Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 48

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 48

–**–**–

اس کی گردن کاٹے بغیر وہ مڑ کر ابلق پر سوار ہوئی۔”فارسی غلام ،بنو احمر کا کوئی فرد بچنا نہیں چاہیے۔“یشکر کو کہہ کر اس نے گھوڑی کو بنو احمر کے لشکر کی طرف دوڑایا جو اس سارے معاملے کو سمجھنے کی کوشش میں اضطراب سے پہلو بدل رہے تھے۔اورساتھ ہی تلوار لہرا کر بنو طرید کے جوانوں کو حملہ کرنے کا اشارہ کیا۔
یشکر اس کے ساتھ ہی بنو احمر کے لشکر کی طرف بڑھ رہا تھا۔بہرام کے ساتھ تربیت یافتہ سپاہ تھی ۔اس نے منظم انداز میں انھیں بنو احمر کے لشکر کے دائیں پہلو کی طرف بڑھنے کا حکم دیا۔بنو احمر والے فارسی سپاہ کو اپنے خلاف ہتھیار سونتے دیکھ کرگھبرا گئے تھے۔وہ تو خود سے پانچ گنا کم لشکر کا مقابلہ کرنے آئے تھے یہاں تو معاملہ الٹ ہو گیا تھا۔اب جوانب میں سپاہ کی تعداد تو برابر تھی ،لیکن ان کے مخالف ایک تو تربیت یافتہ سپاہ تھی اور دوسرایشکر، قُتیلہ اورامریل جیسے لشکرشکن لڑاکے تھے۔
انھوں نے مقابلہ ضرور کیا مگر ذہنی طور پر وہ پہلے سے ہار چکے تھے ۔ان کا سردار یوں بھی لڑائی سے پہلے مارا جا چکا تھا۔ان کے حوصلے پاتال سے بھی نیچے جا گرے تھے ۔جلد ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگنے کے چکروں میں پڑگئے۔بنو طرید کے سوارانھیں چن چن کر ہلاک کر رہے تھے۔
قُتیلہ کی وحشت دیکھنے لائق تھی ۔اس کی دربدری کے اصل ذمہ دار بنو احمر والے ہی تو تھے ۔ اور پھر ان کی وجہ سے اس نے کتنی ذہنی اذیت کاٹی تھی۔کئی دن سے پیاس کے عذاب میں مبتلا تھی۔اب بدلے کا وقت آیا تھا تو وہ پورا انصاف کررہی تھی۔یہ تین سو جوان اسے مشترکہ باندی بنانے آئے تھے۔ یہ سارے اس کے شباب کے طلب گار تھے۔اور اب اسی پرشباب دوشیزہ کی بجلی کے کوندے کی طرح لپکنے والی تلوار کو دیکھ کر ان پر لرزہ طاری تھا۔
وہ قتل و غارت کافی دیر جاری رہی تھی۔بنو طرید کے سوار بگولوں کی طرح بنو احمر کے بھگوڑوں کا تعاقب کر رہے تھے۔
بہت کم افراد جان بچانے میں کامیاب ہو پائے تھے۔زیادہ تر ہلاک ہوئے تھے،شدید زخمی ہونے والوں کو قتل کر نے کے بجائے قُتیلہ نے یونھی مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔بہرام کے آٹھ آدمی قتل ہوئے تھے اور پانچ چھے زخمی تھے جبکہ بنو طرید کے پانچ افرادہلاک ہوئے تھے اور دس کے قریب زخمی تھے۔
منقر نے جنگ کی ابتداءسے پہلے ہی ایک سوار کو اپنی عورتوں اور بچوں کو واپس لانے کے بھیج دیا تھا۔لڑائی کے اختتام اور دشمنوں کے سازو سامان پر قبضے کی مدت کے دوران عورتیں اور بچے لوٹ آئے تھے۔غروب آفتاب سے پہلے ہی وہ اپنے پیاسے مویشیوں کو پانی وغیرہ پلا چکے تھے۔وہ رات انھوں نے وادی کے درمیان ہی گزاری تھی۔بہرام نے اپنے آدمیوں کی لاشوں کو ریت کے بلند ٹیلے پر رکھوادیا تھا۔( فارسی دخموں پر جو اینٹ اور پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے تھے۔اپنی لاشوں کو کھلا چھوڑ دیتے تھے تاکہ شکاری پرندے لاشوں کو کھا لیں ۔آج کل ان دخموں کو مینار ہائے خاموشی کہتے ہیں۔کیوں کہ ان کے نزدیک لاشوں کودفن کرنا یا جلانا ممنوع تھا)
قُتیلہ نے بنو طرید کے افراد کی لاشوں کو دفنا دیا تھا البتہ بنو احمر کی لاشوں کو گھسیٹ کر وادی سے باہر پھینک دیا تھاتاکہ خون خوار جانور ضیافت اڑا سکیں۔
رات کو شراب نوشی کرتے ہوئے بہرام نے یشکر سے پوچھا۔”اب کیا ارادہ ہے ۔“
”اہورمزدا نے چاہا تو صبح واپسی کی راہ لیں گے۔پدر محترم کی حیات کی خبر نے بہت سے غموں کا ملال کم کر دیا ہے۔“
بہرام نے کہا۔”وہ بھی بہت شدت سے منتظر ہیں۔اگر شہنشاہ حضور رکاوٹ نہ بنتے توخود تشریف لاتے۔“
”طیسفون کی کوئی اور نئی تازی ؟“
بہرام معنی خیز لہجے میں بولا۔”دہ ہزاری سالار بہروز کی بیٹی سبرینہ نے شادی کر لی ہے۔“
”اچھی بات ہے۔“یشکر نے مسکرا کر خوشی کا اظہار کیا۔
بہرام نے کہا۔”آپ اس کے محسن بھی تو ہیں۔“
یشکر نے اندازہ لگایا۔”آپ کی گفتگو سن کر لگتا ہے اس سے کوئی قریبی تعلق ہے ۔“
”وہ میری سب کچھ ہے۔“بہرام نے صاف گوئی سے اعتراف کیا۔
یشکر خوش دلی سے بولا۔” خوشی ہوئی کہ انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اس نے مجھ سے بہتر کا انتخاب کرلیا۔“
بہرام انکساری سے بولا۔”آپ جیسا بھی ہوجاتا تو خود سے خوش قسمت کوئی نہ لگتا۔“
یشکر خاموش رہا تھا۔بہرام موضوع تبدیل کرتے ہوئے مستفسر ہوا۔
”تمھاری محبوبہ کے متعلق سنا تھا کہ صحرائے اعظم کی خوب صورت ترین لڑکی ہے۔یہ سرخ رو گھنگرالہ تو ایسی نہیں لگتی….میرا مطلب خوب صورت تو ہے ،لیکن اس سے وحشی حسینہ زیادہ پرکشش ہے۔بس ذرا ظالم اور بے رحم لگتی ہے۔“
”اس کانام بادیہ تھا۔ باقی نہیں رہی۔اور اِس سرخ رو حسینہ کا نام رشاقہ ہے۔اب یہ میری بیوی ہے۔“یشکر کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ ابھری ۔”البتہ یہ بات تمھیں بھی حیران کر دے گی کہ سردارزادی قُتیلہ ،میری بادیہ کی ہم شکل ہے۔“
بہرام نے حیرت سے پوچھا۔”وہ بھی اس خوں خوار شیرنی کے جیسی تھی؟“
”نہیں ۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”شرمیلی،چھوئی موئی ،نازک اندام اورریشم کی طرح ملائم۔“
بہرام نے کہا۔”ویسے میں تواس جنگلی حسینہ سے بہت متاثر ہواہوں ۔اگر سبرینہ کا خوف نہ ہوتا تو رشتا بھیجنے میں تاخیر نہ کرتا۔“
یشکر نے قہقہ لگایا۔”وہ انسانوں کے سروں کو ایسے کاٹتی ہے جیسے تیز آندھی پکی ہوئی کھجوروں کو ٹپکاتی ہے۔“
بہرام ہنسنے میں اس کا ساتھ دیتا ہوا بولا۔”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
یشکر نے وضاحت کی۔”پڑتا ہے محترم،کیوں کہ مقتولوں میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو اس سے شادی کے خواہش مند تھے۔“
بہرام معنی خیز لہجے میں بولا۔”شمشیرزنی میں مہارت کا دعوے دار تو میں بھی ہوں ۔“
”گو تم مذاقاََ ایسا کہہ رہے ہو ،البتہ میں سنجیدگی سے بتا دوں کہ کبھی اس کے خلاف تلوار سونتنے کی حماقت نہ کرنا۔“
”صبح چلے جائیں گے یار!….نہ ایسی قاتل حسینہ سے واسطہ پڑے گااور نہ خون جلانے کی ضرورت پڑے گی۔“بہرام برامنائے بغیر کھڑا ہوا۔”میرا خیال ہے سونا چاہیے۔“
یشکر نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔اس کے باہر جاتے ہی رشاقہ بے صبری سے اندرداخل ہوئی ۔وہ شاید بہرام کے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔
٭٭٭
صبح جانے سے پہلے یشکر، قُتیلہ سے الوداعی ملاقات کے لیے اس کے خیمے میں داخل ہوا۔ وہ اس وقت پتھر پر تلوار کی دھار کو رگڑ رہی تھی۔ایک ترچھی نگاہ یشکر پر ڈال کر وہ کام میں لگی رہی۔ یشکر نیچے بیٹھ گیا تھا۔
اس کی جانب دیکھے بغیر اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔”تو تم نے جانے کے لیے کجاوہ کس لیا ہے؟“(عربوں کا طریقہ تھا کہ سفر کے لیے اونٹ پر لکڑی کا ہودج ،محمل یا رحلہ باندھتے جسے اردو میں کجاوہ کہتے ہیں ۔اور اس پر پردے لٹکا دیتے ۔یوں دھوپ اور ہوا میں اڑتی ریت وغیرہ سے بچا جاسکتا تھا۔اگر کوئی اونٹ پر کجاوہ باندھ رہا ہوتا تو اس کا مطلب سمجھا جاتا وہ سفر پر جانے والا ہے۔اور پھر یہ ایک محاورہ بن گیا )
”ہاں۔“
”الوداع کہنے آئے ہو۔“اس نے اگلا سوال پوچھا۔
”نہیں۔“یشکر نے نفی میں سر ہلایا۔”اس مرحلے کو ٹالنے کی سعی کر رہا ہوں۔“
یشکر کی طرف دیکھے بغیر وہ دھیرے سے ہنسی۔”کیا ایسے مرحلے کو ٹالنا ممکن ہے ۔“
”ہاں۔“اس بار یشکر کو جواب اثبات میں تھا۔”اگر تم چاہو تو۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔”تم پہاڑی بکرے اور شتر مرغ کو جمع کرنا چاہتے ہو۔“(یہ دونوں کبھی جمع نہیں ہوتے کیوں کہ پہاڑی بکرا پہاڑ کی چوٹیوں پر رہتا ہے اور شتر موغ سے کبھی نہیں ملتا)
یشکر نے دامن امید دراز کیا۔”تمھیں خوش رکھوں گا،ہر آسائش ،آرام اور عیش تمھارا مقدر کر دوں گا۔“
”تم صرف ملازم ہو،اگر یہ پیشکش خودتمھارا شہنشاہ بھی کرے تو ملکہ قُتیلہ قبول نہیں کرے گی۔“اس کے لہجے میں طنز بھر گیا تھا۔
وہ مصر ہوا۔”مجھ میں کیا کمی ہے۔“
وہ ہنسی۔”عجمی ہونا بذات خود ایک عیب ہی تو ہے۔“
”اگر کبھی اپنے فیصلے پر پچھتاوا محسوس ہو تو طیسفون چلی آنا۔یشکر بن سکندرکو محوانتظار پاﺅ گی۔“وہ جانے کے ارادے سے اٹھا۔
اس نے بے اعتنائی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔”یہ طبقہ، شن کے لیے نہیں بنی۔“(شن ایک ذہین آدمی تھا اور چاہتا تھا کہ اسے اپنے جیسی بیوی ملے۔مگر وہ اس میں ناکام رہا ۔ایک بار دوران سفر اس کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی ۔دونوں کو ایک ہی علاقے میں جانا تھا۔چلتے ہوئے شن نے کہا۔”تم مجھے اٹھاﺅ گے یا میں تمھیں اٹھاﺅں۔“ اس شخص نے کہا۔”اے جاہل جب میں بھی سوار ہوں اور تم بھی سوار ہو تو ایک دوسرے کو اٹھانا کیسا؟“ ایک کھیت کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ فصل پکی کھڑی ہے ۔شن نے پوچھا۔”یہ فصل کھائی جا چکی ہے یا نہیں؟“ اس آدمی نے کہا ۔”اے جاہل ،پکی ہوئی فصل تمھاری آنکھوں کے سامنے ہے پھر تم پوچھ رہے ہوکہ کھائی جا چکی ہے یا نہیں ۔“جب بستی میں داخل ہوئے تو ایک جنازہ ملا۔شن نے پوچھا۔”کیا خیال ہے جو چارپائی پر جا رہا ہے زندہ ہے یا مردہ؟“اس آدمی نے کہا۔”تم سے بڑا جاہل نہیں دیکھا جو جنازے کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ زندہ ہے یا مردہ۔“شن خاموش ہو رہا ۔اور جب شن نے رخصت ہونا چاہا تو وہ آدمی اسے با اصرار مہمان بنا کر گھر لے گیا۔ اس آدمی نے اپنی بیٹی کو ساری کہانی سنائی اس کا نام طبقہ تھا۔طبقہ نے کہا ۔”اسے جاہل نہ سمجھیں۔جب اس نے کہا تھا کہ میں تمھیں اٹھاﺅں یا تم اٹھاﺅ گے تو اس کا مطلب تھا کہ راستا کاٹنے کے لیے تم مجھ سے بات چیت کرو گے یامیں کروں ۔فصل کے بارے سوال کا مطلب تھا کہ اس کے مالک فصل خرچ کر کے قیمت کھا چکے ہیں یا اب تک نہیں بیچی۔اسی طرح جنازے کے سوال کا مفہوم تھا کہ اس کی کوئی اولاد ہے جو اس کے نام کو زندہ رکھ سکے یا بے اولاد ہے۔“شن پردے کی اوٹ سے جوابات سن رہا تھا۔اس نے فوراََ اس لڑکی کا ہاتھ مانگ لیا۔اور جب اسے بیاہ کر کے اپنے گھر لے گیا تو گھروالوں نے لڑکی کی ذہانت دیکھ کر کہا۔”شن کو طبقہ مل گئی ۔“ )
یشکر کے ہونٹوں پر مایوسی بھری مسکراہٹ ابھری ۔”سردارزادی بادیہ کی بہت یاد آتی ہے ۔“
قُتیلہ کے چہرے پر بیزاری نمودار ہوئی لیکن وہ خاموش بیٹھی رہی۔یشکر خیمے کے دروازے کی طرف بڑھا۔مگر اس کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے قُتیلہ کی آواز ابھری۔
”سنو،اپنی ایک غلط فہمی دور کرتے جاﺅ۔“
یشکر رک کر حیرانی سے مڑا۔دُنبالہ آنکھیں اس کے چہرے پر مرتکز تھیں۔
”ملکہ قُتیلہ احسان فراموش نہیں ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج تک تم نے ملکہ قُتیلہ پر کوئی احسان نہیں کیا ،اس لیے ملکہ قُتیلہ نے بھی تمھیں شکریہ نہیں کہا۔تم نے ہمیشہ اپنی سردارزادی بادیہ کی ہم شکل کی مدد کی ہے ۔گویا تمھاری مدد بادیہ کے لیے تھی ملکہ قُتیلہ کے لیے نہیں تھی۔اور حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کبھی تم ملکہ قُتیلہ کے محتاج ہوئے تو ملکہ قُتیلہ کو پکارنے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ ملکہ قُتیلہ کے اوپر تمھارا ذرہ برابر احسان بھی نہیں ہے۔“
یشکر تلخ لہجے میں بولا۔”میرا نہیں خیال کہ کبھی احسان جتایا ہو۔“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”کوئی سادہ لوح ہی ایسی حرکت کر سکتا تھا۔“(مطلب جب احسان کیا ہی نہیں تو جتلانا کیسا)
”اپنا خیال رکھنا۔“یشکر غصے پر قابو پا چکا تھا۔
”تم بھی رشاقہ کا خیال رکھنا۔اگر کسی دن ملکہ قُتیلہ تک یہ بات پہنچی کہ تم نے رشاقہ کے ساتھ کوئی زیادتی ہے تو یاد رکھنا ملکہ قُتیلہ تمھار اوہی حشر کرے گی جو اس نے افعون کا کیا تھا۔“(یعنی سر کاٹ دے گی)
وہ جتانے والے انداز میں بولا۔”کیا اب بھی تمھیں لگتا ہے کہ یشکر کا مقابلہ کر لو گی۔“
قُتیلہ جواب دیے بغیر اسے للکارنے والے انداز میں گھورتی رہی ۔یشکر زیادہ دیر ان آنکھوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ بے بسی کا گہرا احساس دل میں لیے وہ دروازے کی طرف مڑ گیا۔
باہر نکلاتودروازے پر رشاقہ کھڑی تھی۔یقینا اس نے دونوں کی ساری گفتگو سن لی تھی۔یشکر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
”ملکہ قُتیلہ سے الوداعی ملاقات کر لوں ۔“یشکر کی سوالیہ نظروں کا جواب دیتے ہوئے وہ خیمے میں داخل ہوگئی ۔
آہٹ سنتے ہی قُتیلہ کی نظریں دروازے کی طرف گھومیں ،رشاقہ کو دیکھتے ہی وہ بے پروائی سے اپنی مصروفیت کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”ہم آج جا رہے ہیں ۔“دو تین لمحے اس کے استفسار کا انتظار کرنے کے بعد رشاقہ دھیمے لہجے میں مطلع کرنے لگی۔
قُتیلہ جواب دیے بغیر تلوار کی دھار کو مخصوص پتھر پر رگڑتی رہی ۔
لمحہ بھر ٹھہر کر رشاقہ دوبارہ سسکی۔”معاف نہ کرو ،الوداع کلمات تو کہہ دو۔“
قُتیلہ نے پانی کے پیالے میں انگلیاں ڈبو کر چند قطرے پتھر پر ٹپکائے اور دوبارہ تلوار کی دھار رگڑنے لگی۔
رشاقہ چند قدم لے کر اس کے سامنے جا رکی۔”میں معافی مانگتی ہوں۔“
”ملکہ قُتیلہ نے معاف کر دیاہے ،اب چلی جاﺅ۔“قُتیلہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر بے اعتنائی سے کہااور تلوار کی دھار کو ایک کپڑے سے صاف کرنے لگی۔
رشاقہ کی آنکھوں میں نمی ابھری۔اور وہ لجاجت بھرے لہجے میں بولی۔”صرف ایک بار میری طرف دیکھ تو لو۔“
”ملکہ قُتیلہ پاگل تھی جو کانٹوں سے انگور توڑنا چاہتی تھی۔“(یعنی بد سے خیر کی امید باندھ رہی تھی)یہ کہتے ہوئے اس نے رخ تبدیل کر لیا تھا۔
رشاقہ دوسری جانب مڑ کردوبارہ اس کے سامنے آئی ۔”رشاقہ ایک نظر کی بھیک مانگ رہی ہے ۔“
دُنبالہ آنکھیں رشاقہ کی طرف متوجہ ہوئیں ۔رشاقہ کو لگاگہری سیاہ آنکھوں کی تہہ میں ہلکی سی نمی ہے۔یا شاید یہ اس کا وہم تھا کیوں کہ قُتیلہ جذباتی نہیں ہوتی تھی ۔لمحہ بھر اسے گھور کر وہ دوبارہ اپنی تلوار کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
رشاقہ حسرت سے اس کے چہرے کو تکتی رہی۔قُتیلہ نے تلوار نیام میں ڈالی اور ترکش سے تیر نکال کر سوفارکا معائنہ کرنے لگی۔(تیر کی چٹکی جو کمان کے چلّے پر ٹکائی جاتی ہے)صاف نظر آرہا تھا کہ وہ خود کو مصروف ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔رشاقہ آنکھوں میں امید بھرے اس کی طرف متوجہ رہی۔آخر قُتیلہ ہی کو منھ کھولنا پڑا۔
”جانے والے تمھارے منتظر ہوں گے۔“
رشاقہ ہمت مجتمع کر کے قریب ہوئی اور اس کا دایاں ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔ ”میں ہمیشہ اپنی ملکہ سے محبت کرتی رہوں گی۔“رقت بھرے لہجے میں کہہ کر اس نے قُتیلہ کا ہاتھ چھوڑا ۔اس کے ملیح چہرے پر الوداعی نگاہ ڈالی اور لمبے ڈگ بھرتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی ۔یوں جیسے ایک لمحے کی بھی دیر ہو گئی تو وہ نہیں جا سکے گی۔
رشاقہ کے رخ موڑتے ہی تیروں کے ساتھ چھیڑ خانی کرتی قُتیلہ اس کی پشت کو تکنے لگی۔ وہ دروازے پر ایک لحظے کے لیے بھی نہیں رکی تھی۔اس کے باہر نکلتے ہی قُتیلہ نے ترکش کو پھینکنے کے انداز میں واپس رکھا اور بستر پر بیٹھ گئی۔وہ گہری سوچ میں لگتی تھی۔
٭٭٭
”وہ سرخ روگھنگرالی مجھ سے زیادہ خوب صورت ہے ۔“یشکر اس وقت الوداعی ملاقات کے لیے خلیسہ کے خیمے میں موجود تھا۔اور اس کے جانے کی بابت سنتے ہی وہ شاکی ہوئی۔
”نہیں ۔“یشکر نے نفی میں سرہلانا ضروری سمجھاکہ کوئی بھی عورت دوسری عورت کو خود سے حسین سمجھنے پر تیار نہیں ہوتی۔
خلیسہ کے گلے جاری رہے۔”شاید باکرہ تھی اس لیے ۔“
”تم جانتی ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔“یشکر نے صفائی دی ۔
خلیسہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔”آپ کا فعل ان الفاظ کی نفی کرتا ہے ۔“
” جانتا ہوں جب دل ٹوٹتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ اپنی بادیہ کھو چکا ہوں اور نہیں چاہتا کہ کسی اور کا دل ٹوٹے اور وجہ بھی میں بنوں۔“
”میرے دل کا کیا؟“خلیسہ کا گلہ بجا تھا۔
”تم مجھے پسند کرتی ہو خلیسہ ،اگر محبت کرتیں تو میرے سمجھانے پر امریل کو اپنانے پر کبھی تیار نہ ہوتیں ۔“
”الزام دھر رہے ہو؟“
”حقیقت بتا رہاہوں۔تم میری محسن ہو اور میرے لیے ہمیشہ قابلِ احترام رہو گی۔میں نے کبھی بھی تمھاری خواہشوں پر ناک بھوں نہیں چڑھائی۔لیکن ہمارا تعلق اتنا پائیدار نہ ہوتا جتنا تمھارااور امریل کا ہوگا۔“
”تمھاری بادیہ کی ہم شکل تو قُتیلہ ہے۔پھر گھنگرالی کو ساتھ لے جاناکس زمرے میں آتا ہے۔“
یشکر مایوسی سے بولا۔”اس گھمنڈی کے نزدیک ایک عجمی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“
خلیسہ مسکرائی ۔”اگر میں اور امریل کبھی طیسفون آنا چاہیں تو خوش آمدید کہہ سکو گے۔“
یشکر خوش دلی سے بولا۔”اسے خوش قسمتی جانوں گا۔“
”جانتی ہوں۔“خلیسہ تیقن سے بولی۔”لیکن امریل کسی صورت ملکہ قُتیلہ کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوگا۔“
”ننھے بہادر کا خیال رکھنا۔“یشکر اس کے بیٹے کے گال تھپتھپا کر اس کے خیمے سے نکل آیا۔ رشاقہ کے علاوہ تمام اس کے انتظار میں تیار کھڑے تھے۔مُشکی کی گردن سہلا کر وہ قُتیلہ کے خیمے کی طرف دیکھنے لگا۔رشاقہ اب تک وہیں تھی۔امریل ،ملکان ،منقر ،اصرم ،عامر،قریب وغیرہ اسے الوداع کہنے کے لیے کھڑے تھے۔
تمام سے معانقہ کر کے اس نے رسمی کلمات کہے۔اس دوران رشاقہ بھی آگئی تھی۔ سرخ ہوتی ناک اور نم آلود آنکھیں اس کی دلی حالت کا پتا دے ری تھیں۔دونوں اپنے گھوڑوں پر سوار ہوئے اور ہاتھ لہرا کر چل پڑے۔
٭٭٭
انھوں نے وہ رات بھی وہیں گزاری اور اگلی صبح طلوع آفتاب سے پہلے آگے جانے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ان کے دس آدمی زخمی ہوئے تھے جن میں سے تین شدید اور باقی معمولی زخمی تھے۔ زخمیوں کو کجاوں میں باندھ کر وہ چل پڑے۔ قُتیلہ بالکل خاموش تھی۔منقر ،ملکان اور امریل اس کے دائیں بائیں تھے۔اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کی وجہ سے وہ آہستہ رفتار سے چل رہے تھے۔
خاموشی کو منقر کی آواز نے توڑا تھا۔”لگتا ہے بنو احمر کا کانٹا تو نکل گیا۔اب کیا ارادہ ہے۔“
وہ بے رحمی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ بنو احمر کی جڑیں بھی اکھیڑ دے گی۔“
ملکان نے کہا۔”معلوم نہیں ان کے پاس کتنے لڑاکا باقی ہیں۔“
”یہ معلومات ملکہ قُتیلہ کے ارادوں کو مہمیز نہیں کر سکتی۔“اس کے انداز میں بے نیازی تھی۔
منقر نے پوچھا۔”نجار بن ثابت کاکیا کرنا ہے۔“
اس نے کندھے اچکائے۔”فی الحال ملکہ قُتیلہ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔“
امریل نے زبان کھولی۔”فارسی بہت اچھا جوان تھا لیکن سفید لومڑی نے بنو طرید چھوڑ کراچھا نہیں کیا۔“
منقر جلدی سے بولا۔”ہر شخص کواپنی مرضی کی زندگی گزارنے اور پسند کا ساتھی چننے کا حق حاصل ہے امریل ۔“
”منقر اور ملکان! تم دونوں قافلے کو لے آﺅ ملکہ قُتیلہ ،امریل کے ساتھ آگے جا رہی ہے۔“ یہ کہتے ہی قُتیلہ نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی۔امریل بھی اس کے ساتھ بڑھ گیا تھا۔
”ملکہ پریشان نظر آرہی ہے ۔“ان کے آگے بڑھتے ہی ملکان نے خیال ظاہر کیا۔
”ہاں ۔“منقر نے گہرا سانس لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔”ملکہ قُتیلہ کی فطرت اللہ (یاد رہے عہد جاہلیت کے مشرک اللہ کو بھی مانتے تھے ۔لیکن اس کی بادشاہی میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے )نے ایسی بنائی ہے کہ کسی مرد کی برتری برداشت نہیں کر پاتی ۔“
”ایک بات میری سمجھ میں نہیں آرہی،جب ملکہ قُتیلہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہوا تھا کہ اگر کسی مرد میں ہمت ہے تو مجھے بزور بازوحاصل کر لے ۔اور یشکر ایسا کر بھی سکتا تھااور اسے اپنانا بھی چاہتا تھا پھر اس نے ایسا کیوں نہ کیا؟“
منقر ہنسا۔”یہ نادان اور کم ظرف مرد کی کوشش ہوتی ہے کہ عورت کو بزوربازو جیت لے۔ یشکر ایسا نہیں تھا۔اس بات سے ملکہ قُتیلہ بھی اچھی طرح واقف ہے ،لیکن یشکر کا نسب اس اعلا نسل سردارزادی کی تمنا کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔“
”عجیب بات ہے کہ یشکر نے تین چار بار ملکہ قُتیلہ کی جان بچائی لیکن اس نے ایک بار بھی یشکر کا شکر ادا نہیں کیا۔“ملکان نے حیرانی ظاہر کی۔
”کیوں کہ وہ چاہتی تھی یشکر اپنا احسان جتائے اور اس کے ہاتھ یشکر کی کوئی خامی آئے۔ احساس برتری کا شکار مغرور سردارزادی کے لیے یشکر کا وجود ایک ایسے کانٹادار پھول کی حیثیت اختیار کر گیا تھاجسے پاس رکھنے پر ہاتھ زخمی ہونے کا اندیشہ ہو اور دور کرنے پر خوشبو چھننے کا غم ۔“
ملکان نے کہا۔”اب تو وہ چلا گیا۔“
منقر نے آس بھرے لہجے میں کہا۔”امید ہے ملکہ قُتیلہ جلد ہی سنبھل جائے گی ۔“
٭٭٭
پوری کوشش کے باوجود امریل کا نقرہ ،قُتیلہ کی ابلق کا مقابلہ نہیں کر پا رہا تھا۔قُتیلہ ابلق کو پوری رفتار سے دوڑا رہی تھی۔امریل کو لگ رہا تھا جیسے دل میں چھپا غصہ وہ گھوڑی کو تیز دوڑا کر زائل کرنا چاہ رہی ہو۔دو تین فرسخ وہ یونھی زین پر جھک کر گھڑ دوڑ میں مقابلہ لینے کے انداز میں ابلق کو دوڑاتی رہی اور پھر رفتار کو آہستہ کر دیا۔
امریل بھی نقرے کو اس کے پہلو میں لا کر دُلکی چال میں دوڑانے لگا۔
خاموشی کو امریل نے توڑاتھا۔”اگر اس کا جانا بُرا لگ رہا ہے تومالکن اسے رکنے کا کہہ سکتی تھی۔“
قُتیلہ خاموش رہی تھی۔
امریل نے بات بڑھائی۔” ملکہ قُتیلہ کے ساتھ اس کی جوڑی واقعی جچتی تھی۔“
اس کی جانب دیکھتے ہوئے قُتیلہ تیکھے لہجے میں بولی۔”شاید تم اپنی ناک کی موت نہیں مرنا چاہتے۔“( عرب جب کہتے کہ فلاں اپنی ناک کی موت مرگیا ہے تو اس کا مطلب ہوتا طبعی موت مرا ہے)
”معذرت چاہتا ہوں مالکن۔“امریل میں اسے مزید کریدنے کی ہمت نہیں تھی۔
قُتیلہ نے بھی اور کچھ بولنے سے گریز کیا تھا۔
بنو طرید پہنچ کر بقیہ دن انھوں نے بیری کے سائے میں آرام کرتے گزارا تھا۔سہ پہر ڈھلے ان کا قافلہ پہنچ گیا تھا۔اندھیرا گہرا ہونے تک وہ اپنے خیمے وغیرہ لگا چکے تھے۔
اگلی صبح نجار بن ثابت ایک مجرم کی طرح اس کے سامنے کھڑا تھا۔
لمحہ بھر اسے گھورنے کے بعد قُتیلہ نے زبان کھولی۔”سردار نجار بن ثابت،مرنے سے پہلے اپنی آخری خواہش بیان کرنا چاہو گے۔“
نجار بن ثابت بولا۔”میری موت کے بعد بنو احمر کی خطا معاف ہوجانا چاہیے۔اوراس کے بعد ملکہ قُتیلہ بنو احمر کا رخ نہیں کرے گی۔“
قُتیلہ کے لبوں پر زہر خند تبسم ابھرا۔”بنو احمر کی ضمانت کون دے گا؟“
”ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے ،اب وہ ملکہ قُتیلہ پر حملے کی جرّات نہیں کریں گے۔“
”تم چاہتے ہو ملکہ قُتیلہ اپنے دشمن کو پاﺅں پر کھڑا ہونے کا موقع دے۔“
نجار بن ثابت لجاجت سے بولا۔”نہیں ،میں چاہتا ملکہ قُتیلہ وسیع الظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرے ہوئے دشمن پر تلوار نہ سونتے۔“
قُتیلہ نے گہری نظر اس کے چہرے پر ڈالی،کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی۔دُنبالہ آنکھوں میں سوچ کی پرچھائیاں سیلابی ریلے کی مانند ہلکورے لے رہی تھیں۔
”منقر۔“دو تین لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کی آواز ابھری ۔”سردار نجار بن ثابت کو ایک گھوڑا،تلوار اور پانی کی مشک دے کر رخصت کر دو۔“
”جی ملکہ۔“منقر سعادت مندی سے سرہلاتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
”چلو۔“اس نے نجار بن ثابت کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔
نجار بن ثابت کے چہرے پر حیرانی ابھری جو بتدریج ممنونیت میں ڈھل گئی تھی۔”بنو احمر کا سردار ملکہ قُتیلہ کا احسان مند اور اس کی وسیع الظرفی کا معترف ہے۔“احسان مندی سے کہتے ہوئے وہ منقر کے ساتھ چل پڑا تھا۔منقر نے قُتیلہ کی بیان کردہ اشیاءاسے فراہم کیں۔تھوڑی دیر بعداس کا گھوڑا بنو احمر کی جانب دوڑ رہا تھا۔
منقر قُتیلہ پاس پہنچا۔
”چلا گیا۔“قُتیلہ مستفسر ہوئی۔
اثبات میں سرہلاتے ہوئے منقر نے کہا۔”ملکہ قُتیلہ کا یہ فیصلہ خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔“
قُتیلہ کے لبوں پر مدہم مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”منقر!….شادی شدہ عورت کو دوپٹا اوڑھنا نہیں سکھایا جاتا۔“(یہ مثل عرب ایسے موقع پر بھی بولتے ہیں جب کم علم بزرگ کو کچھ سکھانے کی کوشش کرے )
”مانتا ہوں کہ ملکہ قُتیلہ نے ان کے ناخن کاٹ دیے ہیں۔(جیسا اردو میں کہتے ہیں فلاں کے پرکتر دیے ہیں)لیکن انھیں سنبھلنے کا موقع فراہم کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔“منقر اپنی رائے پر مصر رہا۔وہ ایسا آدمی نہیں تھا کہ قُتیلہ سے ڈر کر بنو طرید کے فائدے کی بات کو پس پشت ڈال دیتا۔اور اس کی اسی خوبی ہی کی بناپر ملکہ قُتیلہ اس کے مشوروں کو بہت اہمیت دیتی تھی۔
قُتیلہ کا مترنم قہقہ بلند ہوا۔”کوئی تو وجہ ہے جو قصیر نے اپنی ناک کٹوا لی ہے۔“(جذیمة الابرش حیرہ کا بادشاہ تھا۔ان دنوں عمرو بن ظرب بن حسّان کوالجزیرہ کے علاقوں میں اقتدار حاصل تھا۔ جذیمہ نے اس پر لشکر کشی کی اور فتح یاب ہوا۔عمرہ بن ظرب مارا گیا۔اس کی دوبیٹیاں نائلہ اور زبیبہ نام کی تھیں ۔باپ کی موت کے بعد نائلہ ”الزّبّا“ کے لقب سے حکمران ہوئی۔اس نے جذیمہ سے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایک چال چلی اور جذیمہ کو شادی کی دعوت دے کر اپنے پاس بلا لیا۔جذیمہ اپنے مصاحبین سے مشورہ کر کے اس کے پاس جانے کے لیے تیار ہو گیا۔قصیر بن سعد جو جذیمہ کی ایک لونڈی کے بطن سے تھا اور نہایت دانش مند تھا اس نے جذیمہ کو الزّبّا کے پاس جانے سے منع کیا۔لیکن جذیمہ نے باقی تمام کے مشورے کے مقابلے میں اکیلے ایک آدمی کے مشورے کو اہمیت نہ دی اور چل پڑا۔یہ ایک طویل داستان ہے قصہ مختصر یہ کہ جذیمہ ،الزّبّا کے فریب میں آکر موت سے ہم کنار ہوا۔وہاں سے صرف قصیر ہی بچ کر نکل سکا کہ اس کے پاس جذیمہ کی تیر رفتار گھوڑی العصا تھی۔ حیرہ آکر اس نے اپنی ناک کٹوائی اور واپس الزّبّا کے پاس جا کر کہا کہ میری ناک جذیمہ کے بعد گدی نشین ہونے والے بادشاہ عمرو بن عدی نے کٹوائی ہے ۔کیوں کہ وہ مجھے جذیمہ کی موت کا ذمہ دار سمجھتا ہے ۔اصل میں قصیر الزّبا کا اعتماد جیتنا چاہتا تھا۔اورقصیر کا یہ عمل عربوں میں ضرب المثل ہو گیا کہ،کوئی وجہ تو ہے کہ قصیر نے اپنی ناک کٹوالی۔الزّبّا کا اعتماد جیت کر قصیر نے اسے مروا کر جذیمہ کا بدلہ لے لیا تھا)
منقر صاف گوئی سے بولا۔” ملکہ قُتیلہ کا فعل میری ناقص عقل سے بعید ہے۔“
”نجار بن ثابت عرب سردار ہے۔اور عرب سردار احسان کے بدلے ،اگر احسان نہ بھی کر سکیں تو بد سلوکی نہیں کرتے۔“
منقر نے کہا۔”مگر ہمیں اس کی احسان کی ضرورت نہیں ہے۔“
قُتیلہ کے کچھ بولنے سے پہلے امریل اندر داخل ہوا۔”مالکن،بنو احمر کا سردارنجار بن ثابت ملنا چاہتا ہے۔“
قُتیلہ اور منقر دونوں حیران رہ گئے تھے۔قُتیلہ نے سر کی ہلکی سی جنبش سے رضامندی کا عندیہ دیا۔
امریل سرہلاتے ہوئے نکل گیا۔نجار بن ثابت داخل ہوا۔
”ملکہ قُتیلہ کی دوپہر سلامتی والی ہو۔“
”ملکہ قُتیلہ کو نہیں لگتا کہ تمھارا واپس آنا عقل مندی ہے۔“
”میں بنو طرید کی حدود عبور کر کے واپس لوٹا ہوں۔بنو احمر کا سردار ہونے کے ناطے میں چاہتا ہوں جتنی جلدی ہو سکے بنو طرید کی سردارن سے صلح کا معاہدہ کر لوں۔“نجار بن ثابت نے اپنی آمد کی غرض و غایت بیان کی۔
قُتیلہ لمحہ بھر سوچ کر گویا ہوئی۔” سردار نجار بن ثابت،بنو احمر کے بچ جانے والے معزّزین سے مشورہ کر کے یہ پیش کش کرتے تو بہتر ہوتا۔“
وہ اعتماد سے بولا۔”ایک سردار کو فیصلہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہو تو اسے مشورہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔“
قُتیلہ نے امریل کو صراحی سے جام بھرنے کا اشارہ کیا۔امریل نے جام بھر کر پہلے نجار کو پکڑایا اور پھر قُتیلہ اور منقر کو بھی پکڑا دیا۔پھر ایک رکابی میں عمدہ تمر اور چھوارے نجار بن ثابت کے سامنے رکھ دیے۔عربوں میں مہمان نوازی کی صفت کمال کے درجے کو پہنچی ہوئی تھی۔
”معاہدے کی شرائط بھی سوچی ہیں یا صرف ملکہ قُتیلہ کا وقت ضائع کرنے آئے ہو۔“کھجور سے بنی شراب سے ہونٹ تر کرتے ہوئے وہ نجار بن ثابت کومخاطب ہوئی۔
نجار بن ثابت بولا۔”بنو طرید ہر مشکل وقت میں ،بنو احمر کو اپنے پہلو میں کھڑا پائے گااور اسی مہربانی کی توقع آپ سے بھی ہے۔“
قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”ایک کمزور قبیلے کا حلیف بننا ملکہ قُتیلہ کو گھاٹے کا سودا نظر آرہا ہے۔“
”بنو احمر کے سردار سے کچھ حماقتیں ضرور سرزد ہوئیں ،لیکن اس کو بنو احمر کی کمزوری پر محمول کرنا ملکہ قُتیلہ کی زیادتی ہوگا۔آج بھی بنو احمر کی تعداد بنو طرید سے دگنی،تگنی ہو گی۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کثرتِ تعدادکو خاطر میں نہیں لایا کرتی۔“
نجار بن ثابت اپنائیت بھری ہٹ دھرمی سے بولا۔”میں یہاں سے صلح کا معاہدہ کیے بغیر نہیں ٹلنے والا۔“
”نجار بن ثابت ایک بات یاد رکھنا،ملکہ قُتیلہ دھوکا دینے والے کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتی۔“
وہ اعتماد سے بولا۔”ایک عرب سردار اپنی زبان سے تبھی پھرتا ہے جب اس کے خون میں ملاوٹ ہو ۔“
”تمھیں ملکہ قُتیلہ کا عہدمبارک ہو۔“ (قُتیلہ نے اس کا مطالبہ تسلیم کر لیا تھا)
نجار بن ثابت کے چہرے پر خوشی نمودار ہوئی۔اس نے اگلی تمنا ظاہر کی۔”کیابنو احمر کا سردار ،بنو طرید کی سردارن ملکہ قُتیلہ کو اپنی شریک حیات بنانے کی درخواست کر سکتا ہے۔“
قُتیلہ کھل کھلا کر ہنسی۔”غلط دروازہ کھٹکھٹا رہے ہونجار۔“
نجار بن ثابت مصر ہوا۔”میں ملکہ قُتیلہ کی ہر قسم کی شرائط کو بغیر سنے تسلیم کرتا ہوں۔“
”چلو پھر۔“قُتیلہ نے ساتھ رکھی نیام سے تلوار کھینچی۔
”مم….میں سمجھا نہیں۔“نجار بن ثابت حیرانی سے ہکلایا۔
وہ تلوار کی دھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ کی تو صرف ایک ہی شرط ہے ۔“
نجار نے سرعت سے نفی میں سر ہلایا۔”میں مقابلہ نہیں کر سکتا۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا۔”پھر ملکہ قُتیلہ کو بیوی بنانے کا خیال دماغ سے ایسے ہی کھرچ لو جیسے ابو الحارث اڑنے کی تمنا سے باز رہتا ہے۔“
”میں اجازت چاہوں گا۔“نجار بن ثابت کھڑا ہوگیا۔
قُتیلہ اسے دروازے تک چھوڑنے ساتھ چل پڑی۔تھوڑی دیر پہلے ایک قیدی کے طور پر الوداع ہونے والا اب مہمان بن کر رخصت ہو رہا تھا۔قُتیلہ نے ایک بار پھر اپنی دوراندیشی سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ صرف نام کی سردار نہیں تھی۔
٭٭٭
دُلکی رفتار سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے بہرام اور یشکر تمام کے آگے تھے۔رشاقہ بھی یشکر کے پہلو میں اپنا جردہ دوڑا رہی تھی۔
یشکر ،بہرام سے طیسفون کے حالات جاننے کے بعد روم و ایران کے تازہ حالات پر گفتگو کر رہا تھا۔رشاقہ کے پلّے ان کوئی بات نہیں پڑ رہی تھی۔
یشکر نے پوچھا۔”ویسے کیا خیال ہے پدرِ محترم کی جگہ پر شہنشاہ معظم میری تعیناتی قبول کر لیں گے۔“
”نہیں۔“بہرام نے نفی میں سرہلایا۔”محترم سالار کو خداوند فارس کسی صورت خود سے جدا کرنے پرآمادہ نہیں ہوں گے۔البتہ آپ کو بھی خصوصی محافظوں میں جگہ مل جائے گی۔“
یشکر نے کہا۔”ایک لحاظ سے تو بہتر ہی ہے۔اس طرح ہم باپ بیٹا اکٹھے تو رہ پائیں گے۔“
اسی گپ شپ کے دوران ہی دھوپ تیز ہو گئی تھی۔ایک مناسب جگہ رک کر وہ آرام کرنے لگے۔سہ پہر کو دوبارہ چل پڑے اور اندھیرا گہرا ہونے تک چلتے رہے ۔
چوتھے دن وہ بنو عبدکلال کو کافی پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ چکے تھے۔دھوپ میں خاص تیزی نہیں آئی تھی۔اس وقت وہ درختوں کے ایک جھنڈ کے قریب سے گزر رہے تھے ۔تبھی یشکر حسرت بھرے لہجے میں بولا۔
”جانتے ہو بہرام ،اس راستے کے ذروں کو اب تک میری سردارزادی کے وجود کی خوشبو نہیں بھولی ہو گی۔“
بہرام دکھی ہوتا ہوا بولا۔”اہور مزداکی مرضی کے سامنے کس کی چل سکتی ہے۔“
”اس وادی میں آگے جاکر وہ مقام آتا ہے جہاں اس کا وجود زمین کی آغوش میں سو رہا ہے۔کاش زمین کا وہ ٹکڑامیں تلاش کر پاتا۔“
”جنگجو حسینہ ہی مان جاتی تو تمھارے دکھ کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہوجاتا۔“بہرام نے گفتگو کو مزاحیہ رخ دیا۔
یشکر نے کہا۔”اسے اپنے اعلانسب پر گھمنڈ ہے۔“
”مجھے تو لگتا ہے آرام کے لیے درختوں کا یہ جھنڈ مناسب رہے گا،آگے جا کر شاید ایسا گھنا سایہ میسر نہ ہو۔“اس کے پہلو میں گھوڑا دوڑاتی رشاقہ نے یشکر کو متوجہ کیا۔
یشکر نے ایک نظر سورج پر ڈال کر گھوڑا سائے کی طرف موڑ دیا۔تھوڑی دیر بعد وہ سائے میں بیٹھے تھے۔یشکر بیری کے تنے سے ٹیک لگا کر سامنے گزرتی وادی کو گھور رہا تھا۔رشاقہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔انھیں وہاں اکیلا چھوڑ کر باقی دوسرے درختوں کے نیچے آرام کر رہے تھے۔
رشاقہ اس کا پکڑ کر سہلاتے ہوئے پوچھنے لگی۔”آپ پریشان لگ رہے ہیں۔“
وہ مایوسی سے بولا۔”میرا غم ایسا نہیں جسے بیان کرنے سے گھٹنے کی امید ہو۔“
رشاقہ شاکی ہوئی۔”کیا میں تمھیں پیار نہیں کرتی۔“
”تمھارا گلہ کب کیا ہے۔“
”کاش میں ملکہ قُتیلہ سے منوا سکتی کہ وہ بھی تمھاری زندگی میں آجاتی۔“ رشاقہ اپنے طور پر اس کی دل جوئی میں لگی رہی۔
دور وادی کے موڑ سے دو گھڑ سوار نمودار ہوئے۔وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”جانتی ہو وہ گھڑ سوار کہاں جا رہے ہیں ۔“
وہ سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے بولی۔”دلوں کے بھید روشن چاند کے پاس ہوتے ہیں۔“
وہ اسے سمجھاتا ہوابولا۔”جیسے دیکھ کر ان کی منزل کا اندازہ لگانا مشکل ہے یونھی میرے کرب کا اندازہ تم نہیں لگا سکتیں۔“
رشاقہ ترکی بہ ترکی بولی۔”اور اگر میں دو قدم وادی کے کنارے کی طرف بڑھا کر ان کی منزل کے بارے استفسار کر لوں تو؟“
وہ مسکرایا۔”ضروری نہیں کہ ہر مسافر پوچھنے پر اپنی منزل کاپتا اگل دے۔“
وہ دلربائی سے مسکرائی۔”مجھ جیسی حسینہ کو نہیں کرنا اتنا بھی آسان نہیں ہے۔“
یشکر تکرار سے پہلو تہی کرتا ہوا بولا۔”تھوڑی دیر آرام کر لو۔“
”تم یونھی بیٹھے رہو گے۔“
یشکر نے اثبات میں سرہلایا۔”ارادہ تو یہی ہے۔“
گھڑسوار ان کے قریب پہنچنے والے تھے ۔گھنا سایہ دیکھ کر انھوں نے اپنے گھوڑوں کے رخ اسی جانب موڑ دیے تھے۔اور پھر ان کے نزدیک آنے سے پہلے ہی یشکر حیرت کے مارے اچھل کر کھڑا ہوگیاتھا۔اور اس سے زیادہ حیرت کا شکار وہ گھڑ سوار ہوئے تھے۔
”اغلب،مروان….“یشکر بے تابی سے ان کی طرف بڑھا ۔وہ دونوں بادیہ کے بھائی تھے۔ اور محبوب سے تعلق رکھنے والے رشتے بھی محبوب ہوا کرتے ہیں۔
”یی….یش….یشکر….“دونوں کے منھ سے بیک وقت گھگیائی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔ ان کے چہروں پر خوف امڈ آیا تھا۔اگر وہاں درختوں کے نیچے اور لوگ موجود نہ ہوتے تو یقینا انھوں نے گھوڑے بھگا دیے ہوتے۔یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ یشکر کو مرنے کے لیے چھوڑ گئے تھے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: