Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 41

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 41

–**–**–

یشکر نے تلوار کی نوک حیران کھڑی قُتیلہ کی جانب تانی….”سردارزادی قُتیلہ بنت جبلہ، میں صبح چلا جاﺅں گا،اگر دل میں کوئی حسرت ہے تو تم پوری کر سکتی ہو۔“
حیران کھڑی قُتیلہ کے چہرے پر مدھر مسکراہٹ ابھری۔وہ دھیمے لہجے میں بولی۔” رشاقہ تمھیں کہا بھی تھا ملکہ قُتیلہ کو فرجی پہننااچھا نہیں لگتا۔جاﺅ بھاگ کر ملکہ قُتیلہ کی تلوار اورڈھال لے آﺅ۔“
یہ کہتے ہی اس نے کمر سے باندھا نطاق کھولااور سرخ چغہ اتار کر تخت پر پھینک دیا۔نیچے اس نے اپنا پسندیدہ لباس پہنا ہوا تھا۔اس نے سر سے تاج اتار کرتخت پر پھینکااور نطاق سے کپڑے کی پٹی پھاڑکرماتھے پر باندھنے لگی کہ اس کے بال کھلے تھے۔اب کھلی زلفیں چہرے پر نہیں بکھر سکتی تھیں۔رشاقہ تلوار اور ڈھال لے آئی تھی۔
یشکر دلچسپ نظروں سے اسے تیاری کرتا دیکھ رہا تھا۔بلا شک و شبہ وہ دلیر تھی۔امریل جیسے شہ زور کو یشکر کے ہاتھوں اتنی آسانی سے زیر ہوتے دیکھ کر بھی اس کے چہرے پر فکر یا تردّد نظر نہیں آرہا تھا۔
وہاں جمع مردوزن کے چہروں پر دبادبا جوش نظر آرہا تھا۔ان وحشیوں کو ایک اور مقابلہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔جشن کی شب کوچار چاند لگ گئے تھے۔اور اتنا تو وہ بھی جانتے تھے کہ قُتیلہ سے لڑنے والوں کے حصے میں شکست کے علاوہ کچھ نہیں آیا کرتا۔چودھویں کے چاند نے مشرق سے سر ابھارا۔ چاندنی کوبھڑکتے ہوئے الاﺅ کی روشنی کوتقویت دے رہی تھی۔خیموں کے بیچوں بیچ وہ مختصر سا میدان خوب روشن تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کو نہیں لگتا تم اعمیٰ بن مکیث ہو۔“دائیں ہاتھ میں تلوار اور بائیں ہاتھ میں ڈھال تھام کر وہ چبوترے سے نیچے اترآئی۔
وہ بے پروائی سے بولا۔”کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ مجھے کس نام سے پکارتے ہیں۔“
قُتیلہ استہزائی لہجے میں بولی۔”ایسا وہ لوگ کہتے ہیں جن کا نسب محفوظ نہ ہو۔“
دماغ میں ابھرنے والی غصے کی لہر پر بہ مشکل قابو پاتے ہوئے وہ پر اعتماد لہجے میں بولا۔”تم یشکر بن سکندربن ارسلان بن ارجمند بن فیزان بن دارشک بن ہرجزہ ابرسام کا سامنا کرنے والی ہو۔“
”تھو….فارسی غلام۔“نفرت بھرے انداز میں ایک جانب تھوکتے ہوئے وہ رشاقہ کی طرف متوجہ ہوئی جویشکر کا نام سن کر ہکا بکا رہ گئی تھی۔ ”تو تم پہلے سے جانتی تھیں۔“
وہ جیسے ہڑبڑاتے ہوئے ہوش میں آئی۔”روشن چاند کی قسم ملکہ قُتیلہ، یہ آپ کا غلط گمان ہے۔“
اسی وقت قرص بن خطامہ نے نعرہ بلند کیا۔”ملکہ قُتیلہ کی جے….“
جواباََ بنو طرید کے باسیوں نے زوردار آواز میں کہاتھا۔”ملکہ قُتیلہ کی جے……..“
قُتیلہ نے فخریہ لہجے میں رجز پڑھا….
”ہاں ملکہ قُتیلہ کی تلوار کی کاٹ سے سب سے بہتر ہے
جس کی تلوار سے سر پکے ہوئے پھلوں کی مانند نیچے گرتے ہیں “
(جنگ کے دوران عرب رجزیہ کلام پڑھا کرتے تھے۔جس کے ذریعے اپنی تعریف اور خوبیاں جوش و ولولے سے بیان کی جاتی تھیں۔اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد بھی عربوں کی یہ عادت برقرار رہی تھی۔ یہاں تک کہ رجز پڑھنا جناب رسول اللہ ﷺ کی مبارک زبان سے بھی ثابت ہے۔آپ ﷺ فرمایا کرتے۔اناالنبی لا کذب….انابن عبدالمطلب۔”یعنی میں جھوٹا نبی نہیں ہوں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں“)
” عاصیہ،قریبہ،طریہ۔“قرص نے اپنی بیویوں کو باآواز بلندپکارا۔”ملکہ قُتیلہ کے نام کے نعرے لگانے والوں کے حلق خشک ہو گئے ہیں ….ان کے گلے اعلا درجے کی ٹھنڈی ارغوانی شراب سے تر کر دو۔“تینوں لڑکیاں بھاگتی ہوئی درختوں کے نیچے رکھے ان مٹکوں کی طرف بڑھ گئی تھیں جن کے گرد گیلے کپڑے لپیٹ کر شراب کو ٹھنڈا کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ان کے علاوہ کوئی اپنی جگہ سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔تمام کی نظریں آمنے سامنے کھڑے قُتیلہ اور یشکر پر گڑی تھیں۔
مجمع کے شور و غل سے بے نیاز وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے۔ تبھی قُتیلہ کے باریک و بے رحم ہونٹوں سے نکلا۔”فارسی غلام ،ملکہ قُتیلہ کو ترس کھانے سے نفرت ہے، لیکن تمھیں زندہ رہنے کا ایک موقع دے سکتی ہے۔“
یشکر طنزیہ لہجے میں بولا۔”اگر اپنی زندگی پر پیار آگیا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔“
قُتیلہ تلوار سیدھی کرتے ہوئے بولی۔”تم ایسے ہانکنے والے ہو جس کے پاس اونٹ نہیں ہیں۔“(عرب شیخی خوروں کو یونھی کہا کرتے تھے )
یشکر نے ایک ہاتھ میں امریل والی تلوار پکڑی ہوئی تھی۔قُتیلہ کو حملے پر تیار دیکھ کر اس نے دوسرے ہاتھ میں اعمیٰ والی تلوار تھام لی تھی۔اس وقت اسے صاعقہ کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔وہ قُتیلہ کو کئی بار لڑتے ہوئے دیکھ چکا تھا اور وہ اچھی طرح جانتا تھا وہ آسان ہدف نہیں تھی۔
دو تین لمحے وہ ایک دوسرے کوآنکھوں ہی آنکھوں میں تولتے رہے۔پہل قُتیلہ نے کی تھی۔ اور نعرہ بلند کرتے ہوئے یشکر پر حملہ آور ہوئی۔اس کی تلوار بجلی کے کوندے کی طرح یشکر کی گردن کی طرف بڑھی تھی۔اس کے ساتھ ہی بنو طرید کے باسیوں نے زوردار نعرہ بلند کیا تھا۔
قرص کی دو بیویوں عاصیہ اورقریبہ نے شراب کی بھری ہوئی صراحیاں پکڑی ہوئی تھیں جبکہ تیسری بیوی ،طریہنے بہت سارے پیالے اٹھائے ہوئے تھے۔وہ ناظرین کو بھر بھر کے ارغوانی شراب کے جام پکڑانے لگیں۔جونھی خالی پیالے ختم ہوئے طریہ بھاگ کر اور پیالے اٹھا لائی۔
لڑائی شروع ہو چکی تھی۔یشکر نے قُتیلہ کا وار جھکائی دے کر خطا کیا ،اپنی تلوار واپس کھینچنے سے پہلے قُتیلہ کی ڈھال یشکر کے دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تلوار کی طرف بڑھی۔مگر یشکرنے ہاتھ کو ایک جانب کرتے ہوئے ڈھال کا وار بھی خطا کر دیا تھا۔
وہ ہمیشہ لڑتے وقت مخالف کے حملوں کا دفاع کرتا رہتا ،یہاں تک کہ تھک کر مقابل کے حملوں میں سستی آتی اور تبھی وہ اس پر چڑھائی کر دیتا۔لیکن قُتیلہ کی لڑائی دیکھنے بعد اس نے یہ انداز تبدیل کر دیا تھا کیوں اس نے قُتیلہ کے حملوں میں کبھی سستی نہیں دیکھی تھی اس کے حملوں میں شروع سے آخر تک ایک جیسی تیزی ہوتی تھی۔
ڈھال کے وار سے اپنا ہاتھ بچاتے ہوئے اس کی تلوار قُتیلہ کے پیٹ کی طرف لپکی،قُتیلہ نے اس کے وار کے سامنے ڈھال پکڑ کر اپنا تلوار والا ہاتھ گھمایا جسے یشکر کی تلوار نے اپنے جسم تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔قُتیلہ کی داہنی ٹانگ پوری قوت سے یشکر کے پیٹ کی طرف بڑھی مگر ایک دم اپنے بائیں پاﺅں کے پنجے پر گھومتے ہوئے یشکر نے اس کا وار خطا کردیا۔قُتیلہ ہلکا سا لڑکھڑائی ،اسی وقت یشکر کی لات اس کے کولہوں پر پڑی۔وہ اچھل کر منھ کے بل نیچے گری ،مگر فوراََ ہی دو تین لڑھکیاں لے کر ایک جھٹکے سے کھڑی ہو گئی تھی۔یشکر نے اس کے گرنے کی جگہ کو نظر میں رکھ کر تلوار گھمائی تھی لیکن وہ اس کے وار سے بہت دور تھی۔
کھڑے ہوتے ہی وہ تلوار کو اپنے جسم کے چاروں طرف تیزی سے گھماتے ہوئے بگولے کی طرح گھومتی ہوئی یشکر کی جانب بڑھی۔دونوں کی تلواریں ٹکرانے سے چھن چھناہٹ ابھری اور پھر یہ ساز مسلسل بجنے لگا۔دونوں ہی سوا سیر تھے ،دونوں شمشیر زنی کو جنون کی حد تک پسند کرتے تھے،دونوں میں بلا کی قوت برداشت تھی ،دونوں ہی سخت جان اور مسلسل تلوار چلانے میں کمال کے درجے کو پہنچے ہوئے تھے۔
بنو طرید کے باسی شروع شروع میں تو انھیں داد دینے کے لیے نعرے لگاتے رہے اور پھر آہستہ آہستہ تماشائیوں کو تھکن محسوس ہونے لگی۔انھیں لگا وہ لڑائی برسوں سے جاری ہے اور سالوں مزید چلے گی۔ان کے اعصاب پر نیند طاری ہونے لگی کھڑے ہونے والے بیٹھ گئے ،بیٹھنے والے لیٹ گئے اور پھر رفتہ رفتہ پورا مجمع غافل ہو گیا تھا۔صرف قرص بن خطامہ اور اس کی تینوں بیویاں وہ اعصاب شکن لڑائی دیکھ رہے تھے۔یشکر اور قُتیلہ مجمع کی حالت سے بے نیاز ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوششوں میں تھے،دونوں کے بازوﺅں ،کندھوں ،ٹانگوں پر ہلکی پھلکی خراشیں آئی تھیں لیکن کوئی بھی دوسرے کو کاری ضرب لگانے میں کامیاب نہیں ہوپایاتھا۔زندگی میں پہلی بار قُتیلہ کو محسوس ہورہا تھا کہ اس کا ہارنا ممکن تھا اور زندگی میں پہلی ہی بار یشکر کو بھی لگ رہا تھا کہ اس کی جیت یقینی نہیں تھی۔دونوں کے جسم پسینے میں شرابور ہو چکے تھے۔
اچانک فضا میں الو کے بولنے کی کریہہ آواز گونجی….یشکر اور قُتیلہ کے کانوں تک بھی وہ بھیانک آواز پہنچی تھی لیکن وہ ایک دوسرے کے وجود سے نظریں ہٹانے کی حالت میں نہیں تھے۔کسی کی ذرا سی چوک سے مخالف لڑائی کو اختتامی شکل دے سکتا تھا۔
الو کی آواز گونجنے کے چند لمحوں بعد گھوڑوں کی ٹاپیں بلند ہوئیں ،اس کے ساتھ ہی بنو احمر کے ڈیڑھ درجن بہترین شہ سوار سردار نجار بن ثابت کی قیادت میں نمودار ہوئے۔بنو طرید کے تمام مردوزن بے ہوش پڑے تھے اور مختصر میدان میں قُتیلہ اور یشکر ایک دوسرے سے برسرپیکارتھے۔
سردار نجار بن ثابت کی استہزائی آواز ابھری۔”سردارزادی قُتیلہ بنت جبلہ ،میں ضرور تمھاری شمشیر زنی سے محظوظ ہوتا مگر افسوس میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔اب جلدی سے تلوار پھینک کر اپنے آقا کے پاس آﺅ تاکہ جدائی کے شعلوں پر وصال کا پانی چھڑکا جا سکے۔“
”ٹھہرو فارسی۔“قُتیلہ نے یشکر کا وار ڈھال پر روکتے ہوئے تلوار نیچی کی۔اس کی نظریں گھڑ سواروں کی طرف اٹھ گئی تھیں۔اس کے ساتھ ہی اس کی نگاہوں نے چاروں طرف لیٹے ہوئے بنو طرید کے بے ہوش مردو زن کو دیکھا۔اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔اس کی نظریں گھومتی ہوئی قرص بن خطامہ اور اس کی بیویوں پر جا ٹکیں۔
”ملکہ ،میں مجبور تھا۔“قرص سینے پر ہاتھ رکھ کر مودّبانہ انداز میں جھکا۔”غلام کا تعلق واقعی بنو ناجیہ سے ہے مگر وہ سردار نجار بن ثابت کا احسان مند ہے اور اس احسان کی قیمت چکانے کے لیے اس گستاخی کا مرتکب ہوا۔“
”قرص تمھاری موت بہت بھیانک ہوگی۔اور یہ ملکہ قُتیلہ کا عہد ہے۔“
”ملکہ عالیہ فی الحال تو تم بنو احمر کے سردار کی خدمت کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جاﺅ،کیوں کہ میں سہاگ رات یہیں منانا پسند کروں گا۔بنو احمر تک صبر کرنا میرے لیے ممکن نہیں رہا۔“یہ کہتے ہوئے نجار چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اترااس کے باقی ساتھی بھی تلواریں بے نیام کر کے نیچے اتر آئے تھے۔ضحاک بن عتیک بھی ان کے ہمراہ ہی موجود تھا۔اور وہ ضحاک ہی کا منصوبہ تھا کہ چودھویں کی رات کو اگر بنوطرید کی شراب میں بے ہوشی کی دوا ملا دی جائے تو تمام ایک ساتھ بے ہوش ہو جائیں گے اور وہ آسانی سے ان پر قبضہ کر لیں گے۔چونکہ امریل بنو احمر والوں کو پہچانتا تھا اس لیے سردار نجار بن ثابت نے اپنے ایک احسان مند جس کا تعلق بنو ناجیہ سے تھا،کو اپنی مدد کرنے پر راضی کیا۔ان کا منصوبہ کامیاب رہا تھا۔ قرص کی خودساختہ کہانی سن کر قُتیلہ نے فوراََ ہی انھیں بنو طرید میں شامل کر لیا تھا۔اور بعدکے مراحل نہایت آسان ثابت ہوئے تھے۔ شراب کے مٹکوں میں بے ہوشی کی دوا ملانے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئی تھی۔ بس تھوڑی سی گڑ بڑ غیر متوقع طور پر قُتیلہ اور یشکر آمنے سامنے آنے کی وجہ سے ہو گئی تھی۔ اس لیے دونوں بے ہوش ہونے سے بچ گئے تھے۔
گہرا سانس لیتے ہوئے وہ یشکر کی طرف متوجہ ہوئی۔”فی الحال یہ مقابلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ پھر کبھی سہی۔“
یشکر بے نیازی سے بولا۔”جو سردار زادی کی مرضی۔“
قُتیلہ نے پھیکی مسکراہٹ سے پوچھا۔”تم کس کی طرف ہو۔یا جان بچا کر بھاگناچاہو گے۔یوں بھی بھاگنے کے ماہر ہو….“
یشکر مسکرایا۔”تم مدد مانگ سکتی ہو۔“
وہ دلیری سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ مدد کی بھیک مانگنے کے بجائے لڑ کر جان دینا چاہے گی۔“
”اپنامقابلہ ختم نہیں ہوااور اس سے پہلے تمھیں مرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس لیے تمھارا ساتھ دینا مجبوری بن گیا ہے۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ قُتیلہ کے قریب ہوا اور پھر اس کی پیٹھ سے پیٹھ جوڑ دی۔ایک دم قُتیلہ کو لگا کہ پورا بنو طرید اس کی پشت پر موجود ہے۔اس نے یشکر کے بارے مختلف افواہیں سنی تھیں اور اس کی کافی تعریفیں بھی سنی تھیں لیکن آج معلوم ہواتھاکہ اسے بزدل کہنے والے جھوٹے تھے اور اس کی تعریف کرنے والے بخیل۔
٭٭٭
حکیم قنعب بن عبد شمس کی بات سن کر شریم سُن ہو گیا تھا۔چند لمحوں تک وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا۔بڑی مشکل سے اس کے ہونٹوں سے نکلا۔”یہ کیسے ممکن ہے۔“
حکیم قنعب زور دے کربولا۔”ایسا ہی ہوا تھا۔میرا بیٹا جھوٹ نہیں بولتا۔یشکر کی موت میں مالک بن شیبہ اور اس کے تینوں بھائیوں کا ہاتھ ہے۔ گو انھوں نے ظاہر تو یہی کیا کہ یشکر غلطی سے پیچھے رہ گیا تھا۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔اور بلتعہ بتا رہا تھا ایسا انھوں نے اپنی اعلا نسب بہن کو ایک غلام کی زوجیت سے چھڑانے کے لیے کیا۔“
شریم دکھ بھرے لہجے میں بولا۔”بہن کو طلاق دلوائی جا سکتی تھی،ایک ایسے آدمی کو قتل کرناجسے میں نے بیٹا بن لیا کسی طور مناسب نہیں تھا۔“
قنعب نے کہا۔”اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔“
شریم نے تلخ لہجے میں پوچھا۔”بلتعہ نے اب تک یہ بات چھپا کے کیوں رکھی تھی۔“
”کیوں کہ اس کی نظر میں آپ کے بھتیجوں کا فعل درست تھا۔یہ تو جب اسے یشکر کے نسب کا پتا چلا تب اسے اندازہ ہوا وہ کتنا غلط کام کر چکے ہیں۔“
شریم رخصت لینے کے ارادے سے نشست چھوڑتا ہوا بولا۔ ”بہ ہرحال کوشش کرنا یہ بات مزید نہ پھیلے۔بلتعہ کو بھی منع کر دینا۔جو ہو چکا وہ واپس نہیں لایا جاسکتا۔اور جس نقصان کی تلافی ممکن نہ ہو اس پر رونا گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔“
حکیم قنعب نے سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
اسی شام شریم نے تینوں بھتیجوں کو اکٹھا کر کے انھیں سخت برا بھلا کہا تھا۔تینوں سر جھکا کر اس کی باتیں سنتے رہے۔آخر میں وہ کہہ رہا تھا۔”میں اس مسئلے کو یہیں پر دبا رہا ہوں لیکن یشکر کا خون بہا تم تینوں ادا کرو گے۔گو خون بہا کا وارث مرنے والے کا مرد رشتادار ہوتا ہے لیکن میں اپنے بجائے وہ خون بہا میں اس کی بہن ثانیہ کو دلواﺅں گا۔بے شک تم دیت کو جس نام سے بھی اس کے حوالے کرتے ہو مجھے پروا نہیں لیکن یشکر کے خون کی دیت تم تینوں ادا کرو گے۔“
تینوں نے ندامت سے سرجھکا دیا تھا۔مالک بن شیبہ ہمت کر کے بولا۔
” کچھ مہلت درکار ہو گی چچاجان،فی الحال ہم اس حالت میں نہیں ہیں کہ خون بہا ادا کر سکیں۔ البتہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جلد ہی یشکر کا خون بہاثانیہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔
”اور یاد رکھنا ،میں تمھارے ظلم پر پردہ اس لیے ڈال رہا ہوں کہ بادیہ تک یہ خبر پہنچ گئی تو جیتے جی مر جائے گی۔“
مالک نے دوبارہ زبان کھولنے کی ہمت کی۔”ہم قصور وارہیں ،شرمندہ ہیں اور معافی کے خواست گار ہیں چچا جان۔“
شریم نے مالک کی سماعتوں میں زہر گھولتے ہوئے کہا۔”بہ ہر حال اب وتینہ کے بارے مجھے کچھ اورسوچنا پڑے گا۔“
مالک گھبراتے ہوئے بولا”چچاجان !….یہ غلطی انجانے میں ہوئی ہے۔آپ اتنی سخت سزا کیسے سنا سکتے ہیں۔“
شریم بے پروائی سے بولا۔” سزا نہیں سنا رہا۔اپنے غلط فعل کی اصلاح کررہا ہوں۔“
مالک بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔”چچا جان !ایسا نہ کریں۔میں وتینہ کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔وہ مجھے پسند کرتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ وہ بھی خوش نہیں رہ پائے گی۔“
”یشکر اور بادیہ بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ان کا خیال تمھیں کیوں نہیں آیا۔ اپنی بہن کی حالت دیکھی ہے۔ہر وقت خیالوں میں گم رہتی ہے۔نہ کھانے کا ہوش اور پینے کا خیال۔ کیا اسے حق نہیں تھا کہ اپنے محبوب کے ساتھ زندگی گزارتی۔ایسا محبوب جس نے اس کی خاطر جان کی بھی پروا نہیں کی۔اور اس کے بدن کی طرح بڑھنے والی تلواروں کے لیے اپنا جسم ڈھال بنا دیا۔“
مالک گلوگیر لہجے میں بولا۔”چچا جان ،آل ثمامہ کے سرپرست آپ ہیں۔آپ کے علاوہ ہم کس کے آگے روئیں گے۔ہم نے اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا ہے اور ہر سزا بھگتنے کو تیار ہیں لیکن آپ سزا دیں ہمیشہ کا روگ تو میری قسمت میں نہ لکھیں۔“اس کی آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی۔
”آج سردار شیبہ بن ثمامہ زندہ ہوتا تو میرا فیصلہ وہ بھی تبدیل نہ کرا سکتا۔لیکن افسوس سب کچھ میرے سر آن پڑا ہے۔“لمحہ بھر رک کر وہ شفقت بھری ڈانٹ پلاتا ہوا بولا۔”اب دفع ہوجاﺅاور شادی کے انتظامات کرو۔“
مالک نے ندامت کے اظہار کے لیے سر جھکایا مگر وتینہ کے ملنے کی خبر نے اسے غمگین ہونے کی اداکاری کرنے قابل بھی نہیں چھوڑاتھا۔
٭٭٭
”ارے واہ ….لڑنے والوں نے تو صلح کر لی ہے۔“نجار بن ثابت نے قہقہ لگایا۔
”نجاربن ثابت،بہت کم جنگ جو ساتھ لے کر آئے ہو۔“قُتیلہ کے لہجے میں اعتماد بڑھ گیا تھا۔
”گستاخ لونڈی ،آقا نجار بولو….“نجار نے کندھے سے لٹکی ڈھال پکڑ کر اس کی جانب قدم بڑھائے۔باقی تمام بھی نصف دائرے کی شکل میں محتاط انداز میں ان کی طرف بڑھنے لگے۔یقینا وہ قُتیلہ کو زندہ پکڑنا چاہتے تھے۔
یشکر نے کہا۔”سردارزادی ،بندے گن لو،بائیں طرف والے نو میرے ہیں۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ نہ کہہ کر تم اپنا انجام بھیانک بنا رہے ہو۔“
یشکر بے پروائی سے بولا۔”میراتعلق اب بنو طرید سے نہیں رہا۔“
”یعنی تم چاہتے ہو ملکہ قُتیلہ بنو احمر کے گیدڑوں سے پہلے تمھارا حساب کتاب پورا کرے۔“
”فی الحال تو بالکل بھی نہیں۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے یشکر بجلی کی سی سرعت سے اپنے جانب محتاط انداز میں بڑھتے ہوئے بنو احمر کے آدمیوں کی طرف لپکا سب سے بائیں والے کی تلوار سے اس کی بائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی تلوار ٹکرائی اور دائیں ہاتھ والی تلوارنے اس صفائی سے اس کی گردن اڑائی تھی کہ ہوا میں اڑتی ہوئی گردن کا منھ حیرت سے کھل گیا تھا۔
اس کو حرکت کرتے دیکھ کر قُتیلہ نے بھی اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔اس نے سب سے دائیں والے کو نشانہ بنایاتھا۔اسے بگولے کی طرح اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر مقابل نے تلوار چلائی ،جسے اپنی ڈھال پر روکتے ہوئے وہ پھرکی کی طرح گھومی ،مخالف کی گردن یشکر کے قریب جا کر گری تھی۔

ان کے قریب رہ کر وہ صحیح مقابلہ نہیں کر سکتے تھے اس لیے انھیں بکھیرنا ضروری تھا۔اور یہ بات وہ دونوں بغیر ایک دوسرے سے مشورہ کیے جانتے تھے۔وہ دو بندوں کی لاشیں گرا کر ان سے دورہٹے ، اسی وقت نجار بن ثابت غصے میں دھاڑا ، ختم کر دو اپنی ماں کے بیٹے کواور اس وِشاق کو زندہ پکڑ لو۔“ (عرب کسی کو گالی دیتے وقت اسے ماں کا بیٹا کہتے تھے یعنی اس کا باپ نامعلوم ہے )
بنو احمر کے بہترین جنگجو ان کی دونوں کی طرف جھپٹے۔اور وہاں ایک انوکھی جنگ چھڑ گئی۔ڈیڑھ درجن آدمیوں کو دو افراد تگنی کا ناچ نچا رہے تھے۔قُتیلہ اور یشکر بگولے کی طرح پورے میدان میں چکرا رہے تھے۔بنو احمر کے لڑاکوں کی الٹی گنتی شروع ہو گئی تھی۔اٹھارہ افراد کی تعداد دس پر پہنچ گئی تھی۔چار کی گردنیں سلامت نہیں رہیں تھیں تو باقی چار میں کسی کا بازو کٹ گیا تھااور کسی ٹانگ جسم کا حصہ نہیں رہی تھی۔نجار بن ثابت اس صورت حال پر حواس باختہ ہو رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ قُتیلہ اچھی لڑاکا ہے،لیکن وہ اتنی بہترین جنگجو ہوگی یہ اس کے تصور میں بھی نہیں تھا۔
ایک اور چیخ فضا میں ابھری ،یشکر کی تلوار نے نئے لہو کا ذائقہ چکھا تھا۔ساتھ ہی زوردار خرخراہٹ کی آوازابھری کہ قُتیلہ کی تلوار ایک نرخرے سے آر پار ہو گئی تھی۔
دوآدمیوں کی تلواروں سے ایک ساتھ اپنی تلواریں ٹکرانے کے بعد یشکر کی زوردار لات ایک کے پیٹ میں لگی وہ اچھل کر دور جا گرا۔اب دوسرے مقابل کو دو تلواروں کا سامنا تھا اور اس کی تلوار صرف ایک تلوار کے سامنے آڑ بن سکتی تھی ،یشکر کے بائیں ہاتھ میں تھامی ہوئی تلوار نے اس کی گردن اور شانوں کے درمیان جدائی ڈال دی تھی۔زمین پر گرا ہوا آدمی اٹھنے لگا تھا،مگر اس کی یہ کوشش امریل والی دود ھاری تلوار نے ناکام بنا دی تھی۔تلوار یشکر کے ہاتھ سے تیر کی طرح اڑتے ہوئے اس کی چھاتی کے آر پار ہو گئی تھی۔وہ دوبارہ پیچھے گر کر تڑپنے لگا۔یشکر نے پاس جا کر تلوار اس کی چھاتی سے باہر کھینچی۔اچانک اسے پیٹھ پیچھے کھٹکا سنائی دیا،وہ ایک دم زمین پر لوٹ لگاتا ہوا وہاں سے دورہٹا۔اٹھنے پر اسے ایک آدمی پہلو پر ہاتھ رکھے زمین بوس ہوتا نظر آیاتھا۔وہ بے خبری میں یشکر پر حملہ آور ہوا تھا لیکن قُتیلہ نے اسے دیکھ لیا تھا۔ اپنے مدمقابل کی چھاتی میں لات مار کر دور گراتے ہوئے اس نے اپنی دو دھاری سیدھی تلوار نیزے کی طرح اس کی جانب پھینکی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ یشکر پر حملہ کر پاتا قتیلہ کی تلوار اس کا مزاج پوچھ چکی تھی۔قُتیلہ نے آگے بڑھ کر اس کے پہلو کے آر پارہوئی تلوار بے دردی سی کھینچی۔اسی وقت اس نے یشکر کی جانب دیکھا۔دونوں کی نظریں ملیں ،ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر ابھری اور وہ بچ جانے والے مخالفین کی طرف متوجہ ہو گئے۔اب ان کے مدمقابل چار آدمی رہ گئے تھے۔ یشکر ،نجار بن ثابت اور ضحاک بن عتیک کے ساتھ اپنی تلواریں ٹکرا رہا تھا۔
”فارسی غلام ،ملکہ قُتیلہ کو نجار بن ثابت زندہ چاہیے۔“ ایک مخالف کی چھاتی میں تلوار گھونپ کر قُتیلہ نے دوسرے کے پیٹ میں زوردار لات رسید کرتے ہوئے یشکر کوآواز دی تھی۔
”زخمی تو کر سکتا ہوں ناں۔“ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے یشکر نیچے جھکا ،اگلے ہی لمحے امریل والی لمبی تلوار نے نجار بن ثابت کی ران میں گہرا شگاف ڈال دیا تھا۔اسی وقت ضحاک کی تلوار بجلی کی سی سرعت سے یشکر کی گردن کی جانب بڑھی۔لیکن اس سے پہلے کہ گردن اور تلوار کی دھار کا ملاپ ہو پاتا وہ گھٹنوں میں خم دیتے ہوئے نیچے جھکا۔ضحاک نے وار خطا جاتے دیکھ کرتلوارکو پیچھے کھینچ کر دوسرا وار کیا۔یشکر نے اس کا وار بائیں ہاتھ میں پکڑی تلوار کی دھار پر سہارا اور دائیں ہاتھ میں تھامی تلوار نے ضحاک کا ہاتھ کہنی سے اڑا دیا تھا۔
زوردار چیخ منھ سے نکالتے ہوئے وہ ہاتھ پکڑ کر دہرا ہو گیا تھا۔یشکر کا زوردار گھٹنا اس کی ٹھوڑی کے نیچے لگا،وہ پیچھے الٹ کر بے ہوش ہوگیاتھا۔اگلی بار یشکر نے تلوار کا دستہ اپنی ران کے گرد کپڑا لپیٹتے نجار بن ثابت کے سر پر رسید کیا ،وہ اذیت ناک کراہ کے ساتھ لمبا ہوگیاتھا۔
یشکر نے ضحاک کی قمیص کا دامن پھاڑ کر اس کی کہنی پر کس کے باندھا جہاں سے خون فوارے کی طرح چھوٹ رہا تھا۔اس وقت قُتیلہ آخری مقابل کے کپڑوں سے تلوار کی دھار صاف کر رہی تھی۔اچانک یشکر کی نگاہیں خیموں کے درمیان دوڑتے ہوئے گھوڑوں پر پڑیں۔وہ قرص بن خطامہ اور اس کی بیویاں تھیں۔لڑائی کا نتیجہ توقعات کے الٹ نکلتا دیکھ کر انھیں بھاگنے کی سوجھی تھی۔
یشکر زقند بھر کر بنو احمر کے گھوڑوں کی جانب بھاگا۔
”کہاں بھاگ رہے ہو فارسی غلام ….“قُتیلہ حیرانی سے چلائی۔اور پھر اس کی نظریں بھی گھوڑوں کی ٹاپ کی طرف اٹھ گئی تھیں۔لیکن یشکر کو جاتا دیکھ کر وہ رکی رہی کیوں کہ ایک آدمی کا وہاں رہنا ضروری تھا۔یشکر نے نجار بن ثابت کی گھوڑی کو سواری کے لیے پسند کیا تھا۔اس ابلق(دورنگی،سیاہ و سفید چتکبری گھوڑی) گھوڑی پر لڑائی کی شروعات سے اس کی نظر تھی۔
اس کے بیٹھنے پر گھوڑی نے ایک لمحے کے لیے ہنہناکر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا لیکن پھر ماہر شہسوار کے اشارے پر دوڑ پڑی۔جلد ہی یشکر کو چاند کی روشنی میں دوڑتے ہوئے چاروں گھوڑے نظر آگئے تھے۔لیکن ان کی رفتار اتنی تیز نہیں تھی کہ یشکر کی دسترس سے نکل جاتے۔سب سے آگے قرص کا گھوڑا تھا۔عورتوں کے گھوڑوں کے پہلو سے آگے بڑھتے ہوئے وہ اپنی گھوڑی قرص کے گھوڑے کے متوازی دوڑانے لگا۔اور پھرایک دم قَر±بوس (گھوڑے کی کاٹھی کااگلا اٹھا ہوا حصہ )کو پکڑتے ہوئے وہ زین پر اکڑوں بیٹھا۔ساتھ ہی اس کی دائیں ٹانگ قرص کی طرف بڑھی۔پہلو میں زور دار لات کھا کر قرص اچھل کر نیچے جا گرا تھا۔
”اگر تم لوگوں نے فوراََ گھوڑے نہ روکے تو میں تمھاری گردنیں اتارنا شروع کر دوں گا۔“ ابلق گھوڑی کی لگام کھینچتے ہوئے اس نے چیخ کر کہا تھا۔”یقین مانو تم میں سے کوئی بھاگ نہیں سکتی۔“
تینوں لڑکیاں خوفزدہ تھیں مگر وہ گھوڑے روکنے پر تیار نہیں تھیں۔یشکر نے دوبارہ گھوڑی بھگائی اور سب سے آگے جانے والی کے پہلو میں لات رسید کر کے اسے دور اچھال دیاتھا۔عقب میں آنے والیاں فوراََ اپنے گھوڑوں کو روک کر نیچے اتر گئی تھیں۔
قرص پہلو پر ہاتھ رکھے اذیت بھرے انداز میں چلتا ہوادوبارہ گھوڑے کی طرف بڑھ رہا تھا۔یشکر عورتوں کو نظر انداز کر کے اس کے قریب پہنچااور گھوڑے پر سوار ہونے سے پہلے اسے جا پکڑا۔
تھوڑی دیر بعد وہ چاروں کے ہاتھوں کو پشت پر باندھ کر، گردنوں میں رسی ڈال کر انھیں بنو طرید کی طرف پیدل چلاتا ہوا لے جا رہا تھا۔چاروں کے گھوڑوں کی لگامیں بھی اس کی گھوڑی کی زین سے بندھی تھیں۔
اس کے واپس پہنچنے تک قُتیلہ بچ جانے والے زخمیوں کی مشکیں کس چکی تھی۔ان چاروں پر نظر پڑتے ہی اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ ابھری۔
”فارسی جوان ،تم نے ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ نہ کہہ کر جو غلطی کی تھی وہ ان کی وجہ سے معاف ہوئی۔“اس بار اس نے فارسی غلام کے بجائے فارسی جوان کہا تھا۔
یشکر ہنسا۔”یہ غلطی تو میں بار بار دہراﺅں گا سردار زادی۔“
”ملکہ قُتیلہ ،اس معاملے میں سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔“کہہ کر وہ قرص کے سامنے جا رکی۔
”قرص بن خطامہ !….جانتے ہوئے ملکہ قُتیلہ کی دشمنی کتنی مہنگی پڑتی ہے۔“
”خوب صورت ملکہ ،اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے میں معافی کا خواست گار ہوں۔“
” دھوکا دینے والوں کو معاف کرنا ملکہ قُتیلہ کو نہیں آتا۔“یہ کہتے ہوئے اس کا زوردار مکا قرص کی ٹھوڑی کے نیچے لگا۔وہ اچھل کر نیچے گرگیا تھا۔
”تم بھی اس کے ساتھ شامل تھیں۔“قُتیلہ اس کی تھرتھر کانپتی بیویوں کو مخاطب ہوئی۔
”ہمیں معاف کردو ملکہ عالیہ۔“تینوں ایک ساتھ گڑگڑائیں۔
”تم نے بنو طرید کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔یہ تو نسر کا کرم تھا کہ ملکہ قُتیلہ فارسی جوان کے ساتھ برسر پیکارتھی ورنہ ملکہ قُتیلہ بھی بے ہوش ہو چکی ہوتی۔“قہر آلود لہجے میں کہتے ہوئے وہ رشاقہ کو ہوش میں لانے کے لیے اس کی طرف بڑھ گئی۔
یشکر خلیسہ کے خیمے کی طرف بڑھ گیا تھا جہاں اس کا کم سن بیٹا زور زور سے ماں کو آوازیں دے رہا تھا۔
ooo
وتینہ اور سلمیٰ کی شادی میں بنو جساسہ کو عرصے بعد خوشی منانے کا موقع ملا تھا۔ان کی شادی میں حلیف قبائل کے کافی سارے آدمیوں نے شرکت کی تھی۔اسی دوران شریم نے قبایل کے سرداروں کو بنو نوفل کی حالیہ زیادتی سے بھی آگاہ کیا تھا۔
بنو لخم ،بنو جمل اور بنو دیل کے سرداروں کے پاس اسے تسلی دینے کے لیے زیادہ الفاظ موجود نہیں تھے۔بنو نوفل ایک بڑا قبیلہ تھا۔ساتھ میں تین چار بڑے قبیلے اس کے حلیف بھی تھے۔وہ چاروں قبیلے مل کر بھی تعداد میں بنونوفل سے کم تھے،اگر بنو نوفل کے حلیف قبائل کی تعداد ساتھ شامل کر لی جاتی تھی وہ کسی شمار ہی میں نہیں آتے تھے۔
یہ بات شریم بھی اچھی طرح جانتا تھا اور وہ اپنے حلیف قبایل سے کوئی ایسی توقعات نہیں رکھ سکتا تھاجن کاپورا ہونا ،ناممکن ہو۔البتہ اس نے حلیف سرداروں سے اپنے قبیلے کے چند جوانوں کے لیے رشتوں کی درخواست کی تھی۔اور اس بارے انھوں نے مثبت جواب دیا تھا۔
شریم نے بادیہ کو حلیف قبایل کے آدمیوں کے سامنے آنے سے سختی سے منع کیا تھا کیوں کہ کسی ایک آدمی کی غلطی سے بھی بادیہ کے بنو جساسہ میں رہنے کی بات بنو نوفل تک پہنچ سکتی تھی اور اس کے بعد وہ بغیر وقت ضایع کیے اس کا مطالبہ کر دیتے۔یوں بھی شریم تک یہ بات پہنچ چکی تھی کہ بنو نوفل والے اب تک بادیہ اور یشکر کی تلاش میں سرگرداں تھے۔
وتینہ و سلمیٰ کی شادی کے اگلے دن بادیہ کے دو بھائی،اغلب بن شیبہ اور مروان بن شیبہ ایک خاص مقصد کے لیے بنو جساسہ سے نکل رہے تھے۔انھیں بنو جساسہ کے ان افراد کو تلاش کرناتھاجنھیں اہل بنو نوفل نے پکڑ کر بیچ دیا تھا۔
چچا شریم کی ہدایت پر وہ سب سے پہلے بنو جمل پہنچ کر ذویب بن ہثیم سے ملے۔ذویب کے بنو نوفل کے ایک معزّز شخص سے اچھے تعلقات تھے۔اورشریم نے ذویب سے درخواست کی تھی کہ بنو نوفل کے آدمیوں کے بارے یہ معلوم کروا دے کہ انھیں کہاں بیچا گیا تھا۔صحیح تعداد تو کسی کو بھی معلوم نہیں تھی کہ بنو جساسہ کے کتنے آدمیوں کو دشمن گرفتار کر کے لے گئے تھے۔البتہ لاشیں دفناتے وقت انھیں اتنا اندازہ ضرورہو گیا تھاکہ زیادہ تر نوجوان بنو نوفل کے قبضے میں آگئے تھے۔
ذویب نے شریم کی درخواست پرایک دن باتوں باتوں میں اپنے دوست سے تھوڑی بہت معلومات اگلوا لی تھیں۔اور ان میں سب سے اہم خبر یہ تھی کہ دبا کے ایک جہازران مخنف بن فدیک نے پچاس جوان اپنے جہازوں پر چپو چلانے کی نیت سے ایک ساتھ خریدے تھے۔اس کے علاوہ پندرہ جوان یمامہ کے ایک رئیسجرہم بن قسامہ نے خریدے تھے۔دس جوان بنو ناجیہ کے ایک امیرزنبربن خربہ نے خریدے تھے اور ان سے خلیج العربی کے ساحل پر باربرداری کا کام لیتا تھا۔ان کے علاوہ کسی نے ایک ساتھ زیادہ غلام نہیں خریدے تھے۔ بنو جساسہ کی زیادہ تر لڑکیاں اہل بنو نوفل نے اپنے پاس لونڈی بنا کررکھنا پسند کی تھیں۔
ذویب سے ملنے کے اگلے دن اغلب اور مروان طلوعِ آفتاب سے پہلے اپنے مقصد کے حصول کے لیے راونہ ہو گئے۔انھیں دبا تک جانے کے لیے بہت طویل فاصلہ طے کرنا تھا۔
٭٭٭
کافی کوشش کے بعد وہ بڑی مشکل سے امریل، ملکان،منقر،رشاقہ ،خلیسہ اور اصر م کو ہوش میں لا سکے تھے۔ہوش میں آنے کے بعد بھی ان کے سر چکرا رہے تھے۔رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔چاند بالکل سر پر پہنچ گیا تھا۔آگ کے الاﺅ پر انھوں نے اور لکڑیاں ڈال دی تھیں۔
وہ سار ماجرا ہوش میں آنے والوں کے لیے بڑا عجیب تھا۔لیکن بنو احمر والوں کی بکھری ہوئی لاشیں انھیں باور کرا رہی تھیں کہ وہ کتنے بڑے خطرے سے باہر نکلے تھے۔
”فارسی جوان !…. امریل کو کیا کہا تھا کہ اس نے لڑائی سے دست بردار ہونا گوارا کر لیا۔“ قُتیلہ نے رشاقہ کے ہاتھ سے شراب کا جام پکڑتے ہوئے پوچھا۔وہ شراب رشاقہ ،قُتیلہ کے خیمے سے لے کر آئی تھی۔خواب آور دوا سے آلودہ شراب کے مٹکے انھوں توڑ دیے تھے۔مٹکوں کی نشاندہی قرص کی بیویوں نے کی تھی۔
”یہی کہ موت اور خلیسہ میں سے ایک چیز کا انتخاب کرے۔“
رشاقہ بولی۔”اور کالے ریچھ کو معلوم تھا کہ یشکر اس کی گردن اور شانوں جڑا نہیں رہنے دے گا۔تبھی اس نے قدم پیچھے ہٹا لیے تھے۔“
یشکرنے رشاقہ کے ہاتھ سے بھرا ہوا جام پکڑ نے کے بجائے الٹے ہاتھ سے پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا۔”شکریہ میں دودھ پی چکا ہوں۔اور باقی رہی امریل کی بات تو وہ اس لیے ڈر گیا کیوں کہ اسے پتا چل گیا تھا میں رشاقہ بنتِ زیادکا شاگردہوں۔“
ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے رشاقہ نے یشکر کی آنکھوں میں جھانکا۔”تمھیں تربیت دینے کی پیشکش اب بھی برقرار ہے۔“
یشکر ہنسا۔”کیا سکھاﺅ گی؟“
رشاقہ نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”بہت کچھ سکھا سکتی ہوں۔“
”رشاقہ ،یہ مذاق کا وقت نہیں ہے جاﺅ لوگوں کو ہوش میں لانے کے لیے باقیوں کا ہاتھ بٹاﺅ۔“قُتیلہ نے صراحی اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے روکھے لہجے میں کہا۔جانے اسے کیوں غصہ آگیا تھا۔
”جی ملکہ۔“رشاقہ فوراََ سنجیدہ ہوتے ہوئے باقیوں کی طرف بڑھ گئی تھی۔
قُتیلہ نے مسکراتے ہوئے اپنے لیے اور جام بھرا۔”تمھاری بادیہ کہاں ہے؟“
یشکر کے دل میں دکھ کی لہر اٹھی اور اس نے نفی میں سرہلادیا۔”میں اس کے قابل نہیں تھا ، اس لیے چھوڑ کر چلی گئی۔“
”کیوں ؟“قُتیلہ نے حیران ہوتے ہوئے خیال ظاہر کیا۔”شاید سردار زادی کو اپنے اعلا نسب کا خیال آگیا ہو۔“
یشکر نے اس کی بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
قُتیلہ نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔”کیا سچ میں اس کی شکل ملکہ قُتیلہ کی طرح ہے۔“
یشکر نے ایک نظر اس کے پرکشش چہرے پر ڈالی۔اس کی آنکھیں اور چہرے کے نقوش یشکرکے حواس پر اثر انداز ہونے لگتے تھے۔بڑی مشکل نظریں چراتے ہوئے وہ سادگی سے بولا۔”پتا نہیں۔“
قُتیلہ نے قہقہ لگایا۔”شاید اعتراف کرتے ہوئے شرم آرہی ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”جب مجھے اس کی طرح پیاری کوئی نہیں لگتی تو ظاہری مشابہت کا اعتراف کرنے میں شرم کیسی۔“
”خیر چھوڑ،یہ بتاﺅارادہ کیاہے ؟“قُتیلہ کے پوچھنے پر دوبارہ اس کی نظر غیرا ارادی طور پر اس کی جانب اٹھی اور واپس آنابھول گئی۔آگ اور چاند کی روشنی میں یشکر کوسحر بھری دُنبالہ آنکھیں بہت پرکشش لگ رہی تھیں۔ اس کے دماغ میں بادیہ کی آنکھوں در آئی تھیں۔بڑی مشکل سے نظر اس کے چہرے سے ہٹا کروہ چودھویں کے چاند کو دیکھنے لگا۔اس کے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ زیادہ روشنی چاند کی وجہ سے تھی یا اس کے سامنے بیٹھی روشن چہرے والی جنگجو حسینہ کے رخ سے امڈ رہی تھی۔ سر جھٹک کر اس نے فضول سوچوں کو دور جھٹکا اور بے نیازی سے بولا۔
”اپنی روانگی کے بارے میں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔“
”بھول جاﺅ۔“قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”بنو طرید میں شامل ہونا آسان ہے نکلنے کے لیے زندگی کو الوداع کرنا ضروری ہے۔“
”تم نے منع کر دیا ہے ، اب توضرور جانا پڑے گا۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”اہل بنو احمر کے حملے کے وقت تمھارے پاس بھاگنے کا موقع تھا جو تم گنوا چکے ہو۔“
یشکر نے استہزائی لہجے میں پوچھا۔”اب مجھے کون روکے گا؟“
”ملکہ قُتیلہ۔“وہ تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
”اگر مرنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔“یشکر نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔
”فیصلہ کر لیتے ہیں۔“قُتیلہ ہاتھ میں تھاما جام زمین پر پٹختے ہوئے کھڑی ہو گئی تھی۔
یشکر نے اعمیٰ والی تلوار امریل کے حوالے کر دی تھی اور اب اس کے پاس صرف امریل والی تلواربچی تھی۔قُتیلہ کو لڑائی پر آمادہ دیکھ کر اس نے تلوار سونتنے میں دیر نہیں کی تھی۔نہایت مختصر دوستی کے بعد وہ ایک بار پھر آمنے سامنے تھے۔
”تم ایک گھمنڈی ،مغرور،بڑبولی اور احمق لڑکی ہو۔“یشکر سچ مچ غصے میں تھا۔
”ملکہ قُتیلہ جانتی ہے موت سے پہلے حواس انسان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور وہ یونھی واہی تباہی بکنا شروع کر دیتا ہے۔“یہ کہتے ہی اس کی تلوار بجلی کے کوندے کی طرح یشکر کی جانب لپکی۔وہ تیار تھا۔دونوں کی تلواریں ٹکرانے سے زبردست چھن چھناہٹ پیدا ہوئی تھی۔ہوش میں آئے ہوئے لوگ چونک پڑے تھے۔چودھویں کے چاند کی روشنی میں وہ ازلی دشمنوں کی طرح برسرِ پیکار تھے۔
قُتیلہ کے دو حملے بے کار گئے تھے۔تیسری دفعہ جیسے ہی دونوں کی تلواریں ٹکرائیں ،اس کی زور دار لات یشکر کے پیٹ میں لگی۔کولہوں کے بل نیچے گرتے ہوئے وہ فوراََ الٹی قلابازی کھا کر کھڑا ہو گیا تھا۔قُتیلہ نے اس کے گرنے کی جگہ تلوار چلائی تھی ،مگر وہ پھرتی کی وجہ سے صاف بچ گیا تھا۔اس کے دوبارہ تلوار لہرانے سے پہلے یشکر کی جوابی لات اس کی چھاتی میں لگی وہ اڑ کر پیچھے جا گری تھی۔اس کے ساتھ ہی اس کے دماغ کو جھٹکا سا لگا اور آنکھوں کے سامنے نیلے پیلے دائرے لہرانے لگے۔اس نے سرجھٹک کر خود کو ہوش میں رکھنے کی کوشش کی اور تیزی سے کھڑی ہوئی۔یشکر کی تلوار کی چمک نظر آتے ہی اس نے فوراََ ڈھال آگے پکڑی تھی،مگر اسے محسوس ہوا جیسے طاقت اس کے جسم سے نچڑتی جا رہی ہو۔
ایک بار پھر سرجھٹکتے ہوئے اس نے تیزی سے تلوار لہرائی ،مگر سامنے ہدف نہیں تھا۔ اچانک اس کے سینے سے جیسے طاقتور بیل ٹکرایا ہو۔وہ یشکر کی ایک اور زور دار لات تھی،وہ اڑتی ہوئی دور جاگری تھی۔
ایک دم کروٹ لے کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اندھیروں نے اس کے دماغ پر یلغار کر دی تھی۔وہ اتنی کمزور نہیں تھی مگر اپنی حالت اس کی سمجھ سے باہر تھی۔زور سے سرجھٹک کر اس نے اندھیرے دور کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہوئی تھی۔اس وقت وہ چوپائے کی طرح چاروں ہاتھوں پاﺅں کے بل پر اپنے دماغ میں چھائی دھند سے نبٹنے کی کوشش میں باربار سر جھٹک رہی تھی۔یشکر کی تلوار سر سے بلند ہوئی،قُتیلہ کی صراحی دار گردن سامنے تھی یقینا وہ پے در پے لاتیں کھا کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔
اٹھی ہوئی تلوار کو نیچے لاتے ہوئے اس نے زوردار آواز میں کہا۔”مرنے کا شوق تھا ناں، پورا کیے دیتا ہوں۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: