Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 46

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 46

–**–**–

”اجازت لے لی ہے اپنی سردارن سے ۔“رشاقہ جونھی اس کے پہلو میں بیٹھی وہ مستفسر ہوا۔
رشاقہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولی۔”اجازت لینے نہیں اسے آگاہ کرنے گئی تھی۔“
یشکر نے اندازہ لگایا۔”اور اسے تمھارے فیصلے سے خوشی نہیں ہوئی ہو گی۔“
”ہاں ۔“رشاقہ نے اثبات میں سر ہلایا۔”وہ خفا ہے۔اگر مقابل تم نہ ہوتے تو میں کسی قیمت پر اسے چھوڑ کر نہ جا تی۔سچ تو یہ ہے کہ تم دونوں مجھے ایک جتنے ہی پیارے ہو ،بس تمھارا پلڑا اس لیے بھاری ہوا کہ تم مرد ہو۔“
یشکر نے کہا۔”ابلق گھوڑی اسے واپس کر دینا تھی۔یوں بھی اس کا گھوڑا معرکے میں کام آگیا ہے۔اور میرے ہاتھ خوش قسمتی سے ایک ہیرا لگ گیا ہے۔“
”تمھارے کہنے سے پہلے اسے واپس کر چکی ہوں ۔یوں بھی جردہ مجھے اسی نے تحفے میں دیا تھااور اس کا تحفہ تمھارے علاوہ میں کسی کو دیکھنے بھی نہ دوں۔“
یشکر ہنسا۔”اچھا اتنی پیاری لگتی ہے۔“
”ہاں ،روشن چاند کی قسم بہت پیاری لگتی ہے ۔اگر وہ مرد ہوتی تو میں تمھارے پہلو میں کسی قیمت پر نہ بیٹھی ہوتی۔“
”تم مجھے چڑا رہی ہو۔“یشکر نے ناگواری کا اظہار کیا۔
رشاقہ وارفتگی سے بولی۔”اگر وہ مجھے اتنی زیادہ پیاری ہے ،تو جس کی خاطر اسے چھوڑ دیا وہ کتنا پیارا ہوگا۔“
یشکر آنکھیں بند کرتا ہوابولا۔”اچھا سو جاﺅ۔“
”نہیں ۔“رشاقہ جذبات سے بوجھل الفاظ میں بولی۔”میں چچا منقر کو بلاتی ہوں کہ وہ اسی وقت ہمارا نکاح پڑھا دے۔“
”یہ کام بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔“یشکر معترض ہوا۔
رشاقہ مایوسی بھرے لہجے میں بولی۔”کب؟“
یشکر کروٹ تبدیل کرتا ہوابولا´”یہاں سے رخصت لینے سے پہلے تمھیں بیوی بنا لوں گا۔“
اور رشاقہ مطمئن انداز میں سرہلاتی ہوئی اس سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر لیٹ گئی۔
٭٭٭
طلوع آفتاب کے تھوڑی دیر بعد ہی انھیں بنو احمر کا لشکر دکھائی دیا تھا۔اس وقت وہ صبح کا کھانا کھارہے تھے ۔انھوں نے گھاٹی کی طرف ذرا سا نیچے ہو کراپنے خیموں سے عریش بنا لیں تھیں کیوں کہ ان پہاڑوں پر درخت ناپید تھے اور سارا دن براہ راست دھوپ کی زد میں رہنا از حد مشکل اور تکلیف دہ تھا۔
بنو احمر کے سواروں کی آمد کا سنتے ہی تمام کھانے کو چھوڑ کر پتھروں کی آڑ لے کر درے کے کناروں کے قریب دبک گئے تھے۔بنو احمر کے لشکر میں گھڑسواروں کے علاوہ شتر سوار بھی شامل تھے۔نجار بن ثابت اس وقت بندھا ہوا دھوپ میں پڑا تھا۔بنو احمر کا لشکر دیکھتے ہی اس کی آنکھوںمیں چمک نمودار ہوئی۔
”سردار زادی ،دیکھ لو ۔اتنے بڑے لشکر سے ٹکر لینا آسان نہ ہوگا۔“اس نے قُتیلہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
”ہار جیت تو بعد کا مسئلہ ہے لیکن ایک بات ملکہ قُتیلہ وثوق سے کہہ سکتی ہے کہ تمھاری زندگی کا خاتمہ ملکہ قُتیلہ سے پہلے ہوگا۔“
نجار بے فکری سے بولا۔”اگر بنو احمر والے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے تو مجھے مرنے کا ذرا بھر بھی دکھ نہیں ہوگا۔میں نہیں چاہتا کہ میری قبر میں اسقونی اسقونی کی صدائیں گونجتی رہیں۔“
قُتیلہ اسے جھڑکتے ہوئے بولی۔”تم خاموش رہ کر اپنے سانسوں کو تھوڑی سی طوالت دے سکتے ہو۔“
نجار بن ثابت اطمینان بھرے انداز میں پتھر پر سر ٹیک کر اپنے قبیلے کے سواروں کو دیکھنے لگاجو وادی میں آکر رک گئے تھے۔چند لمحوں بعد قریباََ دود رجن سوار محتاط انداز میں درّے کی طرف بڑھنے لگے۔
”باقی کیوں رک گئے ہیں۔“قُتیلہ نے بے چین ہو کر خود کلامی کی۔
اس کے بائیں جانب ملکان لیٹا تھا۔مودّبانہ لہجے میں بولا۔”شاید انھیں شک ہو گیا ہے ۔یہ بھی ممکن ہے ہمارے کسی آدمی کی حرکت انھیں دکھائی دے گئی ہو۔“
اسی وقت منقر بن اسقح پتھر کی آڑ میں جھکے جھکے ان کے قریب پہنچا۔
”کیا کریں ملکہ ؟“اس نے درے کا رخ کرنے والے بنو احمر کے سواروں کے متعلق پوچھا۔
لمحہ بھر سوچنے کے بعد وہ بولی۔”اگر یہ درّے سے گزر کر دوسری سمت آگئے تو نقصان دہ ثابت ہوں گے۔“
”سمجھ گیا۔“منقر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے واپس مڑ گیا۔
بنو احمر کے سوار لمحہ بھر درّے کے داخلی رخ پر رکے اور پھر اندرداخل ہو گئے۔دو دو گھڑسوار متوازی چل رہے تھے۔ جونھی سب سے آگے والے درّے کے دوسرے کنارے کے نزدیک پہنچے منقر نے منھ میں انگلیاں ڈال کر زوردار سیٹی بجائے ۔درّے کے دونوں اطراف میں چھپے بیٹھے بنو طرید کے افراد نے ایک دم بھاری پتھر نیچے گرانے شروع کر دیے۔اس تنگ جگہ میں پتھروں سے بچنا ممکن نہیں تھا۔وہ تنگ درّہ بنو احمر کے سواروں کی قبر ثابت ہوا تھا۔سب سے آخر میں موجود تین چارسواروں نے واپس بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن اس جانب بیٹھے تیر اندازوں نے ان کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔دو درجن آدمیوں میں بس چار گھوڑے ہی زندہ واپس پہنچ سکے تھے۔اسی وقت قُتیلہ نے چیخ کرتیر اندازوں کوبنو احمر کے لشکر پر تیر چلانے کا حکم دیا۔
تیروں کی باڑ کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر بنو احمر کے لشکر میں بھگدڑ مچی اور وہ وادی کے دوسرے کنارے کی طرف سمٹ گئے تھے جو تیر کی حد سے باہر تھا۔البتہ چند آدمی زخمی ضرور ہوئے تھے۔
وہ وادی کے دوسرے کنارے پر ازسرنو منظم ہونے لگے۔چند آدمی زخمی ہونے والوں کو سنبھالنے لگے۔
قُتیلہ نے چند آدمیوں کو درے میں اترنے کا حکم دیا تاکہ ہلاک ہونے والوں کے ہتھیار اور زندہ بچ جانے والے گھوڑوں کو سنبھال سکیں۔
بنو احمر کے لشکر کا قائد قدامہ بن شیبان تھا۔لشکر سے پچاس سوار علاحدہ کر کے اس نے گھاٹی کے چاروں اطراف کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کیے ۔قُتیلہ کو بھی ان سواروں کی روانگی کی غرض و غایت معلوم تھی۔لیکن اس بارے اسے گزشتا روز منقر مکمل معلومات پہنچا چکا تھا۔گھاٹی کے شرقی جانب صرف ایک مقام ایسا تھا جہاں سے گھڑ سوار کوشش کر کے گھاٹی میں داخل ہو سکتے تھے ۔لیکن وہاں انھوں نے اپنے تیر انداز بٹھا دیے تھے اس لیے قُتیلہ مطمئن تھی۔
بنو احمر کا دستہ کافی دیر بعد چکر کاٹ کرمایوس لوٹا تھا۔قدامہ نے وادی کے دوسرے کنارے پر پکّے ڈیرے جما لیے تھے ۔اور تب قُتیلہ کے دماغ یہ روح فرسا حقیقت منکشف ہوئی کہ اگر بنو احمر والے ثابت قدمی سے وہاں بیٹھے رہتے تو وہ مصیبت میں پڑ سکتے تھے۔ان کے پاس پانی کا ذخیرہ اتنا نہیں تھا کہ زیادہ دن چل سکتا۔ایک دم اسے اپنی حماقت پر پشیمانی ہوئی۔اپنی سرداری کے زعم میں یشکر کا مشورہ نہ مان کر اس نے بہت بڑی غلطی کر لی تھی۔
اگلے دودن میں اس کے اندیشوں کے حقیقت کا روپ دھار لیا تھا۔بنو احمر کا لشکر وادی کے دوسرے کنارے پر ڈٹ کر ڈیرے جما چکا تھا۔انھیں خوراک اور پانی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا کہ ان کے لیے ترسیل کے رستے کھلے تھے۔اور بنو طرید کی نقل و حرکت کو گھاٹی تک محدود رکھنے کے لیے بنو احمر کے سوار باقاعدگی سے گھاٹی کے گرد گشت کرتے رہتے۔
٭٭٭
تیسرے دن کے اختتام پرمنقر نے قُتیلہ کو اطلاع دی کہ ان کے پاس پانی کی نہایت قلیل مقدار بقایا تھی۔تبھی قُتیلہ نے روزانہ کے حساب سے ہر مردو عورت کے لیے ایک آب خورا پانی کی مقدار مقرر کر دی ۔اس ضمن میں صرف شیر خوار اور کم سن بچوں کو استثناءحاصل تھا۔
اگلے دن سورج ڈحلے تمام کو ایک ایک آب خورہ پانی کا منقر نے اپنی نگرانی میں تقسیم کروایا تھا۔قُتیلہ نے بھی ایک آب خورہے پر اکتفا کیا تھا۔وہ ایسی سردارن نہیں تھی جو تکلیف کاٹنے میں ہچکچاتی۔
رشاقہ اس وقت یشکر کے پاس ہی بیٹھی تھی۔اپنا آب خورہ خالی کر کے اس نے یشکر کی طرف دیکھا جو اب تک بھرا ہوا آب خورہ تھامے ہوئے بیٹھا تھا۔رشاقہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بے صبری سے بولی۔
”پیو ناں ۔“
”تم لے لو۔“اس نے آب خورہ رشاقہ کی طرف بڑھادیا۔
وہ آنکھیں راتے ہوئے گڑبڑا گئی تھی۔”نن….نہیں ،تمھیں بھی پیاس لگی ہو گی۔“
یشکر ہولے سے مسکرایا۔”میں برداشت کر سکتا ہوں ۔“
”اتنی کمزور میں بھی نہیں۔“رشاقہ نے بظاہر بہادری کا مظاہرہ کیا۔
”اپنی عورت کا خیال رکھنا مرد کا فرض ہوتا ہے۔“یشکر نے زبردستی اس کے ہاتھ میں آب خورہ تھما دیا تھا۔
رشاقہ کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی۔اور پھر اس نے جھجکتے ہوئے آب خورہ منھ سے لگالیا۔ پانی پی کر وہ یشکر کی نزدیک کھسکی اور اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولی۔”تمھاری بننے سے پہلے میں مرنا نہیں چاہتی۔“
یشکر بے بسی سے بولا۔”حالات تمھاری نظر میں ہیں رشاقہ۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”مجھے شادی کے علاوہ تمھاری کوئی بات نہیں سننا۔“
”پاگل نہیں بنتے رشاقہ۔“یشکر کا ہاتھ اس کی پیٹھ سہلانے لگا۔رشاقہ کی آنکھوں سے نکلنے والی نمی اس کا کندھا بھگونے لگی تھی۔
اگلے دن طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد ہی بنو احمر کے لشکر سے دو گھڑسوار سفید جھنڈا تھامے گھاٹی کی طرف بڑھے۔منقر نے قُتیلہ کو آواز دے کر اس جانب متوجہ کیا۔وہ چند قدم لے کر کنارے کے قریب آگئی تھی ۔پہاڑی کی جڑ میں آکر ان میں سے ایک بولا۔
”ہم جانتے ہیں گھاٹی کے اندر پانی کا کنواں یا چشمہ وغیرہ موجود نہیں ہے۔تمھارے پاس موجود پانی کا ذخیرہ جلد ہی ختم ہو جائے گا ۔اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ ہتھیار ڈال کر خود کو ہمارے حوالے کر دو ،امید ہے اس طرح ہم تمھارے ساتھ بہتر سلوک کریں گے۔“
قُتیلہ زوردار آواز میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ کے دس تک گننے تک اگر تم تیر کی حدود میں رہے تو اپنی موت کے خود ذمہ دار ہو گے۔اور یادرہے ملکہ قُتیلہ گنتی کی ابتداءپانچ سے کرتی ہے۔“
دونوں نے گھبرا کر گھوڑے موڑے اور اپنے لشکر کی طرف سرپٹ دوڑا دیے۔سارے دن کا صلہ انھیں شام کو پانی کے ایک آب خورے کی صورت میں مل رہا تھا۔یشکر نے جونھی اپنے حصے کا پانی رشاقہ کی جانب بڑھایا۔اس نے سسکی بھرتے ہوئے سر کو دائیں بائیں ہلادیا۔
”اچھا ایک بات بتاﺅ،کیا تم نے مجھے تھوڑی دیر پہلے بکرے ذبح کرنے والوں کے ساتھ جاتے دیکھا تھا؟“
”توکیا….؟“رشاقہ کی سمجھ میں اس کا استفسار نہیں آیاتھا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”میں پیٹ بھر کر بکرے کا خون پی چکا ہوں۔“
”کک….کیا۔“وہ حیران رہ گئی تھی۔
”ہاں ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے یشکر نے پانی کا بھرا آب خورہ زبردستی اس کے ہاتھوں میں تھمادیا۔”سکندربابانے مجھے کئی بار زبردستی جانوروں کا خون پلایا تھا۔کیوں کہ ان کے خیال میں پیاسا مرنے سے خون پی کر اپنی جان بچانا بہتر ہے۔“
وہ رقت بھرے لہجے میں بولی ۔”اور ایسا تم نے اپنے حصے کا پانی میرے حوالے کرنے کے لیے کیا ہے نا۔“
”بتایا تو ہے ،اپنی عورت کا خیال رکھنامرد کی پہلی ذمہ داری ہوتا ہے۔“
وہ سسکتے ہوئے بولی۔”تو اپنا کب بناﺅ گے۔جب بنو احمر کے ظالم میری لاش کے ٹکڑے کر چکے ہوں گے تب ۔“
یشکر اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا جھکا ہوا سر اٹھاتے ہوئے بولا۔”اچھا پانی پی کر منقر چچا کو بلا لو ۔“
رشاقہ خوشی سے کھل اٹھی تھی۔
تھوڑی دیر بعد وہ منقر کو ساری بات بتا چکی تھی۔
منقر نے رشاقہ کی بات سنتے ہی کہا۔”ملکہ قُتیلہ سے پوچھ لوں۔“اور رشاقہ کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ قُتیلہ کی طرف بڑھ گیا۔وہ ایک بڑے پتھر پر بیٹھی ڈوبتے سورج کی آخری کرنوں کو دیکھ رہی تھی۔منقر نے قریب جا کر جاہلیت کا سلام کہا۔
”آﺅ منقر۔“اس کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
منقر جھجکتے ہوئے بولا۔”ملکہ قُتیلہ ،زندگی و موت کا کچھ پتا نہیں اور اس عالم میں کوئی دو وجود ایسے ہیں جو مرنے سے پہلے ایک دوسرے کو اپنانا چاہتے ہیں۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔”اجازت ہے منقر،انھیں ملکہ قُتیلہ کی طرف سے ایک بھری ہوئی چھاگل پانی کی شب زفاف کے تحفے کے طور پر پیش کر دینا۔“
منقر نے پوچھا۔”ملکہ نے ان کے نام جاننے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔“
وہ دھیرے سے ہنسی۔”کیوں کہ ملکہ قُتیلہ جانتی ہے وہ کون ہیں ۔“
منقر نے پوچھا۔”ملکہ قُتیلہ نکاح میں شرکت کریں گی؟“
”نہیں۔“نفی میں سرہلاکر وہ دوبارہ سورج کو تکنے لگی۔گویا یہ اشارہ تھا کہ منقر جا سکتا تھا۔
منقر مزید کچھ پوچھے بغیر واپس مڑگیا۔
”اور ہاں منقر۔“اس نے اچانک منقر کو آواز دی ۔وہ رک کر اس کی جانب متوجہ ہوا۔
وہ اپنی صراحی دار گردن میں پہنا ہوا سبز زمرد کے پتھروں کا جڑاﺅ طوق اتارتے ہوئے بولی۔”یہ رشاقہ کو پہنا دینا۔ملکہ قُتیلہ کے پاس اس وقت سب سے قیمتی چیز یہی ہے۔“
منقر شفقت بھرے لہجے میں بولا۔”یہ ہماری پیاری اور حسین ملکہ کے گلے میں بہت اچھا لگتا ہے۔“
قُتیلہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔”امی جان بھی کچھ ایسا ہی کہا کرتی تھیں ۔بہ ہرحال یہ رشاقہ کی گردن میں شاید ملکہ قُتیلہ کی گردن سے بھی زیادہ اچھا لگے۔“یہ کہتے ہوئے اس نے طوق منقر کی طرف اچھالا اور خود درّے کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭
بنو طرید کے مردوزن کو اپنا انجام صاف نظر آرہا تھااس کے باوجود رشاقہ اور یشکر کی شادی کا انھوں نے خیر مقدم کیا تھا۔رات ایک پہر گزر چکی تھی اور طبقہ کی جادو بھری آوازسے ماحول سحرزدہ ہو گیا تھا۔البتہ وہ زیادہ دیر جشن جاری نہیں رکھ سکے تھے کہ پیاس کی شدت اس قسم کے ہلا گلا کی اجازت کہاں دیتی تھی ۔دونوں کو مبارک باد دیتے ہوئے تمام اپنی مخصوص جگہوںکی طرف لوٹنے لگے کہ جہاں بیٹھ کر انھوں نے پہرے داری کی ذمہ داریاں سنبھالنا تھیں ۔
سب سے آخر میں منقر نے یشکر کو مبارک باد دی اورہاتھ میں پکڑا طوق اس کے گلے میں پہنانے لگا۔
طوق پہنا کر وہ پیچھے ہٹا اور شفقت بھرے لہجے میں کہنے لگا۔”نظر تو نہیں آرہا مگر مجھے یقین ہے میری بیٹی کے گلے میں یہ ہار بہت اچھا لگ رہا ہوگا۔“
رشاقہ لجا کر بولی۔”منقر چچا ،بہت بہت مہربانی۔“
منقر آہستہ سے بولا۔”یہ طوق ملکہ قُتیلہ نے اپنے گلے سے اتار کر دیا ہے۔کہہ رہی تھی رشاقہ گلے میں زیادہ اچھا لگے گا۔“
رشاقہ کو چپ لگ گئی تھی ۔وہ محبت بھرے انداز میں طوق کے خوب صورت نگینوں پرہاتھ پھیرنے لگی۔اس وقت اس کے دل میں ہلکی سی ندامت ابھری۔اسے لگا وہ قُتیلہ سے بے وفائی کی مرتکب ہوئی ہے،لیکن پھر یشکر کی خوب صورت رفاقت کے خیال نے اس کی ڈحارس بندھا دی تھی۔ منقر دعائیہ کلمات کہہ کر رخصت ہو گیا تھا۔تب وہ مایوسی بھرے لہجے میں بولی۔
”ملکہ قُتیلہ نے شرکت نہیں کی ۔“
یشکر بے پروائی سے بولا۔”اس نے اپنا ہار بھجوا کر نیک خواہشات کا اظہار کر دیا ہے ناں۔“
وہ لجاجت سے بولی۔”اگر تھوڑی دیر صبر کر سکتے ہو تو میں اس سے مل کر آجاتی ہوں ۔“
یشکر بے پروائی سے بولا۔”میں زیادہ دیر بھی صبر کر لوں گا۔“
”زیادہ دیر صبر مجھ سے نہیں ہو سکتا ناں ۔“دلربائی سے کہتے ہوئے قُتیلہ کو ملنے چل دی ۔لوگوں سے پوچھنے پر پتا چلا کہ قُتیلہ درّے کے دوسری جانب چلی گئی تھی۔اندھیرے میں بڑی مشکل سے شہتیروں کا پل عبور کر کے وہ دوسری جانب پہنچی۔اصرم بن خسار سب سے آخری آدمی تھاجو اس جانب بیٹھا تھا۔رشاقہ کے استفسار پر اس نے بتایا۔
”ملکہ قُتیلہ مشرقی جانب کے پہرے داروں کی طرف گئی ہے۔ممکن ہے شب بھر وہیں رہے۔“
رشاقہ مایوس ہوکر واپس لوٹ آئی۔اس کے دل میں ندامت کا احساس کچھ اور بڑھ گیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ شمال کی جانب باقی لوگوں سے کافی دور ہٹ کر یشکر کی بانہوں میں لیٹی تھی۔قُتیلہ کی بھیجی ہوئی پانی کی چھاگل نے دونوں کی پانی کی پیاس بجھاکر ایک دوسرے کو کھوجنے کی پیاس بڑھا دی تھی۔
چوبیس ،پچیس کے جھینپے جھینپے چاند نے مشرق سے سر ابھارا۔اس وقت یشکر کے بازو پر سر رکھے رشاقہ ہولے سے بولی۔”مجھے مرنے سے ڈر لگنے لگا ہے۔“
”اپنی مرضی سے کون مرنا کون چاہتا ہے۔“
لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔ ”ہم کوشش کریں تو چپکے سے نکل سکتے ہیں۔“
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”شاید زندگی بچ جائے لیکن ہماراکردار مر جائے گا۔“
وہ مصر ہوئی۔”مجھے نہیں لگتا کہ بنو طرید کا کوئی فرد زندہ بچ جائے گا۔اور بنو احمر والے ہمیں یوں بھی نہیں جانتے۔“
یشکر فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”کردار لوگوں کی نظر میں نہیں مرا کرتا پاگل،انسان اپنے ہی سامنے ہلاک ہو جاتا ہے۔اور پھر خود سے آنکھیں نہیں ملا پاتا۔“
”سردارزادی بادیہ کو بچانے کے لیے بھی تو تم قبیلہ چھوڑ کر بھاگے تھے۔“رشاقہ نے ضد نہیں چھوڑی تھی یشکر کے حصول کے بعد اس کی زندگی سے محبت بڑھ گئی تھی۔
”اس وقت حالات اور تھے۔بادیہ کے چچا محترم شریم نے مجھے بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔کیوں کہ وہ چاہتے تھے سردار زادی کواور خودکو بنو نوفل کے ہاتھوں میں آنے سے بچا کر میں ان کی فتح کا خوشی ماند کر سکتا ہوں۔“
”نہیں ،بلکہ تمھیں بادیہ مجھ سے زیادہ پیاری تھی۔“رشاقہ نے خفگی ظاہر کی۔
”جو بات معلوم ہو اس کی تکراربے فائدہ ہے۔“یشکر نے اسے جھٹلانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”وہ مجھ سے زیادہ خوب صورت تھی۔“رشاقہ نے منھ بسورا۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”سردار زادی قُتیلہ کو دیکھ لو۔“
”یعنی زیادہ خوب صورت تھی ۔“یشکر کے سینے پر سررکھتے ہوئے وہ کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔
٭٭٭
صبح کی روشنی پھیلتے ہی درّے کی طرف سمٹ آئے تھے۔قُتیلہ والے طوق نے رشاقہ کی سج دھج میں ضافہ کر دیا تھا۔رشاقہ کو قُتیلہ اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی دکھائی دی۔ وہ بنو احمر کے لشکر کی جانب گھور رہی تھی۔ اس کاچہرہ دیکھ کر رشاقہ کو لگا وہ کسی گہری سوچ میں تھی۔رشاقہ بھی ایک پتھر پر بیٹھ کر بہ ظاہر بنو احمر والوں کی نقل و حرکت دیکھنے لگی ،مگر وہ کن اکھیوں سے قُتیلہ کی طرف متوجہ رہی۔مگر قُتیلہ اس کی موجودی سے غافل شاید سامنے ہی متوجہ رہی۔”شاید اس نے مجھے دیکھا نہیں ہے ۔شاید وہ مجھے دیکھنا نہیں چاہتی۔“ دو مختلف سوچیں اس کے دماغ میں پیدا ہوئیں۔اور وہ وہیں بیٹھی انھی سوچوں کو سلجھاتی رہی۔قُتیلہ کے قریب جانے کی ہمت اسے نہیں ہورہی تھی۔
بنو طرید کے باسیوں کے چہروں پر بے رونقی چھائی ہوئی تھی۔پیاس کی شدت نے انھیں مضمحل کر دیا تھا۔پانی کے ذخیرے میں مزید کمی ہو گئی تھی اور اس قلیل ذخیرے کو زیادہ دن چلانے کے لیے منقر نے قُتیلہ سے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ اب سب کو آدھا گلاس پانی ملنا تھا۔گھوڑے اور مویشی بھی بے قرار تھے۔پانی ہی سے تو زندگی ہے اور پانی کی غیر موجودی میں زندہ رہنا کہاں ممکن تھا۔
کافی دیر سوچ میں کھوئے رہنے کے بعد قُتیلہ نے یشکر، ملکان اور منقر کو تیار ہونے کا حکم دیا۔اس کا ارادہ بنو احمر والوں سے بات چیت کا ہوگیا تھا۔تھوڑی دیر بعد وہ گھوڑوں پر سوار ہاتھ میں سفید پرچم تھامے درے سے باہر جا رہے تھے۔سردار نجار بن ثابت بھی ایک گھوڑے پر بیٹھاان کے ہمراہ تھا۔ اس کے ہاتھ پشت پر بندھے تھے اور گلے میں پھندا ڈال کر ملکان نے رسی کو اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا۔
انھیں سفید جھنڈے کے ساتھ درّے سے برآمد ہوتا دیکھ کر بنو احمر کے لشکر سے بھی تین افراد ان کی طرف بڑھنے لگے۔وادی کے وسط میں نے ان کا آمنا سامنا ہوا۔گفتگو کی ابتدا قُتیلہ نے کی تھی۔
”اپنا محاصرہ ختم کر کے تم سردار نجار بن ثابت کو زندہ واپس لے سکتے ہو۔“
قدامہ بن شیبان معنی خیز لہجے میں بولا۔”بنو احمر کے تین سو جوانوں کو میں نے سردارزادی قُتیلہ کے شباب کا لالچ دے کر اکٹھا کیا ہے وہ کرخت شکل کے سردار کے لیے قُتیلہ جیسی دوشیزہ کو کہاں چھوڑنا چاہیں گے۔“
”اگر کسی کے دل میں ملکہ قُتیلہ کے حصول کی زیادہ ہوس چھپی ہے تو وہ مقابلہ کر کے ملکہ قُتیلہ کو حاصل کر لے ۔“
”ضرورت ہی کیا ہے ۔“قدامہ نے بے پروائی سے قہقہ لگایا۔”دو تین دنوں تک تم بلا مقابلہ ہی ہمارے ہاتھ آنے والی ہو ۔“
قُتیلہ بولی۔”اپنے سردار کو کھو دو گے۔“
”پہلے ہی سے کھو چکے ہیں۔اب قبیلے کا سردار میں ہوں۔اگر نجار بن ثابت واپس آگیا تب بھی یہ بات یقینی ہے کہ یہاں پر موجود اڑھائی تین سو جنگجوتمھیں حاصل کیے بغیر واپس لوٹنے پر تیار نہیں ہوں گے۔بلا شبہ تم بڑی خوش قسمت ہو کہ بنو احمر کے تین سو مرد تیرے خاوند بنیں گے۔“قدامہ کا غلاظت بھرا لہجہ سن کر قُتیلہ کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔
نجار طیش میں آتا ہوا بولا۔”قدامہ ،تم غلطی کر رہے ہو۔“
قدامہ طنزیہ انداز میں بولا۔”ایک قیدی کو زیب نہیں دیتا کہ سرداروں کے درمیان منھ کھولے۔“
نجار بن ثابت غرایا۔”اگر میں واپس آگیا تو تمھارا انجام بہت بھیانک ہوگا۔“
قدامہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”ایک قیدی کی کسی بھی بات کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ جن کی قید میں ہوتا ہے اس کے منھ میں انھی کی زبان بولتی ہے۔اس لیے میں معذرت خواہ ہوں ۔باقی سردارزادی قتیلہ کے بدلے تمھاری واپسی کا سودامیں نہیں کرنے والا۔اور اگر جنگ جیت کر ہم تمھیں چھڑانے میں کامیاب ہو گئے توبھی سردارزادی قُتیلہ کی بابت طے کرنے والے فیصلے کے علاوہ تمھاری ہر بات مانیں گے۔“
نجار غصے سے بل کھا کر رہ گیا تھا۔
”قدامہ ،تمھاری موت ملکہ قُتیلہ کے ہاتھ لکھی ہے۔نسر کی قسم اس بارے شبہ کرنے والوں کا شک ملکہ قُتیلہ بہت جلد دور کر دے گی۔“
قدامہ ،مکروہ انداز میں ہنستے ہوئے ملکان کو مخاطب ہوا۔”کتنے شرم کی بات ہے کہ تمھاری سردارن ایک خوب صورت دوشیزہ ہے۔خیر یہ تمھارا ذاتی معاملہ ہے۔البتہ اسے اور بنو طرید کا سارا مال و اسباب ہمارے حوالے کر کے تم لوگ اپنی جانیں بچا سکتے ہو۔“
ملکان ہنسا۔”بہت سستا کر دیا ہے تم نے ملکہ قُتیلہ کو۔“
”سردارزادی کو تو ہم یوں بھی حاصل کر لیں گے۔اور یاد رکھنا اس وقت تمھارے پاس سوائے پچھتاوں کے کچھ بھی نہیں ہوگا۔“
”چلو واپس ۔“قُتیلہ نے گھوڑا موڑا۔
”جوان یہ گھوڑا دے کرتم اپنی زندگی کی ضمانت حاصل کر سکتے ہو۔“قدامہ اس مرتبہ یشکر کو مخاطب ہوا تھا جو خاموشی سے تمام بات چیت سنتا رہا تھا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”سردار قدامہ ،زندگی کی ضمانت چھوڑو،تم تینوں مل کر مجھے شکست دو اور یہ گھوڑا ساتھ لیتے جاﺅ۔“
”کیا ضرورت ہے خطرہ مول لینے کی ،دو تین دنوں تک یہ گھوڑا بھی مل جائے گا اور اڑیل گھوڑی بھی۔“آخری الفاظ اس نے قُتیلہ کو دیکھتے ہوئے کہے تھے۔
ناکام بات چیت کے بعد دونوں ٹولیاں واپس لوٹ گئی تھیں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: