Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 4

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 4

–**–**–

وہ سہ پہر کے قریب واپس پہنچے تھے۔ قیدیوں کو ایک بڑے خیمے میں گھسیڑ کر ان پر پہرے دار مقرر کیے۔ اور لوٹا ہوا مال و اسباب سنبھالنے لگے۔ تمام اسباب ایک جگہ ڈھیر کر کے قافلے والوں کے جانور بھی وہیں باندھ دیے تھے۔ ان کا سردار جبلہ آرام کیے بغیر لوٹا ہوا مال اور جانور قبیلے والوں میں تقسیم کرنے لگا۔
رات کو پانچوں قیدی عورتیں اس کے سامنے پیش کی گئیں۔ اپنی پسند کی عورت کو علاحدہ کرکے اس نے باقی عورتیں قبیلے کے معززین کے حوالے کر دی تھیں۔ تھکے ہونے کی وجہ سے رات کو تمام جلد ہی سو گئے تھے۔ صرف قیدیوں کے خیمے پر پہرہ دینے والے چوکنے انداز میں خیمے کے دائیں بائیں گھومتے رہے۔
سورج کافی اوپر آگیا تھا جب زخمی قیدیوں کا بلاوا آگیا۔ دو محافظوں کی نگرانی میں انھیں قبیلے سے باہر لے جایاگیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ریت کے ایک بڑے ٹیلے پرقبیلے کے سردار جبلہ بن کنانہ کے سامنے موجود تھے۔ قوی ہیکل جبلہ کے چہرے پر زخم کا ایک گہرا نشان اس کے چہرے کو مزید ہیبت ناک بنا رہا تھا۔ وہاں اس کی بیٹی بھی کھڑی تھی۔ جواں سال قُتَیلہ کا سر باپ کے کندھے کو چھو رہا تھا۔ گندمی رنگت جو کڑی مشقت کی وجہ سے سنولائی ہوئی تھی۔ گھنے سیاہ بالوں کو ماتھے پر آنے سے روکنے کے لیے اس نے سیاہ رنگ کے کپڑے کی پٹی ماتھے پر باندھی ہوئی تھی۔ گہری سیاہ موٹی آنکھیں ،جو دُنبالہ (سرمے کی وہ لکیر جو گوشہ چشم سے بڑھی ہوئی ہو )کرنے کی وجہ سے مزید بڑی نظر آرہی تھیں ۔مگر چہرے پر چھائی بے رحمی اس کی خوب صورتی کو گہنا رہی تھی۔ وحشت و بربریت اسے ورثے میں ملی تھی۔ رحم و ہمدردی اس کے لغت میں انجانے الفاظ تھے۔ وہ جبلہ کی سب سے بڑی بیٹی تھی اور اسی کی نسبت سے جبلہ کی کنیت ابو قتیلہ تھی۔ قُتَیلہ سے چھوٹے دو لڑکے بھی تھے لیکن وہ قُتَیلہ طرح تیز و طرار نہیں تھے اور کم سن بھی تھے۔
زخمی قیدی سر جھکا کر کھڑے ہو گئے۔ وہ وہاں لائے جانے کے مقصد سے لاعلم تھے۔
”یہ والا۔“قُتَیلہ نے نسبتاََ صحت مند جوان کی جانب اشارہ کیا۔ اس کے دائیں کندھے پرگہرا گھاﺅ لگا تھا۔ اسی کی قمیص پھاڑ کرقزاقوں نے مضبوط پٹی باندھ کر خون کے بہاﺅ کو تو روک دیا تھا لیکن مرہم وغیرہ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔
جبلہ نے پوچھا۔ ”کیا نام ہے جوان ؟“
جبلہ کی بھاری پر رعب آواز سے وہ لرز کر رہ گیا تھا۔ ”بب ….بوی ،محترم سردار۔“
”جاﺅ تم آزاد ہو۔“جبلہ نے اسے جانے کا اشارہ کیا۔
”مم….میں…. سردار۔“خوشی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت سے وہ ہکلا گیا تھا۔
”بھاگو ،یہ نہ ہو میرا ارادہ تبدیل ہو جائے۔“
بوی نے اپنے ساتھیوں کے چہرے پر الوداعی نگاہ ڈالی اور بھاگ پڑا۔ ٹیلے کے اختتام پر کھلا میدان تھا۔ اس کے سو ڈیڑھ سو قدم دور جاتے ہی قُتَیلہ نے کمان میں تیر ڈال کر چلہ کھینچا۔ اس کا دایاں ہاتھ سیدھا اور بایاں بائیں کان کی لو تک پہنچ رہا تھا۔ اس نے بھاگتے ہوئے بوی کی پشت پر نشانہ سادھتے ہوئے تیر کا رخ اوپر کر دیا تھا۔ اب تیرزمین سے قریباََ ساٹھ درجے کا زاویہ بنا رہا تھا۔ اس نے تیر چھوڑا جو بوی کے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا۔ بوی ٹھٹک کر رکا، پیچھے دیکھنے پر اسے قُتیلہ دوبارہ تیر چلانے کے لیے کمان سیدھی کرتی نظر آئی۔ ایک دم اس پر رہائی کا مقصد واضح ہو گیا تھا۔ وہ مڑ کر بھاگ پڑا اس مرتبہ اس کے قدموں میں پہلے سے کئی گنا تیزی آگئی تھی۔
قتیلہ نے نشانہ سادھ کر کمان کو اونچائی کا زاویہ دیا اور دوسرا تیر چھوڑ دیا۔ تین فٹ کے بقدر لمبا تیر ہوا میں سنسنا تا ہوا بوی کی گردن آر پار ہو گیا تھا۔ بوی اوندھے منھ گرا اور اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
جبلہ نے مسکرا کر کہا۔ ”پہلا تیر کیوں ضایع گیا ،اب شہد کے مٹکے میں دونوں بھائی بھی تمھارے ساتھ حصہ دار ہوں گے۔“
وہ بے رحمی سے بولی۔ ”جان بوجھ کر ضایع کیا تاکہ بھاگنے والے کو معلوم ہو جائے کہ وہ مرنے والا ہے۔ اس طرح اذیت بھی زیادہ ہوتی ہے اور گلہ بھی نہیں بنتا کہ اسے خبردار نہیں کیا گیا۔“
”تو انھیں پہلے تیر سے نشانہ بناﺅگی۔“جبلہ نے زخمی قیدیوں کی جانب اشارہ کیا جو اپنے ساتھی کا انجام دیکھ کر کانپنا شروع ہو گئے تھے۔ اب ان کی سمجھ میں اس بے رحم لڑکی کا فقرہ آرہا تھا جب اس نے باپ کو منع کرتے ہوئے کہا تھا۔
”انھیں ساتھ لے جائیں گے۔ صحت مند غلاموں کو ضایع کرنا کہاں عقل مندی ہے۔“ گویا زخمی قیدیوں کو نشانہ بازی کے ہدف کے لیے ساتھ لایا گیا تھا۔
”سردار ،نسر کے واسطے رحم کریں۔“دونوں گھٹنوں کے بل گر کر گڑگڑانے لگے۔ سردار کے خیمے کے سامنے گڑی دھات کی بڑی سی گدھ دیکھ کر انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ کس بت کی پوجا کرتے تھے۔
(عرب میں سیکڑوں ہزاروں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ عرب میں بت پرستی کا بانی مرو بن الحیی ہے۔ وہ سورج چاند اور ستاروں کو بھی پوجتے تھے۔ درختوں ،جنوں وغیرہ کو بھی معبود سمجھ کر ان کے آگے سر جھکایا جاتا۔ کچھ ایسے بھی تھے جو موحّد تھے لیکن ان کے پاس کوئی شریعت موجود نہیں تھی جو انھیں رستا دکھاتی۔ عرب کے مشہور بت درج ذیل ہیں۔
لات ،عزیٰ، مناة(یہ تینوں دیویاں تھیں۔ اور رب میں سب سے زیادہ انھی تینوں کی پوجا ہوتی تھی )
ودّ(دراز قدمرد تہبند باندھے گلے میں تلوارلٹکی ہوئی سامنے نیزہ اس میں جھنڈا بندھا ہوا )
سواع (یہ عورت کی شکل کا بت تھا)
یعوق(گھوڑے کی شکل کا بت تھا)
یغوث(شیر کی شکل کا بت تھا)
نسر(گدھ کی شکل کا بت تھا)
ہُبل(سر خ عقیق سے بنا بت جو کعبہ میں رکھا گیا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔ قریش نے سونے کا ہاتھ بنا کر اس کے ساتھ لگا دیا تھا۔ فال کے پانسے اسی کے سامنے ڈالے جاتے تھے )
اساف (مرد) نائلہ (عورت) یہ دونوں خانہ کعبہ میں بدکاری کرتے ہوئے پتھر بن گئے تھے۔ عمرو بن الحی نے ان کی پوجا شروع کرا دی۔ ان میں ایک صفا پر رکھا گیا تھا دوسرا مروہ پر )
الجلسد،یہ سفید پتھر کا بنا ہوا ایک انسان کا مجسمہ تھا۔
ذوالشریٰ اور حریس ،دیوتاﺅں کا جوڑا تھا۔
ان کے علاوہ ذوالخلصہ،ذوالکفین وغیرہ بہت مشہور ہیں )
”سردار کی صبح سلامتی والی ہو۔“ غبشان بن عبشہ جاہلیت کا سلام کہتے ہوئے ان کے قریب پہنچا اس کے ہمراہ رغال بن سامہ بھی تھا۔
جبلہ نے مسکرا کر کہا۔ ”ابن عبشہ ،آج تمھاری سردار زادی نے تیر ضایع کر دیا ہے۔ اور اب بہانے بنا رہی ہے۔“
قتیلہ فوراََ بولی۔ ” قتیلہ غلط بیانی نہیں کرتی۔“
رغال بولا۔ ”سردار آپ کی بات اس وقت تک نہیں مان سکتا جب تک گوہ گھاٹ پر پانی پینے نہیں آتی۔“(گوہ کے بارے مشہور ہے کہ وہ بالکل پانی نہیں پیتی اور منہ کھول کر ہوا میں موجود نمی ہی سے سیراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے عرب جب کسی بات کو ناممکن سمجھتے تو یہ کہاوت دہراتے تھے )
”یہ گز اور یہ میدان۔“جبلہ نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”موٹے والے کو برچھی کی حد میں کھڑا کردو۔“
غبشان نے سرہلاتے ہوئے موٹے قیدی کو بازو سے پکڑ ساٹھ ستر قدم دو رجا کر کھڑا کر دیا۔ یعنی جہاں تک ہاتھ سے برچھی پھینک کر ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا۔
قیدی کی قمیص اتار کر اس نے گول لپیٹی اورشَپّا (تیر اندازوں کا ہدف)بنا کر اس کے سر پر رکھ دی۔ قیدی کا رنگ خوف سے پیلا پڑ گیا تھا ،مگر وہ بے پروائی سے اپنے شغل میں لگے رہے۔ یہ ان کا روزمرہ تھا۔ کسی قیدی کی جان ان کی تفریح سے بڑھ کر نہیں تھی۔
”پہلی باری قُتیلہ کی۔“جبلہ کی بات مکمل ہوتے ہی قُتیلہ نے فوراََ چلہ کھینچتے ہوئے تیر چھوڑ دیا۔ تیر سنسناتا ہوا قیدی کے سر پر رکھے شَپّامیں پیوست ہو گیا تھا۔
غبشان قیدی سے چند قدم ہٹ کر کھڑا تھا۔ اس نے تیر نکال کر شَپّا دوبارہ قیدی کے سر پر رکھ دیا۔
اس کے پیچھے ہٹتے ہی جبلہ کے دائیں ہاتھ نے برچھی اُگلی۔ جو قیدی کے سر پر رکھے شَپّا کو ساتھ لیے ریت میں گڑ گئی تھی۔
”لگتا ہے قیدی کی قسمت اچھی ہے۔“قتیلہ نے باپ کی نشانہ بازی پر پھبتی کسی۔
جبلہ ترکی بہ ترکی بولا۔ ”اسی لیے تمھارے تیر سے بچ گیا۔“
رغال اور غبشان قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے۔ قُتیلہ منھ بنا کر خاموش رہی۔
جبلہ قیدیوں کو مخاطب ہوا۔ ” تم دونوں میں اپنے ساتھی کی لاش تک پہلے پہنچنے والااپنے سانسوں کو طوالت دے سکتا ہے۔“
ہدف بننے والا موٹا اپنے ساتھی کی لاش کے قریب تھا ،وہ فوراََ دوڑ پڑا۔ دوسرے نے ایک بار ملتجی نگاہیں جبلہ کے بے رحم چہرے کی طرف اٹھائیں اور پھر منت و زاری کے ناکام انجام کو مدنظر رکھ کر وہ بھی دوڑ پڑا تھا۔ قتیلہ کمان میں تیر ڈال کر تیار ہو گئی تھی۔
ایک قیدی کے پیٹ میں گھاﺅ تھا جبکہ دوسرے کے دونوں بازووں پر زخم تھے۔ ٹانگیں البتہ دونوں کی ٹھیک تھیں۔ زخموں میں اٹھنے والی ٹیسوں کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ زندگی بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ اور جیت اسی کی ہوئی جسے پچاس ساٹھ قدم کی سبقت ملی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھی کی لاش کے پاس پہنچتے ہی قتیلہ کی کمان نے تیر اگل دیا تھا۔ پیچھے رہ جانے والا اپنے ساتھ کی لاش سے چند قدم پہلے گرا تھا۔
رغال بولا۔ ”بچ جانے والا اپنے قبیلے کو یہاں تک لا سکتا ہے۔“
قتیلہ اطمینان سے بولی۔ ”بابا نے اسے چند گھڑیوں کی مہلت دے دی ہے۔ وعدہ خلافی نہیں ہو گی۔ باقی میں بھی چچا غبشان کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ قبیلے میں وہ اکیلے کھوجی نہیں ہیں۔“
(عرب قیافہ شنای میں بھی ماہر تھے۔ قیافہ کی دو اقسام ہیں ،قیافتہ الاثر اور قیافتہ البشر۔ قیافتہ الاثر کا مطلب ہے انسانی نقش قدم یا گھوڑے اور اونٹ وغیرہ کے پیروں کے نشان کی مدد سے کسی کو کھوج نکالنا۔ اس کام میں عربوں کو کمال حاصل تھا۔ وہ بھاگے ہوئے آدمی اور گمشدہ جانوروں کا کھوج آسانی سے لگا لیتے تھے۔ بلکہ اس کام میں وہ اتنے ماہر تھے کہ نشان قدم سے مردو عورت ،بوڑھے وجوان ،شادی شدہ و کنوارے اورحاملہ عورت تک کی شناخت کر لیتے تھے۔ قیافتہ البشر کا مطلب انسان کے چہرے اور اعضاءکو دیکھ کر اس کے باطنی خصائص و خصائل اور عادات و حالات کے بارے جاننا۔ اس کام میں بھی انھیں کافی مہارت حاصل تھی )
جبلہ نے سر ہلا کر پسندیدگی کا اظہار کیا اور وہ قبیلے کی طرف بڑھ گئے۔
٭٭٭
سکندر نے گیلی لکڑی کا ٹکڑا ہوا میں اچھالا۔ نیچے گرنے سے پہلے یشکر کا چلایا ہوا تیر لکڑی میں پیوست ہو گیا تھا۔ تیر چونکہ نیچے سے چلایا گیا تھا اس لیے لکڑی کا ٹکڑا مزید اوپر کو اٹھا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ زمین کو چھو پاتا ،یشکر کا چھوڑا ہوا دوسرا تیر بھی اس میں گڑ چکا تھا۔
”جانتے ہو لڑائی میں سب سے اہم ہتھیارکون سا ہے ؟“یشکر کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے سکندر خود بھی بیٹھ گیا تھا۔
یشکرفوراََ بولا۔ ”اگر دشمن فاصلے پر ہو تو تیر کمان اور دوبدو لڑائی میں تلوار۔“
سکندر معنی خیز لہجے میں بولا۔ ”لمبے دستے والا بھالا،تلوار کی رسائی سے پہلے دشمن کا کام تمام کر سکتا ہے۔“
یشکر ترکی بہ ترکی بولا۔ ”لکڑی کے دستے کو تیز دھار تلوار سے دو ٹکڑے کرنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔“
”تلوار اور ترکش میں سے کسی ایک انتخاب کرنا پڑے تو کسے ترجیح دو گے ؟“
یشکر نے بے جھجک کہا۔ ”تلوار۔“
سکندر نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔ ”کیوں ؟“
”کیوں کہ میدان جنگ میں دشمن سے فاصلہ لمحاتی ہوتا ہے۔ ٹکراﺅ کا نقطہ عروج باہم اتصال میں پوشیدہ ہے۔“
”اگر ہتھیار پاس نہ ہوتو کیا کروگے ؟“سکندر کے سوالا ت جاری رہے۔ وہ گاہے گاہے یشکر کا امتحان لیا کرتا تھا۔ بادشاہ کے خصوصی محافظ کی ذمہ داری اتنی اہمیت کی حامل تھی کہ وہ اس کی تربیت کا کوئی پہلو تشنہ نہیں رہنے دینا چاہتا تھا۔
”اس کا انحصار دشمن کی قوت و طاقت پر ہے۔ اگر اسے خالی ہاتھ شکست دینا ممکن ہو توبھاگنا بے وقوفی ہو گی۔“
” دشمن تمھاری ٹکر کا ہو اور مسلح بھی ہو تب کیا ؟“
”پس قدمی نہ کرنا حماقت ہو گی۔“
سکندر نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ”اور بھاگنا بزدلی۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔ ”پسپائی کا مقصد مرنے کے خوف کے بجائے مہلت کا حصول ہو تو یہ بزدلی نہیں حکمت عملی کہلائے گا۔“
”تمھاری ذمہ داری بادشاہ کی حفاظت کرنا ہے۔ تمھارے پاس مہلت کے حصول کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔“
یشکر شاکی ہوا۔ ”آپ کے سوال میں بادشاہ سلامت کی حفاظت کا ذکر نہیں تھا۔“
”بھول گئے ،تمھاری تربیت کا مقصد صرف شاہی محافظ بننا ہے۔“سکندر نے یاد دہانی کرائی۔
”اگر سوال بادشاہ سلامت کی حفاظت کا ہے تو دشمن کی طاقت اوراپنے پاس اسلحے کی غیر موجودی کو زیر بحث لانا وقت کا زیاں ہے۔“
سکندر نے کہا۔ ”سکھلائی کے ضمن میں زیر بحث لائے جانے والا ہر سوال وقت کو کارآمد بناتا ہے۔“
”جب کسی کی حفاظت کا ذمہ لے لیا جائے تو اپنی جان بچاناثانوی رہ جاتا ہے۔“
”خنجر کو کتنے فاصلے پرتیر پر ترجیح دو گے ۔“
یشکر اطمینان سے بولا ۔”پشت پر بندھی کمان کے ہاتھ میں آنے اور چلّے میں تیر کے جوڑنے تک اگر دشمن ہمارے درمیان موجود فاصلے کو طے کرسکتا ہے تو خنجر کا پھینکنا تیر سے مفید رہے گا ۔“
”شاباش۔“اسے سراہتے ہوئے سکندر گھوڑے کی طرف دوڑا۔ ”اب دیکھتا ہوں ،صرف باتیں بنانا جانتے ہو یا کچھ سیکھا بھی ہے۔“
یشکر جانے کب سے موقع کی تلاش میں تھا کہ سکندر اور وہ اکٹھے روانہ ہوں اور آج اسے موقع مل گیا تھا۔ سکندر کے گھوڑے پر سوار ہونے تک وہ رکاب میں پاﺅں ڈال چکا تھا۔ دونوں نے اکٹھے ہی ایڑ لگائی تھی۔ گھوڑے کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح تربیتی میدان کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گئے تھے۔ یشکر کے گھوڑے کی گردن سکندر کے گھوڑے کی دم کے متوازی تھی۔ دروازے تک یہی صورت حال برقرار رہی دروازے سے نکلتے ہی دونوں گھوڑے متوازی ہو گئے تھے۔ یشکر بالکل ہی گھوڑے کی گردن سے چمٹا ہوا تھا۔ یشکر کے گھوڑے کے لیے یہ اضافی سہولت تھی کہ سکندر کی نسبت اس کا بدن ہلکا پھلکا تھا۔ تربیتی میدان سے گھر تک قریباََ ایک میل کا فاصلہ تھا۔ دونوں گھوڑے متوازی دوڑتے ہوئے جا رہے تھے۔ وہ گھر سے آدھا فرلانگ دور تھے جب یشکر گھوڑے کی ایال (گردن کے بال)پکڑ کر زین کے اوپر اکڑوں بیٹھ گیا اور پھر ایک دم زین کے اوپر مضبوطی سے ہاتھ جماتے ہوئے اس نے دونوں ٹانگوں سے سکندر کے گھوڑے کے منہ کو نشانہ بنایا۔ منہ پر لگنے والے پاﺅں سے سکندر کا گھوڑا ایک لمحے کے لیے ٹھٹکا۔ یشکر دوبارہ زین پر بیٹھ گیا تھا۔ اب اس کا گھوڑا آگے تھا اور حویلی کے دروازے تک اس کا گھوڑا آگے ہی رہا تھا۔
”یہ دھوکا ہے۔“گھوڑا روکتے ہی سکندر نے واویلا کیا۔
یشکر نے قہقہہ لگایا۔ ”مقابلہ جیتنے کے لیے بروے کار لانے والا طریقہ دھوکا نہیں مہارت کہلاتا ہے۔“
سکندر نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ”مقابلے کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔“
”اور ان کا تعین مقابلے سے پہلے کر لینا چاہیے۔ ورنہ جیتنے کے لیے ہر طریقہ جائز مانا جائے گا۔“یشکر کا سب سے بڑا استاد سکندر ہی تھا اور اس سے بحث کرتے وقت سکندر کو محسوس ہوتا تھا کہ وہ صرف اس کی باتوں کو یاد نہیں رکھتا تھا بلکہ ان باتوں کے پس پردہ مطلب کو بھی فراموش نہیں کرتا تھا۔
”گھڑ دوڑ کے اصول پہلے سے متعین ہیں اور ان میں ایسی گنجایش موجود نہیں ہے۔“سکندر کا تکرار جاری رہا۔
یشکر نے قہقہہ لگایا۔ ”کچھ لوگ بوڑھا و کمزور ہونے کا رونا رو کر مقابل سے چند ساعت پہلے ہی گھوڑا بھگا لیتے ہیں ،کیا وہ بھی گھڑ دوڑ کے ضوابط کا حصہ ہے۔“
سکندر کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ”یار آج تو اکٹھے بھاگے تھے۔“
یشکر نے کہا۔ ”اور ہار گئے۔“
”کیوں کہ تم نے دھوکے سے کام لیا۔“
یشکر بے نیازی سے بولا۔ ”اس کی وضاحت کر چکا ہوں۔“دونوں گھر میں داخل ہوچکے تھے۔ اقلیمہ نے یشکر کے چہرے پر چھائی خوشی دیکھ کر کہا۔
”لگتا ہے آج فریقین نے اکٹھے گھوڑے دوڑائے ہیں۔“
یشکر چہکا۔ ”ہاں اور نتیجے کے بارے پہرہ دار سے پوچھنے کے بجائے پدر محترم کا چہرہ دیکھ لینا کافی ہو گا۔“
سکندر نے احتجاج کیا۔ ”اس نے دھوکا دیا ہے۔“
اقلیمہ نے یشکر کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔ ”ہارنے والے کو دل کی تسلی کے لیے کئی تاویلات گھڑنا پڑتی ہیں۔“
”ہاتھ منہ دھولوں ،تمھیں تو شاید جیت کی خوشی میں کھانا پینا بھولا ہو۔“سکندر منہ بناتے ہوئے غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔ دل ہی دل میں وہ خوشی اور فخر محسوس کر رہا تھا۔ یشکر اس کی توقعات پر پورا اترا تھا۔ اس عمر میں اگر وہ سکندر جیسے شہ زور کا مقابلہ کر رہا تھا تو مکمل جوان ہونے کے بعد کسی کو خاطر میں نہ لاتا۔
اس کے علاوہ بادشاہ کے دو محافظ اور بھی تھے۔ اسفند اور فرطوس۔ اسفندکے تین اور فرطوس کے چار بیٹے تھے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی یشکر کی ٹکر کا نہیں تھا۔ اسفند کا بڑا بیٹا فاران اب باپ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے اس کے ساتھ رہتے ہوئے کام سیکھ رہا تھا۔ سکندر کا بھی ارادہ تھا کہ سال بھر کے اندر یشکر کو اپنے ساتھ لے جائے گا۔
کھانا کھانے کے بعد یشکر کہنے لگا۔ ”ہارنے والا کب جیتنے والے سے اس کی خواہش پوچھے گا۔“
سکندر مسکرایا۔ ”لازماََ تم سہ پہر کو مشق کی چھٹی کی بات کرو گے۔“
یشکر نے منھ بناتے ہوئے کہا۔ ” اتنا احمق کب سے ہو گیاہوں۔ میں نے تواصطخر یا اصفہان دیکھنا ہے۔“
سکندر نے نفی میں سر ہلایا۔ ”میرے پاس کوئی اورانعام موجود ہے۔“اور اسے وہیں بیٹھنے کا اشارہ کر کے اپنے شبستان کی طرف بڑھ گیا۔ واپسی پر اس کے ہاتھ میں دودھاری تلوار تھی۔ جو شیشے کی طرح چمک رہی تھی۔ یشکر اس اعلیٰ تلوار کو جانتا تھا۔ سکندر اسے صاعقہ کہا کرتاتھا۔
”آج تمھیں صاعقہ کی کہانی سناتا ہوں۔“سکندر تلوار کو گود میں رکھ کر مقدس آگ کے سامنے بیٹھ گیا۔ ” یہ مجھے پدر محترم سے وارثت میں ملی تھی۔ کیوں کہ میں اپنے دونوں بھائیوں سے تلوار چلانے کا زیادہ ماہر تھا۔ پدر محترم ارسلان کو صاعقہ میرے داداجان ارجمند سے حاصل ہوئی کہ وہ اپنے بڑے بھائی سے کئی گنا زیادہ ماہر تیغ زن تھے۔ دادا جان اپنے باپ فیزان کے اکلوتے فرزند تھے اس لیے انھیں یہ بغیر مقابلہ ہاتھ آ گئی تھی۔ اور ہمارے پردادا فیزان کے دادا کو یہ بادشاہ سلامت اردشیربن بابک بن ساسان سے وفاداری اور خدمت کے عوض میں ملی تھی۔ بادشاہ اردشیر کے دادا ساسان طاقتور اور بہترین جنگجو تھے انھوں نے اس تلوار سے اسی شہ زوروں کو شکست دی تھی اور تبھی اس تلوار کو پہلی بار صاعقہ کا نام ملا تھا۔ اس کا بیٹا بابک اشکانی حکمران کی طرف سے فارس صوبے کا حاکم تھا۔
بابک کا بیٹا ارد شیر سات برس کا تھا کہ اس کے دادا ساسان نے اسے اصطخر کے بادشاہ کے پاس بھیجا۔ اصطخر کے بادشاہ نے ارد شیر کو صوبہ داراب جرد کے عامل کے پاس بھیج دیا اور جب داراب جرد کا عامل وفات پا گیا تو بادشاہ نے اردشیر کو داراب جرد کی گورنری سونپ دی۔ اس وقت تک ارد شیر جوان ہو چکا تھا۔ اردشیر نے گورنر بنتے ہی داراب جرد سے ملحقہ ریاستوں پر حملے شروع کر دیے اور کئی علاقے فتح کر لیے۔ وہ الموک اطوائف کا زمانہ تھا۔ فارس چھوٹی چھوٹی درجنوں ریاستوں میں بٹا تھا۔ اصطخر پر اس وقت اروان نامی اشکانی بادشاہ حکومت کر رہا تھا۔ مزید فتوحات اور لڑائی جاری رکھنے کے لیے اردشیر نے اروان سے مدد مانگی۔ اروان نے اسے نہایت سخت جواب دیا۔ اور برا بھلا کہا۔ جس کے نتیجے میں اردشیر نے اصطخر پر چڑھائی کر دی اور اسے بزورِ شمشیر فتح کر لیا۔ اور پھر اردشیر کی فتوحات کا سلسلہ نہ رکا۔ اسے اپنے دادا ساسان کی جانب سے وصیت کی گئی تھی کہ وہ کسی اشکانی مرد و عورت کو زندہ نہ چھوڑے۔ اور اس نے اس وصیت پر عمل کیا لیکن بادشاہ اروان کے محل میں موجودایک خوبصورت دوشیزہ نے موت کے خوف سے اپنا نسب چھپا لیا۔ اردشیر کو بھی وہ بہت پسند آئی اور اس نے اس اشکانی لڑکی سے شادی کر لی۔ یہاں تک کہ لڑکی کو حمل ہوگیا۔ اور اس نے اپنا مستقبل محفوظ جانتے ہوئے اردشیر کو اپنے اشکانی ہونے کی حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ اردشیر کو اس کا یہ فعل نہات ناگوار گزارا اور اس نے ایک شیخ ہرجزہ ابرسام کو یہ ذمہ داری سونپی کہ اس لڑکی کو جنگل میں لے جا کر قتل کر دے۔ جانتے ہو جناب ہرجزہ ابرسام کون تھے۔“سکندر اچانک ہی مستفسر ہوا۔ یشکر نے نفی میں سر ہلادیا تھا۔
”ہرجزہ ابرسام میرے پردادا جان کے دادا محترم تھے۔ اور جس وقت بادشاہ سلامت اردشیر نے انھیں یہ حکم دیا اس وقت وہ خاصے عمر رسیدہ تھے۔ پردادا جان فیزان کے والد دارشک ان کی اکیلی اولاد تھے۔ اور اس وقت دارشک کی عمر دس بارہ سال تھی۔ خیرمحترم ہرجزہ ابرسام اس لڑکی کو لے کر جنگل میں پہنچے ،لیکن ایک مظلوم اور بے گناہ کے قتل پر ان کا دل آمادہ نہ ہوا۔ انھوں نے لڑکی کو قتل کرنے کے بجائے ایک غار میں چھپا دیا اور اپنی شرم گاہ کاٹ کر ایک ڈبیا میں بند کی،ساتھ ایک خط لکھ کر اندر رکھا اور اس پر مہر لگا کر بادشاہ سلامت ارد شیر کے پاس لے گئے اور درخواست کی کہ اس ڈبیا پر بادشاہ سلامت اپنی مہر لگا کر خزانے میں رکھنے کی اجازت دے دیں۔ اردشیر نے اس کی درخواست کو قبول کیا اوراپنی مہر لگا کر وہ ڈبیا وزیر خزانہ کے حوالے کر دی اور اپنی بیوی کے قتل کے بارے دریافت کرنے لگا۔ جواباََ محترم ہرجزہ ابرسام نے انھیں اطمینان دلا دیا کہ بادشاہ سلامت کے حکم کی تعمیل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد وہ لڑکی انھی کے پاس رہی یہاں تک کہ اس کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محترم ہرجزہ نے شاہ پور(جو عربوں میں سابورکہلایا) یعنی بادشاہ کا بیٹا رکھا۔ اور یہ پہلا لڑکا ہے جس کا یہ نام رکھا گیا۔ وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ شا ہ پور نے بچپن گزار کر لڑکپن کی حدود میں قدم رکھ دیا۔ بادشاہ ارد شیر کی اس کے بعد کوئی اولاد نہ ہوئی۔ ایک دن وہ سخت غمگین بیٹھا تھا۔ محترم ہرجزہ جو ان کے خاص مصاحب تھے پریشانی کی وجہ دریافت کی تو بادشاہ سلامت اردشیر نے دکھی لہجے میں کہا کہ اتنی بڑی سلطنت کا کوئی وارث نہیں ہے۔
محترم ہرجزہ ابرسام نے کہا۔ ”بادشاہ سلامت یاد ہے کافی عرصہ پہلے میں نے خزانے میں ایک ڈبیا رکھوائی تھی۔ اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو کسی خادم کو حکم دیں کہ وہ ڈبیا لے آئے اس میں آپ کے غم کی دوا پوشیدہ ہے۔“
بادشاہ کو حیرانی تو ہوئی مگر اس نے خادم کو بھیج کر وزیر خزانہ سے وہ ڈبیا منگوا لی۔ اس ڈبیا پر سے اپنی مہر ہٹا کر بادشاہ نے اندر جھانکا تو ہرجزہ کے بوسیدہ اعضائے مستورہ کے ساتھ ایک خط بھی ملا۔ خط میں ہرجزہ نے ساری تفصیل لکھ دی تھی۔ رقم تھا ….جب ہمیں علم ہوا کہ لڑکی کے بطن میں بادشاہ کا پاکیزہ بیچ پرورش پا رہا ہے تو ہمیں اس کا قتل مناسب معلوم نہ ہوا پس ہم نے اسے حفاظت سے اپنے پاس رکھ لیا اور کسی طعنہ زن کی ہرزہ سرائی سے بچنے کے لیے اپنی نجات کا یہ سامان کیا کہ اپنے اعضائے مستورہ کو بھی کاٹ کر ڈبیا میں بند کر دیا۔ اور پھر بادشاہ کے بیچ کی حفاظت کی یہاں تک کہ وہ بارآور ہو گیا۔ فلاں دن فلاں وقت۔
بادشاہ سلامت خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔ تبھی انھوں نے محترم ہرجزہ کو مال و دولت اور جائیداد کے ساتھ صاعقہ بھی عنایت کی جو انھیں بہت زیادہ عزیز تھی۔ تب سے یہ تلوار ہمارے خاندان میں سب سے بہادر اور ماہر جنگ جو کو ورثے میں ملتی ہے۔ اور تب سے ہم ہر بادشاہ کے خصوصی خدمت گار قرار پاتے ہیں۔ اردشیر کے بعد تخت و تاج کا وارث شاہ پور اول ہی ہوا۔ اور ان کے محافظ محترم دارشک تھے۔ جو میرے پردادا کے والد محترم تھے۔“
”شاید صاعقہ پر میرا حق نہیں ہے۔“یشکر اداس ہو گیا تھا۔
”کیا تم مجھے باپ تسلیم نہیں کرتے ؟“
”بات میرے ماننے کی نہیں حقائق کی ہے۔ آپ میرے لیے والد سے بڑھ کر ہیں ،مگر والد نہیں ہیں۔ میں تاحیات آپ کو پدرِ محترم کہتا رہوں گا۔ مادرِ محترم بھی میرے لیے حقیقی ماں سے بڑھ کر ہیں۔ لیکن لوگ ہمیشہ مجھے لے پالک ہی کہیں گے۔ میں ایک باندی کا بیٹا ہوں نہ جانے میرا باپ کون تھا ، میری ماں کا اصل شوہر کوئی قزاق یامیری ماں کا مالک۔“
”اگر ان بدﺅں میں تمھارا باپ ہوتا تو وہ تمھیں کبھی بھی فروخت نہ ہونے دیتا۔ اور تمھاری عادات و اطوار تمھارے خاندانی ہونے کا پتا دیتی ہیں۔ یقینا تم کسی سردار کے بیٹے ہو۔“
سرداروں کے بیٹے بکا نہیں کرتے پدرِ محترم۔“
”یہ لا ینحل گفتگو ہے۔ میں تمھیں اپنا بیٹا سمجھتا ہوں اور اتنا کافی ہے۔ تم میری جگہ بادشاہ سلامت کے محافظ بن کر جاﺅ گے۔ تمھارے نام کے ساتھ ہمیشہ میرا نام لیا جائے گا۔ اور جب تم اپنی اولاد کو بتاﺅ گے کہ ان کا دادا سکندر کتنا بہادر تھا اور ایسا زبردست شہ سوار تھا کہ ان کے والد کو بوڑھے دادا سے مقابلہ جیتنے کے لیے بے ایمانی کا سہارا لینا پڑتا تھا تو فخر سے ان کے سینے چوڑے ہو جائیں گے۔“آخری فقرہ سکندر نے مزاحیہ انداز میں ادا کیا تھا۔
”میرا خیال ہے سینے فخر سے چوڑے ہو نے کے بجائے ان کے سر شرم سے جھک جائیں گے، میرا مطلب اگر میں نے انھیں ایسا کچھ بتایا جو آپ کی خوش فہمی ہے۔“
”تمھیں بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ ان کی پرورش میرے ہاتھوں ہو گی۔“یہ کہتے ہوئے سکندر نے صاعقہ اس کے ہاتھوں میں تھما دی تھی۔
تلوار کی تیز دھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یشکر پوچھنے لگا۔ ”اس کی نیام کدھر ہے۔“
”ایک جنگ کے دوران باقی نہ رہی ….ویسے میں ایک لوہار کو جانتا ہوں جو بے مثال نیام تیار کر دے گا۔“
یشکر نے منھ بنایا۔ ” نیام تیار کرا کے ہی میرے حوالے کرتے یوں ادھورے تحفے کا فائدہ؟“
سکندر نے طعنہ کسا۔ ”لڑائی تلوار سے لڑی جاتی ہے نیام سے نہیں۔“
”بات لڑائی کی نہیں تلوار سنبھالنے کی ہو رہی تھی۔“
”حیرہ دیکھنا ہے ؟“سکندر نے موضوع تبدیل کیا۔
یشکر لجاجت سے بولا۔ ”اصفہان یا اصطخر….“
”وہاں اگر ایسا ماہر لوہار موجود ہوتا جوصاعقہ کے شایان شان نیام بنا لیتا تو یقینا ہم ادھر کا رخ کرتے۔“
”کب جائیں گے ؟“یشکر کے لہجے میں اشتیاق بھرا تھا۔
سکندر نے خوش خبری سنائی۔ ”کل طلوع آفتاب رستے میں ہوگا۔“
٭٭٭
سورج نصف سے زیادہ سفر طے کر چکا تھا اور اب مغرب کی جانب اس کا جھکاﺅ واضح نظر آرہا تھا۔ قُتیلہ اور غبشان بن عبشہ قیدیوں کی لاشوں کے پاس کھڑے زمین کو دیکھ رہے تھے۔ لاشوں کے جسم سے زیادہ تر گوشت گدھ دیوتا نوچ کر کھا گئے تھے اور اس وقت بھی چند گز کے فاصلے پر بیٹھے حریصانہ نظروں سے بچے ہوئے گوشت کو دیکھ رہے تھے۔ غبشان اور قتیلہ نے سر جھکا کر انھیں تعظیم دی اور زمین پر جھک کر بھاگے ہوئے قیدی کے نقش قدم دیکھنے لگے۔
قُتیلہ نے ایک پاﺅں کے گرد انگلی سے دائرہ کھینچا۔ ”غبشان چچا،غربی سمت کا چناﺅ کیا ہے احمق نے آبادی تک پہنچنے تک الرّملة سے ہار جائے گا۔“
(عرب کے جغرافیے پر نگاہ ڈالیں تو اس کے تین اطراف میں پانی ہے۔ یعنی مشرق میں خلیج فارس یا بحرین (عرب اسے الخیلج العربی کہتے تھے )اور خلیج عمان ہے۔ جنوب میں بحرہنداور خلیج عدن ،مغرب میں بحر احمر (بحر قلزم)موجود ہے۔ شمال کی جانب اس کی سرحدین موجودہ عراق ،شام اور اردن وغیرہ سے متصل ہیں۔ لیکن اس جانب بادیة السماوة(نیا نام صحرائے نفود) شرقاََ غرباََ 4سو میل لمبائی میں اور 2سو میل چوڑائی میں پھیلا ہوا ہے۔ جو اسے ہمسایہ مالک سے جدا کر رہا ہے۔ بادیة السماوة کے جنوب میں جبلا طیئی (آج کل جبل شمر)کہلاتا ہے۔ یہ ہلالی شکل میں دو پہاڑ ہیں جن میں ایک کا نام ا¿جا¿ اور دوسرے کا سلمیٰ تھا۔ ا¿جا مرد اور سلمی عورت کا نام ہے جنھیں محبت کے جرم میں ان پہاڑوں پر قتل کیا گیا تھا۔ اس علاقے میں کافی سبزہ وغیرہ پایا جاتا ہے ، آب ہوا معتدل ہے اور یہاں مستقل آبادی ہے۔ اس کے علاوہ مدینہ سے بحرین تک مختلف قبایل بکھرے ہوئے ہیں۔ جنوب کی طرف صحرا الربع الخالی ہے۔ (یعنی وہ چوتھائی حصہ جو خالی پڑا ہے)یہ دنیا کا سب سے بڑا مسلسل ریگستان ہے۔ بڑا ہی خوفناک اور بے آب و گیاہ صحرا ہے۔ اس میں نباتاتی زندگی کے آثار بہت کم ہیں ، ریت کی دلدل بھی اس میں پائی جاتی ہیں۔ صحرا الربع الخالی کو عام بول چال میں ”الرّملہ“ یعنی ریگزار بولتے ہیں )
غبشان نے کہا ””سردار زادی اگر پاﺅں کے نشان پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ بھاگتے وقت اس نے سمت کا تعین نہیں کیا بلکہ عجلت میں جس طرف منھ آیا دوڑ پڑا۔ آگے جا کر اس نے سمت درست کر لی ہو گی۔“
”چلیں دیکھ لیتے ہیں۔ دو تین فرسخ سے زیادہ حرکت نہیں کر سکا ہوگا۔“چھریرے جسم والی قُتیلہ اچھل کر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہو گئی۔ چھوٹے موٹے اسفار میں وہ گھوڑے پر زین کسنے کی زحمت نہیں کرتی تھی۔ غبشان نے البتہ اپنے گھوڑے پر زین باندھی ہوئی تھی۔ دو اڑھائی فرلانگ کے بعد پیروں کے نشان ایک دم شمال کی جانب مڑ گئے تھے۔ غبشان کا اندازہ بالکل صحیح ثابت ہوا تھا۔ نیچے اترے بغیر گھوڑوں کا رخ شمال کی جانب موڑتے ہوئے انھوں نے ایڑ لگا دی۔ غبشان کا گھوڑا قُتیلہ سے دو گز پیچھے تھا۔ انھیں زیادہ دور نہیں جانا پڑا۔ ریت کا ایک بڑا ٹیلہ عبور کرتے ہی انھیں ٹیلے کی جڑ میں بھاگا ہوا قیدی اوندھا پڑا دکھائی دیا۔ یقینا وہ ٹیلے کی بلندی سے لڑھک کر نیچے تک پہنچا تھا۔ پیاس کی شدت ،سورج کی تپش اور زخم سے بہتے خون نے اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی تھیں۔
”اس نے تو میرے اندازے کو غلط ثابت کر دیا۔ ڈیڑھ فرسخ سے زیادہ نہیں جا سکا بے چارہ۔“ اس کے قریب گھوڑا روکتے ہوئے وہ نیچے اتر گئی۔
غبشان اس کی تقلید کرتا ہوا نیچے اترا۔ ”یقینا زخموں نے اس کا حوصلہ چھینا ہے۔“
”حوصلہ یا زندگی۔“وہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔
”حوصلہ ہارنے والے سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔“
باتوں کی آواز پر زخمی نے بہ مشکل سر اٹھایا۔ اس کے ہونٹ ہلے مگر آواز اتنی دھیمی تھی کہ بات ان کے پلے نہ پڑسکی۔
غبشان نے پاﺅں سے دھکیل کر اسے چت لٹا دیا۔ قتیلہ ریت پرگھٹنا ٹیک کر اس کے سر کی جانب بیٹھ گئی تھی۔
”مم….میں مرنا نہیں چاہتا۔“زخمی کی سرگوشی ابھری۔
”ٹھیک ہے نہیں مارتی۔“قتیلہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔ ”یوں بھی اندھیرا چھانے والا ہے اور نسر دیوتا رات کو پیٹ بھرنے نہیں اترے گا۔ البتہ ابوجعدةکی ذمہ داری میں نہیں لے سکتی۔“
(ابو جعدة یعنی بھیڑیا،یوں تو عربی میں بھیڑیے کو ذئب کہتے ہیں۔ لیکن عرب جانوروں کو ان کی کنیت سے پکارتے ہیں جیسے شیر کو ابوفراس یا ابو الحارث۔ لومڑ کو ابو الحصین۔ مرغ کوابولیقظان۔ لگڑ بگڑ کو ام عامر۔ کن کھجورے کو ام اربع واربعین۔ نیولے کو ابن عرس۔ گیدڑ کو ابن آویٰ۔ کتے کو ابن بقیع۔ کوے کو ابن دا¿یہ کہتے ہیں )
”پپ….پانی۔“زخمی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔“
وہ مسکرائی۔ ”ڈھونڈ لینا۔“
”مم….میں مر جاﺅں گا۔“
”اسی لیے تو چھوڑ رہی ہوں ،کہ زندہ یا مردہ ہر صورت تم نے ابوجعدة کو شکم سیر کرنا ہے۔“ اس نے اٹھنے کے لیے پر تولے۔ ”
”پانی نہیں تو مجھے قتل کر دو۔“اذیت بھرنے انداز میں کہتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
وہ بے رحمی سے بولی۔ ”اس طرح غبشان چچا طعنے دے گا کہ قتیلہ نے دشمنوں پر رحم کرنا سیکھ لیا ہے۔“ وہ گھوڑے پر بیٹھ گئی۔ غشان بھی رکاب میں پاﺅں ڈال کر سوار ہو گیا۔
”نسر کے واسطے۔“وہ گڑگڑایا۔
”میرے ٹیلے کی بلندی پر پہنچنے تک اگر تم بیٹھ گئے تو ایک تیر ضایع کر سکتی ہوں۔ ورنہ ابوجعدة کو پیٹ بھرنے سے دلچسپی ہوگی نامعلوم کس جگہ سے کھانا شروع کرے۔“زخمی کو آنے والے اذیت ناک لمحات کی نوید سنا کر اس نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ ٹیلے کی بلندی پر پہنچ کر اس نے گھوڑے کر پیچھے موڑا۔ زخمی خود کو اذیت ناک موت سے بچانے کی تمنا میں لرزتے ہوئے بیٹھ گیا تھا۔ اس کا رخ انھی کی طرف تھا۔
قُتیلہ کے بے رحم ہونٹوں پر تبسم ابھرا۔ کندھے سے لٹکی کمان اتار کر اس نے ترکش سے تیر نکالا۔ ”شکریہ اجنبی کہ تم نے قتیلہ کو پیٹھ پر وار کرنے سے بچا لیا۔“تیر سنسناتا ہوا زخمی کی گردن میں پیوست ہو گیا تھا۔ جھٹکا لگنے سے وہ پیٹھ کے بل گرا۔ شاہ رگ میں پیوست ہونے والے تیر نے اسے زیادہ دیر تڑپنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

Read More:  Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 7

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: