Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 39

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 39

–**–**–

”وتینہ اور سلمیٰ کے ساتھ میں تمھاری ذمہ داری سے بھی سبک دوش ہونا چاہا ہوں۔“رات کے کھانے کے بعد شریم نے بادیہ کو حجرے میں طلب کر کے بغیر کسی تمہید کے اپنا منشا واضح کیا۔
وہ سرجھکاتے ہوئے بولی۔”میں تیار نہیں ہوں چچا جان۔“
شریم مصر ہوا۔”بہتر یہی ہو گا کہ قبیلے کے کسی جوان کا پلو تھام لو۔کسی دوسرے قبیلے کے سردارزادے کی تلاش میں اندیشہ ہے کہ بنو نوفل والے تمھاری موجودی سے باخبر ہو جائیں گے۔“
وہ صاف گوئی سے بولی۔”مجھے نہ کسی اعلانسب شخص کی تمنا ہے اور نہ ادنا سے رشتا جوڑ کر حالات سے فرار کی خواہش ہے۔یشکر کی جگہ میں کسی کو نہیں دے سکتی۔“
”یشکر کی جگہ تمھارے دل میں ہے۔ضروری نہیں کہ اپنے شوہر کو تم دل میں بھی جگہ دو ،لیکن زندگی گزارنے کے لیے کسی ساتھی کی ضرورت تو پڑے گی نا؟“
بادیہ نے دلیل دی۔”عریسہ چچی نے بھی توساری زندگی شوہر کے بغیر بتا ئی ہے۔“
شریم ترکی بہ ترکی بولا۔”مگراب شادی کر لی ہے نا۔“
”مجھے بھی جب ضروری لگے گا آپ کو بتا دوں گی،مگر فی الحال نہیں۔یشکر نے کہا تھا جو میاں بیوی ،اہورمزدا کو مانتے ہیں وہ مرنے کے بعد بہشت میں اکھٹے ہوں گے۔اور میں نہیں چاہتی کہ کسی دوسرے سے تعلق رکھنے کے بعد یشکر مجھے بہشت میں بھی نہ ملے۔“
اسی وقت عریسہ حجرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔”سردار اسے تھوڑی مہلت دو ، میری بیٹی اتنی جلدی شادی کے لیے تیار نہیں ہو سکتی۔“شاید اس نے باہر کھڑے ہو کر ان کی گفتگو سنی تھی۔
بادیہ فوراََ ہی اس سے لپٹ کر سسکیاں بھرنے لگی۔
”ٹھیک ہے ،جو مرضی آئے کرو مگر رونابند کرو۔“شریم نے شفقت بھرے انداز میں اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر حجرے سے باہر نکل گیا۔
٭٭٭
دھوپ کے تیز ہوتے ہی انھوں نے مناسب جگہ پر گھوڑے روک دیے تھے۔گھوڑوں سے زینیں اتار کر امریل نے ایک درخت کے نیچے باندھے اور توبڑوں میں جو گیلے کر کے توبڑے گھوڑوں کے منھ پر چڑھا دیے۔ملکان نے قُتیلہ کے لیٹنے کی جگہ پر چادر بچھائی ،زین سر کے نیچے رکھ کر وہ لیٹ گئی تھی۔
گھوڑوں کو سنبھال کے امریل واپس آیا اور درخت کی شاخوں سے کپڑا باندھ کر قُتیلہ کے لیے ہوا کا بندوبست کرنے لگا۔
”امریل میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔“قُتیلہ نے اسے روکنے کی واجبی سی کوشش کی۔لیکن اتنا تو اسے بھی معلوم تھا کہ امریل اس کی یہ بات نہیں سنے گا۔
وہ بے پروائی سے بولا۔”آپ آرام کریں مالکن ،مجھے نیند آئے گی تو سو جاﺅں گا۔“
ملکان معنی خیز لہجے میں بولا۔”اب اس بے چارے کو نیند کہاں آئے گی ملکہ۔“
”کیوں ؟“قُتیلہ حیران ہو کر ملکان کی طرف متوجہ ہوئی۔
”ملکان ،بکواس کی ضرورت نہیں ہے۔“امریل نے جھینپتے ہوئے اسے منع کرنا چاہا۔
ملکان اسے نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔”اسے محبت ہو گئی ہے ملکہ۔“
”کیا….“قُتیلہ حیرانی سے اٹھ بیٹھی۔”کون ہے وہ ؟“
ملکان نے قہقہ لگایا۔”ہے ایک سنہرانہ۔“
قُتیلہ نے سوالیہ انداز میں کہا۔”خلیسہ ….؟“ملکان کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ بولی۔ ”مگر وہ تو شادی شدہ ہے۔“
”ہاں ناں۔“ملکان نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”اور اس کا شوہر ملکہ قُتیلہ کو خاطر میں نہیں لاتا امریل کو خاک گھاس ڈالے گا۔“
قُتیلہ کھل کھلا کر ہنسی۔”امریل ،یہ سچ کہہ رہا ہے۔“
امریل نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا۔
وہ شرارتی لہجے میں بولی۔”آسان سا حل ہے ،اعمی بن مکیث کی گردن اتاردو ،ملکہ قُتیلہ سنہرانہ کو تمھاری زوجیت میں دے دے گی۔“
”اعمیٰ کی گردن اتارنا مشکل نہیں ہے ،مگر اس طرح وہ خفا ہوجائے گی اور میں اس کی ناراضی برداشت نہیں کر سکتا۔“امریل سنجیدہ تھا۔
”پھر اسے اعمیٰ سے طلاق لینے پر راضی کرو باقی ملکہ قُتیلہ سنبھال لے گی۔“
امریل دکھی ہوتا ہوا بولا۔”مجھے نہیں لگتا وہ ایک حبشی غلام کے لیے اعمیٰ جیسے خوب صورت جوان سے طلاق لینے پر راضی ہو گی۔“
قُتیلہ نفرت سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے کہتی ہے کہ ایک خوب صورت بزدل سے بہادرحبشی ہزار گنا بہتر ہے۔باقی تم حکماََ غلام نہیں آزاد ہو۔“
ملکان نے شرارتی انداز میں کہا۔”اگر امریل، رشاقہ کی منت کرے تو وہ اعمیٰ کو اپنا اسیر بناکر اسے سنہرانہ کو طلاق دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔ویسے بھی مجھے محسوس ہورہا ہے وہ اعمیٰ کی ذات میں دلچسپی رکھتی ہے۔“
امریل سرعت سے بولا۔”اس سفید لومڑی کی منت کرنے سے بہتر ہے میں خودکشی کر لوں۔“
قُتیلہ کی نقرئی ہنسی بلند ہوئی۔وہ امریل کی حالت سے محظوظ ہو رہی تھی۔”ویسے ملکان کا مشورہ ملکہ قُتیلہ کے بھی دل کو لگ رہا ہے۔“
ملکان ،امریل کو چھیڑتا ہوا بولا۔”اصل میں اس کا عشق ناقص ہے ملکہ ،ورنہ ملکان نے طبقہ کو پانے کے لیے اس کے تین شوہروں کی گردنیں کاٹی ہیں۔“
قُتیلہ نے مزاحیہ انداز میں تصحیح کی۔”دو کی ،تیسرے کاخاتمہ ملکہ قُتیلہ کے ہاتھوں ہواتھا۔“
ملکان جلدی سے بولا۔”ایک ہی بات ہے اگر ملکہ قُتیلہ پہل نہ کرتی تو میں اسے مار دیتا۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”لگتا ہے اب بھی ملکہ قُتیلہ ہی کو پہل کرناپڑے گی۔“
ملکان نے لقمہ دیا۔”ہاں اس طرح امریل کی سنہرانہ بھی اس سے خفا نہیں ہو گی۔“
”کیا خیال ہے امریل؟“قُتیلہ نے اس کی رائے جاننا چاہی۔
امریل دھیرے سے بولا۔”ملکہ قُتیلہ بہت اچھی ہے۔“
قُتیلہ ہنسی۔”سنہرانہ سے بھی۔“
امریل بولا۔”وہ محبت ہے، آپ عقیدت ہیں۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”یہ نہ ہو کل ملکہ قُتیلہ محبت بن جائے۔“
امریل معصومانہ لہجے میں بولا۔”امریل کی گردن کے لیے بہترین جگہ اس کے شانے ہیں، اور اگر ایک دفعہ یہ یہاں سے ہٹا دی گئی تو دوبارہ جوڑی نہیں جا سکے گی۔“(مطلب قُتیلہ سے محبت کا اظہار کرنا گردن کٹوانے والی بات تھی)
ملکان اور قُتیلہ نے زوردار قہقہ لگایا تھا۔قُتیلہ سخاوت سے بولی۔”تم ملکہ قُتیلہ کے خصوصی غلام ہو امریل اور ملکہ قُتیلہ تمھیں سوچنے کاایک موقع ضرور دے گی۔“
امریل مزاحیہ انداز میں بولا۔”غصے کے وقت عموماََ وعدے بھول جایا کرتے ہیں۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ جب گردن دھڑ سے علاحدہ ہوجائے تو انسان بات چیت کے قابل نہیں رہتا۔ ایسی حالت میں ملکہ قُتیلہ کو کیسے اس کے وعدے یاد دلاﺅں گا۔ناں جی ناں امریل کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔“
قُتیلہ مصنوعی ناراضی سے بولی۔”یاد کروامریل ،ملکہ قُتیلہ نے تمھاری جسارت کے باوجود تمھیں معاف کر دیا تھا۔“
امریل عقیدت سے بولا۔”کیوں کہ ملکہ قُتیلہ بہت اچھی ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کو نیند آرہی ہے۔“آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے بحث ختم کرنے کا اعلان کیا۔ امریل خاموشی سے کپڑا جھلنے لگا۔
٭٭٭
قُتیلہ ،ملکان اور امریل کے قبیلے سے نکلنے کے تھوڑی دیر بعد ایک اور گھڑ سوار بنو طرید سے باہر نکلا۔وہ ضحاک بن عتیک تھا۔قُتیلہ کی ٹولی کا رخ شمال مشرق کی جانب تھا جبکہ اس نے شمال کا رخ کیاتھا۔بنو طرید کی حدود تک وہ گھوڑے کی لگام تھام کر گیا تھا۔ذرا سا دور آتے ہی وہ سوار ہوااور گھوڑے کو سرپٹ دوڑا دیا۔دھوپ تیز ہونے کے بعد بھی اس کا سفر جاری رہا تھا۔ نصف النہارکے وقت اس نے ایک سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر دو تین گھڑیاں آرام کیا اور پھر چل پڑا۔رات کو بھی اس نے بہت کم آرام کیا تھا۔یقینا وہ جلد از جلد بنو طرید سے دور نکل جانا چاہتا تھا۔
بھاگنے کے لیے اس نے جان بوجھ کر ایسے وقت کا چناﺅ کیا تھا جب قُتیلہ قبیلے میں حاضر نہیں تھی۔کیوں کہ وہ ذرا سا خطرہ بھی مول نہیں لینا چاہتا تھا۔قُتیلہ کی پیشکش نہ ماننے والے بنو عقرب کے دونوں آدمیوں ،حابس اور غیاث کے انجام کے بارے اسے منقر بن اسقح اور رشاقہ سے سن گن مل چکی تھی۔
اگلے دو دن بھی سفر میں گزار کر ،تیسرے دن کے آغاز کے ساتھ وہ بنو احمر کی حدود میں داخل ہو رہاتھا۔تھوڑی دیر بعد وہ بنو احمر کے سردار نجار بن ثابت کے سامنے بیٹھااپنی آمد کی غرض و غایت پر روشنی ڈال رہا تھا۔قبیلے کے چند معززّین کے علاوہ سردار کادست راست قدامہ بن شیبان بھی وہاں موجود تھا۔قدامہ اس کا چچیرا بھائی تھا۔
ضحاک کی بات ختم ہوتے ہی نجار بن ثابت نے منھ بناتے ہوئے کہا۔”قُتیلہ کو تمھارے حوالے کر نے کی شرط پر اس کا پتا معلوم کرنے میں میرا کیا فائدہ ہے جوان۔میں بس اسے اپنی لونڈی دیکھنا چاہتا ہوں اور بنو احمر کے سردار کی لونڈی میں کوئی غیر کیسے شریک ہو سکتا ہے۔“
ضحاک امیدبھرے لہجے میں بولا۔”سردار اپنا بدلہ لینے کے بعد اسے میرے حوالے کر سکتا ہے ،تاکہ میں اس کے غرور کو پاﺅں تلے روند سکوں۔“
”ناممکن۔“نجار بن ثابت نے نفی میں سرہلایا۔”وہ ایسی دوشیزہ نہیں ہے جس سے جلد سیر ہوا جائے۔“
ضحاک نے قُتیلہ کے حصول سے مایوس ہو کر اگلا مطالبہ پیش کیا۔”پھر بنو احمر کی کسی خوب صورت دوشیزہ سے میری شادی کی جائے۔اس کے علاوہ دس آدمیوں کے خون بہاکے بہ قدر اونٹ اور بنو احمر کی شہریت عنایت کی جائے۔“(مطلب سو اونٹ)
بنو احمر کا ایک معمر معزز بولا۔”ایک دوشیزہ اتنی مہنگی نہیں ہوسکتی۔“
ضحاک مکاری سے بولا۔”محترم ،وہ صرف دوشیزہ نہیں ایک اعلا نسب سردار زادی ہے۔ صورت کے لحاظ سے صحرائے اعظم کی دوشیزاﺅں میں سرفہرست ہے بنو طرید کی سردارن ہے اور بنو احمر کے دوسرداروں کی قاتل ہے۔ اس کا آزاد گھومتے رہنا قبایل عرب میں بنو احمر کی عزت کو خاک میں ملا دے گا۔“عامر بن اسود سے گپ شپ کرتے ہوئے اسے قُتیلہ کی ساری کہانی معلوم ہوئی تھی اور اب اسی کو بنیاد بنا کر وہ بنو احمر کے معزّزین پر دھونس جما رہا تھا۔
سردار کادست راست قدامہ بن شیبان بولا۔” اونٹ لو یاموخّر الذکر دو شرائط پوری کراﺅ۔“
ضحاک حتمی لہجے میں بولا۔”اچھا اونٹوں کی تعداد نصف کردو اور یہ آخری پیشکش ہے۔اگر منظور نہیں ہے تو سردار زادی قُتیلہ کے طلب گار کافی ہیں میں کسی اور سے رابطہ کر لوں گا۔“
نجار بن ثابت بے صبری سے بولا۔”منظور ہے۔اب تم جلدی سے اس کے چھپنے کی جگہ کے بارے بتاﺅ میں کل تک اسے اپنے بستر پر دیکھنا چاہتا ہوں۔“
ضحاک معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”کتنے جنگجو قتل کرانا برداشت کر لو گے؟“
نجار نے فخریہ لہجے میں کہا۔”میں پانچ سو جنگجو میدان میں لا سکتا ہوں۔“
ضحاک نے کہا۔”سردار ،میرا سوال کچھ اور تھا۔میں نے پوچھا ہے قُتیلہ کے حصول کے لیے کتنے جنگجو قتل کراسکتے ہو۔“
”کیا مطلب؟“قدامہ بن شیبان نے حیرانی ظاہر کی۔
”سردارزادی آج کل ملکہ قُتیلہ کہلاتی ہے ،اس کے لشکر میں کم از کم پچاس ،ساٹھ سے زیادہ جنگجو ہیں۔ان کے علاوہ دو تین درجن مراہق لڑکوں و لڑکیوں (قریب البلوغ)کو اس نے تیر اندازی کی تربیت دے رکھی ہے۔وہ تمام اپنی سردارن کو بچانے کے لیے بے جگری سے مقابلہ کریں گے۔دودرجن بندوں کو تو سردار زادی اور اس کا حبشی غلام امریل ہی ذبح کر دیں گے۔اور یہ بھی دھیان میں رہے اپنے قبیلے میں اس نے پہرے داری کا عمدہ انتظام کر رکھا ہے۔صبح سے شام اور پھر صبح تک دیدبان کسی بھی لمحے اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتے۔ میرے اندازے میں آپ ایک تہائی لشکر کو تباہ کروا کر ہی اس پر قابو پا سکیں گے،بلکہ ایسی حالت وہ زندہ گرفتار ہونے کے بجائے موت کو گلے لگانا پسند کرے گی۔“
”امریل بن خرشہ اس کا غلام ہے….؟“نجارنے ساری تفصیلا ت سن کر صرف ایک بات پر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔
”وفادار ترین غلام ہے۔یوں کہ وہ لیٹی ہوتی ہے اور امریل اس پر کپڑا جھل رہا ہوتا ہے۔“
”امریل جیسے جنگجو سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔“نجار کے لہجے میں افسوس بھرا تھا۔
ضحاک ،قُتیلہ کی تعریف میں رطب اللسان ہوااور بولتا چلا گیا۔”امریل جیسا جنگجو اس کی شمشیر زنی کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک سکتا۔پتا نہیں وہ چھلاوہ ہے ،چڑیل ہے یا بھتنی ہے۔تلوار اس کے ہاتھوں میں رسی کی طرح لہرارہی ہوتی ہے۔اس کا جسم بگولے کی رفتار سے حرکت کرتا ہے۔اس کاوار بجلی کے کوندے کی طرح مخالف کی طرف لپکتا ہے۔ حِضار (سرخ یا سفید رنگ کے اعلا نسل کے اونٹ جو سفری صعوبتیں برداشت کرنے میں بہت عمدہ ہوتے ہیں )کی طرح تھکنے میں نہیں آتی۔مقابل کا ہر وار وہ اس خوب صورتی سے خطا کرتی ہے کہ ماہر شمشیر زن بھی اناڑی معلوم ہونے لگتے ہیں۔اس کا جسم دیکھنے میں روئی کے گولے،مکھن کے پیڑے اور بالائی جیسا ملائم لگتا ہے ،مگر حقیقت میں اس کے اعضاءغضاءکی لکڑی کی طرح سخت اور مضبوط ہیں۔اس کے پر کشش جسم میں اتنی طاقت چھپی ہے کہ لات مار کر امریل جیسے شہ زور کو یوں زمین بوس کرتی ہے جیسے اناڑی سوار کو اڑیل گھوڑا نیچے گراتا ہے۔ اس کی ڈھال صرف وار روکنے کے کام نہیں آتی وہ اس کو مقابل کے خلاف بہ طور ہتھیار بھی استعمال کرتی ہے۔وہ سچ میں ملکہ قُتیلہ ہے۔ “
بنو احمر کے ایک معزّز نے منھ بنایا۔”تم ہمیں مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہو جوان۔“
”نہیں۔“ضحاک نے نفی میں سرہلایا۔”میری نظر میں صحرائے اعظم کا بہترین جنگجو میرا استاد زیاد بن تابوت تھا۔لیکن سردار زادی کی شمشیرزنی دیکھ کر میں اپنے رائے پر قائم نہ رہ سکا۔یقین کرو اگر آج زیادبن تابوت زندہ ہوتا تواس چھوکری کی شاگردی کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتا۔“
قدامہ پرخیال لہجے میں بولا۔”اس کا مطلب ہے غراب بن ارصادٹھیک کہہ رہا تھاکہ قُتیلہ نے مکے مار مار کر امریل کو بے ہوش کر دیا تھا۔“
”میرے پاس ایک اور پیشکش ہے۔“قُتیلہ کی حقیقت ان کے سامنے کھول کر بیان کرنے کے بعد ضحاک نے پہلے سے سوچے منصوبے کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔
”بتاﺅ۔“گہری سوچ میں ڈوبے نجار نے بد دلی سے کہا۔
”ایک ایسی تجویز ہے جس پر عمل کر کے ہم بغیر کوئی نقصان اٹھائے نہ صرف سردار زادی کو قابو میں کر سکتے ہیں بلکہ پورے بنو طرید پر قابض ہو سکتے ہیں۔“
”ہم سننا چاہیں گے۔“سردارنجار بن ثابت نے دلچسپی ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
وہ چالاکی سے بولا۔”میرا ایک مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔“
قدامہ تلخی سے بولا۔”تم پہلے ہی تین مطالبے پیش کر چکے ہو۔“
”ٹھیک ہے ،میں بنو احمر کے اونٹوں کے مطالبے سے دست بردار ہونے پر تیار ہوں۔اب میرا مطالبہ یہ ہے کہ بنو طرید پر قبضے کے بعد جتنے اونٹ ہاتھ آئیں گے وہ تمام میرے ہوں گے۔اس کے علاوہ قُتیلہ کی خاص ہم جولی رشاقہ بنت زیادبن تابوت بھی میری ہوگی۔اور میںایک ایسی تجویز بتاﺅں گا جس سے آپ بغیر خون خرابہ کیے بنو طرید پر آسانی سے قبضہ کر لیں گے۔“
نجار نے حجت پیش کی۔”ایک قبیلے کے تمام اونٹوں کا ایک ہی شخص کے قبضے میں جانااسے سردارِ قبیلہ سے بھی امیر کر دے گا۔“
ضحاک مکاری سے بولا۔”سو سے زیادہ لونڈیاں و غلام ،سو کے قریب عمدہ نسل کے گھوڑے،اتنے ہی خیمے ،بیش بہا اسلحہ،ہزار کے قریب بھیڑ بکریاں، بیسیوں گدھے، درجنوں خچراور صحرائے اعظم کی انوکھی حسینہ سردارزادی ملکہ قُتیلہ بنت جبلہ۔یہ سب پا کر بھی اگر بنو احمر کا سردار سمجھتا ہے کہ وہ گھاٹے کا سودا کر رہا ہے تو یقینا اس کی سوچ عدل کے منافی ہے۔“
”منظور ہے۔“اس مرتبہ سردار نجار نے سوچنے میں لمحہ بھی ضایع نہیں کیا تھا۔
ضحاک کے ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ ابھری۔”ٹھیک ہے ،مجھے سردار کی زبان پر مکمل بھروسہ ہے ….“لمحہ بھر رک کر وہ کہنے لگا۔”ہمیں زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو درجن جنگجوﺅں کی ضرورت پڑے گی۔کرنا کچھ یوں ہے کہ ……..“وہ انھیں اپنے منصوبے کے بارے تفصیل سے بتانے لگا۔تمام دلچسپی سے سننے لگے۔اس کی بات کے اختتام پر نجار بن ثابت کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔
”قدامہ!….“نجار اپنے دست راست کو مخاطب ہوا۔”ضحاک بن عتیک کی اچھی طرح خدمت کرو۔آج سے یہ بنو احمر کا باسی ہے۔اور قبیلے کے بہترین شہسوارریاب بن مجمع کی بہن حسیبہ بنت مجمع کے ساتھ آج رات کو اس کا نکاح پڑھا یا جائے گا۔“
ضحاک کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا۔اس نے قُتیلہ سے بدلہ لینے کے منصوبے کی طرف پہلا قدم بڑھا دیا تھا۔گو وہ اس کے حصول میں تو ناکام رہا تھا لیکن نجار بن ثابت کی لونڈی کے روپ میں وہ اس کا جھکا ہوا سر ضرور دیکھ سکتا تھا۔یقینا اس فَخّار(بہت زیاہ ناز کرنے، نخرے کرنے والی)کو اس کی حیثیت یاد دلانا ضحاک کا خواب تھا۔اور یہ خواب جلد ہی پورا ہونے والا تھا۔
٭٭٭
”غلام کو ساتھ چلنے کی اجازت دی جائے۔“وہ بنو نسر کی آبادی کے قریب ایک اونچے ٹیلے پر موجود تھے۔قُتیلہ کی انھیں وہیں رکنے کی ہدایت پر امریل لجاجت سے بولا تھا۔
”امریل !….فیصلوں میں ترمیم کمزور ارادوں کی مظہر ہے۔اس لیے ملکہ قُتیلہ سوچ کر فیصلہ کرتی ہے ،فیصلہ کر کے نہیں سوچتی۔اگر ضرورت ہوتی تو تمھیں ساتھ چلنے کا بتا دیا ہوتا۔“
”جی مالکن۔“امریل نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
اپنا گھوڑا وہیں چھوڑ کر وہ بنو نسر کے بے ترتیب لگے ہوئے خیموں کی طرف بڑھ گئی۔ اطمینان بھرے انداز میں چلتے ہوئے وہ گھڑی بھر میں عریسہ کے خیمے کے سامنے کھڑی تھی۔اس کے لبوں پر خوب صورت مسکراہٹ ابھری اور وہ خیمے کے پردے کو بے دھڑک کھول کراندر داخل ہوئی۔خیمے میں چراغ جل رہا تھا لیکن اس کی لو نہایت نیچی تھی۔البتہ وہ اندھیرے میں چل کر آئی تھی وہ ملگجی روشنی بھی اس کے لیے کافی تھی۔
لکڑی کے تخت پر دو جسم دیکھتے ہی وہ چونک گئی تھی۔یقینا عریسہ کے ساتھ اس کا باپ جبلہ لیٹا تھا۔اس کے منھ میں بدمزگی پھیل گئی تھی،باپ کی موجودی میں وہ عریسہ سے نہیں مل سکتی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچتی جبلہ کی کرخت آواز ابھری۔”مجھے معلوم تھا تم یہاں ضرور آﺅ گی۔“یہ کہتے ہی وہ بستر پر اٹھ بیٹھا تھا۔درخت کے کٹے ہوئے گول تنے پر رکھے چراغ کی لو کو تیز کرکے وہ طنزیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔اسی وقت اس کے پہلو میں لیٹے وجود میں حرکت پیدا ہوئی۔ اپنی سگی ماں جندلہ کو دیکھتے ہوئے قُتیلہ کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔
”ماں جی کدھر ہیں؟“اس نے سرسراتی آواز میں دریافت کیا۔
”شاید عریسہ نے تمھیں یہ نہیں بتایا کہ بنو نسر کا سردار تمھیں عاق کر چکا ہے۔“جبلہ نے طنزیہ انداز میں جتایا۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔”بنو نسر کا سردار اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے۔“
جبلہ غصے سے سرخ ہوتا ہوا بولا۔”تم فوراََ یہاں سے دفع ہو جاﺅ ورنہ تمھاری گردن اتارنے پر مجبور ہو جاﺅں گا۔“
وہ منھ بگاڑ کر بولی۔”شکر ہے یہ نہیں کہا ،بنو احمر کے سردار کے حوالے کر دوں گا۔“
جبلہ دھاڑا۔”بکواس بند کرو۔“
”بنو نسر کے سردار کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حقیقت ہے اورپورے قبایل جانتے ہیںکہ اپنی بیٹی کو کجاوے میں بٹھا کر صلح کی بھیک مانگنے والا کتنا کچھ بہادر ہے۔“وہ قُتیلہ تھی اور باپ پر پوری طرح تپّی ہوئی تھی۔
”قُتیلہ تم حد سے بڑھ رہی ہو۔“جندلہ نے اسے سخت لہجے میں ڈانٹا۔
”ملکہ قُتیلہ کو اس کی ماں جی کے بارے حقیقت بتائی جائے۔اگر کسی کی وجہ سے انھیں خراش بھی آئی ہوئی تو ذمہ دار کی گردن ملکہ قُتیلہ کی تلوار کا مزہ ضرور چکھے گی۔“
”تمھاری یہ جرّات کہ سردار کے خیمے میں کھڑے ہو کر دھمکیاں دو۔“غصیلے لہجے میں کہتے ہوئے جبلہ نے لکڑی کے تخت کے ساتھ کھڑا حربہ(چھوٹا نیزہ)اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔یہ اس کا خصوصی ہتھیاراور داﺅ تھا۔
اس کے ہاتھ کو حرکت کرتا دیکھتے ہی قُتیلہ سنبھل گئی تھی۔وہ باپ سے دس بارہ قدم دور کھڑی تھی اور اتنا مختصر فاصلہ ہونے کے باوجود اپنے سینے کی طرف بڑھتی برچھی کو اس نے ہلکا سا عقبی جانب جھک کرخطا کر دیا تھا۔
”بوڑھے سردار کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے سامنے ملکہ قُتیلہ کھڑی ہے۔“کبھی یہ فقرہ وہ شرارت سے کہا کرتی تھی اور جبلہ اس پر بہت محظوظ ہوا کرتا تھا۔آج قُتیلہ کا لہجہ طنزیہ تھا۔جبلہ بھڑک اٹھا تھا۔تلوار ،میان سے نکال کر وہ دھاڑتے ہوئے قُتیلہ کی جانب بڑھا۔اس کی آواز پر قریبی خیموں کے مکین جاگ گئے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: