Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 47

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 47

–**–**–

اسی شام پانی کی تقسیم کے بعد قُتیلہ نے تمام سرکردہ افراد کو بلا لیا۔رشاقہ بھی بن بلائے وہاں آگئی تھی۔قُتیلہ نے بغیر لگی لپٹی رکھے ساری صورت حال ان کے سامنے رکھ دی تھی۔
امریل نے کہا۔”ہمیں جلد از جلد فیصلہ کن جنگ لڑنا پڑے گی ورنہ روز بہ روز ہماری طاقت ختم ہوتی جائے گی اور ایک دن ہم بے ضرر کیچووں کی طرح ان کے ہاتھ آجائیں گے۔“
منقر نے کہا۔”لڑائی کا مطلب موت ہے ۔“
امریل ترکی بہ ترکی بولا۔”مر تو ویسے بھی رہے ہیں۔“
اصرم نے کہا۔” رات کو شرقی جانب سے بھاگنے کی کوشش کی جا سکتی ہے ۔“
ملکان نے انکار میں سرہلایا۔”وہ ساری رات گشت کرتے ہیں اور ہم اگر مویشیوں کو یہاں چھوڑ بھی دیں توعورتوں و بچوں کی موجودی میں اتنی تیزی سے حرکت نہیں کر سکیں گے۔“
قریب نے مشورہ دیا۔”اگر چند آدمی پہلی رات کو چوری سے پانی کی تلاش میں جائیں تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔“
منقر نے اس کا مشورہ رد کرتے ہوئے کہا۔”چند آدمی چھپ کر یہاں سے کیسے نکلیں گے جبکہ جانے کے دونوں راستوں پر دشمن کے پہرے دار موجود ہیں ۔اور بالفرض وہ دشمن کے آدمیوں کو جل دے کر جانے میں کامیاب ہو بھی گئے تو پانی کی تلاش میں کتنی دور تک جا سکتے ہیں۔اور اتنے آدمیوں کے لیے وہ پانی لائیں گے کس برتن میں۔کم از کم گھوڑے پر پکھا ل تو لادی نہیں جا سکتی۔اور اونٹ سا تھ بھیجیں گے تو نہ وہ گھوڑے کی طرح تیز رفتاری سے حرکت کر سکتا ہے۔اور نہ واپسی پر اتنی مشکل چڑھائی پر وزن کے ساتھ چڑھ سکیں گے۔وہ بھی ایسی صورت میں کہ دشمن مسلسل نگرانی کر رہا ہے ۔“
عامر نے کہا۔”وہ ملکہ قُتیلہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ،اگر ملکہ ہی یہاں سے فرار ہو جائے تو شاید صلح کی کوئی صورت نکل آئے۔“
”عامر بن اسود،شاید پیاس کی وجہ سے تمھارے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔“ خاموش بیٹھی قُتیلہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔”جب ان کا مطالبہ ہی ملکہ قُتیلہ کا حصول ہے تو ملکہ قُتیلہ کے فرار ہونے کے بعد تم سے صلح کیسے ہو گی ؟“
ملکان نے خیال ظاہر کیا۔”اگر سردار نجار بن ثابت کو بغیر کسی شرط کے چھوڑ دیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے لشکر کو واپس لے جانے میں کامیاب ہو جائے۔“
”نہیں۔“قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”تم نے قدامہ بن شیبان کی گفتگو سنی تو تھی۔“
منقر نے پوچھا۔”یشکر تم کچھ نہیں بول رہے۔“
”ان کا مطالبہ ہم پورا نہیں کر سکتے اور اس کے بغیر وہ گھیرا ختم نہیں کرنے والے۔ اب دو صورتیں باقی رہ گئی ہیں۔لڑ کر جان دیں یا ہتھیار ڈال کر گرفتاری۔“
”ہونہہ!….ان کا مطالبہ ۔“قُتیلہ نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا۔اس کی دُنبالہ آنکھیں یشکر کو گھور رہی تھیں۔یشکر اس کی طرف متوجہ نہ ہوا البتہ یشکر کے پہلو میں بیٹھی رشاقہ حسرت بھری نگاہوں سے قُتیلہ کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
دو تین لمحے یشکر کو گھورنے کے بعد وہ کھڑی ہو گئی تھی۔”مشاورت ختم ہوئی۔“
٭٭٭
رشاقہ جونھی گہری نیند میں ڈوبی یشکر محتاط انداز میں اس کے پہلو سے اٹھ کر قُتیلہ کے بستر کی طرف بڑھ گیا۔اندھیرا گہرا ہو گیا تھا۔لیکن تین چار جگہوں پر پہرے داری کرنے والوں نے آگ جلائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ملگجی روشنی پھیلی تھی۔یشکر کو دور ہی سے پتھر سے ٹیک لگائے بیٹھی سردار زادی قُتیلہ نظر آگئی تھی۔اس سے مناسب فاصلہ رکھ کر وہ بھی پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔اس کی چھٹی حس مخصوص خطرے کی نشان دہی کر رہی تھی۔صبح کا ملگجا اجالا پھیل گیا تھا جب اس نے قُتیلہ کو اٹھ کر ڈھلان کا رخ کرتے دیکھا۔وہ بہ ظاہر آنکھیں بند کیے اس کی طرف متوجہ رہا۔اس وقت وہ فطری تقاضے کے لیے بھی کہیں جا سکتی تھی اور جو اندیشہ یشکر کے دماغ میں پل رہا تھا اس پر عمل کر سکتی تھی۔
اسے ابلق گھوڑی پر سوار ہوتے دیکھ کر یشکر ہوشیار ہو گیا تھا۔گھوڑی پر زین ڈالنے کی زحمت اس نے نہیں کی تھی۔جونھی اس نے گھوڑی کا رخ درّے کی طرف موڑا،یشکر اٹھ کر سامنے کی طرف دوڑ پڑا تھا۔اگر وہ قُتیلہ کا تعاقب کرنے کی کوشش کرتا تووہ نکل جاتی ۔سامنے کی ڈھلوان کافی مشکل تھی لیکن وہاں سے خالی ہاتھ بندہ اتر سکتا تھا ۔یشکر کو نیچے جاتا دیکھ کر ایک دو آدمیوں نے حیرانی سے استفسار کیا مگر وہ جواب دیے بغیر تیز رفتاری کا مظاہر کرتا ہوا نیچے اترگیا ۔وہ درّے سے نکل ہی رہی تھی جب وہ سامنے پہنچ گیا۔
”کہاں جا رہی ہو۔“یشکر نے ایک دم ابلق گھوڑی کی لگام تھام لی تھی۔
وہ تلخی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ،تمھیں جواب دہ نہیں ہے۔“
”تم خود کو ان کے حوالے کر کے بھی بنو طرید کو بچا نہیں سکتیں۔“
”ملکہ قُتیلہ لڑنے جا رہی ہے۔اور یقینا ملکہ قُتیلہ کی موت ہی اس لڑائی کا فیصلہ کرے گی۔“
یشکر اسے سمجھاتا ہوا بولا۔”وہ تمھیں قتل نہیں کریں گے ،زخمی کر کے گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”اس سے تمھیں غرض نہیں ہونا چاہیے۔“
یشکر صفائی دیتا ہوا بولا۔”اہورمزدا کی قسم میری بات کا یہ مطلب نہیں تھا۔میں نے کہا تھا ”ہم ان کا مطالبہ پورا نہیں کر سکتے ۔“مطلب ہم ایسا کسی صورت نہیں کریں گے ۔اپنے قبیلے کے سردار کو دشمن کے حوالے کر کے صلح کرنے والے بے غیرت اگر چند روزکی زندگی کی بھیک حاصل کر بھی لیں حقیقت میں وہ اسی وقت مرجاتے ہیں۔ خاص کر اگر قبیلے کی سردار لڑکی ہو تو اس سودے کی قباحت اور بڑھ جاتی ہے ۔ تم نے زبردستی اس بات کو دوسرا رخ دے دیا۔اور دل سے کہو کیا میں تمھارے بارے ایسا سوچ بھی سکتا ہوں۔ خود تو کہتی ہو میں ہر وقت تمھارا خیال رکھتا ہوں کیوں کہ تم میری بادیہ کی ہم شکل ہو۔پھر میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”مجھے تمھاری بکواس نہیں سننا۔“
”سردارزادی ،واپس چلو ۔لڑنے کے لیے تم اکیلی نہیں جاﺅ گی۔بنو طرید کا ہر تلوار اٹھانے والا تمھارے ساتھ ہو گا۔اور ایسے نہیںآج ہم اکٹھے مل کر جشن منائیں گے ،اپنے پاس موجود پانی کا سارا ذخیرہ ختم کریں گے ،اپنے پیاروں کو اچھے سے الوداع کہیں گے اور کل صبح کا سورج بنو احمر کو یہ باور کرا دے گا کہ سردار زادی قُتیلہ کا حصول اتنا بھی آسان نہیں ہے۔تمھارے دائیں یشکر ہو گا اور بائیں جانب امریل پھر بنو احمر کو بھی پتا چلے گا کہ لڑائی کیا ہوتی ہے ۔اوریہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ تمھیں زندہ ان کے ہاتھ نہیں آنے دوں گا۔بادیہ کو بھی دشمن کے ہاتھ نہیں لگنے دیا تھا۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”ہونہہ!….ایک فارسی غلام کے وعدوں کی حیثیت ہی کیا ہے ۔“
”نسر کی قسم کھا کر کہو تمھیں یشکر کے وعدے پرا عتبار نہیں ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ اپنے لیے کسی اور کی گردن نہیں کٹوا سکتی۔“
”تمھارے لیے کسی کی بھی گردن نہیں کٹے گی۔ہر ایک کی گردن اس کی اپنی وجہ سے کٹے گی۔غلامی کی زندگی یا عزت کی موت کا انتخاب ہر شخص کے پاس موجود ہے۔ہم کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کریں ۔جو نہیں لڑنا چاہے گا اسے عورتوں کے ساتھ چھوڑ دیں گے۔“
قُتیلہ نے جواب دیے بغیر ابلق کی لگام اس کے ہاتھ سے کھینچی اور گھوڑی پیچھے موڑ لی۔یشکر پیدل ہی اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔
٭٭٭
یشکرکے کہنے پر ملکان نے تمام کو سرِ شام ہی اکٹھا کر لیا تھا۔یشکر نے تمام کو مخاطب کر کے گفتگو کی ابتداءکی ۔
”بنو طرید کے باسیو !موت سبھی کو آنی ہے۔اس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔بچ نہیں سکتا، جان نہیں چھڑا سکتا۔جو وقت مقرر ہے ا سے ملتوی نہیں کر سکتا۔ آج نہیں تو کل ،کل نہیں تو پرسوں ،ایک ہفتہ ،ایک ماہ ایک سال بعد لیکن مرنا ضرور ہے۔اور مرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیوں کہ یہ طے شدہ امر ہے ۔ معنی رکھتا ہے ہم نے زندگی کیسے گزاری۔بزدلوں ،بے غیرتوں اور غلاموں کی طرح یا بہادری ،دلیری اور غیرت مندی سے۔یاد رہے اس وقت حالات ایسے ہیں کہ تم بھاگنا بھی چاہو تو بھاگ نہیں سکتے اور اگر بچنا ہے تو انھیں مارنا ہوگایا مرنا ہوگاتیسرا راستاصرف گھٹیا زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ بنو طرید تمھارا قبیلہ ہے ۔اس کی بقا تمھاری بقا ہے ۔ہم قلیل ضرور ہیں ،مگر قلت ہار کی علامت ہے نہ اکثریت جیت کا نشان۔وہ ہم سے سردارزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں ہماری سردارن مانگ رہے ہیں۔اور سردارن کے لیے گھٹیا خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ہم ان کے گندے دماغوں میں پلنے والے غلیظ خیالات کو تلوار کی دھار سے کھود کھود کر نکالیں گے۔اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے یہ لڑائی ہم سب کی لڑائی ہے۔اکیلی سردارزادی کی نہیں۔ورنہ اتنا تو تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کے لیے فرار ہونا نہایت آسان ہے ۔بنو احمر میں کوئی ایسا شہ سوار موجود نہیں جو سردارزادی کی گرد کو بھی پا سکے۔اور نہ ان کے پاس کوئی ایسا لڑاکا موجود ہے جو سردار زادی کا مقابلہ کر سکے۔مجھے معلوم نہیں اس لڑائی کا نتیجہ کیا نکلے گا۔زیادہ مواقع ہماری شکست کے ہیں ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ ،اہل بنو احمر کے زعم کوہم خاک میں ملا دیں گے۔ ان کی نسلیں بھی اس معرکے کو یاد کر کے کانپا کریں گی۔کیا تم لڑنے کے لیے تیار ہو؟“
”ہاں ہم لڑنے کو تیار ہیں۔“انھوں نے یک زبان جواب دیا تھا۔
یشکر نے دوبارہ پوچھا۔”کیا تم مرنے کو تیار ہو؟“
” تیار ہیں؟“اس بار بھی پہلے ہی کی طرح باآواز بلند جواب دیا گیا تھا۔
”ٹھیک ہے ،آج کی شب ہم جشن منائیں گے،اپنے پیاروں سے الوداعی ملاقات کریں گے اورکل کا سورج ہماری شجاعت کا نظارہ کرے گا۔اپنی عورتوں اور بچوں کو ہم طلوع آفتاب کے ساتھ ہی شرقی جانب بھیج دیں گے ۔جونھی مقابلہ شروع ہو گااس جانب پہرے داری پر موجود بنو احمر کے آدمی وہ جگہ چھوڑ دیں گے ۔اور راستا خالی ہو جائے گا۔اور جب لڑائی کا اختتام ہو گا امید ہے بنو احمر کے بچ جانے والے افراد میں اتنی ہمت نہیں ہو گی کہ ہماری عورتوں اور بچوں کا تعاقب کر سکے۔اگر کوئی مرد لڑنے سے ڈرتا ہے تو وہ بھی عورتوں کے ساتھ جا سکتا ہے۔کسی کو بھی نہیں روکا جائے گا۔“
تمام نے زوردار نعروں سے یشکر کے منصوبے کا خیر مقدم کیا تھا۔
امریل بولا۔”ہم لڑیں گے اور خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔جو آنکھ ہماری ملکہ کی طرف اٹھے گی اسے پھوڑ دیں گے ،جو ہاتھ ہماری ملکہ کی طرف بڑھے گا اسے کاٹ دیں گے،جو زبان ہماری ملکہ کے خلاف بھونکے گی اسے گدی سے کھینچ لیں گے۔“
اس رات کو انھوں نے زندگی کی آخری رات کے طور پر یادگار بنادیا تھا۔ان کے پاس شراب موجود نہیں تھی۔لیکن اس وقت پانی بھی انھیں شراب جیسی ہی لذت دے رہا تھا۔پانی کا سارا ذخیرہ انھوں نے مل بانٹ کر پی لیا تھا تاکہ اگلے دن کی لڑائی کے لیے انھیں طاقت مل سکے۔
بکروں ،دنبوں اور اونٹ کا گوشت وہ آگ پر بھون کر کھاتے رہے قہقہے لگاتے رہے۔ پھر رقص و سرودکی محفل شروع ہو گئی۔طبقہ کی سریلی آواز ماحول کو سحر زدہ کرنے لگی۔رات گئے تک وہ ہنگامہ جاری رہا۔اس کے بعد قُتیلہ نے سب کو آرام کرنے کا مشورہ دیاتاکہ تمام اپنے پیاروں کے ساتھ تنہائی میں چند گھڑیا ں بتا سکیں۔
”میں عورتوں کے ساتھ نہیں جاﺅں گی۔“اکیلے ہوتے ہی رشاقہ نے اپنے ارادے کا اظہار کیاتھا۔
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا۔“
”تمھارے بعد زندہ رہ کر کیا کروں گی؟“
”مجھے نہیں پتا،لیکن تمھیں عورتوں کے ساتھ جانا پڑے گا۔“
” سینہ ءزمین پر چلنے والے تمام افراد میں مجھے سب سے پیارے تم اور ملکہ قُتیلہ ہو ۔اور اگر تم دونوں دھرتی اوڑھنا چاہتے ہو تو روشن چاند کی قسم مجھے زندگی نہیں چاہیے۔“رشاقہ جذباتی ہو گئی تھی۔
”اس دھرتی پر مجھے بھی یاد کرنے والا تمھارے علاوہ کوئی نہیں ہے رشاقہ۔اور میں نہیں چاہتا کل غروب آفتاب تک میں بھولی بسری داستان بن جاﺅں۔تم کسی طرح سے طیسفون پہنچنے کی کوشش کرنا۔وہاں عظیم شہنشاہ سابورذوالاکتاف کے خصوصی محافظ سکندر بن ارسلان کا پوچھنا،اگر وہ زندہ ہوئے تو انھیں بتانا تم ان کی بہو ہو۔یقین مانو تمھیں عزت،دولت،عیاشی سب کچھ ملے گی۔اور اگر وہ زندہ نہ ہوئے تو سبرینہ بنت بہروز سے ملنے کی کوشش کرنا۔وہ تمھاری مدد کرے گی۔سکندر بن ارسلان کی بہو کے لیے وہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔“
وہ سسکی۔”مجھے اپنے ساتھ مرنے کی اجازت دے دو ۔“
”میری بات نہیں مانو گی۔“
وہ لجاجت سے بولی۔”ہمیشہ مانی ہے،اس بار تم مان لو۔میں اپنے دل کو کیسے تسلی دوں گی کہ یشکر اور ملکہ قُتیلہ مر چکے ہیں۔“
یشکر ہتھیار ڈالتا ہوا بولا۔”ٹھیک ہے جو مرضی آئے کرو۔“
”تم خفا ہو۔“رشاقہ ہاتھ پکڑ کراس کی انگلیاں چٹخانے لگی۔
وہ ہنسا۔”زندگی کی آخری چند گھڑیاں خفا ہو کر گزاری جا سکتی ہیں بھلا….“
”تمھیں ملکہ قُتیلہ پیاری لگتی ہے نا؟“رشاقہ نے وہ سوال پوچھا جو اسے بہت پہلے پوچھ لینا چاہیے تھا۔
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”وہ جس کی ہم شکل ہے وہ مجھے ساری دنیا سے عزیز تھی۔باقی اندازہ تم خود لگا لو۔“
”میں پہلے سے جانتی تھی۔“رشاقہ جتانے والے انداز میں کہہ کر اس کے مزید قریب سمٹ آئی تھی۔
٭٭٭
اگلے دن انھوں نے عورتوں اور بچوں کو خچروں ،گدھوں اور اونٹوں پر سوار کرا کے شرقی راستے کی جانب روانہ کر دیا تھا۔تین مرد ایسے تھے جو لڑنا بالکل نہیں جانتے تھے قُتیلہ نے انھیں زبردستی عورتوں کے ساتھ بھیج دیا تھا۔اور سختی سے تاکید کی تھی کہ جب تک اس جانب موجودبنو احمر کے پہرے دارلڑائی کی خبر پا کر سامنے کا رخ نہیں کرتے وہ وہیں رک کر انتظار کریں گے۔اس جانب موجود اپنے دودرجن آدمیوں کو انھوں نے صبح سویرے ہی واپس بلا لیا تھا۔
عورتوں اور بچوں کے قافلے کو رخصت کر کے وہ درّے کے راستے باہر نکلے،بنو احمر کے لشکر نے انھیں دیکھتے ہی صفیں باندھ لی تھیں ۔آفتاب کی ابتدائی کرنیں زمین پر پڑیں تو دونوں لشکر صفیں باندھ کر آمنے سامنے کھڑے تھے۔بنو احمر کے لشکر کی تعداد ان سے پانچ گنا زیادہ تھی۔وہ وادی کے درمیان کو میدان جنگ بنانے والے تھے۔وہ پانی کی گزرگاہ تھی ،آج وہاں خون بہنے والا تھا۔
سب سے پہلے قُتیلہ نے ابلق گھوڑی کو آگے بڑھا کر بنو احمر کے لشکر کے سامنے گھماتے ہوئے باآواز بلند بولی۔
”ملکہ قُتیلہ بنت جبلہ بن کنانہ تمھیں دعوت دیتی ہے ،اگر بنو احمر میں کوئی ایسا سورما موجود ہے جس نے ماں کا دودھ پیا ہے تو وہ سامنے آئے۔“(عرب ہمیشہ لڑائی سے پہلے انفرادی مقابلوں کے لیے ایک دوسرے کو للکارا کرتے تھے)
لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد ایک گھڑ سوار ہمت مجتمع کرکے آگے آیا۔”میں افنان بن نہاس ہوں اور تمھیں باندی بنائے بغیر پیچھے نہیں ہٹوں گا۔“
وہ تلوار بے نیام کرتے ہوئے مسکرائی۔”یقیناملکہ قُتیلہ کوکسی ایسے ہی جوان کی تمنا تھی ۔“
دونوں تلواریں سونتے ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔قُتیلہ نے ابلق کو ایڑ لگاتے ہی اپنے پاﺅں رکاب سے نکال کر زین پر رکھے،تیز رفتار گھوڑے پر یوں زین پر پاﺅں ٹکا کر بیٹھنا یقینا قُتیلہ ہی کا کمال تھا۔دونوں گھوڑوں کے سر جونھی متوازی ہوئے وہ زور سے اچھلی۔ مخالف نے تلوار گھمائی تھی ،لیکن وہ قلابازی کھاتے ہوئے تلوار کے وار سے اوپر سے گزری اور زمین پر پاﺅں لگانے سے پہلے اس کی تلوار مقابل کا کام کر چکی تھی۔اس ے گرنے کا تماشا دیکھے بغیروہ دوڑ کر ابلق کے قریب پہنچی اور چھلانگ لگا کر سوارہو گئی۔
اس کے مدمقابل کی لاش وادی کے وسط میں جا کر گری تھی۔وادی کی پیاسی ریت کو سیراب کرنے کے لیے خون کے عطیے کی ابتداءہو چکی تھی ۔
قُتیلہ نے تلوار کی نوک بنو احمر کے لشکر کی طرف کر کے کسی دوسرے شہ زور کو سامنے آنے کی دعوت دی۔لیکن اس کے تین چار بار پکارنے کے باوجود کوئی آگے نہیں بڑھا تھا۔دشمن کی تلوار اور گھوڑے پر قبضہ جما کر وہ اپنی صف میں لوٹ آئی تھی۔اگلی باری یشکر کی تھی۔وہ مشکی گھوڑے کو دوڑاتا ہوا دونوں لشکروں کے درمیان میں آیا۔
”میں یشکر بن سکندر بن ارسلان ہوں ،سردارزادی قُتیلہ مجھے فارسی غلام کہتی ہے۔تو کوئی ایسا عرب ہے جو ایک فارسی غلام سے یہ مشکی گھوڑا چھین کر لے جا سکے۔یقینا یہ بات تو آپ لوگ بھی جانتے ہوں گے کہ سرزمین عرب میں اس سے بہتر گھوڑاموجود نہیں ہے۔“
نجانے گھوڑے کے حصول کی لالچ تھی یا ایک فارسی غلام کو سبق پڑھانے کی نیت ،کہ یکے بعد دیگرے تین افراد اس کے مقابلے کے لیے نکلے ۔اور دونوں قبیلوں کی لڑائی کا انجام دیکھنے کی حسرت دل میں لیے پرلوک سدھارے۔تین کی ہلاکت کے بعدکسی چوتھے کوسامنے آنے کی ہمت نہیں ہو سکی تھی۔
یشکر کے بعد امریل باہر نکلا۔
”مجھ سے تو بنو احمر کے جیالے اچھی طرف واقف ہیں۔اگر کسی کو مرنے کی جلدی ہے تو وہ قسمت آزما سکتا ہے۔“
اس مرتبہ کسی کو ہمت نہیں ہوئی تھی کہ امریل کو وہ اچھی طرح جانتے تھے۔
امریل کی واپسی کے بعد قُتیلہ نے گھوڑ آگے بڑھا کر قدامہ بن شیبان کو آواز دی ۔
”بنو احمرکے ناجائز سردار،یاد رکھنا بنو طرید کے غیرت مند اتنی آسانی سے تمھارے قابو نہیں آئیں گے۔ملکہ قُتیلہ کی لاش حاصل کرنے کے لیے تمھیں اپنے قبیلے کی اتنی لاشیں گرانا پڑیں گی کہ گنتی بھول جائے گی۔اب بھی وقت ہے اپنے اصل سردار کو بازیاب کرا کے واپس لوٹ جاﺅ۔“
”آج کی رات بنو احمر کے فاتح سوارتمھیں اجتماعی لونڈی بنائیں گے۔“
” احمق انسان تم نے جان بچانے کا آخری موقع بھی کھو دیا۔“قُتیلہ قہر آلود لہجے میں کہتے ہوئے واپس صف میں لوٹی۔یشکر اس کے دائیں ہاتھ جبکہ امریل بائیں جانب کھڑا تھا۔وہ یشکر کی طرف متوجہ ہوئی۔
”فارسی غلام! ملکہ قُتیلہ کے قریب رہنا ۔کیوں کہ ملکہ قُتیلہ کسی ایسے کے ہاتھ سے گلا کٹوانا چاہے گی جو اس سے اچھا شمشیر زن ہو۔“
وہ پراعتماد لہجے میں بولا۔”ساتھ ہی رہوں گا سردارزادی،اور فکر نہ کرنا تمھارے بدن کو کوئی میلا ہاتھ اسی وقت چھوئے گا جب ہم میں سانس باقی نہیں ہوں گے۔“
”اس دن تمھاری تلوار ملکہ قُتیلہ کی گردن سے دور بھاگ رہی تھی،آج ایسا نہیں ہونا چاہیے۔“
یشکر بولا۔”کہہ دیا ناں، اعتبار کرو۔“
دنبالہ آنکھیں چند لمحے اس کی آنکھیں میں جھانکتی رہیں۔ان سیاہ آنکھوں کی گہرائی میں دیکھتے ہوئے یشکر خود کو پر سکون محسوس کر رہا تھا۔بادیہ چلی گئی تھی لیکن اس کی آنکھیں باقی تھیں۔
وہ دھیرے سے مسکرائی۔”یاد رکھناملکہ قُتیلہ سے پہلے مرنے کی کوشش کی تو ملکہ قُتیلہ تمھاری گردن اتار دے گی۔“
”ملکہ قُتیلہ ….“ملکان کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔
قُتیلہ نے اس کی جانب دیکھا اور پھر اس کے ہاتھ کے اشارے کی طرف گردن گھمائی۔ وادی کے موڑ سے گھڑسوار نمودار ہورہے تھے۔
منقر نے خیال ظاہر کیا۔”شاید ،بنو احمر کا کوئی حلیف قبیلہ مدد لے کر آرہا ہے۔“
یشکر بے نیازی سے بولا۔”مرنے کا ارادہ کرنے والوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
”جتنے بھی ہو جائیں ،قدامہ بن شیبان کوملکہ قُتیلہ کے ہاتھوں مرنے سے نہیں بچا سکتے۔“
بنو احمر کے لشکر کو قدامہ بن شیبان یلغار شروع کرنے کا حکم دے رہا تھا،لیکن اپنے کسی آدمی کے بتانے پر اس نے وادی کے موڑ سے آنے والے گھڑ سواروں کو دیکھا۔اورحملے کا ارادہ موخّر کر دیا۔ دونوں لشکر آنے والوں کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
آنے والوں نے بھی حیرانی سے آمنے سامنے صف آراءلشکروں کو خوشگوار حیرانی سے دیکھالیکن وہ رکے نہیں تھے۔ان کے مزید قریب آنے پر یشکر کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگاتھا۔فارسی سپاہ کی وردی کو وہ اچھی طرح پہچانتا تھا۔اور پھر اس کی نگاہ سواروں کے کندھوں سے لٹکی ہوئی ڈھالوں پر پڑی، جن پرسابور ذوالاکتاف کی کمان ہاتھ میں پکڑے شیر کا شکار کرنے کی تصویر کندہ تھی۔
وہ قدرے زور سے بولا۔”مجھے لگتا ہے کمک دشمن کو نہیں ہمیں ملنے والی ہے۔“
قُتیلہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔”ہمیں کمک کہاں سے مل سکتی ہے؟“
یشکر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں کہا۔”فارس سے ۔“اور پھر اس کا جواب سنے بغیر گھوڑادوڑا کر آنے والوں کی طرف بڑھا جو وادی کے درمیان رک گئے تھے۔وہ شاید فیصلہ نہیں کر پار ہے تھے کہ آگے چلے جائیں یا وہیں رک جائیں۔اسی وقت قدامہ بن شیبان بھی ایک آدمی کوہمراہ لیے اس طرف بڑھنے لگا۔قُتیلہ نے بھی یشکر کی تقلید میں اپنا گھوڑا اس جانب بڑھا دیا تھا۔
”دوستو،لگتا ہے یہاں دو لشکر صف آراءہیں۔ہم کسی کے طرف دار نہیں بس ایک خبر لے کر آگے بڑھ جائیں گے۔“فصیح عربی میں بات کرنے والا یقینا فارسیوں کے ساتھ آنے والا رہبر تھا۔
قدامہ جلدی سے بولا۔”میں بنو احمر کا سردار ہوں اور تم جو چاہے پوچھ سکتے ہو۔“
”میرے ہمراہ فارس کے معزّز سالار ہیں اور انھیں ایک لڑکے کی تلاش ہے جس کا نام یشکر ہے۔اس کے ہمراہ بنو جساسہ کی سردارزادی بھی ہے ۔اگر اس بارے آپ لوگوں کو کوئی معلومات ہو تو اطلاع دینے والے کو خاطر خواہ انعام دیا جائے گا۔“
”اس کا مطلب ہے میں انعام کا حق دار ٹھہرتا ہوں ۔“یشکر خوشی سے چہکا۔قُتیلہ کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ کھلنے لگی تھی۔
عرب رہبر اس کی طرف متوجہ ہوا۔”اگر تم ان کے بارے میں جانتے ہو تو ضرور انعام ملے گا۔“
”تمھارا سالار کون ہے؟“اس مرتبہ یشکر نے ساسانی پہلوی (فارس میں بولی جانے والی زبان)میں بات کی تھی۔
”میں ہوں ،بارہ ہزاری کماندار بہرام۔“ایک لمبی قامت کے خوش شکل جوان نے اسے متوجہ کیا۔
یشکر نے پوچھا۔”یشکر کی تلاش کس کے حکم پر کر رہے ہو؟“
بہرام بولا۔”معزّز سالار سکندر کے حکم پر۔“
”محترم بہرام !….آپ پر اہورمزدا کی برکتیں ہوں ،آپ نہیں جانتے آپ نے ایک بیٹے کو باپ کی زندگی کی نوید سنا کر کتنا خوش کیا ہے۔“
بہرام مسرت سے لبریز لہجے میں بولا۔”آپ کو دیکھتے ہی مجھے شک ہو گیا تھاکہ اس بار میری تلاش کامیاب رہی۔“یہ کہتے ہی وہ گھوڑا بڑھا کر یشکر کے قریب ہوا ۔اسے نیچے اترتے دیکھ کر یشکر نے بھی نیچے چھلانگ لگائی ۔دونوں نے پر تپاک انداز میں معانقہ کیا ۔
”یہ کیا معاملہ ہے؟“بہرام نے آمنے سامنے کھڑے لشکروں کی طرف اشارہ کیا۔
یشکر سنجیدگی سے بولا۔”لمبی کہانی ہے ،مختصر یہ کہ تمھاری سپاہ کو لڑنا پڑے گا۔“
”آپ کو معلوم نہیں مگر آپ میرے بہت بڑے محسن ہیں۔اگر محترم سکندر کا حکم نہ بھی ہوتا تو یہ سوار میں آپ کی خاطر جنگ میں جھونک دیتا ۔اب تو یہ سوار آپ ہی کی خاطر لڑنے آئے ہیں۔“
یشکر ،قُتیلہ کی طرف متوجہ ہوا۔”سردارزادی ،فارس کی سپاہ تمھارے لشکر کا حصہ ہے اور تمھارے احکامات کی منتظر ہے۔“
قدامہ کے چہرے پر پریشانی نمودار ہوئی ،وہ عرب ہم وطن کو مخاطب ہوا۔”کیا معاملہ چل رہا ہے۔“
رہبر، بہرام سے استفسار کرنے لگا۔”محترم سالار ،اگر یشکر مل گیا ہے تو آپ کو جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہیے۔“
بہرام نے اپنے لباس سے سونے کے سکوں کی تھیلی برآمد کر کے اس کی طرف اچھالی۔ ”عبدالعزیٰ،یہ رہا تمھارا انعام۔اورتم فوراََ کھسکنے کی کروکیوں کہ اب حکم کسی اور کا چلے گا۔“
”معزّز سالا ر کا اقبال بلند ہو۔“عبدالعزیٰ نے تھیلی جھپٹ کر سلام کہا اور سرعت سے اپنا گھوڑا موڑ کر دوڑا دیا۔
” مسئلہ بات چیت سے بھی حل ہو سکتا ہے۔“عبدالعزیٰ کے بھاگتے ہی قدامہ ،یشکر کو مخاطب ہوا۔اس کے لہجے میں لجاجت در آئی تھی۔
”درست کہا،بات چیت کے لیے ہماری سردارزادی موجود ہے ۔“‘یشکر نے اطمینان سے سر ہلاتے ہوئے قُتیلہ کی جانب اشار ہ کیا۔
”تمھارا باقی رہنا ملکہ قُتیلہ کے قبیلے کے لیے نقصان دہ ہے قدامہ ،کہا تھا نا تمھاری موت ملکہ قُتیلہ کے ہاتھوں لکھی ہے ۔“زہر خند لہجے میں کہتے ہوئے قُتیلہ نے تلوار سونتی اورابلق کو ایڑ لگاتے ہوئے قدامہ کی طرف بڑھی۔یوں بھی قدامہ کی وہاں موجودی کسی سفارت کے تابع نہیں تھی۔
قدامہ نے گھبرائے ہوئے انداز میں تلوار ے نیام کرنے کی کوشش کی مگر اتنی دیر میں قُتیلہ کی تلوار اس کے ایک بازو کو اڑا چکی تھی۔زوردار چیخ مارتے ہوئے وہ نیچے جھکا اور پھر گھوڑے سے گر گیا۔ اس کے ساتھ آئے آدمی نے گھوڑا موڑ کر اپنے لشکر کی طرف بھاگنے کی سعی کی ،اسی وقت یشکر کے ہاتھ سے سیدھی دھار والا خنجر کمان سے نکلے تیر کمان کی طرح اس کی طرف بڑھا اور اس کی گردن میں پیوست ہو گیا تھا۔وہ گھوڑے کو ایڑ لگا چکا تھااس وجہ سے گھوڑے کے چند قدم لینے کے بعد ہی زمین پر گرا تھا۔
قُتیلہ چھلانگ لگا کر نیچے اتری۔قدامہ اذیت بھرے لہجے میں کراہ رہا تھا۔تلوار کی نوک سے اس کی ٹھوڑی اوپر کرتے ہوئے وہ مسکرائی۔
”ملکہ قُتیلہ نے تمھیں ایک موقع دیا تھا قدامہ ۔“
وہ خوف زدہ لہجے میں بولا۔”میں ہر شرط پر صلح کرنے کو تیار ہوں ملکہ قُتیلہ ۔“
”تم نے پچھتانے میں دیر لگا دی قدامہ۔“یہ کہتے ہوئے قُتیلہ نے تلوار کے اگلے وار سے اس کا دوسرا بازو بھی کاٹ دیا تھا۔
زور دار چیخ اس کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی اور وہ بری طرح تڑپنے لگا۔
اس کی گردن کاٹے بغیر وہ مڑ کر ابلق پر سوار ہوئی۔”فارسی غلام ،بنو احمر کا کوئی فرد بچنا نہیں چاہیے۔“یشکر کو کہہ کر اس نے گھوڑی کو بنو احمر کے لشکر کی طرف دوڑایا جو اس سارے معاملے کو سمجھنے کی کوشش میں اضطراب سے پہلو بدل رہے تھے۔اورساتھ ہی تلوار لہرا کر بنو طرید کے جوانوں کو حملہ کرنے کا اشارہ کیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: