Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 53

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 53

–**–**–

یشکر نے افسوس بھرے انداز میں سرہلایا۔”ایسا غلط فہمی میں ہوا ہے بھائی۔اورسونے چاندی کے سکوں کے علاوہ بھی تو معاوضا ادا کرنے کا کوئی طریقہ ہوگا؟“
وہ قُتیلہ کے کانوں میں پہنی سونے کی بالیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بے شرمی سے بولا۔”اس دوشیزہ کی طلائی قرط کے آپ کو دس چاندی کے سکے مل سکتے ہیں۔“
قُتیلہ بگڑ کر بولی۔”ہنسنے کے لیے تمھیں ملکہ قُتیلہ ہی ملی ہے۔“(عرب ہنسنے کو مذاق نہیں ٹھگنے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔جب کہا جائے کہ فلاں شخص، فلاں پر ہنسا تو اس کا مطلب ہوتا کہ اس نے دوسرے کو ٹھگ لیا)
ملازم استہزائی لہجے میں بولا۔”ایسی مفلس ملکہ پہلی بار دیکھ رہاہوں۔بہ ہرحال طلائی قرط نہیں اتارنا تو تمھیں ایک گھوڑے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔بے شک ساتھ چاندی کے دس سکے بھی لے لینا۔اس طرح دس دن آرام سے کھانا کھاسکو گے۔“
”کسی کی جرّات کہ ملکہ قُتیلہ کے مشکی کو ہاتھ لگائے۔“قُتیلہ بھڑک اٹھی تھی۔
”ٹھہرو۔“حبشی غلام کے نتھنوں سے غصے کی پھنکار سن کر یشکر نے ہاتھ اٹھا کر کسی سخت ردعمل کے اظہار سے روکا۔”یہ کیسا رہے گا؟“یشکر نے چاندی کا بازو بند(بازو کے موٹے مسل پر پہنا جانے والا زیور) اتار کر وصولی کرنے والے کی طرف بڑھایا۔
”یہ لو۔“پانچ چاندی کے سکے یشکر کے ہاتھ پر رکھ کر وہ قُتیلہ پر گہری نگاہ ڈالتا ہوابے پروائی سے آگے بڑھ گیا۔
یشکر خون کے گھونٹ بھر کر رہ گیا تھا۔چاندی کا بازو بند کافی وزنی تھا جو سرائے کے ملازم نے کوڑیوں کے مول ہتھیا لیا تھا۔
قُتیلہ کا نقرئی قہقہ بلند ہوا۔”چلو پانچ دن تو سالن اور چھنے ہوئے آٹے کی روٹیاں کھالیں گے۔“
”اب اٹھ جاﺅ۔اور یاد رکھو کہ تم بنو طرید میں نہیں متمدن شہر میں موجود ہویہاں تلوار سونتناہمیں کسی مصیبت میں پھنسا سکتا ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو ڈرنا نہیں آتا۔“
یشکر طنزیہ انداز میں بولا۔”تومرنا پڑے گا۔“
”ہو سکتا ہے۔“اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”لیکن یہ طے ہے کہ اس سے پہلے کافی سروں کو دھڑ سے جدا ہونا پڑے گا۔“(مطلب بہت ساروں کو قتل کر کے مروں گی)
یشکرنے سرزنش کرتے ہوئے کہا۔۔”تمھاری سوچ جھگڑے فساد سے شروع ہو کر قتل و غارت پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ غصے پر قابو پانا سیکھوتم سردارن ہو کوئی عام عورت نہیں۔“گھوڑے کھول کر وہ سراے سے باہر نکل آئے تھے۔سورج کا طشت زردرو ہو کر افق کی دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔

وہ حقارت سے بولی۔” خود پرقابو نہ پا سکتی تو ملکہ قُتیلہ کو مفلس کہنے والے بد بخت کی قسمت میں آج کے سورج کاغروب دیکھنا نہ لکھا ہوتا۔“
”ہمارے خیمے میں اتنی گنجایش موجود ہے کہ دُنبالہ آنکھوں والی دوشیزہ شب بھر راحت سے لیٹ سکے۔“پیٹھ پیچھے ابھرنے والی آواز نے انھیں پلٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔عقب میںمو جود دونوں جوان کھانا کھاتے وقت ان کے ساتھ والی چٹائی پر بیٹھے تھے۔اور کھانے کے معاوضے کی ادائی کا سارا تماشا ان کی آنکھوں کے سامنے ہی ہوا تھا۔یقینا قُتیلہ اور یشکر کو تہی دامن مسافر سمجھ کر انھیں یہ کہنے کی جرّات ہوئی تھی۔
”اور یہ….؟“قُتیلہ نے چہکتے ہوئے یشکر کی طرف اشارہ کیا۔
ایک نے سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔”ہمارے غلاموں کی عریش میں اسے بستر لگانے کی اجازت ہو گی۔وہاں دو غلام بھی ہوتے ہیں یہ بھی آرام کر لے گا۔“
قُتیلہ شوخی سے ہنسی۔”کیا خیال ہے فارسی غلام۔“
”میں تو کھلے آسمان تلے سونا پسند کروں گا۔“یشکر نے نیازی سے کندھے اچکائے۔
”اس ناقدرے کوجانے دو نیک دل حسینہ۔ہم حسن کے اصل قدردان ہیں۔ہمارا وسیع اور عمدہ خیمہ تم جیسی دوشیزہ کی استراحت کے لیے موزوں ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ رات جاگ کر نہیں گزار سکتی۔“وہ اجنبیوں کے ساتھ جانے پر مصر ہوئی۔
یشکر نے نفی میں سرہلایا۔” صرف رات گزارنے کے لیے چار آدمیوں کے قتل کی حمایت میں نہیں کرسکتا۔“
”بزدل۔“منھ بناتے ہوئے وہ اجنبیوں کی طرف مڑی۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے قُتیلہ کی زوردار لات ایک کے پیٹ میں لگی وہ ہوا میں اڑتا ہوا پیچھے جاگرا۔اس کا ساتھی ششدر رہ گیا تھا۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نرم و نازک نظر آنے والی دوشیزہ کی لات میں اتنی طاقت پوشیدہ ہوگی۔اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے قُتیلہ نے اس کے پیٹ میں بھی لات جڑ دی تھی۔وہ بھی اٹھنے کی کوشش میں مصروف اپنے ساتھ سے جا ٹکرایا۔دونوں لمبے پڑ گئے تھے۔
”چلو۔“گھوڑے کی لگام تھام کر وہ یشکر کے ہمراہ آگے بڑھ گئی۔
یشکر نرمی سے بولا۔”اگر سچ میں آرام کا ارادہ ہے تو سراے کے ملازم سے بات کی جا سکتی ہے۔“
قُتیلہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔”اتنی بھیڑ ہے ،مشکل ہے کہ آرام کے لیے جگہ مل جائے۔“
”پوچھ لینے میں ہرج ہی کیا ہے۔“یشکرواپس مڑ گیا۔
وہ سنجیدگی سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ نے مذاق کیا تھا کہ جاگ کر رات نہیں گزار سکتی۔“
یشکر نے اثبات میں سر ہلایا۔”جانتا ہوں۔لیکن کوشش کرنے میں ہرج ہی کیا۔“
وہ کندھے اچکا کر خاموش رہی۔دونوں مضروب اپنے پیٹ کو ہاتھوں سے دبائے اب تک وہیں کھڑے تھے۔ملگجے اندھیرے میں چند قدم دور ہی سے انھیں پہچان لیا تھا۔ان کی واپسی کو کوئی اور رخ دے کر وہ سراسیمگی کی حالت میں بھاگ پڑے تھے۔قُتیلہ کھل کھلا کر ہنسی۔
”کہاں جا رہے ہو۔ملکہ قُتیلہ کے ساتھ رات نہیں گزارنا۔“
ان کی طرف سے جواب نہیں آیا تھا۔
”خفا ہیں شاید۔“قُتیلہ نے دانت نکالے۔
یشکر نے تبصرہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
سراے میں داخل ہوکر اس نے قُتیلہ کو احاطے میں رکنے کا اشارہ کیااور برآمدے کی طرف بڑھ گیا۔لمحہ بھر بعد وہ معاوضا وصولنے والے شخص کو روک کر اپنا مسئلہ بتا رہا تھا۔دوستانہ فضا قائم کرنے کے لیے یشکر نے اپنا نام بتا کراس کا نام پوچھنا بھی ضروری سمجھا تھا۔
مخاشن بن عرفجہ نام بتا کر اس نے محتاط انداز میں دائیں بائیں دیکھااوریشکر کو کہنی سے پکڑکر ایک طرف لے جا کر کہا۔
”اکیلے ہو یا مِرگ نین(غزال کی سی آنکھوں والی) بھی ساتھ ہے۔“
”جی دونوں۔“بہ مشکل غصے پر قابو پاتے ہوئے اس نے اثبات میں سرہلایا۔
”ان حالات میں کوئی حجرہ تو خالی نہیں ہے۔البتہ سراے کے عقبی جانب میری رہایش کے ساتھ ایک کوٹھڑی ہے۔دو چاندی کے سکے ایک رات کا معاوضا ہوگا۔تمھارے گھوڑوں کو چارہ بھی ملے گا۔ صبح کا کھانابھی کھلاﺅں گا۔“
”منظور ہے۔“یشکر نے مسرت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے چاندی کے دوسکے اس کی جانب بڑھا دیے۔
اسے ساتھ آنے کا اشارہ کرتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔یشکر نے احاطے میں کھڑی قُتیلہ کی طرف دیکھا۔ برآمدے میں جلنے والی مشعلوں کی روشنی میں اس کاہیولہ ہی نظر آرہا تھا۔یشکر نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔وہ گھوڑوں کی لگامیں تھامے ان کے پیچھے چل پڑی۔
گھوڑوں کا اصطبل سراے کی وسیع عمارت کی عقبی دیوار کے ساتھ بنا تھا۔اصطبل کے ساتھ ہی سراے کا عقبی دروازہ تھا جو عموماََ بند ہی رہتا تھا۔ دروازہ پتھر کے دو ستونوں میں اِستادہ تھا۔دونوں ستونوں میں طاقچے بنے ہوئے تھے جس میں سرِ شام ہی دو چراغ جلادیے گئے تھے۔ دو پہرے دار بھی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے موجود تھے۔میزبان کی معیت میں چلتے ہوئے اصطبل میں داخل ہوکر انھوں نے گھوڑوں کو اس کی بتائی ہوئی جگہ پر باندھااورپھر اصطبل سے پچاس ساٹھ قدم آگے ایک چھوٹے سے احاطے میں پہنچ گئے۔ احاطے میں دو کمرے بنے ہوئے تھے۔نسبتاََ چھوٹے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔طاقچے میں رکھا چراغ روشن کر کے اس نے دونوں کو اندر بلالیا۔فرش پر چٹائی اور اس کے اوپربھیڑ کی اون کے بھرے ہوئے گدے رکھے تھے۔چمڑے کے غلاف والے تین تکیے اورساتھ تین ہلکے کمبل بھی پڑے تھے۔صاف لگ رہا تھا جیسے وہ کمرہ پہلے بھی استعمال کیا جاتا رہا تھا۔
”صبح طلوع آفتاب کے ساتھ رخصت ہونا پڑے گا۔“قُتیلہ کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے بے مروتی سے کہا اور باہر نکل گیا۔
یشکر نے دروازے کے کواڑ بند کردیے۔البتہ دروازے کو اندر سے بند کرنے کے لیے کوئی چول،چٹخنی یا کنڈی موجود نہیں تھی۔
قُتیلہ ترکش ،کمان اور نیام وغیرہ کھول کر سرہانے کی طرف رکھنے لگی۔فرش پر تین بستر بچھے تھے۔قُتیلہ کے ساتھ والا بستر چھوڑ کر یشکر آخری بستر پر لیٹ گیا۔بدن بھر کی بے آرامی کی وجہ سے جلد ہی اسے نیند نے آلیا تھا۔اس سے پہلے قُتیلہ کے بھاری سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔
اس کی آنکھ دروازہ کھلنے کی آواز سے ہوئی تھی۔جسمانی تھکن اور مسلسل بے آرامی یشکر کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی تھیں کہ وہ بے سدھ ہو کر سوتا۔سکندر نے اس کی تربیت اس نہج پر کی تھی کہ گویا وہ ایک آنکھ کھلی رکھ کر سوتا تھا۔سکندر کے نزدیک ایک جنگجو کے لیے غفلت کی نیندسونا حماقت کی علامت تھا۔
آنکھیں کھلتے ہی اسے اپنا میزبان مخاشن بن عرفجہ تین مسلح افراد کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوتا دکھائی دیا۔ قُتیلہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔
”صبح ہو گئی ہے۔“قُتیلہ کی آواز میں حیرانی تھی۔
”تمھیں میرے ساتھ جانا ہوگاچھوکری۔“مخاشن کی مکروہ آواز ابھری۔قُتیلہ کی سمجھ میں فوراََ ہی اس کا مطمح نظر آگیا تھا۔
”کیا یہ بھی رات گزارنے کے معاہدے میں شامل تھا۔“وہ منھ بناتے ہوئے یشکر کی طرف متوجہ ہوئی۔
”مجھ سے پوچھو میری جان۔“مخاشن قربان ہونے والے لہجے میں بولا۔”یقینا قسمت کی دیوی مجھ پر خصوصی مہربان تھی کہ تم لوگوں نے یہاں قیام کا فیصلہ کیا۔“
یشکر سخت لہجے میں بولا۔”مجھے نہیں لگتا تم پہلی بار ایسی گھٹیا حرکت کر رہے ہو۔“دروازے کی اندرونی کنڈی کے غائب ہونے سے یشکر کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کنڈی کا نہ ہونا اتفاق نہیں سوچی سمجھی تدبیر کے تحت تھا۔
وہ مکروہ لہجے میں بولا۔”یہ کوٹھڑی صرف انھیں افراد کو شب بسری کے لیے دی جاتی ہے جن کے ساتھ کوئی خوب صورت عورت ہو۔“
یشکر نے اسے بچانا چاہا۔”اپنے حال پر رحم کرو،تم نے نادانستگی میں ابو فراس (شیر)کی دم پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔“ (یعنی شیر کی دم پکڑنے والے کا انجام موت کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے )
مخاشن اسے جھڑکتا ہوا بولا۔”یہ ڈینگیں رہنے دولڑکے۔اگر تم سے کچھ ہو سکتا تورس بھری سے دور نہ لیٹے ہوتے۔ اب تمھارے لیے یہ کر سکتا ہوں کہ رات گزارنے کا لیا ہوا معاوضا لوٹا دوں۔صبح سویرے تمھیں یہاں سے غائب ہونا پڑے گا۔کیوں کہ یہ رسیلی کچھ عرصہ میرے پاس رہے گی۔“
قُتیلہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”یہ بھی چار ہیں۔ان کے بارے بھی سردار یشکر بن شریک کی رگِ ہمدردی پھڑکے گی یا ملکہ قُتیلہ کی روش پر عمل ہوگا۔“
”کیا کر سکتے ہیں۔“افسوس بھرے لہجے میں کہتے ہوئے یشکر نے صاعقہ کے دستے پر ہاتھ رکھا۔
”مارے جاﺅ گے جوان تم نہیں جاآہ ہ ہ……..“مخاشن نے کڑے لہجے میں تنبیہ کی کوشش کی لیکن اس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے قُتیلہ کمان کی تانت کی طرح اچھل کر کھڑی ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں خم دار خنجر تھا۔مخاشن کا نرخرہ ادھیڑتے ہوئے ایک جانب پھینکا اور عقب میں موجود تلوار بدست کی طرف بڑھی۔
اس اثناءمیں یشکر، صاعقہ کو بے نیام کر کے حملہ کر چکا تھا۔دروازے کے قریب کھڑے افراد نے گھبرا کر دفاعی انداز میں تلواروں کو حرکت دی لیکن احمقوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ بے خبری میں کس جگہ سر پھنسا بیٹھے تھے۔لمحہ بھر بعد ہی وہاں چار اجسام اذیت سے تڑپ رہے تھے۔وار کرنے والے ایسے ماہر تھے کہ مقتولوں کے حلق سے خرخراہٹ کے علاوہ کچھ برآمد نہیں ہوپارہا تھا۔
” صرف رات گزارنے کے لیے چار آدمیوں کے قتل کی حمایت میں نہیں کرسکتا۔“قُتیلہ نے منھ بگاڑکر یشکر کا فقرہ دہرایا۔”بڑا آیارحم دل۔یہ چار اور عقبی دروازے پر موجود دومحافظ۔کل ملا کر چھے ہوئے۔اتنے آدمیوں کا قتل وہ بھی نصف شب کے آرام کی خاطر،کیا رحم دلی ہے یشکر بن شریک کی۔“
یشکر لاشوں کے لباس سے صاعقہ کی دھار صاف کرتا ہوا بولا۔”اور اس کی وجہ ہے تمھارا منحوس چہرہ۔“
”یقینا تم ان کے ساتھ لیٹنا نہیں چاہو گے۔“قُتیلہ بھڑک اٹھی تھی۔
”ان چونچلوں کا وقت نہیں ہے۔“یشکر نے فضول تکرار سے گریز کرتے ہوئے جھک کرمخاشن کی تلاشی لی۔اس کی کمر سے سکوں کی بھری ہمیانی (کمر سے باندھنے والی رقم رکھنے کی تھیلی) کھول کراپنی کمر سے باندھی ،اپنا بازو بند وصول کیااور مرنے والوں کی تینوں تلواریں اٹھا کر ایک چادر میں لپیٹ لیں۔
”چلو۔“ کڑے تیوروں سے گھورتی قُتیلہ کو باہر نکلنے کا اشارہ کرتے ہوئے و ہ آگے بڑھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ گھوڑوں کی لگام تھامے عقبی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔اندرونی عمارت کی اکادکا کھڑکیوں سے چراغ کی مدہم روشنی جھانک رہی تھی۔ انھیں دیکھتے ہی محافظوں نے درشت لہجے میں تعارف پوچھا۔
”مسافر ہیں۔لمبی مسافت طے کرنی ہے اس لیے آدھی رات کو سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔“ یشکر نے انھیں بچانے کی آخری کوشش کی تھی۔
پہرے دار رکھائی سے بولا۔”بغیر مالک کی اجازت کے یہ دروازہ کسی کے لیے نہیں کھولا جاتا۔“دوسرا ساتھی بھی قریب آکر ان کا جائزہ لینے لگا تھا۔چراغوں کی ناکافی روشنی میں وہ قُتیلہ کا چہرہ دیکھنے کی کوشش میں تھے۔
یشکر کے مزید کچھ کہنے سے پہلے قُتیلہ تلوار بے نیام کرتے ہوئے غصے سے بولی۔”فارسی غلام، پکے ہوئے سروں کو گرانا ہی بہتر ہوتا ہے۔“(یعنی جیسے پھل پک کر گرتا ہے ایسے ہی رکاوٹ پیدا کرنے والے افراد کے سر وں کو بھی کٹ کر گرنا پڑتا ہے)یہ کہتے ہوئے اس نے نزدیک کھڑے شخص کی گردن پر زوردار وار کیااور پھررکے بغیر اس کی تلوار دوسرے پہرے دار کی گردن کا پتا پوچھ چکی تھی۔
دونوں نیچے گر کر اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگے۔وہ ان کے لباس سے تلوار صاف کرنے لگی جبکہ یشکر ان کی کمر سے بندھے نیام کھولنے لگا۔اپنے ساتھیوں کو آزاد کرانے کے بعد انھیں ہتھیاروں کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔یوں بھی عربوں کے نزدیک تلوار نہایت قیمتی اور ضرورت کی چیز تھی۔ اور ہاتھ آئی دولت کو وہ کہاں چھوڑ سکتے تھے۔
دونوں تلواروں کو اس نے پہلی والی تلواروں کے ساتھ چادر میں لپیٹا اور فِت±راک سے باندھ دیں۔(فِتراک گھوڑے کی زین کے ساتھ لگے تسموں کو کہتے ہیں جن سے شکاری اپنا شکار باندھتے ہیں)
اس اثناءمیں قُتیلہ دروازے کو کھول چکی تھی۔باہر نکل کر انھوں نے دروازے کے کواڑ بند کیے اور گھوڑوں پر سوار ہو گئے۔
”کہاں جائیں گے؟“خلاف توقع قُتیلہ کی آواز میں طنز عنقا تھا۔
یشکرنے اطمینان سے مشورہ دیا۔”کسی دوسری سراے کا رخ کرنے پر بھی جگہ ملنا مشکل ہے۔اب کھلے آسمان کے تلے لیٹنے سے بہترہوگا کسی گھنے درخت کے نیچے ڈیرہ لگا لیں۔“
قُتیلہ نے ملامتی لہجے میں دریافت کیا۔”اور اس اندھیرے میں گھنا درخت تلاش کیسے کریں گے؟“
یشکر گھوڑے کو مخصوص سمت میں موڑتے ہوئے بولا۔”شہر کے جنوبی جانب مجھے نخلستان نظر آیا تھا۔“
قُتیلہ خاموشی سے اس کے پیچھے ہولی۔یشکرنے نخلستان کو ڈھونڈنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔نیچے اتر کر وہ ابلق کو کھجور کے تنے سے باندھنے لگا۔قُتیلہ بھی مشکی کو باندھتے ہوئے بولی۔”دونوں کمبل ملکہ قُتیلہ کے حوالے کرو،اب ملکہ قُتیلہ آرام سے لیٹے گی۔“
یشکر رکھائی سے بولا۔” تمھارا غلام نہیں ہوں۔“
اس نے اطمینان بھرے لہجے میں کمبل نیچے بچھاتے ہوئے کہا۔”ملکہ قُتیلہ کو پروا نہیں ہے کہ تم کیا ہو۔ تمھارے غلط فیصلے کی وجہ سے رات کے اس پہر بے آرام ہونا پڑا۔ ذمہ داری قبولنا پڑے گی۔“
وہ یشکر کے کام کے لیے دبا آئی تھی۔دوسرا لڑکی ذات بھی تھی۔یشکر نے مزید تکرار سے گریز کرتے ہوئے کمبل اس کی طرف بڑھا دیا۔
شکریہ ،مہربانی جیسے الفاظ قُتیلہ کے لغت میں موجود نہیں تھے۔زین پر سر ٹیک کر اس نے یشکر والا کمبل اوڑھا اور آنکھیں بند کر لیں۔
یشکر گھوڑے کی زین نیچے رکھ کرکھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔خنکی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ وہ کانپنے لگتا۔یوں بھی سردی وگرمی کو برداشت کرنے کی زائد صلاحتیں اس میں موجود تھیں۔دور میدان میں چند جگہوں پر آگ کے بھڑکتے شعلے ظاہر کر رہے تھے کہ کھلے آسمان تلے رات گزارنے والے وہ اکیلے نہیں تھے۔بیٹھے بیٹھے اسے اونگھ آگئی تھی۔
صبح کاذب کے قریب ہلکی سی آہٹ پر اس نے آنکھیں کھولیں۔چوبیس پچیس کے چاند کی جھینپی جھینپی روشنی میں اسے قُتیلہ بھرپور انگڑائی لیتی نظر آئی۔
”دو گھڑی کمر سیدھی کر لو۔“وہ کمبل سے باہر نکل آئی تھی۔
وہ بے اعتنائی سے بولا۔”شکریہ ،میں بھرپور نیند لے چکا ہوں۔“
وہ استہزائی لہجے میں بولی۔” جھوٹ بولنا چھوڑ نہیں سکتے ،کم از کم جھوٹ بولناسیکھ تو جاﺅ۔“
” مرد ہوں ،تمھاری طرح کمزور اور نرم و نازک نہیں ہوں۔“
”ہونہہ۔“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”ملکہ قُتیلہ کو مردانگی دکھانے والا ہنوز مادر شکم میں ہے۔“
یشکر نے جھلاتے ہوئے کہا۔”ہر بات میں ضد و ہٹ دھرمی دکھانا شاید تمھارا مذہب ہے۔“
وہ اکھڑپن سے بولی۔”ملکہ قُتیلہ ،احسان لینے کی عادی نہیں ہے فارسی غلام۔“
یشکر اس کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھا۔وہ لڑکی ہونے کا فائدہ اٹھانے کے بالکل خلاف تھی۔اسے مردوں سے نیچا ہونا گوارا نہیں تھا۔ یشکر نرمی سے سمجھانے کی کوشش کرتا تو اس نے ہتھے سے اکھڑ جانا تھا۔یشکر کی نوازشیں تو یوں بھی اس کی آنکھوں میں کھٹکتی تھیں۔ وہ اصرار کیے بغیر بستر کی طرف بڑھ گیا۔
قُتیلہ ،بالکل اسی کے انداز میں زین پر نشست سنبھالتے ہوئے درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔
٭٭٭
طلوع آفتاب کے بعد وہ تیار ہو کر ساحل کی طرف چل پڑے۔مخاشن بن عرفجہ والی سراے میں کافی ہلچل نظر آرہی تھی۔وہ بے پروائی سے سراے کے قریب سے گزر تے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔
بندرگاہ پر کافی بھیڑ تھی۔تھوڑی دیر پہلے ہی تین جہاز لنگر انداز ہوئے تھے۔
”ملکہ قُتیلہ کو بھوک لگی ہے۔“
یشکر کھوجتی نظروں سے جہازوں کو گھوررہا تھا۔قُتیلہ کے واویلے پر قریبی سراے کا رخ کرتا ہوا بولا۔”چلیں پہلے کچھ کھا لیتے ہیں۔“
سراے میں داخل ہوتے ہی ایک غلام نے موّدب انداز میں ان کے گھوڑوں کی لگامیں تھام لی تھیں۔مسافروں کے بیٹھنے کے لیے لکڑی کی کرسیاں ،موڑھے اور کھانے کے برتنوں کے لیے کم اونچائی والی میزیں رکھی تھیں۔یہ گزشتا سراے سے زیادہ آرام دہ اور سہولیات والی تھی۔لکڑی کے تخت پر بیٹھا سراے کا مالک فارسی النسل لگ رہا تھا۔دبا صحرائے اعظم کا ساحلی شہر تھا اور وہاں ایران کی ترقی کے اثرات عرب کے اندرونی علاقوں کی نسبت بہت زیادہ تھے۔انھیں سراے کے مالک کے تخت کے قریب ہی خالی جگہ ملی تھی۔
ایک ملازم نے انھیں سراے میں دستیاب کھانوں کی معلومات دیں۔مچھلی ،اونٹ کے گوشت کے بھنے ہوئے پارچے ،بکرے کے گوشت کا شوربہ اور تلبینہ۔
وہ معصومیت بھرے لہجے میں پوچھنے لگی۔”ملکہ قُتیلہ نہیں جانتی تلبینہ کیا ہوتا ہے؟“
”یہ شیریں حلوہ ہوتا ہے کھانے کے بعدتناول کریںگے۔“یشکر اس کی معلومات میں اضافہ کرتا ہواملازم کوبولا۔”تلی ہوئی مچھلی ،بکرے کے گوشت کا شوربہ اور تلبینہ لے آﺅ۔“
کھانا کھاتے ہوئے یشکر کا دھیان سراے کے مالک کی طرف تھا۔وہ فارسی زبان(فارس میں اس وقت ساسانی پہلوی بولی جاتی تھی)میں اپنے غلام کو مخاطب تھا۔
ان کی گفتگو کا لب لباب یہی تھا کہ سراے کا مالک مکران میں موجود اپنے گھروالوں کو چٹھی بھیجنا چاہ رہا تھا۔اس مقصد کے لیے اس نے کسی کاتب کو بلوایا تھا لیکن بد قسمتی سے کاتب کی طبیعت خراب تھی اوراس نے آنے معذوری ظاہر کی تھی۔
سراے کے مالک کا اصرار جاری تھا۔”اسے بتانا تھا کہ میں بہت مصروف ہوں۔“
غلام بے بسی سے بولا۔”بتایا ہے مالک،مگر وہ بخار میں تپ رہا ہے اس لیے یہاں نہیں آسکتا۔“
مالک مصر ہوا۔” زیادہ معاوضے کا لالچ دینا تھا۔اسے بتانا گھڑی بھر کے لیے آجائے۔اتنا لمبا مراسلہ نہیں ہے بس دو تین ضروری باتیں تحریر کرناہیں۔“
چابک دست غلام بولا۔”ایسا کر چکا ہوں مالک۔وہ انکار نہیں کر رہا۔ایک کاتب کا روزگار ہی یہی ہوتا ہے۔ اس طبیعت سچ میں بہت خراب ہے۔“
یشکر پیچھے مڑ کرسراے کے مالک کی طرف متوجہ ہوا۔”محترم ،قلم،روشنائی اورتختی منگوا لوکھانے سے فارغ ہو کر میں چٹھی لکھ دیتا ہوں۔“
سراے کے مالک کے چہرے پر خوشگوارحیرانی نمودار ہوئی۔”آپ پر اہورمزدا کی برکتیں ہوں ،کیا آپ لکھ لیتے ہیں۔“
”کہا ناں متعلقہ سامان منگوا لو۔“پر اعتماد لہجے میں کہتے ہوئے یشکر تلبینہ کھانے لگا۔قُتیلہ اس سے پہلے اپنی رکابی خالی کر چکی تھی۔کھانا کھا کر یشکر دو تین قدم لے کر سراے کے مالک کے قریب ہوا۔اس نے کھڑے ہو کر معانقے کے لیے بازو پھیلا دیے تھے۔رسمی کلمات کی ادائی کے بعد اس نے یشکر کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا۔قُتیلہ بھی جگہ چھوڑ کر تخت کے قریب رکھے موڑھے پر بیٹھ گئی تھی۔
”اشیم کے سراے میں خوش آمدید خانم۔“اس نے قُتیلہ سے بھی فارسی میں بات کی تھی۔
وہ سوالیہ نظروں سے یشکر کی جانب دیکھنے لگی۔
”یہ اس سراے کا مالک اشیم بن اقیش ہے اور تمھیں خوش آمدید کہہ رہا ہے۔“
وہ اشیم کو مخاطب ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ فارسی نہیں جانتی۔“
وہ خوش دلی سے مسکرایا۔”کوئی بات نہیں خانم،میں تو عربی جانتا ہوں نا۔“
اس نے منھ بنایا۔”تم خانم سے نہیں، ملکہ قُتیلہ سے مخاطب ہو۔“
یشکر جلدی سے بولا۔”خانم، قابل احترام خاتون کو کہتے ہیں۔“
وہ سرد مہری سے بولی۔”کہتے ہوں گے۔لیکن ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ کہلوانا پسند ہے۔“
” ناگوار لگا تو معافی چاہتا ہوں ملکہ قُتیلہ۔“اشیم نے ندامت کے اظہار میں دیر نہیں لگائی تھی۔
اسی اثناءمیں غلام لکھنے کا مطلوبہ سامان لے آیا تھا۔یشکر نے کاغذ سیدھا کر کے لکڑی کی تختی پر رکھااور اشیم کی طرف دیکھنے لگا۔( حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بھی بہت پہلے کاغذ کی ابتدائی شکل وجود میں آگئی تھی۔لیکن وہ اتنا عام نہیں تھا۔لوگ عموماََچمڑے کے ٹکڑوں ،پتھروں ،کتبوں وغیرہ پر تحریر لکھتے تھے۔زمانہ جاہلیت کا شاعر طرفہ اپنے ایک شعر میں محبوب کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے ”گال شامی کاغذ کی طرح“ )اشیم تفصیلات بتانے لگا۔اور اس وقت قُتیلہ کو معلوم ہوا کہ سراے کا مالک یشکر کا اتنا اکرام کیوں کر رہا ہے۔وہ حیرانی سے یشکر کو لکھتا دیکھتی رہی۔آمد اسلام سے پہلے عربوں میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا۔
یشکر نے مراسلہ مکمل کر کے روشنائی پر باریک خاک چھڑکی تاکہ روشنائی خشک ہوجائے۔ اور پھر اسے مخصوص انداز میں لپیٹ دیا۔
قُتیلہ نے پوچھا۔” عربی بھی لکھ لیتے ہو؟“
یشکر نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔
وہ منھ بناتے ہوئے بولی۔”اگر ملکہ قُتیلہ تم سے نفرت نہ کرتی توتم سے لکھنا ضرور سیکھتی۔“
اشیم بن اقیش نے متعجب ہوکر فارسی میں پوچھا۔”یہ آپ کی کیا لگتی ہے؟“
یشکر شرارت سے بولا۔”لونڈی ہے۔“
”کک….کیا….محترم آپ شایدمذاق کر رہے ہیں۔“اشیم بن اقیش ہکلا گیا تھا۔
”نہیں۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”تم شاید نام کی وجہ سے حیران ہو رہے ہو ملکہ قُتیلہ اس کا نام ہے۔ورنہ کیا شکل و صورت سے ملکہ لگتی ہے۔“قُتیلہ اپنا نام سن کر چونک کر کھوجتی نگاہوں سے یشکر کو گھورنے لگی تھی۔
”ہاں۔“اشیم نے فوراََ ہی اثبات میں سرہلایا۔”شکل سے تو ملکہ ،شہزادی،رانی ،راج کماری سب کچھ لگتی ہے۔البتہ لباس کچھ عام سا ہے۔“
یشکر وضاحت کرتا ہوا بولا۔”شکل و صورت سے میری مراداس کا حلیہ اور لباس ہی ہے۔“
”بیچنا چاہو تو منھ مانگی قیمت دے سکتا ہوں۔“اشیم بن اقیش نے جھجکتے ہوئے پیش کش کی۔
یشکر نے سنجیدہ شکل بنا کر پوچھا۔”کیا دے سکتے ہو؟“
لمحہ بھر سوچ کر اشیم نے کہا۔”بیس طلائی سکے دے سکتا ہوں۔“
”لوٹنا چاہتے ہو،تمھارا فارسی بھائی ہو ں دوست۔“یشکر نے افسوس ظاہر کیا۔
”تم بتاﺅ۔“اشیم نے اس کی مرضی معلوم کرنا چاہی۔
”دو سو طلائی سکوں کی پیش تو مجھے سوق صحار میں یمامہ کے ایک رئیس نے کی تھی۔لیکن ایک مخلص دوست نے مشورہ دیا کہ مخنف بن فدیک اس سے بھی زیادہ ادا کرسکتا ہے۔“
قُتیلہ بے تاثر چہرہ لیے اپنا سودا ہوتے سنتی رہی۔اگر اسے یشکر اور اشیم کے مابین موضوعِ گفتگو کا پتا چلتا تو وہ کب کا تلوار بے نیام کر چکی ہوتی۔
”تمھاری غلط فہمی ہے محترم دوست۔“اشیم سرزنش کرتا ہوا بولا۔”بھول کر بھی مخنف بن فدیک کے ساتھ سودا کرنے کا نہ سوچنا۔وہ ایک ظالم اور جابر شخص ہے۔اس پھول کی قیمت تو کیا پاﺅ گے شاید تمھیں ہی جان کے لالے پڑ جائیں۔یہ بھی ممکن ہے بقیہ زندگی اس کے جہاز پر چپو چلاتے بسر ہو۔“
”کیا مطلب….؟“یشکر نے مزید معلومات اگلوانے کے لیے بھرپور حیرانی کا مظاہرہ کیا تھا۔
”مطلب یہ ہے بھولے دوست کہ مخنف بن فدیک اتنی رقم خرچ کرنے کے بجائے لونڈیا کو چھین لینا بہتر سمجھے گا۔“
” میں تو یہاں اجنبی ہوں ،تم مخنف بن فدیک کے بارے کچھ بتاﺅ ناں ….“ یشکر نے اپنے مطمح نظر کی طرف مزید پیش قدمی کی۔اور اشیم بن اقیش تفصیل سے مخنف بن فدیک کے بارے کارآمد معلومات اس کے گوش گزار کرنے لگا۔گاہے گاہے یشکر وضاحت بھی طلب کرتا رہا۔مخنف کا نام سن کر قُتیلہ کو بھی اندازہ ہو گیا تھاکہ یشکر کی طویل گفتگو کا مقصد کیا تھا۔البتہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ مخنف کے بارے مکمل معلومات لینے کے لیے وہ اشیم بن اقیش کے سامنے قُتیلہ کا چارہ پیش کر چکا تھا۔آخر میں اشیم بن اقیش اسے کہہ رہا تھا۔
”بتاﺅ ایسے ظالم سے سودا کر کے تم اپنی لونڈی سے ہاتھ دھونے کے علاوہ کیا وصول کر سکو گے۔“
یشکر نے پر خیال انداز میں سرہلایا۔”اس کا مطلب ہے مجھے واپس لوٹ کر رئیس یمامہ سے بات کرنا پڑے گی۔“
”دوسو طلائی سکّے مجھ سے لے لینا۔“اشیم بن اقیش نے قُتیلہ کے ملیح چہرے پر گہری نگاہ ڈال کر بیس سے دو سو کے عدد پر چھلانگ لگادی۔
یشکر نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔”اچھا یوں ہے ،میں چند آدمیوں سے مخنف بن فدیک کے بارے معلومات لیتا ہوں اس کے بعد تمھاری پیشکش پر غور کروں گا۔“
اشیم بن اقیش ملتجی ہوا۔”اگر کوئی دوسو سے دس بیس زیادہ ادا کرنے پر تیار ہو جائے تب بھی ایک بار مجھ سے ضرور پوچھنا۔“
”ضرور۔“یشکر نے الوداعی معاوضے سے پہلے کھانے کا معاوضہ پوچھا۔
وہ جلدی سے بولا۔”شرمندہ نہ کریں محترم بھائی،جتنے دن دبا میں ہیں غداء(صبح کا کھانا)اور عشاء(رات کا کھانا)کے لیے اشیم بن اقیش کوخدمت کا موقع دیجئے گا۔“
یشکر نے خوش دلی سے مصافحہ کیا اور قُتیلہ کو ساتھ لیے سراے سے باہر آگیا۔
”بڑی لمبی گفتگو ہو رہی تھی۔“باہر نکلتے ہی قُتیلہ تفصیل جاننے کی متمنی ہوئی۔
یشکر نے قہقہ بلند کیا۔”سچ کہوں تو تمھارا سودا کر رہا تھا۔دوسو طلائی سکے مل رہے ہیں۔“
قُتیلہ نے برہم نظروں سے گھورا۔”بہت کم دام لگائے ہیں ملکہ قُتیلہ کے۔“
”نہیں۔“یشکر نے نفی میں سرہلایا۔”یہ تو پیشکش ہوئی ہے۔“
”تمھاری مانگ کیا تھی۔“قُتیلہ کے لہجے میں عجیب اشتیاق پوشیدہ تھا۔
یشکر شرارت سے بولا۔” تم جیسی بد مزاج کے لیے تویہ معاوضا بھی میری توقع سے بہت زیادہ ہے۔“
قُتیلہ کا مزاج بگڑ گیاتھا۔”مزید بکواس کے بجائے اصل بات پھوٹو۔“
اسے تنگ کرنے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے یشکر نے ساری تفصیل دہرا دی۔
”مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے تم نے ملکہ قُتیلہ کو لونڈی بنا دیا۔خوش قسمت ہو کہ ملکہ قُتیلہ تمھاری بکواس سمجھ نہیں پائی تھی۔“
”جھگڑنا چھوڑو اور آگے کالائحہ عمل سنو۔“یشکر منصوبہ بتانے لگا۔وہ گھوڑوں پر سوار ایسی جگہ پر رکے ہوئے تھے جہاں مخنف بن فدیک کے دونوں جہاز نظر آرہے تھے۔دو تین مقامات پر قُتیلہ نے اس سے اختلاف کیا اور پھر ایک لائحہ عمل پر اتفاق کرتے وہاں سے ہٹ گئے۔دن کا بقیہ حصہ انھوں نے بندرگاہ اور کارروائی کے علاقے کا جازئہ لیتے گزارا تھا۔
٭٭٭
رات ایک پہر گزر چکی تھی یشکر اور قُتیلہ بندرگاہ کے اس حصے میں موجود تھے جہاں مخنف کے دونوں جہاز لنگر انداز تھے۔لکڑی کاسات آٹھ ہاتھ چوڑااور پچاس ساٹھ ہاتھ لمبا پل ایک جہاز کے عرشے سے تک چلا گیا تھا۔یقینا وہ پل جہاز پر سامان وغیرہ آسانی سے لادنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ایک جہاز کا بوجھ مکمل ہونے کے بعد وہاں دوسرا جہاز لگا دیا جاتا۔اس پل کے زمین سے جڑے سرے کے قریب ایک چھپر نما گودام موجود تھا۔وہاں اس وقت دو پہرے دار ٹہل رہے تھے۔اگر گودام کے اندر جلنے والی مشعل کی روشنی نہ ہوتی تو یقینا قُتیلہ اور یشکر انھیں آسانی سے نہ دیکھ پاتے۔
اس نے سرگوشی میں انکشاف کیا۔”جانتے ہو ملکہ قُتیلہ کو کسی چیز سے خوف نہیں آتا۔“
یشکرنے جھلاتے ہوئے پوچھا۔”کیا یہ وقت ایسی باتوں کا ہے ؟“
اس کی جھلاہٹ پر دھیان دیے بغیر اس نے اگلا انکشاف کیا۔۔ ”ملکہ قُتیلہ کو تیرنا نہیں آتا۔“
یشکر خفگی سے بولا۔”یہاں ہم نہانے نہیں آئے۔“
اس نے اٹکتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا۔”ملکہ قُتیلہ پانی میں گر کر بے بسی کی موت نہیں مرنا چاہتی۔“
ایک دم یشکر کی سمجھ میں اس کی بے معنی گفتگو آگئی تھی۔موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والی نڈر اور دلیر لڑکی کو پانی سے ڈر لگتا تھا۔کیوں کہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا۔ اس وقت دونوں کہنیوں کے بل اوندھے منھ لیٹے ،گودام کے سامنے ٹہلتے پہرے داروں کی طرف متوجہ تھے۔یشکر نے اپنا ہاتھ آہستگی سے اس کے ہاتھ کی پشت پر رکھا اور پر اعتماد لہجے میں بولا۔
”مجھے تیرنا آتا ہے۔اور اگر کوئی ڈوب رہا ہوتو اسے بچا بھی سکتا ہوں۔“
ہاتھ کھینچے بغیر وہ خاموش لیٹی رہی۔
”چلو۔“دو تین لمحے اس کے بولنے کامنتظر رہنے کے بعد یشکر لیٹے لیٹے آگے بڑھا۔وہ اس کے ساتھ ہی تھی۔اپنااپنا شکار انھوں نے پہلے سے چن لیاتھا۔یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ مرنے سے پہلے وہ شور نہ مچا سکیں۔اور یہ بھی کہ اگر ان میں سے کوئی چیخنے چلانے میں کامیاب ہو گیا تو پھر انھوں نے کیا کرنا تھا۔
زمین پر رینگتے ہوئے پہرے داروں کے قریب پہنچے تھے۔وہ کسی ایرانی رئیس کی بیوی کے حسن کا قصیدے گا رہے تھے جو انھی کے جہاز میں دبا تک آئی تھی۔اور اب ہفتے بھر بعد بھی اس نے خاوند کے ساتھ اسی جہاز میں واپس جانا تھا۔گفتگو کرتے ہوئے دونوں کی پیٹھ ان کی طرف ہوئی اور یشکر نے ہاتھ سے ٹہوکا دے کر قُتیلہ کو یورش کرنے کا اشارہ کیا۔
ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے دونوں چیتے کی طرح اپنے اپنے شکار پر جھپٹے تھے۔دونوں کے دائیں ہاتھ میں تیز دھار خنجر موجود تھا۔پہلے مرحلے میں انھوں نے بایاں ہاتھ شکار کے منھ پر جمایا تھا تاکہ وہ آواز نہ نکال سکیں۔پہرے دار اچانک افتاد سے گھبرا کر بری طرح مچلے لیکن اسی اثناءمیں ماہر شکاریوں کے ہاتھوں میں موجود خنجر ان کے گلے کو یوں کاٹ چکے تھے جیسے تیز درانتی گندم کاٹتی ہے۔
ان کے تڑپتے پھڑکتے اجسام کو انھوں نے آرام سے نیچے لٹایااور ایک قدم پیچھے ہٹ کر تماشا دیکھنے لگے۔
قُتیلہ دھیرے سے بولی۔”ان کا تو پتا نہیں لیکن ملکہ قُتیلہ کو بہت مزہ آرہا ہے۔“
یشکر نے اسے ملامتی نظروں سے گھورا۔”اگر ان کی جہ تڑپنے والے ہمارے اجسام ہوتے تو لازماََ انھیں بھی لطف آتا۔“
وہ مزاحیہ لہجے میں بولی۔”سچ میں گردن کٹوانے سے تکلیف ہوتی ہے۔“
یشکر نے طنزیہ لہجے میں کہا”کٹوا کر دیکھ لو۔“
”ملکہ قُتیلہ کی گردن کاٹنا اتنا آسان ہوتاتوبیسیوں بار کٹ چکی ہوتی۔“
یشکر نے پھبتی کسی۔”تم اسے کوئی بھی نام دو ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اچھی صورت دیکھ کر لوگ ہاتھ روک لیتے ہیں۔“
”تو مانو ناں ملکہ قُتیلہ خوب صورت ہے۔“خلاف توقع وہ بھڑکی نہیں تھی۔
چہرے کے گرد کپڑا لپیٹتے ہوئے یشکر نے کہا۔”ڈھاٹا باندھ لو ،پہلے میں جاﺅں گا،جیسے ہی پل عبور کر لیتا ہوں تم چل پڑنا۔“
وہ شرارتی لہجے میں بولی۔۔”ٹھیک ہے ،لیکن واپسی پر تمھیں ملکہ قُتیلہ کے حسن کااعتراف کرنا پڑے گا۔“
”سردارزادی بادیہ کی ہم شکل کا یہ اصراراس کی کم عقلی کو ظاہر کرتا ہے۔تمھاری خوب صورتی پر کسی اندھے ہی کو شک ہو سکتا ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کو چڑ ہے اس نام سے۔“تلخ لہجے میں کہتے ہوئے وہ جھک کر لاشوں کی کمر سے تلواریں کھولنے لگی۔
وہاں سے جہاز نظر نہیں آرہا تھا۔درمیان میں گودام حائل تھا۔یشکر نے بے نیام خنجر کو ہاتھ میں اس طرح پکڑا کہ خنجر کی دھار اس کی کلائی سے لگ کر چھپ گئی۔اب دور سے دیکھنے پر معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اس نے ہاتھ میں ننگا خنجر تھاما ہوا ہے۔
گودام کی آڑ سے نکل کر وہ پر اعتماد قدموں سے چلتا ہوا لکڑی کے پل پر آگے بڑھنے لگا۔ مشعلوں کی ملگجی روشنی میں اسے جہاز کے عرشے پر ٹہلتے ہوئے دو پہرے دار نظر آرہے تھے۔اس کا ہیولہ دیکھتے ہی پہرے دارمتوجہ ہو گئے تھے۔گو اس کا قدو قامت مرنے والوں سے مختلف تھا۔لیکن ناکافی روشنی میں کوئی پہرے دار اتنی گہرائی میں نہیں سوچ سکتا تھا۔ایک پہرے دار نے قریب آتے ہوئے کہا۔
”کیا بات ہے قارب!….تمھارے آرام کا وقت تو ابھی دور ہے۔“
ہلکا سا کھانستے ہوئے اس نے دھیمی آواز میں کہا۔”پانی لینے آیا ہوں۔“
اس سے پہلے کہ پہرے دار کو آواز پر شک ہوتا یااسے نزدیک سے دیکھ کر پہچان جاتا۔یشکر نے ایک ہی جست میں آخری تین چار قدم پورے کیے اس کے ساتھ ہی اس کے دائیں ہاتھ میں پکڑے خنجر کی دھار پہرے دار کا نرخرہ ادھیڑ چکی تھی۔اس کے گلے کو نشانہ بنا کر یشکر رکا نہیں تھا بلکہ زقند بھر کر دوسرے پہرے دار کی طرف بڑھا۔
وہ اپنے ساتھی کو گرتے دیکھ کر سٹپٹاتے ہوئے با آواز بلند بولا۔”کون ہو تم ؟“ساتھ ہی تلوار بے نیام کرتے ہوئے وہ خطرناک ارادے سے یشکر کی طرف بڑھا۔
اسے ہاتھ گھماتے دیکھ کر جسم کولحظے کے لیے ساکن کر کے جھکا ،جونھی مخالف کی تلوار اس کے سر کے اوپر سے گزری،اس کے اگلے وار سے پہلے یشکر نے جھپٹ کر اس کا دایاں بازو قابو کرتے ہوئے گلے پر خنجر پھیر دیا۔
دونوں پہرے دار واجبی تربیت یافتہ تھے ایسے اناڑیوں کا شکار یشکر یا قُتیلہ کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔
اسے تڑپتا چھوڑ کر یشکر نے پیچھے مڑ کر دیکھاقُتیلہ بگولے کی طرح حرکت کرتی ہوپل عبور کر چکی تھی۔اچانک ایکچَف±تہ (لکڑی کا بنا ہواکمرہ یعنی کیبن)کا دروازہ کھول کر قوی ہیکل شخص باہر نکلا۔قُتیلہ خنجر بدست اس کی طرف بڑھی۔ وہ اپنی مہارت کے زعم میں اسے ہلکا لے بیٹھی تھی۔قُتیلہ کے وار کرنے سے پہلے قوی ہیکل شخص کی توانا ٹانگ حرکت میں آئی،چھاتی پر لگنے والی طاقت ور ضرب نے قُتیلہ کو غُلّے کی طرح پیچھے اچھال دیا تھا۔عرشے کی رکاوٹ کے اوپر سے ہوتے ہوئے وہ جہاز سے نیچے جاگری تھی۔چھپاک کی زوردار آواز نے اس کے پانی میں گرنے کا اعلان کیاتھا۔
یشکرکے ہاتھ نے کمان کی طرح خنجر اگلا۔لیکن بھاری ڈیل ڈول کے باوجود وہ نہایت پھرتیلا تھا۔یشکر کے ہاتھ کی حرکت دیکھتے ہی وہ ہلکا سا عقبی جانب جھکا۔خنجر اس کے اوپر سے گزر کرچَف±تہ کی دیوار میں گھس گیا تھا۔
”یشکر….“اس کے کانوں میں قُتیلہ کی غرغراتی آواز پڑی۔اس وقت ایک قوی ہیکل حریف استہزائی نظروں سے اسے جانچ رہا تھا۔مقابلے کا انجام کچھ بھی ہوتاقُتیلہ کا ڈوبنا طے تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: