Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 44

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 44

–**–**–

سہ پہر کے وقت قُتیلہ نے بنو طرید کے تمام اہم افراد کو بلا لیا تھا۔اس کے خیمے کے باہر بنے ہوئے چبوترے پر چٹائیاں بچھی تھیں۔منقر،ملکان،امریل،اصرم،قریب،عامراور رشاقہ وہاں موجود تھے۔یشکر کواطلاع تو ملی تھی مگر اس نے مجلس میں شمولیت میں دلچسپی نہیں لی تھی۔
قُتیلہ نمایاں جگہ نشست سنبھالتے ہی بغیر کسی تمہید کے بولی۔”تمام لوگ مستقل قریب میں پیش آنے والے خطرے سے واقف ہیں۔اور تمھیں بلانے کا مقصد اگلا لائحہ عمل طے کرناہے۔اس ضمن میں اپنی سمجھ کے مطابق بلا جھجک تمام اپنے مشورے دیں۔“
قریب نے کہا۔”ہمیں پہرے داروں کی تعداد بڑھا دینی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تیر تیار کرنے چاہئیں تاکہ جونھی بنو احمر والے آتے ہیں ہم انھیں دور ہی سے روک سکیں۔“
قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”وہ اتنی تعداد میں آئیں گے کہ ہمارے تیرانداز انھیں روک نہیں پائیں گے۔“
امریل نے کہا۔”ان کی آمد سے پہلے ہمیں ان پر چڑھائی کر دینا چاہیے۔“
”ہمارے پاس ماہر شمشیر زنوں کی کمی ہے۔تیس چالیس شہ سوار بنو احمر پر حملہ کر کے اپنی ہلاکت کا سامان ہی کریں گے۔“قُتیلہ نے امریل کے مشورے کو بھی قابلِ اعتناءنہیں جاناتھا۔
منقر بن اسقح بولا۔”ہم لڑ نہیں سکتے ،یہاں سے کوچ کرنا پڑے گا۔“
”کب تک بھاگتے پھریں گے۔اکیلا آدمی نہیں کہ آسانی سے چھپ جائے ،پورے قبیلے کو ڈھونڈنا اتنا مشکل نہیں ہوگا۔“
اسود بولا۔”نجار بن ثابت کو رہا کر کے صلح کی کوشش کرتے ہیں۔“
”بے فائدہ کوشش ہوگی۔نجار بن ثابت کے دو بھائیوں کو ملکہ قُتیلہ نے قتل کیا ہے۔خود اس نے ملکہ قُتیلہ سے ہزیمت اٹھائی ہے۔اس سے صلح چند دنوں تک قائم رہے گی۔اوربنو طرید پر حملہ کرنے کے لیے وہ زیادہ عرصہ انتظار نہیں کرے گا۔“
رشاقہ بولی۔”کیا یہ ممکن ہے بنو نسر کے معزّز سردار سے مدد کی درخواست کی جائے امید ہے دونوں قبیلے مل کر بنو احمر کا مقابلہ آسانی سے کرلیں گے۔“
”ملکہ قُتیلہ بنو نسر کے سردار کو اچھی طرح جانتی ہے۔وہ قبیلے کی سلامتی کے لیے اپنی بیٹی کو داﺅ پر لگا سکتا ہے تو کسی دوسرے قبیلے کی مدد کے لیے کیوں آمادہ ہوگا۔“
رشاقہ مصر ہوئی۔”اس طرح انھیں اپنے حریف سے بدلہ لینے کا موقع بھی توملے گا ناں “
”ہونہہ!….“قتیلہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔”وہ اپنے قبیلے کا ایک آدمی بھی قتل نہیں کرانا چاہتا۔اور نہ پرائی آگ میں کودنے کا شوقین ہے۔سب سے بڑھ کر وہ ملکہ قُتیلہ کی موت کا خواہاں ہے تاکہ اس کے بیٹوں کی سرداری میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔“اپنے باپ اور بھائیوں کا نام وہ یوں لے رہی تھی جیسے وہ اس کے ازلی دشمن ہوں۔
ملکان نے کہا۔”کسی دوسرے قبیلے سے بھی مدد مانگی جا سکتی ہے۔ہم اپنی حفاظت کے لیے مناسب خراج ادا کرتے رہیں گے۔“
وہ مغرورانہ لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو مدد مانگنے سے نفرت ہے۔زندگی کی بھیک مانگنے کے بجائے لڑ کر مرنا ملکہ قُتیلہ کی زندگی کا پہلا اصول ہے۔“
منقر نے دوبارہ اپنی تجویز دہرائی۔”میرا خیال ہے ہمیں مزید مہلت درکار ہوگی۔فی الحال ہم کہیں اور منتقل ہو جاتے ہیں۔ بعد میں شاید کوئی مناسب حل مل جائے۔“
قُتیلہ نے چند لمحے گہری سوچ میں ڈوبنے کے بعدحتمی فیصلہ سنایا۔”ایسا ہے کہ ہم امریل اور تمھاری تجویزپر ایک ساتھ عمل کر لیتے ہیں۔بنو طرید کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر کے ہم بنو احمر پر ہلہ بولیں گے اور ان کا جتنا نقصان ہوسکا کر کے بھاگ جائیں گے۔اور ہمارے یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک بنو احمر کی کمر ٹوٹ نہیں جاتی۔“
تمام نے اس تجویز کو پسند کیا تھا۔”ٹھیک ہے ،کل ملکان ،منقراور امریل طلوع آفتاب سے پہلے کسی ایسے مقام کی تلاش میں نکلیں گے جہاں ہم پڑاﺅ ڈال سکیں۔وہاں پانی کی موجودی کو یقینی بنالینا۔باقی لوگ کوچ کی تیاری کریں۔ان کی واپسی کے ساتھ ہم چل پڑیں گے کہ ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں ہے۔“
منقر نے یشکر کے نہ جانے کے بارے قُتیلہ کو مطلع کرنے کے لیے پوچھا۔”کیا یشکر سے بھی مشورہ مانگ لیں۔“
قُتیلہ نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا۔”تم ملکہ قُتیلہ کے فیصلے پر ایک عجمی غلام سے رائے مانگو گے۔“
منقر جلدی سے بولا۔”نن….نہیں ملکہ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔“
”وہ اب تک گیا کیوں نہیں ،جبکہ ملکہ قُتیلہ نے اسے جانے کا حکم دے دیا تھا۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کڑی نظروں سے رشاقہ کو گھورا۔”کیا اس کے رکنے میں کسی کا ہاتھ ہے۔“
رشاقہ کے کچھ کہنے سے پہلے منقر نے کہا۔”کسی کا بھی ہاتھ نہیں ہے۔وہ بس اس لیے رکا ہے کہ ملکہ قُتیلہ کی صحت یابی کے بعد ادھورے مقابلے کی تکمیل کر سکے۔“
”ملکہ قُتیلہ اس حالت میں بھی ایک فارسی غلام سے مقابلہ کر سکتی ہے۔اسے بتا دو صبح پہلی روشنی کے ساتھ ملکہ قُتیلہ کی تلوار اس کی گردن ناپنے کو بے نیام ہو گی۔“
منقر نے انکار میں سرہلایا۔”یہ مناسب نہیں ہے۔“
وہ بھڑکتے ہوئے بولی۔”کیا ملکہ قُتیلہ کو تمھاری اجازت ضرورت پڑے گی۔“
”ہاں۔“منقر نے جرّات مندی سے کہا۔”کیوں کہ ملکہ قُتیلہ کی شکست کسی ایک فرد کی نہیں پورے بنو طرید کی ہار ہے۔ملکہ قُتیلہ وہ دھاگا ہے جس نے بنو طرید کے مردوزن کو موتیوں کی طرح اپنی گرفت میں جکڑا ہوا ہے۔اور اس دھاگے کے ٹوٹنے پر بنو طرید کے تمام لوگ بغیر دھاگے کے منکوں کی طرح بکھر جائیں گے۔ہمارے تسلیم کرنے نہ کرنے سے یشکر کی شمشیر زنی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ملکہ قُتیلہ بھی جانتی ہے کہ وہ بیماری کی حالت میں یہ مقابلہ نہیں کر سکے گی۔اس لیے ملکہ قُتیلہ جب تک صحت یاب نہیں ہوجاتی ہم انتظار کریں گے۔“
”اسے بتا دینا کہ ملکہ قُتیلہ اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی۔“منقر کی بات کو ناگواری سے تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی۔باقی بھی کھڑے ہو ئے تھے۔سورج کا رنگ غرق ہونے کے خوف سے پیلا پڑ چکا تھا۔اسے پوجنے والے اگر اس کی ڈوبنے کی حالت پر غور کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ وہ ایک عظیم طاقت کے سامنے کتنا بے بس ہے۔تمام اپنے اپنے خیموں کی طرف بڑھ گئے تھے۔ البتہ منقر کا رخ یشکر کے خیمے کی طرف ہو گیا۔رشاقہ بھی اس کے ساتھ ہولی تھی۔
تھوڑی دیر وہ یشکر کے سامنے بیٹھا اسے تمام تفصیل بتلا رہا تھا۔اس دوران رشاقہ نے شہد ملے ضیاح(پانی ملاپتلا دودھ)سے ان کی تواضع کی تھی۔
ساری بات سننے کے بعد یشکر بولا۔”بہتر مشورہ ہے لیکن اس میں بھی چند خامیاں ہیں۔“
”بھلا کون سی؟“منقر نے دلچسپی ظاہر کی۔
”بنو احمر پر صرف ایک بار ہی ہلہ بولا جا سکتا ہے۔اس کے بعد وہ ہوشیار ہوجائیں گے اور اگلی مرتبہ کوئی ایسی کوشش خودکشی کہلائے گی۔اور دوسرا جب ان پر حملہ کر کے واپسی ہوگی تو کیا وہ پیچھا نہیں کریں۔یقینا وہ کھوج لگا کر آپ کے پیچھے پیچھے بنو طرید پہنچ جائیں گے اور نتیجہ واضح ہے۔“یشکر نے ہاتھ کو اکڑا کر خنجر کی طرح اپنے گلے پر پھیرکر گلہ کٹنے کا اشارہ کیا۔
منقر بن اسقح پریشان ہو گیا تھا۔چند لمحوں بعد اس کی پھنسی پھنسی آواز نکلی۔”پھر کیا کرنا چاہیے؟“
”ایک اور تجویز بھی ہے۔“یشکر نے انکشاف کیا۔
منقر نے ”میرا نہیں خیال کہ ملکہ قُتیلہ آپ کی تجویز پر عمل کرنا چاہے گی۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”میں اسے سنبھال لوں گا۔“
”ناممکن ہے۔“منقر بے بسی بھرے لہجے میں بولا۔”ابھی اس ضدی نے حکم دیا ہے کہ آپ اس کے سامنے نہیں آئیں گے۔“
یشکر ہنسا۔”اسے صرف ایک مسئلہ ہے۔“
”وہ کیا؟“رشاقہ نے صبری ظاہر کی۔
یشکر نے کہا۔”وہ چاہتی ہے میں اسے ملکہ قُتیلہ کہوں۔“
منقر نے پوچھا۔”تو اب آپ ایسا ہی کہیں گے۔“
”نہیں۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”مجھے سردارزادی کہنا اچھا لگتا ہے۔“
رشاقہ نے پوچھا۔”کیا ملکہ قُتیلہ سچ میں سردارزادی بادیہ جیسی دکھتی ہے ؟“
”ہاں ،اگر اس کی بدمزاجی کو نظر انداز کر دیا جائے تو بالکل میری سردارزادی جیسی ہے۔“
منقر نے پریشانی ظاہر کی۔”اگر آپ اسے ملکہ قُتیلہ کہہ کر نہیں پکاریں گے تو مسئلہ کیسے حل ہوگا۔“
”وہ مجھ پر چھوڑ دو۔“یشکر نے اعتماد ظاہر کیا۔
منقر نے کہا۔”تو پھر اپنا منصوبہ ہی بتا دو۔“
”وہ اپنی سردارن سے سن لینا۔“
”اجازت چاہوں گا۔“منھ بناتے ہوئے منقر نے باہر کی راہ لی۔
”آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں۔“رشاقہ وارفتگی بھرے لہجے میں کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔
٭٭٭
”ملکہ قُتیلہ کو اس طرح کا بد مزہ کھاجا پسند نہیں ہے بلیلہ۔“قُتیلہ نے بکرے کے پایوں کی یخنی دیکھتے ہوئے ناک بھوں چڑھائی۔”ملکہ قُتیلہ کے لیے کلیجی بھون کر لے آﺅ۔“
بلیلہ جلدی سے بولی۔”اصرم کہہ رہا تھا ملکہ کو کمزوری دور کرنے کے لیے یخنی پیناضروری ہے۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا۔”اصرم بن خسار کب سے حکیم بن گیا۔“
”اسے غالباََ یشکر نے یہ بتایا ہے۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”یہ اٹھاﺅاور فی الفوریہاں سے غائب ہوجاﺅ۔“
”یخنی یہیں چھوڑدو بلیلہ ،تم جاﺅ۔“یشکر نے اندر داخل ہوتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں کہاتھا۔
”تم….ایک عجمی غلام کی اتنی جرّات کہ ملکہ قُتیلہ کے خیمے میں ایسی حالت میں داخل ہو جبکہ ملکہ قُتیلہ نے اسے اپنی منحوس شکل دکھانے سے منع کیا ہوا ہو۔“
”بلیلہ تم جاﺅ۔“یشکر نے پریشانی کھڑی بلیلہ کودوبارہ جانے کا اشارہ کیا۔
وہ سرجھکاتے کرسرعت سے چلتے ہوئے خیمے سے نکل گئی۔
”شاید تم جلدی ٹھیک نہیں ہونا چاہتیں تاکہ یشکر سے لڑنا نہ پڑے۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتا ہوا وہ چٹائی پر بیٹھ گیاتھا۔
وہ تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھ کرپھنکارتے ہوئے بولی۔”بہتر ہوگا تم فی الفور ملکہ قُتیلہ کے خیمے سے نکل جاﺅ۔“
یشکر نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کہا۔”کس لیے ،کیا میں بنو طرید کا حصہ نہیں ہوں یا میں نے بنو طرید کے لیے خون نہیں بہایا ہے۔ جب تم نے بنو طرید کے ہر فرد کے لیے اپنے خیمے کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے تو میرے ساتھ تخصیص کیسی؟“
”کیوں کہ تمھیںملکہ قُتیلہ کی سرداری قبول نہیں ہے۔“
”غلط ،میں تمھیں سردارزادی کہتا ہوں اور بنو طرید کی برحق سردارن سمجھتا ہوں۔“
”تم ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ کہہ کرمخاطب نہیں کرتے۔“
”اعتراض تھاکہ میں تمھیں سردارن نہیں سمجھتا اور میں نے اقرار کرلیا کہ سمجھتا ہوں۔ اب دوسرے اعتراض کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔“
وہ بچکانہ انداز میں دھاڑی۔”سردار زادی کہہ سکتے ہو تو ملکہ قُتیلہ کیوں نہیں کہتے۔“
یشکر نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”مجھے سردار زادی کہنا اچھا لگتا ہے۔“
”کیوں ؟“اس نے سوال دہرایاکہ جواب پسند نہیں آیا تھا۔
یشکر زچ ہوتا ہوا بولا۔”کیوں کہ میں بادیہ کو سردار زادی کہتا تھا اور تمھاری شکل اس جیسی ہے۔“
وہ غضبناک ہوتے ہوئے بولی۔”تم ملکہ قُتیلہ بنت سردارجبلہ بن سردارکنانہ بن سردار قسامہ بن سردارحباب بن سرداریساف بن سرداریسربن سردارخماشہ بن سردارریاب بن سردار قیسور کے ساتھ اس وِشاق کا تقابل کر رہے ہو۔“
”ہاں کیوں کہ وہ بادیہ بنت شیبہ بن ثمامہ بن نتیجہ بن حبالہ بن جراشہ بن شراحیل بن خراش بن حثان بن ورقاءبن جحاش بن قبیصہ بن عسکرہے۔ اس کے سلسلہ نسب میں آنے والے بھی سارے سردار ہیں۔ اور بنوجساسہ ،نسب کے لحاظ سے بنو نسر پر فائق ہے۔وہ اہل حضر ہیں اور تم بدو….“
”ملکہ قُتیلہ کو اپنی بداوت (بدو ہونے پر)پر فخر ہے اورتف ہے ایسی سردارزادی پر جو جان بچانے کے لیے ایک فارسی غلام کا پلو تھام لے اور مطلب نکلنے پر اپنی راہیں جدا کر لے۔“
”اس نے راہیں جدا نہیں کیں۔“یشکر کو حقیقت میں غصہ آگیا تھا۔”اہورمزدا کے سامنے اس کی کیا مرضی چلتی۔ اگر زندہ ہوتی تو اپنے یشکر کے پاس ہوتی۔“
قُتیلہ منھ بگاڑتے ہوئے بولی۔”بے چاری، گھٹیا ذوق رکھنے والی اعلا نسب سردار زادی۔“
گہرا سانس لے کر یشکر اٹھا صراحی سے دو جام بھر کر اس نے ایک قُتیلہ کی طرف بڑھا دیا۔
دُنبالہ آنکھیں یشکر کے دل کی دنیا کو زیر وزبر کرنے کے لیے اٹھیں۔ان روشن آنکھوں کے ساتھ غصہ بھی اتنا ہی جچتا تھا جتنا ہنسی اور شرارت۔
دو تین لمحے اسے گھورنے کے بعد قُتیلہ نے پیالہ تھاما اور ایک ہی سانس میں خالی کرکے دوبارہ بھرنے لگی۔
یشکر چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر ارغوانی محلول کو پیٹ میں اتارنے لگا۔
”کیوں آئے ہو۔“دوسراجام خالی کرتے ہی وہ مستفسرہوئی۔اس کے لہجے میں پہلے والی تندی غائب تھی۔
”تمھیں شروع ہی میں یہ سوال پوچھنا چاہیے تھا۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے یشکر نے خالی پیالہ ایک جانب رکھا ،چٹائی کو پیچھے گھسیٹ کر تھوڑی جگہ خالی کی اور خنجر نکال کر ریت پر دو نشان لگاتا ہوابولا۔”جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے۔اگر اس نشان کو ہم بنوطرید مانیں تو بنو احمر یہاں واقع ہے۔اور ان دونوں قبیلوں کے درمیان یہ وادی ہے جو بنو طرید کے ساتھ سے ہوکر آگے بڑھ جاتی ہے۔“ اس ایک اور لکیر کھینچ کر کہا۔”اس جگہ سے وادی کا جو رستا جدا ہوکر مشرق کی جانب مڑ رہا ہے یہ سیدھا اس وادی میں جا نکلتا ہے جو شمال مشرق کی طرف بڑھتے ہوئے بنو حنیفہ، بنو عبدالقیس اور بنوکاظمہ وغیرہ کی طرف جاتا ہے اوراگر اسی وادی میں جنوب کی جانب آگے بڑھا جائے تو رستے میں بنو عبدکلال آتا ہے۔ اور یہ وادی آگے بڑھتے ہوئے بنو ظفار سے ہوکر بحرعرب میں جا گرتی ہے۔لیکن بنو عبدکلال سے اگرقریباََ ایک برید(چار فرسخ یا بارہ میل )مغرب کی جانب سفر کیا جائے تو ایک دوسری وادی آتی ہے جہاں بنو قطام واقع ہے ،اس کے ساتھ شمال کی جانب ایک فرسخ دور بنو عطفان ہے۔اور اس وادی میں اگر جنوب مشرق کی جانب سفر کیا جائے تو بنو جمرہ آتاہے۔وہاں سے یہ وادی بتدریج مغرب کی جانب لمبا چکر کاٹ کر پھر جنوب کو مڑتی ہے اور قریباََ اس جگہ ایک گھاٹی آتی ہے۔اگر سردارزادی نے غور کیا ہوتویہ بنو طرید سے جنوب مشرق میں نظر آنے والے پہاڑی سلسلے ہی میں یہ گھاٹی واقع ہے ہے۔“یشکر نے نشان لگا کر تمام قبیلوں اور وادیوں کوظاہر کیا تھا۔”اس گھاٹی میں داخل ہونے کے لیے ایک تنگ سا درّہ ہے جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ دو گھڑ سوار بہ مشکل ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔اور فرلانگ بھر لمبا ہے۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا۔”بنو طرید سے جنوب مشرق کی طرف نظر آنے والی پہاڑ ی میں ایک گھاٹی ہے جس مین داخلے کے لیے ایک تنگ درہ موجودہے۔اور وہ ملکہ قُتیلہ نے بھی دیکھا ہوا ہے۔ لیکن اتنا گھما پھرا کر یہ بتانے کے بجائے تم براہ راست کہہ دیتے کہ اس پہاڑی سلسلے میں ایسی گھاٹی موجود ہے۔“
وہ حسرت سے بولا”گھما پھرا کر اس لیے بتایا ہے کہ ان تمام جگہوں پر وہ میرے ساتھ تھی اور جہاں جہاں وہ میرے ساتھ تھی ان جگہوں اور مقامات کا ذکر کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کے پاس تمھاری داستان عشق سننے کا وقت نہیں ہے۔“
”داستانِ عشق یہ میرے لیے ہو گی تمھارے لیے بنو احمر سے بچنے کا منصوبہ ہے۔“
”بات جاری رکھو۔“قُتیلہ نے مزید تکرار نہیں کی تھی۔
”کل صبح اہل بنو طرید اس طرف کوچ کرتے ہوئے بغیر رکے شام تک اس گھاٹی میں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ درّے سے گزر کر آگے ڈھلوان ہے اور وہاں کسی تباہ شدہ قبیلے کے آثار بھی نظر آرہے ہیں۔ ان کھنڈرات میں ہم اپنے مویشی اور سامان چھوڑیں گے اور ان کی حفاظت کے لیے دوتین ایسے آدمی جو اچھے سے لڑنا نہیں جانتے اور چند عورتیں جو تمام کے لیے کھانا تیار کریں گی۔باقی تیر اندازاس درّے کے جوانب میں بیٹھ کر ……..“وہ تفصیل سے اپنا منصوبہ بتاتا گیا۔آخر میں وہ کہہ رہا تھا۔”اور یہ بیس بہترین سوارانھیں یہاں تک کھینچ کر لائیں گے۔ سب سواروں نے ذرّہ اور خود ضرور پہنا ہوگا۔“
”ملکہ قُتیلہ خود نہیں پہنے گی۔“قُتیلہ نے سارے منصوبے پر بس ایک ہی اعتراض کیا تھا۔
”پہننا پڑے گا۔دشمن کے تیروں سے بچنے کے لیے یہ حفاظتی اقدام ضروری ہے۔“
وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے بے رحمی سے پوچھنے لگی”تمھاری سردارزادی کی گردن کیسے کٹی تھی ؟….شاید دشمنوں کو دیکھ کر تم نے بھاگنے میں عافیت سمجھی ہو گی اور بے چاری سردار زادی اپنے کیے کی سزا کاٹنے کے لیے اکیلی رہ گئی ہو گی۔“
”اس سے تمھیں کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہیے۔“یشکربے اعتنائی سے کہتے ہوئے کھڑا ہوا۔ ”مزیددودن یخنی پر گزارا کرلینا ،میں چاہتا ہوں تم جلد از جلد ٹھیک ہو جاﺅ تاکہ میں ادھورا مقابلہ پورا کر کے اپنا رستا ناپوں۔“
اس کے قدم اٹھانے سے پہلے قُتیلہ سرعت سے بولی۔”ایک بات اور۔“
وہ سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔
” کل تم نے ملکہ قُتیلہ کو بازوﺅں میں بھر کر تخت تک لانے کی گستاخی کی تھی۔جبکہ تمھیں زہر چوسنے تک محدود رہنا چاہیے تھا۔ملکہ قُتیلہ اسے تمھاری پہلی اور آخری حماقت سمجھتے ہوئے معاف کر رہی ہے ،آئندہ ایسی جرّات کی تو ہاتھ جسم کا حصہ نہیں رہیں گے۔“
یشکر دو تین لمحے اسے کڑے تیوروں سے گھورتا رہا۔قُتیلہ نے نظر چرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ جلد ہی یشکر کو ہتھیار ڈالنے پڑے کہ دُنبالہ آنکھیں حواس پر چھانے میں دیر نہیں لگاتی تھیں۔ کچھ کہے بغیر وہ لمبے ڈگ رکھتا ہوا خیمے سے نکل گیا۔اس کی پیٹھ ہوتے ہی اسے کڑے تیوروں سے گھورتی قُتیلہ یخنی کی رکابی کی جانب متوجہ ہو گئی تھی۔
٭٭٭
مخنف بن فدیک ،نہایت ظالم اور بے رحم شخص تھا۔اس کے دو بحری جہاز دبا سے ایران کے شہر بندر عباس تک سامان وغیرہ کی ترسیل کے لیے تک چلتے تھے۔زمانہ قدیم میں بحری جہازوں کو چلانے کے لیے ایک تو بڑے بڑے بادبان لگائے جاتے اور ہوا موافق ہونے کی صورت میں جہاز تیز رفتاری سے فاصلہ طے کرتے تھے۔اس کے علاوہ جہازکی رفتار بڑھانے کے لیے نچلے حصے میں ایسے افراد بٹھائے جاتے جو مسلسل چپو چلا کر جہاز کو منزل کی طرف گامزن رکھتے۔یہ ایسا مشکل اور صبر آزما کام تھا کہ اس مقصد کے لیے شاید ہی کوئی ملازمت کرنے پر تیارہوتا۔البتہ اس وقت غلاموں کی بہتات تھی۔انسانوں کی خرید و فروخت کی منڈیاں اس طرح لگا کرتیں جیسے آج کل مویشیوں کی خرید و فروخت کے لیے قائم ہوتی ہیں۔اور بحری جہاز کے نچلے حصے میں بیٹھ کر چپو چلانے کے لیے ایسے ہی افراد کی ضرورت پڑتی جو انکار کرنے کی جرّات نہ رکھتے ہوں۔ایسے افراد جن بے چاروں کو بعض اوقات دو وقت پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں ملتا تھا۔اورانھیں مسلسل حرکت میں رکھنے کے ایسے ظالم و جابر قسم کے ملازم رکھے جاتے جن کے دل میں رحم نام کی کوئی چیز موجود نہ ہوتی۔ وہ ہنڑہاتھ میں تھامے ان کی نگرانی کرتے رہتے اور کسی بھی شخص کی ذراسی سستی پر اس کی کھال ادھیڑ کر رکھ دیتے۔
ہر غلام کے پاﺅں میں زنجیر ڈلی ہوتی۔جس کی لمبائی اتنی ہوتی تھی کہ وہ دو تین قدم لے سکے۔جہاز کے منزل پر پہنچنے کے بعد بھی ان بے چاروں کو سورج کی روشنی دیکھنا نصیب نہ ہوتی۔ وہاں سے مر کر ہی نکلا جا سکتاتھا۔اور وہ ایسے عقوبت خانے ہوتے جہاں پھنس جانے والے زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہ پاتے تھے۔مخنف بن فدیک اتنا ظالم اور بے حس تھا کہ زیادہ بیمار ہونے والے کا علاج کرانے کے بجائے بے چارے کو سمندر کے حوالے کرنا زیادہ بہتر سمجھتا۔حالاں کہ ایسے شخص کو ساحل پر بھی پھینکا جاسکتا تھا ،لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ایسا کرنے کی صورت میں بیماروں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگے گا۔
مروان بن ثمامہ اور اغلب بن ثمامہ نے بنو ناجیہ یا یمامہ جانے کے بجائے پہلے دبا جانا ضروری سمجھا تھا کیوں کہ وہاں ایک ساتھ بنو جساسہ کے پچاس افراد موجود تھے۔
طویل سفر کے اختتام پر وہ دبا پہنچے۔وہ ایساشہر تھا جہاں تجارتی سرگرمیاں عروج پرتھیں۔ جہاز نہ صرف ایران جیسی بڑی سلطنت کے مختلف شہروں تک جا سکتے تھے بلکہ مشرق کی طرف مزید آگے بڑھ کر ہندوستان اور مغرب کی جانب یمن اور افریقہ بلکہ اس سے آگے تک جا یاسکتا تھا۔
البتہ زیادہ تجارتی سرگرمیاں ایران اور ہندوستان کے ساتھ منسلک تھیں۔
دبا پہنچتے ہی مروان اور اغلب نے پہلی فرصت میں مخنف بن فدیک کے بارے معلومات حاصل کی تھیں۔ یہ معلومات ایسی نہیں تھی کہ ان کے دل میں مایوسی نہ بھرتی۔اس کے پاس دو بڑے جہاز تھے جو ایک ساتھ حرکت کرتے تھے۔اپنے غلاموں کو قابو میں رکھنے اور بحری قزاقوں سے نبٹنے کے لیے اس کے پاس ملازموں کی کثیر تعداد موجود تھی۔جن میں زیادہ تر تو اس کے وہ غلام تھے جن کی وفاداری ہر شبے سے بالاتر تھی۔اس کا اپنا ایک مخصوص جھنڈا تھا جس پر اژدھے کے سر کی تصویر ثبت تھی۔ دبا میں اس کی بہت بڑی قلعہ نماحویلی بھی موجود تھی جہاں درجنوں غلام ہر وقت موجود رہتے تھے۔ وہاں اس کی سات بیویاں اور بیسیوں کنیزیں بھی موجود تھیں۔ہر چکر لگانے کے بعد وہ ہفتہ دو ہفتے حویلی میں قیام کرتا اس دوران دونوں جہازوں پر تاجر اپنا سامان لاد لیتے۔اور یہ سارا کام اس کے درجن ڈیڑھ درجن ملازموں اوروفادار غلاموں کی نگرانی میں ہوتاتھا۔ان غلاموں کا سرخیل ایک قوی ہیکل حبشی تھا۔اس کو دور سے دیکھتے ہی اغلب اور مروان کی بہادری کے غبارے سے ہوا نکل گئی تھی۔
کسی جارہانہ کارروائی کا خیال ترک کرکے انھوں نے بنو جساسہ کے آدمیوں کی خریداری کے متعلق سوچا۔مگر ان کے پاس لے دے کے دو گھوڑے،تلواریں اور تھوڑا سا زادِ راہ تھا۔انھیں ایک گھوڑے کے بدلے شاید ایک یا دوغلام مل بھی جاتے تو وہاں سے بنو جساسہ تک پیدل سفر کرنے کے خیال ہی سے انھیں جھرجھری آگئی تھی۔وہاں آنے کا بس اتنا فائدہ ہوا تھا کہ انھیں اپنے آدمیوں کے بارے اچھی معلومات مل گئی تھیں۔وہ چچا شریم سے بات کر کے ان آدمیوں کا خریدنے کے بارے کوئی منصوبہ بنا کر آسکتے تھے۔ورنہ اس کے علاوہ انھیں چھڑانا ناممکن ہی لگ رہا تھا۔
وہاں سے انھوں نے بنو ناجیہ کی راہ لی تھی۔بنو ناجیہ کے ایک امیرزنبربن خربہ کے پاس بھی بنو جساسہ کے دس جوان موجود تھے۔
بڑی مشکل سے ان کی ملاقات بنو جساسہ کے ایک آدمی خزمہ بن حرملہ سے ہوئی۔وہ زنبر بن خربہ کی حویلی کا پانی بھرنے پر مامور تھا۔اغلب و مروان کو دیکھ کر وہ آبدیدہ ہو گیا تھا۔ان کے آنے کا مقصد جان کر اس کے چہرے پر ممنونیت و شکرگزاری نمودار ہوئی۔لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے نفی میں گردن ہلا کرکہاکہ ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔امیر زنبر بن خربہ ،بنو ناجیہ قبیلے کے سردار کا قریبی دوست اور مصاحب تھا۔اوراس کی حویلی میں غلاموں کو اچھی خاصی آزادی میسر تھی لیکن اس کے ساتھ ان کی حرکات پر بھی کڑی نظر رکھی جاتی۔کوئی غلام دو تین گھنٹوں سے زیادہ غائب نہیں رہ سکتا تھا۔ان کے نگران دن کے وقت اس بات کا بڑی شدت سے دھیان رکھتے تھے کہ کسی خاص کام کے لیے گھر سے نکلا ہوا شخص مقررہ وقت پر حویلی میں واپس آئے ،نہیں تو اس کی ڈھونڈیا شروع ہو جاتی۔اس کے پاس ایسے کھوجی موجود تھے جو بھاگنے والے غلام کا پیچھا کرکے واپس پکڑ کر لے آتے۔اور پھر بھاگنے والے کو عموماََ موت یا کم از کم کسی جسمانی عضو کے کٹنے کی سزا ملتی۔ اورایک مرد کے لیے موت سے بھیانک سزا وہ ہوتی ہے جب اسے عورت کے ناقابل بنا دیا جاتا۔اور یہ ایسا ظلم تھا کہ امیر زنبر بن خربہ کے غلاموں کو بھاگنے کی جرّات نہ ہونے کے برابرپڑتی تھی۔
رات کے وقت جب حویلی کا دروازہ بند ہوجاتا تب تو بھاگنا مزید بھی مشکل ہو جاتا تھا۔ ساری تفصیل جاننے کے بعد انھوں نے خزمہ بن حرملہ کو جھوٹی تسلی دے کر رخصت کیا کہ وہ جلد ہی انھیں چھڑانے آئیں گے۔ اور خود واپس بنو جساسہ لوٹنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے کہ دو جگہوں کی حالت دیکھنے کے بعد انھیں یمامہ جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
٭٭٭
طلوع آفتاب سے پہلے ہی قُتیلہ کے حکم پر بنو طرید کے مردو زن جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے۔منقر ،ملکان اور اصرم وغیرہ کو بلا کر قُتیلہ نے جانے کی بابت ،منتقلی کے مقام اور کارروائی کی ترتیب کے متعلق تفصیل سے بتا دیا تھا۔باقیوں کو نئی حکمت عملی کے بارے سن کر عجیب سا لگا تھا۔لیکن منقر مطمئن تھا۔کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس منصوبے کے پیچھے کس کا دماغ کارفرما تھا۔
سورج نکلنے تک وہ جانے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔تین افراد کو انھوں نے بھیڑ، بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ طلوع آفتاب سے پہلے ہی ان پہاڑیوں کی طرف کوچ کروا دیا تھا۔اس کے بعد جیسے ہی تمام جانے کے لیے تیار ہوئے قُتیلہ نے بیس ایسے افراد کے نام لیے جو بہترین لڑاکا تھے۔یشکر کا نام اس نے سب سے آخیر میں لیتے ہوئے پوچھا۔
”فارسی غلام،اگر تم نہیں آنا چاہتے تو ملکہ قُتیلہ کسی اور کو نامزد کر سکتی ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولا۔”سردارزادی جو مناسب سمجھے ، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ مجھے کیا ذمہ داری سونپی گئی ہے۔“
”اس کا ہمارے ساتھ رہنا زیادہ فائدہ مند ہے۔“قُتیلہ کے ساتھ کھڑے ملکان نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو ایسا نہیں لگتا۔“
”میرا خیال تھا ملکہ قُتیلہ کسی سے حسد نہیں کرتی۔“ملکان کا مودّب لہجہ بھی قُتیلہ کو سلگا گیا تھا۔
قُتیلہ نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔”تم کب سے زندگی سے بیزار ہو گئے۔“
”معافی چاہتا ہوں۔“ملکا ن گھبراتے ہوئے دور ہٹ گیا تھا۔
لمحہ بھر کے توقف کے بعد وہ نخوت سے بولی۔”فارسی تم ہمارے ساتھ جاﺅگے۔“
یشکر کے قریب کھڑی رشاقہ اسے مخاطب ہوئی۔”میں بھی تمھارے ساتھ آﺅں گی۔“
یشکر سخت لہجے میں بولا۔ ”بالکل نہیں اوراگر تم نے ضد کی تو ہمارے درمیان ہونے والی یہ آخری گفتگو ہو گی۔“
رشاقہ نے شاکی نظروں سے اسے گھورا۔اور پھر زبان نکال کر لاڈلے انداز میں اسے چڑاتے ہوئے منقر کی طرف بڑھ گئی۔وہ اس وقت ابلق گھوڑی پر سوار تھی۔اس کا جردہ یشکر کے پاس تھا۔قُتیلہ نے منقر بن اسقح کے ہاتھ ابلق کویشکر کے پاس بھجوایا تھا۔لیکن یشکر نے وہ رشاقہ کے حوالے کر کے اس والا جردہ لے لیاتھا۔وہ گھوڑی جس کے لیے قُتیلہ اور یشکر نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونتی تھیں اب شرم کی وجہ سے وہ دونوں اس عمدہ گھوڑی کو نہیں لے رہے تھے۔
ا بلق پر رشاقہ کو سوار دیکھ کر قُتیلہ نے استفسار کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔سردار نجار بن ثابت اب تک زندہ تھا۔
یشکر اپنا گھوڑا بیس نامزد شہ سواروں کے پاس لاتے ہوئے قُتیلہ کو مخاب ہوا۔”اگر میرا ایک مشورہ مانو تو تمھارا قبیلے کے ساتھ جانا بہتر رہے گا۔جب تک مکمل صحت مند نہیں ہو جاتیں آرام کرو۔“
اس نے تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھا۔”اگر شک ہے تو ملکہ قُتیلہ دور کر سکتی ہے۔“
یشکر مصر ہوا۔”یہ کوئی بہادری نہیں ہے۔“
قُتیلہ نے منھ بناتے ہوئے کہا۔”ایک فارسی غلام ،بزدلی کے علاوہ کیا مشورے دے گا۔“
یشکر ہونٹ بھینچتے ہوئے خاموش ہو گیاکہ اونٹ کی طرح اس کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔
منصوبے کے مطابق انھوں نے وہ دن اسی جگہ پر گزارا تھا تاکہ بنو طرید والے آرام سے اپنے مقام پر پہنچ کر ضروری تیاری مکمل کر لیں۔
اگلے دن وہ صبح صادق کے ساتھ بنو احمر کی طرف روانہ ہوئے۔قُتیلہ کا سمند سب سے آگے تھا۔یشکر جان بوجھ کر سب سے پیچھے رہا۔ہر وقت قُتیلہ کا سایہ بن کر رہنے والا امریل اب یشکر کے ساتھ گھوڑا بھگا رہا تھا۔
”اگر پسند ہو تو یہ نقرہ (سفید رنگ کا گھوڑا)تمھیں دے سکتا ہوں۔“ایک ٹیلے سے اترتے ہوئے امریل نے خلوص بھرے لہجے میں پیشکش کی۔
یشکر ہنسا۔”میرا نہیں خیال یہ اس جردے سے بہتر ہے۔“
”تم تبادلے سے شاید اس لیے جھجک رہے ہو کہ یہ جردہ تمھیں سفید لومڑی نے دیا ہے۔“امریل نے دل میں پیدا ہونے والا خیال اگل دیا تھا۔
یشکر سنجیدہ ہوتا ہوا بولا۔”میں نے زندگی میں صرف ایک لڑکی کے بارے سوچا ہے ،اسی کی ناراضی کا خیال رکھا ہے،اسی کو خوش رکھنے کی تگ و دو کی ہے ،اسی کو چاہا ہے ،اپنی مناجات میں اسی کو مانگاہے۔اور وہ سردارزادی بادیہ بنت شیبہ ہے۔اب وہ باقی نہیں رہی تو میرے نزدیک کسی بھی عورت کا مقام صرف اتنا ہے کہ اس سے میری فطری ضرورت پوری ہوتی ہے اور بس۔رشاقہ ایک خوب صورت لڑکی ہے اور میرے قریب اس لیے ہے کہ مجھے چاہتی ہے ،میرا خیال رکھتی ہے۔اگر مجھے چھوڑ کر کسی اور کا پلو تھامنا چاہے گی تو اسے ایک لحظے کے لیے بھی نہیں روکوں گا۔اور نہ کبھی گلہ کروں گا۔“
امریل ہنسا۔”مالکن کی شکل بھی توتمھاری سردارزادی جیسی ہے۔“
یشکر نے قہقہ لگایا”کیا وہ اس قابل ہے کہ کوئی مرد اس سے محبت کرنے کا سوچ بھی سکے۔“
”درست کہہ رہے ہو۔“امریل نے ہنسنے میں اس کا ساتھ دیا تھا۔”اس معاملے میں مالکن بہت زیادہ غصیلی اور سخت طبیعت کی ہے۔بنو طرید کا ایک خوب صورت جوان قیروان مالکن پر جی جان سے فریفتہ تھا۔ ایک دن دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر مالکن کے خیمے میں گھسا۔اور تھوڑی دیر بعد اس حالت میں باہر لایا گیا کہ اس کے سر اور دھڑ کے درمیان کوئی تعلق باقی نہیں رہا تھا۔“
یشکر جتانے والے انداز میں بولا۔”اور تم چاہتے ہو کسی دن میرا بھی یہی حشر ہو۔“
امریل صاف گوئی سے بولا۔”مالکن سے شکست کھانے کے بعد مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اس جیسا جنگجو کم از کم صحرائے اعظم میں موجود نہیں ہے۔یہاں تک کہ تم سے سامنا ہوگیا۔“
”اپنے ساتھی کو کیسا پایا؟“یشکر نے صفائی سے موضوع تبدیل کیا۔
امریل کے ہونٹوں پر خوب صورت تبسم نمودار ہوا۔”میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ کس طرح تمھارا احسان اتاروں گا۔“
یشکر بولا۔”اسے خوش رکھ کر۔“
”جس دن اسے مجھ سے دکھ پہنچاوہ میری زندگی کا آخری دن ہوگا۔“
”جانتا ہوں۔“یشکر کو بلاشک و شبہ اس کے دعوے پر یقین تھا۔
دھوپ سخت ہو گئی تھی۔قُتیلہ نے وادی کے کنارے نظر آنے والے ایک نخلستان کو دیکھ کر گھوڑا اس جانب موڑدیاتھا۔تھوڑی دیر بعد وہ درختوں کے سائے میں تھے۔دو آدمی چھوٹے دستے اور چوڑے منھ والے پھاوڑوں سے ایک جگہ گڑھا کھود رہے تھے۔اوپر سے خشک نظر آنے والی ریت ہاتھ بھر گہرائی میں گیلی تھی اور جوں جوں گہرائی بڑھتی گئی ریت میں نمی کی مقدار بڑھتی گئی۔یہاں تک کہ آدمی کے قد سے بڑا گڑھا کھود کر انھوں نے اس چوڑے گڑھے کے اندر ایک اور گڑھا بنادیا۔گیلی ریت کا پانی رِستے ہوئے اس گڑھے میں جمع ہونے لگا تھا۔ان کے پاس اپنے پینے کے لیے پانی کے مشکیزے موجود تھے۔ وہ پانی انھوں نے گھوڑوں کو پلانے کے لیے نکالا تھا۔باری باری ہر آدمی اپنے گھوڑے کو وہاں لا کر گڑھے میں جمع ہونے والا پانی چمڑے کے ایک ڈول میں ڈال کرانھیں پلانے لگا۔
قُتیلہ کی کمزوری مکمل طور پر دور نہیں ہوئی تھی۔اس مختصر سفر سے بھی اسے سخت تھکادیاتھا۔ ورنہ وہ تو دو تین دن مسلسل گھوڑے کی پیٹھ پر گزارنے کی اہلیت رکھتی تھی۔
امریل نے درخت سے چادر باندھ کر اس پر ہوا جھلنے لگا۔اس نے معترض ہوئے بغیر پانی پیا اور دوسرے لوگوں کو دیکھنے لگی۔ان دوکے علاوہ تمام نے دوسرے درختوں کے نیچے ڈیرا ڈالا تھا۔
”امریل تم فارسی غلام کے بہت قریب ہو گئے ہو۔“گھوڑے کی زین پر سر ٹیکتے ہوئے وہ سرسری لہجے میں بولی۔
”وہ بہت اچھا اور باظرف شخص ہے مالکن۔“
”سنہرانہ کو جو تمھارے حوالے کر دیا اس لیے۔“
”کچھ کہہ نہیں سکتا۔“امریل نے تکرار سے گریز کیا تھا۔
قُتیلہ جتانے والے انداز میں رشاقہ کا ذکر کیا۔”حالانکہ میں نے تمھارے لیے گھنگرالہ (گھنگرالے بالوں والی)کا انتخاب کیا تھا۔وہ سنہرانہ سے خوب صورت بھی ہے اور باکرہ بھی۔“
”دل پر کسی کا زور نہیں چلتا مالکن۔“امریل نے بے بسی کے اظہار میں بخل سے کام نہیں لیا تھا۔”باقی وہ سفید لومڑی مجھے کہاں قبول کرتی۔اسے یشکر جیسا خوب صورت جوان چاہیے تھا۔“
”یہ فارسی غلام کی بھول ہے کہ وہ رشاقہ کو ملکہ قُتیلہ سے چھین کر لے جائے گا۔وہ ہمیشہ ملکہ قُتیلہ کے پاس رہے گی۔“یہ کہتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔امریل نے بھی چپ سادھنے میں بہتری سمجھی تھی۔
دوبارہ سفر شروع کرنے کے بعد وہ بنو احمر کے پاس جا کر ہی رکے تھے۔رات کا اندھیرا پھیل گیا تھا۔وہ بنو احمر سے دو تین فرلانگ کی دور ی پرموجودمغربی ٹیلوں پر لیٹ گئے تھے۔جنوب کی جانب موجود ٹیلے بالکل ہی جھونپڑوں کے قریب تھے اس لیے قُتیلہ نے مغربی ٹیلوںکا انتخاب کیا تھا۔
وہ اس وقت سخت تھکن محسوس کر رہی تھی۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کا یہ حال ہو گا ورنہ وہ کبھی آنے پر مصر نہ ہوتی۔یشکر کے مشورے کو بھی اس نے نخوت سے ٹھکرادیا تھااور اب وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے تھے جہاں کمزوری کا اظہار کرنا اسے عزت نفس کے منافی لگ رہا تھا۔اس کی مغرور طبیعت یہ گوارا نہیں کر سکتی تھی کہ مشکل کام میں پیچھے رہ کرکسی کو خود پر بات کرنے کا موقع فراہم کرے۔
جلد ہی چاند نے مشرق سے سر ابھارا۔اور چاندنی میں نہائے خیمے و جھونپڑے عجیب منظر پیش کرنے لگے تھے۔دور کہیں گیدڑوں کی” ہکوہو“سنائی دے رہی تھی۔تمام ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اپنے سامنے اور پشت پر سفید کپڑاباندھ رہے تھے تاکہ اپنے آدمیوں کی پہچان ہو سکے ورنہ ہڑبونگ و افراتفری مچنے پر وہ ایک دوسرے کو بھی نقصان پہنچا سکتے تھے۔
قُتیلہ خود پر جبر کر کے اٹھی۔امریل اس کی پیٹھ پر سفید کپڑاباندھنے لگا۔اسی وقت یشکر نے قریب آکر کہا۔
”سردار زادی ،پانچ آدمیوں کو بھاگنے کے رستے پر گھات لگا کر بٹھا دیتے ہیں۔جونھی اپنے آدمی وہاں سے گزر کر آگے بڑھیں گے ان کے پیچھے تعاقب میں آنے والوں کو وہ تیروں کی باڑ پر رکھ لیں گے اس طرح ہم دشمن کا زیادہ نقصان بھی کر سکتے ہیں۔اور وہ اطمینان سے ہمارا تعاقب بھی نہیں کر سکیں گے۔اور اس ساتھ ساتھ ہم اپنے آدمیوں کی گنتی کر کے اتلافی کے بارے بھی آسانی سے معلوم کر سکیں گے۔“
لمحہ بھر سوچ کر اس نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔
یشکر نے مشورہ قبول ہونے پر اگلی بات کہی۔”یہ نہایت اہم ذمہ داری ہے اور میرا خیال ہے اچھے تیر اندازوں کو رکنا پڑے گا۔“
”ٹھیک سوچا ہے۔“قُتیلہ نے اتفاق کیا۔
یشکر بہ ظاہر سرسری لہجے میں بولا۔”امریل کا کہنا ہے سردارزادی سے اچھا تیر انداز شاید ہی کوئی ہو۔“
قُتیلہ کے دماغ میں غصے کی لہر ابھری۔اور بولتے وقت یہ غصہ اس کے ہر لفظ سے ٹپک رہا تھا۔ ”فارسی غلام!….سردارکیدار بن ثابت،سردارذواب بن ثابت،قیروان بن اخلد، عیلان بن عبسہ، حرام بن زراح ،عافد بن مرسع اور اخلد بن احمر کو جانتے ہو۔“ وہ لمحہ بھرکو رکی اور پھر یشکر کا جواب جانے بغیر اس کی بات جاری رہی۔”یہ وہ مرد تھے جنھیں ملکہ قُتیلہ کا خیال رکھنے کاشوق چرایا تھا۔اور آج ان کی قبور سے اسقونی اسقونی کی صدائیں مسلسل بلندہو رہی ہیں۔“(پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ عربوں کا خیال تھا اگر کوئی شخص ناحق قتل کر دیا جائے تو اس کی کھوپڑی سے الو کی شکل کا ایک پرندہ برآمد ہوتا ہے۔ وہ اسے ”صدیٰ“مذکر یا ”ہامة“ مونث کا نام دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک مقتول کا بدلہ نہیں لے لیا جاتا یہ پرندہ اس کی قبر میں موجود رہتا ہے اور ”اسقونی،اسقونی “ مجھے پلاﺅ،مجھے پلاﺅ پکارتا رہتا ہے)
یشکر کھل کھلا کے ہنسا۔” ایک سردارن کو غلط فہمیاں پالنا زیب نہیں دیتا۔نہ تم اتنی خوب صورت ہو کہ اِتراتی پھرواور نہ مجھے لڑکیوں کی کمی ہے کہ ایک گھمنڈی ،فخّاراوربڑبولی کے لیے کچھ ایسا سوچتا پھروں۔“
وہ حتمی انداز میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ اتنی کمزور نہیں ہے کہ کسی بزدل کے مشوروں پر چھپ کر بیٹھ جائے۔اگر تمھیں ڈرلگتا ہے تو شوق سے گھات میں بیٹھ جاﺅ۔“
یشکر بحث میں پڑنے کے بجائے بولا۔” تمھی پانچ افراد کو نامزد کر دو۔“
”ملکان کر دے گا۔“بے پروائی سے کہہ کر وہ گھوڑے کی طرف بڑھ گئی۔
یشکر ملکان کے قریب ہوا۔ان دونوں کے مابین ہونے والی گفتگو وہ سن چکا تھا۔اس نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔”میرا خیال ہے اس کی ضرورت باقی نہیں ہے۔جب ملکہ قُتیلہ تمھاری چال ہی میں نہیں آئی تو یہ کام بے فائدہ ہوا۔اس کے بجائے واپسی میں سبقت لے جانے والے کسی مناسب مقام پر رک کر یہ ذمہ داری سنبھال لیں گے۔“
یشکر نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔بنو احمر میں گھسنے سے پہلے انھوں نے مشعلیں جلا کر ہاتھوں میں تھامیں اور سرعت سے آگے بڑھے۔خیموں اور جھونپڑوں کے قریب پہنچتے ہی انھوں نے مشعلوں کا استعمال شروع کر دیا تھا۔گھاس پھونس کے جھونپڑوں اور کپڑے کے خیموں نے آگ پکڑنے میں دیر نہیں کی تھی۔وہ بہ مشکل پچاس ساٹھ خیموں کو آگ دکھا سکے ہوں گے کہ چیخ و پکار شروع ہو گئی تھی۔مردوزن بوکھلائے ہوئے خیموں سے باہر نکلتے اور صرف عورتیں ہی زندہ رہ پاتیں کہ مردوں کو چاٹنے کے لیے بنوطرید کے شہ سواروں کی تلواریں موجود تھیں۔جلد ہی بنو احمر کے خیموں نے افراد اگلنے شروع کر دیے تھے۔تلواریں سونتتے ہوئے بنو احمر کے لوگ مقابلے پر اتر آئے تھے۔اگر وہ زیادہ دیر رکتے تو یقینا ان کے گھیرے میں آجاتے کہ اتنے بڑے قبیلے کا بیس سوار کیا کچھ بگاڑ سکتے تھے۔جو تیس چالیس افراد وہ قتل کر چکے تھے اتنا ہی کافی تھا۔
اچانک قُتیلہ کے منھ سے سیٹی کی زوردار آواز نکلی یہ واپسی کا اشارہ تھا۔سیٹی بجاتے ہی اس نے اپنا گھوڑا واپسی کے لیے موڑا کہ وہ سخت تھکن اور نقاہت محسوس کر رہی تھی۔اسے وہاں آنا اپنی بہت بڑی غلطی لگ رہا تھا۔یشکر کا مشورہ نہ مان کر اس نے حماقت کا ثبوت دیا تھا۔اور اب سب سے پہلے میدان چھوڑ کر وہ اپنی غلطی سدھارناچاہتی تھی۔
سیٹی کی آواز سنتے ہی تمام نے ایک دم اپنے گھوڑے جنوب کی سمت بھگا دیے تھے۔قُتیلہ نے بھی اپنے سمند کو اس جانب موڑاوہ یقینا بہ حفاظت نکل گئی جاتی اگر اتنی زیادہ نقاہت محسوس نہ کر رہی ہوتی۔وہ طاقتور گھوڑے کو اس انداز میں قابو نہیں کر پارہی تھی جو کہ اس کا خاصا تھا۔اور پھر اس کی بدقسمتی پر مہر لگانے کے لیے ایک خیمے کی اوٹ سے بنو احمر کے تین افرادہتھیارسنبھالے برآمد ہوئے۔ایک کے ہاتھ میں لمبے دستے والا نیزہ تھا۔گھوڑے کو اپنی جانب آتا دیکھ کر اس کے ہاتھ سے کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح نیزہ برآمد ہوا اور قُتیلہ کے سمند کی گردن میں پیوست ہو گیا۔
گھوڑا اذیت کی شدت سے اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوا اور پھر ایک جانب گر گیا۔قُتیلہ بھی ساتھ ہی لڑھک گئی تھی۔اتنی نقاہت کے باوجود اس نے گرتے وقت تلوار ہاتھ سے نہیں چھوڑی تھی۔
تینوں افراد ایک ساتھ اس کی جانب بڑھے تھے۔وہ جلدی سے کھڑی ہوئی لیکن اس کے اٹھنے میں وہ تیزی مفقود تھی جو اس کی پہچان تھی۔اٹھارہ انیس کے چاند کی روشنی میں اس کے لمبے بال اور روشن چہرے پر پڑنے والی چاندنی سے اس کی شناخت فوراََ ہی ہو گئی تھی۔
ایک آدمی زور سے چلایا۔”سردارزادی قُتیلہ ہے۔بچ کر نہ جا پائے۔“یہ کہہ کر اس نے گھوڑے کی گردن میں لگا ہوا نیزہ کھینچا۔اتنی دیر میں اس کے دونوں ساتھی تلواریں سونتے قُتیلہ کے قریب آگئے تھے۔
وہ تین آدمی قُتیلہ جیسی لشکر شکن (ہزار آدمیوں سے مقابلہ کرنے والا)شمشیر زن کے لیے تر نوالے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے تھے لیکن اس وقت وہ تین شمشیر زن تو کیاکسی اکیلے اناڑی کا سامنا کرنے کی ہمت بھی خود میں مفقود پا رہی تھی۔ لیکن اپنی فطرت کے مطابق وہ شکست نہیں مان سکتی تھی۔
”ٹھہرو۔“چھریرے بن کے مالک ایک لمبے جوان نے اپنے ساتھی کو ہاتھ اٹھا کر روکا۔ ”اس لونڈیا سے مجھے نبٹنے دو۔“
اس کا ساتھی پیچھے رک گیا تھا۔وہ تلوار سونتے اس کی طرف بڑھا۔اس نے بھی قریب آنے والے کی طرف تلوار گھمائی ،نقاہت سے کیے گئے وار کو مقابل نے بڑی آسانی سے اپنی تلوار پر روکا اور ساتھ ہی اس کی بھرپور لات قُتیلہ کے پیٹ میں لگی اور اچھل کر کولہوں کے بل نیچے جا گری تھی۔
مقابل استہزائی لہجے میں ہنسا۔”چھمک چھلو،بڑی تعریفیں سنی تھیں تیری۔لیکن لگتا ہے سارے حرامی شکل کو دیکھ کر ہی رطب اللسان تھے۔“
”تم ملکہ قُتیلہ کو زندہ نہیں پکڑ سکتے۔“اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اس نے مقابل کی تلوار کے سامنے تلوار پکڑی۔لیکن اس کی حرکت میں سستی شامل تھی۔
مقابل نے قہقہ لگاتے ہوئے پاﺅں کی بھرپور ٹھوکر اس کی چھاتی میں رسید کی۔وہ پیچھے کو الٹ گئی تھی۔
”آج تمھار ا سامنا ریاب بن مجمع سے ہو گیا ہے چھوکری۔اور تمھارا حشر بہت برا ہوگا۔ بڑے حساب کتاب تم سے بقایا ہیں۔“یہ کہتے ہوئے اس نے قُتیلہ کے تلوار والے ہاتھ پر اپنا بایاں پاﺅں رکھااور دوسرا پاﺅں قُتیلہ کی چھاتی پر رکھ دیا۔ اس کی تلوارکی نوک قُتیلہ کے نرخرے کو چھورہی تھی۔
قُتیلہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے پاﺅں کے نیچے سے نکالنے کی کوشش کی لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی۔اس کے سارے جسم سے جیسے جان رخصت ہو گئی تھی۔اس لمحے وہ چاہ رہی تھی کہ جان دے کر آنے والے بھیانک لمحات کا سامناکرنے سے بچ جائے ،کہ زندہ اہل بنو احمر کے ہاتھ آنے کا مطلب وہ اچھی طرح جانتی تھی۔لیکن ریاب بن مجمع نے شاید اس کی سوچیں پڑھ لی تھیں تبھی تو اس نے ایک پاﺅں اس کی چھاتی پر رکھ دیا تاکہ وہ جھٹکے سے بیٹھ کر ریاب کی تلوار ہی کو اپنے گلے میں نہ اتار لے۔
اس وقت وہ مضبوط جال میں پھنسے ہوئے بے بس پنچھی کی طرح پھڑا پھڑا رہی تھی لیکن کمزوری اور نقاہت اس کے ہر ارادے کے سامنے آڑ بن گئی تھی۔اپنے ساتھیوں کے بارے اسے مکمل یقین تھا کہ وہ بنو احمر کی حدود عبور کر گئے ہوں گے۔اور اگراس وقت وہ لوٹ آنے کی غلطی کرتے تو بلا شک و شبہ تمام ہلاک ہو جاتے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: