ کے نکاح میں بھی اس وقت چار سے زیادہ بیویاں تھیں۔ایسے تمام صحابہ کرام ؓ نے فوراََ ہی چار سے زائد بیویوں کو طلاق دے دی تھی)
اسے بنو طرید میں آئے دوماہ ہونے کو تھے۔اور ا ب اس کے زخم کا کھرنڈ بھی اتر چکا تھا۔ وہ ذہنی طور وہاں سے جانے کے بارے سوچنے لگ گیا۔ بادیہ رہی نہیں تھی ،بنو جساسہ تباہ ہو چکا تھا اور اب اسے فارس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نظر نہیں آرہی تھی۔اس دن وہ صبح سویر خیمے سے باہر نکلا۔ٹیلوں کے درمیان تمام جوان مشق کر رہے تھے۔وہ ٹہلنے کے انداز میں ان کے قریب پہنچا۔پاگل دل قُتیلہ کو دیکھنے کے لیے مچل اٹھا تھا۔
قُتیلہ ،رشاقہ کی تربیت میں مصروف تھی۔لڑکیاں لکڑی کے ستونوں پر لگے شّپّا (تیر اندازوں کا ہدف)پرجُماح(بغیر نوک کے تیر)کی بارش کیے ہوئے تھیں۔امریل اور ملکان ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش میں تھے۔تین بار ہارنے کے بعد چوتھی دفعہ جیت ملکان کے حصے میں آئی تھی۔
یشکر ایک جانب کھڑا ہوکر انھیں اشتیاق سے دیکھنے لگا۔مگر وہ زیادی دیر قُتیلہ کی دید سے محظوظ نہیں ہو سکتا تھاکیوں اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی وارفتگی دیکھ کو وہ الٹی کھوپڑی کی لڑکی کچھ بھی کر سکتی تھی۔وہ اس سے رخ موڑ کر شمشیر زنی کرنے والے دو اناڑیوں کو دیکھنے لگا۔اور پھر اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ کس وقت وہ قریب آگئی تھی۔
”جوان ،تمھیں اب بستر چھوڑ دینا چاہیے۔“
یشکر چونکتے ہوئے متوجہ ہوا۔دنبالہ آنکھیں اس کے چہرے پر گڑی تھیں۔ یشکر کی سوچوں میں بادیہ کی آنکھیں در آئی تھیں۔بڑی مشکل سے اس کے چہرے سے نظر ہٹا کر اس نے رشاقہ کی طرف دیکھا جس کے سرخ و سفید چہرے پر پسینے کے قطرے آبگینوں کی طرح لگ رہے تھے۔وہ اشتیاق آمیز نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔اسے خاموش پاکر وہ بولی۔
”ملکہ قُتیلہ تم سے مخاطب ہے اعمیٰ بن مکیث۔“
وہ بے پروائی سے بولا۔”بستر چھوڑنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔“
قُتیلہ دوبارہ بولی۔”اتنے جسیم جوان کو مرد میدان ہونا چاہیے۔“
”ہونہہ۔“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”اگر جنگ جسامت سے لڑی جاتی تو ابوالحارث (شیر) کواونٹ کا لقمہ بننا پڑتا۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوا۔”کبھی تلواربھی پکڑی ہے یا فقط باتیں کرنا سیکھی ہیں۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ میں پکڑی تلوار یشکر کے سامنے پھینکی۔امریل اور ملکان بھی ان کے قریب آکر کھڑے ہو گئے تھے۔
یشکر نے ایک نظر پاﺅں میں پڑی تلوار کی طرف دیکھا۔اور پھر آہستگی سے جھکتے ہوئے اس کا ہاتھ تلوار کی طرف بڑھا۔اسی وقت دماغ میں سکندر کی آواز ابھری۔
”یاد رکھنا بیٹا،ایک اچھا شمشیر زن ہمیشہ تلوار کو دستے سے پکڑتا ہے۔اس کے علاوہ تلوار کو کسی بھی جگہ سے نہیں تھاما جاتا۔اور دستے کو پکڑتے وقت ہاتھ کی گرفت مضبوط توہونی چاہیے،سخت نہ ہو۔چاروں انگلیاں یوں لپٹی ہوں۔“سکندر نے اپنا ہاتھ دستے پر جما کر دکھایا۔”اور انگوٹھا اس جگہ پررکھا ہو۔“
اس کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری ،ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے مسکراہٹ کو دور کیااور تلوار کو درمیان سے پکڑ کر اوپر اٹھالیا۔
ملکان ،رشاقہ اور امریل قہقہ لگا کر ہنس دیے تھے۔قُتیلہ بھی متبسم ہوئی۔
یشکر نے تلوار امریل کی جانب بڑھا دی۔کیوں کہ وہ ان چاروں میں سب سے زیادہ امریل سے مانوس تھا۔امریل روزانہ ایک مرتبہ ان کے خیمے میں ضرور آتا تھا۔ اور اس کی آمد کی غرض و غایت یشکر کو اچھی طرح معلوم تھی۔گو اس نے کبھی اظہار نہیں کیا تھا لیکن یشکر اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ خلیسہ سے محبت کرتا تھا۔یہ بات خلیسہ کو بھی معلوم تھی ،مگر جان بوجھ کر نظر انداز کیے رکھتی کہ وہ خود یشکر کے پیچھے پڑی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ کا خیال ہے اس ناکارہ لاش کے بجائے خلیسہ پر محنت کی جائے تو کم از کم وہ تلوار کو پکڑنا تو سیکھ جائے گی۔“
رشاقہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔”اگر ملکہ کی اجازت ہو تو میں اسے تربیت دینا پسند کروں گی۔“
قُتیلہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”تم شاید وقت ضایع کرنے کی زیادہ شوقین ہو۔“
رشاقہ مصر ہوئی۔”مجھے لگتا ہے یہ سیکھ جائے گا۔“اس کی نظریں مسلسل یشکر پر گڑی تھیں۔
قُتیلہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔”کیا خیال ہے جوان ،تلوارپکڑناسیکھنا چاہو گے۔“
”خودسیکھنے والی مجھے کیا سکھائے گی۔میرا مطلب یہ خود اب تک آپ سے تربیت لے رہی ہے۔“
قُتیلہ استہزائی انداز میں ہنسی۔”تو کیا ملکہ قُتیلہ کا شاگرد بننا ہے۔“
یشکر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔سحر بھری دُنبالہ آنکھوں نے اس کے دل کی دھڑکن بڑھا دی تھی۔اپنی غیر ہوتی حالت پر قابو پاتے ہوئے وہ بے پروائی سے بولا۔”مجھے نہیں لگتا کہ آپ کے پاس کوئی ایسا پینترہ ہے جسے سیکھنے کی مجھے ضرورت ہو۔“
ملکان ،امریل اور رشاقہ نے ایک ساتھ قہقہ لگایا۔قُتیلہ کے ملیح چہرے پر ہلکی سی سرخی جھلکی، دُنبالہ آنکھوں میں غصے کی جھلک ابھری،لیکن جب بولی تو لہجے میں تندی نہیں تھی۔
”جسے تلوار تھامنے کا پتا نہ ہو اس کے ہونٹوں پر ایسی بڑھکیں نہیں سجتیں۔“
یشکر اس کی بات کا جواب دیے بغیر بولا۔”اگر سردارن کی اجازت ہو تو میں اپنے خیمے میں واپس جانا چاہوں گا۔“
”ملکہ قُتیلہ کو لوگ ملکہ قُتیلہ کہتے ہیں۔“
”کہتے ہیں یا کہلواتی ہو۔“یشکر کا لہجہ تو نہیں البتہ الفاظ استہزائی تھے۔
قُتیلہ کے لہجے میں غصہ شامل ہونے لگا تھا۔”اس سے فرق نہیں پڑتا۔“
یشکر نے کندھے اچکائے۔”حالانکہ شیر کی پہچان نام سے نہیں کام سے ہوتی ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ فلسفے سننے کی عادی نہیں ہے۔“قُتیلہ کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
”اگر ملکہ کی اجازت ہو تو میں واپس خیمے میں جانا چاہوں گا۔“یشکر نے مزید اصرار مناسب نہیں سمجھا تھا۔نہ وہ لڑنا چاہتا تھا اور نہ لڑنے کی حالت میں تھا۔
وہ زہر خند لہجے میں بولی۔”کوشش کرنا کہ ملکہ قُتیلہ ایک بزدل ،کاہل اور ناپسندیدہ شخص کی دید سے محروم رہے۔اور یہ درخواست نہیں ہے۔“(مطلب حکم ہے )
یشکر کے ہونٹ کچھ کہنے کو لرزے مگر پھر وہ خاموشی سے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔
”ملکہ قُتیلہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک گھٹیا شخص کو بنو طرید میں خوش آمدید کہہ رہی ہے۔“اس کے جانے کے بعد بھی قُتیلہ کا غصہ نہیں اترا تھا۔
”دفع کریں ملکہ ،ہم اپنی مشق کرتے ہیں۔“رشاقہ نے ہاتھ تھام کر اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔
”تم لوگ کرو۔“قُتیلہ کی برہمی کم نہیں ہوئی تھی۔سردار بننے کے بعد وہ بتدریج اپنے غصے کو قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھی ورنہ پہلے کسی نے اس انداز میں بات کی ہوتی تو وہ اپنی تلوار کو نہ روک سکتی۔مگر اب وہ بنو طرید کی تعداد میں اضافہ چاہتی تھی۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ ہو کر اگر وہ لوگوں کے سر اتارنا شروع کر دیتی تو لوگ وہاں سے غائب ہونا شروع ہو جاتے۔اس کا باپ کہا کرتا تھا۔”جو اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتا وہ سرداری کا اہل نہیں ہے۔“اور وہ نااہل سردارن نہیں کہلانا چاہتی تھی۔
ریت کے ٹیلے پر بیٹھ کر وہ اپنے آدمیوں کو تربیت کرتا دیکھنے لگی۔رشاقہ نے اس کے عقب میں بیٹھ کر قساوا(ماتھے پر باندھی پٹی) کھول کراس کے لمبے گھنے بالوں کو آزاد کر دیا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کی برہمی میری سمجھ سے باہر ہے۔“وہ اس کے بالوں کی مینڈھیاں بنانے لگی۔
وہ ہونٹ چباتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو بزدلوں سے نفرت ہے۔“
”ماں جی کو لینے کب جانا ہے؟“رشاقہ نے اس کی دماغی رو عریسہ کی جانب موڑی۔
بیزار بیٹھی قُتیلہ کی ناگواری ایک دم کافور ہو گئی تھی۔وہ خوش دلی سے مسکرائی۔”ملکہ قُتیلہ کا خیال ہے مزید دیر کرنامناسب نہ ہوگا۔“
”پھر کب؟“رشاقہ نے دو لفظوں میں پورا سوال دہرایا تھا۔
”نسر نے چاہا تو ملکہ قُتیلہ کل کا سورج رستے میں طلوع ہوتا دیکھے گی۔“
رات کو کھانے کے بعد اس نے منقر بن اسقح ،اصرم بن خسار اور قریب بن فلیح کو بلا کر قبیلے کا دھیان رکھنے کی ہدایات دیں اور امریل اور ملکان کو صبح صاق کے وقت تیار رہنے کاحکم دے دیا۔
٭٭٭
”آپ غصے میں لگ رہے ہیں۔خلیسہ اس کا چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گئی تھی کہ وہ برہم ہے۔
وہ بے پروائی سے بولا۔”غصے کی وجہ کم از کم آپ نہیں ہیں۔“
”میرے لیے خوشی کی بات ہے۔“گود میں اٹھائے بچے کو بسترپرلٹاتے ہوئے وہ اس کے قریب ہوئی۔”مگر پھر بھی آپ کو برہم نہیں دیکھ سکتی۔“
”یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔“اس نے خلیسہ کو دور ہٹانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
وہ شاکی ہوئی۔”مجھے اکیلاچھوڑدو گے۔“
”خلیسہ ،مجھے فارس جانا ہے۔اب یہاں میرا گزارانہیں ہو سکتا۔“
وہ ملتجی ہوئی۔”مجھے بھی ساتھ لے جاﺅ۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”بہت طویل سفر ہے۔اورمیرے دشمنوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔میں اپنی عزیز ترین ہستی کی حفاظت نہ کر سکا تمھیں کیا تحفظ دوں گا۔ بہتر یہی ہوگا کہ کسی ایسے کا پلو تھام لو جو تمھاری قدر کرنا جانتا ہو۔“
وہ بے باکی سے بولی۔”مگرمجھے آپ اچھے لگتے ہیں۔“
”جانتا ہوں ،مگر تمھارے لیے وہ بہتر رہے گا جسے تم اچھی لگتی ہو۔“
خلیسہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔”امریل نے آپ سے کچھ کہا ہے۔“
”نہیں ،مگر میں جانتا ہوں وہ تمھیں بہت خوش رکھے گا۔اس کی آنکھوں میں تمھارے لیے ہوس نہیں ،محبت ہے۔“
وہ بجھے دل سے بولی۔”کب جاﺅگے؟“
یشکر ہنسا۔”دو تین دن تمھارے ساتھ ہوں۔“
اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے خلیسہ لجاجت سے بولی۔”کم از کم پندرہ دن۔“
یشکر نے اس کی ٹھوڑی کو انگلی سے اوپر اٹھاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔”وعدہ کرو،اس کے بعد نہیں روکو گی۔“
”وعدہ خلافی کرانا چاہتے ہو۔“خلیسہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی ابھری تھی۔
”اعمی والی تلوار مجھے پکڑاﺅ تھوڑی مشق کر لوں،مسلسل آرام سے جسم خراب ہونے لگا ہے۔“ اسے جذباتی ہوتا دیکھ کر یشکر کھڑا ہو گیا تھا۔
”اتنی گرمی میں۔“خلیسہ نے حیرانی ظاہر کی۔”سورج کافی اوپر آگیا ہے۔“
”ابو جان فرمایاکرتے تھے ،موسم کے اثرات کو نہ جھیل سکنے والے جنگجو کی جیت میں سب سے بڑی رکاوٹ موسم ہی ڈالتا ہے۔“
خلیسہ نے خیمے کے کونے میں رکھے لکڑی کے صندوق سے میان میں بنداعمیٰ والی تلوار نکالی۔ اور اس کی جانب بڑھاتے ہوئے اشتیاق سے پوچھنے لگی۔”ملکہ قُتیلہ سے مقابلہ کر لو گے؟“
”جلد ہی یہ لمحات آنے والے ہیں خود دیکھ لینا۔“معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے اس نے تلوار پکڑی اور خیمے سے باہر آگیا۔سورج کافی اوپر آگیا تھا۔مشق کرنے والے آرام کی نیت سے خیموں اوردرختوں کی چھاﺅں کے نیچے سمٹ گئے تھے۔وہ اطمینان بھرے انداز میں چلتا ہوا تربیتی میدان سے گزر کر ٹیلوں کے عقب میں پہنچا۔وہاں وہ لوگوں کی نظر سے اوجھل تھا۔
دھوپ نے اس کے جسم کے سارے مسام کھول دیے تھے پسینہ دھاروں کی صورت میں اس کے جسم پر بہنے لگا تھا۔مگر وہ تپتی ریت اور آگ برساتا سورج اس کے لیے نئی چیز نہیں تھی۔سکندر نے دوران تربیت اسے موسم کی سختیوں کا عادی بنانے کا خوب اہتمام کیا تھا۔اب موسم کی ٹھنڈک و تمازت اس کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی تھیں۔
دور نظر آنے والے درختوں کے جھنڈ کو نگاہ میں رکھ کر وہ درمیانی رفتار سے دوڑنے لگا۔کوس بھر کا فاصلہ طے کر کے وہ وہاں پہنچا۔کافی دنوں سے مشق نہ کرنے کی وجہ سے اس کا سانس چڑھ گیا تھا۔ درختوں کے جھنڈ میں جاکر وہ خیالی دشمن کے خلاف تلوار گھمانے لگا۔ہتھیاروں میں سب سے پسند اسے تلوار تھی۔اور اس نے ہمیشہ ہر ہتھیار پر تلوار کو ترجیح دی تھی۔تربیت کے آخری دنوں میں بھی سکندر دوسرے ہتھیاروں کے استعمال میں تو اس کی کوئی نہ کوئی خامی ڈھونڈ لیتا تھا مگر تلوار بازی میں برملا کہتا تھا کہ اس میدان میں یشکر اس سے بھی بہتر ہے۔
سورج کا جھکاﺅ مغرب کی جانب واضح ہو گیا تھا جب تلوار میان میں ڈال کر اس نے مشق ختم کی۔ ا سے شدت کی پیاس لگی تھی ،مگر بقول سکندر پیاس برداشت کرنا بھی تربیت کا حصہ تھا۔
وہ درمیانی رفتار سے دوڑتے ہوئے بنو طرید کی طرف بڑھنے لگا۔قبیلے کی حدود میں داخل ہوتے ہی اس نے دوڑنا بند کیا اور تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔لوگ اب تک خیموں اور درختوں کی چھاﺅں میں آرام کر رہے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: