Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 42

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 42

–**–**–

رومن شہنشاہ نے گرجستان کے حصول کے لیے ایک لشکر جلیل تیار کیا کہ گرجستان کا اہم علاقہ وہ فارس کے حکمران کے لیے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔گرجستان پر اسپاکورس کی حکومت تھی۔جبکہ روم کا بادشاہ والنٹینین چاہتا تھا کہ وہاں کا بادشاہ سارو میس بنے جو کہ اسپاکورس کا چچا تھا۔اور اس کی ہمدریاں روم کے ساتھ تھیں۔ چنانچہ والنٹینین نے ڈیوک ٹیرنٹیئس کو بھاری فوج دے کر بھیجا۔اسپاکورس نے بھی مقابلے کے لیے اپنا لشکر میدان میں اتارا۔دونوں لشکر دریائے کور کے کنارے آمنے سامنے ہوئے۔لڑائی سے پہلے صلح کی بات چیت ہوئی اور رومی سالارنے جنگ کے نتائج سے ڈرا کر اسپاکورس کو صلح کا معاہدہ کرنے پرمجبور کر دیا۔اس معاہدے کی رو سے گرجستان کی تقسیم عمل میں آئی۔ایک حصے کی حکومت اسپاکورس کے حصے میں آئی جبکہ دوسرے حصے کی حکومت سارو میس کو سونپ دی گئی۔اس صلح کے لیے سابور کی اجازت تو درکنار اسے مطلع بھی نہیں کیا گیا تھا۔
جونھی سابور ذوالاکتا ف تک یہ خبر پہنچی وہ سخت برافروختہ ہوا اور اس نے اپناسفیر روم بھیج کر سخت احتجاج کیا۔لیکن والنٹینین نے اس کا احتجاج بے پروائی سے مسترد کر دیاتھا۔دونوں حکومتوں میں لڑائی ایک بار پھر ناگزیر ہوچکی تھی۔سابور نے لشکر جمع کرنے کے احکام اپنے صوبوں تک پہنچا دیے تھے۔ لشکر کے جمع ہوتے ہی اس کا ارادہ روم پر حملہ کرنے کا تھا۔
ان حالات میں سکندر کو یشکر کی پریشانی چمٹی تھی۔وہ اس کا سگا بیٹا نہیں تھا لیکن سکندر نے اسے بیٹے ہی کی طرح پالاتھا۔اور اب جبکہ اس کی زندگی کی نوید مل چکی تھی تو اس سے بے پروائی اختیار کرنا سکندر کے لیے ممکن نہیں تھا۔
اس نے بہرام کی واپسی کے بعد دو تین ماہ تک انتظار کیااور اس کے بعد بھی جب یشکر کی متوقع آمد کا خواب تعبیر سے ہم کنار نہ ہوا تو اس نے دوبارہ بہرام کو تیار ہونے کا حکم دیا۔فارس کے حالات ایسے تھے کہ وہ خود نہیں جا سکتا تھا اور نہ بہرام کے حوالے زیادہ سپاہ کر سکتا تھا۔اس نے دوبارہ بہرام کے حوالے دوسو بہترین جنگجو کیے اور اسے تاکید کی کہ اگر کسی بڑے قبیلے سے ٹاکرا ہوتو بجائے لڑائی کرنے کے وہ کمک طلب کر لے۔ورنہ صحراے اعظم کے حوالے سے دوسو سوار ایک بڑی طاقت تھے۔ اور اتنے سواروں کے ساتھ کسی بھی قبیلے کے خلاف محاذ کھولا جاسکتا تھا۔
بہرام ایک بار پھر سبرینہ سے الوداع ہونے کے مشکل مرحلے سے دوچارتھا۔اس کی خانم نے نم آنکھوں کے ساتھ اسے الوداع کہا۔اور پھر وہ اپنے ہمراہ دو سو جنگجو لے کر یشکر کی تلاش میں روانہ ہوا۔راستا اسے معلوم تھا۔
٭٭٭
”یشکر نہیں۔“رشاقہ زور سے چیخی تھی۔”وہ خواب آور دوا کے زیر اثر ہے۔“
بالکل آخری لمحے میں یشکر نے تلوار کو روک دیا تھا۔اگر لحظے کے بیسویں حصے کی بھی دیر ہوجاتی تو قُتیلہ کی گردن کو جدا ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی تھی۔
قُتیلہ کی کہنیوں میں خم پیدا ہوا اور وہ لہراتے ہوئے زمین بوس ہو گئی تھی۔وہ سجدے کی حالت میں لیٹی تھی۔
رشاقہ بھاگ کر اس کے قریب پہنچی اور جونھی اسے ہاتھ لگایا وہ ایک جانب لڑھک گئی تھی۔
”میرا خیال ہے ،ملکہ قُتیلہ کے خیمے والی شراب بھی آلودہ تھی۔“رشاقہ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے قُتیلہ کا سر گود میں رکھ لیا تھا۔
امریل ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور قرص کی بڑی بیوی کے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیتا ہوا بولا۔”سچ سچ بک دو کہاں کہاں بے ہوشی کی دوا استعمال کی ہے۔“
وہ کراہتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں بولی۔”ہم نے صرف ان مٹکوں ہی میں خواب آور دوا ڈالی تھی۔اور وہیں سے ایک صراحی بھر کر ملکہ قُتیلہ کے خیمے میں رکھ دی تھی۔کہ اگر وہ مٹکوں کے بجائے خیمے سے شراب منگوائے تب بھی نہ بچ پائے۔“
منقر بن اسقح اپنے سابقہ قبیلے کے دو جوانوں کو مخاطب ہوا۔” کیسان اور ہلال،تم ان تینوں ویشیاﺅں (طوائفوں)کو تمام مٹکوں کی شراب تھوڑی تھوڑی پلا کرجائزہ لو۔کہیں اور آلودہ شراب بچ نہ گئی ہو۔“اس کا اشارہ قرص کی بیویوں کی طرف تھا۔
ہلال اور کیسان اثبات میں سر ہلاتے ہوئے قرص کی بیویوں کو ساتھ لے کر خیموں کی طرف بڑھ گئے۔
یشکر نے تلوار نیام میں کی۔رشاقہ بولی۔”اسے خیمے تک پہنچانے میں میری مدد کرو۔“
وہ بے اعتنائی سے بولا۔”خادم نہیں ہوں کسی کا۔“
منقر بن اسقح ،قُتیلہ کے ٹخنے تھامتا ہوا بولا۔”چلو میں مدد کر دیتا ہوں۔“
رشاقہ نے بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اوپر اٹھایااوردونوں نے اسے خیمے میں لے جا کر لٹا دیا۔
رشاقہ نے اس کے جوتے وغیرہ اتار کر اسے آرام دہ کر دیا تھا۔
”معزز جوان ،ایک چھوٹی سی درخواست کرنا چاہوں گا۔منقر بن اسقح نے قُتیلہ کے خیمے سے باہر نکل کر یشکر کو مخاطب کیا۔
”جی محترم۔“وہ چونکتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہوا۔
”اگر ناگوار نہ گزرے تو ملکہ قُتیلہ کے ہوش میں آنے تک آپ کہیں جانے کی کوشش نہ کرنا۔“
یشکر تلخی سے بولا۔”نہ تو میں اس نخرے پیٹی (بہت زیادہ اترانے والی ،زیادہ نخرہ کرنے والی)کا غلام ہوں اور نہ کسی دوسرے کا محتاج۔“
منقر لجاجت سے بولا۔”آپ کے جانے کی جواب طلبی ملکہ قُتیلہ ہم سے کرے گی۔اور اسے میری یا ملکان کی خطا گردان کر سزا دینے سے بھی باز نہیں آئے گی۔“
اس نے لاتعلقی سے کہا۔”یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔“
”یقینا ایک بہادر جنگجو مقابلہ ادھورا چھوڑ کر نہیں جانا چاہے گا،ملکہ قُتیلہ ہاری نہیں ہے اور نہ اس کے بے ہوش ہونے میں آپ کا کمال ہے۔“منقر نے ایک اور نکتہ اٹھایا۔
یشکر بے زاری سے بولا۔”ہاں ،مگر زندہ چھوڑ دینا میری غلطی ضرور ہے۔“
منقر ہنسا۔”تو یہ غلطی سدھارنے کے لیے رک جائیں۔“
یشکر اس کی بات کا جواب دیے بغیر اپنے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔اچانک اس کی نظر خیمے سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے امریل پر پڑی وہ ریت پر بیٹھا خلیسہ کے خیمے کی طرف متوجہ تھا۔یشکر کو دیکھ کر بھی اس نے کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
یشکر ٹھٹک کر رکا اور پھر اس کی جانب بڑھ گیا۔”اپنی سردارن (سردار کا موّنث میرے خیال میں سردارن ہی ہونا چاہیے)کے جاگنے کے بعد اس سے بات کر کے خلیسہ سے شادی کر لینا وہ انکار نہیں کرے گی۔اور میرا نام جاننے کے بعد تمھیں معلوم تو ہو گیا ہو گا کہ وہ میری بیوی نہیں ہے۔اس کا احسان ہے کہ میری زندگی بچائی اور اتنا عرصہ دیکھ بھال کی۔میں صبح قُتیلہ کے جاگنے بعد یہاں سے چلا جاﺅں گااور بے فکر رہو اب تمھارے خیمے میں رات گزار لیتا ہوں۔“
امریل نے کھڑے ہو کر اس کے ہاتھ تھامے۔”بلا شک وشبہ تم تلوار کی طرح زبان کے بھی دھنی ہو۔ تمھارے احسان کا وزن بہت زیادہ ہے ،کبھی امریل کی جان کی ضرورت پڑے تو بلا جھجک بتا دینا۔“
یشکر مسکرایا۔”بس اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا۔“
امریل خوش دلی سے ہنسا۔”کم از کم اس مشورے یا نصیحت کی مجھے ضرورت نہیں تھی۔“
یشکر بھی جوابی قہقہ لگا کر امریل کے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔
٭٭٭
دن چڑھے قُتیلہ کی آنکھ کھلی تھی۔جب وہ خیمے سے باہر نکلی تو باقی لوگ لاشوں وغیرہ کو دفنا چکے تھے۔بنو احمر والوں کے گھوڑے مع سازویراق (گھوڑے کا جنگی سامان ،زین ،کاٹھی۔لگام وغیرہ) ایک جانب بندھے تھے۔امریل کے خیمے کے سامنے سردارنجار بن ثابت کی عمدہ ابلق گھوڑی بندھی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ کی صبح سلامتی والی ہو۔“منقراسے دیکھتے ہی قریب آگیا تھا۔اس کے ہمراہ رشاقہ ،امریل ،ملکان، قریب اور اصرم وغیرہ بھی تھے۔
اس نے منقر سے پوچھا۔”وہ ابلق باقیوں سے علاحدہ کیوں بندھی ہے۔“
منقر نے کہا۔”یشکر اس کا دعوے دار ہے۔“
” بغیر ملکہ قُتیلہ کی اجازت کے وہ اتنی عمدہ گھوڑی کیسے لے سکتا ہے۔“ اس نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا۔”ویسے بھی یہ گھوڑی سردارِ قبیلہ کے ساتھ جچتی ہے۔“
منقر بن اسقح جرّات مندانہ لہجے میں بولا۔”گزشتہ رات اس نے ملکہ کے ساتھ مل کر دشمنوں کے حملے کو ناکام کر کے بنو طرید کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یقینا ملکہ قُتیلہ اس کی بہادری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک گھوڑی کو اتنی اہمیت نہیں دے گی۔“
”وہ ملکہ قُتیلہ والا سمند (اچھی نسل کا گہرے نسواری رنگ کا گھوڑاجو مبارک خیال کیا جاتا ہے )رکھ سکتا ہے لیکن یہ ابلق ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہی جچے گی۔“
”اگر کسی میں اتنی ہمت ہے کہ یشکر کی گھوڑی چھین سکے تو میدان میں آسکتا ہے۔“ انھیں پیٹھ پیچھے یشکر کی آواز سنائی دی۔نجانے وہ کس وقت وہاں پہنچا تھا۔
قُتیلہ ایک دم مڑی وہ اطمینان بھرے انداز میں کھڑا تھا۔
”غلط فہمی ہے تمھاری جو ملکہ قُتیلہ دور کر دے گی۔“قُتیلہ نے ساتھ کھڑے ملکان کی نیام سے تلوار کھینچی اور سرعت سے اس کی جانب بڑھی۔یشکر نے فوراََ ہی تلوار ننگی کرتے ہوئے اس کی لہراتی ہوئی تلوار کے سامنے پکڑ لی تھی۔اس کا وار روکتے ہی یشکر نے لات اس کی چھاتی میں رسید کرنا چاہی ،مگر اچھل کر پہلو بچاتے ہوئے اس نے یشکر کی ضرب سے خودکوبچایااور زوردار ٹکر یشکر کی چھاتی پر رسید کر دی۔ وہ لڑکھڑا کر چند قدم پیچھے ہو گیا تھا۔قُتیلہ نے تلوار گھماتے ہوئے پے در پے کئی وار کیے ،جنھیں اپنی تلوار پر سہارتے ہوئے یشکر الٹے قدم لیتا ہوا پیچھے ہٹنے لگا۔اور پھر ایک دم جھکائی دے کر اس نے قُتیلہ کا وار خطا کیا اور جیسے ہی اس کے جوابی وار کو قُتیلہ نے تلوار کی دھار پر روکا،اس کے پاﺅں کی بھرپور ٹھوکر قُتیلہ کے دائیں ہاتھ پر لگی۔تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری تھی۔
مگر قُتیلہ نے حیران ہونے میں وقت ضایع کیے بغیر زقند بھری اور زمین پر لوٹ لگاتے ہوئے نیچے پڑی تلوار کے پاس پہنچی۔جب وہ کھڑی ہوئی تو تلوار اس کے قبضے میں تھی۔وہ پینترے بدلتے ہوئے یشکر کے قریب ہوئی جو اس کے زقند بھرنے پر اپنی جگہ پر کھڑا رہ گیا تھا۔نجانے کیوں اس نے قُتیلہ کے تعاقب کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔دونوں کی تلواریں دوبارہ ٹکرائیں۔اور پھر تسلسل سے ٹکرانے لگیں۔امریل ،ملکان اور دوسرے آدمی حیرت سے انھیں گھور رہے تھے۔گزشتہ رات سے ان کی شروع ہونے والی لڑائی کسی کنارے نہیں لگ رہی تھی۔کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔
اچانک ہی قُتیلہ نے یشکر کے پیٹ کی طرف بڑھائی ہوئی تلوار کا زاویہ سرعت سے تبدیل کیا اور بجائے سیدھا آگے کرنے کو تلوار گھما کر یشکر کے کندھے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
یشکر نے اپنی تلوار اس کا وار روکنے کے لیے پیٹ کے سامنے پکڑی تھی لیکن جونھی قُتیلہ نے حکمت عملی بدلی اس کے پاس تلوار اٹھانے کا وقت نہیں تھا۔ایک دم بالائی بدن کو بائیں جانب جھکاتے ہوئے اس نے قُتیلہ کا وار خطا کرنے کی کوشش کی ،لیکن ایک اچٹتا ہوا وار اس کے دائیں کندھے پر خون کی ہلکی سی لکیر چھوڑ گیا تھا۔
زخم کی پروا کیے بغیر اس کی تلوارحرکت میں آئی اور قُتیلہ کے دائیں بازو پر گہری خراش ڈال دی۔ قُتیلہ اس وقت بغیر بازوﺅں والی قمیص میں تھی۔گندمی بانہوں پر کوئی کپڑا یا حفاظت خول وغیرہ موجود نہیں تھا۔
دونوں حفاظتی اقدام میں اچھل کر ایک قدم پیچھے ہٹے اور دوبارہ آگے بڑھتے ہوئے ٹکرا گئے۔اور پھر یشکر کا وار بچانے کے لیے قُتیلہ زمین پر لوٹ لگا کر تھوڑی دور ہوئی اسی وقت کمال جرّات کا مظاہرہ کرتے ہوئے منقر بن اسقح دونوں ہاتھ اٹھائے ان کے درمیان آگیا تھا۔
”بات سنیں ،ایک لحظہ کے لیے ٹھہریں۔“اس کا رخ قُتیلہ کی جانب تھا۔
”منقر بن اسقح ،ہٹ جاﺅ درمیان سے۔“وہ دانت پیستے ہوئے دھاڑی۔
منقر حوصلہ کرتے ہوئے بولا۔”ملکہ قُتیلہ ،یہ بے فائدہ لڑائی ہے،ہم خطرے کی حدود سے نہیں نکلے۔بنو احمر کی ایک چھوٹی سی ٹولی کو شکست دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے پورے قبیلے کو نابود کر دیا ہے۔وقت کم ہے اور کام زیادہ۔آپ دونوں اپنی طاقت اس فضول لڑائی میں ضایع کرنے کے بجائے دشمن کے مقابلے کے لیے بچا کر رکھیں۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ابلق گھوڑی ملکہ قُتیلہ کی ہو گی،نہیں تو اس فارسی غلام کے سر کو دھڑ سے علاحدہ ہونا پڑے گا۔“
یشکر نے منقر کے بازو سے پکڑ کر ایک جانب دھکیلا۔”منقر بن اسقح ہٹ جاﺅ ،آج اس گھمنڈی احمق کی زبان کو لگام دے کر ہی رہوں گا۔“
ایک دم ملکان ،امریل بھی ان کے درمیان میں آگئے تھے۔ملکان نے کہا۔”یہ مقابلہ ضرور ہوگا،لیکن فی الحال نہیں۔اس وقت دوسرے ضروری کام نمٹانے ہیں۔“
”ابلق ملکہ قُتیلہ کی ہو گی۔“خود سر قُتیلہ اپنی منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی۔”بنو طرید کی سردارن ملکہ قُتیلہ ہے۔ایک فارسی غلام کو بنو طرید کی لڑائی میں حاصل ہونے والے غنیمت سے جو کچھ ملے گا وہ ملکہ قُتیلہ طے کرے گی۔“
منقر بن اسقح یشکر کی جانب متوجہ ہوا۔”میں اپناقُلَہ ( بادامی رنگ کا گھوڑاجس کی پیٹھ پر ایک سیاہ دھاری ہوتی ہے )تمھارے حوالے کر سکتا ہوں۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلانا چاہا،اسی وقت رشاقہ نے قریب آکر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔”میرے پاس عمدہ جردہ (پیلا،کافوری،صحرائی ریت کے رنگ کا گھوڑا)ہے۔ وہ بھی رکھ لو۔“
یشکر نے رشاقہ کی التجا کرتی نگاہوں کو دیکھ کر تلوار نیام میں کی اورجواب دیے بغیر تیز قدموں سے چلتا ہوا امریل کے خیمے میں گھس گیا۔
قُتیلہ نے ملکان کی تلوار اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔”کل رات ملکہ قُتیلہ کو کیا ہوا تھا۔“
”آپ نے خواب آور دوا پی لی تھی۔“رشاقہ نے قریب ہو کر اس کے بازو سے رسنے والا خون اپنے نطاق سے صاف کیا اور پٹی پھاڑ کر بازو پر لپیٹنے لگی۔
اس نے سرسری انداز میں پوچھا۔”فارسی غلام ،نے تلوار کیوں روک دی تھی۔“
ملکان نے کہا۔”رشاقہ نے اسے آواز دے کر ایسا کرنے سے روکا تھا۔“
قُتیلہ کی نظریں رشاقہ کی جانب اٹھیں۔”اور اب بھی وہ تمھارے کہنے پر دفع ہوا ہے۔“
”مم….میں نے تو بس جھگڑا ختم کرنے کے لیے اپنے گھوڑے کی قربانی دینا چاہی تھی۔“ رشاقہ نظریں چرانے لگی۔
قیدیو ںکو لے آﺅ۔“رشاقہ سے مزید تعرض کیے بغیر قُتیلہ نے اگلا حکم جاری کیا۔
تھوڑی دیر بعد بنو احمر کا سردار نجار بن ثابت ،ضحاک بن عتیک ،قرص بن خطامہ ،اس کی تینوں بیویاں اور بنو احمر کا ایک اور شخص جس کا بازو ضحاک کی طرح غائب تھا۔قُتیلہ کے سامنے لائے گئے۔ ان کے علاوہ زیادہ خون بہنے سے باقی زخمی جانبر نہیں ہو سکے تھے۔
”ضحاک ،تمھیں معافی دے کر ملکہ قُتیلہ نے غلطی کی تھی۔“گفتگو کی ابتداءاس نے غدار قبیلہ سے کی تھی۔اسے قیدیوں کے ساتھ مصرف دیکھ کر رشاقہ یشکر کے خیمے کی طرف کھسکنے لگی۔تمام قیدیوں کی طرف متوجہ تھے۔وہ چھپاک سے خیمے میں جا گھسی۔
ضحاک نے ندامت سے سرجھکا لیا تھا۔
”اور تم نے ملکہ قُتیلہ کی اچھائی کا یہ بدلہ دیا۔“وہ قرص بن خطامہ کی طرف متوجہ ہوئی۔
وہ گڑگڑایا۔”بندے کو اپنی غلطی کا احساس ہے ،معافی کا خواست گار ہے۔آپ کی خدمت کر کے اس گناہ کو بخشوانے کی سعی کرنا چاہتا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ سے غلط امیدیں باندھ رہے ہو۔“اس کے ہونٹوں پر زہریلی ہنسی نمودار ہوئی۔ ”جانتے ہو آج رات تمھاری بیویوں پر کیا گزرے گی۔جنگ میں ہاتھ آنے والی صرف تین لڑکیاں اور طلب گار بیسیوں مرد۔بہ ہرحال تم ان کی چیخ و پکار سننے کے لیے زندہ نہیں رہو گے۔البتہ ایک دو دن بعد تم سے آملیں گی ،وہیں پوچھ لینا۔“
تینوں لڑکیوں کے چہرے پر زردی چھاگئی تھی۔قُتیلہ ان کے احساسات سے انجان ،نجار بن ثابت کی طرف متوجہ ہوئی۔”کیسے ہو ملکہ قُتیلہ کے آقا۔“
”تم بچ نہیں سکتیں۔“نجار بن ثابت میں سرداری کا زعم باقی تھا۔
وہ اعتماد سے بولی۔”امکانی بات ہے۔اور یقینی بات ہے کہ تم یہ دیکھنے کے لیے زندہ نہیں بچو گے۔“
نجار بن ثابت نے فوراََ پیشکش کی۔”ہم صلح کر سکتے ہیں۔“
قُتیلہ ہنسی۔”ایسا بس تم سوچتے ہو۔“
نجار بن ثابت نے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔”تم بنو احمر کے ساتھ جنگ نہیں کر سکو گی۔ میرادست راست قدامہ بن شیبان بدلہ ضرور لے گا۔وہ زیادہ سے زیادہ چار پانچ دن ہماری آمد کا انتظار کرے گا۔دوسری صورت میں وہ فوراََ ہی بنو احمر پر چڑھائی کر دے گا۔“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے ”ملکہ قُتیلہ اسے منع بھی نہیں کرے گی۔البتہ مقابلہ کرنا ملکہ قُتیلہ کا حق ہے۔“
”میں منھ مانگا جرمانہ ادا کرسکتا ہوں۔“نجار گھبرا گیا تھا۔وہ سرپھری لڑکی کسی دھمکی کو خاطر میں نہیں لا رہی تھی۔
”تمھیں زحمت کی ضرورت نہیں ،ملکہ قُتیلہ چھیننا جانتی ہے۔“اس نے اطمینان بھرے انداز میں ارادہ ظاہر کیا۔
”تم نے میرے دو بھائیوں کو قتل کیا ،میں دونوں کا خون معاف کرتا ہوں۔تمھیں اپنی بیوی بنا کر خاتون اول کا درجہ دوں گا۔اتنے بڑے قبیلے کی ملکہ بنو گی۔“
قُتیلہ نے زوردارقہقہ لگایا۔” اس پیش کش پر تو ملکہ قُتیلہ تم پر قابو پانے سے پہلے بھی غور نہ کرتی۔“
”ٹھیک ہے ،بنو طرید اور بنو احمر حلیف بن کر ایک دوسرے کی مدد کر سکیں گے۔اور میں ایک ہزار اونٹ ،بیس گھوڑے ،دس تلواریں اور سو من غلہ پیش کر سکتا ہوں۔“نجار نے جان چھڑانے کی کوشش جاری رکھی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ اس سے زیادہ مال غنیمت ،بنو احمر کو جڑ سے اکھاڑ کر اکھٹا کرے گی۔“یہ کہہ کر وہ اپنے آدمیوں کو مخاطب ہوئی۔”انھیں تیراندازی کے ہدف کے لیے گاڑے گئے ستونوں سے باندھ دو۔اور تمام بچوں کو کہو تیر اندازی کے لیے تیار ہو جائیں۔ملکہ قُتیلہ کے پاس جیتنے والوں کے لیے تین بچھیرے(گھوڑے کے بچے) موجود ہیں۔“ تیراندازی کے لیے انھوں نے میدان میں کھجوروں کے تنے گاڑے ہوئے تھے۔اور ان کے ساتھ کپڑے کے ہدف لگا کر وہ لڑکوں اور لڑکیوں کو تیراندازی کی مشق کروایا کرتی تھی۔
قُتیلہ کی بات سن کر تمام قیدیوں کے چہرے فق ہو گئے تھے۔اناڑی تیراندازوں کے لیے تختہ مشق بننا کافی اذیت ناک موت تھی۔جبکہ تلوار کے ایک وار سے مرنا یا کسی منجھے ہوئے نشانہ باز کا ہدف بننا اس کی نسبت کافی آسان موت کہلائی جا سکتی ہے۔
قرص بھرائے ہوئے لہجے میں بولا۔”ملکہ قُتیلہ ،مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے اور میں سزا کاٹنے کے لیے بھی تیار ہوں ،لیکن میری بیویوں کو معاف کر دیا جائے۔“
قُتیلہ بے رحمی سے بولی۔”اس کا انحصار خود ان پر ہے۔اگر وہ بنو طرید کے مردوں کو خاطر خواہ طریقے سے خوش کر پائیں تو شاید موت سے بچ جائیں۔“
قرص نے درخواست دہرانے کے بجائے موضوع تبدیل کیا۔”میں مرنے سے پہلے ملکہ قُتیلہ کو ایک تحفہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔“
وہ طنزیہ انداز میں ہنسی۔”یہ حیلے ملکہ قُتیلہ کو موم نہیں کرسکتے۔“
”میں موت کا حق دار ہو ں ملکہ قُتیلہ ،اس ضمن میں تمھیں کبھی مجرم نہیں ٹھہراﺅں گا۔آپ ایک بہادر ملکہ ہیں اور بہادروں کی قدر کرنا اشراف کا شیوہ ہے۔ موت کے بعد ہمارا سارا سامان یوں بھی آپ کے قبضے میں آجائے گا لیکن میں بذات خود، طور تحفہ پیش کروں گا تو یقینا آپ جیسی خوب صورت ملکہ کو ہمیشہ یادرہوں گا۔بس یہی استدعا کروں گا کہ میرے تحفے کو نہ ٹھکرانایہ مرنے والے کی آخری خواہش ہے۔آپ زیور پسند نہیں کرتیں لیکن آپ کے گلے میں طوق موجود ہے۔قرص بن خطامہ آپ کو خلیج العربی کی تہہ سے نکلے ہوئے کالے موتیوں کاتحفہ پیش کرے گا۔ “عاجزی سے کہتے ہوئے وہ اپنی بڑی بیوی کو مخاطب ہوا۔”عاصیہ بنت ابو حیان وہ قیمتی ہار ملکہ قتیلہ کی خدمت میں پیش کرو میں مرنے سے پہلے ملکہ قُتیلہ کی صراحی دار گرن میں وہ ہار دیکھنا چاہتا ہوں۔اور امید کرتا ہوں کہ میری یہ کوشش تم تینوں کی سختیوں کو کم کر دے گی۔“
اس کی سب سے بڑی بیوی نے عقیدت مندانہ انداز میں سرجھکایااور اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی۔امریل نے ملکہ قُتیلہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھااور اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلاکر گویا اسے کچھ کرنے سے منع کردیا تھا۔
عاصیہ جلد ہی خیمے سے نکل آئی تھی۔ اس نے ہاتھ میں بالشت بھر لمبا و چوڑا اور چار انگل موٹاچوکور ڈبا پکڑا ہوا تھا۔چھوٹے قدموں سے چلتے ہوئے وہ قُتیلہ کے قریب پہنچی جو دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔قُتیلہ سے قدم بھر دور رک کر عاصیہ نے ڈبے کا ڈھکن آہستہ آہستہ کھولتے ہوئے ایک دم ڈھکن ہٹا کر ڈبا قُتیلہ پر پھینک دیا تھا۔بجلی کے کڑکے کی طرح کالا سانپ قُتیلہ کی طرف بڑھا اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتی اس کے بازو پر ڈنک مار دیا۔وہ افعون تھا۔(عربی میں الافعیٰ مادہ سانپ کو کہتے ہیں اور اس کا مذکر افعون ہوتا ہے۔اس کا رنگ کالاہوتا ہے۔اور یہ نہایت بہادر اور زہریلا ہوتا ہے۔بعض سانپ ایسے ہوتے ہیں جن دو سینگ بھی ہوتے ہیں۔ان کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے۔صاحب حیوة الحیوان کے بہ قول یہ ایک ہزار سال تک زندہ رہتا ہے۔اس کی کنیت ابو یحییٰ اور ابو حیان ہے۔ان میں زیادہ خطرناک سجستان کے سانپ ہوتے ہیں )عرب کا زہریلا سانپ۔قُتیلہ نے فوراََ ہی اس کی گردن میں ہاتھ ڈالا ،لیکن کریہہ کیڑا اس سے چست ثابت ہوا تھا۔اس کے دائیں بازو میں جیسے سوئی چبھی تھی۔ اور پھر ایک اذیت کی لہر پورے بازو میں خون کی طرح گردش کرنے لگی۔اس کے ہونٹوں سے ہلکی سی سسکی نکلی اور ساتھ ہی اس نے خنجر سے افعون کی گردن علاحدہ کر دی تھی۔
نیچے گری گردن میں حرکت ہوتی دیکھ کر ملکان نے اپنے جوتے کی ایڑی سے کچل دی تھی۔
”ہاہاہا….“قرص نے ہذیانی انداز میں قہقہ لگایا۔”میرا تحفہ پسند آیا ملکہ قُتیلہ۔اب تمھارا روشن چہرہ کالا ہو جائے گا۔آہ ہ …. تمھاری بھیانک موت سے میرے دل کوکتنا سکون مل رہا ہے۔شکریہ میری پیاری بیوی عاصیہ بنت قیس۔“چونکہ ابو حیان افعون کی کنیت ہے۔ اس لیے اس نے پہلے اپنی بیوی کو عاصیہ بنت ابو حیان کہا تھا تاکہ اسے پتا چلے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔یوں بھی انھوں نے تو مرنا تھا لیکن مرنے سے پہلے وہ قُتیلہ سے اپنی موت کا بدلہ لے چکا تھا۔
قُتیلہ کے چہرے پر موت کی زردی چھا گئی تھی۔اذیت جیسے اس کے پورے جسم میں لہو کی طرح حرکت کرنے لگی تھی۔ ملکان نے فوراََ ہی اس کے بازو پر ڈنک لگنے کے مقام سے ذرا اوپر کر کے مضبوطی سے کپڑا باندھ دیا تھالیکن وہ کوئی ایسا عمل نہیں تھا جس سے قُتیلہ کے زندہ بچنے کی امید کی جاسکتی۔ ایک دم وہاں موجود بندوں نے چیخ و پکار شروع کر دی تھی۔قُتیلہ گھٹنوں کے بل گری اور پھر آہستہ آہستہ پیچھے لڑھک گئی۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی موت اتنے عجیب انداز میں ہوگی۔ اورمیدان جنگ میں کسی سے شکست نہ کھانے والی ہاتھ بھر کے کریہہ کیڑے کی وجہ سے موت سے ہم کنار ہو گی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: