Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 56

0
بردہ از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 56

–**–**–

زنبربن خربہ نے کافی دیر سے دماغ میں مچلتے سوال کو الفاظ کی شکل میں ڈھالا۔”شہزادی حضور کہاں سے تشریف لا رہی ہیں۔“
یشکر پر اعتماد لہجے میں بولا۔”شہزادی رقاشہ،سوق دبا میں شرکت کی غرض سے خلیج الفارس کے راستے سے تشریف لائی تھیں۔وہاں سے شہزادی حضور کے بحری جہاز براستہ خلیج عمان،بحیرہ عرب سے ہوتے ہوئے بحیرہ قلزم کے راستے جدہ کے ساحل پر لنگر انداز ہونے چلے گئے ہیں ،جبکہ شہزادی حضوربنو ناجیہ، یمامہ سے نجد کے راستے مکہ پہنچیں گی۔کیوں کہ شہزادی حضور نے بیت اللہ میں طواف کی منت مانی ہوئی ہے۔ طواف اور مناجات سے فارغ ہو کر شہزادی حضور جدہ اپنے بحری بیڑے تک تشریف لے جائیں گی اور وہاں سے واپسی سمندر کے راستے ہوگی۔ “
اس اثناءمیں کنیز سرخ شراب کے تین آب خورے مشقاب میں رکھ کر لے آئی تھی۔
قُتیلہ نے آب خورہ اٹھا کر جونھی ہی ہونٹوں کی طرف لے جانا چاہا اس کی نظر سامنے کھڑے یشکر پر پڑی جو ہاتھ کے خفیہ اشارے سے اسے آہستہ آہستہ پینے کا مشورہ دے رہا تھا۔سرخ شراب، کا ذائقہ کافی تلخ تھاجبکہ وہ پانی کی طرح جام خالی کیا کرتی تھی۔یشکر کا اشارہ دیکھتے ہی اس نے برہمی سے گھورا اور نزاکت بھرے انداز میں آب خورہ ہونٹوں سے لگا لیا۔وہ اداکاری اس کے لیے سخت آزمائش اور مشکل امتحان جیسی تھی۔وہ دل ہی دل میں یشکر کو نجانے کتنی گالیاں بک چکی تھی۔حاضرین چونکہ مسلسل شہزادی کی دید سے بہرہ مند ہو رہے تھے اس لیے کسی کو یشکر کی حرکت نظر نہیں آئی تھی۔
زنبربن خربہ نے دوسرا سوال پوچھا۔”خادم کے غریب خانے کو شہزادی حضور نے کیسے رونق بخشی ہے۔“
اس بار بھی جواب دینے کی ذمہ داری یشکر نے نبھائی تھی۔”شہزادی حضور اپنے ہمراہ تربیت یافتہ سپاہ تو لے آئی ہیں لیکن غلام جہاز پر چھوڑ دیے۔ اور اب آگے کے سفر میں بہت سے کاموں کے لیے غلاموں کی ضرورت پڑے گی۔اس لیے شہزادی حضور نے غلاموںکی خریداری کاارادہ کرتے ہوئے آپ کو زحمت دینے کا فیصلہ کیا، کیوں کہ شہزادی حضور نے اپنے محترم اتالیق سے آپ کا نامِ نامی سن رکھا ہے کہ بنو ناجیہ کے رئیس زنبربن خربہ کے پاس بہت عمدہ اور تربیت یافتہ غلام جمع رہتے ہیں۔“
زنبربن خربہ کے چہرے پر تعجب نمودار ہوالیکن زبان سے کچھ بولنے کے بجائے وہ صرف کندھے اچکا کر رہ گیا تھاکہ حسن مجسم کے سامنے زبان سے ایسے سوالات کی ادائی گستاخی کہلاتی ہے۔
کنیزیں تمام کو مشروب پیش کرنے کے بعد کھانے کے طباق اٹھا کر لے آئی تھیں۔
قُتیلہ نے ذرا سا چکھ کر پسندیدگی سے سرہلایا۔”یہ کھاجا ملکہ قُتیلہ کے منھ کے لیے ذائقے دار ہے۔“اس نے وہ فقرہ بدوﺅں کے طرزِ گفتگو پر ادا کیا تھا۔ورنہ کسی شہزادی کے ساتھ وہ کلام نہیں جچتا تھا۔
یشکر نے بناوٹی مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیر کر کہا۔”شہزادی حضور اپنی مادرِ محترم کے ساتھ دستر خوان پر طعام تناول فرماتے ہوئے مذاق میں یونھی کہا کرتی ہیں۔
قُتیلہ نے زبردستی مسکراکر زنبربن خربہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔”اور مادرِ محترم کی طرح ہمیں بھی یہ طعام پسند ہے۔“
آب دار موتیوں کے سے دانتوں کی جھلک اور گلابی ہونٹوں کا کھچاﺅ زنبربن خربہ کو کھل کھلا کر ہنسنے پر مجبور کر گیا تھا۔وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
”یقینا شہزادی حضور مادرِ مہربان سے دل لگی کرتی رہتی ہوں گی۔“
”تم نے بتایا نہیں، غلام مہیا کر سکتے ہو یا ہمیں کسی اور کے پاس جانے کی زحمت کرنا پڑے گی۔“
زنبربن خربہ چھاتی پرہاتھ رکھتے ہوئے قربان ہونے والے لہجے میں بولا۔”ساری حویلی شہزادی حضور کے لیے حاضر ہے۔“
”شکریہ محترم رئیس،یقین مانیں ہم بہت تھک گئے ہیں اوراپنے خیمے میں جا کرآرام کرنا چاہتے ہیں۔“ہاتھ اٹھا کر اس نے بھرپور انگڑائی لی تھی۔یہ ایسا سخت وار تھا کہ زنبربن خربہ تو کیا یشکر بھی نظریں چرانے پر مجبور ہو گیاتھا۔
”میں تمام غلاموں کو شہزادی کے سامنے کھڑا کرتا ہوں آپ اپنی پسند کے غلام علاحدہ کر لیں۔“
یہ کہتے ہی زنبربن خربہ نے ایک کنیز کو تمام غلاموں کو بلانے کا حکم دیا۔تھوڑی دیر بعد پچیس غلام ایک قطار میں کھڑے تھے۔
قُتیلہ شانِ بے نیازی سے یشکر کو مخاطب ہوئی۔”محافظ،ان میں سے دس بارہ غلام ہماری خدمت کے لیے علاحدہ کرو اور محترم رئیس کو منھ مانگا معاوضا ادا کر دو۔“
”جی شہزادی حضور۔“کہہ کر یشکر نے غلاموں کی قطار پر نگاہ ڈالی۔بنو جساسہ سے تعلق رکھنے والے افراد اسے پہچان گئے تھے۔ قُتیلہ کو وہ سردارزادی بادیہ سمجھ رہے تھے۔البتہ ہونٹوں پر تالا لگائے وہ یہ ناٹک خاموشی سے دیکھتے رہے۔
یشکر نے بنو جساسہ کے دس افراد کے ہمراہ پانچ دوسرے غلام بھی قطار سے باہر نکال لیے تاکہ زنبر بن خربہ کوشک نہ ہو۔
یشکر، زنبربن خربہ کو مخاطب ہوا۔”محترم رئیس آپ براہ مہربانی ان پندرہ غلاموں کا معاوضا بتادیں۔“
اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔”آپ شرمندہ کر رہے ہیں۔“
ایک طرف شہزادی کی حسین صورت تھی جو زنبربن خربہ کو مجبور کر رہی تھی کہ اس کے قدموں میں سر رکھ کر اپنی غلامی کا اعلان کر دے اور دوسری جانب ایک ساتھ پندرہ غلاموں کا معاملہ تھا۔اس کی مشکل قُتیلہ نے آسان کر دی تھی۔
”محافظ،محترم رئیس کو ہر غلام کے تین طلائی سکے ادا کرو۔ہم نہیں چاہتے ایک شریف رئیس کو ذرا بھی نقصان پہنچے۔“
”بہت بہت نوازش شہزادی حضور۔“زنبربن خربہ نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔قُتیلہ نے غلاموں کی اوقات سے بڑھ کر قیمت لگائی تھی۔
یشکرنے۔ ”جی شہزادی حضور۔“کہہ کر کمر سے ہمیانی کھولی اور مذکورہ تعداد میں سکے گن کر زنبربن خربہ کی طرف بڑھا دیے۔
قُتیلہ نے اگلا حکم جاری کیا۔”تین تین طلائی سکے ان کنیزوں کوہماری خدمت کا عوضانہ دے دو۔“
یشکر نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے زنبربن خربہ کی کنیزوں کی طرف طلائی سکے بڑھا دیے۔شکر گزاری کے گہرے احساس میں ڈوب کر انھوں نے سکّے وصول کیے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
”شہزادی حضور کا اقبال بلند ہو،شہزادی حضور کو آسمان والا بری نگاہ سے بچائے،شہزادی حضور کی عمر طویل اور زندگی صحت مندی کے ساتھ بسر ہو،شہزادی حضور کی ہر خواہش دیوتا اپنے خصوصی مہربانی سے پوری کریں۔“
قُتیلہ کے ہونٹوں پر ہنسی نمودار ہوئی۔”زنبربن خربہ، یہ کنیزیں ملکہ قُتیلہ کو پسند ….“
اس کا فقرہ پورا ہونے سے پہلے یشکر نے قطع کلامی کی۔”شہزادی حضور کا مطلب ہے یہ کنیزیں ان کی مادرِ مہربان کو پسند آئیں گی اس لیے انھیں بھی شہزادی رقاشہ ساتھ لے جانا چاہے گی۔“ یہ کہہ کر اس نے دس طلائی سکے ہتھیلی پر رکھ کر زنبر بن خربہ کی جانب بڑھائے۔”یقینا یہ معاوضا کافی رہے گا۔“
”جیسا شہزادی حضور کی مرضی۔“زنبربن خربہ نے خوش دلی سے معاوضا وصول کیا تھا۔
قُتیلہ نشست چھوڑتے ہوئے بولی۔”محترم رئیس،ہم واپس جانا چاہیں گے۔تم سے مل کر ہم خوش ہوئے۔دادا حضور کو ہم تمھارے بارے ضرور بتائیں گے۔“
”اگر شہزادی حضور اجازت دیں تو شام کا کھانا خادم کی طرف سے آئے گا۔“
”نہیں ہم شام سے پہلے آگے روانہ ہوں گے۔ہمارے پاس وقت کی قلت ہے۔“نفی میں سرہلاتے ہوئے وہ یشکر کی ہتھیلیوں پر پاﺅں دھر کر پالکی میں بیٹھی اور محافظوں نے پالکی کو اٹھا لیا۔ زنبربن خربہ اور اس کے اہل خانہ حویلی کے دروازے تک انھیں رخصت کرنے گئے تھے۔
٭٭٭
پڑاﺅ میں جونھی اونٹ رکا وہ اونٹ کے بیٹھنے سے پہلے چھلانگ لگا کر نیچے اتری۔اورشال و حُلہ اتار کر وہیں پھینکتے ہوئے اپنے خیمے کی طرف دوڑی، لیکن تیزی میں فُرجی کی لمبائی کوذہن میں نہیں رکھ سکی تھی۔ دوسرا قدم اٹھاتے ہی دامن میں الجھ کر منھ کے بل گرپڑی تھی۔اٹھتے ہی اس نے ایک بار توفرجی کو وہیں نوچنے کو ہاتھ بڑھائے۔لیکن فوراََ ہی خیال آگیا کہ نیچے سینہ بند کے علاوہ کچھ بھی نہیں پہنا تھا۔مجبوراََ ہاتھ سے دامن اٹھاکر وہ خیمے کی طرف بھاگ پڑی۔یشکر متبسم ہوکر ابلق سے اترا اور اس کے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔ اتنی بہترین اداکاری پر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔
گلا کھنکارتے ہوئے وہ دروازے کاپردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا۔ آہٹ سن کر وہ دروازے کی طرف متوجہ ہو گئی۔زرتار کمر بند اتارکر اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔
یشکرجونھی اندر داخل ہوا کمر بند اس پر کھینچ مارتے ہوئے وہ برہمی سے اس کی طرف بڑھی۔ ”ملکہ قُتیلہ کو تمھارے گھٹیا منصوبوں سے نفرت ہے فارسی غلام،آیندہ کوئی ایسی امید نہ رکھنا۔“
یشکرنے کمر بند ہوا ہی میں تھام کر چٹائی پر پھینکا۔”تمھیں ملکہ ہی بنایا ہے کنیز بنا کر تو نہیں لے گیا تھا۔الٹا ایک سردار ہوتے ہوئے تمھارا محافظ بنا رہا۔“
”نہیں،بلکہ تمھیں ملکہ قُتیلہ کو ایسے لباس میں دیکھنے کا شوق ہے گھٹیا فارسی۔“نزدیک آکراس نے یشکر کی چھاتی پر زور دار مکا رسید کیا اور پھر ایک دم اس کی ٹانگوں کے بیچ گھٹنا اٹھا دیا۔
”افف….“یشکر ہاتھ ٹانگوں کے بیچ دباتے ہوئے چٹائی پر گر گیا تھا۔”دماغ خراب ہوا ہے تمھارا، اچھی طرح جانتی ہو کہ ایسا مجبوری کے تحت کیا ہے پھر الزام تراشی کا مطلب ؟“
”جھوٹ بولتے ہو،جھوٹے دوغلے۔“یشکر کی تکلیف سے بے پروا،اسے ٹھوکریں لگانے لگی۔یشکر نے ایک دم اس کی ٹانگ کھینچی وہ منھ کے بل اس کی چھاتی پر گری تھی۔
گرتے ہی وہ اٹھنے کے بجائے اسے گھونسوں سے پیٹنے لگی۔”نازیبا حرکات کرتے ہوملکہ قُتیلہ سے،گندے،بے شرم….ملکہ قُتیلہ کو تمھاری پانی میں کی ہوئی گستاخیاں یاد ہیں۔“
”افف….تمھارا دماغ بالکل کھسکا ہوا ہے۔“یشکر نے زوردار گھونسوں سے بچنے کے لیے اس کی کلائیاں پکڑ لی تھیں۔”پانی میں تم خود لپٹ رہی تھیں،میں نے بڑی مشکل سے جان بچائی تھی۔اور اب مجھ غریب پر الزام دھر رہی ہو۔“
قُتیلہ نے جھٹکا دے کر اپنی کلائیاں آزاد کرانے کی کوشش کی مگر وہ جتنی بھی شہ زور ہوتی یشکر سے کم زور تھی۔وہ شمشیر زن تھی پہلوان نہیں تھی کہ مردوں کو ہاتھوں میں اٹھا اٹھا کرپھینکتی رہتی۔
” ہاتھ چھوڑو ورنہ ملکہ قُتیلہ تمھاری گردن کاٹ دے گی۔“یشکر کی گرفت سے جب ہاتھ آزاد نہ کرا سکی تو دھمکیاں دینے لگی۔
یشکر نے کہا۔”پہلے وعدہ کرو گھونسوں کی بارش نہیں کرو گی۔“
”سنائی نہیں دے رہا ملکہ قُتیلہ کیا کہہ رہی ہے۔“اس نے دوبارہ جھٹکے سے کلائیاں چھڑانا چاہیں۔
یشکر نے اسے آزاد کرتے ہوئے لوٹ لگائی اور فاصلہ پیدا کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ ”قسم سے تم پاگل ہو۔ایسا تو نابالغ بچیاں بھی نہیں کرتیں،کم از کم اتنا ہی سوچ لو،دو قبیلوں کی سردارن ہو۔“
اس نے معصومیت بھرے انداز میں حماقت اُگلی۔”ملکہ قُتیلہ بچی نہیں ہے،دو سال سے گھر بسانے کے قابل ہے۔اور ایسا باباجان نے کافی عرصہ پہلے کہا تھا۔“
یشکر کھل کھلا کے ہنسا۔”تو بساﺅ ناں گھر۔“
”پھر وہی بکواس۔“وہ برہمی سے چلائی۔”ملکہ قُتیلہ تمھارے گندے ارادوں کو جانتی ہے۔ تم ملکہ قُتیلہ کو ورغلانا چاہتے ہو،اسی لیے تم دبا جاتے ہوئے راستے میں معنی خیز گفتگو کر رہے تھے،واپسی کے سفر میں بھی تمھاری معنی خیز گفتگو جاری رہی۔یہی وجہ تھی کہ تم نے مشکی جیسا قیمتی گھوڑا ملکہ قُتیلہ کے حوالے کردیا،اسی لالچ میں تم ملکہ قُتیلہ کو پہرے داری کے لیے جگانے کے بجائے آرام پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔پانی کے اندر بھی تم نے ملکہ قُتیلہ کے ڈر کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔اور نازیبا حرکات کیں۔یقینا ملکہ قُتیلہ دشمن کی وجہ سے پانی میں نہ گرتی تو تم نے کسی اور بہانے سے پانی میں دھکا دینا تھا۔اب بھی تم ملکہ قُتیلہ کے علاوہ کسی دوسری لڑکی کو سجا سنوار کر اس احمق رئیس کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔لیکن نہیں ،تمھیں تو ملکہ قُتیلہ کو اس حال میں دیکھنے کا شوق تھا۔ ملکہ قُتیلہ تمھاری تمام چالوں سے واقف ہے۔بلکہ بہت پہلے سے واقف تھی۔اسی لیے تم نے ہمیشہ ملکہ قُتیلہ کی جان بچانے کی کوشش کی۔اور تو اور اب بھی تم نے ملکہ قُتیلہ کو چھونے کی کوشش کی ہے،بلکہ چھوا ہے۔“ آخری فقرہ اس نے حلق کے بل دھاڑتے ہوئے ادا کیا تھا۔
”افف کیا پٹاخ پٹاخ بولتی چلی جاتی ہواور کتنی غلط فہمیاں پال رکھی ہیں۔تمھارے پاس میں امریل یا ملکان کومانگنے آیا تھا تم خود ہی ساتھ چل پڑیں تو میرا کیا قصور۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”ہاں،کیوں کہ تمھارے گھٹیا احسانوں کا بدلہ چکانا چاہتی تھی اور ملکہ قُتیلہ نے یہ بھی سوچا تھا کہ شاید سردارزادی بادیہ کی واپسی پر تم سدھر گئے ہو گے اور اب گھٹیا حرکتیں چھوڑ دی ہوں گی۔مگر گھٹیا انسان ہمیشہ گھٹیا ہی رہتا ہے۔“
یشکر نے بہ ظاہرسنجیدہ انداز اپنا کردھیمے لہجے میں کہا۔ ”میرے احسان تو پہلے سے بڑھ گئے ہیں۔اس سفر میں میرے قبیلے کے جتنے افراد آزاد ہوئے ہیں اس سے دگنے تو تمھیں بنو طرید کے باسی مل گئے ہیں۔ قیمتی خزانہ بھی ہاتھ آیا ہے۔اور پھر میں نے تمھیں ڈوبنے سے بھی بچایا ہے۔“
وہ زہرخند لہجے میں بولی۔”تم ملکہ قُتیلہ کو ڈوبنے سے بچانے نہیں گلے سے لگانے کے لیے پانی میں کودے تھے۔“اس کی سوئی ایک ہی بات پر اٹکی تھی اور یشکرکی کوئی بھی صفائی ماننے پر تیا رنہیں تھی۔
یشکر متبسم ہوا۔” مطلب، مجھے تمھارے پیچھے پانی میں نہیں کودنا چاہیے تھا۔“
”نہیں۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”ملکہ قُتیلہ کا مطلب ہے تمھیں پانی میں شرافت سے کام لینا چاہیے تھا۔گھٹیا ذہنیت کے مرد ہوتے ہیں جو لڑکیوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔“
”یہ دیکھو اور مجھے معاف کردو۔“یشکر نے اس کے سامنے دونوں ہاتھ باندھے۔
وہ نرم پڑتے ہوئے بولی۔”یمامہ میں ملکہ قُتیلہ کو یہ سوانگ بھرنے کا نہیں کہو گے۔“
”تمھاری سمجھ میں کیوں نہیں آرہا کہ کوئی اور لڑکی اتنی کامیابی سے یہ کردار ادا نہیں کر سکتی اور نہ کسی کی صورت تم جیسی ہے۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”نکل آئی نہ اصل بات۔تم بہانے بہانے سے تعریف کر کے ملکہ قُتیلہ کے اندیشوں کو سچ ثابت کرتے ہو۔“
”قُتیلہ تم ….“
اس نے درشتی سے قطع کلامی کی۔”ملکہ قُتیلہ کہو۔“
یشکر نے جلدی سے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں ….ہاں ملکہ قُتیلہ۔اور میں تمھاری جھوٹی تعریف نہیں کرتا۔تم اچھی طرح جانتی ہو میری بیوی سردار زادی بادیہ اور تمھاری صورت ایک جیسی ہے۔ کسی بھی عام صورت کی لڑکی کو سجا سنوار کر میں شہزادی رقاشہ بنا کر تو لے جاﺅں گا مگر ایک عرب رئیس پر اس کا اتنا اثر نہیں پڑے گا۔یقین مانو تمھیں دیکھ کر ان کی عقل خبط ہو جاتی ہے اور وہ کچھ بہتر سوچنے کے قابل نہیں رہتے۔“
قُتیلہ نے منھ بناتے ہوئے چوٹ کی۔”جیسے تمھاری عقل خبط ہو گئی ہے اور گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے ہو۔“
یشکر نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”میری بیوی تم سے کئی گنا زیادہ خوب صورت ہے۔“
قُتیلہ نے دانت پیسے۔”لمحہ بھر پہلے تم نے بکواس کی تھی کہ وہ ملکہ قُتیلہ کی ہم شکل ہے۔“
یشکر جھلاتے ہوئے بولا۔”اچھا ایسا ہی ہے،پھر بھی میرے پاس تم جیسی توموجود ہوئی نا، تو میری عقل تمھیں دیکھ کر کیوں کرخبط ہو گی۔“
”تم رئیسِ یمامہ جرہم بن قسامہ کے پاس ملکہ قُتیلہ کے محافظ نہیں، غلام بن کر جاﺅ گے اور ملکہ قُتیلہ تمھیں سب کے سامنے بے عزت کرے گی۔بولو منظور۔“
یشکر کھل کھلا کر ہنسا۔”منظور ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”ملکہ قُتیلہ جانتی تھی انکار نہیں کرو گے۔لیکن ان باتوں سے تم ملکہ قُتیلہ کو متاثر نہیں کر سکتے۔“
یشکر شرارت سے بولا۔”امید پر دنیا قائم ہے۔“
”پھر….پھر وہی بکواس۔“وہ طیش میں آتے ہوئے اسے مارنے دوڑی اورفرجی کا دامن پاﺅں میں الجھنے سے اوندھے منھ گرنے لگی۔یشکر نے لپک کر اسے تھام لیا تھا۔
”اپنے غلیظ ہاتھ ملکہ قُتیلہ سے دور رکھو۔“وہ زور سے مچلی۔
یشکر نے اسے آرام سے کھڑا کر کے کہا۔”لباس تبدیل کر لو۔نجانے تمھاری اول فول باتیں سن کر لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے۔“یہ کہتے ہی وہ لمبے ڈگ بھرتا ہوا خیمے سے نکل گیا۔ قُتیلہ ہونٹ کاٹتے ہوئے اس کی پشت کو گھورتی رہ گئی تھی۔اس کے باہر نکلتے ہی وہ فرجی کی طرف متوجہ ہو گئی۔ خزانے کے تمام صندوق بھی اسی کے وسیع خیمے میں ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔اور ایسا یشکر کی مرضی سے ہوا تھا۔گویا قُتیلہ کے شک کو تقویت پہنچانے کا ایک اور موقع اس کے حوالے کیا تھا۔
٭٭٭
گھڑ سوار کافی عجلت میں دکھائی دے رہا تھا۔غروبِ آفتاب سے تھوڑی ہی دیر پہلے وہ بنو جساسہ میں داخل ہوا اور شریم کی حویلی کی طرف بڑھ گیا۔بنو جساسہ کے چند افراد نے اسے دور سے آتے دیکھا تھا،لیکن اکیلا ہونے کی وجہ سے کسی نے خاص اہمیت نہیں دی تھی۔
گھوڑے سے اتر کر اس نے حویلی کے دروازے پر دستک دی اور پیچھے ہٹ کر انتظار کرنے لگا۔دروازہ شریم نے خود کھولا تھا۔اسے دیکھتے ہی شریم کے چہرے پر تبسم ابھرا۔
”دستک سن کر امید نہیں تھی میری آنکھوں کو ذویب بن ہثیم کی دید سے ٹھنڈک ملے گی۔“ شریم نے بازو پھیلا کر اسے سینے سے لگا لیا تھا۔
ذویب بن ہثیم فکر مندی سے بولا۔”دوست میرے پاس بنوجساسہ میں رکنے یاتمھاری مہمان نوازی سے فائدہ اٹھانے کا وقت نہیں ہے۔میں بس ضروری اطلاع دینے آیا ہوں۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے اتنا بھی معلوم نہیں کہ یہ اطلاع تمھارے لیے کارآمد ہے یا بے کار۔“
”تم پریشان لگ رہے ہوبھائی۔“شریم بھی فکر مند ہو گیا تھا۔
ذویب بن ہثیم نے مزید تجسس پھیلانے کے بجائے ایک دم پوچھا۔”ایک بات سچ سچ بتاﺅ، کیا بادیہ اور یشکر زندہ ہیں اور بنو جساسہ میں ہیں؟‘
”یہ کیسا سوال ہے ؟“شریم ششدر رہ گیا تھا۔
”شاید تم جواب نہیں دینا چاہتے اور اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ذویب بن ہثیم تمھارے اعتبار کے لائق نہیں رہا۔“
”دوست کبھی بے اعتبار نہیں ٹھہرتا۔اور جس پر اعتبار نہ ہو وہ دوست نہیں ہوتا۔“یہ کہتے ہوئے شریم نے گہرا سانس لیا۔ ”تمھاری اطلاع درست ہے۔عزیٰ کی مہربانی سے دونوں زندہ ہیں۔“
ذویب نے ایک اور انکشاف کیا۔”اور یشکر تمھارے بڑے بھائی شریک کا بیٹا ہے۔“
”درست۔“شریم نے اثبات میں سرہلایا۔”مگر تمھیں کیسے معلوم ہوا۔“
ذویب نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔”بری خبر یہ کہ تھوڑی دیر تک بنو نوفل تک یہ خبر پہنچ جائے گی۔“
شریم نے حیرانی و افسوس کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا۔”کیا ….کیوں…. کیسے ؟“
ذویب تفصیل بتاتے ہوئے بولا۔”جانتے ہو بنو نوفل کا ایک معزّز شخص میرا دوست ہے۔اور تمھیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ بنو نوفل کی کچھ ٹولیاں اب بھی سردارزادی بادیہ اور یشکر کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔اور اس کی وجہ بوڑھے سردار شماس بن جزع کی بُڑبھس (بوڑھاپے کی جنسی شہوت) ہے۔وہ کمینہ یشکر سے زیادہ سردارزادی بادیہ کا متلاشی ہے۔“
ذویب نے نفرت بھرے انداز میں ایک جانب تھوکا۔”خیر میں بتا رہا تھابنو نوفل کی ایک ٹولی یشکر اور بادیہ کی تلاش میں بنو کاظمہ جا پہنچی۔وہاں انھیں عبدالعزیٰ نامی کسی شخص سے یشکر و بادیہ کے زندہ ہونے کی بابت معلوم ہوا۔وہ شخص یشکر کی تلاش میں آنے والے فارسی لشکر کا رہبر اور ترجمان تھا۔اس کی مدد سے فارسیوں نے یشکر کو تلاش کیا۔وہاں یشکر کی وجہ سے فارسیوں اور ایک بدو ی قبیلے میں جنگ چھڑ گئی جس کی وجہ سے عبدالعزیٰ کو بھاگنا پڑا۔البتہ واپسی کے سفر میں عبدالعزیٰ کو دوبارہ فارسیوں سے ملاقات کا موقع ملا۔اور یشکر کے متعلق استفسار پر انھیں عبدالعزیٰ کو بتا ناپڑا کہ یشکر اپنے قبیلے میں لوٹ گیا ہے کیوں کہ وہاں اس کی محبوب بیوی بھی موجود ہے اور وہ بنو جساسہ کا سردار بھی ہے۔یہ راز فاش کرتے وقت انھیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ عبدالعزیٰ اوربنو نوفل کی کسی تلاشی ٹولی کی ملاقات ہو جائے گی جس کے نتیجے میں یہ خبر بنو نوفل تک پہنچتے دیر نہیں لگے گی۔آج دوپہر کوبنو نوفل کی تلاشی ٹولی میرے بنونوفل والے واقف کارقطن بن مشمت کی وجہ سے گھڑی بھر کو میرے مہمان بنے۔دورانِ گپ شپ انھی سے یہ تفصیل پتا چلی۔انھیں یہ بھی پتا چل گیا ہے کہ بادیہ اور یشکر کہاں چھپے ہیں۔میں نے باتوں باتوں میں ان سے یہ معلومات بھی اگلوانے کی کوشش کی مگر وہ ٹال گیا۔اور جونھی انھوں نے بنو نوفل کی راہ پکڑی میں آپ کی جانب چل پڑا۔یقین مانو زندگی میں پہلی بار اس رفتار سے گھوڑا دوڑایا ہے۔اور اب جلدی سے میرے گھوڑے کے لیے پانی کا بندوبست کرو تاکہ میں واپس لوٹ سکوں۔“
شریم نے اسے دوبارہ چھاتی سے لگا کر گلوگیر لہجے میں بولا۔”تمھاری دوستی ہمیشہ قابل فخر رہی ہے۔“
ذویب بے صبری سے بولا۔”باقی گپ شپ اگلی ملاقات پر ہو گی۔فی الحال جو کہا ہے اس پر توجہ دو۔“
اور شریم سر ہلا کر گھوڑے کی لگام پکڑے حویلی میں داخل ہو گیا۔تھوڑی دیر بعدذویب رخصت ہو کر اپنے قبیلے بنو جمل کی طرف روانہ ہو گیا جبکہ شریم اپنے بھتیجوں،بادیہ،رشاقہ اور عریسہ کو بلا کر وہ پریشانی کن خبر سنانے لگا۔آخرمیں وہ کہہ رہا تھا” سمجھ میں نہیں آرہا بادیہ کو کہاں چھپایا جائے۔“
مالک جلدی سے بولا۔”بنو اسد۔“
شریم نے نفی میں سرہلایا۔”تمھارا دماغ جگہ پر نہیں ہے۔بنو اسد کا سردارزادہ اپنی توہین کہاں بھولاہوگا۔یہ بھی ممکن ہے وہ بادیہ کو دیکھ کر کوئی غلط قدم اٹھا لے۔“
رشاقہ جوش بھرے لہجے میں بولی۔”بنو طرید سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔میں رشاقہ اور سردارزادی بادیہ وہاں بغیر کسی تکلیف اور خطرے کے آرام سے دن گزار سکتی ہیں۔“
شریم نے جھجکتے ہوئے کہا۔”کیا وہ بنو نوفل سے لڑنے کا خطرہ مول لیں گے۔“
رشاقہ یقین سے بولی۔”بنو نوفل کے پاس ہمارے بنو طرید سے تعلق کے بارے کوئی اطلاع نہیں ہے۔اور بالفرض وہ کسی طرح وہاں پہنچ بھی جاتے ہیں تو کیا خیال ہے ملکہ قُتیلہ اپنی ماں جی اور اس کی بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکتی۔“
اغلب اس کی تائید کرتے ہوئے بولا۔”ہم نے بنو طرید کے باسیوں کا یشکر کے ساتھ عمدہ برتاﺅ دیکھا ہے۔یشکر نے دو تین بار بنو طرید کو تباہ ہونے سے بچایا ہے۔ممکن ہی نہیں کہ وہاں یشکر کی بیوی کو خوش آمدید نہ کہاجائے۔“
شریم بولا۔”یہاں موجود لوگوں کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ یہ لوگ کہاں چھپے ہیں۔اغلب اور مروان ابھی روانہ ہوں گے اور انھیں وہاں چھوڑ کر لوٹنے کی کریں گے۔اور مالک تم اہل بنو جساسہ کے کانوں میں ڈال دو کہ بادیہ اہل بنو نوفل کے ڈر سے یشکر کے ساتھ خلیج الفارس کے رستے طیسفون چلی گئی ہے۔“
تمام سر ہلاتے ہوئے منتشر ہو گئے۔گھڑی بھر بعد چاند کی روشنی میں چار گھڑ سوار ایک تیز رفتار اونٹنی کے ہمراہ بنو جساسہ سے باہر نکل رہے تھے۔اونٹنی پر عریسہ سوار تھی کیوں کہ اسے گھڑ سواری نہیں آتی تھی۔اور ایک گھوڑے پر دوافراد کو سوار کرنے کے بجائے انھوں نے ایک عمدہ اونٹی کو ساتھ لینا مناسب سمجھا تھا۔یوں بھی بنو جساسہ سے نکلنے کے بعد انھیں اہل بنو نوفل کا ڈر نہ رہتا۔
٭٭٭
بنو جساسہ کے افراد یشکر کے بارے تفصیل جان کر بہت خوش ہوئے تھے۔وہ سردارزادی بادیہ سے بہت اچھی طرح واقف تھے اور انھیں بڑی مشکل سے یقین آیا تھا کہ قُتیلہ بنت جبلہ اور بادیہ بنت شیبہ دو الگ الگ شخصیات ہیں۔
لیکن سب سے بڑھ کر خوشی ان کا رہا ہونا تھا۔رنبر بن خربہ کے پاس موجود افراد کو صرف غلامی کی ذلت برداشت کرنا پڑتی تھی ورنہ زندگی کی کافی آسایشیں انھیں میسر تھیں۔وہ سردی، گرمی کامزہ لے سکتے تھے،سورج کی روشنی کو محسوس کر سکتے تھے،برستی بارش سے لطف اندوز ہو سکتے،فطری تقاضے جیسے بول وبزّار وغیرہ کی ضرورت سے انسانوں کی طرح فارغ ہو سکتے تھے۔قدرت کے مناظر سے آنکھیں تازہ کر سکتے تھے۔حسین صورتوں کی دید سے بہر ہ مند ہو سکتے،سونے کے لیے تخت و مسہری نہ سہی کھلی زمین تو میسر تھی، لگانے کی خوشبو موجود نہیں تھی لیکن کسی دوسرے کے جسم پر لگی خوشبو سونگھ سکتے تھے،تن ڈھانپنے کا لباس میسرتھا۔اس کے علاوہ بھی سیکڑوں نعمتیں انھیں میسر تھیں۔جبکہ مخنف بن فدیک کے پاس قید غلام تو جینے سے بھی بیزار ہو چکے تھے۔جہاز کا تاریک سیلن زدہ اور بدبودار تہہ خانہ ہی ان کی کل کائنات تھا۔وہ بے چارے تو سوج کی روشنی کو ترس چکے تھے۔اور اب آزادی حاصل کرنے کے بعد قُتیلہ اور یشکر انھیں انسان نہیں دیوتا نظر آرہے تھے۔ان کے احکام وہ ڈر نہیں عقیدت سے پورا کرنے پر کمر بستہ رہتے۔
بنو جساسہ کے افراد سے گپ شپ کر کے یشکر جونھی خیمے میں داخل ہوااقرم بن طریف اجازت مانگ کر اندر آیا۔
”کیسے ہو اقرم ؟“یشکر نے اسے اپنے قریب چٹائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
وہ عقیدت سے بولا۔”بالکل ٹھیک ہوں سردار۔آزادی کی زندگی سے لطف اندوز ہورہا ہوں،ملکہ قُتیلہ اور آپ کے احسان کا بدلہ چکانے کی تجویزیں سوچ رہا ہوں اور سورج دیوتا سے آپ دونوں کی تندرستی اور طول عمری کی مناجات کر رہا ہوں۔“
”شکریہ اقرم۔“یشکر نے خوش دلی سے سرہلایا۔”کیسے آنا ہوا؟“
”تھوڑی دیر پہلے آپ کی اور ملکہ قُتیلہ کی تکرار سنی تھی۔جہاں تک مجھے اندازہ ہوا آپ بنو ناجیہ کے رئیس زنبر بن خربہ کی طرح یمامہ کے رئیس جرہم بن قسامہ کے پاس بھی ملکہ قُتیلہ کو اسی روپ میں لے جانے کے خواہاں ہیں اور وہ راضی نہیں ہو رہیں۔“
یشکر متبسم ہوا۔”ہو جائے گی راضی۔زنبر بن خربہ کی طرف جانے سے پہلے بھی تو اس نے تین بار تلوار سونتی تھی۔اچھی خاصی سمجھ دار سردارن ہے لیکن مجھ سے خوامخوا چڑنا اوربے زار رہنا اس کی عادت ثانیہ ہے۔“
اقرم نے جھجکتے ہوئے کہا۔”برا نہ مانیں تو ایک سوال پوچھوں۔“
یشکر نے اس کی ہمت بندھاتے ہوئے قہقہ بلند کیا۔”دس سوال تو پوچھو۔“
اقرم اشتیاق آمیز لہجے میں بولا۔”وہ میرے لیے آپ جتنی ہی قابلِ احترام ہیں،لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ بات بات پر آپ پر تلوار کیوں تان لیتی ہیں۔اورآپ جیسے لشکر شکن جنگجو کا اسے نظرانداز کرنا بھی مجھے حیران کردیتا ہے۔کیوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے آپ دونوں کے درمیان کوئی خاص رشتا نہیں ہے۔پھر اس کے نخرے برداشت کرنے کی کوئی بھی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔“
اس بار یشکر کا قہقہ پہلے سے بہت بلند تھا۔”جہاں تک تعلق ہے اس کے نخرے برداشت کرنے کا تو اس کی وجہ ہے وہ میرے کام کی خاطر یہ کٹھن سفر کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔باقی رہاتلوار سونتنے کا معاملہ ،تو کبھی اسے لڑتے دیکھا ہے؟“
اقرم نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا موقع ہی نہیں آیا۔مخنف بن فدیک کی حویلی میں باہر مصروف تھا۔ جہاز پر بھی کسی کے ساتھ لڑائی نہیں ہوئی تھی۔اور سچ کہوں،مجھے تو لگتا ہے شاید ہی وہ تلوار چلانا جانتی ہو۔باپ سردار تھا،اسے بھی سرداری مل گئی۔خوب صورت بھی بہت زیادہ ہے، قبیلے والے ایسی حسین مورت کو خفا کرنے کی ہمت نہیں کر پائے ہوں گے۔“
”’ٹھیک کہہ رہے ہویار۔“یشکر کی ہنسی رکنے میں نہیں آرہی تھی۔
اقرم پریشانی سے بولا۔”شاید میرا تجزیہ غلط ہے اس لیے آپ مسلسل ہنسے جا رہے ہیں۔“
یشکر سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔”یاد رکھنااقرم ،کمزور نظر آنے اور ہونے میں بہت فرق ہے ہوتا۔“
”مگر….“اقرم نے الجھے ہوئے لہجے میں کچھ کہنا چاہا۔یشکر نے قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا۔
” مجھے کب لڑتے دیکھا ہے؟“
”بنو جساسہ کے سارے افراد آپ کی شمشیر زنی کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ بہت زیادہ مرعوب ہیں۔“
یشکر نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا۔”مخنف بن فدیک کے محافظوں کے سرخیل قابوس بن جنادہ کو جانتے ہو؟“
اقرم نے اثبات میں سرہلایا۔”اس وحشی سے کون واقف نہیں ہے۔“
یشکر نے اگلا سوال پوچھا۔”تم اس سے مقابلہ کرنے کی ہمت کر سکتے تھے۔“
اقرم صاف گوئی سے بولا۔”ہمت تو کر لیتا،لیکن جیتنے کی امید پر نہیں۔“
یشکر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا۔”وہ قُتیلہ کے تین چار وار سے زیادہ نہیں سہار سکا۔“
”کک….کیا۔“قرم ہکلایا۔”یہ نرم و نازک دوشیزہ ایسی ماہر شمیشر زن ہے۔مجھے یقین نہیں آتا۔آج زنبر بن خربہ کی حویلی میں اس کے ناز نخرے دیکھنے کے بعد تو میں مر کر بھی یقین نہ کروں۔“
”کبھی اس سے پنگا لینے کی حماقت کی تو یقین آجائے گا، مگر زندگی چلی جائے گی۔“
”شاید آپ اسے کچھ زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔“
یشکر نے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔”ایک بات یاد رکھنا اقرم،کبھی بھول کر بھی اس کے خلاف تلوار سونتنے کی غلطی نہ کرنا۔یقین کرو اگر میرے سامنے دس بہترین لڑاکوں سے ایک ساتھ مقابلہ کرنے اور اکیلی قُتیلہ سے مقابلہ کرنے کا انتخاب رکھا جائے تو میں دس بہترین لڑاکوں کے ساتھ لڑنا آسان سمجھوں گا۔“
اقرم بے یقینی سے بولا۔”مجھے نہیں لگتا آپ اتنے سنجیدہ لہجے میں مذاق کر سکتے ہیں۔“
یشکر متبسم ہوا۔”تمھیں بالکل صحیح لگتا ہے۔“
اقرم موضوع سے پہلو تہی کرتا ہوا بولا۔” اس بحث کو چھوڑیں سردار،میں اس وقت ایک خاص مشورہ دینے حاضر ہوا تھا۔ یوں بھی حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی اور غلط فہمیاں ناپائیدارہوتی ہیں۔ “
”سن رہا ہوں۔“یشکر نے اسے بولنے پر اکسایا۔
اقرم دعوے سے بولا۔”یمامہ کے رئیسجرہم بن قسامہ کے بارے مجھے کافی معلومات حاصل ہیں۔اور ان معلومات کے بل بوتے پر آپ ملکہ قُتیلہ کے بغیر بھی اپنے قبیلے کے افراد کو حاصل کر سکتے ہیں۔“
یشکر مستفسر ہوا۔”اور ذریعہ معلومات کیا ہے ؟“
اقرم اطمینان سے بولا۔”میرا تعلق یمامہ سے ہے۔“
”کیا….؟“یشکر حیران رہ گیا تھا۔”اگر ایسا ہے تو تمھیں بنو طرید جانے کی کیا ضرورت ہے۔ یقینا اپنا علاقہ تمھارے لیے بہتر رہے گا۔“
اقرم دھیمے لہجے میں تفصیل بتاتے ہوئے بولا۔”میں رئیسِ یمامہجرہم بن قسامہ کی بیٹی حوریہ بنت جرہم کی محبت میں مبتلا تھا۔یمامہ کا بہترین لڑاکا ہونے کی وجہ سے وہ بھی میری طرف مائل ہوگئی۔ کہتے ہیں محبت میں انسان کو برے بھلے کی تمیز اور فائدے نقصان کا دھیان نہیں رہتا۔میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔میں کسی خطرے کو خاطر میں لائے بغیررات کوحوریہ بنت جرہم سے ملنے کی خاطرگڑھی کی اونچی دیوار عبور کر کے داخل ہوتا۔ہم گڑھی کے عقبی باغ میں ملتے تھے۔ جانے کتنی دیر بیٹھ کرمحبت بھری باتیں کیا کرتے۔کہتے ہیں عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے،ہماری محبت بھی راز نہ رہ پائی۔ایک کسی ملازم نے ہمیں راز و نیاز میں مشغول دیکھ کر یہ خبر رئیسجرہم بن قسامہ تک پہنچا دی۔اور اس نے اپنے محافظوں کے ساتھ آکر ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔میرا نسب اتنا اعلا نہیں تھا کہ وہ ہمیں ایک ساتھ دیکھنے پر خوش ہو جاتا۔اس نے رات کے اندھیرے ہی میں میرا کام تمام کرنا چاہالیکن حوریہ آڑے آگئی اور مجھے زندہ چھوڑ دینے کی شرط پر والد کی ہر بات ماننے کا وعدہ کر لیا۔اس خبیث نے حوریہ کو دکھانے کے لیے بہ ظاہر اپنے محافظوں کو کہہ دیا کہ مجھے گڑھی سے باہر چھوڑ آئیں، لیکن درپردہ اس کا منصوبہ کوئی اور تھا۔مجھے لے جانے والے محافظوں کے سرخیل کو اس نے مجھے نہ چھوڑنے کا خفیہ اشارہ کردیا تھا۔بیٹی کو مطمئن کر کے اس کی خواب گاہ میں بھیجنے کے بعد وہ ہمارے پاس پہنچ گیا۔اوریہ بھیانک سزا تجویز کی کہ میری بقیہ ساری زندگی کسی بحری جہاز کے تہہ خانے میں چپو چلاتے گزرے۔اس کے ایک محافظ کے دبا کی ایک جہاز راں سے واقفیت تھی۔اس کے محافظ مجھے باندھ کر دبا لے آئے۔اتفاق سے مذکورہ جہاز بندرگاہ پر موجود نہیں تھا۔ ان محافظوں نے مخنف بن فدیک کے خاص آدمی قابوس بن جنادہ سے بات کر کے مجھے اس شرط پراس کے حوالے کر دیا کہ زندگی میں جہاز کے تہہ خانے سے باہر نہ نکل سکوں۔ ظالم کو مفت میں ہٹا کٹا غلام مل رہا تھا۔ وہ خوشی سے مان گیا۔ مجھے جہازکے تہہ خانے میں قریباََ سال ہونے والا تھا کہ آپ لوگ نجات دہندہ بن کر آگئے۔“
”ہونہہ۔“پر خیال انداز میں سرہلاتے ہوئے یشکر نے کہا۔”اب وہ ضروری معلومات بھی بتا دو جن کے بل بوتے پر میں اس گھمنڈن کی منت زاری سے بچ جاﺅں۔“
قُتیلہ کے لقب پراقرم کے چہرے پر تبسم نمودار ہوا۔مگر اس متعلق کچھ کہنے کے بجائے وہ براہ راست مطلب کی با ت پر آگیا۔ ”رئیسجرہم بن قسامہ نہ صرف گھوڑے پالنے کا بہت زیادہ شوقین ہے،بلکہ وہ گھوڑوں کا بہت بڑا بیوپاری بھی ہے۔اس کے اصطبل میں ہر وقت دوتین درجن اعلا نسل کے گھوڑے موجود رہتے ہیں۔اگر مخنف بن فدیک کے گھر سے حاصل ہونے والے دس تپچاقوں میں سے تین بھی اس کے حوالے کر دیں تو وہ پندرہ غلاموں کو بڑی آسانی سے رہا کر نے پر تیار ہوجائے گا۔“ (تپچاق اعلا نسل کے قوی الجثہ گھوڑے کو کہتے ہیں )
یشکرنے الجھن ظاہر کی۔”مگر گھوڑے تو ہم بانٹ چکے ہیں۔“
اقرم تیقن سے بولا۔”چھے تپچاق بنو جساسہ کے افراد کے پاس ہیں۔اورسردارہونے ناطے آپ انھیں حکم دے سکتے ہیں۔بلکہ اس معاملے میں کسی کو اعتراض کرنا نہیں جچتا آخر وہ غلامی کی ذلت چکھ چکے ہیں۔اپنے بھائیوں کے لیے ضرورگھوڑے کی قربانی دینا گواراکر لیں گے۔“
اسی دم بنو جساسہ کا ایک فرد اجازت مانگ کر اندرداخل ہوا۔”سردار جانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔اگر اجازت ہو تو خیمہ لپیٹ لیا جائے۔“
”ضرور۔“وہ اثبات میں سرہلاتا ہوا باہر نکل آیا۔
قُتیلہ اپنی نگرانی میں خزانے والے صندوق لدوا رہی تھی۔زیادہ تر سامان اونٹوں پر لادا جا چکا تھا۔یشکر گھوڑوں کی طرف بڑھ گیا۔ابلق کے بجائے اس نے مشکی پر زین کسی اور قُتیلہ کی زین ابلق کی پیٹھ پر رکھ دی۔سورج کی سفیدی پر زردی غالب آنے لگی تھی۔
قُتیلہ اونٹوں کو روانہ کر کے اس طرف چل پڑی۔اس کے قریب پہنچنے سے پہلے یشکر اچھل کر مشکی پر سوار ہو گیا تھا۔
”تمھیں یقینا بھول گیا ہے کہ مشکی اب ملکہ قُتیلہ کا ہے۔“اس نے یشکر پر آوازہ کسا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”میرا ارادہ تبدیل ہو گیا ہے۔“
قُتیلہ نے اسے مطعون کرنا چاہا۔”دی ہوئی چیز واپس لینا تھوک چاٹنے کے مترادف ہوتا ہے۔“
یشکر نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”میٹھی تھوک چاٹنے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا۔ باقی کسی ایسے کو تحفہ دینا حماقت اور بے قوفی ہے جو تحفے کو شک کی نگاہ سے دیکھے۔“
”ملکہ قُتیلہ نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔“قُتیلہ کو مشکی سے جدائی گوارا نہیں تھی۔
یشکر نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔”تمھاری یاداشت خاصی کمزور ہے،دوپہر کی گفتگو اتنی جلدی بھول گئی ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے خفگی بھری نگاہ یشکر پر ڈالی اور تکرار بڑھائے بغیر ابلق پرسوار ہو گئی۔
”اور ہاں،تمھیں رئیس یمامہ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی میں نے دوسری ترکیب سوچ لی ہے۔تاکہ یہ الزام بھی باقی نہ رہے کہ میرے دل میں تمھیں سجا سنورا دیکھنے کی کوئی حسرت بھری ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”یقینا ملکہ قُتیلہ سے جو کام لینا تھا پوراہوا۔اب نخرے دکھاﺅ گے۔“
یشکر نے استہزائی انداز میں کہا۔”کس بات پر اِترا رہی ہو۔میرے کام آکر کوئی احسان نہیں کیا۔بنو طرید کے لیے میں بھی جان کی بازی لگا چکا ہوں۔ اور پھراس سفر میںجتنا بڑا خزانہ ہاتھ آیا ہے تمھارا قبیلہ تین چارسال مسلسل قزاقی کر کے بھی اتنا کچھ حاصل نہ کر سکتا۔ڈھیروں غلام،لونڈیاں،اونٹ، قیمتی گھوڑے یہ سب حاصل کرنے کے بعد بھی تم مجھ پراحسان جھاڑ رہی ہو۔بات تو تب تھی کہ تم ان میں کسی چیز کا مطالبہ نہ کرتیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ تمھارا احسان جتلانا پھر بھی نہیں بنتا تھا۔کیوں کہ تم احسان کا بدلہ چکانے آئی تھیں احسان کرنے نہیں۔“
”کہنے کو کچھ رہ تو نہیں گیا۔“دُنبالہ آنکھیں یشکر کے چہرے پر مرتکز ہوئیں۔ان میں برہمی، درشتی، غصے یا حقارت کے بجائے ناراضی،دکھ اور شکوہ بھرا تھا۔
وہ بے نیازی سے بولا۔”سمجھ دار کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔“
” ملکہ قُتیلہ جس کام کے لیے آئی تھی وہ پورا ہوا۔یہ خزانہ،غلام اور لونڈیاں تمھیں مبارک ہوں۔ ملکہ قُتیلہ بنو طرید جا رہی ہے۔“بنو ناجیہ سے یمامہ کا رخ کرتے ہوئے ان کا رخ مغرب کی طرف تھا۔ اس نے ابلق کا رخ جنوب مغرب کی طرف موڑا اور ایڑ لگا دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: