Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 45

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 45

–**–**–

بنو احمر میں داخلے کے ساتھ ہی یشکر نا محسوس انداز میں قُتیلہ کے عقب میں اپنا گھوڑا بھگاتا رہاتھا۔قُتیلہ کے منھ سے گھٹیا بکواس سننے کے باوجود وہ اس کی حالت کے بارے اچھی طرح جانتا تھا۔وہ جتنی بھی شہ زور اور طاقت ور ہوتی لیکن ایک دو دن پہلے افعون جیسے موذی کا شکار ہوچکی تھی۔اور اب اتنی جلدی اس کا کسی معرکے میں حصہ لینا بے وقوفی تھی۔
اس کے باوجود کہ وہ قُتیلہ کی عادتوں کو پسند نہیں کرتا تھا،اس کی گھمنڈی طبیعت سے نالاں تھا،اس کی خود سری سے بیزار تھا، اس کے بڑبولے پن سے تنگ تھا۔ لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ زیر آسمان اس کے لیے پسندیدہ ترین صورت قُتیلہ ہی کی تھی ۔بادیہ جیسی دکھنے والی دوشیزہ کا خیال رکھنا اس کی مجبوری تھی۔اپنی سردارزادی کو وہ نہیں بچا سکا تھا اور اب قُتیلہ کو وہ کسی حادثے کا شکار نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔اور یہ اس کا خیال رکھنے کی سوچ ہی تھی کہ وہ فوری طور پر بنو طرید کو نہیں چھوڑ سکا تھا۔
منصوبے کے مطابق جونھی قُتیلہ نے سیٹی بجائی اس نے بھی اپنا جردہ جنوب کی سمت موڑا۔ قُتیلہ اس کے دائیں اور دس پندرہ قدم آگے تھی۔دونوں کے درمیان میں دو خیمے آئے جونھی وہ خیموں کی حد سے آگے بڑھا،قُتیلہ کا گھوڑا اس کی نظر سے غائب تھا۔ایک دم لگام کھینچتے ہوئے اس نے گھوڑا روکا اور پیچھے مڑ کر دیکھا،مگر دن کی روشنی نہیں تھی کہ دور دورتک نظر کام کرتی۔چاروں طرف بھاگتے دوڑتے مردوزن کا ہجوم اور چیخ پکار مچی تھی۔”مارو،پکڑو،جانے نہ دو۔“کا شور مچا تھا۔گھوڑا موڑ کر وہ اندازے سے آگے بڑھا۔اس کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ بادیہ کی ہم شکل کو کھو چکا ہے۔دوران حملہ بھی اس کی نظروں نے قُتیلہ کا احاطہ کیے رکھا تھااور جس بے دلی اور سستی سے وہ تلوار چلا رہی تھی وہ اس کی دگرگوں جسمانی کیفیت کی مظہر تھی۔
اچانک اس کی نظر چار افراد پر پڑی ان کے ساتھ زمین پر ایک گھوڑا گرا ہواپڑاتھا۔ دو آدمی تیسرے فرد کی جانب متوجہ تھے جس نے ایک اورآدمی کو زمین پر گرا کر اس کی چھاتی پر پاﺅں رکھا ہوا تھا۔
یشکر کو پہچاننے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا تھا ۔زمین پر گرا ہوا وجود سردارزادی قُتیلہ کا تھا۔ گھوڑے کو ایڑھ لگا کر وہ بجلی کی سی سرعت سے اس جانب لپکا۔قُتیلہ کے جسم پر پاﺅں رکھے ہوئے شخص کے کچھ سمجھنے سے پہلے یشکر کی تلوار اس کی گردن کو فضا میں اڑا چکی تھی۔قُتیلہ کا تماشا دیکھنے والے دونوں ایک دم شور مچاتے ہوئے یشکر کی طرف بڑھے ۔ایک کے ہاتھ میں نیزہ اور دوسرے کے ہاتھ میں تلوار تھی ۔
یشکر نے فوراََ ہی گھوڑے کو واپس موڑا۔نیزہ بردار نے نیزہ تولا،لیکن اس سے پہلے یشکر نے نیام میں اڑسا خنجر نکال کر اس سرعت سے اس کی جانب پھینکاکہ نیزہ پھینکنے کی حسرت دل میں لیے وہ نرخرے پر ہاتھ رکھتا ہواگھٹنوں کے بل پر گرگیاتھا۔تلواربردار ایک لمحے کے لیے بوکھلا گیا تھااور جب تک سنبھل کر وہ تلوار سیدھی کرتا اس کے پاس سے گزرتے ہوئے یشکر کی تلوار اس کا مزاج پوچھ چکی تھی۔اس کی گردن کافی دور جا کر گری تھی۔
ان سے بے فکر ہوتے ہی وہ قُتیلہ کی طرف متوجہ ہوا جو زمین سے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کے بدن سے طاقت نچڑ گئی ہو۔بڑی مشکل سے وہ کھڑی ہوئی۔اس کا جسم نقاہت کی وجہ سے کسی کم سن بچے کی طرف ڈگمگا رہا تھا۔لیکن اس حالت میں بھی شمشیر زنوں کی خُواس کے دماغ سے محو نہیں ہوئی تھی ۔تلوار کے دستے پر اس کی گرفت مضبوط تھی۔اور پھر اس نے تلوار نیام میں کر لی۔
یشکر نے اس کے قریب جا کر گھوڑا روکااور تلوار نیام میں ڈالتے ہوئے دایاں ہاتھ مدد کے لیے اس کی طرف بڑھا دیا۔اپنا پاﺅں اس نے رکاب سے نکال دیا تھا تاکہ قُتیلہ اس میں اپنا پاﺅں داخل کر کے اوپر کو اٹھ سکے۔
بغیر کسی جھجک کے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے قُتیلہ نے رکاب میں پاﺅں ڈالا اور ہمت کا مظاہرہ کرتی ہوئی اس کے عقب میں بیٹھ گئی تھی۔
اپنا بازو یشکر کی بغل سے گزار کر اس کے جسم کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”فارسی غلام،ملکہ قُتیلہ کو تم جیسے بزدل کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی۔“ اپنا سر اس نے نقاہت بھرے انداز میں یشکر کے کندھے پر ٹیک دیا تھا۔اس وقت وہ بے انتہا تھکن ،نقاہت اور کمزوری محسوس کر رہی تھی۔
”جانتا ہوں۔“بے پروائی سے کہتے ہوئے یشکر نے گھوڑا بھگا دیا۔
وہ خاموش رہی۔ خیموں کی حدود سے نکلنے سے پہلے ہی ایک گھڑ سوار یشکر کے پیچھے لگ گیا تھا۔وہ ایک گہرے رنگ کے گھوڑے پر سوار تھا۔گھوڑے کی چال دیکھتے ہی یشکر نے بھاگنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا ،کیوں کہ اس چھریرے بدن والے گھوڑے سے یشکر کا جردہ جیت نہیں سکتا تھا۔ اس گھوڑے کی چال میں انوکھا آہنگ تھا یوں جیسے ڈھلوانی ندی میں پانی بہتا ہے ۔یشکر اس حالت میں بھی مخالف گھوڑے کی چال کوسراہے بغیر نہیں رہ سکاتھا۔وہ شریم والے کمیت ،عنبر سے بھی سبک رو لگ رہا تھا۔ پھرطرفہ تماشا یہ کہ جردے پر دو سوار بھی لدے تھے اور سب بڑھ کر اس کے عقب میں قُتیلہ بیٹھی تھی اگر وہ پیچھے سے وار کرتا تو سب سے پہلے قُتیلہ ہدف بنتی۔
”سردارزادی ،سنبھلو۔“اپنے گھوڑے کی لگام کھینچتے ہوئے یشکر نے ایک دم رکاب سے پاﺅں نکالے۔اورقابوس تھام کر دونوں پاﺅں زین پر رکھتے ہوئے وہ ایک لمحہ کے لیے رکا، جونھی مخالف کا گھوڑا قریب آیا وہ زور سے اوپر اچھلا۔اس کی تلوار مخالف کو نرخرہ ادھیڑتی ہوئی اس کے گلے سے پار ہو گئی تھی۔دونوں دوسری جانب گرے۔اپنی تلوار اس کے گلے سے کھینچ کر وہ اس کے گھوڑے کی طرف بڑھا جو سوار کا وزن ہٹتے ہی رک گیا تھا۔
گھوڑے کی لگام تھامتے ہی اس کی نظر قُتیلہ پر پڑی جوقابوس پر سر ٹیکے بیٹھی تھی۔یقینا وہ اکیلے سفر کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔
گھوڑے کی لگام کو جردے کی زین سے باندھ کر اس نے قُتیلہ کا چہرہ اوپر کیا اور اچھل کر جردے پر سوار ہو گیا۔قُتیلہ نے بغیر کچھ کہے اپنے دونوں بازواس کی چھاتی کے گرد لپیٹ کر اپنا سر اس کے کندھوں کے بیچ ٹیک دیا تھا۔
یشکر نے جردے کو ایڑھ لگا دی۔خیموں کی حدود سے نکلتے ہی ٹیلے شروع ہو جاتے تھے۔ دو ٹیلوں کے درمیانی خلا کا رخ کرتے ہی وہ دور سے چلایا تھا۔
”ملکان،امریل ….میں یشکرہوں اور میرے ساتھ سردارزادی ہے۔“
”ہم تمھارے ہی منتظر تھے۔“ٹیلے کی بلندی سے اصرم کا جواب آیا تھا۔
یشکر مزید کوئی بات کیے بغیر ٹیلوں کے درمیانی خلا سے آگے بڑھ گیا تھا۔تین چار فرلانگ کے بعد اور ٹیلے موجود تھے وہاں بھی ان کے ساتھی گھات لگائے بیٹھے تھے۔لیکن انھیں چونکہ اصرم لوگوں کی ٹولی کے بارے علم تھا اس لیے یشکر بے دھڑک آگے بڑھتا گیا۔اصرم اور اس کے ساتھی بھی اس کے عقب میں گھوڑے بھگاتے ہوئے آرہے تھے۔ بنو احمر والوں سے کوئی بھی تعاقب کے لیے نہیں نکلا تھا۔
اس افراتفری میں انھیں کوئی بہتر سوچ آ بھی نہیں سکتی تھی۔یقینا وہ کسی اور حملے کے انتظار میں قبیلے کی حدود ہی میں منظم ہو رہے تھے۔اس کے باوجود یشکر نے اپنے پہلو میں گھوڑا دوڑاتے ملکان کو کہا۔
”اپنے پانچ چھے ساتھی فرلانگ بھر کے فاصلے پر پیچھے رکھواور انھیں بتاﺅ کہ عقب کا دھیان رکھ کر آگے بڑھتے رہیں۔
وہ بنو احمر سے جنوب کی سمت اختیار کر کے باہر نکلے تھے لیکن اس وقت ان کا رخ مغرب کی جانب تھا ۔یہاں تک کہ وہ چکر کاٹ کر وادی میں پہنچ گئے۔وہاں سے وہ وادی ہی میں آگے بڑھنے لگے۔فرسخ بھر دور آنے کے بعد ایک اونچے ٹیلے پر گھوڑا چڑھا کر یشکر نے لگام کھینچ لی۔
”یہاں تھوڑی دیر آرام کریں گے ۔“باقیوں کو کہہ کر وہ نیچے اترااور پھر قُتیلہ کو بھی بازوﺅں میں بھر کر نیچے اتار لیا۔
امریل چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اترتے ہوئے پوچھنے لگا۔”مالکن زخمی ہے ۔“
”نہیں ۔“یشکر نے نفی میں سرہلا کر کہا ۔”چادر بچھاﺅ۔“
امریل نے فوراََ خرجی سے چادر نکال کر زمین پر بچھا دی تھی۔یشکر نے قُتیلہ کو لٹادیا ۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں لیکن چپ چاپ لیٹی رہی۔
یشکر نے خرجی سے لکڑی کا پیالہ نکالااس میں خشک عمدہ کھجورکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ڈالے اور پیالے کو پانی سے بھر دیا۔
پیالے کو ایک طرف رکھ کر وہ نئے گھوڑے کا جائزہ لینے لگا۔بلاشبہ وہ مشکی (کالاسیاہ)گھوڑا تھا اور اس کا ماتھا سفید تھا۔اس کا بدن ایسے چھریرا تھا جیسے گھڑ دوڑ کے لیے بڑی فرصت سے تیار کیا گیا ہو۔
یشکر اس کی گردن اور سر پر ہاتھ پھیر کر گھوڑے کو مانوس کرنے لگا۔انھوں نے گھوڑوں سے زینیں نہیں اتاریں تھیں۔کیوں کسی بھی وقت دشمن کی آمد متوقع تھی۔
گھڑی بھر کے انتظار کے بعد وہ پیالہ اٹھا کر قُتیلہ کے قریب ہوا ۔”اٹھو یہ پی لو۔“
وہ آنکھیں کھولے چت لیٹی تھی۔یشکر کے کہنے پر بغیر کچھ کہے اٹھنے لگی۔یشکر نے فوراََ اس کے کندھوں کے نیچے ہاتھ رکھ کر ذرا سہارا دیا۔وہ بغیر ناک بھوں چڑھائے اٹھ بیٹھی۔اور یشکر کے ہاتھ سے پیالہ تھام کر پینے لگی۔کھجور کو کمزوری دور کرنے میں تیر بہدف مانا جاتاہے ۔وہ پانی میں گیلے ہوئے عمدہ تمر کے ٹکڑوں کو ہلکا چبا کر حلق سے اتارنے لگی۔مکمل پیالہ خالی کر کے اس نے واپس یشکر کی طرف بڑھایااور دوبارہ لیٹ گئی۔یشکر نے ایک اور پیالہ اسی طرح بنا کر اس کے قریب رکھ دیا تاکہ جانے سے پہلے اسے دوبارہ پلا سکے۔
”تم واپس کیوں لوٹے تھے۔“یشکر کو لیٹتا دیکھ کر اس نے سرسری لہجے میں پوچھا۔
اس نے اطمینان بھرے لہجے میں جھوٹ سچ کا ملغوبہ اگلا۔”میں تمھارے پیچھے تھا ،اتفاق سے نظر پڑ گئی ۔ورنہ واپس لوٹنے کا ہوش اس وقت کسے تھا۔“
وہ شکی لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو سچ سننا ہے۔“
یشکر بے نیازی سے بولا۔”سچ تو بتا چکا ہوں جھوٹ سننے کا شوق ہو تو بیان بدل دیتا ہوں۔“
”فارسی غلام ،بہتر ہو گا کہ سدھر جاﺅ۔ملکہ قُتیلہ کو کسی کی بھیک میں دی ہوئی زندگی نہیں چاہیے اور نہ ملکہ قُتیلہ کسی کے احسان برداشت کر سکتی ہے۔“
یشکر طنزیہ لہجے میں بولا۔”تمھیں زبردستی تو اپنے ساتھ نہیں بٹھایا تھا۔“
”اس سے فرق نہیں پڑتاکہ ملکہ قُتیلہ نے تمھاری مدد کیوں قبول کی، ہم ایک ہی ٹولی کے تھے۔سوال یہ ہے کہ تمھی کیوں؟…. امریل، ملکان،اصرم اور دوسرے جوان بھی موجود تھے۔ان میں سے کسی کے دماغ میں ملکہ قُتیلہ کا خیال رکھنے کی سوچ کیوں نہیں آئی۔“
یشکر نے کہا۔”ان میں سے بھی کوئی تمھیں گرتا دیکھ لیتا تو آجاتا بچانے۔“
”تو کسی نے کیوں نہیں دیکھااور تم نے کیوں دیکھا؟“وہ مطمئن ہونے پر تیار نہیں تھی۔
”آئندہ نہیں دیکھوں گا۔اور اب مہربانی کر کے تھوڑا آرام کرنے دو ۔“یشکر نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔غیر متوقع طور پر وہ بھی خاموش ہو گئی تھی۔
ملکان نے چارافراد کو پہرے داری پر بٹھایااور باقی لیٹ گئے تھے۔اس اونچے ٹیلے پر انھیں دور تک کا علاقہ صاف نظر آرہا تھا۔اس بارے میں چاندنی معاون و مددگار ثابت ہو رہی تھی۔
شعریٰ یمانیہ اس وقت غروب ہونے والا تھا جب یشکرکی آنکھ کھلی۔صبح صادق میں بس گھڑی بھر کا وقت باقی تھا۔
آواز دے کر اس نے ملکان کو جگایا اور تیار ہونے کو کہااور خود قُتیلہ کے قریب ہوا۔ وہ جاگ چکی تھی۔
اس نے نبیذ سے بھرا پیالہ قُتیلہ کی جانب بڑھایا۔وہ اطمینان سے اٹھ کر کھجور ملا پانی پینے لگی۔اب اس کی حالت پہلے سے بہتر نظرآرہی تھی۔
”کیسی ہے طبیعت ۔“ملکان نے قریب آکر پوچھا۔
”بہتر ہے۔“دھیرے سے کہہ کر وہ کھڑی ہو گئی۔
وہ یشکر کو مخاطب ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ یہ جردہ لے سکتی ہے،تمھارے پاس تو اس سے بہتر گھوڑا ہاتھ لگ گیا ہے۔“
یشکر نے خوش دلی سے سر ہلا دیا تھا۔
امریل نے قریب ہو کر گھٹنا نیچے ٹیکا۔وہ خاموشی سے اس کے گھٹنے پر پاﺅں رکھ کر یشکر والے جردے پر سوار ہو گئی۔باقی بھی اپنے گھوڑوں پر بیٹھ گئے تھے۔یشکر نے مشکی کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اچھل کر سوار ہو گیا۔
قُتیلہ سب سے آگے تھی لیکن اس کا گھوڑا دلکی چال میں بھاگ رہا تھا۔اور باقیوں کو اس کی وجہ سے چال آہستہ کرنا پڑ گئی تھی۔(گھوڑے چار بنیادی چالیں بھاگتے ہیں ۔پہلی چال میں ہر پاﺅں الگ زمین پر پڑتا ہے اور عمومی رفتا ر4سے 6کلومیٹر فی گھنٹا ہوتی ہے ۔دوسری چال دلکی کہلاتی ہے اور رفتار13سے 19کلومیٹر فی گھنٹا ہوتی ہے ۔تیسری چال میں تین آوازیں پیدا ہوتی ہیں اور رفتار 19تا 24کلومیٹر فی گھنٹا ہوتی ہے ۔ چوتھی چال سرپٹ کہلاتی ہے جو 40سے 48کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ تاہم تیز ترین گھوڑے کی مختصر فاصلے کے لیے رفتار 88کلومیٹر فی گھنٹا بھی ناپی گئی ہے )
یشکر جان بوجھ کر سب سے پیچھے تھا۔مشکی کی چال بلا شبہ لاجواب تھی۔تھوڑی دیر تک صبح کا ملگجا اجالا پھیل گیا تھا۔یشکر کے دل میں ترنگ اٹھی اور اسے مشکی کی چال دیکھنے کی خواہش میں اس نے ایڑھ لگائی وہ جیسے اشارے کا منتظر تھا ۔کسی مُشّاق تیر انداز کی کمان سے نکلے ہو تیر کی طرح آگے بڑھااور تمام کو پیچھے چھوڑتا ہواآگے بڑھنے لگا۔یشکر لگام تھامے زین سے اٹھ گیاتھا۔اتنی خوب صورتی اور سبک رفتاری سے دوڑنے والا گھوڑا اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔لمحوں میں اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ان سے فرلانگ بھرآگے ہو گیا تھا۔اور پھر وہ فاصلہ بڑھنے لگا یہاں تک کہ وہ تمام کی نظر سے اوجھل ہو گیا تھا۔دھوپ تیز ہونے کے ساتھ جب وہ مطلوبہ مقام پر پہنچے تو یشکر اطمینان بھرے انداز میں سائے میں لیٹا تھا۔یہ وہی مقام تھا جہاں گھات لگا کر قُتیلہ نے بنو طرید پر حملے کی نیت سے آنے والے بنو ضبع کے سواروں کا قتل عام کیا تھا۔
قُتیلہ کے ملیح چہرے پر نظر آنے والا غصہ کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔کوئی گھڑ سوار یوں اس کے سامنے سے گھوڑا بھگا کر اسے پیچھے چھوڑ جائے یہ اسے کسی صورت گوارانہیں تھا۔لیکن بدقسمتی سے نہ تو اس کی جسمانی حالت بہتر تھی اور نہ اس کا اپنا گھوڑا باقی رہا تھا۔یشکر کے ہاتھ آنے والا مشکی گھوڑا اس کے دل کو بھی بھا گیا تھا لیکن اس کی انا کبھی بھی یہ گوارا نہ کرتی کہ وہ یشکر کے سامنے دامن سوال دراز کرتی۔
گھوڑے سے اترے ہی وہ تلخ ہوتے ہوئے بولی ۔”فارسی غلام ،اگر تمھارے ہاتھ غلطی سے کسی معزّز شخص کا گھوڑا آبھی گیا تھاتو اس پر اترانے کی ضرورت نہیں۔“
”غلطی سے نہیں سردارزادی ،بزورِ بازو حاصل کیا ہے۔اور تمھیں تو علم ہو گا ہی کہ تمھاری آنکھوں کے سامنے یہ واقعہ ہوا تھا۔“
”ملکہ قُتیلہ کو اپنے آگے کسی کا گھوڑادیکھناگوارا نہیں ہے ۔“
یشکر اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”اس کا بہترین حل تو یہ ہے کہ سردار زادی میں اتنی ہمت ہونا چاہیے کہ کسی کو آگے نہ بڑھنے دے ۔ورنہ آنکھیں بند کر کے بھی اس منظر کی دید سے بچا جاسکتا ہے ۔“
”ملکہ قُتیلہ اس حالت میں بھی تم سے مقابلہ کر سکتی ہے۔“غصے سے کہتے ہوئے وہ امریل کی طرف متوجہ ہوئی۔”نقرے پر کاٹھی ڈالو۔“
”جی مالکن۔“کہہ کر امریل اپنے سفید گھوڑے کی طرف بڑھ گیا۔نمدزین (زین سے پہلے گھوڑے کی پیٹھ پر رکھا جانے والا نمدہ)گھوڑے کی پیٹھ پر رکھ کر وہ زین کسنے لگا۔
”چلو فارسی غلام۔“گھوڑے کے تیار ہوتے ہی وہ کھڑی ہو گئی تھی۔
یشکر زین پر سر ٹیکتا ہوا بولا۔”اس وقت میرے گھوڑے کی مرضی نہیں ہے۔“
”اٹھتے ہویا ملکہ قُتیلہ تمھارے گھوڑے کی گردن علاحدہ کر دے۔“
”تمھارے ہوش ٹھکانے ہیں ۔“یشکر کو غصہ آگیا تھا۔”میرا تعلق بنو طرید سے نہیں ہے اور نہ میں تمھارے مزاج کی رعایت رکھنے کا ذمہ دار ہوں ۔اگر میرا یہاں رہنا پسند نہیں ہے تو ابھی چلا جاتا ہوں ۔“
”ملکہ قُتیلہ ،یہ ٹھنڈی اور عمدہ لعلِ مذاب (سرخ رنگ کی شراب) پی کر دیکھو۔“ملکان نے ایک دم آگے بڑھ کر اسے مشکیزہ پیش کیا۔یشکر کو قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے مشکیزہ تھام کر منہ کو لگا لیا۔دو تین آب خوروں کے بہ قدر شراب حلق میں انڈیل کر اس نے مشکیزہ ملکان کی جانب واپس بڑھایااور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی ۔
”تم بھی لو۔“ملکان نے مشکیزہ یشکر کی جانب بڑھادیا۔
یشکر نے بھی خاموشی سے مشکیزہ تھام لیا تھا۔تھوڑی دیر سستانے کے بعد قُتیلہ انھیں کارروائی کی ترتیب بتانے لگی۔
اس کی گفتگو ختم ہوتے ہی یشکرسنجیدگی سے بولا۔”بہتر ہو گا کہ دھوپ کی تیزی میں کمی آتے ہی تم درّے کی سمت بڑھ جاﺅ۔یہاں سے ہمیں عجلت میں فرار ہونا پڑے گا اور تم اچھی طرح سے جانتی ہو کہ تمھاری حالت فی الحال اس قابل نہیں ہے کہ اس کارروائی میں حصہ لے سکو۔“
غیر متوقع طور پر غصے میں آئے بغیر وہ بے پروائی سے بولی۔”غلط فہمی ہے تمھاری۔“
”ایسا کر کے تم خود کو دلیر اور بہادر ثابت کرنا چاہتی ہو لیکن یہ بے وقوفی ہے۔تمھارے موت سے بنو طرید کی کمر ٹوٹ جائے گی اور بنو احمر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔“
وہ جواب دیے بغیر خاموش رہی۔
یشکر نے کوشش جاری رکھی تھی۔”لمبی چھلانگ لگانے والے کا چند قدم پیچھے ہٹنا بزدلی یا کمزوری نہیں کہلاتا۔“
اس کے لہجے میں لچک پیدا ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ اکیلی نہیں جائے گی۔“
یشکر جلدی سے بولا۔”تم کسی کو بھی ساتھ لے جاسکتی ہو۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”ٹھیک ہے ملکہ قُتیلہ کے ساتھ تم جاﺅ گے فارسی غلام ۔“
یشکر نے گہرا سانس لیا۔”کیا تمھیں نہیں لگتا کہ یہاں میری زیادہ ضرورت پڑے گی۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”تم سے کئی گنا اچھے تیر انداز ،بہترین شمشیر زن اور اعلا نسب عرب یہاں موجود ہیں۔“
”ٹھیک ہے۔“یشکرنے برا منائے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔
”تو چلو۔“وہ کھڑی ہوگئی۔
یشکر معترض ہوا۔”دھوپ کی تمازت میں تو کمی آنے دو۔“
”ہو گا وہ جو ملکہ قُتیلہ چاہے گی۔“انگلی کے اشارے سے اس نے امریل کو گھوڑا تیار کرنے کو کہا۔
امریل جردے پر زین باندھنے لگا۔یشکر بھی منھ بناتا ہوا مشکی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔
گھوڑے پر سوار ہو کر وہ ملکان کو مخاطب ہوئی۔”زیادہ دلیری دکھانے کی ضرورت نہیں ۔تیر کھا کر وہ جوابی کارروائی کے لیے آڑ ڈھونڈنے کی کوشش کر یں گے ۔اس دوران جتنے آدمیوں کو ہلاک کر سکو بہتر ہو گا۔جونھی وہ سنبھل جائیں تم بھاگنے کی کرنا۔اور یہ بات تمھیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں پر گھات لگانے کا مقصد انھیں اپنے تعاقب میں لگا کرگھاٹی تک لانا ہے۔“اس کی پُر مغز باتیں سن کر ذرا بھی نہیں لگتا تھا کہ یہ وہی قُتیلہ ہے جو تھوڑی دیر پہلے ایک فضول سی بات پر یشکر کو للکار رہی تھی۔
”آپ بے فکر رہیں ۔“ملکان نے اسے تسلی دی تھی۔
قُتیلہ نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔یشکر اس کے پہلو میں گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ بنو طرید کے مقام پر پہنچتے ہی قُتیلہ نے ایک گھنے درخت کی چھاﺅں میں گھوڑا روکااور نیچے اترتے ہوئے بولی ۔
”یہ جگہ آرام کے لیے مناسب ہے۔“
”آرام تو وہاں بھی کیا جا سکتا تھا۔“یشکر تلخی سے کہتا ہوا گھوڑے سے اتر گیا۔
”ہاں ،مگر وہاں بات چیت نہیں ہو سکتی تھی۔“
قُتیلہ کا معنی خیز لہجہ سن کر وہ چونک گیا تھا۔”کسی بات چیت؟“
اس نے ٹھنڈی ریت پر پاﺅں پسارتے ہوئے پوچھا۔”کیا چاہتے ہو؟“گھوڑے کو اس نے یونھی چھوڑ دیا تھا۔
یشکر نے دونوں گھوڑوں کو ساتھ والے درخت کے ساتھ باندھااور اس کے قریب آکر ریت پر لمبا ہوتے ہوئے بولا۔”تمھارا سوال میری سمجھ سے باہر ہے۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”سمجھ میں نہیں آرہا یا سمجھنا نہیں چاہتے۔“
وہ بے پروائی سے بولا۔”تمھیں ہر دو صورت وضاحت کرنا پڑے گی۔“
”ملکہ قُتیلہ سے کیا چاہتے ہو؟“اس نے تکرار میں وقت ضایع کرنے کے بجائے وضاحت کر دی۔
”تم مجھے کیا دے سکتی ہو۔“یشکر نے بات کو استہزائی رخ دینے کی کوشش کی۔
”فارسی غلام،شاید تم سوچ رہے ہو کہ ملکہ قُتیلہ کچھ نہیں جانتی۔یا شاید تمھیں ملکہ قُتیلہ بھی ان احمق لڑکیوں جیسی لگتی ہے جو تمھاراگھٹیا نسب معلوم ہونے کے بعد بھی تم سے تعلق کی خواہاں ہیں۔“
”اور میری کس بات سے تمھیں ایسا لگا۔“یشکر چوکڑی مار کر بیٹھ گیاتھا۔
”مردوں کی نظروں کوپہچانتے ہوئے ملکہ قُتیلہ کو پانچ ،چھے سال ہو گئے ہیں۔ جس دن تم زخمی حالت میں بنو طرید میں داخل ہوئے اور کجاوے پر بیٹھ کر ملکہ قُتیلہ اور امریل کی لڑئی دیکھ رہے تھے اس وقت سے ملکہ قُتیلہ نے تمھاری نظروں میں چھپی دلچسپی بھانپ لی تھی۔اور جب تم نے بستر چھوڑا تو چال دیکھتے ہی ملکہ قُتیلہ کو معلوم ہو گیا تھا کہ تم اچھے شمشیر زن ہو۔یہ علاحدہ بات کہ تلوار کو درمیان سے پکڑ کر تم نے خود کو بچکانہ انداز میں چھپانے کی کوشش کی۔اور بعد میں اتنی آسانی سے امریل کو شکست دے کرتم نے ملکہ قُتیلہ کے قیافے کو درست ثابت کر دیا تھا۔ملکہ قُتیلہ سے مقابلہ کرتے وقت بھی تم نے کم از کم تین بار جان بوجھ کر ایسے مواقع کو نظر انداز کر دیا جب تم ملکہ قُتیلہ پر کاری وار کر سکتے تھے۔اہل بنو احمر کے ساتھ لڑتے وقت بھی تم نے جس طرح ملکہ قُتیلہ کا ساتھ نبھایاوہ کوئی ایسا شخص ہی کر سکتا تھاجسے کوئی غرض ہو۔ ملکہ قُتیلہ خواب آور دوا کے زیر اثر بے ہوش ہوئی تب بھی اپنا وار روک کر تم نے ثابت کر دیا کہ تم ملکہ قُتیلہ کی موت کے بالکل بھی خواہاں نہیں ہو۔افعون کا زہر چوس کر تو تم نے حماقت کا ثبوت دیا تھا کہ اس میں تمھاری اپنی زندگی کو خطرہ تھا۔تم گزشتہ رات کوبھی ملکہ قُتیلہ کی جان بچانے پہنچ گئے اور شاید تمھیں معلوم نہ ہو کہ دوران حملہ تمھارا ملکہ قُتیلہ پر نظر رکھنا،ملکہ قُتیلہ کی نظر سے اوجھل نہیں تھا۔تمھیں کئی باربنو طرید چھوڑ کر جانے کا موقع ملا مگر تم نہ گئے ۔اس کے علاوہ بھی بہت سے مواقع ایسے آئے جس سے تمھارے دل میں چھپی خواہش بغیر تمھارے اظہار کے ملکہ قُتیلہ تک پہنچ گئی۔“
”اگر کچھ کہنے کو رہ گیا ہو تو وہ بھی بیان کر دو ۔“یشکر بہ ظاہر اس کی بات کو اہمیت دینے پر تیار نہیں تھا۔
”ملکہ قُتیلہ اچھی طرح جانتی ہے کہ ملکہ قُتیلہ کی شکل ایک اعلا نسب کی گھٹیامزاج سردارزادی سے ملتی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیںکہ ملکہ قُتیلہ کا مزاج بھی ویسا ہو۔بلا شک و شبہ دوران لڑائی اگر ملکہ قُتیلہ کا داﺅ چل جاتا تو وہ تمھاری طرح تلوار کو نہ روکتی۔“
یشکر سنجیدہ ہوتا ہوا بولا۔”بات صرف اتنی ہے سردارزادی کہ بادیہ مجھے زیر آسماں ہر ذی روح سے زیادہ عزیز تھی۔اب وہ رہی نہیں اور تم اس کی ہم شکل ہو ۔اسی وجہ سے تمھاری جان بچانے کی کوشش کی۔جہاں تک جان پر کھیل کر افعون کا زہر چوسنے کا معاملہ ہے تو مجھ پر کوئی زہر اثر نہیں کرتا اس لیے یہ قدم اٹھایا۔“
”نسر نے چاہاتوآج رات یا کل تک بنو احمر کا کانٹانکل جائے گا ۔ملکہ قُتیلہ امید کرتی ہے کہ اس کے بعد تم بنو طرید میں نظر نہیں آﺅ گے۔“یشکر نے اس کی جانب نظریں اُٹھائیں ،اس کی دنبالہ آنکھوں میں نہ تو غصہ تھا اور نہ کوئی دوسرا جذبہ ہویدا تھا۔اس کا چہرہ کسی ایسے کہنہ سال سردار کی طرح لگ رہا تھاجو ہر فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کر اور نپے تلے انداز میں کرنے کا عادی ہو۔
یشکر نے بیزاری بھرے لہجے میں کہا۔”مجھے بھی بنو طرید میں رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔“
”اتنا تو ملکہ قُتیلہ کو یقین ہے کہ تم بنو احمر کا ٹنٹنا ختم ہونے سے پہلے نہیں جاﺅ گے کیوں کہ تمھاری سردارزادی کی ہم شکل خطرے میں ہے اور اسے بچانے کے لیے فارسی غلام پوری کوشش کرے گا۔“طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے کروٹ تبدیل کر کے رخ موڑ لیا تھا۔یشکر کی بھی لیٹ گیا۔چند گھڑیاں آرام کرنے کے بعد دونوں جانے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔
درمیانی رفتار سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے وہ سہ پہر ڈھلے مطلوبہ گھاٹی میں پہنچ گئے تھے۔ قلعہ نما گھاٹی بلا شبہ دفاع لینے کے لیے عمدہ جگہ تھی۔اندر جانے کا بس ایک ہی رستا تھا جو ایک تنگ درے کی صورت بنا تھا۔وہاں پر سب سے بڑا مسئلہ پانی کا تھا کہ نہ تو گھاٹی کے اندر پانی کی سہولت موجود تھی اور نہ نزدیک کوئی ایسا مقام تھا جہاں سے پانی لایا جا سکتا۔البتہ درے کے سامنے سے سیلابی پانی کی گزر گاہ تھی لیکن ایسی وادیوں میں ایک دو دن کے پانی کا ذخیرہ تو مل جاتا ہے مستقل بنیادوں پر وہاں سے پانی کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔
درے سے گزر کر وہ دوسری جانب سے ڈھلان کو عبور کر کے اوپر پہنچے ۔منقر ،رشاقہ اور باقی تمام ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔یشکر کو دیکھ کر رشاقہ کھل اٹھی تھی۔
منقر نے قریب ہو کر قُتیلہ کے گھوڑے کی لگام تھامتے ہوئے کہا۔”ملکہ قُتیلہ کی شام سلامتی والی ہو۔“
قُتیلہ مسکراتے ہوئے نیچے اتری ۔
رشاقہ اس سے ملنے کو آگے بڑھی مگر اس کی نظریں بار بار یشکر کی جانب اٹھ رہی تھیں ۔
بلیلہ نے انھیں نبیذ پیش کی ۔
تھوڑی دیر بعد قُتیلہ درے کا جائزہ لے رہی تھی۔انھوں نے درّے کے دونوں کناروں پر کافی تعداد میں پتھر اکٹھے کر لیے تھے۔اس کے علاوہ تیروں کا بھی انبار لگایا ہوا تھا۔گوبنو احمر کے لشکر سے نبٹنے کی تیاری مکمل تھی۔
٭٭٭
دن کے آخری لمحوں میں بنو احمر کا لشکر ان کے گھات لگانے کی جگہ تک پہنچا تھا۔انھیں دور سے آتے دیکھ کر تمام تیار ہو گئے تھے۔وادی کا وہ مقام ایسا تھا کہ وہاں سے وادی کے کناروں پر چڑھنا ممکن نہیں تھا۔اس مقصد کے لیے آگے جاکر یا پیچھے مڑ کر ایک لمبا چکر کاٹ کر مشرقی جانب کی پڑتا۔
بنو احمر کے لشکر کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ وہ سرسری نظر میں انھیں شمار نہیں کر سکتے تھے۔
ملکان اندازہ لگاتا ہوا بولا۔”تین سو کم نہیں ہوں گے۔“
امریل نے کمان میں تیر ڈالتے ہوئے کہا۔”فکر نہ کرو۔ان کا صفایا کر کے لاشیں گن لیں گے۔“
لشکر کے اگلے سوار ان کے نشانے کی زد میں تھے۔تمام ملکان کے اشارے کے منتظر تھے۔یہاں تک کہ اس نے زور سے سیٹی بجائی ۔وادی میں جانے والے سواراسے اپنے ہی کسی ساتھی کا فعل سمجھے تھے ،لیکن جونھی ڈیڑھ درجن تیر ایک ساتھ اٹھارہ آدمیوں کے گلوں میں پیوست ہوئے وہاں بھگدڑ مچ گئی تھی۔
”حملہ ہو گیا ہے۔دشمن گھات میں ہے ۔“کسی نے زور دار آواز میں چلا کر اپنے لوگوں کو خبردار کیا تھا۔
ملکان اور اس کے ساتھیوں نے تیز رفتاری سے تیر چلا کر زیادہ سے زیادہ دشمنوں کو زخمی کرنے کی کوشش کی۔اور جونھی دشمن کے پیچھے آنے والے دستوں نے تیر آنے کی جگہ کی پہچان کی اور انھیں گھیرنے کی کوشش کے لیے گھوڑے وادی کے کناروں کی طرف بڑھائے ،تبھی ملکان کے اشارے پر تمام بھاگ کھڑے ہوئے ،ٹیلے سے نیچے ان کے گھوڑے تیاری حالت میں کھڑے تھے۔ایڑ لگاتے ہوئے وہ گھاٹی کی طرف بھاگ پڑے ۔دشمن کی چیخ و پکار اور ان کے بھاگنے کی بابت ایک دوسرے کو مطلع کرنے کی آوازیں ان کے کانوں میں تسلسل سے پڑ رہی تھیں ۔پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر انھوں نے گھوڑوں کو سرپٹ دوڑا دیا تھا۔اس جگہ اگر وہ دشمن کے گھیرے میں آجاتے تو وہ ان کا قیمہ کر دیتے۔
سورج زرد پڑ چکا تھا۔بنو احمر والوں میں کچھ لوگ زخمیوں کو سنبھالنے لگے ،مرے ہوﺅں کو اکٹھا کرنے لگے جب کہ کچھ حملہ آوروں کے تعاقب میں بڑھ گئے تھے۔لیکن یہ آنکھ مچولی زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکی تھی کہ اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا۔بنو احمر والوں کو اپنے ساتھیوں کے لیے ٹھہرنا پڑ گیا تھا۔
ملکان اپنے ساتھیوں کے ساتھ طلوع ماہ کے وقت گھاٹی کے قریب پہنچا تھا۔پہرے داروں نے گھوڑوں کی ٹاپیں اور ملکان وغیرہ کی آوازیں دور سے سن لی تھیں ۔سونے والے بھی جاگ گئے تھے ۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ تمام قُتیلہ کے سامنے بیٹھے تفصیل بتا رہے تھے۔
منقر نے خیال ظاہر کیا۔”لگتا ہے وہ صبح تک ہی یہاں پہنچیں گے ۔“
ملکان نے کہا۔”شاید ایسا ہی ہو مگر ہمیں دماغی اور جسمانی طور پر چوکس رہنا پڑے گا۔“
اصرم نے مشورہ دیا۔”پہرے داروں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں ۔“
قریب نے کہا۔”میرا خیال ہے ابھی آنے والوں کو اور عورتوں کو سلادیتے ہیں باقی جاگ کر شب گزارتے ہیں۔کیوں کہ دشمن نے ایک دم حملہ کیاتونیندسے جاگ کر سنبھلنے میں کچھ دیر لگے گی ۔“
امریل نے کہا ۔”اگر ایسی بات ہے توہم بھی جاگ سکتے ہیں ۔“
قُتیلہ یشکر کے بولنے کی منتظر تھی لیکن وہ خاموشی سے تمام کی باتیں سنتا رہا۔
”تم کیا کہتے ہوئے فارسی جوان ۔“منقر نے نجانے قُتیلہ کی منشا جان لی تھی یا ویسے ہی اسے یشکر کی رائے جاننے میں دلچسپی تھی۔
”ہمارے پاس پانی کا کتنا ذخیرہ ہے ؟“یشکرنے خارج از بحث موضوع چھیڑ دیا۔
قُتیلہ تیکھے لہجے میں بولی۔”بہتر تو یہی تھا جو پوچھا گیا ہے اس کا جواب دیتے۔“
یشکر بے پروائی سے بولا۔”سامنے گزرنے والی وادی میں گڑھے کھود کر پانی کی جتنی پکھالیں میسر ہیں بھر لی جائیں۔“
”تاکہ دشمن کی اچانک آمد سے پانی بھرنے والوں کی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑیں۔“ قُتیلہ انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔”ہمارے پاس اتنا پانی موجود ہے جو بنو احمر والوں کی ہلاکت تک کافی رہے گا۔“
یشکر مصر ہوا۔”سردارزادی ،دشمن کل طلوع آفتاب کے بعد ہی یہاں پہنچے گا۔اس لیے بہتر ہو گا کہ پانی بھروا لو۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”تمھارا مشورہ پہنچ گیا ۔اس پر عمل ہونانہ ہونا ملکہ قُتیلہ کی مرضی کے تابع ہے۔“
”ٹھیک ہے جو طے کرتے ہو مجھے بتا دینا۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ اٹھ کر اپنے بستر کی طرف بڑھ گیا۔
”تم کہاں چل دیں رشاقہ ؟“قُتیلہ نے رشاقہ کو جگہ چھوڑتے دیکھ کر ایک دم دریافت کیا۔ چاند کی روشنی میں بھی رشاقہ اس کی تیز نظروں سے بچ نہیں سکی تھی۔
”کک….کہیں نہیں ملکہ ،میں یہیں پر ہوں ۔“وہ ہکلا گئی تھی۔
اسے تیز نظروں سے گھور کر قُتیلہ موضوع کی طرف پلٹی۔”ملکان کی ٹولی کو چھوڑ کربقایا میں سے آدھے لوگ جاگیں گے۔“مختصراََ کہہ کر اس نے تمام کو جانے کا اشارہ کیا۔اور خود اٹھ کر درے کی طرف بڑھ گئی اس درّے کی چوڑائی دو تین قدموں سے زیادہ نہیں تھی۔البتہ لمبائی ڈیڑھ دو سوقدم سے زیادہ تھی ۔یوں لگتا تھا جیسے اس کی بناوٹ میں انسانی کاوشوں کا عمل دخل رہا ہو۔لیکن اتنی لمبائی میں پہاڑ کو کھودنا آسان نہیں تھا کہ اس خیال پر یقین کیا جاسکتا۔تہہ کی نسبت بلندی کی طرف دیواریں کی چوڑائی بتدریج کم ہوگئی تھی ۔یہاں تک کہ بلندی کی چوڑائی ،تہہ کی نسبت آدھی رہ گئی تھی ۔کوئی بھی صحت مند شخص درے کی چوڑائی کو چھلانگ لگا کر عبور کر سکتا تھا۔لیکن منقر نے پھر بھی عمارت سے دو لمبے شہتیر لا کردرّے کے اوپر رکھ کرعارضی پل بنا دیا تھاتاکہ جوانب میں آنا جانا آسان ہو۔
وہ گھاٹی اچھی خاصی وسیع تھی۔ پتھروں کی بنی ہوئی عمارات ظاہر کر رہی تھیں کہ وہاں کوئی قبیلہ آباد تھا۔نامعلوم قبیلے پر کیا آفت ٹوٹی تھی کہ دوبارہ وہاں آبادنہیں ہو سکا تھا۔جلی ہوئی چھتیں کسی بڑی آتش زدگی کی خبر سناتی تھیں ،لیکن وہ آگ قدرتی لگی تھی یا ان کے کسی دشمن کا ہاتھ تھااس بارے کوئی اندازہ لگانا مشکل تھا۔قُتیلہ شکار کی تلاش میں ایک بار پہلے بھی یہاں آچکی تھی ۔اگر وہاں پانی کی سہولت ہوتی تو یقینا وہ اپنے قبیلے کے لیے اس مقام کو مستقل رہایش بنانے کا سوچتی۔مگر پانی کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن تھا۔اور دوردراز سے روزمرہ کے استعمال کا پانی لانا ممکن نہیں تھا۔یقینا یہی وجہ تھی کہ کسی اور خانہ بدوش قبیلے کو بھی وہاں منتقل ہونے کی نہیں سوجھی تھی۔
قُتیلہ شہتیروں سے گزر کر دوسری جانب پہنچی اور بلندی کی دھار پر چلتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔وہ گھاٹی ٹیڑھے میڑھے دائرے کی شکل میں بنی تھی ۔شرقی جانب بھی ایک جگہ ایسی تھی جہاں سے اس گھاٹی میں داخل ہوا جا سکتا تھا۔منقر نے قُتیلہ کی آمد سے پہلے ہی وہاں ایک درجن تیر انداز بٹھا دیے تھے۔ایک جگہ رک کر اس نے غربی جانب کی ڈھلان سے نیچے جھانکا۔وہاں اوپر آنا یا اترنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا۔اچانک اس کی سماعتوں میں قدموں کی چاپ پڑی۔مڑ کر دیکھنے پر اسے رشاقہ نظر آئی تھی۔
قُتیلہ خوشگوار لہجے میں بولی ۔”آﺅ رشاقہ ۔“
رشاقہ اس کے پاس آکر کھڑی ہوئی ۔دونوں مغرب کی جانب متوجہ تھیں ۔انیس کے چاند کی روشنی نے ماحول کو کافی سحر زدہ سا کر رکھا تھا۔گھاٹی کے سامنے درہ عبور کرنے کے بعد وادی گزررہی تھی ۔ وادی کے دوسرے کنارے حدِ نظر تک ریت کے اونچے نیچے بے ترتیب ٹیلے پھیلے نظر آرہے تھے۔ وادی کا رخ مغرب سے مشرق کی طرف تھاجو پہاڑی سلسلے کے قریب آکر جنوب کی جانب مڑ گیا تھا۔
تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی جسے رشاقہ کی آواز نے توڑا تھا۔”ایک درخواست کرنا تھی۔“
”کوئی ضرورت نہیں ۔“قُتیلہ نے اس کی درخواست سننا ہی گوارا نہیں کیا تھا۔یقینا اسے رشاقہ کا مطمح نظر پہلے سے معلوم تھا۔
رشاقہ لجاجت سے بولی۔”میں بہت عرصے سے اس کی محبت میںمبتلا ہوں۔جسے دیکھے بغیر پسند کیا تھا ،دیکھ کر اس کے حصول کی تمنا میں اضافہ ہوگیا ہے ۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے قُتیلہ اس کی طرف مڑی۔”وہ کیا سوچتا ہے؟“
رشاقہ صاف گوئی سے بولی۔”اس کی سردارزادی باقی نہیں رہی اور اب اسے جذباتی سہارے کی ضرورت ہے ۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا۔”یہ سہارا اسے خلیسہ بھی دے سکتی تھی۔“
”اسے اس نے امریل کے لیے چھوڑ ا ہے وہ اس کا دل نہیں توڑنا چاہتاتھا۔“
”اور تم ملکہ قُتیلہ کا دل توڑ دو گی۔“قُتیلہ کے لہجے میں گہرے طنز کے ساتھ دکھ بھی چھپا تھا۔
رشاقہ گھبراتے ہوئے بولی۔”ایسا نہیں ہے۔“
”وہ جلد ہی یہاں سے چلا جائے گا۔شاید کل یا پرسوں ….“
”جانتی ہوں ۔“رشاقہ نے اثبات یں سرہلایا۔”اسی لیے آپ سے اجازت لینے آئی تھی۔“
”تو تم اپنی ملکہ ،اپنی سہیلی کو چھوڑ کر چلی جاﺅ گی۔“
”ہم ہمیشہ تو ساتھ نہیں رہ سکتیں۔“رشاقہ نے دلیل پیش کی ۔
”کیوں نہیں رہ سکتیں ،ملکہ قُتیلہ بھی شادی نہیں کرے گی ۔ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے کافی ہیں۔“
”عورت مرد کے بغیر کیسے رہ سکتی ہے ؟“رشاقہ نے حیرانی کا اظہار کیا۔
قُتیلہ نے اسے مطعون کیا۔”تم عرب کے معزّز خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔بنت زیادہ بن تابوت۔اور وہ ایک عجمی غلام ہے۔کیا اپنے نسب کا بھی لحاظ نہیں رکھو گی۔“
”میرا اعتراض کوئی اور تھا۔“رشاقہ کو اپنے اعلا نسب سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
”ملکہ قُتیلہ کی ماں جی ہمیشہ اکیلی رہتی آئی ہیں۔“
رشاقہ کراہتے ہوئے بولی ۔”مگر یہ ایک مصنوعی زندگی ہو گی ۔“
”ملکہ قُتیلہ بنو طرید کے کسی شہ زور سے تمھارا نکاح کر دے گی۔کوئی ایسا جس کا نسب اعلا ہوگا۔جو ہمیشہ بنو طرید میں رہے گایوں تم ملکہ قُتیلہ کی آنکھوں کے سامنے رہو گی۔“
رشاقہ کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”اپنے دل کا کیا کروں۔“
”ملکہ قُتیلہ تم سے محبت کرتی ہے رشاقہ ،پہلی نظر میں تم ملکہ قُتیلہ کو اچھی لگی تھیں ۔اور تم نے بھی اعتراف کیا تھا کہ مکہ قُتیلہ تمھیں ہرکسی سے زیادہ پسند ہے۔“
”ہمیشہ رہے گی۔مگر ملکہ قُتیلہ عقیدت ہے اور وہ محبت….“
”تم ملکہ قُتیلہ کو ہمیشہ کے لیے کھو دو گی۔“
”یہ تو لڑکیوں کی قسمت ہوتی ہے ،ماں باپ کو بھی تو چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔“رشاقہ کے پاس ہر سوال کا شافی جواب موجود تھا۔
”جب طے کر چکی ہو تو پوچھنے کی کیا ضرورت تھی۔“قُتیلہ نے رخ موڑ لیا تھا۔
”ناراض کر کے نہیں جانا چاہتی تھی۔“رشاقہ نے ہمت کر کے اس کا بازو تھامااور رخ اپنی جانب موڑناچاہا۔
قُتیلہ نے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔”چلی جاﺅ رشاقہ،ملکہ قُتیلہ کو اکیلا چھوڑ دو۔“
”رشاقہ ہمیشہ اپنی ملکہ سے محبت کرتی رہے گی۔“اداسی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ پیچھے مڑ کر چل دی۔قُتیلہ کی نظریں سامنے پھیلے صحرا میں جانے کیا ڈھونڈ رہی تھیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: