Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 55

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 55

–**–**–

تھوڑی دیر بعد ذیلی کھڑکی کھول کر ایک پہرے دار مشعل تھامے باہر نکلا۔دوسرا کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔اوپر مورچے میں بھی انھیں ایک محافظ کی موجودی کے آثار محسوس ہورہے تھے۔اگر وہ ان پر قابو پانے کی کوشش کرتے تو مورچے میں موجود پہرے دار چیخ و پکار مچا کر باقیوں کو ہوشیار کر سکتا تھا۔ یشکر کوتمام ذمہ داری قُتیلہ کے مضبوط کندھوں پر ڈالنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔یوں بھی اسے قُتیلہ کی صلاحیتوں پر پورا بھروسا تھا۔
پہرے دار نے مشعل اوپر کر کے کنیز کا جائزہ لینا چاہا۔قُتیلہ نے اپنے مخصوص لباس کے اوپر ہی سرخ رنگ کا کھلا چغہ پہنا ہوا تھا۔اس کی تلوار وغیرہ یشکر کے پاس تھی۔البتہ ایک خنجر اس نے لباس میں چھپایا ہوا تھا۔سیاہ بالوں میں تیل چُپڑ کر کنگھی کی ہوئی تھی۔گھنے لمبے بالوں کو کھلا چھوڑ کر اس نے دو برابر حصوں میں تقسیم کر کے سامنے کی جانب ڈالا ہوا تھا۔دراز گیسو ﺅں نے اس کے سینے کو ڈھانپ دیا تھا۔ غزال آنکھیں سرمے سے لیس تھیں۔یشکر نے منت کر کے اس سے سرخی بھی لگوائی تھی۔بے باک چہرے پر معصومیت طاری کیے وہ الھڑ دوشیزہ نظر آرہی تھی۔پہرے دار کی آنکھیں میں بھری درشتی،نرمی و حیرت میں ڈھل گئی تھی۔
”تم جا سکتے ہو۔“قُتیلہ کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اس نے یشکر کو جانے کا اشارہ کیا۔
یشکر لجاجت سے بولا۔”اگر مجھے رئیس اعظم سے ملنے کا موقع دے دو تو انعام کا نصف آپ کے حوالے کر دوں گا۔“
پہرے دار نے ایک لمحے کو سوچا اور پھر اثبات میں سرہلاتا ہوا بولا۔”وعدے سے مکر نہ جانا۔“یقینا قُتیلہ کی صورت دیکھ کر اسے یقین ہو گیا تھا کہ لانے والا انعام کا حق دار ضرور ٹھہرے گا۔
یشکر نے خوش ہو کر نیچے چھلانگ لگائی اور قُتیلہ کے گھوڑے کے ساتھ گھٹنا ٹیک کر بیٹھ گیا۔ قُتیلہ نزاکت سے اس کے زانو پر پاﺅں رکھ کر نیچے اتر آئی تھی۔گھوڑوں کی لگامیں تھامے پہرے دار کی معیت میں چلتے ہوئے وہ ذیلی کھڑکی کے رستے حویلی میں داخل ہوئے۔حویلی کی اندرونی عمارت دروازے سے سو ڈیڑھ سو قدم دور تھی۔ان کے کانوں میں سازو باجے کی مدہم آوازیں پہنچیں۔یقینا مخنف بن فدیک عیش و نشاط کی محفل میں مگن تھا۔
پہرے دار اپنے ساتھی کو مخاطب ہوا۔”عتیبہ،تم اربد کے ساتھ مل کر دھیان رکھو میں مہمانوں کو رئیس اعظم کے پاس لے جاتا ہوں۔“
اربد مورچے سے نیچے آتا ہوا بولا۔”ٹھیک ہے،لیکن انعام میں ہم بھی برابر کے حصے دار ہوں گے۔“
پہلے والا پہرے دار اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔”آدھا میرا اور آدھا تم دونوں کا۔“
اس اثناءمیں اربد نیچے اتر آیا تھا۔
”ملکہ قُتیلہ انھیں انعام دینے لگی ہے۔“یشکر کو آگاہ کرتے ہی قُتیلہ حرکت میں آئی۔اس کا پہلا شکار انھیں اندر لانے والا پہرے دار بنا تھا۔اس کے نرخرے کو تیز دھار خنجر سے کاٹتے ہوئے وہ بگولے کی طرح اربد کی طرف بڑھی۔اس اثناءمیں یشکر عتیبہ کی گردن ادھیڑ چکا تھا۔مختصر سے وقت میں تینوں خرخراتے ہوئے زمین پر تڑپ رہے تھے۔انعام ان کی توقع سے کئی گنازیادہ تھا۔
یشکرنے جلدی سے مشعل اٹھائی اور حویلی سے باہر جا کر زور زور سے مشعل کو لہرانے لگا۔یہ اپنے ساتھیوں کو قریب بلانے کا اشارہ تھا۔وہ زیادہ دور نہیں تھے۔تھوڑی دیر میں حویلی کے دروازے پر پہنچ گئے تھے۔وہ پچیس چنے ہوئے لڑاکے تھے۔باقی افراد حویلی سے باہر ہی ایک جگہ ان کے منتظر تھے۔چھے افراد ایسے تھے جن کے پاس ہتھیار موجود نہیں تھے۔جن میں تین افراد کو پہرے داروں کی تلواریں مل گئی تھیں۔
”اقرم بن طریف تم دس افراد کو ساتھ لے جا کر حویلی کے عقبی دروازے پر پہنچو۔راستے میں جو پہرے دار ملے اسے قتل کر دیناالبتہ غلاموں کو چھوڑ دینا۔حاجب تم دو آدمیوں کے ساتھ یہیں دروازے پر رہناباقی بارہ آدمی ہمارے ساتھ جائیں گے۔“یشکر نے سرعت سے انھیں تقسیم کیا اور قُتیلہ کو ساتھ لیے آگے بڑھ گیا۔ اپنے گھوڑے انھوں نے دروازے ہی پرچھوڑ دیے تھے۔
قُتیلہ نے چغہ اتار کردور پھینکا،بالوں کو سمیٹ کر قساوا میں جکڑااور نیام کمر سے باندھ لی۔
محتاط انداز میں چلتے ہوئے وہ اندرونی عمارت کی طرف بڑھے۔محل نما عمارت میں جگہ جگہ قندیلیں اور مشعلیں روشن تھیں۔عمارت کے اندرونی دروازے پر بھی دو پہرے دار موجود تھے۔دور سے ہی پہرے داروں کو دیکھ کر یشکر نے باقیوں کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور قُتیلہ کے ہمراہ آگے بڑھ گیا۔ سازباجے کی دھیمی آواز آہستہ آہستہ نمایاں ہونے لگی تھی۔ اندرونی عمارت سے پہلے بارہ دری تھی۔ دونوں پہرے دار قدموں کی چاپ سن کر ان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔جونھی روشنی میں آئے وہ انھیں دیکھ حیران رہ گئے تھے۔
”کون لوگ ہو تم۔“چونکہ بیرونی دروازے پر پہرے دار موجود تھے اس لیے مشکوک ہونے کے بجائے انھوں نے حیرانی کا اظہار کیا تھا۔
”ہم رئیس اعظم کے مہمان ہیں اور….“اتناکہتے ہوئے وہ ان کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے اور اس کے بعد کچھ کہنا بے فائدہ تھا۔قُتیلہ اوراس نے ایک ساتھ زقند بھری تھی۔نرخرے میں اترنے والے خنجر چیخنے کاموقع نہیں دیا کرتے۔انھیں تڑپتا چھوڑ کر یشکر نے اپنے ساتھیوں کو قریب آنے کا اشارہ کیا۔ ان کے پہنچتے ہی وہ اندرونی دروازے کی طرف متوجہ ہوئے۔تبھی قُتیلہ سرگوشی میں بولی۔
”غلاموں اور عورتوں کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“ ان کے سر ہلانے پر وہ یشکر کے ساتھ اندرونی عمارت میں داخل ہو گئی۔اندر چوڑی غلام گردش تھی۔دروازہ کھلتے ہی ان کے کانوں میں ساز باجے کی تیزآواز آنے لگی۔یقینا رقص و سرود کی محفل عروج پرتھی۔ مغنّیہ کی آواز کے ساتھ نسوانی قہقہوں اور گھنگرو کی جھنکار بھی واضح سنائی دے رہی تھی۔غلام گردش کے اختتام پر ایک وسیع ایوان تھا۔وہاں بھی محافظ موجود تھے لیکن ان کا دھیان باہر سے زیادہ اندرونی تماشے پر تھا۔
وہ تیزی سے آگے بڑھے۔قدموں کی آہٹ پر پہرے دار متوجہ ہوئے۔ننگی تلواریں سونتے انھیں اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر وہ ایک لمحے کو سن ہو گئے تھے۔اگلے ہی لمحے وہ تلواریں سونت کر ان کی طرف بڑھے۔یشکر اور قُتیلہ پہلو بہ پہلو آگے بڑھ رہے تھے۔وار کرنے کی حسرت پہرے داروں کے دل ہی میں رہ گئی تھی۔قُتیلہ اور یشکر کی تلواریں ایک ساتھ حرکت میں آئی تھیں۔بے سرتڑپتے جسموں کو پھلانگتے ہوئے وہ ایوان میں داخل ہوگئے تھے۔
چھت سے لٹکتے فانوس اور دیواروں میں سجی قندیلوں کی تیز روشنی میں انھیں نفیس ایرانی قالین پر رنگ و نور کا سیلاب بکھرا نظر آیا۔ایک خوب صورت تخت پر مخنف بن فدیک راجااِندر بنا بیٹھا تھا۔تخت کے سامنے خوب صورت مغنّیہ اور سازندے بیٹھے تھے۔تخت کے ساتھ دائیں بائیں دھری کرسیوں پر معزّزخواتین و حضرات بیٹھے تھے۔بیچ کی خالی جگہ میں رقاصائیں تھرک رہی تھیں۔نیم عریاں کنیزیں مُشقاب (ٹرے)میں ارغوانی محلول سے بھرے آب خورے اٹھائے شراب پیش کرنے کے ساتھ معزّز مہمانوں کی غیر مہذب حرکتیں بھی برداشت کر رہی تھیں۔مخنف کے تخت کے پیچھے دو تنومند حبشی زیر جامہ میں ملبوس سنگی مجسموں کی طرح استادہ تھے۔دونوں نے ہاتھوں میں ننگی تلواریں پکڑی ہوئی تھیں۔اطراف کی دیواروں کے ساتھ تین تین محافظ نظر آرہے تھے۔
جونھی یشکر اور قُتیلہ خون آلود تلواروں کے ساتھ سامنے ہوئے۔سب سے پہلی چیخ مغنیہ کے ہونٹوں سے نکلی تھی۔اس کے بعد رقاصائیں بھی چیختے ہوئے تخت کی طرف سمٹ گئی تھیں۔سازندوں کے راگوں کو چھیڑنے والے ہاتھ ساکت ہو گئے تھے۔شراب پیش کرتی کنیزیں اپنی جگہ پر تھم گئی تھیں۔کرسیوں پر بیٹھے معزّزین اور ان کی بیویاں ہکابکا رہ گئی تھیں۔
تبھی مخنف بن فدیک نے غصے میں دھاڑتے ہوئے نشست چھوڑی۔”کن بدبختوں کو موت کھینچ لائی ہے۔“
اس کے گرجنے پر دیواروں اور اس کے عقب میں کھڑے محافظ حیرت کے جھٹکے سے نکلتے کر تلواریں سونتے ان کی طرف بڑھے۔
قُتیلہ کی اطمینان بھری آواز بلند ہوئی۔”ہتھیار پھینکنے والا اپنی جان بچا سکتا ہے۔“
مگر محافظوں نے اس کی بات پر کان نہیں دھرے تھے۔سب سے پہلے ان کے قریب پہنچنے والے سب سے پہلے قتل ہوئے تھے۔اپنے ساتھیوں کے حرکت میں آنے سے پہلے قُتیلہ اور یشکر دو دو محافظوں کی گردیں اتار چکے تھے۔اس اثناءمیں تن ساز نظر آنے والے دونوں حبشی ان کے قریب پہنچ چکے تھے۔
”اگر غلام ہو تو ہماری طرف ہو کر لڑنا تمھیں فائدہ دے سکتا ہے۔“ایک حبشی کا وار تلوار پر روکتے ہوئے قُتیلہ نے پیشکش دہرائی۔
طاقت کے زعم میں چور حبشی نے اس کی پیش کش پر کان دھرے بغیر دوسرا وار کیا۔جھکائی دے کر اس کا وار خطا کرتے ہوئے قُتیلہ کی زوردار لات اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں لگی۔وہ اذیت سے دوہرا ہوکر نیچے جھکا۔ اگلے وار میں اس کی گردن اڑتی ہوئی مخنف کے قدموں میں جاگری تھی۔یشکر کی تلوار دوسرے پہلوان کی چھاتی سے گزر کر پشت سے نکل گئی تھی۔بچ جانے والے دو محافظ کئی تلواروں کواپنی جانب اٹھا دیکھ کر ہتھیار پھینک چکے تھے۔یشکر اور قُتیلہ تڑپتے اجسام کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھے۔ خواتین کی چیخ و پکار شروع ہو گئی تھی۔
”خاموش۔“یشکر کی دھاڑ بلند ہوئی۔”اگر کسی کی آواز آئی تو وہ اس کے حلق سے نکلنے والے آخری الفاظ ہوں گے۔“
عورتوں نے بے ساختہ ہاتھوں سے ہونٹ دبا کر چیخوں کو حلق میں بھینچ لیا تھا۔
قُتیلہ نے مُشقاب اٹھانے والی ایک کنیز کو ہاتھ کے اشارے سے قریب بلایا۔وہ لرزتی ہوئی پاس آئی۔مُشقاب میں دو آب خورے بھرے ہوئے پڑے تھے۔دونوں یکے بعد دیگرے حلق میں انڈیل کر قُتیلہ تحسین آمیز لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ کو یہ مشروب پسند آیا ہے۔“
یشکر نے صاعقہ کی نوک مخنف کی ٹھوڑی سے لگا کر مزاحیہ لہجے میں پوچھا۔”ہاں تو مخنف بن فدیک،تم کچھ کہہ رہے تھے۔“
”کک….کون لوگ ہو تم؟“مخنف کی بہادری کے غبارے سے ہوا نکل گئی تھی۔
یشکر بولا۔”خادم کو سردار یشکر بن شُریک کہتے ہیں اور یہ ہیں دو قبیلوں کی سردارن ملکہ قُتیلہ۔“
”مجھ سے کیا دشمنی ہے۔“
یشکر اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”تمھارے جہاز پر ہمارے قبیلے کے افراد قید تھے،میرا مطلب غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔انھیں آزاد کرایا تو مناسب سمجھا تعاقب کا رستا بھی روکتے جائیں۔“
مخنف جلدی سے بولا۔”ہم تمھارا تعاقب نہیں کریں گے۔“
یشکر ہنسا۔”کر سکو تو ضرور کرنا۔“
”میں تمھیں یقین دلاتا….“مخنف نے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولنا چاہا مگر قُتیلہ کی تلوار نے لہرا کر اسے بات مکمل نہیں کرنے دی تھی۔”ملکہ قُتیلہ کے پاس تمھاری بکواس سننے کا وقت نہیں ہے۔“
عورتوں کی گھٹی گھٹی چیخیں بلند ہوئیں۔مخنف کے علاوہ پانچ معزّزین اور بھی موجود تھے۔مخنف کو مرتے دیکھ کر وہ تھرتھر کانپتے ہوئے ملتجی ہوئے۔”ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“
”تم کون ہو؟“قُتیلہ نے بچ جانے والے محافظوں سے پوچھا۔
وہ جلدی سے بولے۔”مخنف بن فدیک کے غلام۔“
قُتیلہ بولی۔”ان پانچ افراد کی گردنیں اتار کر اپنی گردنیں سلامت رکھ سکتے ہو۔“
دونوں نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر تھوک نگلتے ہوئے بولے۔ ”اگر کسی کو پتا چل گیا کہ انھیں ہم نے ….“ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے قُتیلہ کی تلوار حرکت میں آچکی تھی۔دونوں کی گردنیں باری باری اڑتے ہوئے دیوار کے پاس جا گری تھیں۔
”ملکہ قُتیلہ کو وضاحتیں سننے کی عادت نہیں ہے۔“ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف مڑی۔ ”کوئی مرد زندہ نظر نہیں آنا چاہیے۔“
جہاز پرکئی ماہ سے مسلسل ظلم و ستم سہنے والے غلام طیش سے بھرے ہوئے تھے۔ایک ساتھ پانچ تلواریں حرکت میں آئیں اور ایوان میں موجودمعزّزین ِدبا کا صفایا ہو گیا تھا۔
”لونڈیاں پیچھے ہو جائیں۔“یشکر عورتوں کو مخاطب ہوا۔
دس بارہ خواتین کو چھوڑ کر باقی دیوار کے ساتھ ہو گئی تھیں۔معزّز خواتین کا پتا لباس سے بھی واضح طور پر چل رہا تھا۔
قُتیلہ لونڈیوں کو مخاطب ہوئی۔”تم اب بنو طرید کی آزاد شہری ہو۔“
ایک ادھیڑ عمر عورت ملتجی ہوئی۔”ہم ملکہ قُتیلہ سے امان طلب کرتی ہیں۔“
قُتیلہ سفاکی سے بولی۔”کنیز بن کر زندگی کے مزے لوٹ سکتی ہو۔“
”ہم مرنا نہیں چاہتیں۔“ایک ساتھ تین چار نے سسکیاں بھرتے ہوئے التجا کی تھی۔
یشکر انھیں قُتیلہ سے محو گفتگو چھوڑ کر اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہوا۔”دو آدمی اقرم بن طریف کے پاس چلے جاﺅ۔ کہوسامنے اور عقبی دروازے پر چار چار پہرے دار چھوڑ کر باقی افراد کو یہاں لے آئے۔حویلی سے باہر موجود اپنے آدمیوں کو بھی بلا لینا۔“
دو آدمی سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئے تھے۔
یشکر نے اگلی ہدایت جاری کی۔”چار افراد یہیں رہ کر عورتوں کی نگرانی کرواور باقی چھے پوری عمارت میں گھوم جاﺅ۔جب تک کوئی مقابلے کی کوشش نہ کرے، قتل نہ کرنا۔“
ہلکی سی بھن بھناہٹ کے ساتھ انھوں نے تلاشی کے لیے جانے والے افراد کا تعین کیا اور چھے افراد تلواریں سونتے اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئے۔
قُتیلہ،مخنف بن فدیک کی پہلی بیوی سے خزانے کا پتا پوچھ رہی تھی۔مخنف بن فدیک کی دولت مندی کے بارے انھیں ساحلی سرائے کے مالک اشیم بن اقیش سے پتا چلا تھا۔ مخنف کی بیوی نے پہلے تو نفی میں سر ہلا کر لا علمی کا اظہار کیا مگرقُتیلہ کا ایک ہی تھپڑ کھا کر تہہ خانے کا رستا بتانے پر تیار ہو گئی تھی۔اس کی معیت میں یشکر اور قُتیلہ خزانے کی طرف روازنہ ہو گئے جو تہہ خانے میں پڑا تھا۔تہہ خانے کا راستا مخنف کی خواب گاہ سے ہو کر گزرتا تھا۔
خواب گاہ میں داخل ہو کر مخنف کی بیوی حاصنہ بنت خازن نے سب سے پہلے دیوار میں بنی ایک الماری کھولی۔ اس میں تہہ کیے ہوئے زنانہ و مردانہ لباس رکھے تھے۔ لباس ہٹا کر اس نے ایک خفیہ خانہ کھولا اور اس سے بڑی سی چابی نکال کر پر تکلف مسہری کی طرف بڑھ گئی۔مسہری کی عقبی دیوار کے ساتھ بحری جہاز کی بڑی سی تصویر ٹنگی تھی۔ تصویر ہٹائی تو عقب میں لوہے کا مضبوط دروازہ نظر آنے لگا تھا۔چابی سے دروازے کا قفل کھول کراس نے دیوار میں گڑی مشعل اتاری اور سیڑھیاں اترنے لگی۔سیڑھیوں کے اختتام پر درمیانے حجم کا کمرہ بنا تھا۔اور اس میں لکڑی کے صندوق ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔تمام صندوقوں کو تالے لگے تھے۔
حاصنہ نے ایک الماری کے خفیہ خانے سے صندوقوںکی چابیاں برآمد کیں اور ایک ایک کر کے تمام صندوق کھول دیے۔
چار صندوق چاندی کے سکوں سے بھرے تھے۔دو سونے کے سکوں سے لبالب تھے جبکہ دو میں خلیج الفارس کے قیمتی موتی بھرے تھے۔دو صندوق خالی پڑے تھے۔شاید وہ زیورات کے لیے بنائے گئے تھے کیوں کہ الماریوں میں سونے اور ہیرے جواہرات سے مزین قیمتی زیورات سجے تھے۔
”سردار یشکر، آدھا خزانہ ملکہ قُتیلہ کا ہوگا۔“خزانے کو دیکھتے ہی قُتیلہ نے دعوا کرنے میں دیر نہیں کی تھی۔
یشکر خلوص سے بولا۔”ہاں،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکہ قُتیلہ آدھے خزانے کی جائز حق دار ہے۔“
وہ مسکرائی۔”ملکہ قُتیلہ کو معلوم تھا تم انکار نہیں کرو گے۔“
یشکر نے کہا۔”ہمارے ساتھی نئے ہیں۔ ہو سکتا اتنی دولت دیکھ کر کوئی غلطی کر بیٹھیں اس لیے کسی کو خزانے کی بھنک بھی نہیں پڑنا چاہیے۔تمام صندوقوں کو قفل لگا دو۔“
”ملکہ قُتیلہ متفق ہے۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ الماری میں رکھے زیورات کی طرف بڑھ گئی۔تمام زیورات خالی صندوق میں منتقل کر کے صندوقوں کے قفل لگائے اور چابیاں اپنے نطاق میں باندھ لیں۔
وہ تہہ خانے سے نکل کر ایوان میں پہنچے ۔ اقرم باقی غلاموں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔حویلی کی چھان بین ہو چکی تھی۔ایک جانب گھوڑوں کا طویلہ تھا جس میں تیس عمدہ گھوڑے بندھے تھے۔ایک احاطہ اونٹوں کا تھا۔جہاں دوسو بہترین اونٹ بند تھے۔ایک باڑے میں بھیڑ بکریاں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔پندرہ غلام،پچاس لونڈیاں اور بارہ آزاد عورتیں ان کے ہاتھ آئی تھیں۔
گھوڑے بہترین لڑاکوں کے حوالے کر کے انھوں نے پچاس اونٹوں پرخزانے کے صندوق، عورتوں اور مردوں کے قیمتی لباس،کھڑکیوں،دروازوں کے پردے، لحاف وقیمتی ایرانی کمبل۔عمدہ شراب کے بھرے مشکیزے اور دوسرا قیمتی سازوسامان لادا۔باقی پچاس اونٹوں پر انھوں نے آٹا اور دوسری اشیائے خوردو نوش لادیں۔اوربچ جانے والے اونٹوں پر عورتوں وغیرہ کو بٹھا کر وہ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔درجن بھر بکرے ذبح کر کے انھوں نے خالی اونٹوں پر لاد لیے تھے اور باقی کو کھلا چھوڑ دیا کہ ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے۔بکروں دنبوں کی وجہ سے ان کی رفتار نہایت سست ہو جانا تھی جبکہ وہ جلد از جلد دور نکل جانا چاہتے تھے۔
٭٭٭
واپسی کا سفر انھوں نے خلیج الفارس کے ساحل کو دائیں ہاتھ رکھ کر شروع کیا تھا۔عورتوں اور غلاموں کے اونٹ درمیان میں تھے تاکہ کوئی بھاگنے کی کوشش نہ کر سکے۔گھڑ سواروں کو انھوں نے قافلے کے سامنے دائیں بائیں اور پیچھے اس انداز میں رکھا تھا کہ انھوں نے قافلے کا گھیراﺅ کر لیا تھا۔شہر سے نکلتے ہی بنو جساسہ کے دو افراد نے خوب صورت حدی خوانی شروع کر دی تھی۔جس سے اونٹوں کی رفتار تیز ہو گئی تھی۔
”ملکہ قُتیلہ،حدی خوانوں کو منھ مانگا انعام دے گی۔“اونٹوں کی تیز رفتاری دیکھتے ہوئے قُتیلہ نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔
یشکر شرارت سے بولا۔”اور انعام میں کسی نے ملکہ قُتیلہ کاہاتھ مانگ لیا تو….؟“
برہمی بھری نگاہ یشکر پر ڈال کر وہ خاموش رہی تھی۔
”جواب نہیں دیا۔“یشکر نے اسے اکسایا۔
وہ ترشی سے بولی۔”کسی کے مرنے کی خواہش کو پورا کرنے پر ملکہ قُتیلہ کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔“
”خود ہی تو کہہ رہی ہو منھ مانگا انعام دو گی اور منھ مانگا انعام مانگنے والے کی خواہش کے مطابق دیا جاتا ہے۔“
”کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ملکہ قُتیلہ کے سامنے بکواس کر سکے۔“
اس کی برہمی نظر انداز کرتے ہوئے یشکر نے شوخی سے پوچھا۔”پتا ہے جب تم مجھے منھ مانگا انعام دینے کا اعلان کرو گی تو میں کیا مانگوں گا۔“
قُتیلہ نے ہونٹ بھینچتے ہوئے اسے برہمی اور ناراضی سے گھورا۔دُنبالہ آنکھوں کو متوجہ پاکر یشکر نے بھی جھیل سی گہری آنکھوں میں جھانکا،اچھا تیراک ہونے کے باوجود اسے محسوس ہوا کہ وہ ڈوب رہا ہے۔جھرجھری لیتے ہوئے وہ سامنے دیکھنے لگا۔
منھ بناتے ہوئے اس نے بے قابو ہوتی حالت پر قابو پایا۔”اگر نہیں جاننا چاہتی ہو تو مجھے کیا۔“سردارزادی بادیہ کی یاداسے بے چین کرنے لگی تھی۔وہ جب بھی دُنبالہ آنکھوں کا سامنا کرنے کی کوشش کرتامات ہی اس کا مقدر بنتا تھا۔کم بخت،سردارزادی بادیہ کی ایسی نقل تھی کہ فرق کرنا دشوار ہو جاتا تھا۔اور بادیہ کے التفات کا وہ عادی تھا جبکہ یہاں فقط برہمی، درشتی،اکھڑ پن،نخوت اور حقارت ہی سے واسطہ پڑتا۔
”بے ہودہ فارسی غلام۔“زیر لب بڑبڑاتے ہوئے قُتیلہ نے مشکی کو ایڑ لگائی اور آگے بڑھ گئی۔یشکر نے قہقہ لگانے پر اکتفا کیا تھا۔
وہ دن بھر رکے بغیر چلتے رہے۔غرو ب آفتاب کے وقت ایک مناسب جگہ پر قافلہ روک کر انھوں نے پڑاﺅ ڈالا۔اور وہیں پر قُتیلہ نے تمام لونڈیوں کی شادی مردوں سے کر دی تاکہ ہر کوئی اپنی بیوی کو آسانی سے سنبھال سکے۔معزّز خاندان سے تعلق رکھنے والے مردوں کی شادی اس نے آزاد عورتوں سے کردی تھی۔صرف حاصنہ بنت خازن کی التجا پر اسے کسی کے حوالے نہیں کیا تھا۔ مردوں کی تعداد زیادہ تھی اس لیے ہر مرد کے حصے میں عورت نہیں آئی تھی۔آخر میں وہ کہہ رہی تھی۔
” مردوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ عورتیں تمھاری بیویاں ہیں لونڈیاں نہیں۔اور ان سے آزاد عورتوں سا برتاﺅ کرنا۔کسی بھی عورت کی شکایت پر ملکہ قُتیلہ سخت ردعمل ظاہر کر سکتی ہے اور تم میں ایک بھی ایسا نہیں جو ملکہ قُتیلہ کی سختی کا سامنا کر سکے۔“
رات گزار کر وہ طلوع آفتاب سے پہلے جانے کے لیے تیار تھے۔قُتیلہ اور یشکر وہاں سے جلد از جلد دور نکل جانے پر متفق تھے۔تیسری رات وہ صحار سے گزر کر آگے بڑھے تھے۔اس شب وہ چاند کے طلوع ہونے تک چلتے رہے تھے۔اور چاند صبح صادق کے وقت جا کر طلوع ہوا تھا۔
چھٹے روز شام کے وقت وہ بنو ناجیہ کے قریب پہنچ گئے تھے۔بنو ناجیہ کے رئیس زنبربن خربہ کے ہاں بنو جساسہ کے دس افراد موجود تھے۔پڑاﺅ ڈال کر وہ زنبر بن خربہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے لگے۔یشکر نے مروان اور اغلب سے سنی ہوئی معلومات بھی مشاورت میں شامل ارکان کے سامنے پیش کر دی تھی۔
حاطب بن قارب بولا۔”مجھے نہیں لگتا یہ دانش مندانہ فیصلہ ہوگا۔زنبربن خربہ سردارِ قبیلہ کا دوست ہے۔اوریقینی بات ہے ہم پورے بنو ناجیہ سے نہیں نبٹ سکتے۔ “
یشکر تلخی سے بولا۔”تو اپنے آدمیوں کو بے یارومددگار چھوڑدوں۔“
حاطب بولا۔”ہم زنبربن خربہ سے مل کر اپنے آدمی واپس مانگ سکتے ہیں۔“
اقرم نے لقمہ دیا۔”مانگنے کے بجائے وہ غلام خریدے بھی تو جا سکتے ہیں۔“
قُتیلہ نے نفی میں سرہلایا۔”ضروری نہیں کہ زنبربن خربہ اپنے غلام بیچنے پر تیار ہو جائے۔“
یشکر،قتیلہ کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے بولا۔”صرف ایک طریقہ ہے کہ زنبربن خربہ اپنے غلام خوشی خوشی بیچنے پر آمادہ ہو جائے گا۔“
وہ بپھر کر بولی۔”ملکہ قُتیلہ،تمھارے کسی گھٹیا منصوبے کا حصہ نہیں بنے گی۔“
یشکر شرارت سے ہنسا۔”سن تو لو۔“
”کوئی ضرورت نہیں۔“وہ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جانے لگی۔
”ملکہ قُتیلہ،تم ایسے نہیں جا سکتیں۔“ یشکر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
وہ حتمی لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ نہ تو سنگار کرے گی اور نہ کمر سے تلوار کھولے گی۔“
یشکر نے اسے کھینچ کر واپس بٹھایا۔”خود کو ملکہ قُتیلہ کہتی ہو توتمھیں ملکہ لگنا بھی چاہیے۔ ورنہ آج سے خود کو جنگجو یا لڑاکاقُتیلہ کہا کرو۔“
وہ اکھڑ پن سے بولی۔”یہ پانی نہیں ہے کہ تم ملکہ قُتیلہ کا ہاتھ تھامنے کی جرّات کرو۔“
یشکر ملتجی ہوا۔” میرا منصوبہ تو سن لو۔“
”گہرا سانس لے کر وہ خاموش ہو گئی تھی گویا یشکر اپنی رام کہانی سنا سکتا تھا۔
یشکر تفصیل بتانے لگا۔حیران کن طور پر وہ ناک بھوں چڑھائے بغیر راضی ہو گئی تھی۔ لیکن منصوبہ بتانے کے بعد جب یشکر اسے کارروائی کی ترتیب اورگفتگو کا طریقہ کار سمجھانے لگا تب تین بار تلوار بے نیام کر کے وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔بڑی مشکل سے منت سماجت کرکے یشکر اسے سمجھانے میں کامیاب ہوا تھا۔
٭٭٭
بیس گھڑ سوار زنبربن خربہ کی حویلی کے سامنے رکے۔ان سے آگے دوصحت مند اونٹ تھے۔ جن میں ایک پرمحمل باندھا ہوا تھا۔ محمل پر خوب صورت اور ریشمی چادریں پردوں کے انداز میں چاروں طرف لٹکائی گئی تھیں۔
زنبربن خربہ درجنوں محافظوں کے ساتھ حویلی کے دروازے پر استقبال کے لیے موجود تھا۔ کیوں کہ صبح سویرے ہی دو گھڑسواراسے بتا گئے تھے کہ سلطنت لخمیہ کے تاجدارِ جناب امراءالقیس کی پوتی شہزادی رقاشہ بنتِ عمرو بن امراءالقیس بن عمرو بن عدی تھوڑی دیر میں انھیں ملنے تشریف لا رہی ہیں۔
زنبر بن خربہ کے لیے یہ بات سخت حیرانی کی وجہ بنی تھی۔امراءالقیس کا پایہ تخت حیرہ تھا۔ اس کی عمر سو سال سے تجاوز کر چکی تھی۔سلطنت لخمیہ کا، ساسانی حکمران سابور ذوالاکتاف کے ساتھ الحاق تھا۔سلطنت لخمیہ کی حدود شرقی جانب خلیج الفارس کے مغربی کنارے کے ساتھ دریائے شط العرب(یعنی دجلہ و فرات کا مجموعہ)سے ہو کر دریائے فرات کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی الجزیرہ تک چلی گئی تھی۔اس کے شمالی جانب غسانی سلطنت تھی جس میں تغلب،قضاعہ اور بنو کلب جیسے بڑے قبائل شامل تھے۔مغربی جانب دومة الجندل، ثعلبہ اور جدیلہ سے ہو کر جنوب کی جانب یمامہ سے مل جاتی تھی۔بکر بن وائل، تنوخ، بنو کاظمہ،حیرہ اور بنو شیبان جیسے بڑے علاقے اس میں شامل تھے۔فارس اور روم دونوں کے نزدیک سلطنت لخمیہ بہت اہمیت کی حامل تھی۔
حیرہ کے تاجدار کی پوتی کا اپنے ہاں آنا اسے حیران کر رہا تھا۔ لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ کوئی بغیر مطلب کے جھوٹ کیوں بولتا۔البتہ عمدہ لباس پہنے بیس گھڑسواروں اور اونٹ پر بندھے قیمتی محمل کو دیکھتے ہوئے اس کے دل میں کوئی شک تھا بھی سہی تو دور ہو گیا تھا۔
اونٹ کی مہار تھامے شخص نے احتیاط سے اونٹ کو نیچے بٹھایا۔اتنی دیر میں دوسرے اونٹ پر لدی ایک منقش پالکی اتار کر نیچے رکھ دی گئی تھی۔ساربان نے اونچے پائیوں والی ایک منقش میز اونٹ کے ساتھ جوڑ کر رکھی۔محمل کے ریشمی پردوں کو اندر بیٹھی دو خوب صورت کنیزوں نے دائیں بائیں کیا،تبھی گہرے آسمانی رنگ کے لباس میں ملبوس ایک پیکر حسن و جمال نے معصومیت بھری نظروں سے باہر جھانکا۔ گھنے سیاہ و درازگیسوﺅں پر جواہرات سے مرصّع نفیس تاج ٹکا تھا۔اس نے محمل سے پاﺅں نکال کر نزاکت سے اونچی میز پر رکھا۔دونوں کنیزوں نے اس کے بازو تھام لیے تھے۔پاﺅں میں موتیوں جڑے ملائم چمڑے کے بنے نسوانی جوتے تھے،جس میں اس کے گندمی پاﺅں انگوٹھی میں جڑے نگینے کی طرح دمک رہے تھے۔ پاﺅں کی انگلیوں میں طلائی بچھوے (پاﺅں کی انگوٹھیاں) اور پنڈلیوں میں طلائی خلاخل (پازیب) نظر آرہی تھیں۔جونھی اس نے دونوں پاﺅں میز پر رکھے گھوڑے پر سوار ایک قوی ہیکل نوجوان جس نے بدن پر مختلف ہتھیار سجائے ہوئے تھے۔چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور میز کے سامنے گھٹنا ٹیک کر بیٹھ گیا۔نوجوان کے زانو پر پاﺅں رکھ کر اس نے دوسرا پاﺅں نوجوان کے دونوں ہاتھوں پر رکھا جو اس نے اپنے زانو کے ساتھ گویا پائدان کی طرح پکڑ رکھے تھے۔
نیچے اتر کر وہ سیدھا کھڑی ہوئی۔سروقد،سرمہ بھری سیاہ غزال آنکھیں،پنکھڑی ہونٹ، ستواں ناک،گھنی سیاہ دراز زلفیں جن میں رنگ برنگے موتیوں کی لڑیاں گندھی تھیں،کشادہ جبین پر نفیس، نازک اور عمدہ جھومر چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔صراحی دار گردن میں ہیرے جواہرات سے مرصّع طوق تھا۔اس کے علاوہ جڑاﺅ سات لڑیوں والاطلائی ہار جو گریبان کو ڈھانپ رہا تھا۔ سرخ و سفید اور کالے موتیوں کی تین مالائیں جو سینے تک لٹک رہی تھیں۔دونوں کلائیوں میں طلائی کنگن تھے جن میں جواہر جڑے تھے۔کنگنوں کے ساتھ پہُنچیاں بھی پہنی تھیں جن سے موتی پروئی ہوئی تین تین لڑیاں نکل کر انگلیوں کی پوروں تک جا رہی تھیں۔لڑیوں کے سرے پر طلائی چھلے تھے جو ہاتھ کی درمیانی تین انگلیوں میں پہن کر لڑیوں کو جکڑ دیا گیا تھا۔لڑیوں کے درمیان تھوڑے تھوڑے فاصلے پر فیروزی رنگ کے ہیرے جڑے تھے۔ فیروزی رنگ کا ایک بڑا ہیراہاتھ کی پشت پر ٹکاتھااور اس کے گرد گولائی میں اسی رنگ کے چھوٹے نگینے جڑے تھے۔ دونوں ہاتھوں کی چھنگلی میں ہیروں کی انگوٹھیاں تھیں۔اس کی گہرے آسمانی رنگ کی فرجی کافی کھلی اور پاﺅ ں کے بہت نیچے تک جا رہی تھی۔اس پر سونے و چاندی کی تاروں کی کشیدہ کاری کی گئی تھی۔نطاق کی جگہ باندھا زرتار کمر بند اتنا چوڑا تھا کہ پورے پیٹ کو ڈھانپ کر دیکھنے والوں کو باور کرا رہا تھا کہ شعراءنے پتلی کمر کی تشبیہ کہاں سے ڈھونڈی تھی۔ اوپر بغیر بازوﺅں کاباریک و مہین زربفت کا حلہ تھا جو اتنا لمبا تھا کہ زمین پر گھسیٹ رہا تھا۔کنیزوں نے حلے کے پلو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیے تھے۔سر کے عقبی حصے پرسفید اوڑھنی ٹکی تھی جو اتنی مہین تھی کہ چھپاﺅ کے لیے اس کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔البتہ اونچے خاندان کی عورتیں شرافت کے اظہار کے لیے سر پر ٹکا لیتی تھیں۔
جونھی ہی سیدھے کھڑے ہو کر اس نے زنبربن خربہ کی جانب گہری سیاہ نگاہیں اٹھائیں۔ زنبربن خربہ جیسے مشرک کا جی چاہا کہ سجدے میں گر جائے۔ایسا پیکر حسن و نزاکت اس نے بھلا کہاں دیکھا تھا۔بلا شک و شبہ وہ سلطنت لخمہ کی شہزادی تھی۔اس نے ہاتھ شال کے نیچے رکھتے ہوئے زنبربن خربہ کی طرف اٹھایا۔
وہ اتنی تیزی سے آگے بڑھا کہ لڑکھڑاگیا۔بڑی مشکل سے وہ گرنے سے بچا تھا۔قریب آکر اس نے جھک کر شہزادی کا شال میں لپٹا ہوا ہاتھ عقیدت سے تھامااور دونوں آنکھوں سے لگا کراس پر ہونٹ رکھ دیے۔اگر گستاخی کا اندیشہ نہ ہوتا تو یقینا شال سے لپٹے ہاتھ سے اس کے ہونٹوں کاوصل طوالت اختیار کر جاتا۔شہزادی کے جسم سے خوشبو کی لپٹیں یوں اٹھ رہی تھیں جیسے وہ خوشبو میں نہا کر آئی ہو۔
زنبربن خربہ کی حالت دیکھ کراس کے پنکھڑی ہونٹوں پرہلکا سا تبسم کھلااور خلیج الفارس کے سفید موتیوں سے آبدار دانت نظر آنے لگے۔ زنبربن خربہ کا دل جیسے دھڑکنا رک گیا تھا۔
”تمھارا نام رئیس ….“اس نے اٹکتے ہوئے طویل قامت محافظ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ وہ جلدی سے بولا۔
”رئیس زنبربن خربہ،شہزادی صاحبہ۔“
”ہاں ہمیں یاد ہے۔اتالیق چچا نے بتایا تھا۔“ زنبربن خربہ کے کانوں میں جلترنگ بجے۔
اس نے مضطرب ہو کر دونوں ہاتھ رگڑے۔”کیا زنبربن خربہ اتنا خوش قسمت ہے۔“
وہ نزاکت سے بولی۔”ہم تھک گئے ہیں محافظ۔“
زنبربن خربہ ندامت بھرے لہجے میں بولا۔”معذرت خواہ ہوں شہزادی صاحبہ !…. براہ مہربانی آپ آئیں ناں۔“
”ہم وہاں تک پیدل جائیں گے۔“اس نے چند قدم دور رکھی پالکی کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے محافظ کو برہمی سے گھورا۔
اس نے باقی محافظوں کو آواز دے کر کہا۔”پالکی شہزادی کے قریب لے آﺅ۔“
دو محافظوں نے پالکی اٹھا کر شہزادی کے سامنے رکھی۔محافظوں کے سرخیل نے ایک بار پھر دو زانو ہو کر ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے پائدان بنایااور شہزادی نے فرجی کے پہلوں کو ہاتھ میں پکڑ کر ذرا سا اونچا کیا تاکہ پاﺅں کے نیچے نہ آئے اورنزاکت سے ہتھیلیوں پر پاﺅں دھر کر پالکی میں بیٹھ گئی۔چار محافظوں نے پالکی کے ڈنڈے تھام کر زمین سے اوپر اٹھا لیا۔زنبربن خربہ کے غلاموں کی پالکی کی طرف بڑھنے کی کوشش کو سرخیل محافظ نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا تھا۔دونوں کنیزیں پالکی کے پیچھے جبکہ رئیس زنبربن خربہ اور سرخیل محافظ پہلوﺅں میں چلنے لگے۔ زنبربن خربہ شہزادی کے سامنے بچھا جا رہا تھا۔
صبح پیغام پہنچانے والوں کے سندیسے کو مشکوک سمجھنے کے باوجود اس نے حویلی کے وسیع صحن میں لگے درختوں کے نیچے چٹائیاں وغیرہ بچھا دیں تھیں۔چٹائیوں کے سامنے لکڑی کا بڑا سا مسہری نما تخت رکھا تھا جس پر منقش چادر بچھی تھی۔شہزادی پالکی سے نکل کر تخت پر بیٹھ گئی۔دونوں کنیزوں نے چٹائی پربیٹھ کر شہزادی کے پاﺅں سے جوتیاں اتاریں اور نرم کپڑا شہزادی کے پاﺅں پر پھیرنے لگیں۔وہاں رئیس زنبربن خربہ کے حرم کی چند خواتین موجود تھیں۔شہزادی کا جاہ جلال دیکھ کر وہ سخت مرعوب ہوئی تھیں۔ خود زنبربن خربہ اتنا متاثر ہوا تھا کہ ہاتھ باندھے ملازموں کی طرح کھڑا تھا۔
”شاید آپ لوگ ہم سے ملنے کے لیے کھڑے ہیں۔“لمحہ بھر ٹھہر کر شہزادی نے خود ہی خواتین کو مخاطب کیا تھا۔
اس کا اشارہ پا کر تمام مودّب انداز میں جھک کر اس کے ہاتھ کو پکڑ کر بوسا دینے لگیں۔ایک جوان لڑکی کو دیکھ کر شہزادی زنبربن خربہ کی جانب متوجہ ہوئی۔
”یہ تمھاری بیٹی ہے۔“
”جی شہزادی حضور۔“وہ چھاتی پر ہاتھ رکھ کر جھکا۔
”تم سے مل کر اچھا لگا۔“شہزادی نے گلے سے قیمتی موتیوں کی مالا نکال کر زنبربن خربہ کی بیٹی کی طرف بڑھا دی تھی۔
مالا لے کر اس نے آنکھوں سے لگا کر چومی اور گلے میں پہن لی۔اسی اثناءمیں دو کنیزیں مُشقاب میں تین چار قسم کے مشروب رکھے حاضر ہوئیں۔جن میں نبیذ،مُشَعشَع(ایسی شراب جس میں پانی ملایاگیا ہو)۔ شُطب (کھجور کی شراب)اور دودھ وغیرہ کے بھرے ہوئے آب خورے رکھے تھے۔
”ملکہ قُتیلہ کو صرف سرخ شراب اچھی لگتی ہے۔“شہزادی کے منھ سے نکلنے والے الفاظ دوسروں تو کیا ایک لمحے کے لیے خود شہزادی کو حیران کر گئے تھے۔لیکن اسی وقت سرخیل محافظ جو یقینا یشکر تھا بات سنبھالتے ہوئے سرعت سے بولا۔
”ملکہ قُتیلہ،شہزادی کی مادرِ محترم ہیں اور انھیں سرخ شراب پسند ہے اس وجہ سے شہزادی رقاشہ بھی سرخ شراب کو پسند کرتی ہیں۔“
قُتیلہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی،”محافظ نے ٹھیک کہا،ہمیں بھی سرخ شراب پسند ہے۔“
ایک کنیز مُشقاب نیچے رکھ کر حویلی کی عمارت کی طرف بھاگ پڑی۔قُتیلہ دوسری کنیز کو مخاطب ہوئی۔
”یہ مشروب ہمارے محافظوں کو پیش کرو۔“
”جی شہزادی حضور۔“کنیز مودّبانہ لہجے میں کہہ کر محافظوں کو شراب پیش کرنے لگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: