Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 52

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 52

–**–**–

گرجستان کی تقسیم نے سابور ذوالاکتاف کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا تھا۔ایک لشکر جلیل جمع کر کے اس نے اپنی سرحد عبور کی اور روم کے شہر واگا بنتا پر چڑھائی کر دی۔شاہ ایران کی حملے کی تیاریاں روم کے بادشاہ والنٹینین کی نظر سے اوجھل نہیں تھیں۔کیوں کہ گرجستان کی تقسیم عمل میں آتے ہی اس نے ایران کی طرف سے کسی ایسی ہی کارروائی کا حل سوچنا شروع کر دیا تھا۔اور اس مقصد کے لیے اس نے طیسفون میں موجود جاسوسوں کی تعداد دگنی کر دی تھی۔اسے شہنشاہ فارس کی تیاریوں کی خبریں تسلسل سے ملتی رہیں۔یہاں تک کہ اسے فارسی لشکر کے کوچ کے بارے پتا چلا۔سابور کے لشکر کا رخ دیکھتے ہوئے والنٹینین نے اپنی پوری جمعیت اسے روکنے کے لیے اکٹھی کر لی تھی۔جونھی سابور نے واگا بنتا کی فصیل پر ہلہ بولاوالنٹینین نے پوری قوت سے دفاع کیا۔اور پھر فصیل سے باہر نکل کر ایرانی سپاہ پر جوابی حملہ کر دیا۔گھمسان کا رن پڑا تھا۔ شکست کی ذلت سابور ذوالاکتاف کی قسمت میں لکھی تھی۔سابور کو پسپا ہونا پڑا۔ایرانی لشکر کی پس قدمی کے وقت رومی ان کا پیچھا کر سکتے تھے ،لیکن والنٹینین نے ایسا نہ کیا کیوں کہ ایرانی لشکر کی کثرت نے اسے ایسا کرنے کا حوصلہ نہیں دیا تھا۔
سابور اپنے مقصد میں ناکام ہو کر واپس طیسفون لوٹ آیا تھا۔
واپسی کے ساتھ ہی سکندر کو بہرام کے لوٹ آنے کی اطلاع ملی۔رات کو بہرام اس کے سامنے بیٹھا سفر کی تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا۔سکندر خاموشی سے سب کچھ سنتا رہا۔بہرام کی بات کے اختتام پر وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔
”تو وہ یشکر بن شریک ہے ،بنو جساسہ کا سردار۔“
اس کی خود کلامی کو استفسار جانتے ہوئے بہرام نے مودّب انداز میں سرہلایا۔ ”جی محترم سالار۔“
سکندر پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”بلا شک و شبہ اس کی ذہانت ظاہر کرتی تھی کہ اس کی رگوں میں کسی اعلا نسب سردار کا خون دوڑ رہا ہے۔“
”اس نے وعدہ کیا تھا کہ قبیلے کے مسائل سے سبک دوش ہو کر آپ سے ملنے ضرور آئے گا۔“بہرام نے اس کی ڈھارس بندھائی۔
”ایک سردار کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔لیکن میں نہیں جانتا کہ بنو جساسہ کے مسائل سے وہ کب تک نبٹ پائے گا۔“سکندر نے اداسی چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
بہرام نے مشورہ دیا۔”محترم سالار ،وقت نکال کر خود بھی تو وہاں تشریف لے جا سکتے ہیں۔“
سکندر نے نفی میں سرہلایا۔”میں خداوند فارس کو خفا کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ جانتا ہوں وہ میرے اصرار کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے،لیکن ان کی منشاءیہی ہے کہ میں ان کے پاس ہی رہوں۔“
بہرام نے خلوص بھرے لہجے میں پوچھا۔”میرے لائق کیا حکم ہے۔“
سکندر کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی۔”تم فی الحال ہماری بیٹی سبرینہ کے ساتھ وقت گزارو۔کیوں کہ جلد ہی شہنشاہ معظم روم کی خبر لینے نکلیں گے۔جب تک گرجستان پر حضوروالا کا تسلط بحال نہیں ہوجاتا وہ نچلے نہیں بیٹھیں گے۔“
اوربہرام اجازت لے کر نکل آیا۔
٭٭٭
وہ دوپہر کے وقت سایہ دار درخت کے نیچے آرام کے لیے رکے تھے۔دھوپ میں پہلے والی شدت تو مفقود تھی لیکن پھر بھی اتنی تمازت بہ ہر حال موجود تھی کہ انھیں پسینہ آجائے۔تبھی صاعقہ مانگ کر قُتیلہ اس کی دھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تعریفی لہجے میں کہنے لگی۔”تمھاری تلوار ملکہ قُتیلہ کو پسند آئی ہے۔“
کسی بھی شمشیر زن سے بعید تھا کہ وہ صاعقہ کو دیکھنے کے بعد اس کی تعریف نہ کرتا۔اور قُتیلہ جیسی ماہر شمشیر زن تو یوں بھی اچھی تلواروں کی دیوانی تھی۔اس نے پہلی بار یشکر سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کی تعریف کی تھی۔
یشکرنے فخریہ لہجے میں کہا۔”جانتی ہو یہ تلوارسلطنت ساسان کے بانی اردشیربن بابک بن ساسان کے دادا یعنی ساسان کی ہے۔شہنشاہ معظم اردشیربن بابک نے بہ طور انعام میرے منھ بولے باپ کے پردادا جان کے دادا محترم کے حوالے کی تھی۔یہ ان کے خاندان کے بہترین شمشیرزن کو وراثت میں ملتی رہی یہاں تک کہ سکندر بابا نے اپنی اولاد نہ ہونے کے باعث میرے حوالے کر دی۔“
”آج تک ملکہ قُتیلہ نے کسی سے کچھ نہیں مانگا۔“تلوار اس کی جانب واپس بڑھاتے ہوئے اس نے دلی خواہش کا اظہار کیا۔
”لڑکی ہونے کے باوجود تم اس قابل ہو کہ صاعقہ تمھیں تحفے میں پیش کی جائے،مگر افسوس کہ میرے پاس اختیار نہیں رہا۔“
وہ پھیکے انداز میں مسکرائی۔”ملکہ قُتیلہ جانتی ہے ایسی تلوار سے دست بردار ہونا ایک شمشیرزن کے لیے ممکن نہیں ہے۔“
یشکر نے افسوس بھرے انداز میں سرہلایا۔”تمھاری سمجھ میں میرا انکار آیا ہی نہیں ہے۔“
وہ تلخی سے بولی۔”انکار کسی مجبوری کو بنیاد بنا کر کیا جاتا ہے اور ملکہ قُتیلہ کو مجبوروں سے نفرت ہے۔“
”کہا ناں اس پر کسی اور کا تصرف ہے۔“
قُتیلہ نے منھ بنایا۔”تمھاری چیز پر کس کا تصرف ہو سکتا ہے۔“
یشکر صفائی پیش کرتا ہوابولا۔”سردارزادی بادیہ کو حق مہر میں دی تھی کہ اس سے قیمتی کوئی چیز میرے پاس موجود نہیں تھی۔“
”تم اس کا نام لے کر شاید ملکہ قُتیلہ کو چڑانا چاہتے ہو۔“درخت کے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ یشکر کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ قُتیلہ کوئی ایسی بات کرے گی۔
وہ حیرانی کو روک نہیں سکا تھا۔”میری سمجھ میں تمھارا چڑنا نہیں آیا۔“
وہ آنکھیں کھولے بغیرسادگی سے بولی۔”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ملکہ قُتیلہ ،بادیہ کو پسند نہیں کرتی۔ اس کانام لینا چڑانا ہی ہوا ناں۔“
یشکر کے لبوں پر تبسم نمودار ہوا۔دو قبیلوں کی سردار،ماہر شمشیرزن ،فہیم و ذکی قُتیلہ اس معاملے میں نابالغ بچی جتنی سوچ رکھتی تھی۔اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ کسی مرد کی بیوی سے چڑنے کا مطلب مذکورہ مرد کی محبت کا اعتراف کرنے کے مترادف تھا۔مگر یشکر جانتا تھا کہ ایسی کوئی بات جنگجو حسینہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔
”تمر کھاﺅ۔“یشکر نے توشہ دان سے خشک کھجوریں نکال کر اسے دعوت دی۔
وہ اٹھ بیٹھی۔”رشاقہ کیسی ہے ؟“ایک کھجور منھ میں ڈالتے ہوئے اس نے وہ سوال کیا جو اسے بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔
”تمھاری جدائی محسوس کر رہی ہے۔میرے ساتھ بنو طرید آنا چاہتی تھی لیکن وہاں اس کی زیادہ ضرورت تھی تبھی روک دیا۔اس کے آخری کلمات یہی تھے کہ ملکہ قُتیلہ سے اسے معافی دلوا دوں۔“
”ماں جی خوش تھیں۔“بہ ظاہر اس نے عام سے لہجے میں پوچھا تھا لیکن زندگی میں پہلی بار یشکر کو محسوس ہوا کہ قُتیلہ کسی کے لیے جذباتی بھی ہو سکتی ہے۔
یشکر صاف گوئی سے بولا۔”ماں جی کے نزدیک سب سے قیمتی سرمایہ ان کی جان سے پیاری بیٹی ہے۔“
”سرداروں کو جھوٹ بولنا زیب نہیں دیتا۔“کھجور کی گٹھلی دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے میں تھام کر اس نے ریت پر چلتے ایک چیونٹے پر نشانہ سادھااور ہاتھ کو ہلکے سے جھٹک کر گٹھلی اس پر داغ دی۔چیونٹا بچ گیا تھا۔قُتیلہ نے ایک اور کھجور منھ میں ڈا لی۔
یشکر مستفسرہوا۔”تمھیں ان کی محبت پر شک ہے۔“
”پہلے نہیں تھا۔“وہ دوسری گٹھلی منھ سے نکال کر دوبارہ چیونٹے پر نشانہ سادھنے لگی جو پہلی والی گھٹلی کو چمٹاہوا تھا۔نامعلوم کھجور کی گٹھلی پر کھجور کی مٹھاس باقی تھی یا قُتیلہ کے لعاب ہی میں کوئی ایسی خاصیت شامل تھی۔اس مرتبہ بھی اس کا نشانہ خطا گیا تھا۔چند اور چیونٹے بھی ان گھٹلیوں کی سمت بڑھ آئے تھے۔
”تمھارے آنے کے بعد وہ کئی دن تک روتی رہیں۔“
وہ تلخی سے بولی۔”اس محبت کی موت پر ماتم کناں ہوں گی جو کبھی انھیں ملکہ قُتیلہ سے ہوا کرتی تھی۔“
یشکر نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔”اتنی ظالم نہ بنو قُتیلہ۔“
”ملکہ قُتیلہ ….“دُنبالہ آنکھوں میں درشتی ابھری۔
یشکر نے ہنستے ہوئے تصحیح کی۔”ہاں ….ہاں ملکہ قُتیلہ….“
”وہ نخلہ نظر آرہا ہے۔“قُتیلہ نے دور خشک پہاڑیوں کے دامن کی طرف اشارہ کیا جہاں چند درختوں کا جھنڈمسافروں کو دعوت آرام دیتا نظر آرہا تھا۔
”ابلق ،مشکی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔“یشکر سوال کی نوعیت سے اس کا مطمح نظر جان گیا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ ،مشکی کی چال دیکھنے کی خواہاں ہے۔“بے نیازی سے کہتے ہوئے وہ ابلق کی طرف بڑھ گئی۔
یشکر نے عام سے لہجے میں پیشکش کی۔”پھر تم مشکی پر سواری کرو۔“
وہ متعجب ہو کر اس کی طرف مڑی۔
یشکر بے پروائی سے بولا۔”صاعقہ میری نہیں تھی، مشکی میرا ہے۔“
لمحہ بھر یشکر کو گھورنے کے بعد اس کے ہونٹوں پر دل آویز تبسم ابھرا۔”جانتے بھی ہو یہ کتنا قیمتی گھوڑا ہے۔“
”امید کرتا ہوں تم اس کا خیال مجھ سے بہتر رکھ سکو گی۔“یشکر ابلق کی طرف بڑھ گیاتھا۔
قُتیلہ جیسے خواب میں چلتی ہوئی مشکی کے پاس پہنچی۔اس کی گردن پر ہاتھ پھیر کر اس نے گھوڑے کے سر کو بازوﺅں میں بھرا اور ماتھے کو چومنے لگی۔
تھوڑی دیر بعدوہ اپنا سامان نئے گھوڑوں پر منتقل کر چکے تھے۔اس کے بعد دونوں گھوڑے سرپٹ دوڑتے ہوئے پہاڑی کے دامن کی طرف روانہ ہو گئے۔جب سوار بہترین ہوں تو مقابلے کا فیصلہ گھوڑوں کی ٹانگیں کرتی ہیں۔اور مشکی کی رفتار ابلق سے زیادہ تھی۔یشکر جیسا شہ سوار جان توڑ کوشش کے بعد بھی پیچھے رہ گیا تھا۔ڈیڑھ دو فرسخ کا فاصلہ انھوں نے نہایت مختصر وقت میں طے کیا تھا۔جھنڈ کے قریب مشکی کی رفتار کم کرتے ہوئے قُتیلہ نے یشکر قریب آنے کا انتظار کیا اورپھر مشکی کو درمیانی رفتار سے دوڑانے لگی۔
”تم ہار گئے۔“اس کے قریب پہنچتے ہی قُتیلہ نے جاندار قہقہ لگایا۔
اس کی ہنسی میں شامل ہوتے ہوئے وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”پہلی نظر ہی میں ہار گیا تھا۔“
”ملکہ قُتیلہ کی سمجھ میں تمھاری بات نہیں آئی۔“اس نے حیرانی کے اظہار میں دیر نہیں کی تھی۔
یشکر نے شوخ لہجے میں وضاحت کی۔”میرا مطلب بادیہ اتنی خوب صورت ہے کہ اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی دل ہار گیا تھا۔“
گھوڑے کی لگام کھینچتے ہوئے وہ اسے برہمی سے گھور نے لگی۔یشکر نے بھی ابلق کو روک لیا تھا۔
”فارسی غلام،ایسی باتیں ملکہ قُتیلہ کو پسند نہیں ہیں۔“وہ غصے میں اسے فارسی غلام پکارنے لگتی تھی۔
یشکرنے کہا۔” میں نے اپنی بیوی سردار زادی بادیہ کی بات ہے۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”مگراس کی شکل ملکہ قُتیلہ جیسی ہے۔“
”تو کیا ، میں اپنی بیوی کے حسن کی تعریف کرنا چھوڑ دوں۔“
”ملکہ قُتیلہ واپس جا رہی ہے۔ امریل کے سامنے اپنی بیوی کی تعریف کرتے رہنا۔“ قُتیلہ نے گھوڑے کا رخ پیچھے موڑا۔
”فضول میں غصہ کر رہی ہو۔“یشکر نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔
وہ لمحہ بھر کو رکی۔”واپس آنا چاہتے ہو توچلو،یا ملکہ قُتیلہ ملکان اور امریل کو تمھارے پاس بھیج دے گی۔“
”شکریہ انھیں بھی بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔“یشکر مزید منت سے گریز کرتے ہوئے ابلق کو ایڑھ لگاکر آگے بڑھ گیا۔قُتیلہ وہیں کھڑی اس کی پیٹھ کو گھورتی رہی۔اسے مسلسل آگے بڑھتا دیکھ کر وہ نصف غلوے کا فاصلہ رکھتے ہوئے اس کے پیچھے جانے لگی۔(غلوہ اس فاصلے کو کہتے ہیں جہاں تک ایک تیرانداز کا تیر جا سکتا ہے یعنی قریباََ تین سے چارسو قدم) غروبِ آفتاب سے تھوڑی دیر پہلے یشکر نے ایسی جگہ گھوڑا روکا جہاں جھاڑیوں کے جھنڈ اور اکا دکا درخت موجود تھے۔وادی کا وہ مقام ایسا تھا جہاں ریت کھود کر پانی نکالا جا سکتا تھا۔گھوڑی کو روک کر اس نے زین سے بندھا چھوٹا سا پھاوڑا کھولا اور وادی کے بیچوں بیچ ایک مناسب جگہ پر کھدائی کرنے لگا۔قُتیلہ نصف غلوے کے فاصلے پر رک کر مشکی سے اتر گئی تھی۔ لگام کوگھوڑے کی گردن سے لپیٹ کر اس نے گھوڑے کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خودیشکر کی جانب پیٹھ موڑ کر ریت پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
دونوں گھوڑے وادی کے کناروں پر اگی گھاس پر منھ مارتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تھے۔یشکر جلد ہی مخصوص تہہ تک جا پہنچا تھا جہاں گیلی ریت سے پانی رسنا شروع ہو گیا تھا۔اپنے قد کے برابرکھدے گڑھے میں اس نے پانی جمع ہونے کی ایک اور جگہ بنائی اور گڑھے سے باہر نکل آیا۔قُتیلہ کو پیٹھ موڑے بیٹھا دیکھ کر اس کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ ابھرآئی تھی۔
وہ گھوڑوں کی طرف بڑھ گیا۔دونوں گھوڑوں کو گڑھے کے کنارے لا کر اس نے چمڑے کا ایک چوڑا ٹکڑا،چھوٹا سا گڑھا کھود کر اس انداز میں بچھایا کہ وہ برتن کی شکل اختیار کر گیاتھا۔ اپنا اور قُتیلہ کا مشکیزہ خود ساختہ برتن میں خالی کر کے وہ گڑھے میں اترگیا۔گھوڑوں کو سیر ہو کر پانی پلا کر اس نے مشکیزے بھرے اور باہر نکل آیا۔
سورج کی روشنی زرد پڑ چکی تھی۔گھوڑوں کی زینیں اتار کر اس نے خرجینوں سے توبڑے نکالے اور جو گیلے کر کے توبڑے گھوڑوں کے منھ پر چڑھا دیے۔گھوڑوں سے فارغ ہو کر وہ خشک لکڑیاں جمع کرنے لگا۔اچانک اس کی نظر سبزے پر منھ مارتے وبرپر پڑی۔(سبزہ کھانے والا بلی کے برابر، تھوتھنی دار جانورجس کا گوشت لذیز اور پوستین قیمتی ہوتی ہے)وہ فوراََ جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھ گیا ،اگلے ہی لمحے کمان اس کے ہاتھ میں تھی۔تیر کی سوفارتانت پر جما کر اس نے چلہ پیچھے کھینچا۔تبھی وبر نے چوکنا ہو کر اوپر سر اٹھایا ،لیکن اس سے پہلے کہ وہ حرکت کر پاتا یشکر کے تیر نے اسے گھیر لیا تھا۔وہ بھاگ کر قریب پہنچااور اطمینان سے اس کی گردن پر خنجر پھیر دیا۔
آفتاب غروب ہو گیا تھا مگر ملگجی روشنی پھیلی تھی۔لکڑیوں کاگٹھا اور وبر اٹھا کر وہ گھوڑوں کے قریب پہنچ گیا۔لکڑیاں زمین پر رکھ کروہ مزید لکڑیاں لانے واپس مڑ گیا۔روشنی زیادہ دیر باقی نہ رہتی اور اس دوران وہ اتنی لکڑیاں اکھٹی کر لینا چاہتا تھا کہ رات آرام سے گزاری جا سکے۔ چاند ربع ثالث میں تھا اس لیے دیر سے طلوع ہوتا تھا۔ اور اس کی روشنی اتنی زیادہ نہ ہوتی کہ خشک لکڑیوں کی تلاش میں ممد ثابت ہوتی۔دھوپ کے خاتمے کے ساتھ خنکی میں اضافہ ہونے لگا تھا۔دوسرا گٹھا لا کر اس نے پہلے گٹھے کے قریب دھرا اور خرجی سے چمقاق پتھرنکال کر آگ جلانے لگا۔آگ کی روشنی میں اس نے وبر کی کھال اتاری،الائشوں کو کھال میں بھر کر دور پھینکا اور گوشت بھوننے لگا۔ہر طرف گوشت بھوننے کی سوندھی مہک پھیل گئی تھی۔ اس دوران قُتیلہ اپنی جگہ پر بیٹھی رہی۔نہ تو اس نے مڑ کر یشکر کی جانب دیکھا تھا اور نہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔گوشت بھون کر وہ اس کی طرف بڑھ گیا۔
” کھانا تیار ہے۔“
وہ بے اعتنائی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو بھوک نہیں ہے۔“
قریب بیٹھتے ہوئے یشکر نے بھنے ہوئے گوشت کا پارچہ اس کی جانب بڑھایا۔ ”چکھ کر بتاﺅ کیسا ہے؟“
وہ رکھائی سے بولی۔”کہہ دیا ناں ،ملکہ قُتیلہ کو بھوک نہیں ہے۔“
یشکر صفائی دیتا ہوا بولا۔”عبث خفا ہو رہی ہو۔یقین مانو میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جو تم گمان کیے بیٹھی ہو۔“
وہ درشتی سے بولی۔”مردوں کے معاملے میں ملکہ قُتیلہ اس سے زیادہ سیراب ہے جتنی کہ گوہ پانی سے ہوتی ہے۔“(یعنی جس طرح گوہ کو پانی کی ضرورت نہیں ہوتی اسی طرح اسے بھی مردوں کی حاجت نہیں تھی)اس نے یشکر کے ہاتھ سے بھنے ہوئے گوشت کا پارچہ نہیں پکڑا تھا۔
یشکر جتانے والے انداز میں بولا۔”ملکان بتا رہا تھا کہ تمھیں کافی شہ زوروں نے شادی کا سندیسہ دیا اور تم نے کسی کو بھی انکار نہیں کیا بس ایک شرط پیش کی کہ مقابلہ کر کے تمھیں جیت لیں۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ملکان نے سچ کہاتھا تم بھی تلوار سونت سکتے ہو۔“
”نہیں۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”بنو طرید آنے کے چند دن بعد ہی مجھے یہ بات معلوم ہو گئی تھی۔تمھی بتاﺅ کبھی ایسی کوشش کی۔میرا مطلب اگر تمھیں چاہتا توایسی کوشش ضرور کرتا۔“
”بنو طرید سے جاتے وقت تم نے دل کی بات ملکہ قُتیلہ کوبتا دی تھی۔“قُتیلہ نے اس کی آخری درخواست یاددلائی۔
یشکرنے صفائی سے جھوٹ اُگلا۔” رشاقہ کے کہنے پرکوشش کی تھی۔وہ تمھاری محبت میں پاگل ہو رہی تھی۔ورنہ تم جیسی گھمنڈی سے تعلق رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔“
”ملکہ قُتیلہ جھوٹ سچ میں تمیز کر سکتی ہے۔“
”چلو فرض کیا اس وقت پیش کش کی تھی۔لیکن اب تو میری سردارزادی مل گئی ہے۔مجھے کسی اور لڑکی کی کیا پروا۔بادیہ تم سے کئی گنا زیادہ خوب صورت ہے۔“
”پہلے تم بکواس کرتے تھے وہ ملکہ قُتیلہ جیسی دکھتی ہے۔“
یشکر مزاحیہ انداز میں بولا۔”کہاں سردارزادی بادیہ جیسی نرم ملائم اور ریشمی بدن والی دوشیزہ اور کہاں تم جیسی سوکھے سڑے بدن والی بدمزاج لڑکی….میرا مطلب ملکہ۔“(زمانہ جاہلیت کی عرب شاعری کو پڑھو تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کا فربہی مائل ہونا ان کے نزدیک نسوانی حسن کی بہترین خوبیوں میں سے ایک تھا)
”ملکہ قُتیلہ کو سردی محسوس ہو رہی ہے۔“وہ اٹھ کر آگ کی طرف بڑھ گئی تھی۔یشکر کو لگا اس کا غصہ ختم ہو گیا ہے۔وہ اس کے پیچھے چل پڑا۔آگ کے نزدیک بیٹھ کر اس نے یشکر کے ہاتھ سے بھنا ہوا گوشت پکڑ لیا تھا۔
دونوں نے دن کو چند کھجوریں ہی کھائی تھیں اس وقت سارا گوشت ہڑپ گئے تھے۔
یشکر نے ایک کمبل نیچے بچھا کر دوسرا قُتیلہ کی طرف بڑھایا۔
”ہمارے پاس دو ہی کمبل تھے۔“آگ کی روشنی میں یشکر کو دُنبالہ آنکھوں میں برہمی جھلکتی نظر آئی۔
”تو….“یشکر نے کندھے اچکائے۔
”ملکہ قُتیلہ کسی سے کمزور نہیں ہے۔یہ مہربانیاں اپنی بادیہ کے لیے بچا رکھو۔“وہ نیچے بچھا کمبل جھاڑ کرلپیٹنے لگی۔
یشکر جھلاتے ہوئے بولا۔”جب عقل تقسیم ہو رہی تھی تو تم بد مزاجی کی قطار میں کھڑی تھیں۔ محترمہ، ایک وقت میں دونوں نہیں سو سکتے۔ آدھی رات کے بعد میں نے کمبلوں میں ہونا ہے اور تم جاگوگی۔بڑی آئی ملکہ حسن۔“
اس کے چہرے پر خفیف سی ندامت ابھری۔کھسیائے لہجے میں بولی۔”یہ بکواس پہلے بھی کی جاسکتی تھی۔“اس نے کمبل دوبارہ نیچے بچھا دیا تھا۔
یشکر نے کمبل اس کی جانب پھینکا اور آگ پر لکڑیاں رکھنے لگا۔اس ویرانے میں دونوں کا ایک ساتھ سو جانا مناسب نہیں تھا۔
گھوڑے کی زین سر کے نیچے رکھ کر وہ کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔چند لمحوں بعد ہی بھاری سانس اس کے سو نے کا اعلان کر رہے تھے۔دلیر لڑکی کے نزدیک اپنا خیمہ اور ویرانہ ایک برابر تھے۔
آسمان پر نظر ڈال کر اس نے مخصوص جھمکوں اور ستاروں کے مقام کو دیکھاان کی مدد سے وہ وقت کا اندازہ ایسے ہی لگا سکتا تھا جیسے سورج کو دیکھ کر وقت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔کیوں کہ سورج بھی ایک ستارہ ہی ہے۔اور باقی ستارے بھی سورج کی طرح طلوع و غروب ہوتے ہیں۔
دور کہیں گیدڑوں کی منحوس آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ستاروں کا سفر جاری تھا۔چاند اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے اب تک نہیں نکلاتھا۔اس کے حساس کانوں میں ہلکی غراہٹیں پہنچیں جو مردار خور جانوروں کی تھیں۔وہ وبر کی آلائشوں پر دانت نکوس رہے تھے۔یشکر ایک جلتی ہوئی لکڑی اٹھا کر کھڑا ہوا۔ غراہٹوں کا تبادلہ کرنے والے بہادر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔وہ بیٹھ گیا۔
خنکی میں اضافہ ہوگیا تھا۔صحرا کی ریت گرم جلدی ہوتی ہے تو ٹھنڈا ہونے میں بھی دیر نہیں لگاتی۔اگر آگ نہ جلائی ہوتی قُتیلہ کا آرام سے لیٹنا مشکل ہوجاتا۔
وہ داہنی کروٹ پر لیٹی تھی۔ہلکی سی بڑبڑاہٹ کے ساتھ سیدھی ہوئی اور چہرے سے کمبل اتار دیا۔اس کا زین پر ٹیکا ہوا سر اتنا بلند ضرور تھا کہ یشکر کو ملیح چہرہ آسانی سے نظر آرہا تھا۔آگ کی لپٹوں نے یشکر کو دعوت نظارادی۔بادیہ کا معصوم و موہنا چہرہ سامنے ہی تھا۔وہ بنو جساسہ میں تھی لیکن اپنی صورت یشکر کے پاس بھیج دی تھی۔اگر قُتیلہ نہ بھی ہوتی تو یشکر اپنی بادیہ کو تصور کی آنکھ سے دیکھ سکتا تھا۔ لیکن اس وقت توگویا وہ جیتی جاگتی سامنے لیٹی تھی۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس نظارے سے نظریں پھیرنے کی کوشش کرتا۔
دُنبالہ آنکھوں کو گھنی پلکوں کی جھالر نے مقدس صحیفے کی طرح ڈھانپا ہوا تھا۔سیاہ گھنے گیسوقساوا کی قید میں تھے۔پنکھڑی لبوں پر ہلکا سا تبسم ابھراجو لمحہ بھر میں معدوم ہو گیا تھا۔
یشکر زیادہ دیر اس نظارے سے محظوظ نہیں ہو سکا تھا۔ہلکے سے بڑبڑا کر اس نے دوبارہ کروٹ تبدیل کی اور چاند کمبل میں غروب ہو گیا۔شاید اسے سردی محسوس ہورہی تھی۔
آسمان کے چاند نے بھی مشرق سے سرابھارا۔اندھیرے میں تھوڑی کمی ہوگئی تھی۔
یشکر نے زین کو آگ کے قریب کھسکا کر ٹیک لگائی اور پاﺅں پسار لیے۔ دن بھر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے رہنے کے باوجود وہ اتنی تھکن محسوس نہیں کررہا تھا کہ نیند سے شکست کھا جاتا۔اس کی آنکھیں ستاروں کا جائزہ لینے کو اٹھیں۔فرقدین (دُبّ اصغر کے دو ستارے)مغرب کی جانب جھک کر آدھی رات بیت جانے کا اعلان کر رہے تھے۔۔قُتیلہ بے سود لیٹی تھی۔وہ اسے جگانے کا ارادہ موّخر کر کے آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔رات تین چوتھائی بیت چکی تھی جب کسمساتے ہوئے قُتیلہ نے آنکھیں کھول دیں۔ایک نگاہ آسمان پر ڈال کر وہ یشکر کی طرف متوجہ ہوئی۔
”گھٹیا حرکتوں سے باز آجاﺅ فارسی غلام۔“کمبل سے نکل کر اس نے توبہ شکن انگڑائی لی اور آگ کے قریب ہو گئی تھی۔
”میری آوازیں دینے پر بھی تم نہیں جاگ رہی تھیں۔سوچا کمزور لڑکی کو مزید چند لمحے آرام کرنے دوں۔“یشکر اٹھ کر کمبل کی طرف بڑھ گیا۔
قُتیلہ کی طبیعت تکرارپرآمادہ نہیں تھی۔وہ مشکیزہ اٹھا کر پانی پینے لگی۔یشکر کمبل میں غائب ہو گیا تھا۔
اس کی آنکھ گوشت بھننے کی اشتہاآمیز مہک سے کھلی تھی۔آفتاب کا زردچہرہ مشرق سے ابھر کر زور پکڑنے لگا تھا۔قُتیلہ نے شاید خرگوش کو آگ پر پکڑا ہوا تھا۔وہ کمبل سے باہر نکلا۔فطری تقاضے کے لیے جھاڑیوں کا رخ کرتے ہوئے اسے اپنے اندازے کی تصدیق کرتی خرگوش کی کھال اور آلائشیں نظر آگئی تھیں۔
اس کی واپسی تک قُتیلہ خرگوش کو بھون چکی تھی۔پانی پی کر وہ اس کے پاس جا بیٹھا۔قُتیلہ نے خرگوش کا بھنا ہوا گوشت اس کے سامنے رکھ دیاتھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ شکم سیر ہو آگے بڑھ گئے تھے۔
٭٭٭
مروان اور اغلب سے تفصیل سنتے ہی شریم نے مطمئن انداز میں سرہلایا۔
عریسہ فخریہ لہجے میں بولی۔”میری شہزادی ایسی ہی ہے۔“
بادیہ اور رشاقہ بھی خوش ہو گئی تھیں۔
عریسہ لہجے میں آس بھرتے ہوئے مروان اور اغلب کی طرف متوجہ ہوئی۔”اپنی ماں جی کے بارے اس نے کوئی پیغام نہیں بھیجا۔“
دونوں نے خفیف انداز میں دائیں بائیں سر ہلایا گویا قُتیلہ کی بے نیازی کے وہ ذمہ دار ہوں۔
شریم جلدی سے بولا۔”اس کا یشکر کے ساتھ جانا ظاہر کر رہا ہے کہ اسے اپنی ماں جی اور اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز سے کتنالگاﺅ ہے۔باقی فی الحال وہ تم سے ناراض ہے۔اسے سنبھلنے کے لیے تھوڑا وقت دو،دیکھنا ایک دن وہ خود تمھیں ملنے آئے گی۔“
عریسہ نے دکھی لہجے میں کہا۔”اس سے پہلے ہی عریسہ کو اس کا غم نہ لے ڈوبے۔“
”میں آپ کے پاس ہوں ناں ماں جی۔“بادیہ نے اسے بانہوں کے گھیرے لیتے ہوئے تسلی دی۔
”میں بھی۔“رشاقہ اس کے قریب سمٹ آئی تھی۔
شریم آنکھ سے اغلب اور مروان کو اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
”اپنی ایک چیز مجھے دے سکتی ہو۔“عریسہ، رشاقہ کو مخاطب ہوئی۔
رشاقہ نے جلدی سے کہا۔”حکم کریں ماں جی۔“
”اگر اس طوق کا سوال کروں۔“عریسہ نے رشاقہ کے گلے میں پہنے ہوئے سبز زمرد کے ہار کی جانب اشارہ کیا۔وہ پہلی نظر میں اس ہار کو پہچان گئی تھی جو کئی سال پہلے اس نے قُتیلہ کے گلے میں اپنے ہاتھوں سے ڈالا تھا۔
رشاقہ بجھے دل سے بولی۔”یہ ملکہ قُتیلہ کا تحفہ ہے۔“
”جانتی ہوں۔“عریسہ نے اثبات میں سرہلایا۔
”یہ لیں۔“چند لمحے گو مگو کیفیت میں بیٹھے رہنے کے بعد رشاقہ نے دل پر بھاری پتھر رکھ کر طوق عریسہ کی جانب بڑھا دیا۔
طوق لے کر عریسہ بادیہ کے گلے میں پہنانے لگی۔رشاقہ کو پہلے سے اندازہ تھا کہ وہ کچھ ایسا ہی کرے گی۔مگر وہ بغیرناک بھوں چڑھائے خاموش بیٹھی رہی۔
بادیہ خفیف ہوتے ہوئے بولی۔”یہ رشاقہ کے گلے میں اچھا لگ رہا تھا ماں جی۔“
”اچھا لگ رہا تھا لیکن قُتیلہ کی طرح نہیں لگ رہا تھا۔تمھارے گلے میں یہ اس کی طرح لگے گا۔“
بادیہ اپنے گلے سے سفید و سیاہ موتیوں کا قیمتی ہار نکال کر رشاقہ کی طرف بڑھایا۔”تم یہ پہن لو۔“
ہلکا تبسم ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے رشاقہ نے خوش دلی سے۔” شکریہ۔“کہا اور ہار قبول کر لیا۔سچے موتیوں کا ہار رشاقہ کے طوق سے کہیں قیمتی تھا لیکن اس کی طوق کی اہمیت قُتیلہ کی وجہ سے رشاقہ کی نظر میں بہت زیادہ تھی۔
بادیہ مزاحیہ انداز میں بولی۔”ماں جی،اب تو میں شمشیر زنی بھی سیکھ رہی ہوں ،دیکھ لینا جلد ہی آپ کی بیٹی قُتیلہ کو شکست دینے کے قابل ہو جاﺅں گی۔“
عریسہ کے جواب دینے سے پہلے رشاقہ بولی۔”قُتیلہ کو ہرانے کے لیے تمھاری استادکو بھی دس بہترین شمشیر زنوں کا ساتھ چاہیے ہوگا۔“
بادیہ کھل کھلا کر ہنسی۔”دس شمشیرزن کیوں ،میرے پاس یشکر موجود ہے ناں۔“
”ایسا نہیں کہتے میری جان۔“عریسہ نے مشفق لہجے میں تنبیہ کرتے ہوئے اس کی پیشانی چوم لی تھی۔
٭٭٭
دبا خلیج الفارس اور خلیج عمان کے سنگم پر واقع ایک ساحلی شہر تھا۔وہاں فارس اور ہند وغیرہ کے لیے بحری سفر کی سہولت موجود تھی۔بلکہ خلیج عمان میں جاتے ہی جہاز بحر ہند میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور اس سے آگے پوری دنیا کا رستا کھلا ہے۔ البتہ دبا سے ایران کے ساحلی شہر بالکل قریب تھے۔اس لیے زیادہ تر تجارت و آمدورفت ایران کے شہر تک محدود رہتی۔خلیج الفارس اور خلیج عمان کا سنگم جس مقام پر ہورہا ہے وہ جگہ خلیج الفارس کی اصل چوڑائی کے چوتھائی حصے سے بھی کم ہے۔اگر نقشے پر نگاہ ڈالی جائے تو یوں نظر آتا ہے جیسے دو پرندوں نے چونچیں ملائی ہوں۔
راستے میں صحار سے پہلے انھیں کافی قافلے ملے۔قُتیلہ اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بولی۔
یہ تمام قافلے صحار کے میلے سے پلٹ رہے ہیں۔رجب کے تیسرے عشرے میں یہ میلہ شروع ہوتا ہے۔اور امید ہے جس وقت ہم دبا پہنچیں گے وہاں کا بازار بھی سج چکا ہوگا۔وہاں دور دور سے مسافر خریداری کے لیے آتے ہیں۔“
یشکر نے پوچھا۔”تو تم انھی قافلوں کی بابت منقر کو احکامات دے رہی تھیں۔“
”ہاں۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”ایسے ہی قافلوں کو لوٹ کرہمیں گزاراکرنا پڑتا ہے۔“
یشکر نے امید ظاہر کی۔”میرا خیال ہے دبا کا میلہ ہمارے کام کو آسان بنا دے گا۔“
اس نے کہا۔”ملکہ قُتیلہ تم سے متفق ہے۔“
اگلے دو دن سفر میں گزار کر تیسرے دن وہ دبا کے مضافات میں داخل ہو رہے تھے۔ شہر سے باہر خیموں کا شہر بسا نظر آرہا تھا۔رجب کی آخری تاریخوں میں وہاں میلہ سجتا تھا۔ان دنوں مسافروں کی بہتات ہوتی اور کسی اجنبی کو کھوجتی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔یوں بھی دبا کے ساحل ہر وقت آباد ہی رہتے تھے۔ مسافروں کی کثیر تعداد کی بدولت سراﺅں میں سونے کی جگہ ملنا مشکل تھی۔البتہ کھانے پینے کے لیے گنجایش موجود تھی۔
سب سے پہلے ساحل پر جا کر انھوں نے مخنف بن فدیک کے جہازوں کے بارے پوچھا تھا۔ انھیں معلوم ہوا کہ جہازوں کی آمد جلد ہی متوقع تھی لیکن اب تک جہاز دبا پہنچے نہیں تھے۔وہ قُتیلہ کے ساتھ دبا کے بازار میں پلٹ آیا۔سورج مغرب کی جانب جھک گیا تھا۔ایک وسیع سراے کو دیکھتے ہی قُتیلہ نے سرخی مائل باریک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے کہا۔”ملکہ قُتیلہ کاجی سالن اور گندم کی روٹی کھانے کو کر رہا ہے۔“
”چلو۔“یشکر سراے کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
سراے کے احاطے میں چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں۔غروب آفتاب سے پہلے ہی مختلف مسافر کھاناکھانے میں مشغول تھے۔ گھوڑے سراے کے وسیع احاطے میں گڑی اینٹھیوں سے باندھ کر وہ چٹائیوں کی طرف بڑھ گئے۔وہاں دوسروں کے گھوڑے اور اونٹ بھی بندھے تھے۔
دوسرے مسافروں کی مانند وہ بھی ایک خالی چٹائی پر بیٹھ گئے تھے۔مختلف عمر کے غلام مسافروں کے سامنے کھانے کے برتن رکھ رہے تھے۔پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ اونٹ کے گوشت کا شوربہ اور مچھلی کا سالن دستیاب تھے۔قُتیلہ نے مچھلی کے سالن میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
ایک نوعمر لڑکا ان کے لیے چھنے ہوئے آٹے کی روٹیاں اور مچھلی کے سالن کی رکابیاں لے آیاتھا۔ساتھ میں دو آب خورے سرخ شراب کے بھی تھے۔ پچھلے چند دنوں سے ان کا گزارا خشک کھجوروں یا بھنے ہوئے گوشت پر تھا۔سالن اور روٹیوں کے ساتھ انھوں نے خوب انصاف کیا تھا۔سرخ شراب کے بھی دو دو آب خورے حلق میں انڈیل گئے تھے۔
ایک ادھیڑ عمر ملازم کھانے سے فارغ ہونے والوں سے معاوضا لے رہا تھا۔اس کے عقب میں ایک موٹا تازہ مسلح حبشی غلام بھی موجود تھا۔یقینا وہ مسافروں پر رعب ڈالنے کے لیے اس کے ساتھ تھا۔سراے کے وسیع احاطے میں چاروں اطراف کی دیواروں کے ساتھ بھی ہتھیار بند محافظ موجود تھے۔انھیں کھانے سے فارغ دیکھ کر رقم وصول کرنے والا قریب آیا۔تبھی دونوں کی نظریں ایک دوسرے کی جانب اٹھیں۔قُتیلہ نے سر کی ہلکی سی جنبش سے اسے معاوضا ادا کرنے کااشارہ کیا۔
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”میرے پاس تو چاندی یا سونے کے سکے موجود نہیں ہیں۔“
”پہلے کیوں نہیں بتایا۔“قُتیلہ کا منھ بن گیا تھا۔
”تمھی نے کھانے کا مشورہ دیا تھا۔ سوچا شاید تمھارے پاس چند درہم پڑے ہوں گے۔“
قُتیلہ معاوضا وصولنے والے کی طرف متوجہ ہوئی۔”ہمارے پاس دو تین مُدّ (مُدّ وزن کا ایک پیمانہ ہے جو قریباََایک کلو سے تھوڑا کم ہوتا ہے)ہرن کا بھنا ہوا گوشت موجود ہے۔ایک رطل(رطل بھی وزن کا پیمانہ ہے جو قریباََ ادھ کلوکے برابر ہوتا ہے) عمدہ تمر بھی ہوگئی۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”یہاں رومی اور ایرانی سونے وچاندی کے سکے قبول کیے جاتے ہیں۔اور تمھیں چاندی کا پورا سکہ دینا پڑے گا۔“
یشکر فکرمندی سے بولا۔” ہمارے پاس سونے چاندی کے سکے موجودنہیں ہیں۔“
وہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولا۔”مفت خوروں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا ہے۔“ اس کے عقب میں موجود حبشی غلام بھی یشکر اور قُتیلہ کو کڑے تیوروں سے گھورنے لگا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: