Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 49

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 49

–**–**–

’یی….یش….یشکر….“دونوں کے منھ سے بیک وقت گھگیائی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔ ان کے چہروں پر خوف امڈ آیا تھا۔اگر وہاں درختوں کے نیچے اور لوگ موجود نہ ہوتے تو یقینا انھوں نے اپنے گھوڑے بھگا دیے ہوتے۔یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ یشکر کو مرنے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔
ان کے چہروں پر خوف دیکھ کر یشکر کی حیرانی سوا ہو گئی تھی۔
”خیریت تو ہے مروان۔“یشکر بڑے بھائی کو مخاطب ہوا۔
مروان نیچے چھلانگ لگاتے ہوئے ندامت سے بولا۔”ہم تمھیں مردہ سمجھے ہوئے تھے۔“
اس سے معانقہ کر کے یشکر اغلب کی طرف متوجہ ہوا۔وہ نیچے اتر کر ان کے قریب آگیا تھا۔
اغلب کو چھاتی سے بھینچتے ہوئے یشکر اداسی سے بولا۔”خوش قسمتی تھی کہ بچ گیا۔اور شرمندہ ہوں کہ اسے نہ بچا سکا جس کی زندگی مجھ سے قیمتی تھی۔“
اغلب اور مروان نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ ان کی نظروں سے انجان ،یشکر کی بات جاری رہی۔”یقینا سفر سے واپسی پر تمھیں اذیت ناک مرحلے کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔“
”ہاں۔“مروان نے اثبات میں سرہلایا۔”اس اذیت کا بیان اتنا ہی دشوار ہے جتنی دشواری تمھیں ابھی مسرت کے اظہارمیں پیش آنے والی ہے۔“
یشکر کے چہرے پر خوشی نمودار ہوئی۔”شاید باباجان کی زندگی کی نوید سنانا چاہتے ہو۔“
مروان نے اس کے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر آنکھوں میں جھانکا۔”چچاجان زندہ ہیں، لیکن میرے پاس اس سے بھی بڑی خوشخبری ہے۔“
اس کا معنی خیز لہجہ یشکرکو عجیب لگاتھا۔”مجھے ڈھونڈتے ہوئے دہ ہزاری سپہ سالار بہرام فارس سے صحرائے اعظم یہ خوش خبری لے کے آیا ہے کہ میرا باپ سکندر بن ارسلان زندہ ہے۔باباجان کی زندگی بھی میرے لیے بہت معنی رکھتی ہے لیکن میرا سب کچھ فارس میں ہے۔“
”جانتے ہو،تم یشکر بن شریک بن ثمامہ ہو۔بنو جساسہ کے اصل سردار….ہمارے چچا زاد بھائی۔چچا شریم تمھارے سگے چچا ہیں۔“مروان نے ایک دم بہت بڑا انکشاف کیا۔
یشکر کے سر پر گویا پہاڑ گر پڑا تھا۔اس کی آنکھوں میں شکوک کی پرچھائیاں لہرائیں۔”بغیر کسی ثبوت کے اتنا بڑا دعوا کرناکسی سردارزادے کو زیب نہیں دیتا۔“
مروان تفصیل بتاتا ہوابولا۔”کافی عرصہ پہلے بنو جساسہ کے قافلے پر بنو نسرقبیلے کے قزاقوں نے حملہ کیا تھا۔جس میں سردارِ قبیلہ شُریک بن ثمامہ اور ان کی شریک حیات عاقدہ بنت ثعلبہ بہت سے دوسرے افراد کے ہمراہ قتل ہوئے۔بچ جانے والے چند افراد میں سردار شریک بن ثمامہ کا جانشین ایک ننھا لڑکا اور اس کی دایہ عریسہ بنت منظر بھی شامل تھیں۔عریسہ بنت منظر کے بقول اس لڑکے کو قزاقوں نے سوقِ صحار میں ایک فارسی سالار کے ہاتھ بیس سونے کے سکوں کے عوض بیچا تھا۔اور اس کا نام یشکر تھا۔“
یشکر کی آنکھوں میں نمی ابھری اوراس کے گلے سے رندھی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔”مگر تمھیں کیسے پتا چلا کہ میں ہی وہ یشکر ہوں جسے سوقِ صحار میں بیچا گیا تھا۔صرف نام کی مشابہت سے باقی سب کچھ تم نے خودسے کیسے فرض کر لیا۔جب کہ بنو جساسہ میں کوئی ایسا فرد موجود نہیں ہے جسے میں نے اپنی کہانی سنائی ہو۔“
مروان معنی خیز لہجے میں بولا۔”یاد کرو شاید کسی کو سنائی ہو۔“
”وہ بھولی کب ہے کہ اسے یاد کروں۔مگر اسے بچانے کا وعدہ نہ نبھا سکا….“
مروان نے اس کے بازوﺅں کو سختی سے جکڑتے ہوئے زور سے دوتین جھٹکے دیے۔”وہ زندہ ہے سردار….“
مروان نے اسے مسلسل خوش خبریاں سنا کر دنگ کر دیا تھا،لیکن بادیہ کے زندہ رہنے کی بابت جاننا یشکر کے لیے مقامِ حیرت سے بہت آگے کا مرحلہ تھا۔اسے اپنی سماعتوں پر شک گزرا،خواب دیکھنے کا گمان ہوا،مروان پر جھوٹ بولنے کا شبہ ہوااور جانے کون کون سے خیال دماغ میں ابھرے۔
چہرہ دماغ کا عکاس ہوتا ہے۔لیکن اس وقت اس کا چہرہ عجیب منظر پیش کر رہا تھا۔شاید وہ خوش تھا،مگر اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔شاید وہ رو رہا تھا مگر اس کے لبوں پر تبسم تھا۔وہ ڈرپوک نہیں تھا مگر اس کا جسم کانپ رہاتھا۔ اسے آسانی سے سانس نہیں چڑھتا تھا مگر اس وقت اس کے سانس بے قابو تھے۔
دو تین لمحے مروان کو گھورنے کے بعد وہ اغلب کی طرف مڑا جیسے اس سے شکوہ کرنا چاہتا ہو کہ مروان کو سمجھائے یوں مذاق میں جھوٹ بولنا بھی کوئی اچھا فعل نہیں ہوتا،بلکہ نہیں وہ اس سے تصدیق کرناچاہ رہا تھا کہ مروان نے سچ بولا ہے۔یا شاید وہ اس سے بھی کوئی ایسا ہی جھوٹ سن کر چند لمحوں کے لیے یہ مان لینا چاہتا تھا کہ اس کی سردارزادی حقیقت میں زندہ تھی۔
اغلب ندامت سے سر جھکاتے ہوئے بولا۔”بادیہ سمجھتی ہے اس کا شوہر باقی نہیں رہا۔اور اسے یہ باور کرانے والے ہم تھے۔“
یشکر بھرائے ہوئے لہجے میں بولا۔” میرے سمجھنے کی قوتیں جواب دے گئی ہیں یا سماعتیں میرے دل کے تابع ہو گئی ہیں کہ جو وہ سننا چاہتا ہے یہ کم بخت سنوائے جا رہی ہیں۔“
مروان گویا ہوا۔”سرداریشکر،ہم معافی کے طلب گار ہیں کہ اس سب کے ذمہ دار ہم ہیں۔ ہم سے غلطی ہوئی کہ ……..“
یشکر قطع کلامی کرتا ہوا لجاجت سے بولا۔”مروان،سارے قصے کہانیاں بعد کے لیے اٹھا رکھو….پہلے یہ تصدیق کر دو وہ زندہ ہے۔“
مروان قسم کھاا ہوا بولا۔”آسمانوں کے ربّ کی قسم ،عزیٰ کے جلال کی قسم ،لات ،مناةکی عزت کی قسم بادیہ زندہ ہے۔“
”محترم سالار۔“یشکر نے قریبی درخت کے نیچے بیٹھے بہرام کو آواز دی جو مروان اور اغلب کی آمد پر ان کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔
اس نے قریب آکر پوچھا۔”جی جناب؟“
یشکر نے پوچھا۔”تمھارے پاس سونے کے کتنے سکے موجود ہیں؟“
بہرام نے کہا۔”پانچ سو طلائی سکے میرے گھوڑے کی خرجی میں موجود ہوں گے۔“
یشکر بولا۔”مجھے تمام چاہئیں۔“
”بہ صد خلوص و احترام۔“بہرام مسکراتا ہوااپنے گھوڑے کی طرف بڑھا اور خرجین سے ایک بڑی تھیلی سونے کے سکوں کی بھری ہوئی نکال لایا۔”یہ تمام محترم سالار سکندر نے میرے حوالے کیے تھے۔“
اغلب اور مروان خاموشی سے ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔جو زبان دوسری ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی۔ یشکر نے وہ تھیلی مروان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان کی مشکل آسان کر دی۔”یہ پانچ سو طلائی سکے ہیں۔ تم دونوں برابر تقسیم کر لینا۔گو یہ اس خوش خبری کی قیمت تو نہیں ہوسکتے،مگر اس وقت میری بساط یہی ہے۔“
مروان نے ندامت کا اظہار کیا۔”سردار شرمندہ کر رہے ہو۔“
یشکر مصر ہوا۔”مروان،یہ عربوں کی ثقافت ہے کہ خوش خبری دینے والے کو اپنی حیثیت کے مطابق نوازتے ہیں۔“
”شکریہ سردار۔“مروان نے مسرت سے وہ تھیلی پکڑ لی تھی۔
پھر رشاقہ کے مشورے پر وہ بیری کے درخت کے نیچے بیٹھ کر مروان اور اغلب سے تمام باتیں تفصیل سے سننے لگا۔بہرام کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا مگر وہ بھی وہیں بیٹھ گیا تھا۔رشاقہ کے لیے بھی بادیہ کی زندگی کی خبر حیران کن تھی۔
ان سے تفصیل جاننے کے بعد یشکر نے بغیر کسی تردّد کے انھیں معاف کر دیا تھا۔اس کے بعد یشکر نے ساری تفصیل بہرام کے سامنے دہرائی۔وہ عجیب و غریب اتفاق بہرام کے لیے بے حد حیران کن تھا۔آخر میں بہرام پوچھ رہا تھا۔
”اب کیا ارادہ ہے ؟“
یشکر اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”تمھارے ذمہ ایک چھوٹا سا کام رہ گیا ہے ،میرے ساتھ بنو نسر تک چلنا ہوگا۔میں بنو جساسہ لوٹنے سے پہلے اپنے باباجان کے قاتل کوانجام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔اس کے بعد تم فارس لوٹ سکتے ہو۔“
بہرام نے حیرانی سے پوچھا۔”اور تم ؟“
یشکر پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”اہور مزدا کی قسم ،مجھے یہاں رکنے کے لیے ایک بادیہ کا وجود کافی تھا۔اب تو اس کی زندگی کے ساتھ دوسرے فرائض کی ذمہ داری بھی میرے گلے پڑ گئی ہے۔“
بہرام نے جھجکتے ہوئے کہا۔” ایک قبیلے کے خلاف یہ سپاہ کافی رہے گی۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”ہاں ،ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے اور یوں بھی میرا مطمح نظر اپنے والدین کے قاتل ہیں۔“
بہرام صاف گوئی سے بولا۔”ایک بات دھیان میں رہے ،شہنشاہ معظم پہلے ہی عربوں کو فارس کے خلاف کر چکا ہے اور اب ان کی اجازت کے بغیر کہیں ہم یہاں اور جنگ نہ چھیڑ بیٹھیں۔کیوں کہ ہمارا مطمح نظر صرف تمھارا حصول تھا۔“
”بس آخری کام ، اس کے بعد تمھیں نہیں روکوں گا۔میں چاہتا ہوں بنو جساسہ کا سردار واپس لوٹے تو اس کے دامن پر والدین کے خون کا قرض باقی نہ ہو۔“یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور ہلکا تبسم چہرے پر بکھیر کر بولا۔”واپس جا کر سبرینہ خانم کو بتا دینا کہ تم نے نہ صرف یشکر کے احسان کا بدلہ چکا دیا ہے بلکہ الٹا احسان چڑھا کر آگئے ہو۔“
بہرام کھل کھلاکر ہنسا۔”اسے کہتے ہیں جذباتی دھونس جمانا۔“
سورج کی تمازت ختم ہونے پر وہ سفر کے لیے تیار ہوئے مگراس مرتبہ رخ تبدیل ہو گیا تھا۔ بنو احمر کا راستا یشکرکو معلوم تھا۔اور ملکان و امریل سے گپ شپ کے دوران اسے بنو نسر کے محل وقوع کے بارے بھی معلوم ہوا تھا۔ستارہ شناسی کا بھی وہ ماہر تھالیکن اس کے باوجود بنو نسر کی بالکل درست جگہ کے بارے اندازہ لگانا اتنا آسان نہیں تھا۔اس نے اندازے سے ایک جانب کا رخ کیا سہ پہر ڈھلے ایک گڈریے سے ملاقات ہونے پر انھوں نے بنو نسر کا راستا پوچھا۔اتنے زیادہ مسلح افراد کو دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا تھا۔اسے تسلی دینے کے لیے یشکر گھوڑے سے نیچے اتراتو اس کا اعتماد بحا ل ہوا۔
”محترم اجنبی!….آپ کومجامع ممسک العنان کے ستارے عیوق کے مقام غروب کے رخ جانا چاہیے ،جبکہ آپ کارخ مجامع کلب اکبر کے ستارے شعریٰ یمانیہ کی طرف ہے۔“(عیوق کو انگریزی میں کپیلا کہتے ہیں اور یہ آریگا نامی جھمکے میں واقع ہے جو عربی میں ممسک العنان کہلاتا ہے۔ جبکہ کلب اکبر کو انگریزی میں کینس میجر کہتے ہیں۔اوراس کے ستارے شعریٰ یمانیہ کوسائرس کہتے ہیں۔ عیوق (کپیلا) کا مقام غروب شمال مغرب ہے اور شعریٰ یمانیہ کا جنوب مغرب ہے۔ممسک العنان(آریگا) وہ مشہور جھمکا ہے جو قطب تارے کے گرد گھڑی کی سوئیوں کی مخالف سمت گھومتا ہے۔اور قطب تارے کو پہچاننے والے چار مشہور جھمکوں میں ایک ہے)
”تم پر اہورمزدا کی برکتیں ہوں۔“اس سے الوداعی مصافحہ کر کے یشکر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ اگر وہ گڈریا ان کی سمت درست نہ کرتا تو یقینا وہ مخالف سمت نکل گئے ہوتے۔وقت کی کمی کے باعث انھوں نے وہ رات سفر میں گزاری تھی۔صبح کاذب (وہ روشنی جو رات کے آخری پہر آسمان پر نظر آتی ہے اور پھر اندھیراہو جاتا ہے اور اس کے بعد صبح صادق طلوع ہوتی ہے )کے وقت وہ اندھیرے میں ڈوبی ایک بستی کے ہیولے دیکھ رہے تھے۔یشکر کے حکم پر تمام واپس پلٹے اور بستی سے دو غلوے فاصلہ پیدا کر کے ٹیلوں کی آڑ میں گھوڑوں سے اتر گئے۔طلوع آفتاب تک انھوں نے وہیں انتظار کیا۔ سورج کی کرنوں نے جیسے ہی ریت کے ذروں کو جگمگا کرشب کی خنکی کا قلع قمع کرنا شروع کیاوہ بنو نسر داخلے کے لیے تیار ہو گئے۔
انھیں سب سے پہلے ایک ادھیڑ عمر شخص نے دیکھا تھا۔اور پھر اس کی چیخ و پکار پر تھوڑی دیر ہی میں بنو نسر کے مردو زن اکٹھے ہو گئے تھے۔مردوں کی اکثریت نے اپنے ہتھیار ساتھ رکھنا مناسب سمجھا تھا۔عورتوں اور بچوں کے چہروں پر خوف و ہراس جبکہ مردوں کے چہروں پر خوف کے ساتھ حیرانی و تشویش بھی ہویدا تھی۔جلد ہی جبلہ اپنے خیمے سے نمودار ہو کر ان کی طرف بڑھا۔سب سے آگے یشکر کا گھوڑا تھا۔ دائیں بائیں رشاقہ اور بہرام کھڑے تھے۔باقی لشکر نے نصف چاند کی شکل میں علاقے کو گھیر لیا تھا۔
لشکر کے سالار کو اندازے سے جان کر وہ یشکر کے سامنے آکر رکا۔”انتظار کس بات کا ہے، دستر خوان بچھائے جانے کا یا ہمارے تلواریں سونتنے کا۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”میں بنو جساسہ کا سرداریشکر بن شریک بن ثمامہ بن نتیجہ بن حبالہ ہوں۔ بنو نسر کے سردار جبلہ بن کنانہ سے اپنے باپ اور اربد بن قیس سے اپنی اماں کے قتل کا حساب لینے آیا ہوں۔“
جبلہ کے چہرے حیرانی نمودار ہوئی۔”قتل کا ثبوت؟“
”عریسہ بنت منظر نے جبلہ بن کنانہ کی برچھی کو میرے والد کی چھاتی میں پیوست ہوتے دیکھا تھااور اربد بن قیس کی تلوار کو میری والدہ کی پیٹھ سے پار ہو کر چھاتی سے نمودار ہوتے دیکھاتھا۔“
جبلہ کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”یقیناعریسہ بنت منظر اپنی بیٹی کا راستا صاف کر رہی ہے۔“
یشکر چھلانگ لگا کر نیچے اترتا ہوا بولا۔”مجھے نہیں معلوم کہ عریسہ کی بیٹی کون ہے یا وہ خود کیسی عورت ہے۔لیکن تمھارے بارے یہ اطلاع ملی ہے اور میں پہلی فرصت میں یہاں پہنچ گیا۔بنو جساسہ کے لشکر کو ساتھ لاتا تو بدلہ لینے والے کافی سارے دعوے دار جمع ہو جاتے اور شاید بنو نسر کا معاملہ ہمیشہ کے لیے نبٹ جاتا۔“دھیمے قدموں سے چلتا ہوا وہ جبلہ کے سامنے جا رکا تھا۔
جبلہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”تمھارے والد نے بنو نسر کے دو جوانوں کو قتل کیا تھااور تمھاری ماں کی تلوار کا نشان اب تک میرے چہرے پر زندہ ہے۔“
یشکر نے اس کی دلیل کو رد کیا۔”حملہ تم لوگوں نے کیا تھا اور انھوں نے دفاعی جنگ لڑی تھی۔“
جبلہ نے اور دلیل پیش کی۔”تلوار دفاع کی خاطر سونتی جائے یا یورش کی نیت سے ،تلوار تھامنے والا قتل کا حق دار ہو جاتا ہے۔“
ایک لمحے کے لیے یشکرکی نظروں نے سامنے کھڑے لمبے تڑنگے اور جسیم کہنہ سال جنگجو کو جانچا۔”جبلہ بن کنانہ تمھیں دفاع کے لیے تلوار سونتنے کی اجازت دی جاتی ہے۔اگر پورے قبیلے کا صفایا کرانا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“
جبلہ طنزیہ لہجے میں ہنسا۔”اکیلے آدمی کو لشکر کے خلاف دفاع کا موقع فراہم کر کے یقینا تم نئی مثال قائم کر رہے ہو۔“
”تم سمجھنے میں غلطی کر رہے ہو سردارجبلہ بن کنانہ ، اکیلے نہیں اربد بن قیس بھی تمھارے ساتھ ہے اور پورا لشکر کے نہیں، صرف یشکرکے خلاف۔“یہ کہہ کر اس نے تلوار بے نیام کی۔”اور یاد رکھنا لڑو یا نہ لڑومرنا تمھیں پڑے گا۔“
”اگر تم مارے گئے؟“جبلہ نے دو قدم پیچھے لے کر تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھے۔
یشکر تیقن سے بولا۔” بنو نسر کے کسی آدمی کو نقصان پہنچائے بغیریہ لوگ واپس لوٹ جائیں گے۔“
”زبان سے پھرنا ایک عرب سردار کو زیب نہیں دیتا۔“
”یشکر سردارکہلوانے سے پہلے بھی عہد نبھانا جانتا تھا۔اب تم اربد بن قیس کو آواز دو۔“
”جبلہ بن کنانہ سے بچ گئے تو اربد بن قیس بھی مل جائے گا۔‘جبلہ نے ایک دم تلوار بے نیام کر لی۔یشکر یہ کام پہلی ہی کر چکا تھا۔
دونوں قدمیں برابر تھے لیکن جبلہ یشکر سے زیادہ جسیم تھا۔اوراس کا تجربہ بھی وسیع تھا۔بنو نسر کے باسیوں کو مکمل یقین تھا کہ ایک لڑکے خلاف وہ ضرور کامیاب ہو جائے گا۔
پہل اونٹ کی طرح جلد طیش میں آجانے والے جبلہ نے کی تھی۔اس کا بھرپور وار یشکر نے ایک قدم آگے بڑھ کر روکاتھا۔زوردار چھنچھناہٹ نے دیکھنے والوں کے دل کی دھڑکن کو تیز کیااورپھر فولاد سے فولاد ٹکرانے کی آواز ایک تسلسل سے گونجنے لگی۔البتہ تماشائی زیادہ دیر تک اس ساز سے دل نہیں بہلا سکے تھے۔جلد ہی وہ مرحلہ آگیا جو رشاقہ کے لیے غیر متوقع نہیں تھا جبکہ بنو نسر کے باسیوں کی توقعات کے بالکل خلاف تھا۔
جبلہ کا وار ڈھال پر روک کر یشکر نے تلوار کی نوک جبلہ کے گلے کی طرف بڑھائی۔جبلہ نے وار روکنے کے لیے ہلکا سا پیچھے جھک کر یشکر کا وار خطا کیا اور اسی وقت یشکر کی ٹانگ پوری قوت سے جبلہ کے پیٹ کی طرف بڑھی۔زوردار لات نے اسے کولہوں کے بل نیچے گرنے پر مجبور کر دیا تھا۔تیزی سے کروٹ لے کر اس نے اپنے تئیں یشکر سے دور ہٹنے کی کوشش کی ،لیکن جونھی وہ کھڑا ہوایشکر کی تلوار کی نوک نیزے کی طرح اس کی پسلیوں سے گزرتی ہوئی پیٹھ پیچھے نکل گئی تھی۔
جبلہ کے منھ سے خون کی دھار برآمد ہوئی اس حالت میں بھی اس کا تلوار والا ہاتھ یشکر پر حملے کے لیے اٹھا۔
یشکر نے ڈھال نیچے پھینک کر اس کا ہاتھ اپنی طاقتور گرفت میں پکڑ لیا تھا۔
”جبلہ بن کنانہ !….تم نے شریک بن ثمامہ کی چھاتی سے برچھی پار کی تھی۔محسوس ہو رہا ہے، فولاد جب جسم سے گزرتا ہے تو کیسا لگتا ہے۔“
کچھ کہنے کی کوشش میں اس کے حلق سے خون کی کلی برآمد ہوئی اور وہ کینہ توز نظروں سے یشکر کو گھورتا گھٹنوں کے بل گر گیا تھا۔
یشکر نے ایک جھٹکے سے تلواراس کی چھاتی سے کھینچی، جبلہ کے ہاتھ سے تلوار چھینی اور اسے مرنے کے لیے چھوڑ کر بنونسر کے ہکا بکا کھڑے باسیوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔
”اربد بن قیس ،تمھاری باری ہے۔“
ایک ادھیڑ عمر شخص مجمع سے باہر نکلا۔اس کا رنگ خوف سے پیلا پڑ گیا تھا۔اسی وقت ایک اور شخص آگے آیا۔
”سردار یشکربن شریک، ہم اربد بن قیس کی طرف سے خون بہا ادا کرنے کو تیار ہیں۔“
”یشکر بن شریک اپنی اماں جان کی لاش کو بیچنے نہیں آیا۔“یشکر نے انکار میں سرہلاتے ہوئے اربد کی طرف تلوار تانی۔”اربد بن قیس ،اگرتم قابل فخر زندگی نہیں بھی گزار سکے اپنی موت کو تومثالی بنا لو۔“
اربد بن قیس نے تلوار بے نیام کر لی لیکن جبلہ بن کنانہ کی شکست نے اسے بے حوصلہ کر دیا تھا۔
یشکر نے اس کے انجام کو زیادہ انتظار نہیں کرایا تھا۔ایک ہاتھ میں جبلہ اور دوسرے میں اپنی تلوار تھامے وہ بجلی کی سی سرعت سے اربد کی طرف بڑھا۔وہ بہ مشکل پہلا وار ہی روک سکا تھا۔یشکر کے اگلے وار نے اس کی گردن کو غلولہ بنا دیا تھا۔
مجمع میں ہلچل مچی ،چند جوانوں نے تلواریںسونت لی تھیں۔دو تین جوشیلے جوانوں نے با آواز بلند کہا۔”ہم بدلہ لیں گے۔سردار جبلہ بن کنانہ کی موت رایگاں نہیں جاسکتی۔“
”انفرادی بدلہ لینے والے ایک ایک کر کے بدلہ لینے کو آگے آئیں۔ ایک ساتھ تمام کاحملہ کرنے کا شوق بنو نسر کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔“
ایک ادھیڑ عمرشخص جلدی سے بولا۔”سرداریشکر،ہم جنگ نہیں چاہتے۔“
”اگر میں جنگ چاہتا تھاتو بنو نسر کے خیمے کے بھسم ہو چکے ہوتے۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے جبلہ بن کنانہ کے مردہ جسم سے نیام کھول کر اس کی عمدہ تلوار اندر ڈالی۔لیکن جونھی مڑ کر مشکی پر سوار ہو نے لگاوہی ادھیڑ عمر مرد اسے مخاطب ہوا۔
”مہربانی کرکے سردار کی تلوار ہمارے پاس رہنے دیں۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”مجھے اپنے باپ کی تلوار واپس نہیں ملی تھی۔اور یوں بھی جیتنے والا مرنے والے کے سازوسامان کا مالک بن جاتا ہے۔“
وہ لجاجت سے بولا۔”یہ درخواست ہے۔“
”میں صرف اتنی ہی مہربانی کر سکتاتھا کہ لاش تمھارے حوالے کر دی۔ورنہ لاش کو گھسیٹ کر بنو جساسہ تک لے جانے کا حق بھی مجھے حاصل ہے۔“بے رحمی سے کہتے ہوئے وہ مشکی پر سوار ہوا۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ گھوڑا موڑتابنو احمر کی ایک عورت نے دلیری سے آگے بڑھ کر اس کے گھوڑے کی لگام تھام لی۔
”میرا نام شموس بنت سلول ہے اور میں تمھیں حکم دیتی ہوں سردار جبلہ کی تلوار واپس کر دو۔“
یشکر کی آنکھوں میں حیرانی نمودار ہوئی ۔اس عورت کا انداز خاصا انوکھااور عجیب تھا۔
ادھیڑ عمر مرد اس کی حیرانی دور کرتے ہوئے بولا۔”سرداریشکر بن شریک ،اس نے تمھیں دودھ پلایا تھا۔“
یشکر چھلانگ لگا کر نیچے اترا ۔اس نے عورت کا ہاتھ تھام کر احترام سے چومااور تلوار دونوں ہاتھوں پر رکھ کر اس کی جانب بڑھائی۔”یہ لیں ماں جی۔اس کے علاوہ کچھ درکار ہو تو حکم کریں ۔“
شموس فخر سے مسکرائی اور یشکر کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔”تم پر نسر کی لازوال برکتیں نازل ہوں ۔“
” اجازت دیں ماں جی، بیٹے کے لائق کوئی کام ہو تو بنو جساسہ کے دروازے تمھارے لیے ہمیشہ ایک سردار کی ماں کے طور پر کھلے رہیں گے ۔“مودّب انداز میں کہتے ہوئے وہ دوبارہ سوار ہو گیا۔اس کے گھوڑا موڑتے ہی باقی پیچھے چل پڑے تھے۔رشاقہ نے اپنا گھوڑا ایک لمحے کے لیے ادھیڑ عمر شخص کے قریب روکا۔
’تم لوگوں نے یقینا ملکہ قُتیلہ بنت جبلہ تک اس کے باپ کی موت کی خبر پہنچانی ہوگی۔وہ بنو طرید کی سردارن ہے۔بنو احمر کے لشکر کو اس نے تباہ کر دیا ہے ۔“
ادھیڑ عمر نے حیرانی سے دہرایا۔”بنو طرید؟“
”قطب تارے کو پیٹھ پیچھے رکھ کر چند منزلوں تک گھوڑے دوڑاﺅ تو خود کو وہاں پاﺅ گے۔“مختصر الفاظ میں بنو طرید کے محل وقوع کے بارے اسے بتاتے ہوئے رشاقہ ،یشکر کے پیچھے بڑھ گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ بنو نسر کی حدود سے باہر نکل رہے تھے۔بنونسر سے فرسخ بھر دور آنے کے بعد یشکر نے بہرام کو الوداع کہا۔
”پدرِ محترم تک میری ندامت پہنچا دینا۔کوشش کروں گا کہ جلد ہی حالات پر قابو پا کرانھیں ملنے کے لیے طیسفون کا رخ کرسکوں۔“
بہرام مسکرایا۔”محترم سالار ،”تمھیں بے یارو مددگار سمجھ کر پریشان تھے۔ایک سردار کے لیے یقینا انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
٭٭٭
رات پہلا پہر بیت چکی تھی۔چار سوار بنو جساسہ کی حدود میں داخل ہوئے سب سے آگے اغلب تھا۔اس کے عقب میں مروان اور یشکر پہلو بہ پہلوگپ شپ کرتے ہوئے چل رہے تھے۔رشاقہ کا گھوڑاان سے دو تین قدم پیچھے تھا۔رات کا اندھیرا ہر سو پھیل چکا تھا۔البتہ ربع اول کے ڈوبتے چاندکی زردو روشنی سے مکانات کے ہیولے اور گلیوں وغیرہ کی پہچان ہورہی تھی۔چاروں شریم کی حویلی کے سامنے جا رکے۔اغلب نے بند دروازے پر دستک دی۔تھوڑی دیر بعد شریم کی آواز ابھری۔
”کون؟“
”اغلب۔“اس نے نام پکارا۔
دروازہ فوراََ ہی کھل گیا تھا۔اغلب سے معانقہ کرتے ہوئے اس نے بقیہ تینوں کی طرف دیکھ کر مایوسی بھرے لہجے میں پوچھا۔
”صرف دو آدمی ہی ڈھونڈ پائے ہو؟“
مروان اس کے گلے لگتا ہوا بولا۔”نہیں چچا جان ،صرف ایک آدمی کو تلاش کر سکے ہیں۔ ہمارے ساتھ بنو جساسہ کا سردار یشکر بن شریک ہے۔“
”کیا….“شریم حیرانی سے چلایا،مروان ایک طرف دھکیل کروہ عقب میں کھڑے یشکر کی طرف بڑھا۔
یشکر گلو گیر لہجے میں بولا۔”سچ کہہ رہا ہے باباجان۔“
”میرا بیٹا۔“شریم نے اسے چھاتی سے بھینچ لیا۔یہ الفاظ منھ سے نکالنے کے بعد اسے ہر قسم کے سوال و جواب بھول گئے تھے۔کافی دیر تک شریم نے اسے خود سے لپٹائے رکھا اور پھر کے گالوں پر بوسا دیتے ہوئے پوچھنے لگا۔
”ایسا کیسے ممکن ہوا؟“
یشکر نے کہا”لمبی کہانی ہے باباجان۔“
شریم مسکرایا۔”یقینا تم اس سے ملنے کے لیے بے چین ہو گے جو اب تک تمھاری موت کا سوگ منا رہی ہے۔نہ صاعقہ کو ہاتھ لگانے دیتی ہے اور نہ عنبر پر کوئی سواری کر سکتا ہے۔“
یشکر اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔”میرے ساتھ میری بیوی رشاقہ بھی ہے باباجان۔“
”خوش آمدید بیٹی۔“شریم نے سب سے پیچھے کھڑی رشاقہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔(ایک بات قارئین اچھی طرح سمجھ لیں کہ عرب معاشرے میں ایک سے زیادہ شادیوں کو نہ تو معیوب سمجھا جاتا تھا اور نہ انوکھا یا حیران کن۔بلکہ آج تک وہاں یہ رواج قائم ہے۔اس متعلق ہمارا معاشرہ ہندو مت سے متاثر ہے۔اور ایک شادی سے زیادہ شادیوں کو برا تصور کیا جاتا ہے اور غلط گردانا جاتا ہے۔اس بحث سے قطع نظر کہ شادی ایک بہتر ہوتی ہے یا زیادہ ،یہاں بس عرب معاشرے کی رسوم بتانا مقصود ہے)
گھوڑوں کی لگامیں پکڑ کر وہ اندر داخل ہوئے۔ایک حجرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شریم شفقت بھرے لہجے میں بولا۔”وہاں تمھاری بادیہ ،عریسہ کے ساتھ لیٹی ہو گی۔خیال سے جانا کہیں بھوت سمجھ کر چلانا ہی نہ شروع کر دیں۔“
”میں سردارزادی سے مل لوں۔“رشاقہ کو مطلع کر کے وہ اس کا جواب سنے بغیر دھڑکتے دل کے ساتھ مطلوبہ دروازے کی جانب بڑھ گیا۔رشاقہ نے دھیرے سے سر ہلایااور شریم کی تقلید میں چل پڑی۔شریم باقیوں کے ساتھ لے کر اپنے حجرے میں گھس گیا تھا۔
یشکر نے مطلوبہ دروازے پر دستک دی۔
ایک نامانوس نسوانی آواز نے پوچھا”کون ہے ؟“
یشکر نے جواب دیے بغیر دوبارہ دستک دی۔
اسی آواز نے دوبارہ کہا۔”آرہی ہوں۔“یقینا وہ عریسہ کی آواز تھی۔
کنڈی کھلنے کی آواز آئی اور لکڑی کے دروازے کے پٹ کھلے۔چراغ کی روشنی میں اس کی نظر ایک مہربان صورت خاتون پر پڑی۔ یشکر کو دیکھ کر اس کے چہرے پر تشویش بھری حیرانی ابھری۔اور اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔
”تت….تم کون؟“
یشکر کے ہونٹ مسکرانے کے انداز میں کھلے۔”آپ کا بیٹا ماں جی۔“
”بب….بیٹا….مگر میرا تو کوئی بیٹا نہیں ہے۔“اس کی حیرانی دو چند ہو گئی تھی۔
”کون ہے ماں جی۔“بادیہ کی آواز ابھری،یشکر کے دل کی دھڑکن ایک دم بڑھ گئی تھی۔ اب تک بھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی سردارزادی کو زندہ دیکھ لے گا لیکن آواز سن کر اس کے دل کو مزید ڈھارس ملی تھی۔
”یشکر کو آپ بیٹا ہی سمجھتی ہیں ناں۔“اس مرتبہ اس کی آواز پہلے سے تھوڑی بلند ہوئی تھی اور عریسہ کے کچھ کہنے سے پہلے بادیہ کی حواس باختہ ابھری….
”یشکر ……..“وہ پاﺅں میں جوتے ڈالے بغیر ننگے پاﺅں ،زلفیں بکھرائے دروازے کی طرف بھاگی۔ عریسہ کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے اس نے دروازے پر کھڑے طویل قامت یشکر کو دیکھا۔دل کی بے ربط دھڑکن نے قرار کا دامن پکڑا۔دونوں حیرت و مسرت سے سُن بے حس و حرکت کھڑے رہے۔مردے زندہ ہو گئے تھے۔خوابوں نے تعبیر کا چولا پہن لیا تھا۔تمنّاﺅں نے حقیقت کا روپ دھار لیا تھا۔منتیں پوری ہو گئی تھیں۔حسرتیں ،مسرتوں میں تبدل ہو گئی تھیں۔غم ،خوشی میں ڈھل گئے تھے۔ناممکن ،ممکن ہو گیا تھا۔
”یشکر ….“بادیہ کے گلے سے پھنسی پھنسی آواز برآمد ہوئی۔ ساتھ ہی آنکھوں نے برساتی پانی سے بہنے والی وادی کی شکل اختیار کر لی تھی۔”مجھے یقین نہیں آرہا۔“اس نے یشکر کے ہاتھوں کو ٹٹول کر آنکھوں کے نظارے کی تصدیق کی اور پھر سسکتے ہوئے اس کی چوڑی چھاتی سے لپٹ گئی۔
”مجھے یقین تھا عزیٰ میری مناجاتوں کو ضرور قبول کرے گی ،میں جانتی تھی اہور مزدا مجھے مایوس نہیں کرے گا،مجھے آسمان والے پر بھروسا تھاکہ لازوال قوتوں کا مالک تمھیں میرے پاس ضرور بھیجے گا….وہ میری دعاﺅں کو کیسے ردّ کر سکتا تھا ….“وہ بے ربط باتیں منھ سے نکالتی اس سے لپٹی رہی۔ عریسہ بھی ششدر کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔چند لمحوں تک یشکر اسے ساتھ لپٹائے کھڑا رہا اور پھر آنکھوں کی التجاﺅں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اسے اپنے بدن سے راحت کے لمحات چھیننے پڑے۔ بادیہ کے دونوں بازوﺅں سے پکڑ کر اس نے پھول سے بدن کو دونوں بازوﺅں میں بلند کر کے اوپر اٹھایا اور حجرے میں قدم رکھے۔اس نے سنا تھا کہ خوشی کی مجسم صورت نہیں ہوتی لیکن بادیہ کے چہرے پر نظر ڈال کر اسے اپنے علم میں دراڑ پڑتی محسوس ہوئی ۔آنکھوں میں موتی ،لبوں پر تبسم کے پھول، سفید چہرہ شدتِ جذبات سے لال ۔وہ سراپا مسرت ہی تو تھی۔
عریسہ کو وہاں اپنا وجود فالتو لگا۔وہ باہر نکل کر شریم کے حجرے کی طرف بڑھ گئی جہاں نائلہ مہمانوں کی تواضع فُقاع (جو شراب جو یا خشک انگور سے تیار کی جائے) کے بھرے ہوئے پیالوں سے کر رہی تھی۔شراب کے پیالے مہمانوں کے حوالے کر کے وہ کھانا گرم کرنے لگی۔
عریسہ ،رشاقہ اور مروان وغیرہ سے تفصیل پوچھنے لگی۔جبکہ حجرے میں بادیہ اور یشکر ماحول سے بے نیاز ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔سب سوال،حیرانیاں ،استفسارایک دوسرے کو پانے کی خوشی کے سامنے گنگ ہو گئے تھے۔کافی دیر بعد بادیہ کے لبوں کو سوال کرنے کا حوصلہ ہوا۔
”میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا۔“
یشکرہونٹوںسے اس کے ماتھے کی حدّت جذب کرتا ہوا بولا۔”یہ جاننا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ہم مل گئے ہیں اتنا کافی نہیں ہے ۔“
وہ وارفتگی سے بولی۔”کافی سے بھی زیادہ ہے میرے سردار۔“
یشکر کھل کھلا کر مسکرا دیا تھا۔
”اچھا مجھے تفصیل بتاﺅ ناں ۔“وہ لاڈ بھرے انداز میں اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی تھی۔ یہی تو وہ گود تھی جو ہمیشہ وہ خوابوں میں دیکھا کرتی تھی۔
یشکر اسے جدائی کے دنوں کا حساب دینے لگا۔گفتگو کے اختتام پر وہ پوچھنے لگی۔
”رشاقہ کہاں ہے ؟“
”باباجان کے حجرے میں ہے ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں ہنسی ”وہیں چلتے ہیں۔یقینا چچی جان اپنی بیٹی کی خبر سن کر خوش جائیں گی اور میں بھی دیکھ لوں میرے سردار نے کیسی دلھن پسند کی ہے۔“
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”میں تو سردار زادی قُتیلہ کو بیوی بنایا چاہتا تھامگر اسے اپنے نسب کا گھمنڈ تھا۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولی۔”بڑی آئی اعلا نسب والی،میرے سردار کے نسب سے کسی کا نسب اعلا ہوسکتا ہے۔“
یشکر نے متبسم ہو کر سرہلایا۔”ہاں ،میری سردارزادی کاہے۔“
بادیہ نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں جی،چچا جان ،باباجان سے پہلے سردار بنے تھے۔“
٭٭٭
تیر اندازی کی مشق عروج پر تھی۔کمان تھامے قُتیلہ بھی ایک شپّے پر تیر برسا رہی تھی۔اچانک اس کے کانوں میں اصرم کی آواز پڑی۔
”ملکہ قُتیلہ ،دو سوار نام لے آپ کے بارے استفسار کر رہے ہیں۔“
”یہیں پر بلا لو۔“کمان امریل کے حوالے کر کے وہ واپس مڑی۔اس کا گمان یقین کی حد تک پہنچا ہوا تھا کہ وہ بنو احمر کے سوار ہوں گے۔
اصرم سرہلاتا ہوا واپس مڑا ۔اور پھر جونھی وہ مذکورہ افرادکے ہمراہ جھونپڑوں کی اوٹ سے سامنے آیا قُتیلہ، رغال بن ذواب اور،غبشان بن عبشہکو پہچان کرحیرت سے اچھل پڑی تھی۔ ان کے قریب آنے سے پہلے وہ لمبے ڈگ بھرتے انھی کی طرف بڑھ گئی ۔
”ملکہ قُتیلہ ،آپ دونوں کو دیکھ کر کتنی خوش ہے اس کا بیان مشکل ہے۔“رغال کے سامنے سر کو ہلکا سا جھکاتے ہوئے وہ مسرت سے لبریز لہجے میں بولی۔
رغال نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔”لیکن ہم سردارزادی کے لیے خوشی کا پیغام نہیں لائے۔“
” پریشان کن خبریں سننا ملکہ قُتیلہ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔“رغال سے مل کر اس نے غبشان کی طرف مصافحے کا ہاتھ بڑھادیا۔
رغال نے کہا۔”ہم تمھیں سردار جبلہ بن کنانہ کی موت کی خبر سنانے آئے ہیں۔اور بنو نسر کے نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ بھی تمھاری آمد کا منتظر ہے۔“
” بنو نسر کے سردار کی پگ اس کے سر پر جمے گی جوملکہ قُتیلہ کی تلوار سے اپنا سرسلامت بچا پائے گا۔“اس نے باپ کی موت پر اظہار خیال کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
غبشان نے کہا۔”سردارزادی کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔“
”چچا غبشان،ملکہ قُتیلہ کو صرف ملکہ قُتیلہ کہلوانا پسند ہے۔“
غبشان برامنائے بغیر بولا۔”بلا شک و شبہ ہماری بیٹی ملکہ ہی ہے۔“
وہ پہلو بہ پہلو چلتے ہوئے قُتیلہ کے خیمے تک پہنچ گئے تھے۔اندر داخل ہو کر قُتیلہ نے انھیں لکڑی کے تخت پر بٹھایااور سرخ شراب کی بھری صراحی سے آب خورے بھرنے لگی۔
”باباجان کو کیا ہوا ،ملکہ قُتیلہ تو انھیں تندرست چھوڑ کر آئی تھی۔“اس نے وہ سوال پوچھا جو اسے شروع ہی میں پوچھنا چاہیے تھا۔
”بنو جساسہ کے سردار نے انھیں قتل کیا ہے۔“آب خورہ تھامتے ہوئے رغال نے انکشاف کیا۔
”کیا….؟“قُتیلہ کودوسرا آب خورہ بھرنا بھول گیا تھا۔تباہ شدہ بنو جساسہ کے باسیوں میں اتنی ہمت کہاں سے پیدا ہو گئی کہ انھوں نے بنو نسر کے سردار کو قتل کرنے کا نہ صرف ارادہ کیا بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنا دیا۔“
رغال تفصیل بتا تا ہوا بولا۔”ان کے سردار یشکر بن شریک کے ہمراہ اتنا بڑا لشکر تھا کہ اہل بنو نسر کے لیے مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا۔یشکر نے اپنے باپ کے قتل کا مقدمہ پیش کیااور سردار جبلہ بن کنانہ اور اربد بن قیس کو مقابلہ کر کے قتل کر دیا۔البتہ ان کے ہمراہ موجود لشکر کے سپاہیوں کا تعلق فارس سے تھا۔“
یشکر بن شریک یا یشکر بن سکندر؟“قُتیلہ یشکر نے نام پر نہ صرف چونکی تھی،بلکہ اس نے فوراََتصدیق کرنا اہم جانا تھا۔
رغال نے کہا۔”یشکر بن شریک کہہ کر اس نے اپنا تعارف کرایا۔گندمی رنگ کا لمبا تڑنگا نوجوان تھا۔ شانوں کے نیچے تک پھیلے بال اور بلا کا ماہر شمشیر زن۔سردار جبلہ اس کے چند وار سے زیادہ نہیں روک پایا تھا۔“
قُتیلہ دوسرے آب خورے میں سرخ شراب انڈیلتے ہوئے زہریلے لہجے میں بولی۔ ”وہ عجمی جوان ہے۔بنو جساسہ کا نام اس نے تم لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے لیے لیاہوگا کیوں کہ وہ بنو جساسہ کے سردار شیبہ بن ثمامہ کے بھائی کا غلام تھا۔ اس کا اصل مقصد ملکہ قُتیلہ کوحاصل کرنے کے لیے فارس بلوانا ہے۔“
رغال نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا کچھ بھی نہیں ہے ملکہ ،اس کے پاس عریسہ کی دی ہوئی معلومات تھی اور وہ بنو جساسہ کی طرف ہی گیا ہے کیوں کہ شموس بن سلول کو اس نے بنو جساسہ آنے کی دعوت دی تھی۔“
”ماں جی اس سے کب ملی ،کیا ماں بنو جساسہ میں ہیں۔“قُتیلہ حیرت سے اچھل پڑی تھی۔
رغال نے اثبات میں سرہلایا۔”جی ملکہ ،عریسہ وہیں پر موجود ہے۔“
’ٹھیک ہے رغال چچا،آپ دونوں آج یہاں آرام کریں اور کل واپس بنو نسر پہنچیں ،ملکہ قُتیلہ اپنے باپ کے قاتل سے دودو ہاتھ کر کے تین چار دنوں تک آپ کو بنو نسر آکر ملے گی۔“رغال کو کہہ کر وہ اصرم کی طرف متوجہ ہوئی۔
”ملکان اور امریل کو تیار ہونے کا حکم دو ملکہ قُتیلہ ابھی بنو جساسہ کا رخ کرنا چاہتی ہے۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: