Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 50

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 50

–**–**–

”ملکان اور امریل کو تیار ہونے کابتا دو۔ ملکہ قُتیلہ ابھی بنو جساسہ کا رخ کرنا چاہتی ہے۔“
رغال نے پریشانی ظاہر کی۔”پورے قبیلے کے خلاف صرف دوسوار ساتھ لے جاﺅ گی۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”ہاں ،ملکہ قُتیلہ حملہ کرنے نہیں جارہی اپنے باپ کے قتل کا حساب لینے جا رہی ہے۔“
رغال نے نفی میں سرہلایا۔”مجھے نہیں لگتا کہ ملکہ قُتیلہ کا یہ فعل مناسب ہے۔“
”چچا رغال ،ملکہ قُتیلہ نے مشورہ سن لیا ہے۔عمل کرنے نہ کرنے کا فیصلہ ملکہ قُتیلہ خود کرتی ہے۔“اس نے ازلی ہٹ دھری سے کام لیا۔
رغال برا منائے بغیر بولا۔”میں بھی ساتھ چلوں گا۔“اور قُتیلہ نے کچھ کہے بغیر اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
٭٭٭
طلوع آفتاب کے وقت پانچ سوار بنو جساسہ کی حدود میں داخل ہوئے۔موسم نے تبدیلی کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔گرمیاں بوریا بستر سمیٹنے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔سب سے آگے قُتیلہ کی ابلق گھوڑی تھی۔اس کے ہمراہ ملکان اور امریل کے علاوہ رغال اور غبشان بھی تھے۔سب سے پہلے ان پر حکیم قنعب کی نظر پڑی تھی۔
”ہمیں سرداریشکر بن شریک سے ملنا ہے؟“اس کی سوالیہ نظروں کا جواب ملکان نے دیا تھا۔
حکیم قنعب انھیں مشکوک نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔”یشکر تو کب کا فرار ہوچکا ہے۔اور قبیلے کا سردار شریم بن ثمامہ ہے۔“
قُتیلہ نے چہرے پر لپٹا لِثام(ڈھاٹایعنی ناک اور منھ کے گرد لپیٹا جانے والا کپڑا) کھولتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔”ڈرنے کی ضرورت نہیں ہمارا تعلق بنونوفل سے نہیں ہے۔جا کر اپنے بزدل سردار کو بتاﺅ کہ بنو نسرو بنو طرید کی سردارن ملکہ قُتیلہ اپنے باپ کے خون کا مقدمہ لے کر آئی ہوئی ہے۔“
قُتیلہ کے چہرے پرنظر پڑتے ہی لمحہ بھر کے لیے قنعب کا منھ حیرت سے کھل گیا تھا۔بڑی۔ مشکل سے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے بولا۔” تمھارے نام سے واقف ہوں سردارزادی ،آئیں میرے ساتھ۔“
اس کی رہنمائی میں وہ بنو جساسہ کے نئے سردار یشکر بن شریک کی حویلی کے سامنے پہنچے۔دستک کے جواب میں شریم دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا۔
یہ حویلی یشکرکے باپ شریک کی تھی جو یشکر کی سرداری کے اعلان کے ساتھ شریم نے اس کے حوالے کر دی تھی۔حویلی میں ایک دو حجرے ہی استعمال کے قابل تھے باقیوں کی چھتیں اور دروازے وغیرہ جلے ہوئے تھے۔اور یشکر زور و شور سے ان کی تعمیر نومیں مصروف تھا۔بادیہ کے بھائی اور شریم وغیرہ بھی اس کی مدد کر رہے تھے۔دستک کی آواز پر بادیہ فوراََ حجرے میں گھس گئی تھی کہ انھیں ہر وقت بنو نوفل کے سواروں کی آمد کا خطرہ رہتا تھا۔یشکر بھی وہیں ٹھہر گیا کہ وہ بھی اجنبیوں کے سامنے آنے سے گریز کرتا تھا۔
قنعب ،آنے والوں کا تعارف کرانے لگا۔جبکہ شریم کی آنکھیں حیرانی سے قُتیلہ کو گھور رہی تھیں۔جو بالکل اس کی بھتیجی جیسی لگ رہی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ، یشکر سے حساب بے باق کرنے آئی ہے۔“قنعب کی بات پوری ہونے سے پہلے قُتیلہ نے آمد کے مقصد سے پردہ اٹھایا۔
یشکر شاید دروازے کے قریب ہی موجود تھا۔ قُتیلہ کی آواز سنتے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ شناسا صورتوں کو دیکھتے ہی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔
”دوستو،تم صحیح جگہ پہنچے ہو اب نیچے اتر آﺅ۔“
قُتیلہ زہر خند لہجے میں بولی۔”فارسی غلام،تلوار سنبھال لو ،ملکہ قُتیلہ باپ کے قتل کا حساب لینے آئی ہے۔“
یشکر متبسم ہوا۔”تم بنو جساسہ کے سردار سے مخاطب ہو لڑکی۔اور میں نے تمھارے باپ کو قتل نہیں کیا، اپنے باپ کے بے گنا ہ قتل کا حساب لیا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کو بھی اپنے باپ کے قتل کا حساب لینے کااختیار ہے یا صرف بنو جساسہ کے سردار ہی کو بدلہ لینا جائزتھا۔“قُتیلہ کی آواز کافی بلند تھی۔جسے سن کرمالک،مروان ،اغلب اور رشاقہ باہر آگئے تھے۔قُتیلہ کو دیکھتے ہی رشاقہ کی آنکھوں میں حیرانی کے ساتھ محبت کے جذبات چھلکنے لگے تھے۔
یشکر نے صلح کی طرف قدم بڑھائے۔”تمھارے باپ اور اربد بن قیس نے زیادتی کی تھی۔ میں نے صرف انھی کو قتل کیا۔ان کے علاوہ بنو نسر کے کسی فرد سے تعرض نہیں کیا اوراس کی گواہی تمھارے پہلو میں بیٹھا شریف آدمی بھی دے گا۔“یشکر کا اشارہ رغال بن ذواب کی طرف تھا۔
وہ منھ بگاڑ کر بولی۔”تلوار سونت لو فارسی غلام،ملکہ قُتیلہ کے نزدیک تمھارے فضول الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے۔“
رشاقہ ایک قدم آگے لے کر لجاجت سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ،ہم صلح کی بات کر سکتے ہیں۔“
”دو سرداروں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کسی تیسرے کو بولنے کی جرّات نہیں کرنا چاہیے۔“قُتیلہ نے اجنبیت بھرے لہجے میں اسے ڈانٹا۔
اغلب ،بادیہ کو بلا لایا تھا۔جوں ہی وہ دروازے سے باہر نکلی قُتیلہ کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔مگر منھ سے کچھ کہے بنا وہ خاموش رہی تھی۔بادیہ بھی حیرت بھری نظروں سے چھریرے بدن کی اس لڑکی کے بے خوف چہرے کو دیکھ رہی تھی۔یوںجیسے آئینہ دیکھ رہی ہو۔
شریم نے زبان کھولی۔”سردارزادی ،صلح کی بات چیت دونوں قبیلوں کے لیے بہتر رہے گی۔“
”ملکہ قُتیلہ کے لیے یہ تصور ہی ناقابل برداشت ہے کہ فارس میں غلام کی حیثیت سے پلنے والا ایک شخص جبلہ بن کنانہ پر تلوار سونتنے کی ہمت کرے۔“
یشکر طنزیہ انداز میں بولا۔”یہ وہی جبلہ بن کنانہ ہے جس کے گلے کو بیٹی ہونے کے باوجود تمھاری تلوارکی دھار نے بوسا دیا تھا۔“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”ہاں مگر ملکہ قُتیلہ کسی اور کو یہ اجازت نہیں دے سکتی۔“
یشکر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔”میرا مشورہ تو یہی ہے کہ کچھ دن دو قبیلوں کی سرداری سے لطف اندوز ہو لو۔“
وہ منھ بگاڑتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ پیدا ہونے کے ساتھ ہی سرداری کی اہل تھی اور کافی عرصے سے سردارن کی زندگی گزار رہی ہے۔البتہ تمھیں چند دن ہوئے ہیں غلامی کی ذلت سے سردار بنے ہوئے۔یقینا تم مرنے سے ڈرتے ہو۔“
”قُتیلہ بنت جبلہ ،اب کسی بھول میں نہ رہنا۔یقیناتمھیں میری سردارزادی نظر آگئی ہو گی۔“یشکر نے پہلو میں کھڑی بادیہ کی طرف اشارہ کیا۔
”تم ملکہ قُتیلہ کا وقت ضائع کر رہے ہو۔“نیچے چھلانگ لگاتے ہوئے اس نے تلواربے نیام کی۔
یشکر رشاقہ کو مخاطب ہوا۔”صاعقہ لے آﺅ۔“
رشاقہ لجاجت سے بولی۔”سردار ،صلح کی بات چیت ہی مناسب رہے گی۔“
”اغلب میری تلوار اٹھا کر لے آﺅ۔“رشاقہ کے ساتھ تکرار کے بجائے وہ چچا زادبھائی کو مخاطب ہوا۔
”جی سردار۔“کہہ کر وہ اندر گھس گیا تھا۔
سردار شریک کی حویلی کے دروازے پر ایک چبوترا بنا تھااور سامنے کافی کھلی جگہ تھی جہاں قبیلے کے لوگ جانور وغیرہ کی قربانی کیا کرتے،کسی تہوار پر اکھٹے ہوکر جشن منایاکرتے یا سردار نے تمام قبیلے کو اکھٹا کر کے کوئی پیغام دینا ہوتا تو لوگ اسی جگہ جمع ہوتے تھے۔اور اب وہاں قُتیلہ اور یشکر کا ٹاکرا ہونے والا تھا۔
اغلب نے میان میں لپٹی تلوار یشکر کو لا کر پکڑوا دی۔یشکر تلوار بے نیام کر کے نیام کو ڈھال کی شکل میں ہاتھ پر لپیٹنے لگا۔
قُتیلہ نے پیٹھ پر لٹکا ترکش اور کمان اتار کر امریل کے حوالے کردیا۔اپنی ڈھال بھی امریل کو دے کر اس نے امریل کی تلوار اپنے بائیں ہاتھ میں تھام لی تھی۔قریباََہر اچھا شمشیر زن دونوں ہاتھوں سے تلوار چلا سکتا ہے۔اور قُتیلہ کی مہارت میں کس کو شبہ ہو سکتا تھا۔
ان کی گفتگو کے دوران بنو جساسہ کے اکثر لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔لڑائی کی ابتداءقُتیلہ نے کی تھی۔دونوں تلواروں کویکساں مہارت سے گھماتے ہوئے وہ یشکر پر حملہ آور ہوئی۔اس کے بائیں ہاتھ میں پکڑی تلوار کے سامنے ڈھال پکڑ کر اس نے دوسری تلوار کے سامنے صاعقہ پکڑی۔زوردار ”چھن چھناہٹ “ابھری۔قُتیلہ تلواریں پیچھے کھینچ کر دوبارہ حملہ آور ہوئی۔اس کے حملوں میں بہت تیزی تھی۔لیکن سامنے یشکر تھا۔وہ دفاعی انداز میں اس کا ہر وار ناکام کرتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قُتیلہ کے حملوں میں تیزی آتی گئی وہ ہر قیمت پر یشکر کو نشانہ بنانے کی کوشش میں تھی۔یشکر اس کا کوئی وار ڈھال پر روکتا ،کسی کے سامنے صاعقہ کو کرتا اور کبھی دائیں ،بائیں ،پیچھے و نیچے جھک کر اس کے وار کو ناکام بناتا۔دفاع کے ساتھ ساتھ وہ حملے بھی کر رہا تھا۔
دھوپ کی شدت میں تیزی آتی جا رہی تھی۔فضا میں پھیلی ہلکی خنکی ہوا بن کر اڑ گئی تھی۔اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے دونوں کی کوششوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔تلواروں کے ساتھ وہ اپنی ٹانگوں سے بھی ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے تھے۔اسی اثناءمیں صاعقہ کا ایک زوردار وار تلوار پر روکنے کی کوشش میں امریل والی تلوار دوٹکڑے ہو گئی تھی۔ٹوٹی ہوئی تلوار کو پھینک کر قُتیلہ نے یشکر کے دو تین وار اکیلی تلوار پر روکے اور ایک دم جھکائی دے کر اس سے دور ہوتے ہوئے ملکان کو تلوار پھینکنے کا اشارہ کیا۔یشکر نے رک کر اسے تلوار پکڑنے کا موقع فراہم کیاکہ دوران مقابلہ ہتھیار ناکارہ ہونے کی صورت میں صاحبِ ہتھیاردوسرا ہتھیار لینے کا مجاز تھا۔
ملکان نے فوراََ اپنی تلوار مخصوص انداز میں اس کی جانب اچھالی۔تلوار کو ہوا ہی میں تھامتے ہوئے وہ دوبارہ یشکر سے الجھ گئی۔دیکھنے والے سانس روکے مقابلہ دیکھ رہے تھے۔بنو جساسہ کے افراد یشکر کی شمشیر زنی سے واقف تھے۔اور قُتیلہ کی مہارت انھیں ششدر کیے ہوئے تھی۔وہاں موجود لوگوں میں فقط رشاقہ ایسی تھی جسے دونوں کی ہار گوارا نہیں تھی۔اس کے علاوہ ہر آدمی کسی نہ کسی کی جیت کا خواہاں تھا۔
دونوں کے جسموں سے بہنے والے پسینے سے ان کے لباس گیلے ہو گئے تھے۔لیکن نہ تو وہ تھکنے پر آمادہ تھے اور نہ لڑائی روکنے پرتیار۔اچانک قُتیلہ کی زوردار لات یشکر کے پیٹ میں لگی۔کولہوں کے بل نیچے گرتے ہوئے اس نے مسلسل دوالٹی قلابازیاں کھائیں اور کھڑا ہوگیا۔قُتیلہ نے اس کے گرنے کی جگہ پر اندازے سے تلوار چلائی تھی مگر وہ اس کے وار سے دور ہو گیا تھا۔
قُتیلہ اس کی طرف بڑھی اور اسی وقت یشکر صاعقہ کو اپنے بدن کے گرد گھماتے ہوئے اس کے قریب ہوا،دونوں نے مسلسل چند وار ایک دوسرے پر کیے اسی دوران یشکر کی ٹانگ سرعت سے قُتیلہ کی چھاتی کی طرف بڑھی۔
ٹانگ لگتے ہی وہ اچھل کر نیچے جا گری تھی۔گرتے ساتھ اس نے دو تین کروٹیں لے کر یشکر سے فاصلہ بڑھایا،لیکن جونھی وہ اچھل کر کھڑی ہونے لگی ،یشکروہاں پہنچ گیا تھا۔ اس کی اگلی لات قُتیلہ کے پیٹ میں لگی۔وہ دوبارہ پیچھے گری اور الٹی قلابازی کھا کر سرعت سے اٹھی۔اس دوران یشکر تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔یشکر کی دھاتی ڈھال اس کے دائیں ہاتھ سے یوں ٹکرائی کہ اس کی تلوار چھوٹ کر دور جا گری۔قُتیلہ نے بائیں ہاتھ میں تھامی تلوار سے وار کرنا چاہا مگر ایک دم ڈھال کو پھینک کر یشکر نے اس کی بائیں کلائی تھامی اور صاعقہ کی نوک اس کے گلے سے لگا دی۔
”سردارزادی !….کسی معبود کو یاد کرنا ہے توجلدی کرو۔ میں تمھیں باپ کے پاس بھیجنے لگا ہوں۔“
”یشکر بیٹا نہیں ،میری زندگی نہ چھینو۔“عریسہ کی آواز نے یشکر کومتوجہ کیا۔نہ جانے وہ کس وقت وہاں پہنچی تھی۔
قُتیلہ کی آنکھیں عریسہ کی طرف اٹھیں اور پھر وہ یشکر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دانت پیستے ہوئے بولی۔
”فارسی غلام !….اب موقع ہے قُتیلہ کو قتل کر دو۔ ورنہ قُتیلہ بدلہ لینے دوبارہ تمھارے پیچھے آئے گی،آتی رہے گی یہاں تک کہ تمھیں موت آجائے۔“
یشکرنے استہزائی لہجے میں پوچھا۔”تم تو ملکہ قُتیلہ کہلانا پسند کرتی تھیں ناں۔“
وہ زہر خند لہجے میں بولی۔”قُتیلہ جلد ہی تمھاری گردن تلوار سے اتار کر دوبارہ ملکہ قُتیلہ ہو جائے گی۔“
”خوش قسمت ہو کہ میری ماں نے مجھے روک دیا ہے۔“تکرار کا اختتام کرتے ہوئے یشکر نے اس کی کلائی کو آزاد کیا۔اور ڈھال اٹھاکر اسے نیام کی شکل دینے لگا۔
عریسہ دونوں ہاتھ پھیلائے قُتیلہ کی طرف بڑھی۔”عریسہ کی جان۔“اس نے قُتیلہ کو اپنی پر شفقت آغوش میں لے لیا تھا۔”میری آنکھیں تو پتھر ہونے والی تھیں۔“
” قُتیلہ آپ کو لینے آئی ہے ماں جی۔“عریسہ کے ملنے پر اس نے وقتی طور پر شکست کا غم بھلا دیا تھا۔
عریسہ اس کے گالوں ،ماتھے ،آنکھوں ،بالوں پر بوسے دیتے ہوئے شفقت سے پر لہجے میں بولی۔”میں تمھیں کہیں جانے ہی نہیں دوں گی میری جان۔“ان کا جذباتی ملاپ جاری رہا۔
امریل غم میں ڈوبے لہجے میں ملکان کو مخاطب تھا۔”یقین نہیں آرہا مالکن ہار گئی ہے۔“
ملکان اطمینان سے بولا۔”میں پہلے سے جانتا تھا۔شاید ملکہ قُتیلہ کو بھی علم ہو۔“
امریل نے اسے خشمگیں نظروں سے گھورا۔”تمھارا مطلب ہے مالکن ہارنے کے لیے لڑی ہے۔“
ملکان صاف گوئی سے بولا۔”تم شاید یشکر سے یہ امید کیے بیٹھے تھے کہ وہ ملکہ قُتیلہ کو ہرائے گا نہیں۔“
امریل نے پوچھا۔”اگر مالکن کی ماں جی نہ آتی تو کیا یشکر اسے قتل کر دیتا۔“
ملکان ہنسا۔”انسان کبھی اپنے محبوب کو قتل نہیں کر سکتا۔اور یہ بات ملکہ قُتیلہ بھی اچھی طرح جانتی ہے تبھی تویشکر کے خلاف تلوار سونتنے میں سوچنے کی زحمت نہیں کرتی۔“
امریل فخریہ لہجے میں بولا۔”نہیں بلکہ مالکن مرنے سے نہیں ڈرتی۔“
”مجھے اس کی دلیری میں شبہ نہیں ہے۔لیکن دلیر ی اور حماقت میں فرق ہوتا ہے۔کبھی دیکھا ہے کہ دلیر آدمی خالی ہاتھ ابو الحارث(شیر) کے سامنے کھڑا ہو گیا ہو۔نہیں ناں ؟….وجہ یہ ہے کہ اسے دلیری نہیں خودکشی کہتے ہیں۔“
عریسہ اور قُتیلہ کا جذباتی ملاپ ختم ہوا۔شریم ان کے قریب آگیا تھا۔قُتیلہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ شفقت سے بولا۔” کافی تعریف سنی تھی،لیکن دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ تعریف کرنے والے بخل سے کام لیتے رہے ہیں۔“
قُتیلہ نے اندازے سے پوچھا۔”آپ شاید یشکر کے چچا جان ہیں۔“
”ہاں۔“شریم نے متبسم ہو کراثبات میں سر ہلایا۔”اور تمھاری ماں جی کا شوہر بھی ہوں۔تم مجھے باباجان کہہ سکتی ہو۔“
دُنبالہ آنکھوں میں تعجب کی لہریں جوار بھاٹے کی طرح بلند ہوئیں ، کالی سیاہ آنکھیں مجسم سوال ہو کر عریسہ کے چہرے پر جم گئی تھیں۔
عریسہ کی گردن خود ساختہ ندامت کے بوجھ سے جھک گئی تھیں۔
اس کی گلو گیر آواز ابھری۔”آپ نے بھی قُتیلہ کو چھوڑ دیا۔“
”ایسا ہوسکتا ہے بھلا۔“عریسہ تڑپ اٹھی تھی۔
اس نے آس بھرے لہجے میں پوچھا۔”قُتیلہ کے ساتھ چلو گی۔“
عریسہ نے لجاجت بھرے لہجے میں پوچھا۔”کیا تم میرے ساتھ نہیں رہو گی۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔”قُتیلہ کے کندھوں پر دو قبائل کی سرداری کا بار ہے ماں جی۔“
”کاش میں جا سکتی۔“عریسہ نے بے بسی ظاہر کی۔
”اپنا خیال رکھنا ماں جی۔“دُنبالہ آنکھوں میں ابھرتی نمی کو چھپانے کے لیے وہ ایک دم مڑی اور چھلانگ لگا کر ابلق پر بیٹھتے ہوئے ایڑھ لگا دی۔اس کے ساتھیوں نے بھی فوراََ سوار ہو کر اس کے پیچھے گھوڑے دوڑادیے تھے۔
عریسہ بہتی آنکھوں سے اسے دور جاتا دیکھتی رہی۔
٭٭٭
”بنو طرید جائیں گے ملکہ۔“ملکان گھوڑے کی رفتار بڑھاتا ہوااس کے پہلو میں پہنچا۔
وہ اسے مطلع کرتے ہوئے بولی۔”ملکان ،آج سے قُتیلہ، ملکہ نہیں رہی۔سردارن یا سردار زادی کہہ لیا کرو۔“
ملکان نے نفی میں سرہلایا۔”ہمارے لیے تو آپ ملکہ قُتیلہ ہی رہیں گی۔“
اس نے حتمی انداز میں کہا۔”جب تک قُتیلہ ،یشکر کا سر نہیں کاٹ دیتی ملکہ نہیں کہلوائے گی۔“
”بنو طرید جانا ہے۔“ملکان نے مزید تکرار سے گریز کیا تھا۔
”ہاں۔“اس نے اثبات میں سرہلادیا۔
چاند ربع ثانی میں تھا۔انھوں نے غروب آفتاب کے بعد بھی سفر جاری رکھا تھا۔راستے میں ایک جگہ رک کر اس نے گھوڑوں کو پانی پلانے کی اجازت دی تھی اور پھر چل پڑی۔ مسلسل تیز رفتاری سے گھوڑے دوڑاتے وہ اگلے دن سہ پہر کوبنو طرید پہنچ گئے تھے۔وہ شب بدر تھی اور اس شب وہ جشن مناتے تھے۔شام کے وقت وہ بنوطرید کے باسیوں کے سامنے چناﺅ پیش کر رہی تھی۔
”تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ قُتیلہ کا والد باقی نہیں رہا۔اور بنو نسر کی سردارن بننا قُتیلہ کی مجبوری ہے۔کیوں کہ قُتیلہ بنو نسر کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔اگر تم لوگ بنو نسر میں ضم ہونا چاہتے ہو تو قُتیلہ تمھیں خوش آمدید کہے گی اور اگر علاحدگی میں خوشی محسوس کرو تو اپنے لیے ایک سردار کا انتخاب کر لو،تمھارے سامنے منقر بن اسقح،ملکان بن نول اور اصرم بن خسار جیسے دانش مند اور ہوشیار افراد موجود ہیں۔“
امریل نے زبان کھولی۔”ہم بنو طرید سے پہلے ملکہ قُتیلہ سے واقف ہوئے ہیں اور ہم ملکہ قُتیلہ ہی کو اپنی سردارن دیکھنا چاہتے ہیں۔“
”ہم امریل سے متفق ہیں۔“درجن بھر افراد بیک زبان بولے۔
تبھی منقر بن اسقح نے کہا۔”میں خود کو کسی قبیلے کی سرداری کے قابل نہیں سمجھتا۔میری حیثیت ایک مشیر سے بڑھ کر نہیں ہے۔اس لیے میں ملکہ قُتیلہ کے ساتھ رہنے میں خوشی محسوس کروں گا۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔”تمھاری سردارن، ایک فارسی غلام یشکربن شریک سے شکست کھا چکی ہے اس لیے ملکہ کہلانے کی حق دار نہیں رہی۔“
منقر نے کہا۔”کسی ایک شخص سے ہارنا آپ کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان نہیں بن سکتا۔آپ ہماری ملکہ ہیں اور رہیں گی۔“
”اگر آپ تمام قُتیلہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو بنو نسر کے استقبال کی تیاریاں شروع کر دیں۔قُتیلہ بنو نسر کو بھی یہیں لے آئے گی۔“
منقر اس کے قریب ہو کر لجاجت بھرے لہجے میں بولا۔”آپ کے منھ سے ملکہ قُتیلہ سننا ہمارے حوصلوں اور ہمت کو بڑھا دیتا ہے۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر خوب صورت تبسم ابھرا۔منقر کی درخواست کو قبولیت کی سند عطا کرتے ہوئے وہ تمام کو مخاطب ہوئی۔”کیا تم لوگ ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہو؟“
”ہاں ….ہم ملکہ قُتیلہ کے ساتھ ہیں۔“مردوزن بیک آواز بولے تھے۔
منقر نے دوبارہ کہا۔”ایک اور درخواست بھی ہے ملکہ۔“
سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے اس نے منقر کو بات پوری کرنے کا اشارہ کیا۔
”بنو نسر کو آپ یہاں ضرور لائیں ،مگر دونوں قبیلوں کو علاحدہ علاحدہ رکھیں۔بے شک بنو طرید کی بنا آپ نے جس طرح ڈالی ہے ہم ہر کسی کے ساتھ ضم ہو سکتے ہیںلیکن بنو نسر والے شاید ہمیں وہ مقام دینے پر رضامند نہ ہوں جو بنو نسر کے آزاد باسی کا ہوگا۔“
”ملکہ قُتیلہ تمھاری سمجھ داری کی شروع سے قائل ہے منقر۔“اپنی رضامندی کا اعلان کرتے ہوئے اس نے ہاتھ سے جشن شروع کرنے کا اشارہ کیااور تمام بھنے ہوئے دنبوں وبکروں پر پل پڑے۔ساتھ ہی شراب کے مٹکوں کے منھ کھل گئے تھے۔
٭٭٭
بڑی مشکل سے یشکر اور بادیہ نے عریسہ کی ڈھارس بندھائی تھی۔ قُتیلہ کا خفا ہو کر جانا اس کے لیے ازحد تکلیف دہ تھا۔اس کا دل دو حصوں میں بٹ گیا تھا۔اگر قُتیلہ کے مقابل صرف یشکر یا شریم ہوتا تو وہ یقینا اس کے ساتھ چل دی ہوتی۔لیکن یہاں تو یشکر ،شریم ،بادیہ اور آبائی قبیلہ بنو جساسہ اس کے پاﺅں کی بیڑیاں بن گئے تھے۔اس کے باوجود قُتیلہ کی جدائی اسے بے حال کیے ہوئے تھی۔
قُتیلہ کے جانے کے بعد یشکر اور بادیہ مسلسل اس کی دل جوئی میں لگے رہے۔رشاقہ بھی عریسہ کے غم میں برابر کی شریک تھی کہ اس کی ملکہ بھی تو خفا تھی۔
اگلے چند دنوں میں عریسہ کی بے چینی اور بے قراری میں کافی فرق پڑگیا تھا۔
یشکر مسلسل اپنی حویلی کی تعمیر میں مصروف تھا۔دو تین ہفتے مسلسل کام کر کے اس نے حویلی کو پہلے کی طرح تو نہیں البتہ استعمال کے قابل بنا دیا تھا۔اور پھر ایک روزوہ چچا شریم،مالک،مروان،اغلب اور قبیلے کے چند دوسرے معزیزین کے ساتھ مشاورت کر رہا تھا۔
”بنو نوفل کا حساب کتاب رہتا ہے۔کب تک ہم قبیلے کے مقتولوں کی قبروں سے اسقونی اسقونی کی بلند ہوتی صدائیں سنتے رہیں گے۔“
شریم بے بسی سے بولا۔”بیٹا!….بنو نوفل پر حملہ کرنا بنو جساسہ کے بچے کچے قبیلے کو جڑ سے اکھیڑنا ہے۔“
یشکر بہ ظاہر شریم سے مستفسرہوا لیکن اس کا سوال سب کے لیے تھا۔”کیا ہمارے حلیف قبائل ساتھ نہیں دیں گے۔“
حکیم قنعب بن عبد شمس نے خیال ظاہر کیا۔”بنو جمل اوربنو دیل ہمارے ساتھ مل بھی جائیں تب بھی بنو نوفل کا مقابلہ کرنا ہمارے بس میں نہیں ہوگا۔اور یقینا ہمارے اجماع پر بنو نوفل کے حلیف قبائل بھی میدان میں آجائیں گے۔“
مروان نے پوچھا۔”ہمیں فارس سے مدد نہیں مل سکتی۔“
یشکر نے نفی میں سرہلاتے ہوئے حقیقت پر روشنی ڈالی۔”شہنشاہ فارس خود حالت جنگ میں ہے وہ کسی صورت ایک بے فائدہ جنگ میں اپنی سپاہ نہیں جھونکے گا۔خاص کر ایسی صورت میں کہ پہلے بھی عرب قبایل روم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر بادشاہ سلامت کی شکست کا باعث بن چکے ہیں۔باباجان زیادہ سے زیادہ سو دو سو سپاہی بھجوا سکتے تھے وہ بھی میری تلاش کی خاطر نہ کہ عرب قبائل سے جنگ چھیڑنے کے لیے۔اور سب سے بڑھ کر اگر میں نے فارس کا رخ کیا تو باباجان مجھے کسی صورت واپس نہیں آنے دیں گے۔انھوں نے مجھے سترہ سال تک اولاد کی طرح پالا ہے مجھ میں ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔“
مالک نے مشورہ دیا”ہم بنو اسد ،بنو نجار وغیرہ جیسے بڑے قبائل کے حلیف بن کر میدان جنگ سجا سکتے ہیں۔“
”مشکل ہے۔“شریم نے حقائق کا پٹارا کھولا۔”بنواسدکا سردارزادہ قداءبن عتیبہ اوربنو نجار کا سردارزادہ قطام بن دعد دونوں بادیہ کے متمنی تھے۔انھیں اپنی سبکی کہاں بھولی ہو گی۔باقی اس وقت کوئی بھی بڑا قبیلہ بہت کڑی شرائط اور معاوضا لے کر ہمیں حلیف بنانے کا خطرہ مول لے گا۔ایسی صورت میں بھی وہ صرف ہمارا بچاﺅ کرنے کا معاہدہ کریں گے بنو نوفل جیسے طاقت ور حلیف کے خلاف ہمارے پہلو سے پہلو نہیں ملائیں گے۔“
بلتعہ بن قنعب نے کہا۔”دبا کے جہازراں ،مخنف بن فدیک کے پاس ہمارے۰۵جوان قید ہیں۔اگر ہم مل کر اتنا معاوضا اکٹھا کریں جو انھیں رہا کرانے کے لیے مخنف ہم سے قبول کر لے تو یقیناہم اپنی قوت کافی بہتر کر سکتے ہیں۔مروان اور اغلب پہلے بھی وہاں جا چکے ہیں اور راستے سے واقف ہیں۔اسی طرح بنو ناجیہ اور یمامہ میں بھی ہمارے کافی جوان غلاموں کی زندگی گزار رہے ہیں۔“
شریم نے نفی میں سرہلا کر اس کی تجویز کو رد کیا۔”پچاس افراد کی رہائی کا معاوضا اتنا کم نہیں ہے کہ بنو جساسہ کے لٹے پٹے باسیوں سے جمع کیا جا سکے۔اور بالفرض ہم تھوڑا بہت اکٹھا کر بھی لیں تو مخنف بن فدیک جیسے دولت مند اور ظالم سے کب یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ معاوضا لے کر ہمارے آدمیوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔“
یشکر نے کہا۔”میں اغلب اور مروان بھائی سے تفصیل معلوم کر چکا ہوں۔میرا خیال ہے دبا جا کر ایک کوشش کی جا سکتی ہے۔“
شریم نے استہزائی انداز میں پوچھا۔”کون جائے گا؟“
یشکر عزم سے بولا۔”بنو جساسہ کے باسی ،سردارقبیلہ کی ذمہ داری میں آتے ہیں۔“
شریم حتمی لہجے میں بولا۔”میں تمھیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔“
”ایسا کر کے آپ غلطی کر یں گے باباجان۔“یشکر انھیں سمجھاتے ہوئے بولا۔”بنو جساسہ میں میرا موجود رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔کب تک میں بنو نوفل سے چھپ کر چاردیواری میں گھسا رہوں گا۔سردارزادی بادیہ عورت ہے اس کے لیے چاردیواری کا سہارا لینا آسان ہے۔اورسردارِ قبیلہ کے لیے یہ ایک طعنہ ہے۔“
حکیم قنعب بن عبد شمس نے شریم کو ٹوکا۔”سردار صحیح کہہ رہا ہے شریم۔“
لمحہ بھر سوچنے کے بعد شریم نے پوچھا۔”کتنے آدمی ساتھ لے کر جاﺅ گے۔“
”صرف اغلب کافی رہے گا۔“
شریم نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا۔”تم دو آدمی مخنف کے درجنوں تربیت یافتہ آدمیوں کا مقابلہ کیسے کرو گے؟“
یشکر اطمینان سے بولا۔”یہ میرا درد سر ہے ،اہورمزدا نے چاہا تو ناکام نہیں لوٹوں گا۔“
حکیم قنعب نے مشورہ دیا۔”سردارتمھیں اپنے جیسا ماہر شمشیر زن ساتھ لے جانا چاہیے۔“
یشکر لمحہ بھر سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد بولا۔”ایک شخص میری نظر میں ہے اور میرا احسان مند بھی ہے۔بس ایک گھمنڈی سردارزادی کو راضی کرنا پڑے گا۔اور امید ہے میں ایساکر لوں گا۔“
شریم استہزائی لہجے میں بولا۔”غالباََتم سردارزادی قُتیلہ کا ذکر کر رہے ہو۔ایک ایسی لڑکی جو باپ کے قتل کا بدلہ لینے تمھارے پیچھے پہنچ گئی تھی۔“
یشکر نے جواب دیا۔”وہ صرف ہمارے درمیان مکمل نہ ہوسکنے والے مقابلے کا انجام دیکھنے آئی تھی۔اس کے علاوہ اس کا مطمح نظر اماں جان کا حصول تھا۔“
شریم نے نفی میں سرہلایا۔” میں اتفاق نہیں کر تا۔تمھارا بنو نسر کا رخ کرنا ایک نئی جنگ چھیڑنے کے مترادف ہے۔بنو جساسہ پہلے ہی اتنی مشکلات میں گھرا ہے نئے دشمن کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔“
”وہ زیادہ سے زیادہ مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہے۔بنو جساسہ کے خلاف وہ کبھی بھی قدم نہیں اٹھائے گی۔کیوں کہ دنیا میں کسی سے محبت کرتی ہے تو وہ ماں جی ہیں۔اور انھیں دکھ دینے کے بارے وہ سوچ بھی نہیں سکتی۔“
شریم معترض ہوا۔”تمھاری جان کم قیمتی ہے۔“
یشکر سرعت سے بولا۔”میں نے امکانی بات کی ہے۔ورنہ مجھے مکمل یقین ہے کہ اگر ہمارے درمیان ہونے والے مقابلے میں اسے فتح ہوئی ہوتی تب بھی صورت حال اس سے مختلف نہ ہوتی۔وہ میری جان کے درپے نہیں ہے۔ایسا ہوتا تو بنو جساسہ دو تین سواروں کے بجائے دو قبیلوں کو ساتھ لے کر حملہ آور ہوئی ہوتی۔“
”پہلے والی باتیں بھول جاﺅ،اب تم تین بہنوں کے بھائی ،دو بیوں کے شوہر،ایک ماں اور ایک باپ کے بیٹے،بنو جساسہ کے سرداراوراہل بنو جساسہ کی واحد امید ہو۔“
یشکر انھیں تسلی دیتا ہوا بولا۔”وہ بے رحم،گھمنڈی،بڑبولی سب کچھ ہو سکتی ہے کم ظرف اورناانصاف نہیں ہے۔“
مالک بن شیبہ ،یشکر کی تائید کرتے ہوئے بولا۔”اس کے علاوہ ہمارے پاس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا چناﺅ باقی رہ جاتا ہے۔“
شریم نے قنعب بن عبد شمس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔وہ پھیکے لہجے میں بولا۔
”سردار یشکر بن شریک ہم سے زیادہ سردارزادی قُتیلہ سے واقف ہے۔میرا خیال ہے جوان سردار کوکوشش کرنے سے روکنا دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔“
مشاورت کے سب سے بوڑھے اور تجربہ کار رکن کا مشورہ سن کر شریم نے بے بسی سے ہتھیار پھینک دیے تھے۔
جاری ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: