Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 51

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 51

–**–**–

رات کو بادیہ اس کے بازو پر سر رکھے شکوہ کناں تھی۔”میں سیر ہو کر دیکھ بھی نہیں سکی اور آپ دوبارہ جانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔“
وہ اسے بہلاتا ہوابولا۔”اپنی سردارزادی سے دور جانا کب آسان ہے۔لیکن مجبوری بھی دیکھی جاتی ہے۔“
”وہ مغرور سردار زادی آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔“بادیہ نے تشویش ظاہر کی۔
وہ کھل کھلا کے ہنسا۔”تمھارا یشکر موم کا پتلا ہے نا جو ایک لڑکی کے ہاتھوں مار کھا جائے گا۔“
بادیہ نے خوف سے جھرجھری لی۔”میں نے اسے لڑتے ہوئے دیکھا تھا۔اتنی تیزی سے تو وہ منحوس سردار خصرامہ بن قلاص بھی حملہ آور نہیں ہوتا تھا۔پتا نہیں لڑکی ہو کر بھی اس کے جسم میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی۔“
”ہارا کون؟“یشکر نے اس کی ٹھوڑی سے پکڑ کر ہلایا۔
بادیہ شرارت سے ہنسی۔”مجھے تو لگتا ہے وہ جان بوجھ کر ہاری ہے۔“
یشکر نے اس کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔”اس میں ایک چیز بہت اچھی ہے۔“
بادیہ نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔”جانتی ہوں۔“
”کیا؟“کہنی کے بل لیٹتے ہوئے یشکر نے اس کے موہنے چہرے پر نگاہیں دوڑائیں۔
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”یہی کہ میری ہم شکل ہے۔“
یشکر ملتجی ہوا۔”تم بھی آنکھوں میں اسی کی طرح سرمہ لگایا کرو ناں۔“
”تو اس کی آنکھیں مجھ سے بھی اچھی لگتی ہیں۔“خفگی ظاہر کرتے ہوئے بادیہ نے رخ موڑنے کی کوشش کی۔
”کیا یہ ممکن ہے۔“یشکر نے اس کی کوشش ناکام کرتے ہوئے سیاہ آنکھوں میں جھانکا جو چراغ کی روشنی میں مزید سیاہ نظر آرہی تھیں۔
”کبھی بھی نہیں۔“اطمینان بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے بادیہ نے اس کی جانب کروٹ لی اور اس کی چوڑی چھاتی میں چہرہ گھسیڑ دیا۔
اگلے دن رشاقہ اس کے ساتھ جانے پر بہ ضد ہوئی۔
یشکر نے انکار میں سرہلایا۔”یہاں پر تمھاری زیادہ ضروت ہے۔بادیہ کا تم سے زیادہ خیال اور کوئی نہیں رکھ سکتا۔“
رشاقہ ملتجی ہوئی۔”آپ نے امریل کو ساتھ لے کر جانا ہے نا ،آپ کی واپسی تک میں ملکہ قُتیلہ کے پاس رہوں گی۔امید ہے انھیں منا لوں گی۔“
یشکر ہنسا۔”سردارزادی بادیہ کی شکل و صورت بھی قُتیلہ جیسی ہے۔تم اسی کو اپنی ملکہ سمجھ لو۔“
”نہیں ناں۔“رشاقہ نے خفگی ظاہر کی۔
یشکر نے اسے اپنی طرف کھینچا۔”رشاقہ ضد نہیں کرتے ،تمھارا مرنا جینا اب بنو جساسہ کے ساتھ ہے۔اور یہاں اچھے جنگجوﺅں کی ضرورت ہے۔میں نے باباجان کو بتا دیا ہے ،کل سے ایسے تمام افراد جو شمشیرزنی نہیں جانتے ان کی تربیت شروع ہو جائے گی۔ایسے حالات میں بنت زیادہ بن تابوت کی ضرورت یہاں زیادہ ہوگی یا بنو طرید میں۔تم بنو جساسہ کی لڑکیوں کو شمشیر زنی سکھاﺅ گی۔خاص کر بادیہ ،وتینہ اور سلمیٰ کو۔“
رشاقہ بادل نخواستہ راضی ہوتے ہوئے بولی۔” آپ ان کا دل میری طرف سے صاف کرنے کی کوشش کریں گے۔“
یشکر مزاحیہ لہجے میں بولا۔”میں کوشش کروں گا کہ اسے تمھاری سوکن بناکر ساتھ لے آﺅں، پھر ساری عمر اسے راضی کرتے رہنا۔“
”بہت آسان ہے ناں۔“رشاقہ نے منھ بناتے ہوئے یشکر کی پیش قدمی کا بھرپور طریقے سے ساتھ دینے لگی۔
اس سے الوداع ہو کر یشکر باقی تمام سے ملا آخر میں وہ بادیہ سے مل رہا تھا جو سیاہ آنکھوں کو نم آلود ہونے سے بچانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔حیران کن بات یہ تھی کہ اس نے اپنی آنکھوں کو قُتیلہ کی طرح دُنبالہ کیا ہوا تھا۔
یشکر ہنسا۔”ایسی آنکھوں میں نمی اچھی نہیں لگتی۔سردارزادی قُتیلہ کی طرح دنبالہ آنکھیں کرنے کا اسی لیے کہا تھا کہ ان پیاری آنکھوں میں نمی نظر نہ آئے۔کیوں کہ وہ کم بخت رونا تو درکنار ایسی کوشش بھی نہیں کرتی۔“
بادیہ اس کی چھاتی پر سر رکھ کر سسکی۔”اور میں کوشش توکرتی ہوں مگر آنکھیں میرا ساتھ ہی نہیں دیتیں۔پتا نہیں کہاں سے اتنا پانی آجاتاہے جو بہاتے بہاتے تھک جاتی ہوں مگر ختم نہیں کر پاتی۔“
یشکر نے اس کے سیاہ گیسوﺅں کو چوما۔”اب تو میں لوٹ آیا ہوں ناں ،پھر رونا کیسا؟“
وہ شاکی ہوئی۔”غالباََ آپ رخصت لینے آئے تھے۔“
یشکر کھل کھلا کر ہنسا۔”ہاں مگر عارضی۔جلد ہی میں اپنی سردار زادی کے پاس ہوں گا۔“
بادیہ نے منھ بسورا۔”میرے انتظار کو اتنا طول مت دینا کہ مجھے خود آپ کی تلاش میں نکلنا پڑجائے۔“
”ایسا کہو گی تو کام ادھورا چھوڑ کر واپس بھاگ آﺅں گا۔“
بادیہ نے اپنی ترجیحات کا اعلان کیا۔”آپ کے خیریت سے لوٹ آنے کی خوشی ہر غم کا مداوا کر دے گی۔“
”میرے لیے اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔“اس کی گرفت سے نکل کر وہ لمبے ڈگ بھرتاباہر نکل گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ مشکی پر سوار اغلب اور مروان کو ساتھ لیے بنو نسر کا رخ کر رہا تھا۔ان دونوں نے اسے وہاں پہنچا کر واپس لوٹنا تھا۔شریم نہیں چاہتا تھا کہ بنو نسر میں یشکرکو کوئی حادثہ پیش آجاتا اور وہ سمجھتے رہتے کہ یشکر دبا گیا ہوا ہے۔
٭٭٭
بنو نسر میں داخل ہوتے ہی قُتیلہ سب سے پہلے اپنی ماں کے خیمے کی طرف بڑھی۔جندلہ نے اسے دیکھتے ہی منھ پھیر لیا تھا۔اس کے چھوٹے بھائی طرفہ بن جبلہ اورسامہ بن جبلہ اسے دیکھ کر گھبرا گئے تھے۔
”تم اپنی باجی ملکہ قُتیلہ سے ڈر رہے ہو۔“سب سے چھوٹے سامہ کے سامنے گھٹنوں کے بل پر بیٹھتے ہوئے قُتیلہ نے اسے چھاتی سے لگا لیا۔
طرفہ ہمت مجتمع کرتے ہوئے بولا۔”ابا جان کہتے تھے آپ ہمیں قتل کر دیں گی۔“
”ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔“قُتیلہ نے اسے بھی قریب کھینچ کر بازوﺅں میں بھرلیا تھا۔”ملکہ قُتیلہ صرف تمھاری حفاظت کے لیے یہاں آئی ہے۔جب تم تلوار تھامنا سیکھ جاﺅ گے تب ملکہ قُتیلہ سرداری تمھارے حوالے کر کے بنو طرید لوٹ جائے گی۔“
طرفہ نے معصومیت سے پوچھا۔”آپ سچ کہہ رہی ہیں۔“
وہ خفیف ہوتے ہوئے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو جھوٹ بولنے سے نفرت ہے۔“
دونوں بھائی شفقت بھرا لہجہ سن کر اس سے لپٹ گئے تھے۔
تھوڑی دیر انھیں پیار کرنے کے بعد وہ ماں کی طرف بڑھی۔”آپ کی ناراضی بے جا ہے ماں جی۔“
جندلہ تلخی سے بولی۔”اپنے باپ کے گلے پر تلوار رکھنے والی کے ہونٹوں کو یہ الفاظ زیب نہیں دیتے۔“
وہ صفائی دیتے ہوئے بولی۔”پہل کس کی طرف سے ہوئی تھی۔انھوں نے ملکہ قُتیلہ کو مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ملکہ قُتیلہ نے صرف ان کی کمزوری جتائی تھی۔“
جندلہ دھاڑی۔”وہ باپ تھے تمھارے۔“
”تو باپ بن کر پیش آتے۔حربہ کیوں پھینکا،تلوار کیوں سونتی۔تھپڑ مارتے ،دھکے دے کر خیمے سے نکالتے ،برا بھلا کہتے اگر جواب دیتی تو ملکہ قُتیلہ قصور وار تھی۔آپ نے بھی تو ہاتھ اٹھایا تھا۔ ملکہ قُتیلہ نے ہاتھ پکڑنا تو کجا اپنا چہرہ بھی سامنے سے ہٹانے کی کوشش نہیں کی تھی۔“
”باپ کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔“جندلہ اس کی باتیں سن کر کچھ نرم پڑگی تھی۔
”اگر باپ کے حقوق کا خیال نہ ہوتا تو آج بنو نسر کی اطلال(خیموں کی بقایا جات ،چولھے اونٹ وبکریوں کی منگنیاں ،جلی ہوئی لکڑیاں وغیرہ )نظر آرہی ہوتیں۔ یہاں سے ملکہ قُتیلہ کو باندی بنا کر ایک دشمن سردار کو سونپا گیا تھا۔اس کے باوجود ملکہ قُتیلہ نے کبھی بنو نسر کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔اور بنو نسر سے کئی گنا بڑے قبیلے بنو احمر کو ایسے تباہ و برباد کیا ہے کہ آج ان کے خیموں میں صرف عورتوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں (یعنی کوئی مرد باقی نہیں رہا)ان کا اعلا نسب اور اکھڑ مزاج سردار اب ملکہ قُتیلہ کے سامنے سر جھکا کر معافی کی بھیک مانگتا ہے۔“
”یہاں کیوں آئی ہو؟“شایدجندلہ اس کی طرفہ اور سامہ کو دینے والی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔
”کیوں کہ بنو نسر کو ملکہ قُتیلہ کی ضرورت ہے۔ملکہ قُتیلہ کے بھائی فی الحال اس قابل نہیں ہیں کہ قبیلے کی سرداری کا بار اٹھا سکیں اور کسی دوسرے کو ملکہ قُتیلہ یہ اجازت نہیں دے گی کہ بنو نسر کی سرداری کا دعوے دار ہو۔“
جندلہ صاف گوئی سے بولی۔” کیسے یقین کروں جبکہ تمھاری والد کے ساتھ ہونے والی گفتگو میرے کان سن چکے ہیں۔“
”وہ باباجان کو غصہ دلانے کے لیے کہا تھا، کہ انھوں نے بھی تو ملکہ قُتیلہ کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیاتھا۔“وہ ماں کے سامنے کھڑی اسے امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” شک کرنے کے باوجود تمھیں دور جانے کا نہیں کہہ سکتی ،ماں ہوں ناں۔“جندلہ کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی۔قُتیلہ نے فوراََ ہی اسے اپنی مضبوط بانہوں میں بھر لیا تھا۔
”آپ کی بیٹی ملکہ قُتیلہ بے رحم ضرور ہے ،کم ظرف و دھوکے باز نہیں ہے۔اگر صرف سرداری لینے آئی ہوتی تو آپ کی رضامندی کی ملکہ قُتیلہ کوقطعاََ ضرورت نہیں تھی۔“
خیمے کے دروازے پر رغال کی آواز ابھری۔”ملکہ ،تمام لوگ آپ کے منتظر ہیں۔“
”ملکہ قُتیلہ آرہی ہے۔“رغال کو کہہ کر وہ ماں سے جدا ہوئی۔”جس دن آپ کا بڑا بیٹا ثابت کرے گا کہ وہ تلوار چلا لیتا ہے اسی دن ملکہ قُتیلہ اسے بنو نسر کی سرداری لوٹا دے گی۔اور یاد رکھنا ماں جی ، ملکہ قُتیلہ کا کہا عہد ہوتا ہے۔“حتمی لہجے میں کہتے ہوئے وہ مڑی اور لمبے ڈگ رکھتی خیمے سے باہر نکل آئی۔بنو نسر کے افراد سردارِ قبیلہ کے خیمے کے دروازے کے ساتھ بنے ہوئے چبوترے کے سامنے جمع تھے۔
چبوترے پر کھڑے ہو کر اس نے تمام افراد پر طائرانہ نگاہ ڈالی۔”ملکہ قُتیلہ بنت جبلہ بن کنانہ کے نام سے تم لوگ اچھی طرح واقف ہو۔ملکہ قُتیلہ ،بنو نسر کی سرداری کی اصل وارث ہے لیکن اس کے باوجود اس محفل میں موجود ہر اس آدمی کو دعوت مبارزت(لڑائی) دیتی ہے جو خود کو بنو نسر کی سرداری کے اہل سمجھتا ہو۔“اس کی بات کے اختتام پر ہلکی سی بھن بھناہٹ ہوئی لیکن کسی کو سامنے آنے کی جرّات نہیں ہو سکی تھی۔لمحہ بھر کے انتظار کے بعد اس نے بات آگے بڑھائی۔
”یقینا تم میں سے ہر ایک اچھی طرح جانتا ہے کہ اس وقت ملکہ قُتیلہ کو بنو نسر کی نہیں، بنو نسر کو ملکہ قُتیلہ کی ضرورت ہے۔اگر ملکہ قُتیلہ کا بھائی اس قابل ہوتا کہ سرداری سنبھال سکتا تو ملکہ قُتیلہ یہاں آنے کی زحمت نہ کرتی۔بالکل اسی طرح جیسے وہ باپ کی زندگی میں بنو نسر سے چلی گئی تھی۔اور ایک بات تمام لوگ خوب کان کھول کر سن لیں کہ ملکہ قُتیلہ سے دشمنی مول لینے والوں کی زندگی آندھی میں رکھے چراغ جیسی ہوتی ہے جس کی روشنی پر ایک لحظے کے لیے بھی انحصار نہیں کیا جا سکتا۔اس کی ایک مثال عیلان بن عبسہ،حرام بن زراح ،عافد بن مرسع اور اخلد بن احمرکا بھیانک انجام ہے۔ اس کی دوسری مثال بنو احمر کی تباہی ہے۔اس کے باوجود کسی شخص کے دل میں شک موجود ہوتو وہ ملکہ قُتیلہ کی بات جھٹلانے کی کوشش کر سکتا ہے۔“گہرا سانس لے کر اس نے لمحہ بھرتوقف کیا اور پھر سلسلہ کلام کو سابقہ الفاظ سے جوڑ لیا۔”بہ ہرحال ملکہ قُتیلہ یہاں آپ لوگوں کی بہتری کے لیے آئی ہے۔ نہ تو کسی سے دشمنی مطلوب ہے اور نہ کسی کو نیچا دکھانا مقصود ہے۔ملکہ قُتیلہ کا اپنا قبیلہ بنو طرید بھی موجود ہے۔کل صبح ہم بنو طرید کی طرف حرکت کریں گے کیوں کہ وہ جگہ بنو نسر کے موجودہ مقام سے کئی گنا بہتر ہے۔دونوں قبیلوں کی حد بندی کر دی جائے گی۔اور دونوں اچھے پڑوسیوں اور حلیف قبیلوں کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔جب طرفہ سرداری کا باراٹھانے کے قابل ہو جائے گا تب اس کی مرضی کہ وہ بنو نسر کو کہاں لے کر جاتا ہے….کیا تمام ملکہ قُتیلہ کے ساتھ متفق ہو۔“
” ہم متفق ہیں۔“سب سے بلند آواز رغال اور غبشان کی تھی۔
اگلے دن طلوع آفتاب سے پہلے وہ بنو طرید کا رخ کررہے تھے۔
٭٭٭
بنو نسر کی جگہ کو خالی دیکھتے ہی یشکر کو علم ہو گیا تھا کہ قُتیلہ قبیلے کو لے کر بنو طرید والی جگہ کی طرف گئی ہو گی۔وہ طلوع آفتاب سے پہلے وہاں پہنچے تھے۔رکے بغیر بنو طرید کی طرف روانہ ہو گئے۔دھوپ میں پہلے والی تمازت مفقود تھی۔دن بھر سفر کرنے کے بعد وہ رات کا اندھیرا چھانے پرآرام کے لیے رکے تھے۔صبح کاذب کے ساتھ ہی ان کا سفر شروع ہو گیا۔وہاں سے بنو طرید دو تین منزل دور تھا۔آفتاب کی روشنی تیز ہوتے ہی وہ بنو طرید میں داخل ہوئے۔یشکر نے دور ہی سے دیکھ لیا تھا کہ مشقی میدان میں تربیت زور و شور سے شروع تھی۔میدان میں موجود جنگجوﺅں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گیا تھا۔جنوبی ٹیلوں کے پار خیموں کا نیا شہر بسا ہوا نظر آرہا تھا۔جو یقینا بنو نسر کے باسی تھے۔
اغلب نے پوچھا۔”آپ کو یقین ہے وہ مان جائے گی۔“اب ان کے گھوڑے دوڑنہیں رہے تھے۔
یشکر اعتماد سے بولا۔”امید ہے منوا لوں گا۔“
مروان نے بے یقینی ظاہر کی۔” مجھے ایسا نہیں لگتا۔اس کی شکل بادیہ سے ضرور ملتی ہے مزاج نہیں ملتا۔“
یشکر ہنسا۔”تمھارا واسطہ سردارزادی بادیہ کی ہٹ دھرمی سے نہیں پڑا۔“
مروان اور اغلب کا اکٹھا قہقہ بلند ہواتھا۔انھیں دور ہی سے دیکھ لیا گیا تھا۔تربیتی میدان کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی دوآدمی انھیں اپنی جانب بڑھتے نظر آئے۔وہ منقراوراصرم تھے۔
یشکر نیچے اتر کر بازو پھیلاتا ہوا منقر کی طرف بڑھا۔مروان اور اغلب بھی اتر آئے تھے۔
”تمھیں دیکھ کر حیرانی ہو رہی ہے۔“اغلب اور مروان سے مصافحہ کر کے منقر ،یشکر کی طرف متوجہ ہوا۔
یشکر متبسم ہوا۔”یقینا تمھیں ملکان وغیرہ سے ساری کہانی معلوم ہو گئی ہو گی۔اور اس کے بعد بھی تمھیں حیرانی نہ ہوتی تو میں ضرور حیران ہوتا۔“
منقر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا۔”پچھلے کئی دن سے بے چارے امریل اور ملکان کی سختی آئی ہوئی ہے۔ملکہ قُتیلہ کے مقابل شمشیرزنی کی مشق کرنا بلا شبہ بہت مشکل ہے۔“
یشکر مزاحیہ انداز میں بولا۔”اب میں آگیا ہوں نا؟“
منقر ترکی بہ ترکی بولا۔”تمھارے ساتھ تو وہ اصل تلوار ہی سے لڑے گی اور میرے خیال رسمی کلمات سے پہلے ہی تم دونوں میں مقابلے کی ابتداءہوگی۔“باتیں کرتے ہوئے وہ آگے بڑھتے رہے۔
مقابلہ دیکھنے والوں کی اکثریت ان کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔ بنو طرید اور بنو نسر کے قریباََ تمام افراد یشکر سے اچھی طرح واقف تھے۔وہ فرداََ فرداََ ان سے مصافحہ کرنے لگے۔رسمی کلمات کی ادائی کے ساتھ یشکر کی نظریں میدان کے بیچوں بیچ پسینے میں نہائے ہوئے افراد پر پڑی۔ملکان اور امریل ایک ساتھ قُتیلہ سے برسرپیکار تھے۔وہ دونوں ہاتھوں میں تلواریں تھامے ہوا کے بگولے کی طرح میدان میں چکرا رہی تھی۔یشکر نے زمین پر پڑی دھات کی کند تلوار اٹھا کر منقر کی طرف مسکرا کر دیکھا اور آگے بڑھا۔اسی وقت تینوں شمشیرزنوں کی نگاہ اس پر پڑی۔
یشکر، ملکان اور امریل کو مخاطب ہوا۔”میرے خیال میں تم دونوں کو آرام کرنا چاہیے۔“
قُتیلہ نے ہاتھ میں تھامی مشقی تلواریں نیچے پھینکیں اور امریل کو مخاطب ہوئی۔”اصل تلواریں لے آﺅ۔“یہ کہتے ہی اس کی دُنبالہ آنکھیں یشکر کی طرف متوجہ ہوئیں۔”فارسی غلام ،اپنی تلوار سونت لو۔اور اچھا ہوا تم اپنی لاش اٹھوانے کے لیے دو افراد ساتھ لے آﺅ ہو۔“ ملیح چہرے پر پسینہ موتی کے قطروں کی طرح ٹپک کر اس کی صراحی دار گردن سے ہوتا ہوا گریبان کے راستے ایسے مقام کی طرف بہہ رہا تھا کہ دیکھنے والے پسینے کی قسمت پر رشک کرتے رہ جاتے تھے۔
یشکر بے نیازی سے بولا۔” لڑنے نہیں صلح کرنے آیا ہوں۔“
وہ زہر خند لہجے میں بولی۔” ہر آدمی جو چاہتا ہے اگر وہی ہونے لگے تو انسان اور معبود کافرق باقی نہ رہے۔“
”سردارزادی ،مہمانوں کے خلاف تلوار سونتنے والے کا نسب مشکو ک ہوجاتا ہے۔“دھاتی تلوار نیچے پھینک کر وہ ہاتھ چھاتی پر باندھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔اس دوران امریل ،قُتیلہ کی تلوار اور ڈھال لے آیا تھا۔
”تم اچھی طرح جانتے ہوملکہ قُتیلہ صرف ایک تخاطب سننا پسند کرتی ہے۔“قُتیلہ نے حسبِ توقع اس کے سردارزادی کہنے کا برا مانا تھا۔
”مگر تم خود اعلان کر کے آئی تھیں کہ میری شکست تک تم ملکہ نہیں کہلاﺅ گی۔“
وہ بے نیازی سے بولی۔”ارادہ بدل لیا،اگر تمھیں اعتراض ہے تو تلوار سنبھال کرملکہ قُتیلہ کو کہا پورا کرنے کاموقع دو۔“
یشکر لبوں پر خوب صورت تبسم نمودار ہوا۔”ملکہ قُتیلہ ،سردار یشکر بن شریک تم سے مدد مانگنے آیا ہے۔“
ایک لمحے کو وہ تعجب سے سن ہو گئی تھی۔زندگی میں پہلی بار یشکر نے اسے یوں مخاطب کیا تھا۔ گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے دل میں اٹھتی خوشی کی لہر پر قابو پایا۔
”امریل ،مہمانوں کو ملکہ قُتیلہ کے خیمے میں لے آﺅ۔“یہ کہتے ہی وہ لمبے ڈگ بھرتی اپنے خیمے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
امریل نے قریب ہو کر یشکر سے معانقہ کرتے ہوئے کہا۔”چلیں۔“
”ویسے میں اس کے خیمے کا رستا جانتا ہوں۔“اس کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے یشکر نے جتانا مناسب سمجھا تھا۔
”وہ تمھاری فتح کا سن کر بہت خوش ہوئی تھی۔“امریل نے دھیمے لہجے میں خلیسہ کا ذکر کیا۔
یشکر اسے یاد دہانی کرتا ہوا بولا۔”امریل یاد رکھنا وہ میری محسن ہے۔اہورمزدا نے میری جان بچانے کے لیے اسی کو وسیلہ بنایا تھا۔اور جانتے ہو صرف اس لیے تمھارے حوالے کرنا گوارا کیا تھا، کہ جانتا تھا تم مجھ سے کئی گنا زیادہ اسے محبت دو گے اور اس کی دیکھ بھال کرو گے۔“
امریل خوشگوار لہجے میں بولا۔”احسان جتانے والے مجھے بہت برے لگتے ہیں ،مگر تمھارا احسان اتنا بڑا ہے کہ جتنی بار جتاﺅ غصہ نہیں آتا۔“
”احسان نہیں جتاتا،یاد دہانی کراتا ہوں۔“
امریل موضوع تبدیل کرتا ہوابولا۔”کیسے آنا ہوا؟“
”تمھارے سامنے سردارزادی سے بات کروں گا سن لینا۔“وہ خیمے کے دروازے پر پہنچنے والے تھے۔
امریل نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔”پھر سردارزادی۔“
”ملکہ قُتیلہ یار۔“یشکر نے بے بسی ظاہر کی۔”اب کیا کروں سامنے آتی ہے تو مجھے اپنی بادیہ یاد آجاتی ہے اور میرے منھ سے غیرا آرادی طور پرسردارزادی نکل جاتا ہے۔“
” کچھ منوانا ہے تو اپنی سردارزادی کو تھوڑی دیر کے لیے بھلانا ہوگا۔“امریل کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔
”اور تمھیں لگتا ہے کہ میں بادیہ کو بھلا سکتا ہوں،چاہے عارضی طور پر کیوں نہ ہو۔“یشکر سنجیدہ ہو گیا تھا۔
امریل نے کہا۔”بھلانے کی اداکاری توکرسکتے ہو۔“
وہ خیمے کے دروازے پر رک گئے تھے۔”یقینا تم داخلے کی اجازت مانگو گے۔“
اثبات میں سرہلاتے ہوئے امریل نے وہیں کھڑے ہو کر آواز دی۔’مالکن ،مہمان دروازے پر پہنچ گئے ہیں۔“
”اندر لے آﺅ۔“قُتیلہ کی سریلی آواز ابھری۔
چاروں خیمے کا پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوئے۔وہ لکڑی کے تخت پر بیٹھی ایک صاف کپڑے سے پسینہ پونچھ رہی تھی۔انھیں اندر داخل ہوتا دیکھ کر رسمی احترام کے لیے کھڑی ہوگئی۔
”ملکہ قُتیلہ کی دوپہر سلامتی والی ہو۔“مروان نے سلام کہا۔
چٹائی پر بچھے چمڑے کے فرش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہنے لگی۔
”تشریف رکھیں۔“
ان کے بیٹھتے ہی وہ صراحی اٹھا کر آب خورہ بھرنے لگی۔امریل نے آگے بڑھ کر صراحی اس کے ہاتھ سے پکڑ لی تھی۔
”بولو فارسی غلام کیسے آنا ہوا۔“اس نے بھی فرش پر دھرے چمڑے کے ایک تکیے کے ساتھ ٹیک لگا لی تھی۔یقینا مہمانوں کی وجہ سے اس نے تخت پر بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
یشکر معترض ہوا۔” تمھیں معلوم ہے میں اب غلام نہیں رہا۔اور ایک سردار سے یوں مخاطب ہونا کسی طور مناسب نہیں ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”پہلے تو تھے۔“
یشکر طنزیہ لہجے میں بولا۔”پہلے تو بچہ بھی تھا تو کیا بیٹا کہوگی۔“
قُتیلہ کا شوخی بھرا قہقہ بلند ہوا۔”بتاﺅسردار یشکر بن شریک ،کس سلسلے میں آنا ہوا۔“
”مدد مانگنے آیا ہوں۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”پہلے ملکہ قُتیلہ کے چند سوالوں کے جواب دو۔“
”پوچھو۔“یشکر نے ہاتھ میں پکڑا خالی آب خورہ نیچے رکھ دیا تھا۔مروان اور اغلب خاموشی اور دلچسپی سے قُتیلہ کے چہرے پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے۔وہ ان کی بہن کی ہم شکل تھی۔لیکن ان کی چھوئی موئی بہن سے بالکل ہی مختلف۔ایسی با اعتماد لڑکی انھوں نے زندگی میں پہلے نہیں دیکھی تھی۔
وہ پوچھنے لگی۔”بنو احمر کے پہلے حملے کے دوران تم نے کیا سوچ کرملکہ قُتیلہ کی پیٹھ سے پیٹھ جوڑی تھی۔ حالاں کہ ملکہ قُتیلہ نے تم سے مدد کی درخواست نہیں کی تھی۔“
یشکر اطمینان سے بولا۔”تمھاری جگہ کوئی بھی ہوتا،میں یہی کرتا۔اور اگر اس وقت میرے دشمن حملہ آور ہوئے ہوتے تو مجھے یقین ہے کہ تمھاراردعمل مختلف نہ ہوتا۔“
”ملکہ قُتیلہ ،جب نشہ آور شراب کے زیر اثر بے ہوش ہوئی تب تمھاری تلوار کو رشاقہ کی آواز نے روکا تھا یا کوئی دوسری وجہ تھی۔“
یشکر نے سوالیہ انداز میں کہا۔”رشاقہ کی آواز ابھرنے سے پہلے ہی اگر میرا دماغ اس وار کو روکنے کی بابت ہدایت نہ کر چکا ہوتا تو کیا ایسے وار کو کسی التجائی آواز سے روکا جا سکتا تھا؟“
قُتیلہ نے اشتیاق آمیز لہجے میں پوچھا۔”تمھارے دماغ نے کیا ہدایت دی تھی؟“
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”اگر رشاقہ باہرکھڑی اندازہ لگا سکتی تھی کہ تم نشہ آور شراب کے زیر اثر ہو تو کیا تمھارے ساتھ دوبدو ٹکرانے والے کویہ محسوس نہیں ہوا ہوگا۔یہاں بھی میں نے وہی کیا جو وقت آنے پر تم بھی کرتیں۔ایک سچا لڑاکا جیتنے کے لیے خارجی وسیلوں کو ٹھکرا دیا کرتا ہے۔“
”تم نے ملکہ قُتیلہ کے جسم سے افعون کا زہر چوسنے کی ہمت کیسے کی تھی؟“وہ ترتیب سے وہی سوال پوچھ رہی تھی جن کے بارے پہلے بھی شک ظاہر کر چکی تھی۔
”پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ مجھ پر زہر اثر انداز نہیں ہوتا۔میرے لیے افعون کا زہر چوسناکسی کے زخم پر پٹی باندھنے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔“
”بنواحمر پر دھاوابولتے وقت ملکہ قُتیلہ نے تمھارے مشورے کے باوجود بہ ذات خود یلغار میں شمولیت اختیار کی تھی۔پھر تم کس لیے ملکہ قُتیلہ کی حفاظت کی فکر لیے عقب میں نگران بنے رہے۔“
”کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ افعون کاڈسا شخص کتنی ہی قوت برداشت کا مالک کیوں نہ ہو ایک دو دن کے اندر اس کی جسمانی طاقت پوری نہیں ہوسکتی۔“
اس نے منھ بنایا۔”یہ ملکہ قُتیلہ کے سوال کا جواب نہیں ہے۔“
”تمھاری موت بنو طرید کو جڑ سے اکھاڑ سکتی تھی۔اور میں یہ نہیں چاہتا تھا۔“
”باقی تمام بھی ملکہ قُتیلہ کی موت کے خواہاں نہیں تھے پھر ان میں سے کسی نے ایسا کیوں نہیں کیا؟“وہ یشکر کی وضاحت پر مطمئن نہیں تھی۔
”وہ تمام جانتے تھے کہ ملکہ قُتیلہ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔انھیں تمھاری دگرگوں جسمانی حالت کا اندازہ نہیں تھا ورنہ تمام نہیں تو دوتین ضرور تمھارے ساتھ چپکے رہتے۔“
”تمھارے جوابات ملکہ قُتیلہ کو مطمئن نہیں کر رہے۔“
یشکر سنجیدگی سے بولا۔” صاف الفاظ میں اپنا اندیشہ بیان کرو تاکہ تمھیں مطمئن کرنے کی کوشش کر سکوں۔“
”تم نے ہر وقت ملکہ قُتیلہ کی مدد اس لیے کی کہ ملکہ قُتیلہ بادیہ کی ہم شکل ہے اور بس۔“قُتیلہ نے بلی تھیلے سے باہر نکالی۔
”سردارزادی بادیہ کا ہم شکل ہونے کی وجہ سے تم میرے لیے خصوصی ضرور تھیں۔لیکن تمھاری مدد کرنے میں صرف بادیہ کا ہم شکل ہونے کو وجہ قرار دینا نا انصافی ہوگی۔ان حالات میں وہ افعال میری فطرت و کردار کی عکاسی کرتے رہے ہیں اور بس۔اگر تمھاری جگہ بنو طرید کا سردارکوئی دوسرا ہوتاتو بھی میں ایسے ہی کرتا۔“یشکر کو اس وقت شدت سے لگا تھا کہ وہ جھوٹ کا پلو تھام رہا ہے۔
وہ غیر مطمئن لہجے میں بولی۔”اس سے پہلے تم نے کبھی بھی ملکہ قُتیلہ کو ہرانے کی کوشش نہیں کی لیکن جونھی تمھاری سردارزادی واپس لوٹی تم نے بے جھجک ملکہ قُتیلہ کی گردن پر تلوار رکھ کرموت کا اعلان کر دیا۔ اگر ماں جی منت نہ کرتی تو یقینا ملکہ قُتیلہ اب قبر کی باسی ہوتی۔“
یشکر نے معنی خیز انداز میں انکشاف کیا۔”لڑائی کے اختتام کے لیے تمھارا ہارنا ضروری تھا۔ میرے ہارنے کی صورت میں تمھارے پاس میری گردن کے کاٹنے کے علاوہ دوسرا انتخاب موجود نہیں تھااور تم مجھے مارنا نہیں چاہتی تھیں۔تبھی تم نے ہارکا انتخاب کیا۔“
”یاد ہے کہا تھا کہ اگر تم ملکہ قُتیلہ کے محتاج ہوئے تو ملکہ قُتیلہ تمھاری مدد نہیں کرے گی۔“
”ہاں۔اور اسی بات کی تصدیق کے لیے آیا تھا۔انکار سن لیا اب اجازت چاہوں گا۔“یشکر نے اٹھنے کے لیے پر تولے۔
وہ جلدی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ نے انکار تو نہیں کیا صرف یادہانی کرائی ہے۔“
”یاد دہانی کرانے کا مطلب؟“یشکر شاکی ہوا۔
وہ دل آویز انداز میں مسکرائی۔”صرف یہ بتانا کہ ملکہ قُتیلہ نے اس وقت سچ نہیں کہا تھا۔ ملکہ قُتیلہ تمھارے سارے احسانات کی معترف ہے۔اب بتاﺅ کیسی مدد درکار ہے۔“
”میں نے دبا میں ایک رئیس کے ہاں اپنے قبیلے کے قیدی افراد کو رہا کرانا ہے۔اور اس مقصد کے لیے ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے جو اچھا لڑاکا ہو۔سوچا مختصر وقت کے لیے تم سے امریل کا مطالبہ کر لوں۔“
قُتیلہ نے قہقہ لگاتے ہوئے پاس کھڑے امریل کو دیکھا۔”اپنی سنہرانہ کی جدائی کے قصے سنا سنا کر امریل تمھیں اتنا زچ کر دے گا کہ شاید دبا پہنچنے سے پہلے ہی تم اسے واپس بھیج دو۔اس لیے امریل کو نہیں بھیج سکتی۔“
یشکر نے امریل کی طرف دیکھا۔اس نے بے بسی سے کندھے اچکائے گویاوہ قُتیلہ کے سامنے بول نہیں سکتا تھا۔
”ملکان بھی اچھا لڑاکا ہے۔“یشکر نے متبادل کا نام پیش کیا۔
”حقیقت تو یہ ہے کہ ملکان اور امریل کی یہاں سخت ضرورت ہے۔“قُتیلہ بہ ظاہر سنجیدہ تھی۔
”پھر اجازت دو ،میں اپنے بھائی مروان ہی کو ساتھ لے جاﺅں گا۔“یشکر نے اس کا انکار سن کر مزید اصرار مناسب نہیں سمجھا تھا۔
”آج کی رات ملکہ قُتیلہ کو میزبانی کا موقع دو۔“اس کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ رقصاں تھی۔
”ہمارے پاس وقت کم ہے۔“یشکر نے نشست چھوڑدی تھی۔
قتیلہ اس کے سامنے کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔”بنو طرید میں ملکان اور امریل سے بھی اچھا شمشیر زن موجود ہے۔ اسے ساتھ لے جاﺅ۔“
یشکر نے منھ بنایا۔”میرے خیال میں ایسا کوئی نہیں ہے۔“
وہ مزاحیہ لہجے میں مستفسر ہوئی۔”تو تمھاری نظر میں امریل اور ملکان ملکہ قُتیلہ سے اچھے شمشیرزن ہیں۔“
یشکر کو حیرت کا جھٹکا لگا۔”مگر تم ….“
”ملکہ قُتیلہ ٹھیک ہے یا امریل کو لے جانا چاہو گے۔“
یشکر بے یقینی سے بولا۔”مجھے نہیں لگتاایسا ممکن ہے۔“
”صبح طلوع آفتاب سے پہلے نکلیں گے۔اب آرام کرو۔“اطمینان بھرے انداز میں اعلان کرتے ہوئے وہ امریل کو مخاطب ہوئی۔”مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرو۔اور انھیں آرام کی جگہ دکھا دو۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: