Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 43

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 43

–**–**–

یشکر نے حیرانی سے رشاقہ کوخیمے میں داخل ہوتے دیکھا۔
”پریشان ہو گئے۔“خوب صورت مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے وہ اس کے قریب ہوئی اور اس کے زخمی کندھے کو دیکھنے لگی۔زخم اتنا بڑا نہیں تھا کہ یشکر دیکھ بھال کی ضرورت محسوس کرتا،مگر رشاقہ فوراََ اپنے نطاق سے ایک پٹی پھاڑ کر اس کا زخم صاف کرنے لگی۔
وہ خشک لہجے میں بولا۔”یہ اتنا بڑا زخم نہیں ہے کہ علاج کی ضرورت پڑے۔“البتہ اس نے رشاقہ کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
وہ شرارتی لہجے میں بولی۔”میں علاج نہیں کر رہی خون صاف کر رہی ہوں۔“
یشکر نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔”اپنی ملکہ کی چمچی میرے پاس کیا لینے آئی ہے۔“
وہ برا مناتے ہوئے بولی۔”میں ملکہ قُتیلہ کی چمچی نہیں سہیلی ہوں۔اور سچ کہوں تو اس وقت ان کی نظر سے چھپ کر آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں۔“
”کس بات پر۔“یشکر نے حیرانی ظاہر کی۔
”آپ نے جھگڑا ترک کر کے میرا مان رکھ لیا۔“
”میں نے منقر بھی اسقح کی بات مانی ہے کہ وہ عقل مند اور مخلص شخص ہے۔“
”مجھے آپ کے جھوٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ کندھا صاف کر کے وہ اس کے ساتھ ہی بستر پر بیٹھ گئی تھی۔
”بہتر ہوگا تم وہاں بیٹھو ،ورنہ وہ نک چڑھی گھمنڈی لونڈیا یہاں آگئی تو جانے کیا بکواس شروع کر دے۔اور مجبوراََ مجھے اس کی زبان کاٹنا پڑے۔“
رشاقہ شاکی ہوئی۔”آپ میرے سامنے ،میری سہیلی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”میں اس کے سامنے بھی اس کا مذاق اڑاتا رہاہوں۔“
وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے ناز سے بولی۔”پتا ہے بنو عقرب کے کتنے ہی جوان مجھ سے شادی کے خواہش مند تھے۔اور اب بنو طرید کے بھی زیادہ تر جوان یہ تمنا ظاہر کرچکے ہیں۔“
وہ سادگی سے بولا۔”میں تمھارا سرپرست نہیں ہوں کہ کسی کے ساتھ تمھارا رشتا جوڑ سکوں۔ اپنی گھمنڈی سہیلی کو بتاﺅ تاکہ کسی مناسب جوان سے تمھاری شادی کروادے۔یا کسی کو پسند کرتی ہو تو اسے اس کا نام بتادو۔“
وہ برامناتے ہوئے بولی۔”آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ میں نے بنو عقرب کے کسی جوان کو کیوں پسند نہیں کیا۔یہاں تک کہ ضحاک بن عتیک نے میرے حصول کے لیے سردھڑ کی بازی لگا دی تھی۔“
”ضرورت ہی کیا ہے پوچھنے کی۔“
وہ شکوہ بھری نگاہیں اس کے چہرے پر گاڑتے ہوئے بولی۔”میں نے جوان ہونے کے ساتھ ہی ایک دلیرفارسی بُداغ(شمشیر زن) کا ذکر سنا تھا،جس نے قزاقوں کا حملہ پسپا کر دیا تھا۔اور پھر ایک دن پتا چلا کہ وہ فارسی جوان بنو نوفل کے درجن بھر آدمیوں کو تہہ تیغ کر کے اپنی محبوبہ کو ساتھ لے کر نکل گیاہے۔اور میں غائبانہ ہی اس سے متاثر ہو گئی تھی۔میں نے اپنے دماغ میںاس کی ایک خیالی تصویر بنائی ہوئی تھی،جب آپ اعمیٰ کے نقلی نام سے سامنے آئے تو مجھے لگا میرے فارسی محبوب کو بالکل ایسا ہونا چاہیے۔ اور خوش قسمتی سے وہ آپ ہی تھے۔“
اس کا بے باک اعتراف سن کر یشکر حیران رہ گیا تھا۔بڑی مشکل سے اس کے منھ سے نکلا۔”رشاقہ تم غلط دروازہ کھٹکھٹا رہی ہو۔“
وہ غصے سے بولی۔”کیا سردارزادی بادیہ نے دوسری شادی سے منع کیا ہے۔“
یشکر کے منھ سے دکھ بھرے انداز میں نکلا۔”وہ باقی نہیں رہی رشاقہ۔“
”کیا….“اب حیران ہونے کی باری رشاقہ کی تھی۔
یشکر خاموش بیٹھا رہا۔
”کیا ہوا اسے۔“رشاقہ اس کا ہاتھ تھام کر سہلانے لگی۔
یشکر اذیت بھرے لہجے میں بولا۔”میں اس کی حفاظت نہ کر سکا۔“
رشاقہ لجاجت سے بولی۔”مجھے تفصیل بتاﺅ ناں۔“
”کسی کے زخم کریدنا اچھی بات نہیں ہوتی۔“یشکر نے صفائی سے پہلو تہی کی۔
”کیا مجھے اپنے زخموں پر مرہم رکھنے کی اجازت نہیں دو گے۔“ہاتھ چھوڑ کر وہ کھسکتے ہوئے مزید قریب ہوئی او راس کے کندھے پر سر ٹیک دیا۔
”میں بادیہ جتنی محبت کسی سے نہیں کرسکتا۔“
”آپ کا ساتھ مانگا ہے ،بادیہ جتنی محبت کی طلب گار نہیں ہوں۔“یشکر کا چہرہ اپنی جانب موڑتے ہوئے اس نے اپنی پرکشش آنکھیں سے اسے مسحور کرنا چاہا۔
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”میں خلیسہ کوبھی انکار کر چکا ہوں۔“
”آپ کا خلیسہ کوانکار کرنا کوئی ایسی ناخوشگوار بات نہیں کہ میں غمگین ہو سکوں۔یہ خوشی کی بات ہے۔میرا سوال اپنے متعلق ہے۔کیا میں خوب صورت نہیں ہوں ؟“
”میں آج یا کل تک بنو طرید چھوڑ دوں گا۔“
وہ جلدی سے بولی۔”رشاقہ خوشی سے ساتھ جائے گی۔“
”دشمن میری تاک میں ہیں ،اپنی سردارزادی کی حفاظت نہ کر سکاتمھیں کیسے بچاﺅں گا۔“
وہ پرعزم لہجے میں بولی۔”میں کندھے سے کندھا ملاکر دشمنوں کے خلاف آپ کا سہارا بنوں گی۔“
یشکر کچھ کہنے کے لیے منھ کھول ہی رہا تھاان کے کانوں میں چیخ وپکار کی آواز پڑی۔یوں جیسے کوئی حملہ ہو گیا ہو۔ دونوں بھاگ کر باہر نکلے۔اسی وقت یشکر کی نگاہ گھٹنوں کے بل گرتی ہوئی قُتیلہ پر پڑی۔رشاقہ اس کی طرف بھاگی۔
”کیا ہوا؟“اس نے قریب کھڑے ایک آدمی سے پوچھا۔
وہ دکھی لہجے میں بولا۔”ملکہ قُتیلہ کوافعون نے ڈس لیا ہے۔“
یشکر سرعت سے آگے بڑھا۔”ہٹو۔“اس نے قُتیلہ کو سنبھالتے ہوئے ملکان اور منقر بن اسقح اور رشاقہ کو ایک جانب دھکیلتے ہوئے پوچھا۔”سانپ نے کس جگہ کاٹا ہے۔“
ملکان نے جواب دیا۔”بازو پر۔“
دُنبالہ آنکھوں میں اذیت اور ویرانی کا راج تھا۔اس کے ہونٹ یشکر کو دیکھ کر ہنسنے کے انداز میں کھنچے مگر وہ ایک ناکام کوشش تھی۔اس نے ہاتھ میں اب تک وہ خنجر تھاما ہوا تھا جس سے اس نے افعون کا سر کاٹا تھا۔
اس کے ہاتھ سے خنجر لے کر یشکر نے فوراََ سانپ کے ڈنک لگنے کی جگہ ایک چیرا لگایااور ایک دم جھک کر زخم کے ساتھ اپنے ہونٹ جوڑ دیے۔وہ جگہ نیلی پڑنا شروع ہو گئی تھی۔وہ سرعت سے خون چوس رہا تھا۔زہر کا ذائقہ اس کے لیے انجان نہیں تھا۔کلی بھر خون چوس کر اس نے ایک جانب تھوکا اور دوبارہ قُتیلہ کے بازو سے ہونٹ جوڑ دیے۔اگلی کلی کرکے وہ دوبارہ خون چوسنے لگا۔وہ بار بار یونھی کرتا رہا یہاں تک کہ قُتیلہ کے خون میں زہر کا ذائقہ ختم ہو گیا تھا۔قُتیلہ کو بھی اپنے رگ و پے میں ہونے والی اذیت ختم ہوتی محسوس ہوئی۔اس کی آنکھیں نقاہت سے بند ہو رہی تھیں۔
”دودھ کا کٹورا بھر لاﺅ۔“قریب کھڑی رشاقہ کو کہہ کریشکر نے قُتیلہ کی ٹانگوں اور کندھوں کے نیچے ہاتھ ڈالااور بانہوں میں بھر کر اوپر اٹھالیا۔اس وقت قُتیلہ کی بند ہوتی آنکھوں میں شدید حیرانی ابھری لیکن وہ خاموش رہی تھی۔خیمے میں لے جاکر یشکر نے اسے لکڑی کے تخت پر لٹایا۔اتنی دیر میں رشاقہ بھاگتے ہوئے دودھ کا بھرا ہوا کٹورا لے آئی تھی۔
یشکر نے قُتیلہ کے کندھے کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے سہارا دے کر دودھ کا کٹورا اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔تھوڑا سا دودھ پی کر رشاقہ نے چہرہ ہٹانا چاہا ،مگر یشکر سخت لہجے میں بولا۔
”پیو….پورا کٹورا خالی کرو۔“
وہ دوبارہ پینے لگی۔کٹورا خالی ہونے تک یشکر نے اسے لیٹنے کی اجازت نہیں دی تھی۔کٹورا خالی ہوتے ہی یشکر نے اسے آرام سے پیچھے لٹادیا۔
رشاقہ اس کے بازو کے زخم کو صاف کررہی تھی۔
”پٹی نہ باندھنا۔اسے اور دودھ پلاﺅاور فی الحال سونے نہ دینا۔“رشاقہ کو ہدایت دے کر وہ کھڑاہو گیا۔
رشاقہ ،بلیلہ کو مخاطب ہوئی۔”اور دودھ لے آﺅ۔“وہ سرہلاتی ہوئی باہر نکل گئی تھی۔ طبقہ، خلیسہ اور دوسری خواتین کے اکٹھ سے خیمہ بھر گیا تھا۔یشکر باہر نکل گیا۔
منقر بن اسقح نے قریب آکر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا۔ ”شکریہ فارسی شہزادے۔“
یشکر نے مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔
ملکان نے اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔”ویسے افعون کے ڈسے ہوئے شخص کا زہر چوسنے والے کو کبھی بچتے نہیں دیکھا۔“
یشکر ہنسا۔” معلومات میں اضافہ کرنے کا شکریہ۔“
امریل اس کے قریب آکر عقیدت سے بولا۔”آپ میری توقع سے زیادہ صلاحیتوں والے ہیں۔“
باقی بھی قریب آکر اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان تھے۔یشکر ا ن سے اصل واقعہ پوچھنے لگا۔جو منقر بن اسقح نے تفصیل سے دہرا دیا تھا۔آخر میں وہ پوچھ رہا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کے بعد ہمارے سردار آپ ہیں ،بتائیں ان کا کیا کریں؟“اس کا اشارہ قیدیوں کی طرف تھا۔
یشکر مزاحیہ لہجے میں بولا۔”ان کا فیصلہ تو تمھاری سردارن ہی کرے گی ،میں نے کچھ کہا تو شاید اس حالت میں بھی تلوار سونت کر اٹھ کھڑی ہو۔“
ملکان ہنسا۔”نہیں اس حالت میں وہ ایسی غلطی نہیں کرے گی۔“
یشکر نے مشورہ دیتے ہوئے کہا۔”تمام کو ان ستونوں سے بندھا رہنے دو ،سانپ لانے والی خاتون کو بھی ستون کے ساتھ باندھ دو۔تاکہ یہ چند گھنٹے دھوپ سینک سکیں۔دوتین آدمی ان کا دھیان رکھو اور باقی آرام کرو۔“
”مناسب مشورہ ہے۔“منقر نے پسندیدگی کے انداز میں سرہلادیا تھا۔
٭٭٭
قیدی سارا دن وہیں بندھے رہے تھے۔بنو طرید والے انھیں رات کو بھی کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔پیاس سے ان کی بری حالت تھی۔عاصیہ ہر گھڑی دو گھڑی بعدخوف زدہ انداز میں سسکیاں بھرنے لگتی۔قرص نے بھی قُتیلہ کو بچتے دیکھ لیا تھا۔اور اب وہ اس کا کیا حشر کرنے والی تھی اس کے بارے اندازہ لگانا بالکل بھی مشکل نہیں تھا۔اندھیرا چھاتے ہی چند مرد عاصیہ کو کھول کر لے گئے تھے۔تھوڑی دیر بعد اس کی اور قرص کی دوسری دو بیویوں کی چیخیں قیدیوں کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔
رات کا کھانا کھا کر ملکان ،منقر،قریب ،اصرم ،امریل اور رشاقہ، یشکر کے خیمے میں جمع ہو گئے تھے۔انھیں اکٹھا ہو کر اپنے پاس آتا دیکھ کر یشکر حیران رہ گیا تھا۔گفتگو کی ابتداءمنقر نے کی تھی۔
”ہم مشورہ کرنے حاضر ہوئے ہیں۔“
یشکر بے اعتنائی سے بولا۔”اس کے لیے تمھاری سردارن موجود ہے۔“
منقر نے کہا”وہ نقاہت کی وجہ سے گہری نیند میں ہے۔اور مجھے لگتا ہے ہمیں جلد از جلد بنو احمر کے باقاعدہ حملے کے سدباب کے لیے کچھ عملی اقدام کرنے پڑیں گے۔“
یشکر نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا۔” بالکل ٹھیک سوچ رہے ہو۔لیکن اس متعلق میرا مشورہ بے کار ہے۔ کیوں کہ میں کل صبح بنو طرید سے جا رہا ہوں۔“
منقر شاکی ہوا۔”ہمیں مشکل میں چھوڑ کرچلے جانے کو میں تمھاری بزدلی تو نہیں مگر اپنے ساتھ زیادتی ضرور سمجھوں گا۔بنو طرید نے تمھیں بیماری کی حالت میں پناہ دی۔تم نے اتنا عرصہ یہاں بیماری کی حالت میں گزارا اور جب صحت مند ہو گئے اور بنو طرید کوتمھاری مدد کی ضرورت پڑی تو تم جارہے ہو۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”گزشتہ رات میں نے جان پر کھیل کر بنو طرید کے احسان ہی کا بدلہ چکایا ہے۔بلکہ آج بنو طرید کی سردارن کا احسان بھی لوٹا چکا ہوں۔اور اب یہاں سے ڈر کر نہیں جا رہا بلکہ جانا میری مجبوری ہے۔“
”بجا فرمایا۔“منقر برا مانے بغیر بولا۔”مگر ہماری تعداد نہایت مختصر ہے ،ملکہ قُتیلہ بستر کی ہو کر رہ گئی ہے اور اس وقت ہمیں تم جیسے لڑاکوں کی ضرورت ہے ورنہ بنو احمر کے عتاب سے ہمیں صحرائے اعظم کے کسی کونے میں پناہ نہیں ملے گی۔“
یشکر تجزیہ کرتا ہوا بولا۔”اگر بنو احمر کے حملہ آور اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوگئے ہوتے تو بنو طرید کے مویشی اور سازوسامان وغیرہ کو بنو احمر تک لے جانے میں انھیں کم از کم پانچ دن لگ جاتے۔بنو احمر والے بھی اتنے یا اس سے ایک ادھ دن زیادہ انتظار کریں گے اور اس کے بعد اپنے آدمیوں کی خیر خبر لیں گے۔اور پھر وہاں سے چل کر یہاں تک آنے میں گھڑسواروں کو بھی ایک ادھ دن تو لگ جائے گا۔اس لحاظ سے تمھارے پاس چھے دن ہیں جس میں سے ایک دن گزر چکا ہے۔اور امید ہے تین چار دنوں تک تمھاری سردارن بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔اس لیے میری ضرورت توباقی نہ رہی۔“
ملکان کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”یہ تجزیے ہم پہلے سے کر چکے ہیں ، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ تم پر بنو طرید کا کوئی احسان باقی نہیں رہا،بس یہ بتا دو ہماری درخواست پر رکو گے کہ نہیں۔“
یشکر ہنسا۔”تمھاری سردار ن یہ درخواست کرے تو سوچا جا سکتا ہے۔“
منقر خفیف ہوتا ہوا بولا۔”اسے تم جانتے ہو۔“
رشاقہ امید بھرے لہجے میں بولی۔”اگر میں کہوں پھر بھی نہیں رکو گے۔“
”تم لوگوں نے مجھ سے غلط امیدیں باندھ لی ہیں۔میں اکیلا بنو احمر کے خلاف اپنا سر کٹانے کے علاوہ کیا کر سکتا ہوں۔“
رشاقہ بے باکی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی۔”تم اکیلے نہیں ہو۔پورا بنو طرید تمھارے پیچھے کھڑا ہے۔“
یشکر بے بسی سے بولا۔”بنو طرید کی سردارن ایک تنک مزاج گھمنڈی ہے۔ہم دونوں اکٹھے رہے تودشمن کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف تلوار سونتے رہیں گے۔“
منقر بن اسقح بولا۔”گزشتہ رات تم دونوں نے ڈیڑھ درجن بہترین لڑاکوں کو خاک چٹائی ہے۔باقی ملکہ قُتیلہ اقرار کرے یا نہ کرے مگر وہ تم سے متاثر ہے۔ بس تھوڑی سی ضدی ہے اور اپنی مرضی چلانا پسند کرتی ہے ورنہ بلا شک و شبہ وہ بہترین و باصلاحیت سردارن ہے۔اپنے قبیلے کے افراد سے محبت کرتی ہے۔اور ان کی بہتری کے لیے کوشاں رہتی ہے۔“
یشکر حتمی لہجے میں بولا۔”میں چند دن سے زیادہ یہاں نہیں ٹھہر سکتا۔“
”کم از کم ایک ماہ۔“رشاقہ اس کا بازو پکڑ کر ناز بھرے انداز میں اس کے قریب ہوئی۔اور پھر یشکر کے اثبات سے پہلے اعتماد سے بولی۔ ”بس طے ہو گیا ہم دونوں ایک ماہ بنو طرید میں رہیں گے اور پھر تم لوگوں سے الوداع ہوں گے۔“
منقر نے حیرانی سے پوچھا۔”ہم لوگ….؟“
وہ اطمینان سے بولی۔”جی چچا جان،میں اور یشکر ….“
یشکر نے تردید یا تائید کی کوشش نہیں کی تھی۔
منقر نے حیرانی سے پوچھا۔”ملکہ قُتیلہ سے پوچھ لیا ہے۔“
رشاقہ نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”انھیں کیا اعتراض ہوگا۔“
منقر نے امکان ظاہر کیا”اگر اس نے منع کردیا۔“
”وہ بعد کا مسئلہ ہے۔“رشاقہ کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
٭٭٭
اگلے دن قُتیلہ ایک بار پھر اسی میدان میں قیدیوں کے سامنے موجود تھی۔نقاہت اور کمزوری کے باوجود اس نے بستر پر لیٹنا پسند نہیں کیا تھا۔
قیدیوں کو وہاں مسلسل بندھے ہوئے ایک دن اور رات کا عرصہ ہورہا تھا۔صرف عاصیہ کو رات کے وقت کھول کر ایک علاحدہ اذیت کے لیے لے جایا گیا تھاکیوں کہ قُتیلہ نے سونے سے پہلے اس کے لیے خصوصی ہدایات دی تھیں۔اور رات کے پچھلے پہر پھر لا کر باندھ دیا گیاتھا۔
سخت بندشیں، پورا دن اور رات متواتر کھڑے رہنا،بھوک ،پیاس اور آنے والی اذیت کا خیال وہ ایک بھیانک عذاب میں پھنس گئے تھے۔
”تو قرص بن خطامہ ،ہم کیا بات کر رہے تھے ؟“قرص کے سامنے رکتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر زہریلاتبسم نمودار ہوا۔
”وہ خشک لبوں کو تر کرتے ہوئے بولا۔”مجھے اپنی موت کے بارے پہلے سے معلوم ہے۔“
”چھوڑواس موضوع کو، وہی باتیں کرو ناں جو کل کر رہے تھے۔ملکہ قُتیلہ کے حسن کی تعریف کرو۔اور تحفے وغیرہ کی بات کرو۔ملکہ قُتیلہ کو تیرا انداز بہت پسند آیاتھا۔بالکل ایسے ہی جیسے تمھاری بیویوں کو ملکہ قُتیلہ کا انداز پسند آیا ہوگا؟….کیوں بنت ابو حیان….؟“وہ طنزیہ انداز میں عاصیہ کو مخاطب ہوئی۔جو اس وقت بغیر لباس کے ستون سے بندھی ہوئی سسکیاں بھر رہی تھی۔اس کے جسم پر جگہ جگہ دانتوں اور ناخنوں کے نشان نظر آرہے تھے۔موت اتنی بھی مشکل نہیں ہوتی جتنی ان کے لیے بنا دی گئی تھی۔اس وقت وہ زندگی کی نہیں آسان موت کی مناجاتیں کر رہے تھے۔اور ملیح چہرے والی پرکشش دوشیزہ کتنی ظالم تھی یہ بات وہ پہلے نہیں بھی جانتے تھے تو اب انھیں پتا چل گیا تھا۔
نجار بن ثابت بولا۔”ہم تو قرص کی سازش میں شریک نہیں تھے،ہمارے ساتھ ایسا سلوک کس لیے۔“
”ملکہ قُتیلہ کے لیے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے وہ اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی۔منقر اور ملکان کو اس نے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا۔
بستر پر نشست سنبھالتے ہوئے اس نے دونوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیااور صراحی اٹھا کر پیالے بھرنے لگی۔
ملکان نے آگے بڑھ کر صراحی اس کے ہاتھ سے لی اور تینوں جام بھر دیے۔منقر کو ایک پیالہ پکڑا کر وہ اپنا پیالہ لے کر بیٹھ گیا۔
” فارسی چلا گیاہے۔“ہلکا سا گھونٹ لیتے ہوئے قُتیلہ نے گفتگو کی ابتداءکی۔
منقر اور ملکان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر منقر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ”نہیں۔“
وہ دھیرے سے بولی۔”جانے دو ،وہ ابلق گھوڑی بھی دے دینا، کوئی اور چیز مانگے توبھی انکار نہ کرنا۔“
منقر بولا۔”رات ہم نے مل کر اسے رکنے کا کہا تھا ،وہ ایک ماہ کے لیے رکنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔اس دوران ہم بنو احمر کے لشکر کے لیے کوئی بہتر منصوبہ بندی کر لیں گے۔“
قُتیلہ کے چہرے پر تیز چمک ابھری۔منقر کو لگا وہ یہ سن کر خوش ہوئی تھی۔لیکن جب وہ بولی تو الفاظ چہرے پر ظاہر ہونے والی کیفیات سے مختلف تھے۔”کوئی ضرورت نہیں اسے روکنے کی۔کہہ دو ملکہ قُتیلہ اس وقت لڑنے کی حالت میں نہیں ہے اس لیے وہ دفع ہو سکتا ہے۔“
ملکان بولا۔”ہم نے اتنی منتیں کر کے اسے رکنے پر آمادہ کیا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وہ پھر بھی راضی نہیں تھا۔آخر میں رشاقہ کے کہنے پر ماناہے۔“
اس کی طنزیہ ہنسی ابھری۔”تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے۔“
منقر نے اس کے خیال پر تبصرہ کرنے کے بجائے اصل مسئلے کی طرف اس کی توجہ مبذول کرائی۔”ملکہ ،اس وقت ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں ایسے میں اچھے لڑاکوں کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔“
اس نے منھ بنایا”ملکہ قُتیلہ کب تک کرائے کے گدھوں پر وزن ڈھوتی رہے گی۔“
منقر فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”سامان زیادہ ہو اور باربرداری کے جانور کم ہوں تو کرائے کے جانوروں کا حصول مجبوری بن جاتی ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولی”ملکہ قُتیلہ زائد سامان کو پھینکنا پسند کرے گی کیوں کہ ملکہ قُتیلہ کو مجبور ہونا نہیں آتا۔“
منقر نے ہمت کا مظاہرہ کیا۔”وہ آپ کا محسن ہے ملکہ۔“
”ملکہ قُتیلہ کا چہرہ اس وِشاق (لونڈی)کی طرح ہے جو اسے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔اور یہ کوشش اپنی محبوبہ کے لیے تھی ملکہ قُتیلہ کے لیے نہیں۔“
منقر ہتھیار ڈالتے ہوئے بولا۔”ہم نے اسے ایک ماہ رکنے کے لیے راضی کیا تھا باقی جیسا ملکہ قُتیلہ چاہے۔“
اس سے پہلے کہ قُتیلہ کوئی جواب دیتی خیمے کے باہر شور کی آواز اٹھی۔اسی وقت اصرم بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا۔
”یشکر نے نجار بن ثابت کے علاوہ تمام قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔“
”کیا ….“قتیلہ غضب ناک ہوتے ہوئے کھڑی ہوئی۔اور اپنی تلوار اٹھا کر خیمے سے باہر بھاگ پڑی۔مگر یہ تیزی اسے راس نہیں آئی تھی۔دروازے کے قریب اسے زور کا چکر آیا۔پردہ تھام کر اس نے خود کو گرنے سے بچایا اور پھربھاگنے کے بجائے پیدل چلتی ہوئی باہر نکلی۔نجار بن ثابت کے علاوہ تمام قیدیوں کے ماتھے میں ایک ایک تیر پیوست تھاجو تیر چلانے والے کی مہارت کا منھ بولتا ثبوت تھا۔
یشکر کے قریب جاتے ہی وہ دھاڑی۔”تمھیں جرّات کیسے ہوئی ملکہ قُتیلہ کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے کی۔“
”انھیں میں نے گرفتار کیا تھا۔اور انھیں قتل کرنے کا حق بھی رکھتا ہوں۔تمھارے لیے سردارِ قبیلہ کو چھوڑ دیا ہے۔“
”لمبی زبان کو خاموش کرانے کا آخری حل گردن کاٹنا ہوتاہے۔“تلوار بے نیام کرتے ہوئے اس نے یشکر کی طرف سیدھی کی۔
وہ نیازی سے کھڑا رہا۔
اس کی چھاتی پر تلوار کی نوک رکھتے ہوئے وہ غصے سے بولی۔”تلوار نکالو….“
یشکر نے حرکت کی کوشش نہیں کی تھی۔بس للکارنے والی نظروں سے اسے گھورتا رہا۔
قُتیلہ نے تلوار کے دستے پر زور دیتے ہوئے کہا۔”ملکہ قُتیلہ تلوار نکالنے کا آخری موقع دے رہی ہے۔“تلوار کی نوک یشکر کی چھاتی میں گھسنے لگی تھی۔خون کی بوندیں نکلیں اوراس کی قمیص کو رنگین کرنے لگیں۔لیکن نہ تو وہ پیچھے ہٹا اور نہ نیام کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”بزدل عجمی غلام۔“قُتیلہ نے دستے پر دباﺅ بڑھایا۔تلوار کی نوک یشکر کی ٹھوس چھاتی میں انگلی کی دو پوروں کے بہ قدر گھسی۔خون بہنے کی رفتار تیز ہو گئی تھی۔لیکن اس نے حرکت نہیں کی تھی۔اسے حرکت نہ کرتا دیکھ کر قُتیلہ نے تلوار پیچھے کھینچتے ہوئے بھرپور لات اس کے پیٹ میں رسیدکی۔مگر نقاہت کی وجہ سے اس کی ٹانگ میں وہ دم خم نہیں رہا تھا جو یشکر جیسے شہ زور کا کچھ بگاڑ سکتا۔الٹا وہ خود لڑکھڑا گئی تھی۔رشاقہ نے ایک دم آگے بڑھ کر اسے تھام لیا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کو کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔“رشاقہ کو دور جھٹکتے ہوئے وہ دوبارہ یشکر کی جانب متوجہ ہوئی۔”تم فوراََ سے پہلے بنو طرید کی حدود سے دفع ہو جاﺅ۔تمھاری جان بخشی کر کے ملکہ قُتیلہ نے تمھارے گھٹیا احسان کا بدلہ چکا دیا ہے۔“یہ کہہ کر وہ یشکر کا جواب سنے بغیر اپنے خیمے کی طرف مڑ گئی۔
رشاقہ فوراََ یشکر کے قریب ہوئی ،اس کی قمیص کی گھنڈیاں کھول کر اس نے چھاتی پر بنے زخم کو دیکھا۔اور خون کو روکنے کے لیے اپنی اوڑھنی سے زخم کا منھ دبا دیا۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”میں ٹھیک ہوں رشاقہ۔“
رشاقہ دکھی دل سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔“
یشکردھیرے سے مسکرایا۔”اس کے علاوہ اس گھمنڈی سے کیا امید کی جاسکتی ہے۔“
ملکان ،منقر اور امریل بھی اس کے قریب آگئے تھے۔یشکرکی نظر خلیسہ پر پڑی جو دور کھڑی لمحہ بھر اس جانب دیکھتی رہی اور پھر اپنے خیمے کی طرف چل پڑی۔یقینا وہ یشکر سے خفا تھی۔
منقر ندامت سے بولا۔”ہم شرمندہ ہیں جوان۔“
یشکر بے نیازی سے بولا۔”کوئی ضرورت نہیں۔“
ملکان نے کہا۔”اب ہم تمھیں نہیں روکیں گے۔“
رشاقہ خود سری سے بولی۔”یہ ایک ماہ تک کہیں نہیں جائیں گے۔“اس کے لہجے میں ایسا اعتماد تھا جس کی توجیہ کرنا منقر اور ملکان جیسے جہاں دیدہ کے لیے مشکل نہیں تھا۔
”کیا یہ سچ ہے۔“منقر نے دامن امید دراز کیا۔
یشکر نے گہری نگاہ سرخ رو حسینہ کے چہرے پر ڈالی ،وہ للکارنے والے اندازمیں اسے گھور رہی تھی۔اس کی نگاہیں گھنے گھنگرالے بالوں پر پھسلتی ہوئی ملکان کی طرف متوجہ ہوئیں۔اور وہ دھیرے سے بولا۔”رشاقہ کو پتا ہوگا۔“رشاقہ ناز بھرے انداز میں مسکرا دی تھی۔
ملکان ،منقر اور امریل کے چہرے پر خوشی نمودار ہوئی۔”ہم رشاقہ کے شکر گزار ہیں۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ملکہ قُتیلہ تمھارے رکنے پر بہ ظاہر نہ سہی درپردہ ضرور خوش ہو گی۔“
”خیمے میں چلو ،تمھاری مرہم پٹی کر دوں۔“رشاقہ نے اس کے بازو سے پکڑ کر خیمے کی طرف کھینچا۔
”میں ٹھیک ہوں۔“یشکر نے احتجاج کرنا چاہا۔
”بالکل بھی ٹھیک نہیں ہو۔خون رک نہیں رہا۔میں کپڑا جلا کر اس پر راکھ باندھ دیتی ہوں۔“رشاقہ نے اس کے بازو سے پکڑ کر اسے خیمے کی طرف کھینچا۔وہ افسوس بھرے انداز میں سر ہلاتا ہوا خیمے کی طرف بڑھ گیا۔ اب وہ مستقل امریل کے خیمے میں رہتا تھا۔جبکہ امریل کو اپنے سپنوں کی تعبیر مل گئی تھی۔
وہ خیمے کے دروازے پر رکتا ہوارشاقہ کو مخاطب ہوا۔”خلیسہ کے پاس زخم سکھانے والا سفوف ہے راکھ کے بجائے وہ بہتر رہے گا۔“
رشاقہ منھ بسورتے ہوئے بولی۔”وہ دوسرا دن ہے مجھے یوں گھورتی ہے جیسے کچا ہی چبا جائے گی۔بہ ہرحال کوشش کرتی ہوں۔اگر دیر ہوجائے تو میری آخری رسومات کے لیے آجانا۔“
یشکر اس کے انداز پر ہنسا۔”میں جانتا ہوں وہ کیوں تپی ہوئی ہے۔بہ ہرحال وہ سفوف تمھیں دے دی گی۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: