Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 40

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 40

–**–**–

اس کا پہلا وارقُتیلہ نے اچھل کر پیچھے ہٹتے ہوئے خطا کیا ،ساتھ ہی اس نے کندھے سے لٹکی ڈھال اتار کر ہاتھ میں تھام لی تھی۔جبلہ کے اگلے تین وار اس نے ڈھال پر سہارے۔اور پھرتلوار بے نیام کرلی۔مگر اس نے تلوار بھی صرف دفاع ہی کے لیے استعمال کی تھی۔
پے در پے حملے خطا ہوتے دیکھ کر جبلہ کا غصہ سوا ہو گیا تھا۔اس کے ہاتھوں سے سیکھنے والی لڑکی آج اس کے لیے ہوا بنی ہوئی تھی۔غصے میں وہ ہوش کھونے لگا تھا۔اور تبھی تیزی میں درستی بھول گیا تھا۔قُتیلہ کی گردن پر زوردار وار کرنے کے لیے اس نے پوری قوت سے تلوار گھمائی۔وہ تلوار کے سامنے اپنی ڈھال یا تلوار پکڑنے کے بجائے گھٹنوں میں ذرا سا خم ڈالتے ہوئے نیچے جھکی ،جبلہ کی تلوار اس کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھی۔جبلہ نے اتنی زور سے وار کیا تھا کہ وہ گھوم گیا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ مڑ پاتا، قُتیلہ کی ڈھال پوری قوت سے اس کے تلوار والے ہاتھ سے ٹکرائی۔تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر خیمے کے کونے میں جا گری تھی۔اس کے ساتھ ہی قُتیلہ نے تلوار کی نوک اس کے نرخرے پر رکھ دی تھی۔
جبلہ کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا۔اس کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں۔
”رک کیوں گئیں بد نسل لڑکی، اپنا کام پورا کرو۔“دانت پیستے ہوئے اس نے طیش بھرے لہجے میں کہا تھا۔
اسی وقت ہکا بکا بیٹھی جندلہ چیختے ہوئے قُتیلہ کی جانب بڑھی۔
”بے شرم ،بے حیا ،تمھیں باپ پر تلوار تانتے ہوئے غیرت نہیں آئی۔“اس نے قُتیلہ کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی تھی۔قُتیلہ کاملیح چہرہ مسلسل تھپڑپڑنے سے سرخ ہو گیا تھا۔مگر اس نے ماں کا ہاتھ روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
بنو نسر کے چار پانچ جوان تلواریں سونتے ہوئے خیمے میں داخل ہوئے۔تمام نے دوسرے ہاتھ میں مشعل تھامی ہوئی تھی۔قُتیلہ کو دیکھتے ہی ان کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
جندلہ ،قُتیلہ کے گریبان کو پکڑ کر جھٹکے دیتے ہوئے اسے کوس رہی تھی۔قُتیلہ نے کڑی نظروں سے باپ کو گھورتے ہوئے کہا۔”بہتر ہو گا ملکہ قُتیلہ کوماں جی کے بارے حقیقت بتا دی جائے۔“
” بھول گیا ہے تمھیں کس نے جنم دیا ہے اور کون تمھاری ماں ہے۔“جندلہ نے ایک بار پھر اس کے چہرے کو نشانہ بنانے کے لیے ہاتھ اٹھایا ،مگرتھپڑ مارنے کے بجائے مٹھی بھینچ کر پہلو میں گرا لیا تھا۔
وہ بے پروائی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کی ماں عریسہ بنت منظر ہے۔“
” وہ یہاں سے دفع ہو گئی ہے۔جا کر کہیں اور ڈھونڈو سمجھیں۔“جندلہ نے اسے زور سے دروازے کی جانب دھکا دیا۔
”کہاں گئی ہیں۔“عریسہ کی زندگی کے بارے سن کر اس کے دل میں جلتے الاﺅ پر پانی پڑ گیا تھا۔
”اپنی نَشّٹا(بدچلن ،بے حیا)بیٹی کو ڈھونڈ رہی ہے۔ہمیں کیا پتا کہاں گئی ہے۔“جندلہ غصے سے کھول رہی تھی۔
”جس دن ملکہ قُتیلہ کو بوڑھے سردار کی موت کے بارے پتا چلا ،ملکہ قُتیلہ اپنا حق لینے ضرور لوٹے گی۔بنو نسر کے اس وقت کے سردار کے پاس ملکہ قُتیلہ کی اطاعت یا موت کے علاوہ کوئی تیسرا رستا نہیں ہوگا۔“بدتمیزی سے کہتے ہوئے وہ باہر نکل گئی تھی۔
جبلہ کے ہونٹوں سے دکھ بھرے انداز میں عربی ادب کا ایک مشہور شعر نکلا….
”میں ہر روز اسے تیر اندازی کا فن سکھایا کرتا تھا
جب اس کی کلائی زور پکڑ گئی تو اس نے مجھی کو نشانہ بنادیا“
(مالک بن فہم الازدی حیرہ و انبار کے عربوں کا پہلا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ اس کے بیٹے سُلیمہ نے رات کی تاریکی میں غلطی سے اسے تیر کا نشانہ بنا دیا۔جب اسے معلوم ہوا کہ اس کا قاتل اپنا ہی بیٹا ہے تو اس نے چند اشعار کہے جن میں سے یہ شعربہت مشہور ہے۔ عربوں میں خون کے رشتوں کی بے وفائی پر یہ شعر ضرب المثل کی طرح مشہور تھا )
ایک جوان نے پوچھا۔”اگر سردار کا حکم ہو تو اسے روکا جائے۔“
جبلہ نے نفی میں سرہلایا”باپ پر تلوار سونتنے والی تمھیں قتل کرنے سے بھی نہیں چوکے گی۔اور مجھے امید نہیں ہے کہ تم اسے روکنے میں کامیاب ہو پاﺅ گے۔“
٭٭٭
قُتیلہ غصے میں کھولتے ہوئے واپس پہنچی تھی۔امریل اور ملکان سخت مضطرب دکھائی دے رہے تھے۔چند آدمیوں کا مشعلیں تھام کر حرکت کرنااورزور زور سے بولنے کی آوازیں سن کر انھیں کسی گڑبڑ کا احساس ہو گیا تھا۔امریل تو فوراََ ادھر کا رخ کرنا چاہ رہا تھا ،ملکان نے بڑی مشکل سے اسے قابو کیا تھا۔اس کا خیال تھا کہ اگر قُتیلہ پکڑی جا چکی تھی تو بعد میں اسے رہا کرانا زیادہ آسان ثابت ہو سکتا تھا۔ ورنہ اسی وقت وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ وہ خود بھی پھنس سکتے تھے۔کیوں کہ بات چند آدمیوں کی نہیں پورے قبیلے کی تھی۔سب سے بڑھ کر قُتیلہ نے انھیں وہاں آنے سے سختی سے منع کیا تھا۔
قُتیلہ کو واپس آتا دیکھ کر انھیں اطمینان ہوا تھا۔
ان سے بات چیت کیے بغیر وہ گھوڑے پر سوار ہوئی ، ایک نظر تاروں بھرے آسمان پر ڈال کر اس نے سمت کا تعین کیا اور گھوڑا دوڑا دیا۔
امریل اور ملکان خاموشی سے اس کے پیچھے بڑھ گئے تھے۔بنو نسر سے کوس بھر کے فاصلے پر آتے ہوئے اس کی غم و غصے سے لبریز آواز ابھری۔”اگر جبلہ بن کنانہ ،ملکہ قُتیلہ کا باپ نہ ہوتا تو آج بنو نسر کے باسی اپنے سردار کی موت کا سوگ منا رہے ہوتے۔“
ملکا ن کی آواز ابھری۔”ملکہ قُتیلہ نے باپ پر وار نہ کر کے عقل مندی اور حوصلے کا ثبوت دیا ہے۔“
امریل نے پوچھا۔”کیا انھوں نے مالکن کی ماں کو ساتھ آنے سے روک دیا؟“
”اگر ملکہ قُتیلہ کی ماں جی موجود ہوتیں تو انھیں دنیا کی کوئی طاقت ملکہ قُتیلہ کے ساتھ آنے سے نہ روک سکتی۔“
ملکان نے حیرانی کا اظہار کیا۔”پھر وہ کیوں نہیں آئیں؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”جہاں تک ملکہ قُتیلہ کا اندازہ ہے انھیں قبیلے سے بے دخل کیا گیا ہے۔اور ایسا کرنے والا ملکہ قُتیلہ کا باپ ہے۔بہ ہرحال وہ زندہ ہیں۔اور ملکہ قُتیلہ جلد ہی انھیں ڈھونڈ لے گی۔“اس نے غصے پر قابو پالیا تھا۔اور اب اس کا دماغ عریسہ کو ڈھونڈنے کے بارے کوئی منصوبہ سوچ رہا تھا۔
چاند حالت ہلال میں تھااوراول شب میں غروب ہو گیا تھا۔وہ رات کا تیسرا پہر تھا اس لیے ہر جانب گھپ اندھیرا چھایا تھا۔وہ ستاروں کی مدد سے بنو طرید کی سمت کا تعین کیے تیزرفتاری سے گھوڑا دوڑا رہی تھی۔ملکان اور امریل کے گھوڑے اس کے دائیں بائیں تھے۔
٭٭٭
واپس پہنچتے ہی قُتیلہ کو ضحاک کے بھاگ جانے کی بابت معلوم ہوا تھا۔یہ سن کر اسے تھوڑی بہت پریشانی ضرورہوئی، کیوں کہ ضحاک کے بھاگ جانے کی غرض و غایت اسے معلوم نہیں تھی۔حفاظتی تدبیر کے طور پر اس نے رات اور دن کو پہرہ دینے والوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا۔اور سونے والوں کو بھی سختی سے تاکید کی تھی کہ کسی بھی وقت حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ اپنے ہتھیار وغیرہ بستر کے قریب ہی رکھا کریں۔ایک بار تو اس کے جی میں یہ بھی آیا تھاکہ وہ اس جگہ سے بنو طرید کو کہیں اور منتقل کر دے ،مگر پھر بنو طرید کے عمدہ محل و وقوع کو چھوڑ کر جانا اسے مناسب معلوم نہ ہوا۔ضحاک اکیلا بنو طرید کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ البتہ ایک خدشہ اس کے دماغ میں بنو احمر کے بارے ضرور چھپا تھا۔ اگر ضحاک وہاں پہنچ جاتا تو بنو طرید کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔لیکن اس کے ساتھ اسے یہ غلط فہمی بھی تھی کہ ضحاک کو بنو احمر اور قُتیلہ کی دشمنی کے بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ عامر بن اسود نے ایک شب شراب کے نشے میں دھت ہو کر ملکہ قُتیلہ کی ساری کہانی ضحاک کے سامنے بیان کر دی تھی۔گو عامر بن اسود کا مقصد ضحاک کے سامنے قُتیلہ کی بہادری کا اظہار تھا لیکن ضحاک نے اس کہانی سے اپنا مطلب نکالنے کا سوچا تھا۔
چار پانچ دن وہ اسی پریشانی میں رہی۔اور پھر ایک دن وہ منقر بن اسقح اور رشاقہ سے ضحاک کے فرارکے بارے گفتگوکر رہی تھی مگر وہ دونوں اس کے عزائم کی وضاحت نہیں کر پائے تھے۔
رشاقہ بولی۔”میرا خیال ہے وہ ایک عورت کی برتری برداشت نہیں کر سکتاتھا۔“
منقر نے لقمہ دیا۔”میرے سامنے وہ بھی ملکہ قُتیلہ سے شکست کھانے کی ذلت کے متعلق کافی دفعہ بکواس کر چکا تھا۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔”کچھ اندازہ ہے کہاں گیاہوگا؟“
رشاقہ نے خیال ظاہر کیا۔”اس کی منزل بابل یا حیرہ ہوسکتا ہے۔“
منقر نے کہا۔”اسے اصفہان دیکھنے کا شوق تھا۔“
دونوں کے متضاد خیالات سن کر قُتیلہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”تم دونوں بنو عقرب کے باقی افراد سے سن گن لو ہوسکتا ہے کسی کو اس کے ارادے کے بارے معلوم ہو۔خاص کر اس کی بیوی کو کریدو، ملکہ قُتیلہ نہیں چاہتی کہ خطرے کی تلوار بنو طرید کے سر پر ہمیشہ لٹکتی رہے۔“
منقر یا رشاقہ کے کچھ کہنے سے پہلے خیمے سے باہر اجازت مانگنے کی آواز ابھری۔
”آجاﺅ۔“قُتیلہ نے سائل کو اندر بلایا۔
ایک پہرے دار اندر داخل ہوا۔”ملکہ قُتیلہ ،تین جوان لڑکیاں اور ایک مرد یہاں پہنچے ہیں۔ ان کے پاس چار اونٹنیاں اور ضرورت کا سامان موجود ہے۔وہ حضر موت جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اور آج کی شب بنو طرید میں گزارنے کے متمنی ہیں۔“
وہ دلچسپی سے بولی۔”انھیں ملکہ قُتیلہ کے پاس لے آﺅ۔“
پہرے دار سرجھکاتے ہوئے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعد ایک مضبوط جسم کا جوان تین لڑکیوں کے ہمراہ خیمے میں داخل ہوا۔ان میں سے دولڑکیاں قبول صورت جبکہ تیسری اچھی خاصی خوب صورت تھی۔
”ملکہ قُتیلہ کی دوپہر سلامتی والی ہو۔“نوجوان نے مودّبانہ لہجے میں کہا۔یقینا پہرے دار نے قُتیلہ کے نام اور مزاج کے بارے اس کی تھوڑی بہت رہنمائی کر دی تھی۔
قُتیلہ نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔”کہاں سے آئے ہو جوا ن ؟“
”خوب صورت ملکہ ،میرا نام قرص بن خطامہ ہے ہمارا تعلق بنو ناجیہ سے ہے دو چاند (دو ماہ) پہلے بنو عبدالقیس میںاونٹوں کی دوڑ ہوئی جس میں میری عضباءنامی اونٹنی اوّل آئی ،بنو ناجیہ کے سردار کو وہ پسند آگئی اور اس نے عضباءکو خریدنے کی خواہش کی مگرمجھے عضباءسے بہت زیادہ محبت ہے اس لیے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سردار حیلے بہانوں سے مجھے تنگ کرنے لگا۔چند روز پہلے اس کی ایما پر اس کے ایک مصاحب نے رات کے وقت اپنی تلوار میرے صحن میں گاڑ کرمجھ پرچوری کا الزام تھوپ دیا۔یہ تو میری خوش قسمتی تھی کہ آخیر شب کو میری منجھلی بیوی فطری تقاضا پوری کرنے اٹھی اور اس نے چاند کی مدہم روشنی میں ایک سائے کو صحن کے بیچوں بیچ بیٹھے دیکھ لیا۔پہلے اسے لگاوہ میں ہوں۔مگر جب وہ دیوار کی طرف بڑھا اور دیوار پھلانگ کے دوسری جانب کود گیا،تب اسے گڑبڑ کا احساس ہوا۔وہ میرے حجرے میں پہنچی اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔پس ہم نے صحن میں مذکورہ جگہ کھود کر دیکھاتووہاں ایک تلوار زمین میں گڑی پڑی تھی۔میں نے تلوار وہاں سے نکال کر ایک اور جگہ چھپا دی۔میرے اندازے کے مطابق اگلے دن ہی مجھ پر چوری کا الزام تھوپا گیا۔لیکن دیوتاﺅں کے کرم سے وہ ثابت نہ کر سکے۔میں الزام سے تو بری ہو گیا مگر اتنا ضرور جانتا تھا کہ سردار ،عضباءکے حصول کے لیے کسی حد تک بھی گر سکتا ہے۔تبھی میں نے اپنی تینوں بیویوں سے مشورہ کر کے بنو ناجیہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سے پہلے میرے چچا کو بھی حالیہ سردار کے باپ نے قبیلے سے عاق کیا تھا۔وہ بنو ناجیہ چھوڑ کر دور دراز کا سفر کر کے حضر موت میں جا بسا۔اور اب میں انھی کے پاس جارہا ہوں۔“قرص بن خطامہ نے تفصیل سے سارا ماجرا کہہ سنایا۔
قُتیلہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے پوچھا۔”کیا حضر موت جانا ضروری ہے ،تم کسی اور قبیلے میں بھی پناہ لے سکتے ہو۔“
قرص مودّبانہ لہجے میں بولا۔”ایسا ممکن ہے ملکہ ،مگر حضر موت میں میرے سگے چچا کافی عرصے سے رہ رہے ہیں۔امید ہے وہاں مجھے خوش آمدید کہا جائے گا۔یوں بھی ایک اچھے جنگجو کے لیے قبائل اپنا دامن وسیع رکھتے ہیں۔“
”تو تم بہترین لڑاکے ہو۔“دُنبالہ آنکھوں میں دلچسپی کی چمک لہرائی۔
قرص انکساری سے بولا۔”لو گ ایسا ہی کہتے ہیں۔“
”ملکہ قُتیلہ سے مقابلہ کرنا پسند کرو گے۔“اس کے ہونٹوں پر شرارتی ہنسی ابھری۔
قرص نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ”ملکہ کا ادب کیاجاتا ہے اس سے مقابلہ نہیں کیا جاتا۔“
”اگر پسند کرو تو ملکہ قُتیلہ تمھیں بنو طرید میں خوش آمدید کہہ سکتی ہے۔ہمیں اچھے جنگجوﺅں کی ضرورت ہے اور یہاں کسی کو دخیل بھی نہیں سمجھاجاتا۔“
”کیا….؟“قرص کے لہجے میں خوشگوار حیرانی تھی۔”کیا ملکہ قُتیلہ ایک اجنبی کو بغیر کسی مطلب کے بنو طرید میں رہنے کی اجازت دے دے گی۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ بات دہرانا پسند نہیں کرتی۔“
”اگر کوئی مجھ سے عضباءچھیننے کی کوشش نہ کرے تو میں بنو طرید میں رہنا اعزاز سمجھوں گا۔“ قرص نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
وہ اطمینان سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کے ہوتے ہوئے بنو طرید میں نا انصافی کا گزر نہیں ہو سکتا۔“
قرص نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا۔”میں ملکہ قُتیلہ کا ممنون و احسان مند ہوں۔“
قُتیلہ ،منقر بن اسقح کی جانب متوجہ ہوئی۔”قرص بن خطامہ کی خیمہ لگانے میں مددکرو ،آج سے یہ بنو طرید کا معزّز باسی ہے۔“
٭٭٭
اگلے دن قرص نے تربیت میں حصہ لیا تھا۔وہ امریل اور ملکان سے ہار تو گیا تھا لیکن اس نے مقابلہ بھرپور انداز میں کیا تھا۔
اسی دوپہر اور پھر رات کو اس کی بیویاں بھی قُتیلہ کے خیمے میں آئی تھیں۔ تینوں نہایت ہنس مکھ ،باتونی اور خدمت گزار تھیں۔ پہلے ہی دن وہ قُتیلہ کے ساتھ کافی بے تکلف ہو گئی تھیں۔رشاقہ کے ساتھ بھی انھوں نے اچھا تعلق بنا لیا تھا۔قُتیلہ کو محسوس ہوا قرص بن خطامہ اور اس کی بیویاں بنو طرید میں اچھا اضافہ تھا۔
دو تین دن بعد وہ عریسہ کی تلاش میں نکلنے کے بارے منقر،رشاقہ اور ملکان سے مشورہ کر رہی تھی۔
”دو روز بعد چاند کامل ہو جائے گا۔“منقر نے اس کی توجہ چاند کی چودھویں کو منعقد ہونے والے جشن کی طرف مبذول کرائی۔
وہ متبسم ہوئی۔”کیا جشن میں ملکہ قُتیلہ کی شمولیت لازمی ہے۔“
منقر نے کہا۔”قبیلے کی سردارن کی غیر موجودی میں جشن کی خوشیاں ادھوری رہ جاتی ہیں۔“
”ٹھیک ہے ،ملکہ قُتیلہ جشن کے بعد ماں جی تلاش میں نکلے گی ،ملکان اور امریل اس کے ہمراہ جائیں گے۔“
رشاقہ لجاجت سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کی سہیلی بھی ساتھ جانے کی خواہش مند ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کی غیر موجودی میں تمھارا یہاں رہنا زیادہ مناسب ہے۔منقر بن اسقح اور قریب بن فلیح اکیلے معاملات کو نہیں سنبھال سکیں گے۔ملکہ قُتیلہ ،ملکان کو یہاں چھوڑ جاتی ،مگر اس کی سفر میں زیادہ ضرورت ہے۔“
”میں کالے ریچھ سے اچھی شمشیر زن ہوں۔“رشاقہ شاکی ہوئی۔
قُتیلہ نے قہقہ لگایا۔”یہ تو تمھیں بھی معلوم ہے کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔“ملکان اور منقر بھی ہنس دیے تھے۔
رشاقہ کے چہرے پر کھسیانی مسکراہٹ ابھری۔”ملکہ قُتیلہ ،اصل تلواروں سے مقابلہ کرا کر جانچ سکتی ہیں۔“
”امریل نے زندگی میں صرف ملکہ قُتیلہ سے شکست کھائی ہے۔ورنہ ملکہ قُتیلہ کو یقین ہے وہ صحرائے اعظم کا بہترین لڑاکا ہے۔“
رشاقہ نے منھ بسورا۔”ملکہ قُتیلہ نے میری تعریف تو کبھی نہیں کی۔“
قُتیلہ اسے چھیڑتے ہوئے بولی۔”تم خوب صورت ہو،دلیرہو ، مخلص ہو،جذباتی ہواور ایک بزدل شخص کو پسند کرتی ہو۔“
رشاقہ نے بھرپور انداز میں احتجاج کیا۔”میں بالکل بھی اعمیٰ بن مکیث کو پسند نہیں کرتی۔“
”اعمیٰ بن مکیث کا نام تو ملکہ قُتیلہ نے نہیں لیا پھر تمھیں کیسے معلوم ہواملکہ قُتیلہ کا اشارہ اس کی جانب ہے۔“
”وہ ….آپ ….اس کو بزدل سمجھتی ہیں ناں اس لیے کہا ہے۔“رشاقہ گڑبڑا گئی تھی۔
”وہ روزانہ ،دوپہر کو قبیلے کے مضافات میں موجود نخلہ میں جا کر شمشیر زنی کی مشق کرتا ہے۔اور دوپہر ڈھلے لوٹ آتا ہے۔“منقر نے انکشاف کیا۔
”کیا….؟“قُتیلہ کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔”تلوار پکڑنا جانتا نہیں اور شمشیر زنی کی مشق کرتا ہے۔“
”اسے باقاعدگی سے دوپہر کے وقت اس طرف جاتا دیکھ کر میں مشکوک ہوا اور ایک دو دن اس کے تعاقب میں بندے بھیجے۔تب پتا چلا کہ وہ وہاں مشق کر رہا ہے۔“منقر نے اپنی فرض شناسی سے پردہ اٹھایا۔
رشاقہ بولی۔”اسے چاہیے کہ ہمارے ساتھ مشق کیا کرے۔میں اس کی بہترین تربیت کر سکتی ہوں۔“
ملکان نے خیال ظاہر کیا۔”شاید شرما رہا ہے۔“
”نہیں۔“قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”ملکہ قُتیلہ نے اسے حکم دیا تھا کہ اپنا منحوس چہرہ ملکہ قُتیلہ کو نہیں دکھائے گا۔اور اتناتو وہ جانتا ہے کہ ملکہ قُتیلہ کی حکم عدولی پر اسے کیا سزا مل سکتی ہے۔“
رشاقہ ملتجی ہوئی۔”اب وہ شرمندہ ہے اور اس نے تلوار بھی تھام لی ہے تو ملکہ قُتیلہ کو اسے معاف کر دینے کے بارے سوچنا چاہیے۔“
قُتیلہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”جب تمھیں وہ پسند ہی نہیں تو سفارشیں کیسی۔“
”نن….نہیں ملکہ ،میرا مطلب تھاآخر وہ بنو طرید کا باسی ہے۔“رشاقہ گڑبڑا گئی تھی۔
قُتیلہ بے پروائی سے بولی۔”جس روز وہ خود آکر اپنی بد تمیزی کی معافی مانگے گا ،ملکہ قُتیلہ اسے معافی دینے کا سوچے گی۔“
منقر نے رشاقہ کے سر پرشفقت بھری چپت مارتے ہوئے کہا۔”اب یہ نہ ہو تم اسے یہ بات بتانے چلی جاﺅ۔“
”مجھے کیا ضرورت ہے۔“رشاقہ نے نفی میں سرہلایا۔ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوتا ہلکا تبسم دیکھ کر قُتیلہ کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ ضرور اعمیٰ کے پاس جائے گی۔مگر قُتیلہ نے اسے باور کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
٭٭٭
وہ جونھی مشق سے واپس لوٹا ،خلیسہ نے نبیذ سے بھرا کٹورا اس کی جانب بڑھا دیا۔
وہ مزے سے نبیذ پینے لگا۔اچانک کسی نسوانی آوازنے اندر آنے کی اجازت مانگی۔
خلیسہ کے ”آجاﺅ۔“کہنے پر رشاقہ اندرداخل ہوئی۔قُتیلہ کی چہیتی کو دیکھ کر یشکر حیران رہ گیا تھا۔
”آﺅ رشاقہ ،بیٹھو….“خلیسہ نے کھڑے ہو کر اس کا استقبا ل کیا۔خلیسہ سے گلے مل کر رشاقہ چٹائی پر بیٹھ گئی تھی۔
یشکر نبیذ کا کٹورا خالی کر کے کھڑا ہو گیا۔اسے باہر جانے پر آمادہ دیکھ کر رشاقہ جلدی سے بولی۔
”اعمیٰ بن مکیث میں تمھیں ملنے آئی تھی۔“
یشکر کی آنکھوں میں حیرانی نمودار ہوئی۔ایک نظر رشاقہ کے سرخ و سفیدچہرے پر ڈال کر وہ بے اعتنائی سے بولا۔”جی۔“
رشاقہ نے منھ بناتے ہوئے پوچھا۔”کیا بیٹھ کر بات کرنے سے کسی نے منع کیا ہوا ہے۔“
”اپنے خیمے میں بیٹھنے کے لیے مجھے کم از کم تمھاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔“یشکر کے لہجے میں ہلکی سی تلخی موجود تھی۔
”میں لڑائی کرنے نہیں آئی۔“رشاقہ نے اسے نادم کرنا چاہا۔
یشکر بے زاری سے بولا۔”محترمہ مطلب کی بات کرو۔“
بحث ترک کرتے ہوئے وہ مطلب کی بات پر آئی۔”تم روزانہ دوپہر کو شمشیر زنی کی مشق کرنے بنو طرید سے باہر نکل جاتے ہو ،حالانکہ ہم صبح کے وقت باقاعدگی سے مشق کرتے ہیں تم ہمارے ساتھ نتھی کیوں نہیں ہوجاتے۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”کیوں کہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔“
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔”اعمیٰ میں جانتی ہوںتمھیں ملکہ قُتیلہ نے اپنے سامنے آنے سے منع کیا ہوا ہے،لیکن وہ حکم انھوں نے غصے کے زیر اثر دیا تھا۔اگرتم ایک بار ان کے پاس جا کر معذرت کر لو تو وہ بہت وسیع ظرف ہیں۔اور بنو طرید کے جوانوں سے محبت کرتی ہیں،یقینا تمھیں معاف کرنے میں بخل نہیں کریں گی۔“
یشکر نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔”اور یہ غلط فہمی تمھیں کیوں کر ہوئی کہ میں شرمندگی یا قُتیلہ کے کسی حکم کی وجہ سے تم لوگوں کے ساتھ مشق نہیں کرتا؟“
”اکیلی میں نہیں ،سبھی یہ بات جانتے ہیں۔کہ اس دن ملکہ قُتیلہ سے بدتمیزی سے بات کرنے کی وجہ سے تم شرمندہ ہو۔اس لیے آج جا کر ملکہ قُتیلہ سے معذرت کرو اور کل سے ہمارے ساتھ مشق کیا کرنا۔میں تمھیں تربیت دوں گی۔“
یشکر بے ساختہ امڈ پڑنے والی ہنسی نہیں روک سکا تھا۔”جب خود سیکھ جانا ،تب مجھے بھی سکھا دینا۔“
”یقین کرو میں تمھیں بہت اچھے سے سکھاسکتی ہوں۔ تمھاری جسامت ایسی موزوں ہے کہ تم ایک بہترین لڑاکے بن سکتے ہو۔“رشاقہ نے اس کی ہنسی کو نظر انداز کر دیاتھا۔اسی وقت خلیسہ نے مہمان نوازی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نبیذ کا بھرا ہوا آب خورہ رشاقہ کو پکڑا دیا تھا۔اس نے دونوں کی گفتگو میں دخل انداز ہونے کی بالکل کوشش نہیں کی تھی۔
”محترمہ ایک بات بہت اچھے سے جان لو کہ میں نہ تمھاری ملکہ سے ڈرتا ہوں اور نہ اپنے کسی فعل پر شرمندہ ہوں۔“
”وہ تمھاری بھی ملکہ ہے۔“اس کے اندازپر رشاقہ کو غصہ آگیا تھا۔
ایک لحظہ سوچ کر یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔”جب تک میں بنو طرید میں ہوں تمھاری بات سے اختلاف نہیں کرسکتا۔“
یشکر کا اعتراف سن کر رشاقہ دوبارہ نرم پڑ گئی تھی۔”دیکھو اعمی ،وہ بہت اچھی ہیں ،بہت زیادہ سخی ،وسیع ظرف اور اپنے قبیلے سے محبت کرنے والی۔ان کی عمر کو نہ دیکھو،ان پر دیوتاﺅں کا خصوصی کرم ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولا۔”تو میں کیا کروں۔“
”کہا تو ہے معافی مانگ لو،تاکہ تمھیں ہمارے ساتھ مشق کرنے کی اجازت مل جائے۔میں جلداز جلد تمھیں اچھے لڑاکے کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہوں۔“رشاقہ نے ہاتھ میں تھاما خالی آب خورہ واپس خلیسہ کو پکڑوا دیا تھا۔
”اگر تمھاری بات ختم ہو گئی ہو تو تم جا سکتی ہو۔“یشکر خود جانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا تھا۔
رشاقہ کے چہرے کی سرخی بڑھی۔وہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولی۔”تمھیں شاید معلوم نہیں کہ کس کے ساتھ بات کر رہے ہو۔“
یشکر استہزائی لہجے میں بولا۔”تمھیں تعارف کرانے کے لیے اپنا قیمتی وقت ضایع کرنے کی چنداں ضرورت نہیں،کیوں کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں تم کون ہو۔البتہ تم یقینا نہیں جانتیں کہ کس سے مخاطب ہو۔“
وہ بپھر کر بولی۔”میں اچھی طرح جانتی ہوں تم کون ہو۔“
یشکر اکتائے ہوئے لہجے میں بولا۔”اگرجانتی ہو کہ کون ہوں، تو میرا وقت ضائع نہ کرو۔“
خلیسہ نے زور سے گلا کھنکار کرگویا یشکر کو خاموش رہنے کی تاکید کی تھی۔
رشاقہ اٹھتے ہوئے بولی۔”میں نے تمھاری بہتری کا سوچا تھا لیکن تم اس لائق نہیں ہو۔ملکہ قُتیلہ تمھارے بارے ٹھیک کہتی ہیں،ایک بزدل شخص کی سوچ اتنی ہی محدودہوسکتی ہے۔“
اس کی بات کا جواب دیے بغیر یشکر نے تکیے پر سر رکھ کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا لی تھی۔
رشاقہ اسے قہر آلود نظروں سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی۔
رشاقہ کے باہر نکلتے ہی خلیسہ نے اس کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں کہا۔”آپ کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔“
وہ بے پروائی سے بولا۔”دو تین دنوں بعد میں نے یوں بھی چلے جانا ہے۔“
”اپنے فیصلے پر قائم ہو۔“خلیسہ نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے اس کے سینے پر سر رکھ دیا تھا۔
”تم نے نئے چاند کے طلوع کے ساتھ پندرہ دن رکنے کا کہا تھا۔اس لحاظ سے دو دن بقایا ہیں۔“
خلیسہ حسرت سے بولی۔”کتنے جلدی گزر گئے ہیں یہ دن۔“
یشکر نے پوچھا۔”ایک بات مانو گی۔“
وہ جتلانے والے انداز میں بولی۔”ہمیشہ اپنی ہی منواتے آرہے ہو۔“
یشکر نے اس کی طلائی قرط کو پکڑ کر آہستہ سے ہلایا۔”امریل تمھارا بہت زیادہ خیال رکھے گا۔وہ ایسا شخص ہے جو تمھاری اچھی طرح حفاظت کر سکتا ہے،قبیلے کی سردارن کا بھی منظور نظر ہے یقین کرو بہت فائدے میں رہو گی۔“
”صحیح کہہ رہے ہیں۔آپ کے جانے کے بعد مجھے کسی سہارے کی ضرورت تو پڑے گی۔“
”تم بہت سمجھ دار ہو۔“یشکر نے اس کے سنہرے بالوں سے بندھامُباف ( کپڑے کی دھجی جو عورت سر کے بال باندھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں)کھول کر اس کے گھنے بال بکھیر دیے تھے۔
٭٭٭
”آپ ٹھیک کہتی تھیں ملکہ ،وہ ایک بد تہذیب ،بزدل اور احمق شخص ہے۔“اگلے دن قُتیلہ کے گھنے بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے رشاقہ نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔
”کون؟“قُتیلہ جان بوجھ کر انجان بن گئی تھی۔
رشاقہ ندامت سے بولی۔”اعمیٰ بن مکیث کی بات کر رہی ہوں۔“
قُتیلہ نے خیال ظاہر کیا۔”شاید تم اس کے پاس گئی تھیں۔“
”ہاں۔“رشاقہ نے اثبات میں سرہلایا۔
قُتیلہ متبسم ہوئی۔”جبکہ تم نے منقر بن اسقح سے وعدہ کیا تھاکہ اس کے پاس نہیں جاﺅ گی۔“
”غلطی ہو گئی۔“رشاقہ نے اعتراف کرنے میں سستی نہیں کی تھی۔
قُتیلہ نے اشتیاق سے پوچھا۔”کیا باتیں ہوئیں؟“
”میں نے ملکہ قُتیلہ سے معذرت کرنے کا کہا تاکہ اس کے بعد میں اسے تربیت دے سکوں۔ اوروہ بدتمیزی پر اتر آیا۔“
”کیا کہہ رہا تھا۔“قُتیلہ کی دلچسپی یشکر کے الفاظ سننے میں تھی۔
رشاقہ تفصیل سے ساری بات دہرانے لگی۔آخر میں وہ کہہ رہی تھی ….”مجھے لگتا ہے جلد ہی یہ بنو طرید سے چلا جائے گا۔“
قُتیلہ خاموشی سے ساری باتیں سنتی رہی۔اس کے خاموش ہوتے ہی بولی۔”اگر ملکہ قُتیلہ اس کے سر کو جسم کا حصہ نہ رہنے دے۔تمھیں اعتراض تو نہیں ہوگا۔“
رشاقہ جلدی سے بولی۔”وہ اس قابل نہیں ہے کہ ملکہ قُتیلہ کی تلوار اس کے خون سے گندی ہو۔“
قُتیلہ کھل کھلا کر ہنسی۔”بے چاری رشاقہ….“
”آپ میری بات کو غلط رخ دے رہی ہیں۔“رشاقہ جلدی سے وضاحت کرنے لگی۔ ”میرے کہنے کا مطلب تھااس کے لیے آپ کی سہیلی یا کسی ادنا شخص کی تلوار کافی رہے گی۔“
”ٹھیک ہے۔“قُتیلہ نے معنی خیز انداز میں سرہلایا۔”جس دن وہ ملکہ قُتیلہ کے سامنے آیا، تمھیں اس کا سر قلم کرنے کی اجازت ہو گی۔ملکہ دیکھے گی کہ رشاقہ بنت زیاد بن تابوت کی تلوار کی کاٹ کیسی ہے۔“
”شام کو کون سا لباس پہنیں گی۔“رشاقہ نے صفائی سے موضوع تبدیل کیا۔
قُتیلہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو فُرجی( ایسا چغہ جو سامنے سے کھلا ہو)عبائ،جُبے وغیرہ سے کوفت ہوتی ہے۔ بس درع،(قمیص) قباءاور فروّج (چپکنے والا لباس جو پیچھے سے چاک ہوتا تھا اور جنگ یا سفر وغیرہ میں پہنا جاتا تھا)پسند ہیں۔“
رشاقہ چاہت سے بولی۔”مگر سرخ رنگ کی عباءپہن کر ملکہ قُتیلہ کا حسن مزید نکھر آتا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کو سجنے سنورنے کا شوق نہیں ہے رشاقہ۔عورتیں مردوں کو لبھانے کے لیے سجتی سنورتی ہیں ،ملکہ قُتیلہ کس کے لیے سنگھار کرے۔“
اس نے بھول پن سے پوچھا۔”تو کیا ملکہ قُتیلہ کبھی شادی نہیں کرے گی؟“
قُتیلہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”کیا تمھیں کوئی ایسا مرد نظر آتا ہے جسے ملکہ قُتیلہ اپنا آپ سونپ سکے۔“
رشاقہ شرارت سے ہنسی۔”اگر اعمیٰ بن مکیث کالے ریچھ کی طرح ماہر شمشیر زن ہوتا تو میرا جواب اثبات میں ہوتا۔“
قُتیلہ نے پیچھے مڑ کر رشاقہ کے کان سے پکڑ کر پیار سے کھینچا۔”تم بکواس بند کرو اور جاﺅ، ملکہ قُتیلہ تھوڑی دیر سونا چاہتی ہے۔رات کو جشن کے ہنگامے میں دیر تک جاگنا پڑے گا۔“
”آپ نے میرے جواب پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔“رشاقہ شریر انداز میں کہتے ہوئے کھڑی ہوئی۔
اس نے منھ بناتے ہوئے تکیے پر سر ٹیکا۔”اگر اعمیٰ بن مکیث دنیا کا آخری مرد بھی ہوتا تو ملکہ قُتیلہ کو قبول نہیں تھا۔“
رشاقہ ہنستے ہوئے باہر نکل گئی تھی۔
٭٭٭
بنو طرید کے باسیوں نے سرِ شام ہی آگ کے الاﺅ بھڑکا دیے تھے۔بھنے ہوئے سالم اونٹ، بکرے اوردنبے وغیرہ تیار ہو چکے تھے۔گوشت بھننے کی اشتہا آمیز خوشبو ہر طرف پھیلی تھی۔تمام کو قُتیلہ کی آمد کا انتظار تھا۔
قُتیلہ کے بیٹھنے کے لیے دو مردوں نے تخت اس کے خیمے سے نکال کر چبوترے پر رکھا۔ دو تین لمحوں بعد وہ رشاقہ کو ساتھ لیے برآمد ہوئی۔نہ چاہتے ہوئے بھی اسے رشاقہ کی ضدپر سرخ رنگ کا لبادہ اوڑھنا پڑا تھا۔البتہ اس کے نیچے اس نے اپنا روزمرہ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔
چبوترے پر چڑھتے ہی وہ کچھ کہنے کے لیے لب ہلانے ہی لگی تھی کہ اس کی نظر سامنے کھڑے یشکر پر پڑی۔اس کے دماغ میں دوپہر کو رشاقہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو تازہ ہوئی اوراس کے منھ میں کڑواہٹ گھل گئی تھی۔کوشش کے باوجود وہ اپنے غصے پر قابو نہیں پا سکی تھی۔
”اعمیٰ بن مکیث جب تمھیں ملکہ قُتیلہ نے حکم دیا ہوا ہے کہ اپنا منحوس چہرہ نہیں دکھاﺅ گے تو تمھیں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔“
وہ بے نیازی سے بولا۔”آسان حل ہے ،میری طرف دیکھتے ہوئے اگر آپ آنکھیں بند کر لیں گی تو یقینا میں نظر نہیں آﺅں گا۔“
اس کے دماغ میں جیسے دھماکا سا ہوا تھا۔وہ حلق کے بل چلائی۔”احمق انسان شاید تمھیں زندگی پیاری نہیں ہے۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”میری زندگی آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔میں ویسے بھی ایک دو دن کا مہمان ہوں۔آپ اپنا غصہ بنو طرید کے باسیوں کے لیے بچا کر رکھیں۔“
”تمھاری یہ جرّات کہ مالکن سے بدتمیزی کرو….“امریل تلوار بے نیام کر کے غصے میں دھاڑتا ہوااس کی جانب بڑھا۔قُتیلہ نے چیخ کر اسے رکنے کو کہا ،مگر امریل نے ان سنا کر دیا تھا۔اس کی تلوار بجلی کے کوندے کی طرح یشکر کی جانب لپکی ،ہدف یشکر کی گردن تھی۔
وہیں کھڑے کھڑے یشکر کا بالائی بدن عقبی جانب جھکا،امریل کی تلوار دو تین انگل کے فاصلے سے اس کے چہرے کے سامنے سے گزر گئی تھی۔اس کے ساتھ ہی یشکر کی داہنی ٹانگ پوری قوت سے امریل کے ہاتھ پر لگی،تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرگئی تھی۔
امریل منھ سے جھاگ اڑاتا خالی ہاتھ اس کی جانب بڑھا،وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ سکندر کے خصوصی شاگرد سے پنگا لے بیٹھا تھا۔سکندر نے ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ اسے کشتی اور خالی ہاتھ لڑنے کے داﺅ پیچ میں بھی طاق کر دیا تھا۔امریل کو بگولے کی طرح اپنے قریب آتے دیکھ کر وہ ایک دم زانو حالت میں نیچے جھکا اگلے ہی لمحے امریل اس کے سر سے ہوتا ہوا پیچھے جاگرا تھا۔امریل جیسے قوی الجثہ مرد کو یوں آسانی سے دونوں ہاتھوں پر اٹھانا یقینا بہت زیادہ قوت کا متقاضی تھا۔اور یشکرمیں اتنی طاقت موجود تھی۔
اسے پھینکتے ہی یشکر نے لپک کر تلوار اٹھائی ،اس دوران امریل کھڑا ہو گیا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ حرکت کرپاتا، یشکرنے تلوار کی نوک اس کی گردن سے لگا دی تھی۔
”میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“امریل زور سے دھاڑا۔
”حالاں کہ میں نے خلیسہ کو تمھارے لیے چھوڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔“یشکر نے نہایت مدہم آواز میں کہا تھا۔
امریل کے غیض و غضب سے بگڑے چہرے پر حیرانی ابھری۔
”صحیح کہہ رہاہوں۔“یشکر کی مدہم آواز صرف امریل ہی سن پارہا تھا،قُتیلہ کے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔”کل میں چلا جاﺅں گااور اسے تمھارا ساتھ قبول ہے۔تم اپنی سنہرانہ کے ساتھ رہنا چاہو گے یا مجھ سے گردن کٹوانا پسند کرو گے۔“
گہرے سانس لیتے ہوئے امریل نے اپنی حالت پر قابو پایا۔”تم سچ کہہ رہے ہو۔“اس نے امیدبھرے لہجے میں تصدیق چاہی۔
”ہاں ….کیوں کہ وہ بھی تمھیں پسند کرتی ہے۔لیکن یاد رہے یہ تلوار واپس نہیں ملے گی۔“ یشکراس کی عمدہ تلوار پر قبضہ جمانے کا موقع ہاتھ سے نہیں کھو سکتا تھا۔
”اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو امریل کی جان بھی لے سکتے ہو یہ تو گھٹیا سی تلوار ہے۔“یہ کہتے ہوئے امریل پیچھے ہٹ گیا تھا۔
یشکر نے تلوار کی نوک حیران کھڑی قُتیلہ کی جانب تانی….”سردارزادی قُتیلہ بنت جبلہ، میں صبح چلا جاﺅں گا،اگر دل میں کوئی حسرت ہے تو تم پوری کر سکتی ہو۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: