Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 54

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 54

–**–**–

یشکر کے پاس سوچنے کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا۔اچانک ہی جیسے قُتیلہ نے اس کے دماغ میں سرگوشی کی تھی۔ ”جانتے ہو ملکہ قُتیلہ کو کسی چیز سے خوف نہیں آتا….ملکہ قُتیلہ کو تیرنا نہیں آتا….ملکہ قُتیلہ پانی میں گر کر بے بسی کی موت نہیں مرنا چاہتی۔“یشکر کو یاد نہیں تھا کہ قُتیلہ نے کبھی خوف کا اظہار کیا ہو۔زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے تشویش ظاہر کی تھی اور اندیشے کے مطابق لڑائی کی شروعات ہی میں اس کا واسطہ پانی سے پڑ گیا تھا۔وہ مدد کے لیے بھی کسی کو آواز نہیں دیا کرتی تھی۔لیکن اس وقت غرغراتی آواز میں اس کا ”یشکر “پکارنایشکر کا اگلا اقدام طے کر گیا تھا۔
تلوار نکالے بغیر وہ قوی ہیکل حریف کی طرف بڑھا۔اسے سرعت سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر حریف دونوں پاﺅں لکڑی کے فرش پر گاڑھے اسے آڑے ہاتھ لینے پر تیار ہو گیا۔اس سے دو تین قدم پہلے ہی یشکر نے ایک دم رخ تبدیل کیا اور زقند بھرتا ہوا عرشے کی رکاوٹ پار کر گیا۔
لحظہ بھر کے لیے جسم ہوا میں معلق رہااور پھر وہ ٹھنڈے پانی میں ڈوبتا چلا گیا۔سطح آب پر نمودار ہوتے ہی اس کی بے تاب نظروں نے دائیں بائیں کا جائزہ لیا۔اس کی خوش قسمتی کہ اسی وقت عرشے پر موجود دشمن مشعل ہاتھ میں تھام کر نیچے جھانکنے لگا۔اور مشعل کی ملگجی روشنی میں اسے قُتیلہ ننھے بچے کی طرح ہاتھ مارتی نظر آئی۔اگر مشعل کی روشنی مدد نہ کرتی تب بھی قُتیلہ کے ہاتھ مارنے اور غرغراے کرنے کی آواز سے اسے تلاش کر لیتا۔وہ سرعت سے تیرتا ہوا قُتیلہ کی طرف بڑھا۔ قریب پا کر وہ بری طرح اس سے چمٹ گئی تھی۔
بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے یشکرنے ہدایت کی۔”قُتیلہ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھنا کافی ہوگا۔“
قُتیلہ کی سمجھ میں اس کی ہدایت آئی تھی یا نہیں لیکن اس وقت وہ اس سے دور ہٹنے پر آمادہ نہیں تھی۔اگر وہ یونھی چمٹی رہتی تو اپنے ساتھ اسے بھی لے ڈوبتی۔
یشکر ماہر تیراک تھا۔دریائے دجلہ کو کئی بار عبور کر چکا تھا۔سکندر سے مقابلہ کرتے ہوئے وہ بہ مشکل ہاتھ بھر کے فاصلے سے شکست کھاتا تھا۔سکندر ایسے حالات سے نمٹنے کے بارے بھی اسے اچھی طرح بتا چکا تھا۔ایک دم قُتیلہ کو خود سے دور دھکیلتے ہوئے وہ ذرا پیچھے ہٹا اور اس سے پہلے کہ قُتیلہ کچھ سمجھ پاتی اس کی صراحی دار گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کی پیٹھ کو اپنی چھاتی سے ملاتے ہوئے یشکر الٹا تیرنے لگا۔ایسی حالت میں اس کے ہاتھ قُتیلہ کے جسم پر کہاں کہاں لگ رہے تھے اس بارے قُتیلہ کو کچھ احساس تھا یا نہیں یشکر کو اچھی طرح محسوس ہو رہا تھا۔بڑی مشکل سے قُتیلہ کو قابو کرتے ہوئے اس نے پہلے والی ہدایت اس کے کان میں دہرائی۔
”ملکہ قُتیلہ کی سمجھ میں آگیا ہے۔“اس حالت میں بھی وہ اپنا فخر نہیں بھولی تھی۔
یشکر نے دھیرے سے اسے آزاد کیاکہ اس کی قربت اسے حواس باختہ کرنے لگی تھی۔جنگجو حسینہ کا مشقّتوںمیں پلا اور معیارحسن کے سانچے میں ڈھلاسڈول جسم اس کے ارادوں کوبے لگام کرنے لگا تھا۔ اسے آرام سے آزاد کر کے وہ مڑااور کنارے کی طرف تیرنے لگا۔اس کی حالت سے بے خبرقُتیلہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔
کنارہ قریب ہی تھا۔جلد ہی وہ پتھروں کو پکڑ کر اوپر چڑھ رہے تھے۔مسلسل اندھیرے میں رہنے کی وجہ سے ان کی آنکھیں بہتر کام کرنے لگی تھیں۔پتھروں کا سہارا لیتے ہوئے وہ جونھی ہموار سطح پر پہنچے۔انھیں ٹھٹک کر رکنا پڑا۔پانچ مشعل بردار تیزی سے اس جانب بڑھتے آرہے تھے۔سب سے آگے قوی ہیکل جوان تھاجس نے قُتیلہ کو لات مار کر پانی میں پھینکا تھا۔
”آگے والے کو ملکہ قُتیلہ کے لیے چھوڑ دینا۔“پر اعتماد لہجے میں کہتے ہوئے اس نے تلوار بے نیام کر لی تھی۔اس کی ڈھال،ترکش اور کمان پانی میں گر گئے تھے۔نیام کا تسمہ مضبوطی سے کمرمیں بندھا نہ ہوتا تو شاید وہ تلوار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ہوتی۔
وہ پانچوں چند قدم کے فاصلے پر آکر رک گئے تھے۔قوی ہیکل استہزائی لہجے میں بولا۔
”تمھیں کسی نے یہ نہیں بتایاتھا کہ رئیس مخنف بن فدیک کے جہازوں کا نگران قابوس بن جنادہ ہے۔“
وہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے بولی۔”اور تمھیں کسی نے یہ نہیں بتایاتھا کہ ملکہ قُتیلہ سے دور رہنے والے زیادہ عرصہ سانس لے پاتے ہیں۔“
”جوان بہتر ہوتا قابوس بن جنادہ کے مقابلے میں تم قدم بڑھاتے۔اس چھوکری کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے تو کافی رات پڑی ہے۔“
”تلوار سونت لو احمق انسان،زیادہ بولنا تمھاری اذیتوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔“قُتیلہ جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھی۔
مشعل اپنے ساتھ کھڑے آدمی کے حوالے کرتے ہوئے اس نے ایک دم تلوار کھینچی۔لیکن قریب آتی قُتیلہ پر تلوار کا حملہ کرنے کے بجائے اس نے ٹانگ کا وار کرنا چاہا۔لیکن اب قُتیلہ ہوشیار تھی۔پہلے اس نے جلد بازی میں چوٹ کھائی تھی۔قابوس کی لات کو سینے کی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کا متحرک جسم ساکن ہوا اور ایک دم تیز ہوا کی زد میں آئے لچکدار پودے کی طرح اس کا جسم پیچھے کو جھکا۔
قابوس وار خطا ہونے کی وجہ سے ہلکا سا لڑکھڑایا،اسی اثناءمیں قُتیلہ کی تلوار برقی کوندے کی اس کے چہرے کی طرف بڑھی۔بڑی مشکل سے تلوار سامنے پکڑتے ہوئے اس نے دفاع کیا تھا۔ قُتیلہ کی تلوار کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ تلوار کے دستے پر جمائے اور زوردارجوابی وار کیا۔قُتیلہ نے اس کا وار تلوار پر سہارنے کے بجائے اپنی جگہ چھوڑکر بچاﺅ کیا۔ساتھ ہی اس کی زوردار لات قابوس کے پیٹ میں لگی۔اس نے لڑکھڑا کربے ساختہ چندالٹے قدم لیے تھے۔قُتیلہ کی طاقت ور لات اسے باور کرانے کے لیے کافی تھی کہ اس کی مقابل صرف نرم و نازک دوشیزہ نہیں تھی۔
اس کے سنبھلنے تک قُتیلہ اگلا حملہ کر چکی تھی۔قابوس کو جان بچانے کے لیے الٹے قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔اور پھر ایک دم جیسے بجلی کڑکتی ہے۔اس کی زوردار لات قُتیلہ کے سینے میں لگی،وہ اچھل کر کولہوں کے بل گری تھی۔قابوس چیتے کی طرح اس کی طرف جھپٹا۔لیکن الٹی قلابازی کھاتے ہوئے قُتیلہ نے اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔قابوس کا زوردار وار اس کے گرنے کی جگہ لگا۔اتنی دیر میں قُتیلہ تلوار لہرا چکی تھی۔بہت زیادہ بچنے کی کوشش کے باوجود قابوس کے بائیں بازو پر گہرازخم لگ گیا تھا۔خون اس کے بازو کو رنگ دار کرنے لگا۔اپنا لہو دیکھتے ہی اس کی وحشت آسمان کو چھونے لگی تھی۔دھاڑتے ہوئے اس نے پے در پے کئی وار کیے۔جو قُتیلہ مہارت سے ضائع کرتی گئی۔
ایک لڑکی کے ہاتھ زخمی ہونے کی ذلت نے اس کے حواس چھین لیے تھے۔اور غصہ کسی بھی لڑاکے کی ہار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔وہ اس کے جنونی وار دائیں،بائیں،آگے، پیچھے اور نیچے جھک کر خطا کرتی رہی۔کبھی وہ اس کی تلوار سے تلوار بھی ٹکرا دیتی۔اسے مسلسل دفاع کرتا دیکھ کر یشکر کے لبوں پر مسکراہٹ کھلنے لگی تھی۔کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ وہ موقع کی تلاش میں تھی۔اورایسا موقع اسے جلد یا بدیر مل جانا تھا۔اس نے یشکر والا انداز اپنایاہوا تھا۔اور وہی ہوا۔اس نے قابوس کا ایک زورداروار گھٹنوں میں خم دے کر جسم کو زمین کے متوازی پھینکتے ہوئے خطا کیااور پھر تلوار کی نوک زمین پر ٹیکتے ہوئے وہ کمان کی تانت کی طرح واپس اٹھی۔قابوس کے کچھ سمجھنے سے پہلے قُتیلہ کی تلوار اس کی دائیں کلائی کو اس صفائی سے اڑا چکی تھی جیسے ماہر قسائی بُغدے سے ناقص گوشت علاحدہ کرتا ہے۔اذیت بھری کراہ کے ساتھ وہ بائیں ہاتھ سے کٹی ہوئی کلائی کو تھامنے لگا۔
یشکر اس اثناءمیں غیر محسوس انداز میں حرکت کرتا ہوا مشعل برداروں کے قریب پہنچ گیا تھا۔ قابو س کی کلائی کٹتے ہی اس کے ساتھیوں نے اضطراری انداز میں حرکت کی۔لیکن ان سے کئی گنا زیادہ تیز رفتاری سے یشکر صاعقہ کو بے نیام کرتا ہوا برق آسمانی کی طرح ان پر جاپڑاتھا۔پہلے دو تو بغیر دفاع کیے چل بسے البتہ آخری دو نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن یشکر کے سامنے ان کی دال نہیں گلی تھی۔چاروں کی ہلاکت کے ساتھ ہی یشکر نے صاعقہ کو نیام میں کیا اور مشعل اٹھا کر ان کی تلواریں اکٹھی کرنے لگا۔
قُتیلہ نے صرف ترچھی نگاہ سے اسے حملہ کرتے دیکھا تھا،اس کے بعد وہ قابوس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
”اب بولو غلیظ سوّرتمھارا نام کیا ہے۔“قُتیلہ نے تلوار کی نوک سے اس کی ٹھوڑی اوپر کی۔
وہ جواب دیے بغیر کراہتا رہا۔ایک دم قُتیلہ کی تلوار حرکت میں آئی قابوس کی دوسری کلائی بھی کٹ کر دور جاگری تھی۔
اذیت ناک چیخ کے ساتھ اس نے کٹی ہوئی کلائیاں بغلوں میں دبا لی تھیں۔اس کے ہونٹوں سے بلند بانگ کراہیں نکل رہی تھیں۔
”قُتیلہ ان چونچلوں کا وقت نہیں ہے۔“یشکر نے بے صبری ظاہر کی۔
”فارسی غلام،ملکہ قُتیلہ کہتے زبان درد کرتی ہے۔“غضب ناک ہوتے ہوئے اس کی تلوار برقی کوندے کی طرح قابوس کی گردن کی طرف لپکی۔اگلے ہی لمحے بے سر دھڑ اذیت بھرے جھٹکے لے رہا تھا۔یشکر کا غصہ اس نے قابوس کی گردن پر تلوار چلا کر نکالا تھا۔
یشکر جھلاتے ہوئے بولا۔”محترمہ سردارزادی ملکہ قُتیلہ بنت جبلہ بن کنانہ بنو طرید و بنو نسر کی سردارن اب چلو۔“
وہ برہمی سے بولی۔”تم نے پانی کے اندر بھی ملکہ قُتیلہ کوصرف قُتیلہ کہہ کر پکارا تھا۔“
”افف….ڈوبتے وقت بھی تمھیں نام کی پڑی تھی۔“ہاتھ باندھتے ہوئے اس نے دہائی دی۔”مجھے معاف کردوملکہ قُتیلہ،غلام سے گستاخی ہوگئی تھی۔“
قُتیلہ کا نقرئی قہقہ گونجا۔”معاف کیا۔“
”اب چلو۔“ایک ہاتھ میں مشعل پکڑ کر اس نے چار تلواریں بغل میں دبائیں اور تیز قدموں سے جہاز کی طرف بڑھا۔قابوس کی تلوار قُتیلہ سنبھال چکی تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ لکڑی کا پل عبور کر کے جہاز میں داخل ہوچکے تھے۔تلواریں عرشے کی رکاوٹ کے ساتھ پھینک کر اس نے صاعقہ بے نیام کی اور محتاط قدموں سے آگے بڑھنے لگا۔دونوں جہاز قریب قریب کھڑے تھے۔یقینا انھیں پکڑنے کی جلدی میں قابوس نے دوسرے جہاز کے جاگنے والے پہرے داروں کو ساتھ لے جانا مناسب سمجھا تھا۔
سب سے پہلے اس نے قُتیلہ کے ساتھ مل کر جہاز کی اوپر بنے چفتوں کا جائزہ لیا۔وہ زیادہ تر اعلا درجے کے مسافروں کی رہایش کے لیے مختص تھے۔اور اس وقت خالی پڑے تھے۔اوپر کے جائزے کے بعد وہ نیچے اترے۔ایک جگہ چار افراد سوئے پڑے تھے۔لباس اور چہرے سے وہ پہرے دار ہی نظر آرہے تھے۔تین کی گردن پر قُتیلہ نے خنجر پھیر کر خرخرانے کے لیے چھوڑ دیاجبکہ چوتھے کو لکڑی کے تخت سے کھینچ کر نیچے پھینکا۔وہ ہڑبڑاتے ہوئے اٹھ بیٹھا تھا۔دو تین لمحے تک تو اس کی سمجھ ہی میں کچھ نہیں آیا تھا۔حواسوں میں آتے ہی اس کا جسم بید مجنوں کی طرح کانپنے لگا۔
”تمھارے سانسوں کی طوالت کا انحصارصحیح جواب دینے میں ہے۔“اس کے لباس سے خون آلود خنجر صاف کر کے قُتیلہ نے نیام میں کیا اور تلوار ننگی کر کے اس کی گردن سے لگا دی۔
وہ ہکلایا۔”مم….میں مرنا نہیں چاہتا۔“
قُتیلہ درشتی سے بولی۔”کہا ناں درست جواب دے کر اپنے سانس بڑھا سکتے ہو۔“
اس کے کچھ کہنے سے پہلے یشکر نے پوچھا۔”مخنف بن فدیک کے دونوں جہازوں پر کتنے پہرے دار موجود ہیں ؟“
وہ جلدی سے بولا۔”جتنے دن جہاز بندرگاہ پر کھڑا رہتا ہے نگران اعلاقابوس بن جنادہ کو ملا کر تیرہ پہرے دار ہوتے ہیں۔“
قُتیلہ نے پوچھا۔”اس میں گودام کے سامنے پہرہ دینے والے شامل ہیں۔“
”ہاں۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”چار چار پہرے داردونوں جہازوں پر اور چار گودام پر پہرہ دیتے ہیں۔“
اگلا سوال یشکر نے پوچھا تھا۔”چپو بردار غلام کہاں ہیں ؟“
” نیچے تہہ خانے ہی میں ہوتے ہیں۔“
”چلو۔“اسے تلوار سے ٹہوکا دے کر قُتیلہ نے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔
وہ لرزتا کانپتا آگے بڑھ گیا تھا۔اس کی رہنمائی میں چلتے ہوئے وہ تہہ خانے میں پہنچے۔دروازہ کھلتے ہی بدبو کے بھبکوں نے ان کا استقبال کیا تھا۔انھیں چہرے کے گرد کپڑے لپیٹنے پڑ گئے تھے۔تہہ خانے میں اندھیرا چھایا تھا۔ زندگی سے بیزار چہروں نے حیرانی سے روشنی کو دیکھا۔کیوں اس وقت ان کی تنہائی میں کوئی مخل نہیں ہوا کرتا تھا۔نیندیں ان سے روٹھ چکی تھیں اور باتیں کرنا وہ بھول گئے تھے۔اس عقوبت خانے سے جان چھڑانے کی مناجات بھی وہ نہیں کرتے تھے کہ انھیں معلوم ہوا تھا وہاں تک دیوتاﺅں کی رسائی بھی نہیں تھی۔وہاں پچاس کے قریب افراد موجود تھے۔
”چابیاں کہاں ہیں۔“قُتیلہ نے پہرے دار کی پسلیوں میں تلوار کی نوک چبھوئی۔
درد بھری سسکی بھرتے ہوئے وہ جلدی سے بولا۔”اوپر ہمارے کمرے میں پڑی ہیں۔“
”انھیں صورت حال سے آگاہ کرو یشکر ،ملکہ قُتیلہ چابیاں لاتی ہے۔“وہ پہرے دار کو ساتھ لے کر تہہ خانے سے نکل گئی۔طبیعت پر جبر کرتے ہوئے یشکر نے چہرے سے ڈھاٹا کھولااور مشعل کو چہرے کے قریب لاتا ہوا بولا۔”یہاں پر بنو جساسہ کے جو غلام موجود ہیں یقینا وہ مجھے پہچانتے ہوں گے۔میرا نام یشکر ہے ….یشکر بن شریک۔بنو جساسہ نیا کا سردار۔اور میں تمھیں آزاد کرانے آیا ہوں۔ کسی قسم کے شور و چیخ و پکار کی ضرورت نہیں ہے۔“
”ہم نے تمھیں پہچان لیا ہے یشکر۔“بنو جساسہ کے آدمیوں کی مسرت میں ڈوبی ہوئی آوازیں بلند ہوئیں۔
ایک جوان نے گبھراتے ہوئے پوچھا۔”ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟“یقینا اس کا تعلق بنو جساسہ سے نہیں تھا۔
یشکر انھیں تسلی دیتا ہوا بولا۔”تمام کو آزادی ملے گی۔بس تم لوگوں نے بھگدڑ نہیں مچانا ورنہ زخمی ہو جاﺅ گے۔“
ایک سہمی ہوئی آواز بلند ہوئی۔”ہم ایسا نہیں کریں گے۔“
قُتیلہ پہرے دار کے ساتھ واپس لوٹی۔ پہرے دار کے ہاتھوں میں چابیوں کا گچھا موجود تھا۔یشکر نے اسے قفل کھولنے کا اشارہ کیا۔زنجیریں کھلنے تک وہ اچھی خاصی ہدایات دے چکاتھا کہ انھوں نے کیا کرنا تھا۔تمام غلاموں کے آزادہوتے ہی وہ انھیں تہہ خانے سے باہر لے آئے تھے۔

بنو جساسہ کے اچھے لڑاکوں کے حوالے یشکر نے پہرے داروں والی تلواریں کر دی تھیں۔
ایک قوی الجثہ اجنبی بولا”محترم سردار،مجھے بھی تلوار دی جائے۔یقینا مقابلے کے وقت میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔“
یشکرنے اس کی طرف نگاہیں اٹھائیں،گو مسلسل ناقص غذا کی وجہ سے وہ ذرا کمزور نظر آرہا تھا ورنہ قد کاٹھ میں وہ یشکر سے کچھ نکلتا ہوا ہی تھا۔
”کیا نام ہے جوان۔“یشکر سے پہلے قُتیلہ نے پوچھا۔
وہ ادب سے بولا۔”معزّز خاتون میرا نام اقرم بن طریف ہے۔“
”ملکہ قُتیلہ کو ملکہ قُتیلہ سننے کی عادت ہے۔“قابوس والی اعلا تلوار اس کی طرف بڑھاتے ہوئے وہ تاکید سے بولی۔
”جی ملکہ قُتیلہ۔“اقرم نے تلوار پکڑ کر تعظیماََ سر جھکادیا۔
یشکر، قُتیلہ کو مخاطب ہوا۔”تم چند آدمی ساتھ لے جا کرپہرے داروں کی لاشیں اور اپنے گھوڑوں کو جہاز پر لے آﺅمیں دوسرے جہاز کے قیدی آزاد کرا دوں۔“
وہ برہمی سے بولی۔”تم ملکہ قُتیلہ پر حکم نہیں چلا سکتے۔“
” تم بتاﺅ کیا کرنا چاہیے۔“یشکر کو تکرار کے لیے وقت اور حالات مناسب نہیں لگے تھے۔
”ٹھیک ہے ملکہ قُتیلہ گھوڑے اور لاشیں لینے جا رہی ہے،لیکن تمھارے کہنے پر نہیں اپنی مرضی سے۔“ یشکر کوموقف سے ہٹتے دیکھ کر وہ ضدی مان گئی تھی۔
تبسم کو دباتے ہوئے یشکر بنو جساسہ کے چار آدمی ساتھ لے کر ساتھ والے جہاز میں گھس گیا۔پہرے دار اس کے ہمراہ تھا۔وہاں انھیں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی تھی۔تہہ خانے میں قید غلاموں کے سامنے سابقہ گفتگو دہرا کر انھیں حالات سے مطلع کیا۔جب وہ تمام کے ساتھ واپس لوٹا تو قُتیلہ گھوڑے اور لاشیں لے آئی تھی۔غلاموں کی حالت بہت ابتر تھی۔مرنے والے پہرے داروں کے جسم سے لباس اتار تمام کو تہہ خانے میں پھینک دیا۔دونوں جہازوں میں انھیں جہاں جہاں لباس کا کوئی ٹکڑا یا چادر وغیرہ ملی تھی انھوں نے بدن سے لپیٹ لیا تھا۔جہازوں کے باورچی خانے میں موجود خوراک بہ مشکل ایک وقت کے کھانے کے لیے پوری ہوئی تھی۔یشکر نے آخری پہرے دار سے مطلب کی باتیں اگلوا کر اسے بھی ساتھیوں کے پاس پہنچا دیا تھا،کیوں کہ وہ اسے زندہ چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔
بنو جساسہ کے افراد کویہ سمجھنے میں ذرا دقت ہوئی تھی کہ یشکر کے ساتھ سردارزادی بادیہ نہیں قُتیلہ ہے۔ البتہ قُتیلہ کا بے باک رویہ دیکھتے ہوئے یقین کرنا پڑا تھا۔
انھیں اچھی طرح سمجھا کریشکر نے پہرے داروں کے لباس پہنائے اور جہازوں اور گودام کے سامنے پہرے داری پر مقرر کر دیا۔ سرائے کے مالک اشیم بن اقیش سے اسے یہی معلوم ہوا تھا کہ مخنف بن فدیک کے جہاز چند پہرے داروں کی نگرانی میں دو تین دن تک بندرگاہ پر خالی کھڑے رہتے۔اس اثناءمیں جہازوں کا عملہ ہفتہ بھر چھٹی کاٹ لیتاتھا۔عملے کی واپسی کے ساتھ جہاز پر تجارتی سامان لدنا شروع ہو جاتاتھا۔اس بات کی تصدیق اسے پہرے دار سے بھی ہو گئی تھی۔قُتیلہ اور اس نے اگلا دن جہاز ہی پر چھپ کر رہنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
دبا سے نکلنے کے لیے انھیں گھوڑے اونٹ،زاد سفر وغیرہ چاہیے تھا۔اور جاتے جاتے وہ مخنف بن فدیک کا قصہ بھی تمام کرنا چاہتے تھے ورنہ وہ تعاقب کر کے ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکا سکتا تھا۔انھیں بس ایک دن کی مہلت درکار تھی۔اور اس معاملے میں جہاز سے اچھی جائے پناہ کوئی نہیں تھی۔
گودام کے سامنے اور دوسری جگہوں سے پہرے داروں کے خون کے دھبے انھوں نے رات کے وقت ہی صاف کر دیے تھے۔عرشے کے نیچے ایک کشادہ جگہ میں مسافروں کے کھانے کی جگہ بنی ہوئی تھی۔پہرے داروں اور بنو جساسہ کے افرادکو چھوڑ کر باقی تمام کو انھوں نے وہیں جمع کر لیا تھا۔ان کی تعداد بنو جساسہ کے افراد سے زیادہ تھی۔ان کا تعلق مختلف قبائل سے تھا۔پوچھ گچھ کے بعد انھیں یہی معلوم ہوا تھا کہ ایک دو کے علاوہ باقی تمام کے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی مناسب مقام موجود نہیں تھا۔
قُتیلہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی۔”یہ تمام بنو طریدکے معزز باسی بنیں گے۔“
یشکر بولا۔”بنو جساسہ کے پاس بھی رہایش کے لیے وسیع زمین موجود ہے۔“
”سردار یشکر،تمھارا مطلوب بنو جساسہ کے لوگ تھے۔بقیہ کے لیے بنو طرید سے بہتر کوئی مقام نہیں ہے۔کیوں کہ انھیں جو عزت اور مقام بنو طرید میں ملے گا ویسا بنو جساسہ میں نہیں مل سکتا۔“
یشکر اس سے اختلاف کر سکتا تھا لیکن اس کی بات مدلل طریقے سے جھٹلا نہیں سکتا تھا۔بنو جساسہ کے لوگ باہر سے آئے غلاموں کو واقعی اپنے جتنی حیثیت دینے پر تیار نہ ہوتے جبکہ بنو طرید کی بنیاد ہی ٹھکرائے ہوئے لوگوں نے رکھی تھی۔
یشکر کو لاجواب کر کے وہ تمام لوگوں کو مخاطب ہوئی۔”ملکہ قُتیلہ تمھیں بنو طرید میں خوش آمدید کہتی ہے۔وہ ایسا قبیلہ ہے جہاں تمھیں رہایش،خوراک،جیون ساتھی اور عزت ملے گی۔زندگی گزارنے کا ڈھنگ،سر اٹھا کر چلنے کا سلیقہ اور امن و سکون ملے گا۔کیا تمھیں بنو طرید میں شامل ہونا قبول ہے۔“
”دل و جان سے۔“وہ دھیمی زبان میں بیک زبان بولے تھے۔
”جو افراد ہمارے ساتھ نہیں جانا چاہتے وہ آنے والی رات کو اپنا رستا الگ کرسکتے ہیں۔انھیں کوئی نہیں روکے گااور نہ علاحدہ ہونے کے بعد وہ ہماری ذمہ داری رہیں گے۔“لمحہ بھر توقف کر کے وہ مستفسر ہوئی۔”توکون کون جانا چاہے گا؟“
سات افراد نے ہاتھ بلند کر کے جانے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
”کل رات غروب آفتاب کے بعد تم رخصت ہو سکتے ہو۔اور جو رہ جائیں گے۔ان کا تعلق بنو طرید سے ہوگا۔ان کا دشمن بنو طرید کا دشمن اور ان کا دوست بنو طرید کا دوست ہوگا۔“
”ہمیں منظور ہے۔“مسرت بھری دھیمی آواز بلند ہوئی۔
ان سے چند مزید باتیں کر کے وہ یشکر کے ساتھ جہاز کے کپتان کے چَف±تہ (لکڑی کا بنا ہواکمرہ یعنی کیبن) میں آگئی۔اقرم بن طریف کو بھی اس نے بلوا لیا تھا۔یشکر نے بنو جساسہ کے حاجب بن قارب اوردریدبن صامت کوبلا لیا تھا۔
اکٹھے ہوتے ہی قُتیلہ گفتگو کا آغاز کرنے لگی تھی کہ حاجب بن قارب بولا۔
”سرداریشکر،اگر برا نہ مناﺅ تو ایک گستاخی کر سکتا ہوں۔“
یشکر نے نرم لہجے میں کہا۔”بولو حاجب۔“
”میں اس قافلے کا حصہ تھا جب بنو جساسہ کے افراد پر قزاقوں کا قہر ٹوٹا تھا۔وہ غلط فہمی میں مجھے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے۔سردار شریک کے بیٹے کی پیدایش بھی وہیں ہوئی تھی اور……..“
”تم شاید یہ دیکھنا چاہتے ہو۔“قطع کلامی کرتے ہوئے یشکر نے دایاں بازو ننگا کر کے سرخ نشان ظاہر کیاجس کے بارے اسے عریسہ سے معلوم ہوا تھا۔
حاجب خفیف ہوتا ہوا بولا۔”شکریہ سردار۔“
یشکر نے متبسم ہو کر کہا۔”اب ملکہ قُتیلہ کی بات سنو۔“
قُتیلہ کے چہرے پر مسرت ابھری۔یشکر کے ملکہ قُتیلہ کہنے پر وہ کھل اٹھتی تھی۔وہ انھیں تفصیل سے مخنف بن فدیک کی حویلی کے بارے بتانے لگی۔گفتگو کے اختتام پر وہ باہمی مشورے سے حویلی پر حملے کا منصوبہ بنانے لگے۔
٭٭٭
بنو نوفل کے سردارشماس بن جزع کا غصہ دیدنی تھا۔چند معزّزین اس کے سامنے سر جھکائے بیٹھے تھے۔بادیہ و یشکر کی ناکام تلاشی نے اس کا پارہ بلند کر دیا تھا۔
”معلوم بھی صحرائے اعظم میں بنونوفل کی کتنی بدنامی اور سبکی ہورہی ہے۔میں تو شرمندگی سے کسی قبیلے کی دعوت طعام پر بھی نہیں جا سکتا۔حد ہوتی ہے نالائقی اور کم عقلی کی بھی۔ایک چھوکرے اور چھوکری نے بنو نوفل کے گھٹنے لگوا دیے ہیں۔پندرہ بیس بندے گنوا کر بھی پکڑنا تو درکنا ان کا سراغ نہیں لگا سکے ہیں۔“
قرضم بن جدن بولا۔”زیادہ عرصہ چھپے نہیں رہیں گے سردار۔“
”شاباش،قرضم۔“شماس بن جزع طنزیہ لہجے میں بولا۔”زیادہ عرصے سے تمھاری مراد قرن دو قرن ہے تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو اتنے عرصے میں وہ واقعی مر جائیں گے۔لیکن افسوس اس کا ہے ان کی موت میں بنو نوفل کے کسی آدمی کا ہاتھ نہیں ہو گا۔“
قرضم بن جدن نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا۔
بنو نوفل کے بہترین لڑاکے معمربن غزیہ نے کہا۔”صحرائے اعظم میں دو افراد کی تلاش سمندر میں کسی مخصوص مچھلی کی تلاش کے مترادف ہے۔البتہ جس دن وہ سامنے آگئے میں ہبل کی قسم کھا کر کہتا ہوں ان کا بہت برا حشر کروں گا۔“
شماس بن جزع مکروہ لہجے میں بولا۔”سردارزادی بادیہ زندہ چاہیے میں نے اسے لونڈی بنانے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔“اس کے لہجے میں شامل ہوس باقیوں کے لیے پوشیدہ نہیں تھی۔
مکرزبن سائب نے لقمہ دیا۔”زندہ ہی ہاتھ آئے گی سردار۔“
کسی نے حجرے کے دروازے پر آواز دے کر اندر آنے کی اجازت مانگی۔
شماس کے اشارے قرضم نے کہا۔”آجاﺅ۔“
پراگندہ بالوں،میلے کپڑوں اوردھول مٹی سے اٹے چہرے والے دوافراد اندرداخل ہوئے۔ ان کا حلیہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ سفر سے لوٹے تھے۔لیکن ابتر حلیے میں بھی ان کے ہونٹوں پرمچلتی مسکراہٹ کسی بڑی خوشی اور کامیابی کا اعلان کر رہی تھی۔
شماس بن جزع ان کے چہروں پر نظر ڈالتے ہی بے چینی سے پکارا۔”لگتا ہے دغنہ بن حاطب اور حبال بن صمہ،ہمارے لیے خوشی کی خبر لائے ہیں۔“
”سردار کی صبح سلامتی والی ہو۔“دغنہ نے سلام کہا۔اور دونوں حاضرین سے مصافحہ کرنے لگے۔
”دغنہ مجھے بے چینی ہو رہی ہے۔“دونوں تمام لوگوں سے مصافحہ کر بھی نہیں پائے تھے کہ شماس بے صبری سے مستفسرہوا۔
دغنہ چٹائی پر نشست سنبھالتا ہوا بولا۔”سردار بڑی خاص خبر لائے ہیں۔“
شماس سرعت سے بولا۔”بغیر کسی تمہید کے جلدی جلدی بتاﺅ۔“
ہم کافی دنوں سے بنو کاظمہ کے گردو نواح میں موجود تھے۔اورحیرہ کی طرف جانے والے قافلوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔اسی اثناءمیں ایک دن خلیج العربی کے ساحل پر بنو کاظمہ کے عبدالعزیٰ نامی شخص سے ملاقات ہو گئی۔گپ شپ کرتے ہوئے اس نے فارس سے آنے والے ایک لشکر کے بارے بات کی جس کے ساتھ وہ بہ طور ترجمان اور رہبر گیا تھا۔اور جانتے ہیں یہ لشکر کس کی تلاش میں آیاتھا؟“سوالیہ انداز میں کہتے ہوئے دغنہ نے لمحہ بھر توقف کیا اور پھر اس کی بات جاری رہی۔”وہ لوگ یشکر کی تلاش میں آئے تھے۔اور یشکر کو انھوں نے ایسی حالت میں پایا کہ وہ ایک قبیلے کے ساتھ مل کر کسی دوسرے قبیلے سے برسر پیکار تھا۔فارسیوں کی مدد سے اس نے فتح حاصل کی اور ان کے ساتھ طیسفون لوٹنے کے ارادے سے چل پڑا۔اس کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ راستے میں اسے چچازاد بھائی مل گئے اور ان کی زبانی اسے معلوم ہوا کہ وہ بنو جساسہ کا سردار زادہ ہے۔اور سردارزادی بادیہ قبیلے میں اس کی منتظر ہے۔پس وہ بنو جساسہ لوٹ گیا۔باقی کوشش کے باوجود یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ اور بادیہ کیسے بچھڑے تھے۔“
شماس نے حیرانی ظاہر کی۔”مگر فارسی لشکر تو کافی عرصہ پہلے یشکر کی تلاش میں آیا تھا اور بنو دیل تک آکر ناکام واپس لوٹا تھا۔“
دغنہ نے جواب دیا۔”اب دوسری مرتبہ آیا تھا۔اور اس بار وہ بنو کاظمہ،بنو عبد قیس اور یمامہ سے ہوکر جنوب کی طرف چل پڑے تھے۔“
شماس نے مسرت بھرے لہجے میں تصدیق چاہی۔”گویاتمھاری گفتگو کا لبِ لباب یہ ہے کہ بادیہ اور یشکر بنو جساسہ میں موجود ہیں۔“
قرضم بن جدن نے خیال ظاہر کیا۔”ایسا ہونا ناممکن ہے۔“
شماس نے برہمی سے پوچھا۔”کیا مطلب؟“یقینا بادیہ کی مزید جدائی کا سننا اسے گوارا نہیں تھا۔
قرضم بن جدن وضاحت کرتا ہوا بولا۔”سردار،وہ اتنے بے وقوف کبھی نہیں ہوسکتے کہ ٹوٹے پھوٹے قبیلے میں چھپے رہیں۔یقینا انھوں نے کسی اور جگہ پر پناہ لی ہوئی ہے۔“
”مگر کہاں ؟“شماس بن جزع کی آواز میں بے چینی نمایاں تھی۔
”معلوم تو نہیں لیکن،معلوم کیا جا سکتا ہے۔“قرضم گہری سوچ میں کھو گیا تھا۔
شماس بن جزع چڑچڑے لہجے میں بولا۔”تم ایک ہی بار سب کچھ وضاحت سے اُگل دو تو یقینامجھے غصہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔“
قرضم کے ہونٹوں پر مکاری بھراتبسم نمودار ہوا۔”اگرشریم تک یہ بات پہنچ جائے کہ ہمیں یشکر اور بادیہ کے چھپنے کے مقام کے بارے سب کچھ معلوم ہو چکا ہے تو یقینا وہ انھیں بچانے کی کوشش کرے گا۔اور شریم کا جو آدمی ان تک یہ خبر پہنچانے جائے گا ہم اس کا تعاقب کر کے ان دونوں تک پہنچ سکتے ہیں۔“اس نے گفتگو میں ذرا سا وقفہ دیا۔شماس بن جزع بے چینی سے پہلو بدلنے لگا۔باقی تمام بھی قرضم کی طرف متوجہ تھے۔لمحہ بھر توقف کرنے کے بعد قرضم نے بات آگے بڑھائی۔”اب رہ جاتا ہے شریم تک یہ بات ایسے انداز میں پہنچانے کا مرحلہ کہ اس میں ہماری سازش کا شبہ نہ ہو تو اس کے لیے کام آئے گاقطن بن مشمت۔اس کے بنو جمل کے ذویب بن ہثیم کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔جبکہ ذویب بن ہثیم، شریم بن ثمامہ کا گہرا دوست ہے۔اگر قطن یہ بات ذویب تک ایسے انداز میں پہنچائے جس سے اسے لگے کہ وہ اتفاقاََ اس بات سے مطلع ہوا ہے تو یقینا وہ اسی وقت شریم تک یہ بات پہنچا دے گا۔ہم بنو جساسہ کے چاروں جانب چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں اپنے آدمی پھیلا دیں گے۔جونھی کوئی آدمی بنو جساسہ سے باہر جائے گا ہم اس کا تعاقب کر کے آسانی سے یشکر اور بادیہ تک پہنچ جائیں گے۔“
سردار شماس تعریفی لہجے میں بولا۔”اگر کوئی کہے کہ قرضم بن جدن کی ماں سے زیادہ کسی عورت نے ذہین بچہ جنا ہے تو میں اسے جھوٹا سمجھوں گا۔“
٭٭٭
مخنف بن فدیک کی قلعہ نما حویلی کے سامنے دو گھڑ سوارآکر رکے۔ لکڑی کامضبوط اورچوڑا دروازہ اس وقت بند تھا۔دروازہ جن ستونوں پر استادہ تھاان کی بلندی پر مورچے بنے تھے جہاں موجود محافظ دور تک نگرانی کر سکتے تھے۔
”کون؟“گھڑ سواروں کو رکتے دیکھ کر ایک محافظ نے آواز دی۔
”میں رئیس یمامہ جناب شہاب بن احمر کی طرف سے محترم رئیس مخنف بن فدیک کے پاس تحفہ لے کر آیا ہوں۔“
پہرے دار درشت لہجے میں بولا۔”رئیس اعظم اس وقت کسی سے نہیں ملتے۔“
”جناب میں نے صبح قافلے کے ساتھ یمامہ کی طرف کوچ کرنا ہے۔اگر رئیس اعظم سے ابھی ملاقات نہ ہوئی تو تحفہ ان تک نہیں پہنچ پائے گا۔“
پہرے دار نے پوچھا۔”کیا تحفہ ہے؟“
جواب آیا۔”ان کے لیے خوب صورت کنیز لے کر حاضر ہوا ہوں۔“
پہرے دار بولا۔”لونڈی کو یہیں چھوڑ جاﺅ،ہم صبح رئیس اعظم کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔“
لجاجت بھرے انداز میں کہا گیا۔”اگر مجھے ملنے کی اجازت دے دیتے تو غریب کا کوئی بھلا ہو جاتا۔شاید کچھ انعام مل جاتا۔“
پہرے دار رکھائی سے بولا۔” انعام کی طلب ہے تو کل کا انتظار کرو۔“
”سنبھال لو گی۔“گھڑ سوار نے سرگوشی میں ساتھی سے پوچھا۔وہ دونوں یشکر اور قُتیلہ تھے۔
جواب ملا۔”تمھیں ملکہ قُتیلہ کی صلاحیتوں پر شبہ ہے۔“
”تمھارے اشارے کا منتظر رہوں گا۔“سرگوشی میں کہہ کر وہ باآواز بلند پہرے کو بولا۔ ”ٹھیک ہے جناب میں کنیز کو یہیں چھوڑے جا رہا ہوں۔آپ نیچے آکر اسے لے جائیں۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: