Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 5

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر- قسط نمبر 5

–**–**–

بادیہ بنت شیبہ بن ثمامہ سہیلیوں کے جھرمٹ میں بنو جساسہ کے کنویں پر موجود تھی۔ شیبہ کا غلام کنویں سے پانی کے ڈول کھینچ کر تمام لڑکیوں کے مشکیزے بھر رہا تھا۔ وہ تمام چہلیں کرتی کسی بحث میں مشغول تھیں۔
وردہ بنت قیس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔ ”ثانیہ بنت شریک کی قسمت ہی کھل گئی ہے۔ کہاں یتیمی کی کڑی آزمایش اور کہاں بنواسد کے سردار زادے کا رشتا۔“
ہند بنت اسد بولی۔ ”خوش قسمت تھی جو پیاسے بدحال شاعر کو پانی پلا بیٹھی۔“
”تم بھی اس وقت کنویں پر موجود تھیں ہمت کر لیتیں۔“بادیہ بنت شیبہ سے اپنی چچا زاد کی غیبت برداشت نہیں ہوئی تھی۔
ہند بنت اسد طعنہ زن ہوئی۔ ”طرف داری تو کرو گی ،تمھاری عمّ زاد جو ہوئی۔“
بادیہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔ ”ثانیہ نے شاعر کی منت نہیں کی کہ اس کی شان میں قصیدہ کہے۔ بلکہ اسے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ پھٹے پرانے کپڑوں والا شخص شاعر ہوگا۔ اس نے تومسافر سمجھ کر پانی پلایا اوروہ بھوکا تھا تو گھر سے کھانا لے آئی،کیوں کہ آل ثمامہ ہمیشہ سے بھوکوں کو کھانا کھلاتے آئے ہیں۔“
ناجیہ بنت جزع نے قہقہہ لگایا۔ ”اب تو ہند ہر پیاسے کو پانی پیش کرے گی۔“تمام ہنسنے لگیں۔
ہند نے قہر آلود نگاہ ناجیہ پر ڈالی۔ ”بنواسد کے سردار زادے کی بہادری کے قصے تو مجھے تم سنایا کرتی تھیں۔“
ناجیہ منھ بناتے ہوئے بولی۔ ”ہمارا اپنا سردارزادہ مالک بن شیبہ اس سے کئی گنا بہادر شہسوار ہے۔“
انھیں تکرار کرتا چھوڑ کر بادیہ بنت شیبہ دھیمی آواز میں ابن حزام کے قصیدے کے وہ اشعار گنگنانے لگی جن میں اس کی چچا زاد بہن ثانیہ اور ان کے خاندان کی تعریف کی گئی تھی۔ ابن حزام نے وہ قصیدہ سُوقِ ذوالمجازمیں پڑھا تھا۔
اور جب میں نے سورج کی صاف روشنی میں اس چاند کو دیکھا
جس کے رخ ِروشن کو سورج کی روشنی بھی ماند نہیں کر سکی تھی
وہ مسکرائی ،اس کے سفید دانت گویا خلیج العربی کے موتی ہیں
اور زبان کھولی تو لگا کسی جھرنے کی روانی سن رہا ہوں
یا جیسے بادِ صبا پکی ہوئی کھجورں کے خوشوں سے ٹکرا کر خوب صور ت آواز پیدا کرے
وہ پانی کا مشکیزہ پکڑ کر میری طرف نزاکت سے چلی تو اس کی پتلی کمر مشکیزے کے وزن سے لچک گئی۔
اس کی سفید گردن ہرنی کے جیسی ہے اور گلے میں پہنا سفید موتیوں کا ہار بہ غور دیکھنے پر نظر آتا ہے۔ (یعنی ہار اس کے جسم کی طرح سفید ہے )
اس کے سر کے بال کالے اور گھنے ہیں اوربالوں کی چوٹی نازک کمر سے بھی نیچے تک چلی جاتی ہے۔
وہ نہایت پاکیزہ اور حیا کی پتلی ہے ،کہ گفتگو کرتے ہوئے پلکوں کا بوجھ اس سے اٹھایا نہیں جاتا۔
اور پھر اس نے اپنے بہادر مرے ہوئے باپ کی طرح سخاوت کا مظاہر ہ کیا۔
میرے بھوکے پیٹ کے لیے عمدہ کھانا پیش کیا۔
شریک بن ثمامہ جو قبیلے کا سردار تھا جسے رات کو سوتے ہوئے دھوکے سے قتل کیا گیا۔
اور اس کی بیٹی خوش قسمت ہے کہ وہ آلِ ثمامہ سے ہے۔
اور خاندانِ ثمامہ عظمت والا ہے کہ ثانیہ بنت شریک اس میں پیدا ہوئی۔
شاعر کو عرب معاشرے میںبڑا مقام حاصل تھا۔ یہاں تک کہ عرب جنگجو اور لڑاکوں کو بھی شاعر سے کم درجہ دیتے تھے۔ کسی قبیلے میں شاعر کا پیدا ہونا باعث سعادت و مسرت سمجھا جاتا تھا۔ شاعر ان کے نزدیک قوم وقبیلے کا محافظ ،اس کی عزت کا نگہبان اوران کی تاریخی روایات اور عظمت کا ترجمان تصور کیا جاتا تھا۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ دور جاہلیت کی عادات و اخلاق ،خصایل و صفات ،علوم ومعاشرت کا جتنا بھی علم حاصل ہو سکا یہ ان کی شاعری ہی کی مرہون منت ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عرب کی شاعری عرب کی تاریخ ہے۔ شعر کے اثر کا اندازہ لگانے کے لیے ایک دو واقعات پر اکتفا کرتا ہوں …. ابن خلکان نے ایک شاعر مسکین داری کے بارے لکھا کہ وہ کپڑے کے کاروبار سے وابستہ تھا۔ اس کے پاس سیاہ رنگ کی اوڑھنیوں کا ذخیرہ موجود تھا اور عرب عورتوں میں سیاہ اوڑھنی کا استعمال متروک ہونے گا تھا۔ اوڑھنیوں کو نہ بکتے دیکھ کر اس نے ایک شعر کہا جس میں ایک ایسی حسینہ کی تعریف کی جو سیاہ اوڑھنی میں ملبوس تھی۔ اور شعر کے شہرت پاتے ہی عورتوں میں سیاہ دوپٹوں کا رواج تازہ ہو گیا اور اس کا مال ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گیا۔ اسی طرح بنو کلاب کے ایک شخص محلّق کی آٹھ بیٹیاں تھیں۔ اس کی تنگ دستی کے سبب انھیں رشتا ہی نہیں ملتا تھا۔ مشہور شاعر اعشیٰ کی مکہ آمد کی خبر سن کر محلّق نے اپنی بیوی کے مشورے سے سب سے پہلے اسے اپنے ہاں مدعو کیا ، اپنی کل جمع پونجی صرف کر کے اس کی خوب خاطر تواضع کی اور اعشیٰ کو باتوں باتوں میں اپنے مسایل سے آگاہ کیا۔ اعشیٰ نے سوقِ عکاظ میں ایک زوردار قصیدہ پڑھا جس میں چند اشعار محلّق کی مدح میں تھے بس پھر کیا تھا محلّق کی بیٹیوں کے لیے فی الفور بہترین رشتے مل گئے۔
بنو قریع کی ایک شاخ ”بنوا¿نف الناقة“ کہلاتی تھی جس کا لفظی مطلب ہے ”اونٹنی کی ناک کی اولاد۔“اس کا پس منظر یہ ہے کہ ان کا جدِّاعلیٰ بچپن میں اپنے باپ سے اونٹنی کے گوشت کا حصہ لینے گیا جو اس نے بانٹنے کے لیے ذبح کی تھی۔ اسے تھوڑی دیر ہو گئی اور جب وہاں پہنچا تو اونٹنی کا صرف سر باقی بچا تھا وہی اس کے حصے میں آیا۔ وہ نتھنوں میں انگلیاں ڈال کر گھسیٹتا ہوا لے چلا۔ کسی نے پوچھا ”یہ کیا ہے ؟“ تو جواب دیا۔ ”ا¿نف الناقہ “( اونٹنی کی ناک )یہ بات ایسی پھیلی کہ انھیں ”بنو ا¿نف الناقة۔“ کہا جانے لگا۔ وہ اس بے ہنگم نام سے کھسیاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ جہاں ان کے خاندان کے بارے بات ہو تو ”بنو قریع“ کہہ دیا کرتے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مشہور شاعر حطیئہ نے ان سے خوش ہو کر یہ شعر کہ دیا۔
قوم’‘ ھم الانف والاذناب غیرھم
ومن یسوی با¿نف الناقة الذبا
ترجمعہ:یہ وہ لوگ ہیں کہ ناک ہیں تو بس یہ ہیں ،باقی سب تو دم چھلّے ہیں۔ بھلا کون ہے جو دم کو اونٹنی کی ناک کے برابر سمجھے۔ ؟(العقد6/153,154العمدہ1/38)
اس کے بعد وہ لوگ فخریہ اپنے قبیلے کا نام لینے لگے۔ ایسے واقعات عرب تاریخ میں سیکڑوں ہزاروں کے حساب سے بکھرے پڑے ہیں کہ کسی شاعر ی کی وجہ سے کوئی شخص یا قوم نیک نام ہوئی یا شاعری ہی کے باعث بدنامی ملی۔ اس لیے اہل عرب شعراءکی ہجو سے بہت خائف رہتے تھے۔ ایسے بھی تھے جو شعراءکو نذرانہ دے کر طے کر لیتے تھے کہ وہ ان کی ہجو نہ کریں گے۔ شعراءکی اس درجہ قدر دانی کی جاتی تھی کہ سات ایسے قصیدے جو ان کے نزدیک زبان و کلام اور ادبی محاسن و لطائف کے لحاظ سے اعلیٰ ترین سمجھے جاتے تھے ان کو سونے کے پانی سے لکھوا کر خانہ کعبہ کے دروازے پر لٹکا دیا تھا۔ ان سات قصاید کو ”السبع المعلقات“کہا جاتا تھا۔ شعراءاپنا کلام اسواق العرب میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ اسواق ،سوق کی جمع ہے۔ جس کا مطلب بازار یا منڈی ہے۔ قدیم عرب میں جا بجا تجارتی اغراض و دیگر مقاصد کے لیے اسواق کا انعقاد ہوتا رہتا تھا۔ ان کی صحیح تعداد کا احاطہ تو ممکن نہیں البتہ ا ن میں سوقِ عکاظ،سوقِ مجنّہ ، سوقِ ذوالمجاز،سوقِ دبا ،سوق صحار وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ اور یہ اسواق محض” بازار“ یا ” منڈیاں “نہیں بلکہ ”میلے اور تہوار کا رنگ اختیار کر جاتے تھے (عربی ادب قبل اسلام ازڈاکٹر خورشید رضوی )
٭٭٭
”جانتے ہوئے گھر سے کچھ بھی پکوا کر نہیں لایا تاکہ تمھاری نشانہ بازی کا امتحان لیا جائے۔“ سکندر ،یشکر کو مخاطب تھا۔ دھوپ پھیلنے تک وہ طیسفون(مدائن) کے مضافات کو کافی پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ حیرہ، طیسفون سے جنوب مشرق کی طرف پڑتا تھا۔ اس جانب دریائے فرات بہہ رہا تھا لیکن دریائے فرات سے پہلے بھی دو تین نہریں آتی تھیں۔ مابین النہرین علاقے میں دریائے دجلہ اور فرات کو چند نہریں آپس میں بھی ملاتی ہیں۔ اور ان کا مقصد نہر کے ساتھ ساتھ چلنا تھا۔ پانچ محافظ بھی ان کے عقب میں گھوڑوں کو سرپٹ دوڑاتے ہوئے آرہے تھے۔
یشکر ہنسا۔ ”میری ناکامی کے باوجود ہم بھوکا نہیں مریں گے کہ استاد محترم بھی ساتھ ہی موجود ہے۔“اس کا اشارہ سکندر کی جانب تھا۔
سکندر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ”گویا ابھی سے ناکامی کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔“
”میں نے امکانی بات کی ہے۔ اور ناکامی کے احتمال کو نظر انداز کرنا بے وقوفی ہوتی ہے۔“
”بعض اوقات تمھاری گفتگو سن کر محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی عرب بات کر رہا ہو۔“سکندر کے لہجے میں حیرانی کا عنصر نمایاں تھا۔
یشکر فخر سے بولا۔ ”مجھے عربی آتی ہے نا۔“سکندر نے اسے عربی ،آرامی ،حبشی ،عبرانی وغیرہ سکھانے کے لیے اتالیق مقرر کیے تھے۔ یوں یشکر پانچ چھے زبانوں میں ٹوٹی پھوٹی بات کر لیتا تھا۔ فارسی اس کے لیے مادری زبان جیسی تھی لیکن عربی شاید اس کے خون میں رچی بسی تھی کہ وہ فارسی کے بعدعربی زبان فصاحت سے بولتا تھا۔
”اگر میں تمھاری ماں کو نہ لانے کی بے وقوفی نہ کرتا تو یقینا تمھارا نسب ہم سے پوشیدہ نہ رہتا۔“ سکندر افسردہ ہو گیا تھا۔
”آپ کہا کرتے ہیں ماضی پر پچھتانا بے وقوفوں کا کام ہے۔“
سکندر فلسفیانہ لہجے میں بولا۔ ”مقولے دہرانا آسان ہے ان پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔“
وہ ایک نہر کے کنارے پہنچ گئے تھے اس کے بہاﺅ کے ساتھ ساتھ ان کا سفر جاری ہو گیا۔ [دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان واقع زمین کوزمانہ قدیم سے ” میسوپوٹیمیا“، ”الجزیرہ“ یا ”مابین النہرین“ کہا جاتاہے۔ عرب میں اسے ”بلادالرافدین “بھی کہتے ہیں۔ میسو پوٹیمیا یونانی نام ہے جو دو لفظوں Mesos(درمیان)اور Potomos(دریا) سے مرکب ہے۔ مطلب ہوا ”دریاﺅں کے درمیان سرزمین۔“دریائے فرات ترکی میں آرمینیا کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور اس کی لمبائی 2780کلومیٹر ہے۔ حیرہ کا شہر دریائے فرات کے مغربی کنارے آباد تھا۔ دریائے دجلہ 1950کلومیٹر لمبا ہے۔ یہ الازغ کے قریب ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس کا منبع دریائے فرات سے بیس پچیس کلومیٹر دور ہے۔ یہ دونوں دریا القرنہ کے مقام پر مل جاتے ہیں۔ القرنہ سے آگے دونوں دریا شط العرب کہلاتے ہیں۔ شط العرب 160کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے خلیج الفارس میں جا گرتا ہے۔ کئی رابطہ نہریں دونوں دریاﺅں کو آپس میں ملاتی ہیں۔ (از اطلس القرآن)]
ایک جگہ انھوں نے چند بگلے شکار کیے۔ دن کا کھانا انھوں نے بگلوں کے بھنے ہوئے گوشت سے کیا تھا۔
”ایک تیر خطا جانے کا مطلب ہے تمھارے پاس صرف ایک تیر تھا جو ضایع ہو گیا۔“بگلے کی ٹانگ سے نبرد آزما سکندر نے یشکر کے خطاہونے والے تیر پر پھبتی کسی۔
یشکر شاکی ہوا۔ ”پدرِ محترم ،کبھی تعریف کرنے کی غلطی کر لیا کریں۔“
سکندر بر جستہ بولا۔ ”اچھا کام دیکھنے پر تعریف خود بخود منھ سے نکلتی ہے۔“
”گزشتا دن کی ہار کے بارے کیا خیال ہے۔“
سکندر نے منھ بنایا۔ ”اردشیر بن بابک کی تلوار پا کر بھی خوش نہیں ہو۔“
یشکر نے صاعقہ کے گرد لپیٹا کپڑا اتار کر اسے سورج کی روشنی میں بلند کیا۔ وہ آئینے کی طرح چمک رہی تھی۔ تلوار ہاتھ میں آتے ہی اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔ یوں جیسے تلوار سرگوشیوں میں اپنے پیاسا ہونے کی خبر دے رہی ہو۔ ”پدر محترم ،یہ کتنوں کا خون پی چکی ہے۔“
”سو کے بعد میں نے گنتی چھوڑ دی تھی اور مجھ سے پہلے یہ کتنوں کا نرخرہ ادھیڑ چکی ہے اس کاتو شمار ہی ناممکن ہے۔“
”اس تلوار کو خاندان سے باہر نکال کر آپ غلطی کر رہے ہیں۔“
سکندر ہنسا۔ ”شاہانہ غلطی دہرا لینا چاہیے۔“
”میں سمجھا نہیں۔“
”اردشیر بابکان نے بھی تو اسے خاندان سے باہر تحفہ دیا تھا۔“
”شاید چچا عتیق اور چچا افراسیاب برا مانیں۔“یشکر نے سکندر کے دونوں بھائیوں کا ذکر کیا۔
”انھیں صرف تجارت سے دلچسپی ہے۔ صاعقہ کی جگہ ان کے نزدیک بیٹھک کی دیوار ہے جہاں اسے لٹکا کر مہمانوں کو اپنے بزرگوں کی بہادری کے قصے سنایا کریں گے۔ میرے بھتیجوں میں بھی کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کبھی تلوار ہاتھ میں تھامی ہو۔“
یشکر نے خیال ظاہر کیا۔ ”ہو سکتا ہے ان کی اولاد میں کوئی جنگ جو پیدا ہو جائے۔“
”جس دن مجھے باپ سمجھنے میں دشواری پیش ہو تب یہ بحث کرنا۔“
”چلنا چاہیے۔“پانی کی چھاگل سے منہ لگا کر اس نے چند گھونٹ پانی حلق میں انڈیلا اور کھڑا ہو گیا۔ گھوڑے بھی پانی پی کر دریا کے کنارے اگی گھاس پر منھ مارنے لگے تھے۔ محافظ انھیں جانے پر آمادہ دیکھ کر گھوڑے پکڑ لائے۔ اگلا پڑاﺅ انھوں نے غروب آفتاب کے وقت کیا تھا۔ رات گزارنے کے لیے انھیں تاریخی شہر بابل میں ایک سرائے مل گئی تھی۔
(بابل میسوپوٹیما کا ایک قدیم شہر ہے جو دو ہزار قبل مسیح میں شہرت کو پہنچاجب یہاں حمورابی حکومت کرتاتھا۔ لفظ ”بابل “ اکاڈی زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ بابیعنی دروازہ اور ایل یعنی خدا سے مرک ہے۔ مطلب ”خدا کا دروازہ “ یہ دریائے فرات کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ اس کے معلق باغات بہت مشہور گزرے ہیں جنھیں 600ق م کے لگ بھگ بخت نصر کے دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا۔ زمین سے بلند ان باغات کو پمپوں کے دریعے پانی پہنچایا جاتا۔ ان کا شمار قدیم دنیا کے سات عجوبوں میں بھی ہوتا ہے۔ مینارہ بابل بھی بہت مشہورہے جو ایک مخروطی سیڑھی دار مینار تھا۔ جسے عربی میں الزّکورہ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں مینارہ بابل کے ایک بادشاہ نے بہشت تک جانے کے لیے تعمیر کرایا تھا۔ فارس کے شہنشاہ کوروش کبیریعنی سائرس اعظم نے 539ق م میں بابل پر قبضہ کر لیا۔ یونانی فاتح سکندر اعظم 323ق م میں بابل ہی میں فوت ہوا۔ آج کل بابل شہر کے کھنڈر حلّہ شہر کے شمال میں آٹھ دس کلومیٹر کے فاصلے پر پائے جاتے ہیں )
شکار کیا ہوا ہرن انھوں نے پکانے کی غرض سے سرائے کے مالک کے حوالے کر دیا تھا۔ مسافروں کے چہرے مہرے ہی سے ان کی حیثیت کا اندازہ ہوتا تھا۔ سرائے کے مالک نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔ اس کے اشارے پر ملازم ان کے گھوڑوں کو اصطبل میں لے گئے۔ محافظوں کے بڑے نے سرائے کے مالک کو سکندر کی حیثیت سے مطلع کیا۔ سرائے کے مالک نے فوراََ ہی سرائے کے شاہانہ کمرے میں ان کے رات گزارنے کا بندوبست کر دیا تھا۔ اگلی صبح طلوعِ آفتاب کے ساتھ ان کا سفر شروع ہو گیا تھا۔ دوپہر ڈھلے وہ حیرہ میں داخل ہو گئے تھے۔ سکندر پہلے بھی وہاں آچکا تھا۔ سب سے پہلے وہ تمام کو ایک شاہانہ طرز کی سرائے میں لے گیا۔ رات گزارنے کا بندوبست کرنے کے بعد وہ یشکر کو ساتھ لے کرمطلوبہ لوہار کی دکان کی طرف بڑھ گیا۔ اس کی دکان پچھم میں شہر کے مضافات میں پڑتی تھی۔ دکان کا مالک ایک سفید ریش بوڑھا تھا۔ اس کا مدد گا ر یشکر کی عمر کا ایک لڑکا تھا۔ اس وقت وہ بوڑھالوہے کے سرخ ٹکڑے کو چمٹے سے پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اس پر ہتھوڑے کی ضربیں لگا رہا تھا۔ ان کی آمد پر اس نے لوہے کے ٹکڑے کو دو بارہ دہکتے انگاروں میں ڈالا اور ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔
سکندرکے اشارے پر یشکر نے کپڑے میں لپیٹی صاعقہ اس کے حوالے کر دی۔ کپڑا کھول کر اس نے ایک نظر تلوار پر ڈالی۔ اس کے آنکھوں سے پھوٹتی تحسین و ستائش صاعقہ کی اہمیت کو ظاہر کر رہی تھی۔
”بے مثال….“صاعقہ کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا۔
سکندر نے کہا۔ ”اس کی نیام تیار کرنی ہے۔“
مجھے خوشی ہو گی۔“لوہار نے اثبات میں سر ہلایا۔
سکندر نے پوچھا۔ ”کب تک تیار ہو جائے گی ؟“
”دو ماہ لگیں گے۔“
”ایک نیام کے لیے اتنا عرصہ۔“سکندر حیران رہ گیا تھا۔
بوڑھا لوہار بے نیازی سے بولا۔ ”پہلی بات تو یہ کہ میرے پاس بہت زیادہ کام پڑا ہے۔ اور دوسرا اس تلوار کے شایان شان نیام کے لیے وقت درکار ہو گا۔ البتہ عام سی نیام چاہیے تو ابھی بنی بنائی نیام ڈھونڈ دیتا ہوں۔“
سکندر نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”ٹھیک ہے آپ تلوار کا ناپ لے لیجیے۔“
”تلوار یہیں چھوڑ کر جانی ہو گی۔“
سکندر کے چہرے پر تذبذب ابھرا۔ بوڑھے لوہار نے مسکراتے ہوئے دیوار سے ٹنگی ایک منقش میان کی طرف اشارہ کیا۔ ”یہ تلوار پچھلے دس سال سے یہاں ٹنگی ہے اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا مالک زندہ ہے یا مر گیا ہے۔“
سکندرنے طوہن کرہن مانتے ہوئے پوچھا۔ ”معاوضابتا دیں۔“
”پانچ سونے کے سکے ،کام سے پہلے۔“
منھ مانگا معاوضا اس کے حوالے کرکے وہ یشکر کے ساتھ وہاں سے نکل آیا۔
رات کو دستر خواں پر ہرن کا لذیز گوشت کھاتے ہوئے یشکر ،سکندر کو مخاطب ہوا۔ ”یہاں فارسی سے زیادہ عربی بولی جاتی ہے۔“
”کیوں کہ حیرہ پر ایک عرب حکمران ہے۔ امراءالقیس بن عمر وبن عدی۔ اور شاید یہ سن کر تمھیں حیرانی ہو کہ اس کی عمر سو سال سے تجاوز کر چکی ہے۔“
”یہ عمرو بن عدی وہی ہے نا جس کے والد عدی بن نصر کو اپنی بیوی کے ساتھ صرف ایک رات کی راحت مل پائی تھی۔“
سکندر نے حیرانی سے پوچھا۔ ”تمھیں کس نے بتایا ؟“
”استاد محترم فرزون کچھ ایسا ہی فرما رہے تھے۔“
”صحیح کہا،عمرو بن عدی سے پہلے حیرہ کا بادشاہ جذیمة الابرش تھا۔ بنو ایاد نے اس کے دو بت چرائے تھے جن کی وہ پوجا کیا کرتا تھا۔ جذیمہ نے بنو ایاد پر چڑھائی کر دی۔ جنگ سے گھبرا کر بنو ایاد نے صلح کی پیش کش کر دی۔ تبھی جذیمہ نے اپنے دونوں بتوں کی واپسی کے ساتھ عدی بن نصر کا بھی مطالبہ کیا جو نہایت حسین و جمیل اور خوب صورت جوان تھا اور اس کا تعلق بنو ایاد سے تھا۔ بنوایاد کو مجبوراََ اس کی یہ شرط ماننا پڑی۔ جذیمہ نے عدی بن نصر کو اپنا ساقی بنا لیا تھا۔ وہ اسے شراب پلایا کرتا۔
ایک دن جذیمہ کی بہن رقاش( بعض نے بیٹی لکھا ہے )کی نظر عدی بن نصر پر پڑی اور وہ اس پر فریفتہ ہو گئی۔ اس نے لڑکے کو پیغام دے کر اپنے پاس بلایا اور اظہار محبت کرنے کے ساتھ اسے کہہ دیا کہ وہ جذیمہ سے اس کا ہاتھ مانگ لے۔ عدی بن نصر ڈر گیا اور صاف انکار کر دیا۔ لیکن رقاش پر عدی کے حسن کا جادو چل چکا تھا پس اس کا اصرار جاری رہا۔ عدی بن نصر بھی آخر جوان تھا۔ رقاش جیسی خوب صورت لڑکی کو وہ زیادہ دن نہ ٹال سکا۔ رقاش نے اسے تدبیر بتائی کہ شراب کی محفل میں وہ جذیمہ کو بغیر ملاوٹ کے خالص شراب پلائے اور باقی محفل کو ملاوٹ والی شراب پلاتا رہے۔ اور جب بادشاہ نشہ میں دھت ہو جائے تو وہ رقاش کا ہاتھ مانگ لے۔ اس وقت جذیمہ انکارنہیں کر سکے گا۔ پس اہل محفل کو اس پر گواہ بنا لینا۔ عدی بن نصر نے یونھی کیا۔ جب جذیمہ نشے میں اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھا تبھی اس نے شراب کا نیا جام اس کی طرف بڑھاتے ہوئے رقاش سے شادی کی درخواست پیش کر دی۔ جذیمہ فوراََ مان گیا اور رقاش کو عدی کی ملک میں دے دیا۔ عدی خوشی خوشی بیوی کو لے کر حجلہءعروسی میں چلا گیا۔ اور بقیہ رات رقاش کے ساتھ ہی رہا۔ اس زمانہ میں رواج تھا کہ شادی کے موقع پر لڑکے ،لڑکی کے ہاتھوں پر خلوق نامی خوشبو ملی جاتی تھی۔ رات گزار کر جب اگلے دن عدی، جذیمہ کے سامنے پہنچا تو اس کے ہاتھوں پر خلوق کا اثر باقی تھا۔ جذیمہ نے پوچھا۔ ”یہ کیا ہے ؟“
عدی نے جواب دیا۔ ”یہ شادی کی خلوق کے اثرات ہیں۔“
جذیمہ نے پوچھا۔ ”کس کے ساتھ شادی کی ہے ؟“
عدی نے جواب دیا۔ ”رقاش کے ساتھ۔“
جذیمہ نے اگلا سوال کیا۔ ”کس نے تمھاری شادی کرائی ہے۔“
عدی نے جواب دیا۔ ”بادشاہ (جذیمہ )نے۔“
اس وقت جذیمہ کو ہوش آیا اور وہ افسوس سے ہاتھ ملنے لگا۔ بادشاہ کی حالت دیکھتے ہی عدی وہاں سے کھسک لیا تھا کہ اسے جان کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ جذیمہ نے بہن کو لعن طعن کی مگر وہ صاف مکر گئی کہ اس کی شادی تو خود بادشاہ ہی نے عدی بن نصر سے کرائی ہے۔ جذیمہ کے پاس بہن کی بات کا جواب نہیں تھا۔ وہ خاموش ہو رہا۔ عدی بھاگ کر اپنی قوم بنو ایاد میں لوٹ گیا۔ لیکن زیادہ دن زندہ نہ رہ سکا اور ایک لڑکی کی وجہ سے اپنی قوم کے ایک نوجوان کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ بعض کہتے ہیں اسے جذیمہ نے اسی وقت قتل کر ادیا تھا۔ بہ ہرحال حقیقت جو بھی ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس غریب کو رقاش کے ساتھ ایک رات ہی گزارنا نصیب ہوا۔ اور خدا وند یزدان کی منشا تھی کہ اسی ایک رات کی وجہ سے رقاش حاملہ ہوئی۔ اور اس کے ہاں ایک خوب صورت لڑکے نے جنم لیا جس کا نام اس نے عمرو رکھا۔ اور جذیمہ کے بعد وہی عمروبن عدی حیرہ کا بادشاہ بنا۔ اس نے ایک سو بیس سال عمر پائی تھی۔ اس کی وفات پراس کے بیٹے امراءالقیس کو بادشاہت ملی۔ اور امراءالقیس بھی اب سو برس سے تجاوز کر چکا ہے۔“
یشکر محویت سے وہ واقعہ سن رہا تھا۔ سکندر کے خاموش ہوتے ہی مستفسر ہوا۔ ”ویسے سلطنت حیرہ اب شہنشاہ معظم کے دائرہ اختیار میں آتی ہے نا۔“
”ہاں۔“سکندر نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”اصل میں سکندر اعظم نے اپنی موت سے قبل فارس کی تمام سلطنت کو علماءفارس کے درمیان بانٹ دیا تھا۔ ہر علاقے کا اپنا بادشاہ بن گیا تھا۔ اس دور کو ملوک الطّوائف کہتے ہیں۔ اسی دور میں نصاریٰ کے نبی (سیدنا عیسیٰ علیہ اسلام )کی پیدایش بھی ہوئی۔ اس دوران چھوٹے چھوٹے علاقوں کے چھوٹے چھوٹے بادشاہ ایک دو سرے سے لڑتے جھگڑتے رہے۔ یہ سلسلہ یونھی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ شہنشاہ معظم اردشیر بابکاں کی آمد ہوئی اور انھوں نے تمام فارس کو بزورِ بازو فتح کرتے ہوئے ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا۔ اور ان کے بعد ان کی اولاد حکمرانی کرتی آرہی ہے۔“
”مجھے نیند آرہی ہے۔“یشکر جمائی لیتا ہوا نرم بستر کی طرف بڑھ گیا۔
”بات سنو جوان۔“سکندر کے پکارنے پر اس نے مڑ کر دیکھا۔
سکندر نے کونے میں بچھی چٹائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”تمھاری جگہ وہاں ہے۔“
”کیا مطلب ؟“یشکر نے حیرانی سے پوچھا۔
”مطلب بالکل واضح ہے ،اب بستروں اور مسہریوں کو بھول جاﺅ۔ میدان عمل میں نرم بستر اور بچھونوں کے بجائے پتھریلی ،کیچڑ آلود،ریتلی یا گرد آلود زمین سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور تمھیں ابھی سے اس کا عادی ہونا پڑے گا۔“
”میری تربیت کا اختتام کب ہو گا ؟“یشکر منھ بناتے ہوئے چٹائی کی طرف بڑھ گیا۔
سکندر ہنسا۔ ”اب تک میں بھی سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہوں۔“
یشکر لطیف چوٹ کرتا ہوا بولا۔ ” چچا عتیق اور چچا افراسیاب کی سمجھ داری کو داددینے کو جی چاہتا ہے۔“
”ایک شہسوار جنگجو اور آرام پسند آدمی میں وہی فرق ہے جو جنگل کے بادشاہ شیر اور گندے جوہڑ میں لیٹنے والی بھینس میں ہوتا ہے۔“
یشکر نے قہقہہ لگایا۔ ”بالکل ،بھینس سارا دن رات آرام کرتی ہے اور بے چارہ شیرپیٹ بھرنے کے لیے شکار کے پیچھے دوڑ رہا ہوتا ہے اور کبھی جان بچانے کے لیے شکاریوں کے آگے دوڑ رہا ہوتا ہے۔“
” یہی زندگی کا حسن ہے۔ متحرک وجود ہی زندہ کہلانے کا حق دار ہے ،ساکن و بے حرکت جسم تو مردہ ہونے کی علامت ہے۔“
”بوڑھاپا انسان کی نینداڑا دیتا ہے اور یقینا میں بوڑھا نہیں ہوں۔“تکرار سے جان چھڑاتے ہوئے یشکر نے آنکھیں موند لی تھیں۔ سکندر بھی مسکراتا ہوا بستر میں گھس گیا تھا۔
٭٭٭
واپس طیسفون پہنچتے ہی سکندر کو دربارِ شاہی میں حاضری کا حکم موصول ہوا۔ اس کی رخصت میں ہفتے بھر کا وقت پڑا تھا۔ لیکن ”حکم حاکم، مرگ مفاجات“ کے مصداق اسے دربار شاہی کا رخ کرنا تھا۔
اسے بھی جنگ کی سن گن مل چکی تھی۔ رات کو اس نے یشکر کو اپنی خواب گاہ میں بلا لیا تھا۔
”بیٹا، حالات کیسے بھی ہوں پریشان اور دکھی ہونے سے حل نہیں ہو سکتے۔ مصائب، پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا مرد کی شان ہوتی ہے۔ زندگی بعض اوقات عجیب رنگ دکھاتی ہے۔ انسان اگر خود کونقصان سے بچانے کا اہل نہ ہو تو وقتی طور پرحالات سے سمجھوتہ کرکے مناسب موقع کا انتظار کرنا چاہیے۔ لڑائی جھگڑا ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اگر تدبیر کو عقل کا سہارا مل جائے اورجلد بازی کو مقدم نہ کیا جائے تو کامیابی قدم چومتی ہے۔ اور یاد رکھنا کسی کے ہونے نہ ہونے کو قابلِ توجہ نہ سمجھا جائے تو کامیابیاں سمیٹنا مشکل نہیں ہوتا۔“
”پدرِ محترم آپ پریشان لگ رہے ہیں۔“
سکندر نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”کیوں کہ ایسی جنگ سر پر ہے جس کے نتیجے سے میں ناواقف ہوں۔“
یشکر نے کہا۔ ”بہتر یہی ہو گا کہ میں بھی اس جنگ کا حصہ بنوں۔“
”تمھیں ساتھ لے جانے کا یہ مناسب موقع نہیں ہے۔“
یشکر عجیب سے لہجے میں بولا۔ ”کبھی کبھی مناسب موقع کا انتظار محرومیاں لاتا ہے۔“
”یہ تمھاری غلط سوچ ہے ،جلد بازی ہمیشہ پریشانیاں لاتی ہے ،اسی لیے تمھیں حالات سے سمجھوتہ کرنے کا کہا کبھی کبھی مسائل وقت بیتنے کے ساتھ خود بہ خود حل ہو جاتے ہیں۔“
یشکر نے منھ بنایا۔ ”گویا انسان کو چاہیے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہے۔“
سکندر نے نفی میں سرہلایا۔ ”نہیں ،لیکن کچھ کرنے سے پہلے سے عواقب پر غور کرلے۔“
”اچھا آرام کریں صبح آپ نے جانا بھی ہے۔“وہ اجازت لے کر اپنی خواب گاہ میں آگیا۔
ان کی حویلی طیسفون کے مضافات میں تھی۔ اقلیمہ اور یشکر سے الوداعی ملاقات کر کے سکندر دربار شاہی کی جانب روانہ ہو گیا۔ بادشاہ کا محل اس کی حویلی سے ڈیڑھ دو میل دور تھا لیکن محل میں جانے کے بعد وہ رخصت ملنے تک واپس نہیں آتا تھا۔ کیوں کہ اسے دن رات شہنشاہ کے ساتھ ہی رہنا ہوتاتھا۔
محل کی پرشکوہ عمارت تو اس کی حویلی سے ہی نظر آتی تھی۔ عمارت کی تعمیر میں سفید سنگ مرمر کا استعمال ہوا تھا۔ محل کے سب سے اونچے مینار میں ہر وقت آگ روشن رہتی تھی۔ اس آگ کو جلانے کے لیے مقدس پجاری مقرر تھے جو ایک لمحے کے لیے بھی آگ کو بجھنے نہیں دیتے تھے۔ (اہل فارس زرتشت کو نبی مانتے تھے۔ یہ فارس کے طبقہ ثانیہ کے بادشاہوں میں کیستاسب کے دور میں ظاہر ہوا۔ بعض اہل کتاب کا بیان ہے کہ یہ اہل فلسطین سے ہے۔ ارمیاہ نبی ؑ کی خدمت میں رہتا تھا۔ اور ان سے پڑھتا تھا۔ پھر کسی وجہ سے ان کا مخالف ہو گیا اور ان کی بددعا سے مجذوم ہو گیا۔ اور ان سے علاحدہ ہو کر آذر بائیجان چلا گیا۔ دین مجوسیت کی بِنا ڈالی اور کیستاسب کو اپنی طرف مائل کیا۔ اس کے پاس ایک کتاب تھی جس کے وحی ہونے کا وہ مدعی تھا۔ وہ کتاب بارہ جلدوں میں تھی۔ کیستاسب نے اس کتاب کو اصطخر کے ہیکل میں رکھوا دیا۔ اس کتاب کا نام” زند “تھا۔ پھر اس کی تفسیر لکھی گئی اور زندیہ کے نام سے موسوم ہوئی۔ اس کتاب کے تین حصے تھے۔ ایک حصے میں گزشتہ قوموں کے حالات درج تھے ،دوسرے میں آیندہ کی پیشن گوئیاں لکھی تھیں اور تیسرے میں مذہبی اور شرعی احکام تھے۔ مجوسی مشرق کو قبلہ مانتے تھے کیوں کہ آفتاب اسی جانب سے طلوع ہوتا ہے۔ عبادت طلوع آفتاب ،غروب آفتا ب اور زوال کے وقت کی جاتی تھی۔ آگ ان کے نزدیک نہایت مقدس تھی اور اسے سجدہ کیا جاتا تھا۔ دو عیدیں تھیں۔ ایک عید” نوروز“ جو موسم ربیعی کے درمیان اور دوسری عید” مہرجان “موسم گرما میں مناتے تھے۔ دو خداﺅں کو مانتے تھے۔ ”یزدان“نیکی کا خدا اور ”اہرمن“ بدی کا خدا۔ ماں، بہن ، بیٹی اور شراب کوان کی کتاب زندیہ میں حلال کہا گیا تھا )
سکندر جونھی محل کے دروازے پر پہنچا۔ دروازے پر متعین دربانوں نے سر جھکا کر اسے تعظیم دی۔ گھوڑے سے اتر کر اس نے لگام ایک دربان کے حوالے کی اور خود محل کے اندر داخل ہوا۔ بارہ دری سے گزر کر وہ اندرونی عمارت میں داخل ہوگیا۔ محل کی وسیع عمارت مختلف حصوں میں منقسم تھی۔ ایک حصہ شبستان تھا جہاں بادشاہ آرام کرتا۔ ایک حصہ دربار شاہی کے لیے مختص تھا جہاں عوام و خواص کو آنے کی اجازت تھی۔ دربار شاہی سے ملحق ایک کمرہ امورسلطنت کے لیے مختص تھا۔ جہاں دوسرے بادشاہوں کے ایلچی اور دشمن کے بارے خبریں لانے والے جاسوسوں سے بادشاہ خود یا اس کا مقرر کردہ عمال ملتے تھے۔ اسی جگہ بیٹھ کر بادشاہ اہم امور کے متعلق مشاورت بھی کرتا تھا۔
سکندر کو دربار عام کے دروازے پر کھڑے دربان نے بتا دیا تھا کہ بادشاہ سلامت اس وقت دربار عام کے بجائے خواص کے ساتھ موجود تھا۔ مخصوص کمرے میں داخل ہوتے ہی سکندر آداب شاہی بجاکر اپنی جگہ کی طرف بڑھ گیا۔ وہ ہمیشہ سابور بن ہرمز کی پشت پر دائیں جانب کھڑا ہوتا تھا۔ اس وقت اسفند اپنے بیٹے فاران کے ہمراہ بادشاہ سلامت کے عقب میں دائیں جانب کھڑا تھا جبکہ فرطوس بائیں جانب موجود تھا۔ بادشاہ کی کرسی کے سامنے دائیں بائیں دھات کے منقش تھالوں میں مقدس آگ جل رہی تھی۔ اس آگ پر کوئی مخصوص خوشبو بھی چھڑکی گئی تھی تبھی ماحول میں تیز خوشبو رچی بسی تھی۔ بادشاہ کے سامنے دونوں جانب چند کرسیاں رکھی گئی تھیں جہاں سپہ سالار اور مختلف وزیر درجہ بہ درجہ براجمان تھے۔ دو جاسوس جوانب رکھی گئی کرسیوں کے قریباََ درمیان میں کھڑے ہو کر کوئی اہم اطلاع بادشاہ کے گوش گزار کر رہے تھے۔
بادشاہ نے ایک سرسری نگاہ سکندر پر ڈالی اورہلکا سا سر ہلا کر دونوں جاسوسوں کی جانب متوجہ ہو گیا۔ سکندر کو دیکھ کر اسفند اپنے بیٹے سمیت ایک قدم پیچھے ہٹ گیا تھا۔ سکندر اپنی مخصوص جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ اس وقت وہ بادشاہ کے محافظوں کے مخصوص لباس میں تھا۔ چھاتی اور پیٹھ پر لوہے کی ذِرّہ بازوﺅں اور کلائیوں پر لوہے کے پترے پہنے ہوئے ،سامنے کی جانب میان میں لٹکی ہوئی تلوار دونوں پہلوﺅں پر چمڑے کی نیام میں اڑسے ہوئے دو دھاری خنجر ….وہ لڑائی کے لیے مکمل تیا رتھا۔
جاسوسوں کی بات ختم ہوتے ہی بادشاہ نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں باہر جانے کا اشارہ کیا۔ دونوںبادشاہ کو سجدہ کر کے الٹے قدم باہر نکل گئے۔
بادشاہ چند لمحے سوچ میں کھویا رہا۔ اور پھر اس کی پر رعب آواز ابھری۔
”ہر جاسوس مختلف خبر لا رہا ہے۔ ان کی بات میں فقط یہ مماثلت ہے کہ قسطنطین ثانی کا جانشین الیانوس فارس پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔“
سپہ سالار نے کھڑے ہو کر پہلے رکوع تک جھک کر بادشاہ کو تعظٰم دی اور پھر کہنے لگا۔ ”خداوند فارس ،میرے مخبروں نے جو اطلاعات لائی ہیں اس کے مطابق بنو عبد قیس ،بنوبکر بن وائل ،بحرین ،دومة الجندل ،بنو کلب،بنو قضاعة ،بنوجذام وغیرہ کے قبائل الیانوس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے ہیں۔ سلطنت روما کے تمام صوبوں کی افواج بھی اس لشکر کا حصہ ہیں۔ لشکر کی مجموعی تعداد ایک لاکھ کا ہندسہ عبور کر رہی ہے۔ لشکر کا سپہ سالار یوسانوس ہے۔“بات کے اختتام پر اس نے ایک بار پھر بادشاہ کو تعظیم دی اور نشست سنبھال لی۔
ایک اور وزیر نے کھڑے ہو کر کہا۔ ”خداوند فارس ،وہ تمام عرب قبایل جن پرترس کھا کر شہنشاہ معظم نے ان کی جان بخشی کی تھی آج دشمن کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ہیں۔ روما کے فرمانروانے بھی اپنے پیشرو کے کیے ہوئے معاہدے کا پاس نہیں رکھا۔ خداوند یزادان نے چاہا تو اسے منھ کی کھانا پڑے گی۔“بادشاہ کو تعظیم پیش کر کے وہ اپنی نشست پر بیٹھ گیا
بادشاہ نے پوچھا۔ ”کوئی ایسا آدمی ہے جو مجھے دشمن کے لشکر کی صحیح تعداد بتا سکے۔“
تمام نے ناکامی کے اعتراف میں سر جھکا لیا تھا۔
بادشاہ نے پکارا۔ ”سپہ سالار….“
”حضور….“سپہ سالار کرسی سے اٹھ کر رکوع کے انداز میں جھکا اور پھر ہاتھ باندھ کر بادشاہ کی جانب متوجہ ہو گیا۔
”فوج کو تیاری کا حکم دے دو ….دشمن کا رخ طیسفون کی جانب ہی ہے اور ہم دجلہ عبور کر کے دشمن سے ٹکرائیں گے۔“
”جی حضور۔“سپہ سالار نے اثبات میں سر ہلایا۔
”علی الصباح میں اپنے محافظوں کے ساتھ دشمن کی خبرلانے کے لیے جاﺅں گا۔ میرے خصوصی محافظوں کے علاوہ دس اور جنگجو بھی ہمارے ساتھ ہوں گے۔“
سپہ سالار نے کہا۔ ”خداوندفارس ،اگر اس کام کی سعادت غلام کے سپرد کی جاتی توزیادہ مناسب ہوتا۔“
”اتنا وقت نہیں ہے کہ میں کسی اور کو بھیجنے کا تجربہ کر سکوں۔“یہ کہتے ہی سابور نے نشست چھوڑی۔ ”کابینہ برخاست کی جاتی ہے۔“
تمام احتراماََ کھڑے ہو گئے تھے۔ بادشاہ لمبے ڈگ بھرتا ہوا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ چاروں محافظ اس کے عقب میں چل پڑے۔ بادشاہ نے اپنے حرم کا رخ کیا تھا۔ شبستان کے دروازے پر سکندر کے علاوہ تمام محافظ رک گئے تھے۔ وہ بادشاہ کے عقب میں موّدبانہ انداز میں چلتا رہا۔ خواب گاہ میں ملکہ فارس کو چار باندیاں گھیرے ہوئے تھیں۔ کوئی اس کے بال سیدھے کر رہی تھی ، کوئی قالین پر بیٹھ کر اس کے پاﺅں کو سہلا رہی تھی اور کسی کے ہاتھ اس کے کندھوں کو دبا رہے تھے۔ سابور کو دیکھتے ہی باندیاں سرعت سے کھڑی ہو گئی تھیں۔ چاروں باندیوں نے زیر ناف کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا باندھا ہوا تھا جس کی طوالت رانوں کی ابتداءہی میں مکمل ہو جاتی تھی۔ اسی طرح کپڑے کے باریک ٹکڑے سے انھوں نے اپنا سینہ ڈھانپنے کی بھی ناکام کوشش کی ہوئی تھی۔
دو کنیزوں شاہی جبہ اتار نے لگیں ایک کے حوالے بادشاہ نے اپنا تاج کیا۔ اور وہ تاج مخصوص جگہ پر رکھنے بڑھ گئی۔ بادشاہ ملکہ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ شاہی جبّے کو اس کی مخصوص جگہ پر لٹکا کر دونوں کنیزیں نیچے بیٹھ کر بادشاہ کے جوتے اتارنے لگیں۔ سکندر مسہری کے سرہانے کی جانب اپنی مخصوص جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ ایک کنیز صراحی اور سونے کا جام لے کر سابور کے قریب ہوئی۔ اسی لمحے سکندر نے آگے بڑھ کر گلاس کنیز کے ہاتھ سے لے کر سونگھا اور پھر صراحی سے ایک گھونٹ مشروب چلو میں انڈیل کر پی لیا۔ زہر یلا نہ ہونے کی تسلی کر کے وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا تھا۔ کنیز اس کے پیچھے ہٹتے ہی ارغوانی رنگ کا مشروب سونے کے جام میں انڈیلنے لگی۔
”خداوند فارس کے رخ روشن پر نظر آنے والا تفکر کنیز کے دل کو ہولا رہا ہے۔“چہتی ملکہ نے بادشاہ کے چہرے پر نظر آنے والی فکرمندی پر بے چینی ظاہر کی۔
سابور سوچ میں کھوئے ہوئے بولا۔ ”سرورحیات ،فکر مند نہیں ہوں بس آنے والے دنوں کا سوچ رہا ہوں۔ روم کے بادشاہ کو مہلت دیناشاید میری غلطی تھی۔“
”غلطی نہیں سرتاج ،رحم دلی کہیں۔ غلطی تو روما کا حکمران کر رہا ہے جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔“
کنیز کے ہاتھ پر رکھے جام کو پکڑ کر چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر وہ سوچ میں کھو گیا۔ ملکہ اس کے بولنے کی منتظر تھی۔ خاموشی طول کھینچنے لگی تو گلا کھنکارتے ہوئے وہ دھیمے لہجے میں مستفسر ہوئی۔
”کنیز ایک مشورہ دینے کی جسارت کر سکتی ہے۔“
”ہونہہ….“خالی جام کنیز کی طرف بڑھاتے ہوئے وہ ملکہ کی جانب متوجہ ہوا۔
”سکندر جیسے وفادار اور عقل مند ساتھی کے ہوتے ہوئے شہنشاہ معظم کا خود دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لیے جانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔“یقینا سابور اپنے ارادے سے اسے پہلے سے باخبر کر چکا تھا۔
سابور نے نفی میں سر ہلایا۔ ”شاید مجھے سکندر بھی مطمئن نہ کر سکے۔ اس لیے وقت ضایع کرنے کے بجائے مجھے خود جانا ہو گا۔“
”حضور….“ملکہ نے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولنا چاہا ،مگر بادشاہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے بات مکمل نہ کرنے دی۔ وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
(سابو ر نے حضر نامی شہر کا محاصرہ کیااور مسلسل چار سال اس قلعے کو گھیرے رکھا مگر کامیابی کی کوئی سبیل نظر نہ آئی۔ اس شہر پر فیزن نامی شخص حاکم تھا (اس کانام ساطرون بھی لکھا گیا ہے )اس کی لڑکی فیزن کو ماہواری ہوئی تو اسے شہر سے دور نکال دیا گیا۔ کیوں کہ یہ اس وقت کا رواج تھا کہ حیض والی عورت کو ایام کے عرصہ میں شہر سے دور نکال دیا جاتا۔ فیزن اس زمانہ کی خوب صورت ترین لڑکی تھی۔ سابور بھی مردانہ حسن کا شاہ کار تھا۔ وہ اکیلا اپنے لشکر سے دور اس جانب آیا ہوا تھا۔ نفیرہ کو دیکھ کر حیران ہو گیا دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں اور ایک دوسرے پر لٹو ہو گئے۔ جب لڑکی کو پتا چلا کہ سابور بادشاہ ہے تو اس نے کہا۔ ” اگر میں ایسی ترکیب بتاﺅں کہ تم قلعہ فتح کر لو تو کیا انعام دو گے۔“
سابور نے کہا۔ ”میں تم سے بیاہ کروں گا اور تمھیں اپنی تمام بیویوں میں اعلیٰ مقام دوں گا۔“
اس پر نفیرہ نے کہا۔ ” ٹھیک ہے میں واپس جا کر دروازے پر متعین محافظوں کو شراب پلا کر غافل کر دوں گی۔ اور دورازہ کھول دوں گی تم اپنی افواج کے ساتھ شب خون مار کر قلعہ پر قبضہ کر لینا۔“
سابور نے اس ترکیب پر عمل کیا اور قلعہ فتح ہو گیا۔ سابور نے حضر کی آبادی کو فنا کر دیا۔ نفیرہ کے باپ کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ نفیرہ کو لے کر اپنے علاقے میں پہنچا اور شادی کر لی۔ شبِ زفاف نفیرہ کو سابور کے ریشم کے بستر پر بھی نیند نہ آئی اور وہ بے چینی سے کروٹیں تبدیل کرتی رہی۔ صبح جب سابور نے جائزہ لیا تو کاغذ کا ایک ٹکڑا اس کے پیٹ سے لگا ہوا تھا جس کے نشان اس کے پیٹ پر پڑے تھے۔ اور اس کی وجہ سے وہ رات بھر بے چین رہی تھی۔ وہ نہایت نرم ونازک اور خوب صورت تھی۔ سابور نے حیرانی سے پوچھا۔ ”تیرا ناس ہو کون سی چیز تمھیں والد کھلاتا تھا۔“
نفیرہ نے فخر سے کہا۔ ”مغز، مکھن، شہد، خالص شراب وغیرہ میری خوراک تھی۔“
یہ سن کر سابور نے کہا۔ ”جب تم اتنی محبت کرنے والے اور خیال رکھنے والے باپ کی نہ ہو سکیں تو مجھ سے کیا وفا کرو گی۔“ یہ کہہ کر اس نے ایک تیز رفتار گھڑ سوار کو حکم دیا کہ نفیرہ کی چوٹیاں گھوڑے کی دم سے باندھ کر گھوڑے کو دوڑائے۔ ایسا ہی کیا گیا اور بدبخت نفیرہ کے ٹکڑے ہو گئے۔ یہاں پرکچھ تاریخ دانوں کویہ مغالطہ لگا کہ انھوں نے اس واقعہ کو سابور ذوالاکتاف سے جوڑ دیا۔ حالانکہ یہ سابوراول یعنی سابور بن اردشیرکے ساتھ پیش آیا تھا۔ سابور ذوالکتاف جسے سابور ثانی بھی کہتے ہیں اس کے بعد بادشاہ ہوا۔ سابور ذوالاکتاف ملوک اردشیربابکاں کا نواں بادشاہ ہے )

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: